222.3K
59

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Yun Mily Tum Se (Episode - 12)

Yun Mily Tum Se By Laiba Ahmad

” آپی اب بتا بھی دو کیسی رہی پارٹی ؟ ” نور کب سے عنایہ سے آج ہونے والی پارٹی کے بارے میں پوچھ رہی تھی۔ عنایہ وراڑروب کے سامنے کھڑی کل یونیورسٹی کے لیے کپڑے دیکھ رہی تھی۔

” نور ! میرے سامنے مت ذکر کرو اس منحوس پارٹی کا ” عنایہ مڑی اور گھور کر تھوڑے تیکھے لہجے میں کہا تھا۔

” ہائے اللہ ! کیا ہینڈسم نے اپنا بدلہ لے لیا آپ سے ؟ ” نور نے تجسس سے پوچھا۔ عنایہ کو تو طیش ہی آیا تھا نور کا اسے ہینڈسم کہنا۔ فوراً زور سے وراڑروب کو بند کیا اور نور کے سر پہنچی۔

” اگر تم نے ایک اور بار میرے سامنے اس کمینے کو ہینڈسم کہا تو تمھے اس ہی کے گھر چھوڑ آؤں گی ” عنایہ چلائی تھی۔ نور جو بیڈ پر بیٹھی فون یوز کررہی تھی اس کے چلانے پر فوراً پیچھے کو کسکھی تھی۔

” ہائے ایسا بھی کیا کردیا جو اتنا غصہ کررہی ہیں ؟ ” نور نے ڈرتے ڈرتے پوچھا. عنایہ نے سرد سانس خارج کی اور چپل اتار کر پاؤں اوپر کرکے بیڈ پر بیٹھ گئی۔

” میں بالکل صحیح سوچ رہی تھی وہ مجھ سے بدلہ ہی لینا چاہتا تھا اسی لیے اس نے یہ سب کیا “

” اچھا تو پھر کیا ہوا وہاں ؟ ” نور جلدی سے عنایہ کے پاس ہوکر بیٹھی تھی۔ عنایہ نے پھر اسے ساری روداد سنائی۔ جیسے جیسے نور سن رہی تھی نور کی آنکھیں پھیل رہی تھیں۔

” اوہ مائے گاڈ ! کیا چلاک ہے یہ ہینڈ۔۔۔۔۔۔۔میرا مطلب منال کا بھائی۔۔۔۔۔۔” نور ہینڈسم کہتے کہتے رکی کیونکہ اس نے ابھی ہینڈ ہی بولا تھا کہ عنایہ کی شکل دیکھ کر فوراً سے پیشتر اپنے الفاظ بدلے۔

” میں بالکل صحیح تھی وہ اتنی آسانی سے مجھے چھوڑ دیتا یہ ناممکن ہی تھا “

” ویسے منال تو اتنی انوسینٹ اور سویٹ سی ہے اور اسکا بھائی۔۔۔۔۔ ” نور نے بھائی کو خاصا کھینچا تھا۔

” اسکا بھائی ایک نمبر کا کمینہ ہے ” عنایہ نے غصے سے اسکی بات مکمل کی۔ نور نے بس سر ہلانے میں اکتفا کیا لیکن اپنے خیال میں اس نے کیف کو سلوٹ کیا( واہ کیا طریقہ تھا بدلہ لینے کا۔۔۔۔مان گئے بندہ ہینڈسم ہونے کے ساتھ ساتھ عقلمند بھی ہے)۔ عنایہ منہ بنا کر سونے کیلئے لیٹ گئی۔ آنکھیں بند کرتے ہی خود کا کیف کے سینے سے لگنا یاد آیا تو آنکھیں پٹ سے کھولیں۔

” اوفف۔۔۔۔۔۔۔یہ کیا کردیا میں نے ؟ کوئی حال نہیں میرا۔۔۔۔ شرم سے ڈوب مرنا چاہیے مجھے ” اپنی حرکت یاد آنے پر وہ خود کو کتنی ہی دیر کوستی رہی۔

