Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Last Episode

کے بعد اسے زین کے کمرے میں بیٹھا دیا گیا ۔۔۔ سب بھابھیاں اسے تسلی دے کر وہاں سے جا چکیں تھیں وہ کمرے میں اکیلی بیٹھی تھی ۔۔ پھولوں کی خوشبو ناک کے نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی ۔۔
سب اچھا بھی لگ رہا تھا اور گھبراہٹ بھی بے حد تھی ۔۔۔
جو نیچرل تھا ۔۔۔ اسنے پہلے سے ٹھیک بندھیا کو ایک بار پھر سے ماتھے پر ٹھیک کرکے لگایا ۔۔ اور تبھی دروازہ ایکدم کھلا اور زین ایسے اندر آیا جیسے بھاگ کر آیا ہو ۔۔۔
رمشہ چونک کرسیدھی ہو گئ ۔۔۔
یہ اللہ کسی کو سالار بھیا جیسا بھائ نہ دے ۔۔” وہ سانس بہال کرتا بڑبڑایا اور روم اچھے سے لوک کر دیا ۔۔
روم لوک ہونے کی آواز پر ہی رمشہ کا دل عجیب سی لے پر دھڑک اٹھا ۔۔۔ اسنے اپنی انگلیاں کنفیوز ہو کر دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنسا دی ۔۔ زین مسکرا کر یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اسکا گھبرانا اچھا لگ رہا تھا اور ۔۔ شیروانی اتار کر ۔۔۔ بیڈ کے کنارے پر پھینک کر بالوں میں ہاتھ چلا کر ۔۔ رمشہ کے سامنےدھپ سے بیٹھا ۔۔ رمشہ نے حلق تر کیا مگر نظر نہیں اٹھائ ۔۔۔
کچھ زیادہ ہی شرم نہیں آ رہی آج تمھیں ” وہ اسکا چہرہ اوپر کرتا بولا ۔۔۔
رمشہ میں کچھ بولنے کی ہمت نہیں تھی البتہ لبوں کے کناروں میں شرملی مسکان ضرور تھی۔۔۔
زین نے اسکے سجے سنوارے وجود کو ۔۔۔ سرہانے والے انداز میں دیکھا ۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔”
بس پیاری” بے ساختہ رمشہ نے آنکھیں اٹھا کر اسکیطرف دیکھا زین نے اپنی ہنسی روکی ۔۔
ہاں بس پیاری اب اتنی بھی حور پری نہیں تھی تم جو تمھیں لگ رہا ہے تمھارے بالوں سے شروع کروں گا اور پاؤں کی ایڑھی تک تعریفوں کے پل باندھ دوں گا ” وہ بولا اور اسکا ہاتھ بھی پکڑلیا تھا رمشہ نے اسکی جانب دیکھا اور اپنا ہاتھ اس سے چھڑا لیا ۔۔
آف اتنا غصہ وہ بھی صرف ۔۔۔ ایک تعریف پر ” زین ۔۔۔ نے شرارتی نظروں سے اسے گھورا ۔۔
یہ کسی بھی دولہن کا حق ہے ۔۔کہ اسکی سر سے پاؤں تک تعریف کی جائے ۔۔” رمشہ نے جسیے پتے کی بات بتائ ۔۔۔
اگر تم میں صبر نہیں تو ۔۔سر سے پاؤں تک تعریف شروع کر دیتا ہوں ” وہ گھیری نظروں سے دیکھتا اسکا چہرہ سرخ کر گیا تھا ۔۔۔
رمشہ نے سٹپٹا کر نظریں پھیر لیں ۔۔
اب کرو ان نظروں کا مقابلہ ” وہ اسکا چہرہ اپنے نزدیک کرتا بولا
وہ ۔۔ وہ میری منہ دیکھائ ” اس سے پہلے وہ واقعی اسکے اوسان خطا کرتا وہ جلدی سے بولی ۔۔۔
اب یہ منہ دیکھائ کہاں سے آ گئ ” زین بدمزہ ہوا ۔۔
میں نے تو کچھ نہیں لیا ” وہ صاف مکرہ ۔۔رمشہ کی آنکھیں باہر کو ابل پڑیں ۔۔۔
میرے لیے منہ دیکھائ نہیں لی ” وہ ایکدم غصے سے بولی ۔
زین کا قہقہہ نکلا ۔۔کبھی وہ شرم سے دھری ہو رہی تھی تو کبھی لڑنے کو تیار ۔۔۔ زین نے ایکدم اسے اپنی جانب کھینچا اور رمشہ اسکی بانہوں میں آ سمائ ۔۔۔
زین نے کرتے کی جیب سے۔۔۔ ایک چین نکالی ۔۔جس میں دل بنا ہوا بنا تھا ۔۔ جس پر اسکا نام لکھا ہوا تھا ۔۔۔ اس نے وہ چین پیار سے اس کی گردن میں باندھی اور اس کی گردن کو چھو کر اپنا پہلا لمس بخشا ۔۔۔ رمشہ کی پلکیں جھکی جا رہیں تھیں ۔۔۔
پیارا ہے ” وہ مدھم لہجے میں بولی ۔۔
تم سے کم ” وہ بولا ۔۔۔ اور نرمی سے اسکے چہرے پر جھک گیا ۔۔۔۔
دونوں کے دل دھڑک اٹھے ۔۔ لمس کی نرمی رمشہ کو اسکا کرتا سختی سے جکڑنے پر مجبور کر گئ ۔۔۔۔
