Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 33
No Download Link
Rate this Novel
Episode 33
اسکی آنکھ کھلی تو ۔۔۔ آنکھوں پر تھکاوٹ کے آثار تھے ایسا لگ رہا تھا بہت دنوں بعد اٹھی ہے۔۔۔۔
اسنے نکایہت سے ارد گرد دیکھا ۔۔۔۔
اور پھر نظر پیٹھ موڑے ۔۔۔ کھڑے اس شخص پر گئ ۔۔وہ خاموش نظروں سے اسکو دیکھنے لگی درحقیقت اب تک اسکادماغ جاگا نہیں تھا اور نہ ہی پک کر پا رہا تھا کہ وہ کون ہے ۔۔۔
وہ شرٹ لیس تھا ۔۔ زیمل خاموشی سے دیکھ رہی تھی۔۔
اسنے نیوی بلو کلر کی شرٹ اٹھائ ۔اور ساتھ ہی کانوں میں بلو ٹوتھ لگا لی ۔۔
ہاں آج کی شوٹینگ کینسل کر دو ۔۔۔ آج اور کل میں فری نہیں ہوں ۔۔۔۔ “وہ بولنے لگا ۔۔زیمل۔کا دماغ جاگنے لگا اسکی آنکھیں پہلے تو حیرت سے پھلیں ۔۔۔
سر ضروری ہے یہ شوٹینگ اس کی ڈیٹ ڈیلے نہیں کر سکتے” دوسری طرف سے جواب آیا ۔۔
یار ابھی میرا موڈ نہییں ڈائریکٹر سے میں خود بات کر لوں گا ۔۔۔۔ ریلکس کرو تم بھی ” اسنےاچھے موڈ میں کہا ۔۔اور شرٹ اپنے بدن پر چڑھا لی جبکہ شرٹ کے آگے سے بٹن بند نہیں کیے تھے ۔۔ زیمل ایکدم اٹھ بیٹھی اسے سمھجہ ا گئ تھی وہ کہاں ہے۔۔۔۔۔
اسنے ایک منٹ میں وہاں اس بستر سے اٹھنا چاہا ۔۔۔ مگر ۔۔۔ اسکے ہاتھوں میں ڈریپس لگی تھی ۔۔ وہ بے بسی سے انھیں دیکھتی رہ گئ ۔۔۔
پیچھے سے حرکت کے احساس سے سالار مڑا تو ۔۔۔ وہ اپنی پینٹ میں بیلٹ ڈال رہا تھا ۔۔۔ وہ یوں ہی موڑا اور ایک ہوک میں بیلٹ ڈال کر فیکس کی جبکہ شرٹ کے بٹن کھلے چھوڑے وہ زیمل کو دیکھنے لگا ۔۔ جو اسکو دیکھ کر آنکھیں زور سے بھینچ گئ تھی ۔۔
سالار کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئ ۔۔
دو چار چماٹ کھانے کی حقدار یہ لڑکی بھی تھی نہ جانے کل رات سب کو
۔۔ وہاں محسوس کر کے
۔کیسے اسنے اسکے تن پر افشین کے پرانے کپڑے برداشت کیے تھے بس نہیں چلا اٹھا اٹھا کر پٹخ پٹخ کر ۔۔۔ افشین کو مارے اور زیمل کے بھی کان سرخ کر دے ۔۔ کہ کوئ اتنا ڈرپھوک ہو سکتا تھا ۔۔۔
خیر وہ اسکی زمہ داری تھی جس کا خیال اسنے خودہی رکھنا تھا جبکہ زیمل نے اپنے لباس پر اب تک توجہ نہیں دی تھی کہ وہ کس کے ٹراؤزر شرٹ میں ہے شاید دے لیتی تو وہیں بے ہوش ہو جاتی
۔۔۔
سالار اسکے سامنے ا۔ کر بیٹھ گیا اور گھور کر اسکو دیکھنے لگا ۔۔
اسنے گھڑی میں وقت دیکھا ۔۔۔
ابھی دس منٹ میں سارے گھر والے اوپر ہوں گے ۔۔۔۔ کیونکہ نہ ہی میرے گھر والوں کو اپنے بیٹے پر یقین ہے اور نہ ہی مجھے خود پر اور کل رات کے بعد تو بلکل خود پر یقین نہیں رہا تو بہتر ہے اٹھ کر ۔۔ اپنا لباس پہنو وہاں اس کیری میں تمھارے نیو کپڑے ہیں ۔۔ باقی حساب کسی اچھی جگہ پر ہو گا ۔۔۔۔
