Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

وہ مسکرا کر اسکے سامنے ا۔ بیٹھی ۔۔ جبکہ مقابل نے بیزاری سے اسکو دیکھا ۔۔۔
جسے اسنے نے محسوس کر لیا ۔۔
کیا ہوا “اسکے چہرے کے زاویے دیکھ کر وہ ۔۔۔ پوچھنے لگی ۔۔ چہرے پر سے مسکراہٹ رفتہ رفتہ جانے لگی ۔۔۔
کچھ نہیں ہوا ۔۔۔ میں تمھیں بس یہ بتانے آیا ہوں نین کے ۔۔ ہماری شادی نہیں ہو سکتی ” وہ کتنے آرام سے بول گیا تھا جبکہ نین کے چہرے کی ساری شادابی ختم ہو گئ وہ سنجیدگی سے اسکو دیکھنے لگی آنکھوں میں اداسی سی ا گئ ۔۔
ک۔۔کیا مطلب ایسا کیوں کہہ رہے ہوں ” نین نے اسکاہاتھ تھامہ ۔۔
دیکھو یہ بات حقیقت ہے کہ ہمارے سٹیٹس میں بہت فرق ہے یار اور مجھے اپنی مما کی یہ بات سمھجہ ا گئ ہے ۔۔۔۔ تو شادی کا خیال آپنے دماغ سے نکال دو ” وہ لاپروای سے بولا ۔۔
مگر ہماری محبت” جیسے قدموں میں سے دم سا نکل رہا تھا رفتہ رفتہ ۔۔۔
دیکھو ۔۔۔ محبت ۔۔۔ ” وہ مسکرایا ۔۔۔
تم قابل محبت ہو ۔۔۔ مگر ۔۔۔ میں کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ ” وہ کہہ کر اٹھ گیا ۔۔
نین اسکو دیکھنے لگی ۔۔
چلتا ہوں ۔۔۔” اسنے کہا اور گلاسز لگا کر ۔۔۔ اپنی گاڑی کیطرف بڑھا جو ابھی چند دن پہلے اسنے لی ۔۔ تھی ۔۔۔
جبکہ نین اسکو جاتا ہوئے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
احمد کے ساتھ گزرا ایکا یک لمہہ اسکی آنکھوں کےا گے گھومنے لگا ۔۔۔
بڑوں نے انکی منگنی کی تھی ۔۔۔
اور احمد نے کیسے واضح کیا تھا وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے ۔۔ اور اسکی اس محبت کی وجہ سے تو وہ اسکے قریب ہوتی چلی گئ تھی ۔۔ کے دل میں کب ۔۔ اسکا نام گونجنے لگا پتہ ہی نہیں چلا اور آج وہ کتنے آرام سے کہہ گیا تھا کہ شادی نہیں کرے گا سٹیٹس کی وجہ سے “
اسنے اپنے آنسو صاف کیے ۔۔جو چاہ کر بھی رک نہیں رہے تھے ۔۔ وہ اٹھی ۔۔ اور بیٹھک سے صحن میں ا گئ ۔۔۔
احمد نے کیا بات کی ہے” اسکی ماں نے پوچھا ۔۔۔
کچھ نہیں بس ۔۔ کچھ نوٹس لینے آیا تھا ۔۔وہ وہیں رکھے تھے تو میں نے دے دیے” نین نے کہا پھیکا سا مسکرائ
ہمم اچھی بات ہے بیٹا شادی سے پہلے اسطرح ملنا ملانا کہاں اچھا لگتا ہے ایک عزت ہی تو ہے ہمارے پاس بیٹا ۔۔۔
اسکو ہی سمبھال سمبھال کر چلنا ہے ” اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر ۔۔ وہ اسے کہہ کر چلی گئیں جب کہ اسکی آنکھیں ا یک بار پھر گیلی ہو گئ ۔۔۔
اور وضو کر کے وہ ۔۔۔ اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔
جہاں اسکے باقی بہنیں بھی تھیں ۔۔۔ مگر کسی کی توجہ اسپر نہیں گئ کیونکہ ۔۔۔ نماز تو ۔۔ وہ ساری ہی پڑھتی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا سیل فون بج رہا تھا ۔۔ جسے اسنے جھنجھلا کراٹھایا۔