******************

عنایہ ہاتھوں میں نوٹس تھامے ہوئے لائبریری سے نکلی تھی۔ وہ نوٹس چلتے چلتے فائل میں لگا رہی تھی جب سامنے سے آتے وجود سے بری طرح ٹکرائی تو سارے نوٹس زمین بوس ہوئے تھے۔ اس نے ایک نظر زمین پر ادھر ادھر پھیلے نوٹس کو روہانسی ہوکر دیکھا اور پھر نگاہیں اٹھا کر سامنے کھڑے وجود کو دیکھا جو اسکے چہرے کے تاثرات انجوائے کررہا تھا۔

” آنکھیں ہیں یا بٹن ؟؟ دیکھ کر نہیں چل سکتے ؟ ” وہ غصے سے چیخی تھی۔

” ففففففف !!!!! باسکٹ اتنا غصہ ؟؟ ” کیف نے ڈرامائی انداز میں کہا۔ عنایہ نے اسے تیز نظروں سے گھورا تھا پھر جھک کر اپنے نوٹس اٹھانے لگی۔ کیف بھی ہلکا سا مسکرا کر جھکا تھا اور اسکی مدد کیلئے نوٹس اٹھانے لگا۔ عمر اگر اس وقت کیف کو یہ سب کرتے دیکھ لیتا تو ضرور غش کھا جاتا۔ عنایہ کا ہاتھ کیف کے ہاتھ سے مس ہوا تو دونوں نے بروقت نظر اٹھا کر ایک دوسرے کو دیکھا تھا۔ ایک پل کیلئے دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھتے رہے بنا پلکیں جھپکے۔

” تم ٹھیک ہو ؟ ” کیف نے نوٹس اکٹھے کرکے اسے پکڑائے تھے۔ عنایہ نے کوئی جواب نہیں دیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔

” میرا مطلب تھا کل بہت ڈر گئی تھی تم ” کیف نے مسکراہٹ ضبط کی۔

” یہ خوشی زیادہ دیر تک نہیں رہے گی کیونکہ اب میری باری ہے ” عنایہ نے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے چیلنجنگ انداز میں کہا تھا۔

” مطلب ابھی بھی عقل ٹھکانے نہیں آئی ” کیف نے طنز کیا۔ عنایہ کے تو سر پر لگی تلوں پر بجھی تھی۔

” تم۔۔۔۔۔۔۔۔آہ۔۔۔۔۔۔۔۔” کہنے کیلئے کچھ نا بن پایا تو پیر پٹختی وہاں سے چلی گئی۔ جانتی تھی جو بھی کہے گی اسکا الٹا ہی جواب دے گا۔ کیف نے اسکی حالت پر قہقہ لگایا تھا۔

*******************

آج کلاس میں مارکیٹنگ ریسرچ کے بارے میں کچھ پوائنٹس ڈسکس کیے جارہے تھے۔ سر ہمدانی نے کلاس کو اس پر اپنا اپنا پوائنٹ دینے کو کہا تھا۔ عنایہ نے جو پوائنٹ دیا کیف نے اس سے اختلاف کیا اور وہاں دونوں میں اس ٹاپک کو لے کر کافی بحث ہوئی۔ کیف جو کہتا عنایہ اس سے اختلاف کرتی اور کیف عنایہ سے۔ سر ہمدانی نے اور باقی سب نے دلچسپی سے دونوں کی اس ٹاپک کے حوالے سے تبصرے کو انجوائے کیا تھا۔ اور آخر پر سر ہمدانی نے عنایہ کو سراہا تھا کیونکہ انھیں اسکا پوائنٹ بالکل صحیح لگا تھا۔ عنایہ نے ایک جتانے والی نظر کیف پر ڈالی تھی۔ وہ خوش تھی کہ یہاں اسے نے کیف کو مات دی لیکن یہ خوشی زیادہ دیر کیلئے نہیں تھی کیونکہ سر نے اسی ٹاپک پر سب کو اسائنمنٹ بنانے کو بولا اور یہ اسائنمنٹ دو لوگوں نے مل کر بنانی تھی اور پھر کلاس میں اسکی پریزینٹیشن دینی تھی۔ سر ہمدانی نے اپنی مرضی سے دو لوگوں کا pair بنایا۔ کیف اور عنایہ کا pair بنا تو عنایہ کو سکتا ہی ہوگیا اس کے برعکس کیف پہلے تو کچھ حیران ہوا پھر اس نے شرارت بھری مسکان سے عنایہ کو دیکھا تھا۔ زینب کا pair عمر کے ساتھ بنا تو عمر کی بانچھیں ہی کھل گئیں۔ اس کے بعد سر ہمدانی کی کلاس برخاست ہوئی تو سب ہی ایک دوسرے کے بنائے گئے پارٹنر پر باتیں کرنے لگے۔ عنایہ کلاس روم سے نکلی تھی کہ کیف بھی اسکے پیچھے گیا۔