میں کچھ دیر کے لیے ۔۔۔ باہر جا رہا ہوں ضروری کام کرنے ۔۔ اوں گا تو اپنے ساتھ تمھیں لے جاؤ گا ۔۔ یہ مت سمجھنا میں زیادہ دیر کے لیے اب تمھیں کہیں چھوڑوں گا ۔۔۔ ٹھیک ہے” وہ اسکے کان کے قریب جھکا اسکے شانے پر موجود تل کو گھورتے ہوئے ایک ایک لفظ بول رہا تھا ۔۔
زیمل کی نگاہ اپنے لباس پر گئ ۔اور اچانک اسکی چیخ نکلی ۔۔۔
سالار البتہ اپنی مسکراہٹ کا گلہ گھونٹتا اسکے پاس سے اٹھ گیا اگر وہ بیٹھ ا رہتا تو زیمل واقعی گزر جاتی اور وہ ایسا نہیں چاہتا تھا ۔۔
زیمل پتے کیطرح کانپنے لگی حونک نظروں سے اسکی پشت دیکھنے لگی ۔۔۔
ی۔۔۔یہ آپ نے ” وہ کچھ بولنے قابل نہیں تھی ۔۔ جبکہ چہرہ لال ٹماٹر کیطرح سرخ ہو چکا تھا ۔۔۔
ہاں میں نے کیا ہے تم نے اس ڈائین کے کپڑے پہنے بھی تو کیسے ۔۔ میں تمھارا منہ توڑ دوں گا ۔۔۔ تم دیکھنا تو صیحی ” وہ پھاڑ کھانے کو دوڑا ۔۔۔۔
یہ آپ نے اچھا نہیں کیا “وہ رونے لگی ۔۔۔
دل تو کر رہا ہے سب سے زیادہ برا تمھارے ساتھ کروں مگر کیا ہے نہ ۔۔ میں مزاج کے لحاظ سے زرا مختلف سا بندہ ہوں ۔۔ تو میں تمھاری جان سولی پر لٹکا کر سکون محسوس کروں گا فلحال اٹھ جاؤ یوں ہی بیٹھی رہی تو ۔میرا باپ میری گردن اتار دے گا کہ شادی سے پہلے ہی میں نے تمھارے ساتھ” وہ رک گیا معنی خیزی سے زیمل کو دیکھنے لگا۔جبکہ ہڑبڑا کر اٹھی اور بھاگتی ہوئی ۔واش روم میں بند ہونے لگی کہ دروازے سے زور سے ٹکرائی ۔۔
آہ ” سالار ایکدم اسکیطرف بڑھتا کہ زیمل۔نے خوف زدہ ہو کر دروازہ کھولا اور اندر گئ ۔۔۔ جبکہ اندر جاتے ہی وہ اتنی بھکالئ ہوئ تھی کہ ایکدم گیر گئ
اچھا کام یہ کیا تھا کہ اسنے دروازہ لوک کر لیا تھا ۔۔۔۔۔
زیمل ٹھیک ہو تم” سالار حیرانگی سے ۔۔۔ پوچھنے لگا
۔۔۔
ہنسی الگ ا رہی تھے۔۔۔
پہلے ہنس لیں آپ” وہ بھڑک کر بولی ۔۔
بتاتا ہوں تمھیں باہر تونکلو تم میرے سامنے زبان فرفرا رہی ہے اور وہاں مرنے کے پلین بنا لیے تھے” سالار بھڑکا جبکہ اندر سے آواز نہیں آئ ۔۔وہ پلٹا توفرش پر خون کے قطرے دیکھ کر۔۔ ایکدم ماتھے پر بل ڈلے اپنی گھبراہٹ میں اسنے احساس نہیں کیا تھا کہ اسکے ہاتھ میں ڈریپ لگی ہے اور وہ یوں ہی بھاگ اٹھی تھی۔۔ سالار نے ڈریپ بند کی ۔۔۔
اور خود باہر نکل گیا ۔۔ تاکہ نہ وہ گیرے نہ ہی کسی چیز سےٹکرا کر بھکلا کر خود کو ہی نقصان دے ۔۔۔
ارے واہ میرا بیٹا اتنی جلدی اٹھ گیا ” مدیھا نے اسکو پیار سے دیکھا وہ شرمندہ بھی تھی اس سے ۔۔۔۔
سالار نے شانے آچکائے ۔۔۔
ایکچلی بابا نے میری شادی کا پلین بنا ہی لیا ہے تو میں زرااچھے بچوں کیطرح بیہیو کرنا چاہتا ہوں ۔۔ آئ شو یو ڈیڈ ۔۔ آئ ایم پرفیکٹ مین”وہ اترا کر بولتا چئیر کھینچ کر بیٹھ گیا
صبح جلدی اٹھنا پرفیکشن ہے یقین نہیں ا رہا ” کبیر نے کہا اور اخبار منہ کے سامنے سے ہٹایا ۔۔۔
