Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

مما ” کبیر کی پکار پر وہ ایکدم پلٹی ۔۔
آجاؤ ” مسکرا کر اسکو اندر آنے کا کہا ۔۔۔۔ سالار نے جو نادر مشورہ رات اسکو دیا ۔۔ تھا اسپر وہ خود حیران تھا کہ یہ اسکے بھائ کے اندر سے مشورہ نکلا ہے اسے تو اسنے جھڑک دیا ۔۔۔ اور بھگا دیا ۔۔۔۔
اپنے باپ کو وہ اچھے سے جانتا تھا ۔۔۔ مگر کرنی اسنے اپنی ہی تھی ۔۔۔
تبھی اسنے ماں کے پاس جانا مناسب سمجھا ۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔” وہ اسکی پرسوچ نظروں کی جانب دیکھ کر ہنس دیں ۔۔۔۔
کبیر مسکرایا ۔۔۔۔
مجھے ایک لڑکی پسند ا گئ ہے شادی کرنا چاہتا ہوں اس سے” اسنے کہا ۔۔۔ تو مدیھا زرا چونک سی گئیں ۔۔ اپنی بہن کی بیٹی تو انھوں نے بھی کبیر کے لیے پسند کی ہوئ تھی بس اس انتظار میں تھی۔ کہ وہ کب شادی کے لیے مثبت جواب دے گا مگر بیٹے کی چمکتی آنکھیں دیکھ کر وہ مسکرا دیں ۔۔۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔۔ میرے بیٹے کو لڑکی پسندا۔ گئ ہے جلدی سے بتاؤ کون ہے اپنے بابا سے بات کی” انھوں نے پوچھا ۔۔۔
انکے مسکرانے پر کبیر بھی ایکدم خوش دیکھائی دینے لگا ۔۔۔
جی کی تھی بابا سے بات ” اسنے صوفے پر سکون سے بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔
پھر کیا جواب دیا انھوں نے” وہ انکا جواب جانتی تھیں پھر بھی انھوں نے پوچھ لیا ۔
وہ ایمن اور میری شادی کی بات کر رہے تھے ۔۔۔۔ اور یہ ممکن ہے ۔۔ وہ لڑکی مجھے بلکل نہیں پسند ۔۔۔ ” کبیر نے ایمن کو سوچتے ہوئے جواب دیا ۔۔
بری بات ۔۔ آپکی بھی بہنیں ہیں ۔۔” مدیھا نے ٹوکا
تو آپ یہ بات بابا کو سمجھائیں کہ میں کوئ چھوٹا بچہ نہیں ہوں ۔۔۔ جو انکی مرضی سے چلو گا ” وہ سختی سے بولا ۔۔ مدیھا حیران سی ہوئ ۔۔
کبیر ” وہ اسکے پاس ا کر بیٹھی ۔۔۔
میں آپکے بابا سے بات کرتی ہوں ” وہ بولی ۔۔
آپ آج ہی میرا رشتہ جہاں میں کہہ رہا ہوں وہاں لے جائیں میں ایک دن بھی ضائع نہیں کرنا چاہتا ” اسنے کہا ۔۔۔ اور انھیں اڈریس بتا کر وہ وہاں سے اٹھ گیا ۔۔۔ مدیھا ہوں ہی بیٹھی رہی گئیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھ یار ۔۔۔۔ زبردست لڑکی ہے ” زین کیطرف موبائل بڑھاتے وہ بولا ۔۔۔
زین نے موبائل کو تھام لیا ۔۔۔ بے باک لباس میں وہ جو بھی لڑکی تھی کسی گانے پر ڈانس کر رہی تھی ۔۔ زین تادیر اسکو دیکھتا رہا جبکہ سب دوست ہنسنے لگے
۔۔۔
یار ایسی چیز حقیقت میں نہیں ملتی” اسنے وڈیو ختم ہوتے ہی سرد آہ بھری ۔۔