نیند برباد کر دی آج ہی آفس میں اتنا کام کیا تھا ۔۔۔
پہلا دن جو تھا آفس میں اوپر سے کبیر نے تو گھنچکر ہی بنا دیا ۔۔
سیل فون چیک کیا ۔۔ سالار کی کال تھی اسنے کال پیک کی ۔۔
جی بھیا ۔۔۔ ” وہ بولا ۔۔۔
یار ۔۔۔ لون میں آؤ” اسنے بس اتنا کہا ۔۔اور فون بند کر دیا ۔۔
کیا مصیبت ہے۔۔ زین مر گیا ہے جو مجھےا ٹھایا ہے” وہ بڑبڑاتا ہوا اٹھا جبکہ کوئ نہیں جانتا تھا کہ زین اپنے کمرمیں ہے یہ کہاں ہے ۔۔۔
وہ لون میں آیا ۔۔ تو اسکا ۔۔۔ مشہور بھائ ۔۔ جو فلموں ڈراموں میں کام کرتا تھا ۔۔ دیوار پر چڑھا بیٹھا تھا ۔۔۔
عارض کو سب سمھجہ ا گئ یہ اندر آنے کے ڈرامے تھے ۔۔
یار ہاتھ دو کیا منہ دیکھ رہے ہو ” سالار نے کہا
۔ تو عارض نے آگے بڑھ کر اسکو ہاتھ دیا جس کا سہارا لے کر وہ اندر گھر میں داخل ہوا۔۔
ہمارے گھر میں دروازہ بھی ہے” عارض نے اسکودیکھا ۔۔
جس میں قدم رکھنے کا مطلب یہ تھا تمھارا باپ میری بوٹیاں کر دیتا ” سالار کپڑے جھاڑنے لگا ۔۔۔
تو اپکو آنے کی کیا ضرورت تھی۔۔ کیا مجھے نہیں پتہ آپکے پاس فلیٹ بھی ہے محترم” عارض نےا نکھیں گھمائ
دیکھو بڑے بھائ پر نظر رکھنے کی ضرورت نہیں ” سالار نے گھورا ۔۔۔
تو بڑا بھائ میری مدد نہ لیتا ” عارض نے بھی دو با دو جواب دیا ۔۔۔۔
سالار نےا سکی گردن پر گھوما کر ہاتھ مارا ۔۔۔اور اندر جانے لگا ۔۔۔
عارض بھی گردن رگڑتا اندر ا گیا ۔۔۔
ویسے ایک بات پوچھوں ” وہ سالار کے پیچھے کچن میں آگیا جو ادھر ادھر چیزیں پلٹتا کھانے کے لیے کچھ تلاش رہا تھا ۔۔۔
ہمم پوچھو” کھانے کو جھوٹا کرتے ہوئے وہ بولا ۔۔۔
ایسا کیا تھا اس لڑکی میں جو آپ اتنا بھڑک گئے ۔۔” عارض کی بات پر سالار نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
میں اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا” سالار نے کہا اور فریزر کھولا ۔۔۔۔
آپ نے بابا پر ہاتھ اٹھانے کی کوشش کی ہے کیا لگتا ہے آپ کو عام بات ہے یہ” عارض نے جیسے اسے یاد دلایا ۔۔
یہ ہی تو بات ہے تبھی تو یہاں واپس ا گیا ہوں ” اسنے ٹرائفل کھاتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔۔
ضرورت ہی کیا تھی ایسا ۔کرنے کی” عارض نے شانے اچکاے ۔۔
تم میرے باپ نہ بنو نکلو یہاں سے میں نے تم سے اتنے سوال کر لیے نہ تو لگ پتہ جائے گا تمھیں” سالار نے اسکو گھورا ۔۔۔
کر لیں ۔۔ میں کون سا ڈرتا ہوں” عارض نے بھی لاپرواہی سے کہا ۔۔
اچھا تو پھر کب کا ویزا لگا میرے بھائ کا ” ایک آئ برو آچکا کر وہ ۔۔اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔۔۔
جبکہ عارض حونک رہ گیا ۔۔۔۔
یہ اسنے کہاں سن لی تھی بات وہ تو اس وقت باہر تھا جب ۔۔۔ وہ یہ بات کر کےا پنے روم سے نکلا تھا ۔۔ عارض کی حیران شکل دیکھ کر ۔۔سالار ہنس دیا ۔۔
تم اس مغالتے میں غلط ہو میرے بھائ کہ تمھیں میں یہ کبیر اس کے قبضے میں آنے دیں گے” اسکا شانہ تھپتھپا کر وہ وہاں سے چلا گیا جبکہ عارض نے مٹھیاں بھینچ لیں تھیں ۔۔ یقینا یہ بات ۔۔ آیت نے نکالی ہو گئ ۔۔۔
جو وہ دوسری شادی کا زکر اس سے کر کے آیا ۔۔ تھا ۔۔۔
اسکا سارا دھیان آیت کی جانب چلا گیا ۔۔۔ وہ یوں ہی بھڑکتا ہوا اپنے کمرے میںآ گیا ۔۔۔
نئے سرے سے پریشانی لگ گئ تھی کہ ۔۔ کبیر یہ بات جان گیا ہے تو ۔۔۔ اسکی ساری کوشش بے کار تھی ۔۔اسنے مٹھی ہتھیلی پر ماری نی د بھک سے اڑ گئ من کیا آیت کا جا کر گلا دبا دے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارض کو اسکے روم میں جاتے دیکھ کر۔ ۔۔ اسنے بابا کے کمرے کی جانب دیکھا ۔۔۔لائٹ آف تھی وقت بھی تو کافی ہو گیا ۔۔ تھا ۔۔
وہ اپنے پورشن میں جانے لگا ۔۔سیڑھیاں چڑھ کر وہ باؤل سے یوں ہی کھاتا ۔۔اوپر ا گیا ۔اپنے روم کی لائٹ اون کی ۔۔ تو گلاس وال پر نگاہ گئ ۔۔۔ وہ بے اختیار ہی وہاں گلاس ولا کے نزدیک ا گیا ۔۔اور پردے ہٹا دیے ۔۔۔
ادھر ادھر دیکھتا رہا ۔۔اور اس سے پہلے وہ پلٹتا کہ نگاہ وہاں چلی گئ جہاں وہ دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
وہ اسی بینچ پر بیٹھی ۔۔ تھی سالار پیچھے پلٹا ۔۔ہاتھ میں باؤل پکڑے وہ ۔۔روم سے جلدی سے نکلا ارد گرد دیکھتا وہ عدیل کے پورشن کی جانب ا گیا ۔۔
لائٹس اس پورشن کی آف تھی یہ شاید جان بوجھ کر کی گئ تھی کہ کسی کی نگاہ اسپر نہ پڑے جو وہ باہر آئ ہوئ تھی ۔۔۔
سالار بنا ڈرے اسکے سامنے جا کھڑا ہوا ۔۔۔ اسے بلکل بھی پرواہ نہیں تھی کہ روشنی ہوتی ہے یہ نہیں ۔۔۔
مقابل سٹپٹا ہی گئ ۔۔اسکو اپنے سامنے دیکھ کر وہ عجیب نظروں سے اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
زیمل کو سب سے پہلے اپنے بالوں کی فکر ہوئ ۔۔اسنے جلدی سے دوپٹے سے خود کو ڈھانپا اور وہاں سے جانے لگی ۔۔
سالار نے وہ باؤل بینچ پر رکھا اور ہاتھ جھاڑ کر ۔۔۔ پینٹ کی پوکٹس میں ہاتھ ڈال لیے ۔۔۔۔
کیسے ہوئ ہے تمھاری شادی اس سے ” اسنے سوال کیا لہجہ سنجیدہ تھا ۔۔۔
زیمل نے اسکو ایک نگاہ دیکھا اور اپنا چہرہ بھی چھپا لیا اسکے چہرے پر عدیل کی مار پٹائ کے کئ نشان تھے تبھی اسنے اپنا چہرہ چھپا لیا جبکہ سالار کی نظر واقعی ان نشانوں پر نہیں گئ تھی ۔۔۔
اندھیرے میں اسے وہ نشان نظر بھی نہیں آنے تھے ۔۔
اسکا سوال زیمل کو بے معنی لگا تبھی وہ وہاں سے پھر سے جانے لگی ۔۔۔
رک جاؤ ۔۔۔ ” اسنے دوبارہ سے اسے ٹوکا ۔۔ زیمل کے قدم پھر سے رک گئے ۔۔
جائیں جائیں آپ یہاں سے ۔۔۔ میڈیم ۔۔مج۔۔مجھے ماریں گی پھر ۔۔ آپکی وجہ وجہ سے” وہ چہرہ موڑے بولی ۔۔۔ سالار نے ایک قدم اسکیطرف اٹھایا ۔۔
کون میڈیم” وہ حیرانگی سے پوچھنے لگا ۔۔۔۔
زیمل نے جواب نہیں دیا ۔۔۔۔
افشین چاچی” وہ ششدر پوچھنے لگا ۔۔۔
زیمل نے زرا سا رخ موڑ کر اسکو دیکھا ۔۔۔اور پھر سے جانے لگی ۔۔
شیٹ آپ رک جاؤ وہیں” وہ ایکدم چیخا۔۔۔
پلیز آواز مت نکالیں ۔۔۔ وہ وہ مجھے ماریں گے ۔۔۔ “
کون کون مارے گا تمھیں” سالار چیڑ کر اسکی نکل اتارنے لگا ۔۔
عدیل”زیمل نے جواب دیا ۔۔
ہاں بڑا موداب اور باعزت ہے جس کا زکر ایسے کر رہی ہو” سالار کو الجھن ہوئ ۔۔۔۔
زیمل پھر سے جانے لگی ۔۔۔
سالار نے اچانک اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔ یہ بے اختیاری عمل تھا جو اس سے ہوا تھا ۔۔
زیمل کی آنکھیں حیرانگی سے جہاں پھیلیں وہیں سالار نےا سکا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔
تو تمھیں میری وجہ سے مار پڑی تھی” وہ پوچھنے لگا جسے اسے فرق نہ پڑا ہوا اس حرکت سے ۔۔۔
برائے مہربانی یہاں دوبارہ مت آئیے گا ” زیمل نے کہا ۔۔۔ اور وہاں سے بنا روکے چلی گئ ۔۔ سالار جبکہ اسکے گورے پاؤں جس جس طرح گھس پر رکھے جا رہے تھے انھیں توجہ سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
کچھ دیر وہ وہاں کھڑا رہا ادھر ادھر یکھتا ۔۔۔رہا ۔ عدیل کے لیے ۔۔ وہاں ایک جھولا بھی لگا تھا ۔افشین نے ہر چیز مہیا کی ہوئ تھی سالار اس جھولے کے نزدیک گیا ۔۔۔ اور اسکو اسکے ہینڈلز سے نکال کر ۔۔ اسکی سیٹ اپنے ہاتھ میں لے کر اسنے وہ سیٹ درخت کے پیچھے چھپا دی ۔۔
دروازے کی اوٹ میں سے زیمل یہ سارے نظارے دیکھ رہی تھی کہ وہ جان بوجھ کر کیا حرکتیں کر رہا ہے ۔۔
وہ اپنے کام سے مطمئن ہو کر گنگناتا ہوا ۔۔اپنا باؤل اٹھا کر ۔۔ ایک نظر اس بند کمرے کو دیکھ کر وہاں سے ا گیا ۔البتہ افشین چاچی پر اسے غصہ بھی خوب آیا کہ وہ اپنے پاگل بیٹے کے لیے کسی لڑکی کو کیسے مار پیٹ کر سکتیں ہیں ۔۔۔
اپنے روم میں آکر وہ شاور لینے جاتا ۔۔ کہ گلاس وال پر نگاہ گئ ۔۔۔
اندھیرے میں وہ حویلہ اسطرف تیزی سے بڑھا تھا جہاں ۔۔۔ وہ سیٹینگ چھپا کر آیا ۔۔ تھا ور جلدی سے وہ سیٹینگ نکال کر اسنے جھولے کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش شروع کی ۔۔اور کافی تگ و دو کے بعد وہ سیٹنگ اس سے لگ ہی گئ ۔۔
سالار حیرانگی سے یہ دیکھ رہا تھا لگانے کے بعد وہ اندر چلی گئ ۔۔ سالار کے منہ سے بے ساختہ یہ لفظ نکلے تھے ۔
ڈرپھوک “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ناشتے کی ٹیبل پر دو دن سے خاموشی ہی تھی ۔۔۔
کبیر عارض مرتضیٰ یہاں تک کہ سارے بھائ اور پریشے عمل سب ناشتہ کر رہے تھے ۔
آیت اور سا لار البتہ نہیں تھے ۔۔۔
مما میں نے آپ سے کچھ کہا تھا ” کبیر نےا چانک ہی بیچ میں بات ڈالی ۔۔
اوہ ہاں ۔۔ مدیھا میں نے تمھیں کہا تھا ۔۔ تم ایمن اور کیطرف جاؤ ۔۔ شگن کا سامان لے کر کبیر اور عارض کی شادی کا ارادہ ہو رہا ہے میرا ۔۔۔ آیت کی رخصتی کا” مرتضیٰ تفصیلی بولے ۔۔ مدیھا کے دل کو جیسے سکون ساملا کہ بلآخر انکے دل میں آیت کا خیال خود ہی ا گیا جبکہ وہ ۔۔ تو کب سے ہیلے بھانے تلاش رہی تھی کہ ۔۔کیسے ان سے بات کرے ۔۔۔
عارض کا نوالہ وہیں رک گیا جبکہ کبیر نے صبر سے ماں کی جانب دیکھا ۔۔۔
بابا مجھے ابھی شادی نہیں کرنی” عارض نے سہولت سے کہا ۔۔
کیوں بیٹے بھاگنے کا پلین بنا رہے ہو ۔۔” مرتضیٰ سخت نظروں سے اسکو دیکھنے لگے ۔ عارض نے کانٹا رکھا اور انکیطرف دیکھنے لگا ۔۔۔
میں ۔۔۔ آیت سے نہ ہی نکاح کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی رخصتی کر کے اسے اپنے سر پر بیٹھانا چاہتا ” وہ بنا لحاظ کے بولا ۔۔۔
بدلحاظ ” مرتضیٰ تو جیسے سالار کی بات پر بھرے بیٹھے تھے ایکدم اپنی جگہ سے اٹھے ۔۔۔
کبیر نے انکو عارض تک پہنچنے سے روکا ۔۔
سمھجہ کیا رہے ہیں یہ دونوں ” وہ ایکدم دھاڑے اور یہ ہی دھاڑ کسی کی نیند میں خلل ڈال گئ تھی اور اسے اندازا ہو گیا کہ اسکا وقت ا گیا ہے ۔۔۔
عارض چپ چاپ بیٹھا رہا ۔۔۔
بابا پلیز آرام سے بیٹھیں پرسو بھی آپکی طبعیت خراب ہو گئ تھی اس سے اس موضوع پر میں خود بات کر لوں گا ” کبیر نے انھیں مزید اشتعال میں آنے سے روکا ۔۔۔
وہ بدبخت ۔۔۔ نہ جانے کہاں مرا ہوا ہے دو دن سے گھر نہیں آیا ۔۔اور ایک یہ ہے ۔۔ دونوں نے مل کر ناک میں دم دیا ہوا ہے ۔۔ کہہ دو اسکو ۔۔۔ جو میں نے کہہ دیا ہے وہ ہی ہو گا ۔۔” وہ انگلی اٹھا کر بولے ۔۔ دوسری طرف خاموش بیٹھے زین کی نگاہ سالار پر گئ ۔۔ جو کہ اشاروں میں اس سے پوچھ رہا تھا ۔۔۔ کہ کیا معملہ
ہے ۔۔ سالارکو دیکھ کر زین کے لبوں پر مسکراہٹ آ گئ ۔۔ وہ ان کچھ دنوں میں ویک بھی ہو گیا تھا اور کالج سے مسلسل بنک کرتا رہا تھا ۔۔۔
زین کے سر جھکانے پر سالار ہمت کرتا نیچے آیا ۔۔۔
اور سیڑھیوں سے اس شہزادے کو اترتے سب نے دیکھا تھا اور سر تھام لیے ۔۔۔
کہ اب ضرور کوئ نیا ڈرامہ ہو گا ۔۔ کبیر ۔۔ نے اسکو گھورا کیوں کہ مرتضیٰ کی نگاہ اسپر ابھی نہیں گئ تھی ۔۔
اور آنکھوں۔ آنکھوں میں اسے وہاں سے جانے کا ۔۔۔۔ کہا ۔۔ جس کو سالار نے ماننا ہی کب تھا ۔۔وہ سکون سے آیا ۔۔
اسلام علیکم بابا” اسنے تمیز سے سلام کیا ۔۔ مرتضیٰ نے اسکی جانب دیکھا ۔۔ اور ۔۔ مارے غصے سے ۔۔ اپنا جوتا نکال کر کھینچ کر اسکو مارا ۔۔ جس کو ڈھیٹ انسان نے ۔۔ لپک کر کیچ کیا ۔۔۔
اور دانت نکالنے لگا ۔۔
یہ کیوں آیا ہے اس گھر میں وہ کبیر کی جانب دیکھ کر غصےسے بولے ۔۔