” باسکٹ یار ! اب کیا ہوگا ؟ تمھے اس اسائنمنٹ کیلئے اپنے دشمن کو جھیلنا ہوگا ” وہ اس کے پیچھے پیچھے چلتے ہوئے گویا ہوا۔ عنایہ نے کوئی جواب نا دیا بس یوں ہی چلتی رہی۔

” ایکچیولی تمھے نہیں۔۔۔مجھے تمھے جھیلنا ہوگا ” کیف مزید اسے چڑانے کیلئے بولا۔ عنایہ رکی اور اسکی اور پلٹی تھی۔

” بہت سمارٹ سمجھتے ہو نا خود کو ؟ ” سینے پر ہاتھ باندھے وہ اس سے کہہ رہی تھی۔

” اوففف !!!! for the last time سمارٹ سمجھتا نہیں ہوں۔۔۔۔۔۔۔سمارٹ ہوں ہوں ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔” کیف نے چڑ کر کہا تھا۔

” اگر تم اتنے سمارٹ ہو ہو ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو سر ہمدانی تمہارا آج کا پوائنٹ کبھی غلط نہیں کہتے ” عنایہ نے بھی اسی کے انداز میں چڑ کر کہا تھا۔

” اوہ مائے گڈنس ! تم شاید سمجھی نہیں انھوں نے میرا پوائنٹ غلط نہیں کہا جسٹ تمھارے پوائنٹ کو میرے سے بہتر کہا ہے۔۔۔۔۔۔۔وہ بھی انھوں نے تمھے لڑکی ہونے کا مارجن دیا ہے “

” واٹ ؟؟؟؟ ” عنایہ چیخی تھی۔ اب دونوں راہداری پر کھڑے جھگڑ رہے تھے جب عمر اور زینب تیزی سے ان دونوں کر طرف آئے تھے۔

” تم دونوں پھر شروع ہوگئے ؟ ” عمر نے دونوں کو کہا تھا۔

” اسی نے شروع کیا ہے ” کیف نے تنک کر کہا۔

” کیا کہا ؟ میں نے شروع کیا ہے ؟ ” عنایہ نے دونوں ہاتھ کمر پر رکھے اسے غصے سے گھورا۔

” اور نہیں تو کیا۔۔۔۔۔تمھے ہی شوق ہوتا ہے میرے سے الجھنے کا ” کیف نے کندھے جھٹکائے۔

” تم۔۔۔۔۔میں تمہارا خون پی جاؤں گی ” عنایہ نے دانت پر دانت جمائے کہا۔ اسکا چہرہ غصے کی زیادتی سے سرخ ہوا تھا۔

” اوہ ! آئی نیو اٹ تم عام انسان ہو ہی نہیں۔۔۔۔۔چڑیل “

” تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بندر کہیں کے ” عنایہ کا بس نہیں چل رہا تھا ورنہ وہ سامنے کھڑے کیف کو مار ہی ڈالتی۔

” تم چڑیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔” کیف مزید کچھ کہتا عنایہ نے اپنا پاؤں کیف کے پاؤں پر زور سے مارا تھا۔

” افففف !!!!!! کیف ضبط کرتا رہ گیا اور عنایہ پلٹ کر وہاں سے چلی گئی۔ زینب وہاں کھڑی کبھی جاتی عنایہ کو دیکھتی اور کبھی غصے سے بھرے کیف کو دیکھتی۔ عمر نے کیف کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بات کرنی چاہی جسے وہ جھٹکتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔

” یہ دونوں کتنا جھگڑتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ ” زینب نے تاسف سے کہا تھا۔

” ہاں ! لیکن یہ دونوں مل کر اسائنمنٹ کیسے بنائیں گے ” عمر نے آنکھیں چھوٹے کیے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔

” مجھے لگتا ہے ہمیں ہی کچھ کرنا پڑے گا ” زینب نے عمر کو دیکھ کر کہا تھا۔

” صحیح کہہ رہی ہو ” عمر نے تائید کی۔

********************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *