Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad NovelR50497 Yun Mily Tum Se (Episode - 19)
Rate this Novel
Yun Mily Tum Se (Episode - 19)
Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad
” یہ عمر خود کو سمجھتا کیا ہے ؟ کب سے منانے لگی ہوں لیکن اس کے تو نکھرے ہی نہیں ختم ہو رہے ” وہ خود سے بڑبڑاتی ہوٹل کے ٹیرس پر جارہی تھی جہاں عمر گیا تھا۔ اس نے ٹیرس پر قدم رکھا تھا تو وہ سامنے ہی نظر آگیا۔ آس پاس نظریں گھمائیں تو اکا دکا لوگ ہی اردگرد موجود تھے۔رات کے وقت یہاں ہوٹل کے ٹاپ سے کیا دلکش نظارہ تھا پورے بھوربن کا۔ زینب اس کے پیچھے جا کھڑی ہوئی تھی۔
” عمر ! کیا مسئلہ ہے بھئی ایک بندر کہنے پر تم زیادہ ہی اورریکٹ کررہے ہو ” اس کے کہنے پر عمر اس کی جانب پلٹا تھا اور سینے پر ہاتھ باندھے وہیں ریلنگ سے ٹیک لگائے کھڑا ہو گیا۔
” کیا میں جان سکتا ہوں مجھے منانے کیلئے اتنی ہلکان کیوں ہورہی ہو ؟ ” اپنی نگاہیں اس کے چہرے پر جمائے وہ استفسار کرنے لگا۔
” کیا میں جان سکتی ہوں اتنی سی بات پر تم کیوں منہ پھولائے ہوئے ہو ؟ ” کمر پر دونوں ہاتھ رکھے زینب نے اس کے سوال پر الٹا سوال کیا۔ اس کی بات پر عمر مسکرایا تھا۔ (یعنی وہ سچ میں بے خبر تھی اس کی دل کی کیفیت سے).
” جب بھی تم میرے آس پاس ہوتی ہو میری نظریں تم سے ہٹنے سے انکاری ہوتی ہیں ” عمر نے پیار بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے دھیرے سے کہا تھا۔
” کیا۔۔۔۔۔۔۔۔م۔۔۔۔۔مطلب ؟ ” زینب تو گھبرا گئی تھی۔ اسے نہیں پتا تھا عمر یوں اچانک اس طرح کی کوئی بات بول دے گا۔
” وہ ہی مطلب تم جو سمجھی ہو ” عمر نے تھوڑا اس کے قریب جھک کر کہا تھا۔
” پت۔۔۔۔پتہ نہیں تم کیا کہہ رہے ہو ؟ میں جارہی ہوں ” وہ شرمائی گھبرائی سی کہہ کر پلٹ کر جانے لگی تھی جب عمر نے اس کی کلائی تھام کر اسے روک لیا تھا۔
” زینب ! ” اس کی گھمبیر آواز میں یوں اسکا نام لینا زینب کی جان لے گیا تھا۔ اس نے اپنی آنکھیں میچ لیں۔
” عمر پلیز ” اس نے دھیمے سے کہتے ہوئے اپنی کلائی چھوڑوانی چاہی تھی لیکن مقابل اتنی آسانی سے چھوڑنے کا ارادہ نا رکھتا تھا۔
” یہ بندر تم سے دل و جان سے محبت کرتا ہے ” عمر نے پیچھے سے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی تو زینب کے دل کی دھڑکنیں تھم گئیں۔ عمر نے اسکی کلائی آزاد کی تو زینب بھاگنے والے انداز میں ٹیرس کے ڈور تک گئی اور پھر وہاں جا کر رک گئی۔ اس نے اپنی کلائی پر ہاتھ پھیرا جہاں عمر کا لمس ابھی بھی محسوس ہو رہا تھا۔ اس کے لب مسکراہٹ میں ڈھلے۔ عمر ابھی بھی ویسے ہی سینے پر ہاتھ باندھے ٹیک لگائے نظریں زینب پر ٹکائے ہی کھڑا تھا جب وہ پلٹی تھی۔ عمر کے چہرے پر دل فریب مسکان تھی۔ زینب نے اسے دیکھا اور ایک پل کیلئے یوں ہی دیکھتی رہی پھر مسکرا کر پلٹ کر وہاں سے چلی گئی۔