تو چل میں تجھے ایسی جگہ لے جاؤ گا ۔۔ جہاں سے تیرا لوٹنے کا کبھی دل نہیں کرے گا ” انکے گروپ میں نیا آنے والا لڑکا احتشام بولا ۔۔۔
نہیں بھائ ہم ایسے دھندوں میں نہیں پڑتے ” باقی دوستوں نے کہا ۔۔
کیوں ہم بچے ہیں” زین نے انکو گھورا ۔۔۔۔
زین ہوش کے ناخن لے ۔۔ تیرے تین بھائ ۔۔۔ وہ تجھے ۔ رات گئے گھر سے نہیں نکلنے دیتے کہاں تو ۔۔۔ ایسے مشاغل کو افوڈ کر سکتا ہے” ایک دوست نے کہا ۔۔۔
یار ۔۔۔ سالار بھیا ا گئے ہیں وہ سب سمبھال لیں گے بس تم لوگ چلنے کا پلین بناؤ” وہ بولا تو احتشام ہنسا ۔۔
ایسا لگ رہا ہے برسو سے بتائے بیٹھا تھا اپنی خواہش” احتشام نے ۔۔ جواب دیا ۔۔۔
نہ پوچھ یار” زین نے قہقہ لگایا تو سب ہنس دیے۔۔
اور تیری چشمش کا کیا ہو گا ” دوسرے دوست نے پوچھا ۔۔۔۔
کیا ہونا ہے وہ تو اپنی ہی ہے
۔ برو ” زین نے آنکھ ماری ۔۔ کافی دن ہو گئے تھے اسنے راستہ نہیں کاٹا تھا اسکا ۔۔۔۔ آنکھوں میں ایکدم اسکو سوچتے ہوئے ۔۔۔۔ چمک سی ابھری ۔۔
چل ٹھیک ہے آج رات کا ہی پلین بناتے ہیں” احتشام بولا ۔۔۔
بھئ میں شامل نہیں ہوں ” ایک نےا نکار کیا زین نے اسکو گھورا ۔۔
ہم سب جائیں گے سمھجا ۔۔”اسنے جواب دیا ۔۔۔ اور احتشام نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ ایک نمبر ڈائل کیا ۔۔اور اپنی جگہ سے اٹھ گیا ۔۔۔
آتا ہوں میں” اسنے کہا اور ایک طرف وہ گیا ۔۔۔
ہاں سنیتہ بائ ۔۔۔۔ اب اپنا مال تیار کر لینا ۔۔ امیر لڑکے ہیں” احتشام نے دھیمی آواز میں کہا اور فون بند کر دیا ۔۔ اور واپس انکے پاس۔ آگیا ۔۔ جنھوں نے ۔۔۔ آج کالج بنک کر دیا تھا ۔۔ جبکہ صبح وہ پریشے اور عمل کے ساتھ کالج آیا تو تھا مگر دیوار پھلانگ کر وہ سب دور نکل گئے تھے ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھیا آج رات میں لیٹ گھرا و گا۔ دوست کے گھر ۔۔۔ سٹڈی کا پلین ہے” سالار اور کبیر اکھٹے ہی بیٹھے تھے ۔۔۔۔ زین ایکدم آفس آیا
دونوں نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
کس لیے” کبیر نے پین ایکطرف رکھ کر سخت نظروں سے اسکو دیکھا ۔۔
سالار بھی اسی کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
گروپ سٹڈی کا پلین ہے” وہ منمنایا۔۔
بکواس ہے سب ۔۔ وقت پر گھر پہنچ جاؤ ” کبیر نے دو ٹوک بات کی جبکہ زین نے مسکینیت سے سالار کیطرف دیکھا ۔۔
جانے دو کیا مسلہ ہے تمھیں”
سالار بیچ میں بولا ۔۔۔
اور تم اس کی شکل پر چلے جاؤ ۔۔ کوئ نیک کارنامے نہیں ہیں تمھارے بھائ کے دوستوں کے ساتھ ۔۔ اڑتا پھیرے گا” کبیر خفا ہوا ۔۔
کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔ ” سالار بولا
۔