جبکہ زین کی گستاخیاں جیسے بڑھنے لگیں ۔۔۔
رمشہ نے اسے روکنا چاہا مگر ایسا سماں تھا کہ وہ خود بھی نہ روک پائ ۔۔۔۔
کوئ بہت طوفانی عشق تو نہیں مجھے تم سے ۔۔۔ مگر اچھی لگتی ہو۔۔میں جانتا ہوں یہ اچھا لگنا جلد محبت میں بدل جائے گا ۔۔” وہ اسکی جھکی جھکی پلکوں پر پیار کرتا بولا ۔۔۔۔
تو رمشہ نے خود سپردگی سی دے دی ۔۔اور زین سب بند توڑتا چلا گیا ۔۔اسکے
ہر انداز میں رمشہ کے لیے عزت احترام ۔۔ نرمی محبت تھی ۔۔۔
جیسے وہ بہت نازک ہو۔۔۔ بے دردی سے چھونے سے اسے نقصان نہ پہنچ جائے ۔۔۔
تبھی وہ بے حد نرمی سے ۔۔اسے اپنی محبت کی برسات میں بھگونے لگا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں جا رہے ہیں آپ اس وقت ” زیمل نے حیرانگی سے اسکیطرف دیکھا ۔۔
ایک ضروری کام ہے ۔۔ صرف آدھے گھنٹے میں پورا کر کے تمھاری جان کو لڑتا ہوں ” وہ ونک دیتا بولا ۔۔۔۔
زیمل نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
کیسے بے حیائ سے سب بول دیتا تھا ہر بات ۔۔۔
میرا مطلب تھا یہ کوئ وقت ہے کہیں جانے کا “
مجھے پتہ ہے میری جان تم مس کرو گئ میں کہہ رہا ہوں نہ تم نے سونا نہیں ہے آج جشن کی رات ہے ۔۔ کیونکہ اب سے ہمارے بیچ ۔۔۔
سالار پلیز کتنے بے حیا ہیں آپ ” وہ اپنا چہرہ چھپاتی بولی جبکہ اسنے جھک کر اسکی پیشانی چوم لی ۔۔۔۔
اب اچھےسے شرم لو آدھے گھنٹے بعد تمھیں اسکا بھی موقع نہیں ملے گا ۔۔” وہ دانت نکالتا بولا ۔۔۔
آف ” زیمل کو خود پر ترس آنے لگا ۔۔
سالار البتہ ہنستا ہوا بائے کہہ کر باہر نکل گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ایک ٹوٹے پھوٹے گھر کے سامنے گاڑی روکے کافی دیر سے کھڑا تھا ہاں زیمل سے آدھے گھنٹے کا کہہ کر آیا تھا مگر وہ جانتا تھا اس سے زیادہ وقت ہو چکا ہو گا ۔۔۔
فیروز کچھ دیر تو انتظار کرتا رہا کہ شاید وہ خود اندر جائے مگر جب اس کے قدم نہیں اٹھے تو فیروز نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔ وہ جیسے ہوش میں آیا تھا ۔۔۔
آپ نے اندر نہیں جانا ۔۔نہیں جانا چاہتے تو خود کو مجبور مت کریں ” وہ بولا ۔۔۔
یار دیکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ اس ماں کو ۔۔۔ جو اپنے بچے کو بیچ دے” وہ بالوں میں ہاتھ پھیر کر گھیری سانس لے کر بولا ۔۔۔۔
کیا میں آپکے ساتھ چلوں ” اسنے پوچھا تو سالار نے نفی میں سر ہلایا اور ۔۔ وہ اس لکڑی کے کھلے دروازے میں داخل ہو گیا ۔۔۔۔
ایک صحن میں بہت ساری چارپائیاں تھیں اور ۔۔۔ بے شمار لوگ اسپر سو رہے تھے ایک چار پائ پر دو دو بچے زمینوں پر پڑے تھے اسنے یہاں سے نگاہ ہٹائ
سمجھہ نہیں آیا یہاں وہ ۔۔ جنھیں ڈھونڈنے آیا ہے وہ کہاں ہو گے ۔۔
تبھی اسکی نظر پورے گھر میں موجود صرف ایک کمرے پر پڑی جس میں روشنی تھی وہ اس کمرے کی جانب چل دیا ۔۔
اور اسنے جھانک کر اندر دیکھا ۔۔
ایک عورت بے حال سی رو رہی تھی جبکہ ۔۔۔۔
اسکے ساتھ اسکا باپ بیٹھا تھا ۔۔ ہاں وہ باپ شاید اصل ۔۔۔۔باپ
وہ چند لمہے دیکھتا رہا اور ۔۔۔ پھر ۔۔۔۔ اسنے دروازہ بجایا ۔۔
دونوں نے دروازے کی جانب دیکھا ۔۔ آنکھیں حیرت سے پھٹ گئ ۔۔
سالار کی شکل بلکل سپاٹ تھی ۔۔۔
دونوں کو یقین نہیں آیا ۔۔۔۔ کہ وہ انکے پاس تھا ۔۔۔۔ انکے پاس ن
انکا بیٹا انکے پاس تھا جسے وہ لالچ میں بیچ چکے تھے ۔۔ جس کی صورت اپنا قرضہ اترا تھا ۔۔۔
سالار خاموش کھڑا رہا وہ عورت چلاتی ہوئ اٹھی اور سالار کے سینے سے لگ گئ ۔۔
اسکی بے یقین چیخیں ۔۔۔۔ شاید وہاں سب کو جگا گئیں ۔۔۔۔