******************
” کیف ! ” اس سے پہلے عنایہ کچھ کہتی نتاشہ کیف کو آواز دیتے ہوئے ان کے قریب آ چکی تھی۔ نتاشہ جب کیف کو ڈھونڈتے ہوئے باہر آئی تو عنایہ کے ساتھ کیف کو دیکھ کر کافی حیران ہوئی تھی۔ ابھی بھی وہ ان دونوں کو سوالیہ نظروں سے ہی دیکھ رہی تھی۔
” میرے خیال میں زینب آگئی ہوگی روم میں، میں اب چلتی ہوں ” عنایہ ٹیک چھوڑ کر کیف کی طرف دیکھتے ہوئے بولی اور وہاں سے جانے لگی۔ کیف کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا تھا اور یہ بات نتاشہ نے اچھے سے نوٹ کی تھی۔
” تم یہاں اس کے ساتھ کیا کررہے تھے ؟ ” نتاشہ نے پوچھا۔
” وہ زینب کو ڈھونڈتے ہوئے آئی تھی تب ہی ایسے ہی ہم بات کرنے لگے ” کیف کندھے جھٹک کر سیدھا ہوا اور چلتے ہوئے کوک کا کین اچھال کر پھینکا۔ کیف کے یوں بے نیازی سے جواب دینے پر نتاشہ مطمئن ہوگئی تھی۔
********************
اگلے روز دوپہر دو بجے یہ لوگ بھوربن سے نکلے شام پانچ بجے اسلامآباد پہنچے تھے اور یوں یہ ٹرپ سبھی سٹوڈنٹس کیلئے یادگار رہا تھا۔ اس وقت رات کے گیارہ بجے کا وقت تھا جب کیف اپنے کمرے میں کالی بنیان اور کالا ہی ٹراؤزر پہنے نیچے فرش پر پش اپس لگا رہا تھا۔ اس وقت خیالوں میں صرف اور صرف عنایہ سمائی تھی۔ وہ اسے اپنے آس پاس اپنے کمرے میں ہر جگہ دکھنے لگی تھی۔ ایک دم کیف رکا تھا اور سیدھا اٹھ کھڑا ہوا۔
” کم اون کیف ! فوکس یار ایک لڑکی یوں میرے حواسوں پر سوار نہیں ہو سکتی ” وہ خود سے مخاطب ہوا۔
” وہ باسکٹ ہے۔۔۔۔۔چڑیل میری دشمن۔۔۔۔۔یاد نہیں جب سے یونیورسٹی آئی ہے تب سے میرا جینا حرام کیا ہوا ہے۔۔۔۔۔۔جس کیف مرتضیٰ سے بحث کرنے کی کسی میں جرات نہیں ہوتی تھی وہ لڑکی کرتی ہے اور مجھے الٹے جواب بھی دیتی ہے۔۔۔۔۔۔ہاں۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیے اب سے فضول سوچنا بند۔۔۔۔۔۔۔دشمن کے ساتھ دوستی ہو ہی نہیں سکتی” یہاں سے وہاں ٹہلتا وہ خود کو باور کروا رہا تھا۔
” کل اس باسکٹ کو ایک سبق سیکھانا ہے پھر کہیں جا کر سکون ملے گا ” ایک کمینی سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے اس نے سوچا۔
*******************
بلیو جینز پر گرین کلر کا کرتا پہنے، گلے میں مفلر کی طرح کرتے کے پرنٹ سے میچنگ سکارف لپیٹے، بالوں کی اونچی پونی ٹیل بنائے وہ یونیورسٹی پہنچی تو جو یونیورسٹی کھچا کھچ بھری ہوتی تھی آج بالکل خالی خالی سی تھی۔ سٹوڈنٹس شاید کل ہی ٹرپ سے واپسی کی وجہ سے نہیں آئے تھے۔ ابھی بھی بہت کم سٹوڈنٹس یہاں وہاں ٹہلتے ہوئے نظر آئے۔ عنایہ چلتے ہوئے یہاں وہاں نظریں گھما کر دیکھ رہی تھی۔ آج زینب بھی دیر سے آنے والی تھی جس کا وہ عنایہ کو صبح کال کرکے بتا چکی تھی۔ سامنے ہی گراؤنڈ میں اسے کیف نظر آیا جو بال کو باؤنس کرتا اکیلا ہی باسکٹ بال کھیل رہا تھا۔ عنایہ کے قدم اس طرف اٹھے اور اس کے پاس جا کر سینے پر بازو لپیٹے وہ اسے دیکھنے لگی۔