دوبارہ لگا لو ۔۔ پلیز اس اخبار کو “سالار نے گھور کر کہا ۔۔۔
بھیا بھابھی اٹھ گئ ہیں میں لے آؤں انھیں” پریشے زرا ہچکچا کر بولی سالار نے اسکی ہچکچاہٹ محسوس کی ۔۔ اسے بلکل اچھا نہیں لگا سب اسے اوور پوزیسیو بیہیو دیں وہ تو سب کے ساتھ ویسا ہی رہنا چاہتا تھا جیسے پہلا تھا ۔۔۔
بس اس حادثے سے اسنے خود کو سبق سیکھایا تھا کہ زیمل۔اسکی زمہ داری ہے جسے وہ اگنور نہیں کرسکتا تھا
ریلکس ہو کر ناشتہ کرو خود ہی ا جائے گی ۔۔۔”سالار نے لاپرواہی سے کہا ۔۔۔
لے آتی ہے نہ پریشے ” مدیھا بھی بولیں ۔۔
مما لنگڑی نہیں ہے چل سکتی ہے وہ”سالار ہنسنے لگا ۔۔۔ جبکہ پیچھے سے آتی زیمل۔یہ سن چکی تھی اسے بھوک کا شدید احساس ہوا تھا۔ تبھی وہ نیچے ا گئ تھی اور اب کنفیوز ہو رہی تھی اور سالار کی بات سن کر اسنے خفگی سےاسکودیکھنا چاہامگر ۔۔ دیکھ نہ سکی ۔۔۔
بہت بری بات ہے سالار”مدیھا نے زیمل۔کو اسکے ساتھ بیٹھاتے ہوئے غصے سے کہا ۔۔۔
وہ تو مجھے پتہ ہے بری بات ہے ۔۔۔ایسے کسی کی مدہوشی کا فائدہ اٹھانا “آدھا فکرہ سب کے سامنے جبکہ آدھا زیمل۔کیطرف جھک کر بولتا وہ ۔۔اسکو مزید گھبرانے پر مجبور کر گیا جبکہ خود جیم سلائس پر لگا کر کھانے لگا ۔۔۔
بس اسے تنگ مت کرو “
لو میں نے کب کیا ہے” وہ چیڑا ۔۔۔۔
سالار اپنا ٹیپ ریکارڈر بند کرو ” مرتضی نے اسکو گھور کر دیکھا ۔۔
آپ تو بس مجھے آنکھیں دیکھاتے ہیں ” وہ نارضگی سے بولا اور ٹیبل کے نیچے سے زیمل کا ہاتھ پکڑ کر اپنی جانب کھینچ لیا زیمل بلکل اسکیطرف ہو گئ ۔۔۔
اسنے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا ۔۔۔ سالار ۔۔۔ مسلسل بریڈ جیم مزے سے کھا رہا تھا جبکہ مدیھا نے زیمل کے آگے کھانا لگا دیا ۔۔اسنے پراٹھا رکھا تھا وہ ۔
کمزور سی ہو گئ تھی تبھی اسنے ہیلدی فوڈ رکھا یہ جانے بنا کے اسکابیٹا کر کیا رہا ہے ۔۔
زیمل کا سیدھا ہاتھ اسکی قید میں تھا ۔جبکہ وہ ۔زین کیطرف متوجہ تھا جو موبائل پر کچھ سرچ کررہا تھا ۔۔۔۔
زیمل چندہ آپکو اچھا نہیں لگتا پراٹھا تو کچھ اور بنا دوں” مدیھا بولی ۔ اس سے شرمندہ بھی تھی سب نے زیمل کیطرف دیکھا جس کے رنگ ہی اڑ گئے ۔۔۔۔
نہیں ۔۔اچھا لگتا ہے”وہ بولی اور سالار کی قید سے ہاتھ آزاد کرانے کی تگ و دو کرنے لگی ۔۔۔۔
مگر وہ کہاں چھوڑنے والا تھا ۔۔۔۔
پھر کھا نہیں رہی ہو نارض ہو مجھ سے ۔۔ میں جانتی ہوں بیٹا مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوئ ہے ۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں ہو سکتا تو معاف ۔۔
مما” سالار ایکدم چیخا تھا۔۔۔
زیمل کا ہاتھ چھوڑ دیا زیمل خود بھی ۔۔۔ پریشان ہو گئ تھی۔
وہ چئیر چھوڑ کر اٹھ گیا ۔۔۔