اور زین صاحب یہ بس آج آج کے لیے ۔۔اور تم رات دس سے پہلے گھر ہو ” اسنے کہا ۔۔
بھیو دس بس دس ۔۔ دس تک تو ایک کام بھی پورا نہیں ہو گا” زین نے پاؤں پٹخے ۔۔
میں تمھیں بتاتا ہوں ۔۔ “کبیر ایکدم کرسی سے ۔۔ اٹھا ۔۔۔
زین سالار کے پیچھے چھپ گیا ۔۔۔۔
میں بارہ بجے ا جاؤ گا ” زین نے کہا ۔۔ کبیر نے نفی کی ۔
اچھا ایک منٹ ساڑھے گیارہ ۔۔۔ اس سے زیادہ نہیں” سالار بولا ۔۔۔
یار آپ لوگ بھی تو گھومتے پھیرتے ہو “
شیٹ آپ زین” سالار نے گھورا ۔۔۔ زین ایکدم چپ ہو گیا ۔۔۔
سالار سے پنگے لینے کا مطلب تھا ۔۔ کہ دوبارہ اسے ایسی عیاشی کا موقع کبھی نہیں ملتا ۔۔۔
ٹھیک ہے ” وہ منہ بنا کر بولا ۔۔۔ گڈ ” سالار ہنس دیا۔۔۔ اور خود بھی کبیر کے پاس سے اٹھا ۔۔۔۔
چلو میں نے بھی گھر چلنا ہے” وہ بولا تو زین اور سالار دونوں ایک ساتھ باہر نکل گئے جبکہ کبیر یہ سوچ رہا تھا کہ کیا اسکی ماں چلی گئ ہو گی ۔۔اسںے ماں کو فون کال کی مگر نمبر انکا بیزی جا رہا تھا ۔۔۔ اسنے سیل فون سائیڈ پر پٹخ دیا۔۔۔۔
اب کیا وہ ٹین ایجرز کیطرح اسکو دیکھنے کے لیے روز کالج جاتا
۔ تو بہتر نہیں تھا سیدھے طریقے سے وہ اسکو اپنا لیتا ۔۔۔ اسکو اپنا بنا لیتا ۔۔ جہاں وہ اسکی ہوتی بس ۔۔۔۔
اچانک وہ اسکے خیالوں میں اتر گیا ۔۔۔۔ شاداب چمکتا چہرہ آنکھوں۔ کے سامنے لہرا سا گیا ۔۔۔۔
وہ مسکرا دیا ۔۔۔۔
مے آئ کم ان سر” اچانک اسکی سیکٹری نے پوچھا تو اسنے چونکتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا ۔۔
سر آپکی میٹینگ تھی آج ۔۔۔۔ اور ٹائم بھی ہو گیا ہے مرتضیٰ سر آپکا ویٹ کر رہے ہیں” وہ بولی تو اسے جیسے یاد ا گیا وہ اپنی جگہ سے ۔۔ اٹھا سیل فون اٹھایا اور ۔۔ میٹینگ روم کی جانب چل دیا ۔۔۔۔
مظبوط قدم اٹھا کر اسنے کانچ کے شیشے کو پریس کیا ۔۔۔ اور اندر داخل ہو گیا
۔۔ مگر سمانے سمیر کو احمد صاحب کے ساتھ دیکھ کر
۔۔ وہ حیران ہوا ۔۔اور پھر اسکے ماتھے پر لاتعداد شکنیں پڑی گئیں
۔۔
دل تو کیا سیدھا سوال کر لے کس لیے آئے ہو ۔۔۔ یہاں مگر وہ خاموش رہا ۔۔۔۔
کیسے ہو کبیر بیٹا”احمد اپنی مکرو مسکراہٹ سے بولے ۔۔
کبیر نے بس سر ہلا کر جواب دیا اور نگاہ موڑ لی ۔۔۔
جبکہ سمیر نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔ لبوں پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔ جیسے اسکو چیڑا کر اور یہاں ا کر حیران کر کے ۔۔۔۔ وہ بہت خوش ہوا ہو ۔۔۔
سمیر پہلے اسکا پاٹنر رہا تھا مگر اپنی سیکٹری کے ساتھ اسکو زبردستی کرتے دیکھ ۔۔۔ کبیر نے سمیر کا کچھ نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔
اور اسکا پیسہ ۔۔۔اور اسکو اور اسکے باپ کو ۔۔۔ اسنے دھکے دے کر نکال دیا تھا ۔۔
جبکہ اسکے جانے کے بعد سٹاف نے اسکی اور احمد کی شکایتیں بتا کر کبیر کا دماغ سمیر کی جانب سے ۔۔ اور بھی خراب کر دیا ۔۔
کہ وہ ہر لڑکی کی کمزوری کا فائدہ اٹھاتا رہا تھا ۔۔ جبکہ کبیر روزی کی جگہ پر اسکی یہ نجاست دیکھ کر ۔۔۔ بھنا اٹھا تھا ۔۔۔
اسنے یہ بات مرتضیٰ کو یہ پھر کسی کو نہیں بتائ تھی ۔۔ سوائے سالار کے
اور سمیر کو نکالنے کی وجہ پوچھی تو اسنے کوئ بھانا بنا دیا ۔۔۔ جبکہ دوبارہ اسنے کسی سے اس موزوں پر کوئ بات نہیں کی ۔۔ کیونکہ سمیر کے شیرز ڈالنے کا پلین بھی اسی کا تھا ۔۔۔
سمیر نےا سکی طرف سے نگاہ ہٹا لی ۔۔۔ اور احمد صاحب مرتضیٰ سے ہاتھ ملا کر اٹھ کھڑے ہوئے ۔۔ جبکہ مرتضیٰ مسکرا دیے ۔۔۔
باقی بھایو سے بھی انھوں نے ہاتھ ملایا اور جب کبیر سے ملانے لگے تو وہ وہاں سے اٹھ کر ۔۔۔ مرتضیٰ کے پاس ا گیا ۔۔۔۔
احمد نے اپنا ہاتھ پیچھے کیا ۔۔اور سمیر
نے نخوت سے اسکو دیکھا ۔۔اور وہاں سے باہر نکل گیا ۔۔۔
کیوں آئے تھے یہ لوگ” کبیر نے بے تابی سے پوچھا ۔۔۔
بتاتا ہوں گھر چلو ۔ میٹینگ کل کر لینا ” مرتضیٰ نے کہا اور خود بھی وہ سب اٹھ کر گھر کے لیے نکل گئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے دوسرے پھر ۔۔۔ سیگریٹ کی طلب محسوس کر کے وہ باہر نکل آیا ۔۔۔ مگر یہاں سیگریٹ پینا کسی عزاب سے کم نہیں تھا تبھی وہ پیچھے کیطرف ا گیا ۔۔۔سکون سے سیگریٹ پیتے ہوئے ۔۔۔ وہ واک کر رہا تھا ۔۔ کہ اچانک چیخوں کی آواز پر ۔۔۔ وہ اس آواز پر متوجہ ہوا ۔۔ سیگریٹ زمین پر پھینکی ۔۔ اور عدیل کے کمرے کی جانب چل دیا ۔۔۔
وہ جانتا تھا یہاں صرف عدیل کا کمرہ ہے ۔۔۔
جبکہ اسکے آگے افشین کا پورشن تھا ۔۔۔ وہ جیسے ہی اسطرف آیا ۔۔۔ کوئ بھاگتا ہوا سکے سینے سے لگا تھا ۔۔۔
پلیز مجھے بچا لیں پلیز ۔۔ پلیز یہ یہ میرے با۔۔بال کاٹ دیں گے ۔۔۔ مجھے بچا لیں” بری طرح سسکتے ہوئے ۔۔۔ وہ لڑکی اس سے مدد طلب کر رہی تھی جبکہ عدیل ہاتھ میں کینچی اور چھری پکڑے ۔۔۔ پیچھے ا رہا تھا ۔۔۔۔
ا۔۔ادھر ا تو” وہ اپنی طوطلی زبان میں بولا ۔۔۔۔
سالار یہ منظر دیکھ کر حیران تھا یہ لڑکی اس پاگل کے پاس کہاں سے آئ ۔۔ لڑکی عدیل کو دیکھ کر۔۔ جلدی سے سالارکے پیچھے چھپ گئ ۔۔ جبکہ عدیل چلتا ہوا ۔۔اسکیطرف بڑھا ۔۔
دورہٹو” وہ ایکدم غصےسے بولا ۔۔۔۔
عدیل سہم کر اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔
م۔۔میں تمھیں بھی مار مار دوں گا ” وہ بولا ۔۔۔
اچھا ” سالار ایکدم اسکی جانب بڑھا ۔۔ عدیل ایک قدم دور ہوا ۔