سالار نے ایک پل کو ناگواری سے یہ منظر دیکھا اور پھر اس انجان لمس کو ۔۔ جو اس وقت اسکے وجود سے چیپٹا تھا اسے مدیھا یاد آ گئ ۔۔ درحقیقت وہ ہی اسکی ماں تھی بھلے اسنے اسے جنم دیا تھا یہ نہیں ۔۔۔
سالار ۔۔۔ نے اس عورت کو خود سے دور کیا۔۔۔
اسکا باپ اسکے سامنے آیا ۔۔
میرا بیٹا واپس آ گیا ۔۔
وہ روتے میں بولے ۔۔
سالار سمجھہ نہیں سکا اپنے حقیقی ماں باپ سے مل کر وہ کیوں پتھر کی طرح ہو گیا تھا گویا کوئ جزبہ نہیں اٹھ رہا تھا ۔۔۔ خیر سمجھنے والی کوئ بات بھی نہیں تھی اس میں
سالار مرتضی نام ہے میرا ” اسنے جتایا ۔۔۔
سوچ کر آیا تھا بس یہ دیکھنے کہ ۔۔ ایک لالچی ۔۔ باپ کو تو دیکھ لیا ۔۔اس لالچی ماں کو بھی دیکھ او ۔۔۔ جس نے اپنی اولاد کو پیسے کے لئے بیچ دیا ۔۔ کتنا خوش ہیں وہ ۔۔ایک انسان کی پوری زندگی میں خلا بھر کر ۔۔۔۔
کہ وہ ہنسی قہقہے۔۔ غم کسی بھی لمہے میں اپنی حقیقت یاد کر کے ۔۔۔ گھبرا سا جائے ایک انسان کو خالی کر دینے والے لوگ کیسے دیکھتے ہیں
دیکھ کر افسوس ہوا۔۔۔ کہ رشتوں کی نہ قدری انسان کو ۔۔۔ کہاں پھینک دیتی ہے” سپاٹ لہجے میں اسنے ان دونوں کیطرف دیکھ کر کہا ۔۔
بیٹا ہمیں معاف کر دو پیسے نے ہمیں اندھا کر دیا تھا ۔۔۔۔۔ ” وہ عورت جو کہنے کو اسکی ماں تھی آگے بڑھ کر بولی ۔۔ اور سالار کے چہرے پر اپنا ہاتھ رکھنا چاہا مگر سالار ۔۔۔۔ نے اسے دور جھٹک دیا
عجیب احساسات تھے اسکے اندر ۔۔۔ وہ بھولنے کی یہ سب کوشش کرتا تو حقیقت جھٹلا نہ پاتا۔۔۔ یاد اتارو ۔۔سب ایکدم جیسے ختم ہو جاتا ۔۔۔۔ وہ خود کو خود ہی سمجھہ نہیں پا رہا تھا اسے سکون چاہیے تھا ۔۔
اس بات نے اسے لاکھ خوش رہنے کی کوشش کے باوجود بار بار پیچھے لا پٹخا تھا ۔۔۔۔
اسنے اس عورت کو دور جھٹکا ۔۔
اس وقت بھی پیسے کی ہی ضرورت ہے تبھی ۔۔۔ آپ دونوں کو میرے یہاں آنے کی خوشی ہوئ ہے ۔۔۔ میں بچا نہیں ہوں میرے پاس سب کچھ ہے ۔۔۔ مگر زندگی میں یہ دو بھیانک چہرے کبھی بھول نہیں سکتا ۔۔۔۔
اسنے جیب سے ۔۔۔ چیک بک نکالی ۔۔۔۔
اور اسپر
۔۔ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا اسنے کتنی بڑی رقم لکھ دی ۔۔ تھی وہ لکھ کر اسنے ان دونوں کے منہ پر دے ماری ۔۔۔
آج مجھے پیدا کرنے کا حساب بھی پورا ہوا۔۔۔
اب کم از کم کبھی مجھے کھڑے ہو کر یہ مت کہنا کہ میں تمھارا بیٹا ۔ہوں ۔۔۔۔
یہ کافی ہیں تم دنوں کی زندگی کے لیے ” وہ چیک ہوا میں اچھال کر ۔۔ وہ سپاٹ لہجے میں بولا اور جن قدموں سے وہ آیا تھا انھیں سے واپس پلٹ گیا ۔۔۔۔
پیچھے وہ دونوں اسکی پیٹ دیکھتے رہ گئے۔۔۔۔
زندگی کے اس موڑ پر ۔۔۔ پیسے کی حوس ۔۔۔۔ نے جہاں ان دونوں کو پھیکا تھا جو سانپ کی طرح اپنی اولاد کو بھی نگل گئے تھے آج وہ اپنی پیدائش کا قرض بھی اتار گیا تھا ۔۔۔۔
مگر ان دونوں میں ہمت نہیں تھی جھک کر وہ رقم اٹھا لیتے کوئ اگر زبان اور دل ہی بات پوچھتا تو انھیں وہ چاہیے تھا ۔۔۔
سالار چاہیےتھا ۔۔ بیٹا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔
جو شاید کبھی انھیں نہ ملتا ۔۔۔۔
انکی عمر۔۔ حالات اور وقت نے ۔۔ سنگین غلطی کا احساس ان دونوں کے دل میں ایسا گاڑ دیا تھا کہ شاید دونوں ہی گویا زندگی ۔۔۔
سکون سے گزار پاتے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ باہر نکلا ۔۔۔ اور سیدھا گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔
فیروز نے اس سے بات کرنا چاہی مگر سالار نے سر نفی میں ہلا دیا ۔۔۔۔
گھر چلو ۔۔۔” وہ بولا ۔۔۔ فیروز پر جیسے حیرت کا پہاڑ ٹوٹا ۔۔۔
اسکا لہجہ بھیگا ہوا تھا
۔۔ فیروز شاید اسکی فیلنگز تک پہنچ نہیں سکتا تھا ۔۔ جو بات اسے اندر سے کاٹ رہی تھی ۔۔ اسکی عزت اسکی انا غیرت سب مٹی ہو گیا تھا ۔۔۔ شاید کبھی وہ خود میں سے اس خلش کو نکال پاتا ۔۔
فیروز نے گاڑی گھر کی جانب بڑھا دی
سارے راستے وہ کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔
گاڑی روکی تو وہ باہر نکلا ۔۔۔
فیروز بھی جلدی سے نکلا ۔۔
سالار اس سے پہلے آگے بڑھتا کہ رک گیا وہ اسکا منتظر تھا سالار نے ایک نگاہ اسپر ڈالی اور ۔۔ مسکرا دیا اسکے بالوں میں ہاتھ چلا کر بکھیر دیے
یار گھر جاؤ ورنہ گیسٹ روم کھلوا دیتا ہوں ” اسنے کہا ۔۔۔ توفیروز کچھ نہیں بولا ۔۔
ایک قدم آگے بڑھا اور اسکے گلے لگ گیا ۔۔
سالار پہلے حیران ہوا یہ حرکت اسنے پہلے کبھی نہیں کی تھی ۔۔۔
جو گزر گیا ۔۔اسے بھول جائیں ۔۔۔۔ آج سارے حساب برابر ہو گئے۔۔۔” وہ بس اتنا ہی بولا ۔۔ سالار معمولی سا مسکرا دیا ۔۔
سر ہلا کر اسکو خود سے جدا کیا اور گال تھپک کر اندر بڑھ گیا ۔۔
وہ اندر آیا ۔۔ توسامنے ہی مرتضی کو کھڑا دیکھا ۔۔
وہ چونکا ۔۔۔ اور پھرادھر ادھر نگاہ گھمائ تو کچن کی اوٹ میں ۔۔۔
زیمل کا سرخ آنچل دیکھائی دیا ۔۔
یہ آج مرے گی مجھ سے ” وہ منہ میں بڑبڑایا ۔۔
کہاں گئے تھے تم” مرتضی نے سختی سے پوچھا ۔۔
سالار جو دونوں پوکٹس میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا ہاتھ باہر نکال لیے ۔۔
امممم ایک کام تھا آپ کیوں جاگ رہیں ہیں ماما نے باہر نکال دیا کیا ” اسنے آنکھ دبائ
شیٹ آپ سچ بتاؤ ” مرتضی بنا لحاظ کے بولے ۔۔
سالار کا منہ بنا ۔۔۔
یار اب میں بھی باپ بننے والا ہوں قسم ہے مجھے بھی ۔۔ آپ سے زیادہ سخت باپ نہ بنا تو نام سالار نہیں ۔۔ پر وقت پولیس والے بنے رہتے ہیں ” وہ ۔۔ اپنے اندر ساری کیفیت چھپاتا اپنی ٹون میں چیڑ کر بولا ۔۔۔
سالار مرتضی آنکھوں سے آنکھیں ملا کر بات کرو گے تو جو بول رہے ہو مان جاؤ گا ” مرتضی بولے ۔۔۔ توسالار نے سانس چھوڑ دیا ۔۔ ساری ہمتیں جو مجتمع کرکے وہ ۔۔ نارمل ہونے کی ایکٹینگ کر رہا تھا ۔۔۔۔
اسنے سر جھکا لیا ۔۔
مرتضی صاحب کا دم ہی نکل گیا ۔ وہ جانتے تھے ایسی بہت سی نگاہیں آئیں گی جس میں انھیں اسکو سنبھالنا ہوگا ۔۔۔۔ وہ آگے بڑھے ۔۔۔
یار کیا پریشانی ہے ” وہ بے چین ہو گئے ۔۔ وہ بیٹا جو خود باپ بننے والا تھا ۔۔۔ کیسے وہ ۔۔ انکے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا ۔۔۔۔
انھوں نے سالار کو تھاما شانوں سے ۔۔۔ اسکی آنکھوں میں سرخی تھی ۔۔
یار” مرتضی پریشان دیکھائی دینے لگے ۔۔۔ وہ فیل ہو جانے والے دلبرداشتہ بچے کیطرح زمین کو گھور رہا تھا ۔۔۔
میں ۔۔۔ قرض چکا آیا ہوں ۔۔۔ آج سارے حساب برابر کر دیے ۔۔ اب کوئ یہ نہیں کہے گا سالار کو ان دونوں نے پیدا کیا ۔۔۔۔ “
کون کہہ رہا ہے یار ۔۔ مجھے بتاؤ ٹانگیں توڑ دوں گا میں ان کی “
یہ کہتا ہے ” اسنے جیسے اپنے ہی دل کی شکایت کی ۔۔اور یہاں زیمل ایک بار پھر ہار گئ ۔۔۔۔
وہ تو کبھی سمجھہ ہی نہیں سکی اسے کہ وہ کیا محسوس کرتا ہے ۔۔۔
بس اپنا آپ اسکے حوالے کر دیا ۔۔۔ وہ سمیٹ لیتا تھا اسکے آگے ڈھال بن جاتا تھا ۔ مگر زیمل ۔۔۔ پھر سے ہار گئ تھی ۔۔۔۔
وہ اسے سمیٹ نہیں سکی ۔۔ وہ بت بنی کھڑی تھی ۔۔
مرتضی کا دم نکلنے کو تھا ۔۔۔۔
وہ اسے سینے میں بھینچ گئے اور ۔۔۔۔ سالار انکے سینے میں چھپ گیا ۔۔۔۔۔
بلکل 3 سال کے بچے لگ رہے ہو ” مدیھا جو ان دونوں کے پیچھے ہی کھڑی تھی اسکی کمر پر ہاتھ رکھتی پیار سے بولی ۔۔
سالار باپ سے الگ ہوا یہ لمس اور وہ لمس دونوں میں بہت فرق تھا ۔۔ اسنے اپنی آنکھیں صاف کیں
مگر میں تیس سال کا ہوں ” وہ ہنس دیا ۔۔۔۔
جوان ہو ۔۔ خوبصورت ہو ۔۔کیونکہ تم میرے بیٹے ہو ۔۔۔” مدیھا نے شرارت سے کہا ۔۔۔
وہ ہنس دیا ۔۔۔۔۔
انکے بھلانے پر ۔۔ وہ بچپن میں بھی اسے ایسے کہتی تھی ۔۔۔
تم خوبصورت ہو کیونکہ تم میرے بیٹے ہو ۔۔۔۔۔
اور وہ چوڑا ہو جاتا تھا ۔۔۔۔۔
اسنے ماں کو گلے لگا لیا ۔۔۔۔
مدیھا نے اسکے ہاتھ چوم لیے ۔۔۔۔
میرا بیٹا ” وہ بولیں ۔۔۔۔
باقی سب باپ پر گئے ہیں ایکدم گھوچو “
واٹ” مرتضی نے ترچھی نظریں ڈالیں ۔۔۔۔
انکے ساتھ مل کر میری برائ نکالنے کی ضرورت نہیں ” مرتضی بولے ۔۔
مجھے ضرورت بھی نہیں آپکی” مدیھا نے بھی پٹاخ سے جواب دیا
جب بیٹے منہ نہیں لگائیں گے تب میں ہی یاد آؤ گا ” مرتضی نے سالار کے سینےسے لگی مدیھا کو دیکھا ۔۔
میرے بیٹے ایسے نہیں ” مدیھا نے مان سے کہا ۔۔۔
واہ یار ” سالار محظوظ ہوا ۔۔۔
میں بھی زیمل سے ایسے ہی لڑوں گا ۔۔ جب بوڑھا ہو جاؤ گا ” وہ دانت نکالتا بولا ۔۔۔۔۔۔ جیسے بہت پرجوش ہو ۔۔
بیٹا عورتیں کرتیں ہیں مرد نہیں ” مرتضی نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
مرد اپنی من مانی کے لیے جو پیدا ہوئے ہیں ” مدیھا تو سیدھی ہو گئ ۔۔
سالار کا ہنس ہنس کر برا حال تھا ۔۔۔
یار تھوڑی دیر اور لڑ لیں ۔۔۔ مزہ آ رہا ہے ” وہ صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔
کیوں ہم پاگل ہیں ” مرتضی بولے ۔۔
یہ یہ ۔۔ اب سمجھہ آ گئ مجھے مرد ہی عورت سے زیادہ پیار کرتا ہے “
سراسر جھوٹ ” مدیھا نے منہ ہی موڑ لیا ۔۔
ڈیڈ انڈائریکٹ موم کہہ رہی ہیں وہ آپ سے زیادہ پیار کرتی ہیں ” وہ آنکھیں گھما کر بولا ان دونوں کی بھی تو صلح کرانی تھی ۔۔۔
وہ تو میں جانتا ہوں ” مرتضی خوش ہوئے ۔۔
بس بکواس کرا لو اس لڑکے سے ” مدیھا اپنی جلد بازی پر شرمندہ سی ہوئیں
اچھا یار اب ناراضگی کو بائیکاٹ کرو کمرہ انتظار کر رہا ہے”
بے شرم بدلحاظ” مدیھا کو تو غصہ ہی آیا اسکی فضولیات پر اسکی کمر پر تھپڑ مارا ۔۔ جبکہ وہ ہنسا ۔۔۔
بابا معافی مانگ لینا ۔” وہ آنکھ مارتا بولا ۔۔۔
تو مرتضی نے مسکرا کر مدیھا کو دیکھا مدیھا اپنی مسکراہٹ ۔۔ سیمٹتیں ۔۔۔ وہاں سے ہٹ گئیں ۔۔۔۔
جبکہ مرتضی نے ۔۔۔ شکر کا سانس بھال کیا ۔۔اور سیڑھیاں چڑھتے سالار کو ۔۔۔ دیکھا ۔۔۔ جو جانتا تھا زیمل کچن میں ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا ایک بڑا حصہ گزر گیا تھا ۔۔ وہ تھی کمرے میں نہیں آ رہی تھی سالار پرسکون تھا۔۔زیمل کا منتظر تھا ۔۔۔ اور نیند الگ آ رہی تھی ۔۔۔۔
تبھی اسکی آنکھ لگ گئ ۔۔ زیمل فجر کی اذانوں کے وقت کمرے میں آئ ۔۔۔ تو وہ تکیوں کو بانہوں میں بھینچے سو رہا تھا ۔۔۔
زیمل اسکے پاس آ کر بیٹھ گئ ۔۔اسکے بالوں میں انگلیاں چلانے لگی ۔۔۔۔
پیار کرنا نہیں آتا مجھے سالار ۔۔۔ آپکو پڑھنا نہیں آتا ۔۔۔ آج میں خود سے بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔۔ بہت ” اسکی آواز بھیگ گئ ۔۔۔۔
اسنے جھک کر ۔۔۔ سالار کی پیشانی پر لمس چھوڑا اور جلدی سے دور ہوگئ وہ گھیری نیند میں تھا ۔۔۔
زیمل نے اسکی بانہوں سے تکیے آزاد کیے اور بلنکٹ اٹھا کر وہ خود اسکے بازؤں میں لیٹ گئ ۔۔۔
جہاں سکون تھا چین تھا۔۔ جیسے دنیا کی ہر تھکاوٹ اس حفاظت میں آ کر ۔۔۔ ختم ہو جاتی تھی ۔۔۔ سالار نے اسے نیند میں ہی قریب کر لیا ۔۔۔
میں کب سے ویٹ کر رہا تھا میری نائٹ سپوئل کی ہے تم نے سزا ملے گی تمھیں ” گھیری نیند میں وہ بڑبڑایا ۔۔۔
زیمل نے اسکی گردن میں ہاتھ ڈالا ۔۔اور اسکے بالوں میں پھر سے انگلیاں چلانے لگی ۔۔
منظور ہے ” وہ مدھم لہجے میں بولی ۔۔۔۔ اور آنکھیں موند لیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چند سالوں بعد
نوٹ بک پر تیز تیز لکیریں مار کر ۔۔۔۔ اسنے سر اٹھایا ۔۔۔ تو حسین آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے وجہ حیدر صاحب تھا ۔۔۔۔
جو سکول کی سب لڑکیوں سے دوستی کرتا تھا ۔۔۔۔
جبکہ لائبہ کو لگتا تھا ۔۔اسے صرف اسکا دوست ہونا چاہیے ۔۔۔۔
وہ کیوں کسی سے دوستی کرتا ہے ۔۔۔
وہ سالار انکل سے اس بات پر پیٹتا بھی تھا پھر بھی ویسا ہی رہتا تھا ۔۔۔
اسنے اپنے آنسو صاف کیے ۔۔اور اسکے سفید پھولے پھلے گالوں میں چیری سی گھل گئ ۔۔۔
یعنی سرخی پھیل گئ ۔۔
لائبہ تم رو رہی ہو ” نور نے اسکیطرف دیکھا چھٹی ہو گئ تھی وہ اسے لینے آئ تھی منہا بھی ساتھ تھی ۔۔۔
دونوں نے لائبہ کو روتے دیکھا تو جلدی سے کلاس میں آئیں وہ۔۔ میڑک کی سٹوڈنٹس تھیں جبکہ لائبہ نائنتھ کلاس میں اور حیدر اور زریاب دونوں نائنتھ کلاس میں تھے دونوں ٹوئنز تھے ۔۔۔
زریاب کافی موٹا تازہ تھا کیونکہ وہ ماماز بوائے تھے جبکہ حیدر۔۔۔ سالار مرتضی کی کاپی نہیں تھا ۔۔۔
کیونکہ سالار مانتا ہی نہیں تھا کہ وہ خلائی مخلوق ہے جبکہ حیدرکو وہ بس یہ ہی کہتا تھا کہ میرے گھر چلائ مخلوق پیدا ہوئ ہے۔۔۔
جبکہ دیکھنے میں وہ اپنے باپ سے بھی کہیں زیادہ خوبصورت تھا ۔۔۔۔۔
آپی ۔۔۔ حیدر آج بھی مصباح کا ہاتھ پڑھ رہا تھا اور جب ہم گئے انکے پاس ۔۔ تو انھوں نے ہمیں جھڑک دیا ” اسکی آنکھیں پھر سے بھر گئیں ۔۔اور موڑے موٹے آنسو گیرتے رہے
نور نے نفی میں سر ہال کر اسے گلےسے لگا لیا ۔۔
یہ حیدر دو ہفتے سے تایا جان سے پیٹا نہیں ہے جب یہ پیٹے گا تب اسکو سکون ملے گا ۔۔۔ ” نور اور منہا بھی غصے سے بولی۔ تو ۔۔ زریاب آ گیا
آپی ڈرائیور آ گیا ہے یار بھوک لگ رہی ہے مجھے” وہ بولا تو وہ تینوں ہنس دیں ۔۔ روتے میں ہنسنے کا منظر لائبہ کے چہرے پر بکھر گیا ۔۔۔۔۔
جو اتنا دلکش تھا کہ سب ٹھر کر دیکھتے ۔۔۔
حالانکہ مجھے لگتا ہے اس موٹے نے ساری کینٹین کھائ ہے ” منہا نے اس گول گپے کے گال کھینچے ۔۔۔
حیدر کہاں ہے ” نور کو یاد آیا ۔۔۔۔
بھیا تو ۔۔ اوپر ہیں ابھی۔۔۔ وہ ایک کی لڑکیوں کے ہاتھ دیکھ رہے ہیں “
استغفار ۔۔ آج تو یوں ہی چلو اسے چھوڑ کر بس “
نور غصے اور خفگی سے بولی اور سب وہاں سے ۔۔ جانے لگے کیونکہ باہر روشانے اور رضا بھی اپنے بیگ لیے کھڑے ان دونوں کا ویٹ کر رہے تھے ۔۔۔۔
نور نے اپنے بھائ کو گود میں اٹھا لیا ۔جبکہ روشانے کو
۔۔ منہا نے ۔۔۔ کیونکہ وہ سب سے چھوٹی تھی ۔۔۔ ابھی تھری کلاس میں تھی ۔۔۔۔ اور بیگ کے وزن سے تھک گئ تھی ۔۔
مگر” لائبہ نے نفی کی وہ کیسے اسے چھوڑ کر جاتی
۔ پھر انکل اسکو مارتے ۔۔
میں لاتی ہوں نہ اسکو ” وہ کہہ کر یونیفارم میں بھاگتی ہوئی بڑی پیاری لگی تھی ۔۔
وہ سب اب ان دونوں کا ویٹ کرنے لگے ۔۔۔۔
لائبہ جلدی سے اوپر بھاگی ۔۔ اور کوریڈور سے گزر کر وہ ۔۔ حیدر کی کلاس کے باہر آ گئ ۔۔۔
وہاں تو ۔۔۔ لڑکیوں کا ڈھیر تھا ۔۔۔۔
لائبہ ۔۔۔ کی آنکھوں میں پھر سے آنسو آ گئے ۔۔۔۔
حیدر جو مسکرا کر ۔۔ علیزے کا ہاتھ پڑھ رہا تھا ایکدم نگاہ لائبہ پر اٹھی ۔۔ جس کی آنکھوں میں بے شمار آنسو تھے
او تیری بیٹے ۔۔ تو گیا آج اوکے گرلز بائے ” وہ بیگ کاندھے پر ڈالتا ڈیسک پر سے اچھل کر لائبہ تک پہنچا ۔۔
اوہ میری ہنی بنی ۔۔۔ رو کیوں رہی ہے دیکھو کیسے بیوقوف بنایا ہے میں نے ان سب کو ” وہ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑتا
۔۔ دانت نکالتا بولا ۔۔
ہاتھ چھوڑیں میرا میں انکل کو شکایت لگاؤ گی آپکی آپ بات نہیں مانتے انکی ” وہ ۔۔۔ اپنا ہاتھ اس سے چھڑاتی
غصے سے کہہ کر آگے بھاگ گئ
یار لائبہ ۔۔ پلیز دیکھو سب کو شکایت لگانا سوائے ڈیڈ کے۔۔ میرا موڈ اچھا ہے مجھے جوتیاں نہیں کھانی یار پلیز ” وہ بولا ۔۔۔
بیگ دیں ” لائبہ نے اچانک رک کر اس سے بیگ لیا ۔۔۔
حیدرمسکرا دیا ۔۔اور اسکی گردن میں ہاتھ ڈال لیا ۔۔۔۔
ہنی بنی تمھیں چاکلیٹ کھلاؤ گا ۔۔۔ پیزا اور برگر بھی ۔۔۔” وہ اسکا گال کھینچتا بولا لائبہ تو خوش ہو گئ ۔۔۔۔
اتنے میں ہی ۔۔۔اور میں پین کیک بناؤ آپکے لیے “وہ پوچھنے لگی
۔۔
چڑیا جلا دو گی تم” باپ والا انداز تھا اسکا بلکل ۔۔
نہیں حیدر میں نے سچی میں سیکھ لیا ہے اب ۔۔۔۔ میں اپنے گھر سے بنا کر لاؤ گی شام میں “
تم ہمارے ساتھ چل رہی ہو ۔۔۔ سمجھی” وہ گھور کر بولا ۔۔۔
مگر دادو اکیلی ہوں گی نہ مما بابا تو فرینڈ کی شادی میں آؤٹ آف سیٹی گئے ہیں” وہ دونوں سارے راستے باتیں کرتے ہوئے نیچے آ رہے تھے
واقعی افان انکل گھر نہیں ہاش ریلیف اب میں مزے سے انکی بائیک لے کر گھومو گا اور خبردار جو تم نے کسی کو بتایا ” ساتھ اسنے وارن بھی کیا ۔۔۔
لائبہ نے منہ بنایا ۔۔۔
میں نے پہلے کبھی بتایا ہے ” وہ پوچھنے لگی ۔
تبھی تو تم میری بیسٹ فرینڈ ہو ” وہ مسکرایا ۔۔
مگر آپ الٹی سیدھی حرکتیں نہیں کریں گے ویلنگ نہیں کریں گے ” وہ ساتھ وارن کرنے لگی
اچھا بابا ” وہ جان چھڑانے کو بولا جبکہ دوستوں کے ساتھ رات ہائے وے پر جانے کا پلین تھا وہ بے حد ایکسائٹیڈ تھا ۔۔۔
لائبہ کو لے کر وہ جلدی سے گاڑی میں بیٹھا کبھی وہ دونوں اسکی جان کو لڑیں نور اور منہا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔
لائبہ کو وہ زبردستی اپنے ساتھ لڑ بھیڑ کر لے آیا تھا جبکہ وہ ایک ہی بات کہہ رہی تھی دادو اکیلی ہوں گی مگر اسے آخر میں اسی کی ماننی تھی وہ سب گھر میں داخل ہوئے ۔۔ اور زوروشور سے سلام کیا ۔۔۔
حیدر کا دل کیا واپس ہی پلٹ جائے سامنے ہی اسکا باپ اس وقت اٹھا تھا ناشتہ کر رہا تھا اسکی چھترول بنا کسی وجہ سے ہی پکی تھی زریاب نے بیگ پھینکا اور سیدھا باپ کے سامنے چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا ۔۔
یہ کیا ہاتھی بن رہے ہو تم ۔۔۔۔” سالار نے گھورا ۔۔۔
زیمل جو زریاب کے لیے ۔۔ پراٹھا ڈال رہی تھی غصے سے مڑی
اتنی بار کہا ہے میں نے اس طرح مت ٹوکا کریں ” وہ بڑبڑایا نین اور آیت مسکرا دیں ۔۔۔۔
ہائے دادی ” حیدر مدیھا کے گلے لگا ۔۔۔۔۔
ہیلو میری جان ویسے سلام کرتے ہیں ” مدیھا نے ٹوکا تو ۔۔۔۔ وہ سر ہلا گیا ۔۔ باپ کے سامنے کوئ الٹی سیدھی حرکت نہیں کرنا چاہتا تھا
۔۔۔
لائبہ نے بھی سب کو سلام کیا ۔۔ البتہ وہ جانے کے لیے بے چین تھی ۔۔ باقی سب اپنے اپنے رومز میں چلے گئے ۔۔اور رمشہ روشانے کا ہاتھ منہ دھلانے لے گئ ۔۔
حیدر چیئر کھینچ کر ۔۔۔ باپ کے سامنے بیٹھا
ہائے ڈیڈ ” وہ بولا ۔۔ اور ہاتھ کی مٹھی باپ کیطرف بڑھائ
جس پر سالار نے مٹھی ماری
ہائے سن ۔۔۔ واٹ اباوٹ ڈو ڈے” وہ پوچھنے لگا۔۔
اٹس گڈ از آلویز ” وہ آنکھ دبا کر بولا ۔۔۔
کوئ نیا کارنامہ ” سالار نے زرا تشویش نظروں سے دیکھا جبکہ لائبہ مدیھا کو کہہ رہی تھی کہ ڈرائیور سے کہیں گھر چھوڑ دے حیدر کی غصیلی نظریں اسپر رکیں ۔۔۔۔