میں نے کہا تھا ۔۔زیمل صرف میرا مسلہ ہے اسکے ساتھ جو بھی ہوا ہے وہ میرا قصور ہے ۔۔۔۔ آپ کیسے اس سے معافی مانگ سکتی ہیں ماں ہیں آپ میری ۔۔۔”وہ بھڑکا تھا ۔۔۔۔
سالار ہم سب کو ہی زیمل۔سے معافی مانگنی چاہیے ۔۔۔۔ غلطی ہم سب سے ہوئ ہے”کبیر بولا ۔۔
تم سب مانگو مجھے پرواہ نہیں مگر مما بابااب دوبارہ ایسا مت ہو پلیز ۔۔ یار مجھے غصہ مت دلائیں ” وہ خفگی سے بولا جبکہ مدیھا نے اسکی پیشانی چوم لی ۔۔
میں واقعی بہت شرمندہ ہوں ” اسنے پھر سے کہا ۔ جبکہ سالار نے اب کہ سانس بھرا ۔۔۔
مرتضی ہنسنے لگے ۔۔۔۔
سالار نے انکے ہاتھوں پر پیار کیا ۔۔
میں جانتا ہوں مجھ سمیت آپ زیمل سے بھی بہت پیار کرتی ہیں بس اپنے ظالم شوہر سے کہیں رخصتی جلدی کرے پلیز” وہ دانت نکال کر بولا ۔۔۔۔
مرتضی صاحب بس میں نے اپنے بیٹے کی شادی کرنی ہے ۔۔۔ آپ جلد از جلد انتظامات کریں” مدیھا نے تو فورا کہہ ڈالا زیمل سر جھکائے بیٹھی تھی ۔۔
واہ مما” سالار نے مسکراتے ہوئے ۔۔۔ ماں کے شانے پر ہاتھ رکھا اور باپ کو دیکھنے لگا ۔۔
مرتضی صاحب کچھ سوچ میں پڑ گئے ۔۔
ابھی رک جاؤ
زیمل۔کو ٹھیک ہونے دو ” وہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گئے ۔۔۔
سب انھیں حیرانگی سے دیکھنے لگے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارض اپنے ہاتھ میں موجود پاسپورٹ کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
اسنے لمبی سانس بھری تھی کوئ نہیں جانتا تھا اس سانس نے اسکے اندر کیا حشر برپا کیا تھا ۔۔
اسنے وہ پاسپورٹ دوبارہ رکھ دیا ۔۔۔اور الماری ابھی بند ہی کی تھی کہ آیت ۔۔۔ دروازہ کھول کر اندرر ا گئ ۔۔اج وہ جلدی افس سے ا گیا تھا کچھ کام بھی تھا ۔۔ تبھی وہ تھکی ہوئی لگ رہی تھی عارض اسی کیطرف دیکھ رہا تھا کہ وہ ۔۔بستر پر بیٹھنے کے بجائے لیٹتی چلی گئ ۔۔
عارض اسکے نزدیک آیا ۔۔۔۔
تم ٹھیک ہو ” اسنے تشویش سے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ اسکی پیشانی ٹھنڈی ہو رہی تھی یعنی اسکابی پی لو ہو رہا تھا ۔۔۔
عرض نے اسکو گھور کر دیکھا ۔۔ کیا ضرورت ہے تمھیں سب کے ساتھ بیٹھ کر اتنی لمبی چوڑی باتیں کرنے کی “وہ غصہ کرنے لگا ۔۔
میں آفس سے آیا تھا تب بھی تم ہی بول رہی تھی جب میں اپنے کام سے باہر گیا تب بھی گھر میں تمھارا شور تھا اور حد تو یہ ہے جب واپس آیا تب بھی تم نے ہی بکر بکر لگائی ہوئی تھی ۔۔ زبان ہے یہ کچھ اور” وہ خفگی اور سختی سے بولا ۔۔۔
میں میرے بولنے پر بھی کوئ مسلہ ہے ۔۔ “وہ منہ بسور کر گھیرے سانس بھرنے لگی ۔۔
ہاں مجھے مسلہ ہے زبان کو تالو سے لگا لیا کرو تمھارے حق میں بہتر ہے ” وہ اٹھا اور فریزر سےا سکی پسند کی چاکلیٹ اٹھا کر لایا جو کل رات ہی وہ لایا تھا ۔۔