جبکہ ا پنی پشت پر وہ مدھم سسکیاں سن سکتا تھا۔۔
آئے یو شیٹ آپ” وہ ایکدم چیڑ کر پلٹا ۔۔” اور غصے سے بولا تو زیمل کی آواز کو بریک لگ گئ ۔۔۔
کیا کر رہی ہو۔ تم اس پاگل کے کمرے میں” وہ سمھجہ نہیں پا رہا تھا یہ لڑکی کون ہے
زیمل نے سرخ نظروں سے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
جبکہ عدیل نے چیخنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
اف ” سالار نے تپ کر اسکی چیخوں پکار سنی تھی ۔۔۔
اس سے پہلے وہ اسکے منہ پر تھپڑ جڑ دیتا ۔۔
افشین دوڑتی ہوئی ان تک پہنچی ۔۔
ہائے میرا بچہ ۔۔ ” انھوں نے روتے ہوئے عدیل کو گلے سے لگایا ۔۔اور زیمل کو پھاڑکھانے والی نظروں سے دیکھا جو سالار کے پیچھے کھڑی تھی ۔۔ایکدم افشین کو دیکھ کر اسکا دم خشک ہوا ۔۔۔ اور وہ اسکے پیچھے سے نکلی ۔۔
تم یہاں کیا کر رہے ہو سالار ” افشین نے سالار سے پوچھا ۔۔ ا
پ اس پاگل کو پاگل خانے کیوں نہیں پہنچاتی ” اور منہ پھٹ کی تو اسپرا نتھا تھی ۔۔۔
سالار بیٹا ہے وہ میرا ” افیشن ایکدم تپی ۔۔
ہاں پتہ ہے مجھے اور یہ لڑکی کیوں تھی اسکے کمرے میں آپ جانتیں ہیں وہ چھری سے اسکے بال کاٹنے والا تھا” سالار بولا ۔۔۔
وہ تمھارا مسلہ نہیں ہے وہ اسکی بیوی ہے ۔۔ جو مرضی کرے اسکے ساتھ” افشین نے غصےسے کہا جبکہ ۔۔۔
سالار تو حونک رہ گیا ۔۔
اور تم ۔۔۔ اندر جاؤ عدیل کو لے کر” زیمل کو غصے سے دیکھ کر ۔۔وہ بولیں ۔۔ ا
یک ایک منٹ” سالار نے بنا لحاظ کے زیمل کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
زیمل نے حیرانگی سے اسکو دیکھا ۔۔ پہلی بار اس گھر کے کسی فرد کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
ورنہ جس ازیت میں وہ تھی کوئی جان بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔
تم اسکی بیوی ہو” وہ بے حد حیران تھا ۔۔۔۔ اس سے پوچھنے لگا ۔۔
سالار چھوڑو اسکا ہاتھ” افشین غصے سے تپی ۔۔۔ جبکہ زیمل نےا پنا ہاتھ اس سے چھڑایا ۔۔ سالار کو دھچکا لگا تھا ۔۔۔۔
عدیل نے اچانک جھپٹ کر اسکے بال جکڑ لیے ۔۔۔ سالار ایکدم اسکی جانب بڑھتا کے افشین بیچ میں حائل ہو گئ ۔۔۔
خرید کر الئ ہوں میں اس لڑکی کو ۔۔ تمھارا مسلہ نہیں ہے یہ” افشین آنکھیں نکال کر بولی ۔۔
مگر چچی انسان ہے وہ ۔۔ ” وہ تلملایا ۔۔
تمھارا مسلہ نہیں جاؤ یہاں سے دوبارہ مت آنا یہاں” وہ بھڑکیں ۔۔ جبکہ
۔۔
سالار کی نظریں عدیل پر تھیں ۔۔ جبکہ وہ لڑکی چپ تھی ۔۔ عدیل اسکے بال کھینچ رہا تھا ۔ لمبے لہراتے بال سالار نے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔ افشین بھی وہاں سے چلی گئ البتہ سالار اب بھی اس بند دروازے کو دیکھ رہا تھا ۔۔وہ نہ چاہتے ہوئے بھی وہاں سے پلٹا اور اپنے گھر کیطرف آیا ۔۔۔