” کھیلنا آتا بھی ہے کہ لڑکیوں کو ایمپریس کرنے کے چکر میں بس بال کے ساتھ یوں ہی لگے رہتے ہو ” اس کی آواز پر کیف کا بال باؤنس کرتا ہاتھ تھما تھا پھر نظریں اٹھا کے سامنے دیکھا تو وہ تمسخر اڑانے والے انداز میں اسے دیکھ رہی تھی۔
” ٹھیک ہے ایک گیم ہو جائے پھر پتا چل جائے گا کس کو کھیلنا آتا ہے اور کس کو نہیں ” کیف بال ہاتھ میں لیے اس کے مقابل جا کھڑا ہوا تھا۔
” ہار جاؤ گے” مغرور انداز میں کہا گیا تھا کیونکہ وہ سکول لائف سے باسکٹ بال کھیلتی آرہی تھی اور کامپیڈیشن جیتتی بھی رہی تھی۔
” کانفیڈینٹ ہونا اچھی بات ہے لیکن آور کانفیڈینٹ ہونا نہیں “
” یہ تو گیم کے بعد پتا چل ہی جائے گا ” چیلنجنگ انداز میں عنایہ نے کہہ کر اس کے ہاتھ سے بال لے کر اسے باؤنس کرنا شروع کیا اور آگے بڑھ کر اسے نیٹ میں اچھال دیا۔
” جو جیتے گا اسے کیا ملے گا ؟ ” کیف نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔
” ام جیتنے والا ہارنے والے سے کوئی بھی ایک کام کروا سکتا ہے ” عنایہ نے بنا سوچے ہی جواب دیا تھا۔
” انٹرسٹنگ ” کیف نے گہری نظر اس پر ڈالی تھی۔ عنایہ بال دوبارہ تیزی سے باؤنس کرنے لگی تھی اور کیف اس کے سامنے اس سے بال لینے کیلئے گھیر رہا تھا۔ عنایہ بال باؤنس کرتے کرتے نیٹ کے قریب گئی اور اسے اچھال کر جیسے ہی نیٹ میں پھینکا تھا بال نیٹ میں جانے ہی لگی تھی کہ کیف نے جمپ لگا کر بال پر ہاتھ مار کر بال نیٹ میں جانے سے روک دی۔ عنایہ نے اسے دیکھا تو کیف نے خوبصورت انداز میں ونک کیا اور بال باؤنس کرتا دوسری جانب لے گیا۔ آس پاس سٹوڈنٹس اکٹھا ہونے شروع ہوگئے تھے۔ اور کھیل کافی دلچسپی اختیار کر گیا تھا۔ کیف اب تک تین بار بال نیٹ میں پھینک چکا تھا جبکہ عنایہ صرف ایک بار ہی۔ بال اب عنایہ کے ہاتھ میں تھی وہ پھرتی سے بال باؤنس کرتے ہوئے نیٹ کے قریب گئی اور جمپ لگا کر ایک اور بال باسکٹ کر چکی تھی۔ عنایہ اور کیف کا سکور اب برابر ہوگیا تھا۔ آس پاس والے سٹوڈنٹس سب کیف کو چیر اپ کرنے لگے۔ یہ دیکھ عنایہ کو کافی غصہ آیا تھا۔ لڑکیاں تو سمجھ آتی تھی کیف کو کیوں چیر اپ کررہی تھیں لیکن لڑکے بھی اسی کا نام پکار رہے تھے۔ عنایہ نے گہرا سانس خارج کیا اور جلدی سے آگے بڑھ کر کیف کو گھیرا۔ کیف بال کو باؤنس کررہا تھا اور عنایہ کی نظریں اس کے ہاتھ اور بال پر تھی۔ وہ بالکل اس کے نزدیک تھی کیف نے بال باؤنس کرتے ہوئے نگاہیں اٹھائیں تو نظریں تھم گئیں۔ اس کے چہرے پر آتی آوارہ لٹیں اور ادھ کھلے لب کیف کی نگاہوں کا مرکز تھے۔ وہ کھو گیا تھا اور اسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عنایہ اس کے ہاتھ سے بال کب لے کر گئی کیف کو پتا ہی نہیں چلا۔
” یا ہو ! ” عنایہ نے بال نیٹ کے اندر ڈال کر خوشی سے جمپ لگائی تو سبھی نے تالیاں بجا کر اسے داد دی۔ کیف ابھی تک وہیں گم سم سا کھڑا تھا۔ عنایہ کے اردگرد سبھی اسے اتنا اچھا کھیلنے پر سراہا رہے تھے۔ کیف کے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھا تو کیف ہوش میں آکر پلٹا تھا۔
********************