عارض پلیز کوک بھی” وہ جلدی سے بولی ۔۔عادض نے پھر سے اسے گھورا اب تو اسکی گھوری میں آتی ہی نہیں تھی ۔۔۔
بلکل سر پر چڑھ گئ تھی اسکے ۔۔۔۔
ابھی پرسوں رات کو جو تم نے پیزا اور کوک اپنے اندر اتاری تھی نہ وہ میرے اوپر نکلی تھی ۔۔۔
اور میرا بس نہیں چل رہا تھا تمھاری گردن اتار دوں تمھیں کوک ڈائجیسٹ نہیں ہوتی شاباش چلو یہ انرجی دے گی تمھیں” اسنے چاکلیٹ کا ریپر ہٹایا اور اسکے ہاتھ میں دی ۔۔
تھینکیو ” آیت نے جلدی سے پکڑ لی کبھی اس سے بھی جاتی نہ رہے ۔۔
ویسے آپ آج کل مجھے زیادہ ہی ڈانٹتے ہیں” آیت نے کہا ۔۔
عارض نے اسکیطرف دیکھا ۔۔
تم نےاپنی حرکتیں دیکھیں ہیں ۔۔۔ تین دن پہلے تم سیڑھیوں پر سے پھسلی وہ آیت تم جانتی ہو میری جان نکل۔گئ تھی جب صبح صبح تمھاری چیخ کی آواز سنی تھی ۔۔۔ ” عارض نے اسکا ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔۔
مگر آپ نے بچا لیا تھا ” آیت نے مسکرا کرا سکیطرف دیکھا ۔۔
عارض نے اسکو احتیاط سے اپنی طرف کھینچا اور آیت خود کو سنبھالتی اسکے سینے سے لگ گئ ۔۔
میں تم تک۔ کسی بری تکلیف کو پہنچنے نہیں دوں گا میرا وعدہ ہے تم سے ” وہ اسکے بال درست کرتا بولا۔۔۔۔
آیت چاکلیٹ کھاتے میں مسکرا دی ۔۔۔۔
ایکچلی وہ ایسے ہوا تھا کہ ۔۔ نہ وہ جگہ گیلی تھی ۔۔تو میرا ایکدم پاؤں پھیسل جاتا
تو مجھے لگا میں پھسل جاؤ گی ۔۔۔ تبھی میں چیخی تھی” آیت اسے تفصیل بتانے لگی ۔۔
مطلب تم پھیسلی نہیں تھی” عارض حیران ہوا ۔۔۔
نہ” آیت نے مزے سے کہا ۔۔
میں نے کہا مجھے لگا میں پھسل جاؤ گی” وہ منہ پر ہاتھ رکھتی ہنسی روکنے لگی ۔۔عارض نے لمبا سانس کھینچ کر۔۔غصہ ضبط کیا تو ایسے رہی تھی جیسے نا جانے کیا ہو گیا تھا اور اتنی بھاری ہو چکی تھی مگر پھر بھی عارض کو اسے ۔۔ اٹھانا پڑا تھا کہ وہ اسکے لیے قیمتی تھی بہت “
مجھے اندازا بھی نہیں تھا ۔۔ دبو سی آیت میں ۔۔ چڑیلیں بسی ہیں جو صرف میرے ارد گرد ہی منڈالتیں ہیں” وہ اسکی پیشانی سے اپنی پیشانی ٹکرا کر بولا ۔۔۔
کوئ نہیں ایسی کوئ بات نہیں میں تو ایسی ہی تھی ۔۔اپ ہی نہیں دیکھتے تھے میری طرف” وہ کہنے لگی جبکہ وہ تقریبا چاکلیٹ کھا چکی تھی اور اب اسے احساس ہوا تھا عارض کو بھی کھلانی چاہیے ۔۔۔
اسنے عارض کے منہ میں ڈالی ۔۔ جسے عارض نے لے لی ۔۔
اب ایسانہیں کرو دیکھتا تو تھا تمھاری طرف تبھی” وہ معنی خیزی سے بات روک گیا جبکہ آیت نے مڑ کر اسکے سینے پر دومکے برسائے ۔۔
میں بار بار کہتی ہوں ۔اس دن آپ نے مجھے حد سے زیادہ تکلیف دی تھی”وہ منہ بسور کر دور ہوئ ۔۔عارض نے اسکو نزدیک کھینچ لیا ۔۔۔
پھر بھی میں تھارے دل سے نہیں نکلا تھا”وہ بولا ۔۔
کیونکہ میں پاگل تھی” آیت نے نخرہ دیکھایا ۔۔