تبھی زین بھی اندر داخل ہوا ۔۔۔
سالار کی توجہ اسکے ڈگمگاتےقدموں پر نہیں گئ ۔۔ کیونکہ وہ بے حد حیرانگی اور شاکڈ کا شکار تھا ۔۔۔
وہ سیدھا مما کے کمرے میں گیا تھا ۔ جبکہ زین جلدی سے اپنے کمرے میں بھاگ گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آجاؤ میرے چاند وہاں کیوں کھڑے ہو ” وہ دونوں ہی جاگ رہے تھے ۔۔ مدیھا نے کہا ۔۔
سوال کرنا ہے ایک” وہ سنجیدگی سے بولا ۔۔۔
بیٹے تمیز لحاظ بھی کوئ شے ہے ۔۔ آؤ بیٹھو آرام سے بات کرو”مرتضیٰ نے ٹوکا اور ۔۔ سالار بیٹھ گیا ۔۔
مما عدیل کی شادی کب ہوئ وہ بھی ایک باشعور لڑکی سے “وہ حیرانگی کی انتہا پر تھا ۔۔۔
جب محترم آپ ایک ماہ گھر سے دور رہے” مرتضیٰ نے طنز کیا ۔۔
مگرا سکی شادی کیسے کرا دیا پ لوگوں نے” سالار بھڑکا ۔۔۔
یہ افیشین کی ضد تھی بیٹا ہم نے تو اس لڑکی کو آج تک دیکھا بھی نہیں” مدیھا افسوس سے بولی ۔۔۔
سالار نے مٹھیاں بند کر لیں ۔۔ تبھی کبیر بھی کمرے میں آیا ۔۔
مدیھا زرا شرمندہ سی ہو گی جانتی تھی وہ کیا بات کرنے آیا ہے ۔۔۔
کبیر اندر آیا ۔۔۔ مدیھا کیطرف دیکھے بنا ۔۔۔ وہ مرتضیٰ کی جانب متوجہ ہوا ۔۔
آپ نے بتایا نہیں بابا سمیر کیوں آیا تھا ۔۔۔
وہ خبیث کیا کرنے آیا تھا “سالار ایکدم بولا ۔۔ غصہ تو اسے عدیل پر ہی بہت ا رہا تھا ۔۔۔
اور سمیر کا نام سن کر تو اور بھی بھڑک گیا ۔۔۔
تم دونوں کے ساتھ مسلہ نہیں سمھجہ آتا مجھے ابھی وہ تیسرا بھی پہنچ جائے گا ۔۔۔ بد بخت باپ سے بیر ڈالے بیٹھا ہے” وہ غصے سے بولے تو وہ سب چپ ہو گئے ۔۔
پریشے کا رشتہ لے کر آئے تھے وہ دونوں ۔۔ مجھے اور شہاب کو تو سمیر بہت پسند ہے سکندر نے بھی ہاں کر دی ہے ۔۔۔ ” وہ بولے تو کبیر نےا پنی مٹھیاں بند کیں ۔۔۔ ضبط سے چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔ جبکہ سالار ایکدم اٹھ کھڑا ہو گیا ۔۔
یہ کیا بات ہوئ آپ ایسا کیسے فیصلہ کر سکتے ہیں” وہ ایک چلایا ۔۔
نکلو کمرے سے جب تمھارے پاس باپ سے بات کرنے کی تمیز نہیں ہے تو سامنے مت آنا ” وہ سختی سے بولے مدیھا خاموش کھڑی تھی ۔۔ سالار غصے سے نکل گیا مزید روکتا تو وہ ۔ واقعی لحاظ بھول جاتا ۔۔۔
البتہ کبیر ۔۔۔ نے باپ کیطرف دیکھا ۔۔۔
ایسانہیں ہو گا بابا ۔۔۔ وہ لڑکا ہماری پریشے کے قابل نہیں ہے” وہ تحمل سے بولا ۔۔۔
ہم فیصلہ کر چکیں ہیں ہمیں کوئ برائ نہیں لگتی” مرتضیٰ بولے ۔۔
میں شہاب چاچو سے بات کر لو گا خود ہی” اسنے کہا اور وہاں سے اٹھ گیا ۔۔۔۔