لائبہ چپ ہو گئ ۔۔
ارے جاؤ آ گیا ہے ڈرائیور ” مدیھا بولیں ۔۔حیدر نے مزید گھورا تو وہ نفی کر گئ ۔۔۔۔
اور سالار کو سلام کرتی ٹیبل پر آ گئ ۔۔
وسلام کیا کیا ہے اس کھوتے نے آج ” وہ لائبہ کیطرف دیکھ کرپوپچھنے لگا ۔۔۔
یہ اسکی دل کی خواہش تھی لائبہ اسکی بہو بنے ۔۔ جو ابھی اسنے کسی سے شئیر نہیں کی تھی ۔۔۔ بس وہ پسند تھی اسے حیدر کے لیے ۔۔
وہ دونوں ساتھ اچھے لگتے تھے ۔۔۔۔
کچھ بھی نہیں انکل” لائبہ ساری باتیں چھپا کر مسکرائ
لائبہ جھوٹ بول رہی ہے ڈیڈ ۔۔۔ بھیا نے سکول کی سب لڑکیوں کے ہاتھ دیکھیں ہیں اور پتہ نہیں کیا کیا فالتو باتیں بتائیں ۔۔۔ ہیں
ہاتھی” حیدر ایکدم چیخا ۔۔
میری جان یہ کھا ۔۔۔ میں رات کو تمھارے لیے آئسکریم لاؤ گا ” جلدی سے اسکے منہ میں سیب ٹھونستے اسنے گھور کر کہا
سالار باپ تھا انکا ۔۔۔ حیدر کو خاموشی سے گھور کر دیکھا ۔۔۔۔
تبھی مرتضی بھی سب بچوں کی آوازیں سن کر آ گئے ۔۔ اب انھوں نے آفس کو خیر باد کہہ دیا تھا کیونکہ سالار ۔۔۔ اب آفس جاتا تھا ۔۔۔۔
مگر کچھ لیٹ ۔۔۔۔
کس کے ہاتھ پڑھیں ہیں ” سالار نے بات وہیں سے شروع کی
ڈیڈ میں نے نہیں پڑھے یار ۔۔۔” حیدر بولا ۔۔ لائبہ تو سر جھکائے کھانے لگی ۔۔۔۔۔
اور ٹنشن الگ ہوئ ۔۔۔۔
شیٹ آپ تمھیں کہا ہے نہ تم ایسی حرکتوں سے پرہیز کرو تمھیں سمجھہ نہیں آتی ” سالار نے اسکا کان پکڑا ۔۔
یار بابا میری عزت ہے کوئ ” وہ چیخا۔۔۔
جبکہ مرتضی نے اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارا
خبردار جو میرے بیٹے کو چھوا بھی”
بابا اسے آپ بگاڑ رہیں ہیں ” سالار نے شکایت کی ۔۔۔
تم بڑی سیدھی چیز ہو آئے بڑے
۔۔
کھا میرا بیٹا اور میرا بھی ہاتھ پڑھنا دادی کا بھی ” مرتضی ہنسے جبکہ ۔۔لائبہ بھی ہنس دی ۔۔ سالار سے جان تو چھوٹی تھی ۔۔
موٹے تیرا قیمہ بناؤ گا میں “
اور میں تمھارا ” سالار نے انکھیں نکالیں ۔۔۔
ہائے موم ” باپ سے نظریں بچا کر اسنے ماں کا ہاتھ پکڑا اس سے پہلے وہ اسے چومتا سالار نے سیب اسکے ہاتھ پر مارا ۔۔
اپنی ولایت کا چومنا ۔۔ چھوڑو اسے “
سالار حد کرتے ہیں” زیمل تو شرمندہ سی ہو گئ
اس عمر میں بھی وہ فضول بولنےسے باز نہیں آتا تھا ۔۔۔
میں تو باہر سے لاؤ گا ایک پرنسیز “
اور میں تمھارے جیسے پرینس کے خوابوں میں پہنچ کر بھی اسے چھیت سکتا ہوں تو زمین پر رہو “
اب لڑنے مت پڑ جاو ” مرتضی نے تنگ آ کر کہا ۔۔۔
سالار اسے گھورتا ہوا اٹھ گیا جبکہ ۔۔ حیدر مسکراتا رہا وہ جانتا تھا ۔۔ وہ پیار بھی سب سے زیادہ اسی سے کرتا تھا ۔۔۔۔
حیدر دادا کا ہاتھ پڑھ کر من گھڑت کہانیاں اب ۔۔ اسے سنا رہا تھا جس پر ۔۔ مرتضی ہنس رہے تھے بلکہ سب ہی
شام تک سب آ جاتے اور اب ۔۔۔ اسنے ایک ایک بندے کا ہاتھ پڑھنا تھا سوائے اپنے باپ کے جبکہ ۔۔۔ افان کی گاڑی بھی اڑا کر لے جانی تھی ۔۔۔۔۔
مرتضی نے ایک نظر سب پر ڈالی ۔۔ بس کچھ دیر میں شام ڈھلتی اور ۔۔۔ سب انکے پرندے گھر لوٹ آتے۔۔۔۔
خاندان صرف لفظوں میں وزن نہیں رکھتا تھا انھوں نے اس گھر کے ایک ایک پرندے۔۔۔ کو اس گھر سے ایسے باندھا تھا کہ کوئ بھی جدا نہ ہوتا ۔۔۔ وہ خوش تھے انکے چاروں بیٹے ۔۔اور اب انکے بچے بھی ۔۔۔ اس گھر کی رونق بن چکے تھے ۔۔۔ وہ مکمل تھے۔۔ ہر بری نظر سے دور اپنے گھر کو رکھنے کے خواہش مند تھے ۔۔۔۔ اور جب تک سانسیں تھیں وہ اسی طرح حفاظت کرتے۔۔۔۔ اسی طرح ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ختم شد