مجھےا ہنے دل سے کبھی مت نکالنا ۔۔۔ ہرپل ہر لمہہ اپنے دل میں میرے لیے وسعت رکھنا ” وہ نرمی سے اسے سمھجانے لگا۔۔ آیت نے ۔۔ چاکلیٹ اسکے منہ میں دی ۔۔اور اسکی گردن میں بازو حائل کر لیے ۔۔
میں جانتی ہوں اب آپ کہیں نہیں جائیں گے ۔اب عارض صرف ایت کے ہیں ۔۔۔ اور آیت کے دل میں عارض کے لیے محبت نہیں عشق ہے اور یہ عشق کبھی ختم نہیں ہو گا “وہ بولی تو اظہار محبت کرتی اتنی معصوم لگ رہی تھی کہ عارض نے اسکے لفظوں کو ہی شدت سے چن لیا ۔۔
آیت اسکی شدت پرکچھ پریشان سی ہوئ ۔۔
اور اسکو دور ہٹانا چاہا مگر عارض نے اسکے دونوں ہاتھ سختی سے جکڑ لیے۔۔۔
آیت اسکی شدت سے بھکلائ تھی ۔۔۔۔
شششش”عارض نے اسکو مزاہمت کرتے دیکھا تو ۔۔ آنکھیں نکال کر گھورا ۔۔۔
اٹس ہرٹنگ ” آیت سانس حلق میں اترتی بولی ۔۔۔
برداشت کر لو ” عارض لاپرواہی سے بولتا پھر سے جھک گیا ۔۔۔
جبکہ اس بار آیت واقعی برداشت کر رہی تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج کبیر کو افس سے آنے میں لیٹ ہو گئ تھی جبکہ ۔۔عارض تو کافی پہلے ا گیا ۔۔تھا پھر وہ باہر چلا گیا اور ابھی کچھ دیر پہلے ہی واپس ایا تھا ۔۔
نین کو گول گپے کھانے تھے سب چیز پس پشت ڈالے وہ لاونج میں چکر لگاتی کبیر کا انتظار کر رہی تھی ۔۔
بھابھی محترم۔۔۔ یہ مارشلاٹ کیوں لگا رکھی ہے”سالار اچانک ہی اندر داخل ہوا ۔۔۔
نین نے اسکیطرف دیکھا ۔۔اورا سکو گھورا۔۔ وہ ان دونوں سے ہی معافی مانگ چکی تھی جس پر سالار تو کچھ نہیں بولا تھا البتہ زیمل نے۔۔ ان سب کی محبت کے تحت ان سب کو معاف کر دیا تھا ۔۔۔۔
پہلے آپ بتائیں ۔۔۔ صبح کہہ کر گئے تھے ۔۔ کچھ دیر میں ا رہا ہوں ۔اور اب ا رہے ہیں نو بجے”نین نے ۔۔ اسکو گھورا ۔۔۔۔
واہ یار ۔۔۔اپ بھی ٹھیک ہیں اس چوہیا کی حمایت کر رہیں ہیں بلکہ یوں کہوں شیرکے منہ میں آپ اپنی دیورانی کو خود دھکیلنا چاہ رہی ہیں”وہ اسکے پاس ہی کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
آپ بھائیوں کا بھی عجیب ہے کبھی جو باہر لے کر جائیں ۔۔” نین اس وقت چیڑ رہی تھی ۔ تبھی کبیر بھی تھکا ہارا اندرا گیا ۔۔
سالار نے اسکو دیکھا
یار تم بھابھی کو ہنی مون پر کیوں نہیں لے گئے “سالار نے غصے سے پوچھا ۔۔۔
نین کا تو منہ ہی کھل گیا ۔۔
یہ میں نے آپ سے کب کہا ۔۔۔۔”نین شرمندہ رہ گئ ۔۔۔
اٹس اوکے مائے سوئیٹ بھابھی ۔۔چیل۔ماریں آپ کا بھی دل ہے۔۔سالے بھابھی کو لے جا کہیں”وہ آنکھ مارتاکبیر کو وہاں سے واک آؤٹ کر گیا ۔۔
میں نے سچی ایسا کچھ نہیں کہا ۔۔” نین جلدی سے بولی ۔۔
پتہ ہے۔۔یہ ہی گھٹیا ہے”کبیر نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا اور کمرےمیں جانے لگا۔۔
مگر مجھے گول گپے کھانے ہیں ” نین نے کہا ۔۔
لو یہ کیا بات ہوئ بچی ہو تم” کبیر نے بے زاری سے کہا ۔۔
کبیر میں بچی ہی ہوں”نین نے احساس دلایا۔۔
واقعی ۔ ” وہ معنی خیزی سے ہنسا ۔۔۔
پلیز نہ مجھے جاناہے” وہ ضد کرنے لگی ۔۔
آہ میں تھکا ہارا معصوم شوہر ” اسنے بیگ اسکے ہاتھ میں دیا
۔اور کف موڑتا اسے آنے کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا نین نے جلدی سے بیگ روم میں رکھا اور بھاگ کر اسکے پیچھے آئ ۔۔۔
تمھیں خیال ہے کوئ”کبیر نے گھورا ۔
سوری” نین نے کہا ۔۔
ہماری یہ ڈیٹ بار بار میری شرٹ میں تمھیں شکن ڈالنے پر مجبور کر دے گی”وہ اسکے کان میں سرسراتے لہجے میں بولتا گاڑی میں بیٹھا ۔۔
نین کا چہرہ گلابی سا ہو گیا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار روم میں آیا تو وہ روم میں نہیں تھا وہ جانتا بھی تھا کہ وہ نہیں ہو گی ۔۔
تبھی وہ فریش ہو کر ۔۔ ڈنر ڈریس پہن کر آیت کے روم۔میں ا گیا ۔۔۔
بابا مما ۔۔ تو آج کسی دوست کے گھر گئے تھے اسکے پاس موقع اچھا تھا اپنا رومینس جھاڑنے کا اور وہ یہ ہی انتظامات کرنے گیا تھا ۔ تھوڑا بہت اسکو احساس تو دلائے کہ وہ سالار مرتضی کی بیوی ہے ۔۔۔۔ اور اسے افشین جیسی عورت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں
تبھی اسکو باہر لے جانے کا پلین بنا تھا ۔۔۔ اسکا وہ روم میں آیا تو وہ نماز پڑھ رہی تھی اسکی بیوی کتنی اچھی تھ اسکو خوشی ہوئ ۔۔۔۔
مولانی صاحبہ ۔۔۔ اٹھو۔۔۔ وقت آ گیا ہے حساب کتاب کا ” وہ اسکے پاس۔ آکر کھڑا ہو گیا جبکہ و ہ ڈر گئ ۔۔
لو میں موت کا فرشتہ نہیں ہوں ۔۔۔۔ “سالار نے گھور کر دیکھا ۔۔۔
آپ یہاں”وہ بس اتنا بولی ۔
تمھیں۔۔۔۔ لینے۔۔۔۔۔
ایا۔۔۔
ہوں
۔۔۔ہم ڈیٹ پر ۔۔۔
جا رہے ہیں۔ ” وہ اسکیی نقل اتارتا ایک ایک لفظ اٹک اٹک کر بولا ۔۔
زیمل۔اسکو حیرانگی سے دیکھنے لگی ۔۔۔
اب چلیں ۔۔۔۔
گی”وہ پھر سے اٹک کر بولا ۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی زیمل۔کو ہنسی آ گئ ۔۔
واہ میرے مولا تیری شان ۔۔۔”سالار نے خوب اداکاری کی زیمل۔نے مسکراہٹ سمیٹ لی ۔۔۔۔
اچھی لگ رہی تھی مسکراتی رہو ۔۔۔” وہ حکم۔دینے لگا ۔۔
زیمل نے جائے نماز رکھا اور ۔۔۔ بیڈ پر بیٹھنے لگی ۔۔
آئے فارسی میں بولتا میں اٹھو اب ” وہ اسکا ہاتھ کھینچتا بولا ۔۔
مگر یہ کپڑے اچھے نہیں ۔۔ روکو میں تو گفٹ بھول آیا “
وہ سر پر ہاتھ مارتا بولا اور جلدی سے روم سے نکل۔گیا ۔۔زیمل۔پریشانی سے ۔۔ سب کچھ دیکھ رہی تھی چند منٹوں میں واپس آیا ۔۔اور۔۔اسکے ہاتھ میں ۔۔ ایک میکسی دی ۔۔ جو نفیس سی تھی ۔۔۔ ریڈ کلر کی اسکے گلے پر گولڈن کام۔ تھا جبکہ بازؤں پر بھی مگر وہ کافی فیٹیڈ تھی ۔۔”
میں یہ پہنوں گی”زیمل۔نے حیرت سے پوچھا ۔۔
ہاں یہ ۔۔ بہت ۔۔ سیک۔۔۔۔
سالار آپ کتنے منہ پھٹ ہیں” زیمل پہلی بار چیخی تھی ۔۔سالار کا بری طرح قہقہ ابھرا ۔۔
تمھارے منہ میں زبان ہے تم گونگی نہیں ہو ” وہ اپنی ہی بات سے لطف اندوز ہو رہا تھا
میں بلکل نہیں پہنوں گی”زیمل نے صاف لفظوں میں کہا ۔۔۔ اور بیڈ پر رکھ دی وہ میکسی ۔۔۔
جبکہ سالار نے وہ میکسی اٹھائ ۔۔
پہنو اسے ورنہ مجھے زہمت ہو گی پھر تمھاری عزت کی گارنٹی نہیں ہے میرے پاس “وہ اسکے ہاتھ میں دوبارہ تھماتابولا۔
جب میں ایسالباس نہیں پہنتی تو” وہ بولی ۔۔
جب میں چاہتا ہوں کہ تم پہنو تو ” وہ گھورنے لگا ۔۔
جبکہ زیمل نے اسکو دور دھکیلا کیوں کہ وہ اسپر چڑھ رہا تھا ۔۔
مجھ پر تو سب اپنی مرضی کرتے ہیں ۔اپ بھی کر لیں ۔۔ میں پیدا ہی دوسروں کی ماننے کے لیے ہوئ ہوں غلام ہوں میں سب کی”وہ رونے لگی
سالار چپ چاپ اسکو دیکھتا رہا ۔۔
تمھیں یہ لگتا ہے کہ تم مجھ سے زیادہ اچھی ایکٹر ہو ۔” وہ پوچھنے لگا۔۔
زیمل کی آنکھوں میں حیرانگی آئ ۔۔اور اسکا دل کیا اس انسان سے بات کرنےسے بہترہے کہ وہ ۔۔۔ یہ بے ہودہ لباس پہن لے ۔۔۔اسنے زیچ ہو کراسکے ہاتھ سے کھینچا ۔۔
تم واقعی پہن رہی ہو ” وہ اسے ٹیز کرنے لگا۔۔مسکرا کر لفنگو کی طرح دیکھنے لگا ۔۔۔
زیمل کو پہلی بار اتنا غصہ آیا تھا ڈریس اسکے منہ پر دے مارا ۔۔ سالار کا چھت پھاڑ قہقہ نکلا جبکہ زیمل بیڈ پر بیٹھ کر چہرہ چھپا کر رونے لگی ۔۔۔
سالار ہنستا ہوا اسکے پاس آیا ۔۔۔
اور اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔۔
دیکھو میں یہاں نہیں جہاں تمھیں لے جا رہا ہوں وہیں رومنٹک ہونا چاہتا ہوں میں جا رہا ہوں رونا بند کرو ہر بات پر نہیں روتے لگتا ہےا نسوں کا سٹاک ہے تمھارے پاس ۔۔ ریڈی ہو جاؤ اس میں گاؤن بھی ہے وہ پہن لینا میں اور صرف میں ہی تمھیں اس لباس میں دیکھوں گا ۔۔۔
مگر سب کیا سوچیں گے میں آپکے ساتھ ایسے ۔۔۔” زیمل۔فکر سے بولی ۔۔
مطلب تم جانا چاہتی ہو وہ دانت نکال کر پھر ٹیز کرنے لگا زیمل سنجیدگی سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔
اچھا یار سوری ۔۔” سالار اسکے سنجیدہ ہونے پر۔۔ جلدی سے بولا ۔۔
بابا مما ہیں نہیں یہاں کبیر نین بھابھی کو لے کر باہر گیا ہے اور آیت عارض اپنے رومینس میں مگن ہیں کسی کو پتہ بھی نہیں ہم دونوں کہاں گئے ہیں “وہ اسے پلین سمھجانے لگا ۔۔۔
زیمل نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔
مجھے یقین نہیں ا رہا ” وہ بولی ۔۔
میری سمارٹنیس پر”وہ مسکرایا ۔۔
اپنی قسمت پر ۔۔۔ میری زندگی میں کوئ نارمل انسان نہیں”وہ افسوس سے بولتی اٹھ گئ جبکہ سالار نے گھور کر اسکو دیکھا ۔۔
مجھےاس پاگل سے ملانے کی ضرورت نہیں ۔۔
بھئ میں شوق ہوں ۔۔۔۔ خوش مزاج ہوں ۔۔۔۔”کیوں ریڈرز 😅
جاری ہے