میں بتاتا ہوں کبیر سے کیوں پوچھ رہے ہیں” وہ انکے نزدیک ا یا ۔اور اچانک انکے گلے میں بازو ڈال لیے ۔۔
مرتضیٰ نے غصے سے اسکو جھٹکا ۔۔
اچھا نہ سوری ۔۔ اپکو پتہ ہے نہ غصے میں ہم چارو آپ پر ہی گئے ہیں” وہ بولا اور انکو جکڑ کر پیچھے سے پکڑے رکھا کہیں انکے ہاتھ چھوٹتے ہی ۔۔۔ انکے ہاتھ اسکا منہ سوجا دیتے ۔۔۔۔
جبکہ باقی سب مسکرا دیے تھے وہ بچپن سے ایسا ہی تھا اور انہوں ایسے ہی مناتا تھا ۔۔۔
ہاں تم میرے ہی منہ کو آؤ گے مجھ پر ہاتھ اٹھاو گے” وہ خود کو چھڑانے کی کوشش کر نے لگے ۔۔
نہیں نہیں لو ایسا ہو سکتا ہے میں تو ۔۔ بس ایسے ہی کبھی کبھی” وہ ہنستا ہوا بولا ۔۔۔
جبکہ انھوں نے خود کو چھڑوا ہی لیا ۔۔ سالار جلدی سے کبیر کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔
یار کچھ کر میرے بھائ” وہ بولا ۔۔ تو کبیر نے باپ کو پکڑ کر چئیر پر بیٹھایا ۔۔
سامنے آؤ ” اسنے سختی سے ۔۔ سالار کو دیکھا ۔۔۔
تم سب کے کہنے سے پہلے ہی بتا دیتا ہوں۔ ۔۔ کہ مجھ سے غلطی ہوئی ہے اور میں بے حد شرمندہ ہوں” اسنے کہا جبکہ شکل سے ایسا کچھ نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔ لیکن بھائ آپکی شکل تو نہیں بتا رہی” عارض نے بیچ میں لقمہ دیا ۔۔
کھوتے چپ کر” سالار غرایا ۔۔
بلکل صیحی کہہ رہا ہے وہ ” مرتضیٰ بھڑکے عارض نے ہنسی دبائ
یار بابا پلیز سوری ۔۔نہ ۔۔ آپ کہیں تو سزا کے طور پرا پکا آفس جوائن کر لوں بتائیں ۔۔” وہ پوچھنے لگا جانتا تھا مرتضیٰ کی اولین خواہش تھی اسکے سارے بیٹے کاروبارسمبھالے ۔۔۔
ہاں” وہ فورا بولے ۔۔
بڑے تیز ہیں آپ” سالار نے منہ موڑ لیا ۔۔ جبکہ مرتضیٰ نے اسکی پیٹھ پر مکہ جڑا ۔۔
آہ آہ اور وہیں سالار کے ڈرامے شروع ہو گئے ۔۔ مرتضیٰ خود بھی مسکرا دیے ۔
انھیں وہ چاروں ہی عزیز تھے ۔انکے مسکراتے ہی ماحول کی کثافت جاتی رہی ۔۔۔
کبیر اور عارض آفس کے لیے اٹھ گئے ۔۔۔
مما میں پنچ ٹائم میں گھر او گا ” کبیر انکو کہہ کر چلا گیا ۔۔ جبکہ باقی سب بھی ڑفتہ رفتہ جانے لگے ۔۔
تمھارے لیے ناشتہ لاؤ” سالار کو دیکھ کر مدیھا نے پوچھا ۔۔
اوہ نو ۔۔ مما مجھے سونا ہے آپکے شوہر کی وجہ سے اٹھا تھا بس ” وہ انگڑائ لیتا بولا ۔۔۔
جبکہ مدیھا نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
وہ سدھر ہی نہیں سکتا تھا کبھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین کالج پانچ دن بعد لوٹا تھا۔ ۔
سب سے مل کر وہ کوریڈور میں سے حرم کا ہاتھ پکڑ کر ۔۔اسے ایک روم میں لے آیا ۔۔۔ حرم کی البتہ چیخیں نکل گئیں ۔۔ اسکی اس جرت پر ۔۔
جہاں اسنے پیچھلے پانچ دن گزارے تھے انھوں نے ہی اسے اتنی جرت دی تھی ۔۔
کیسی ہو شمش” اسنے اسکی چوٹیاں میں سے کچھ نکلتی لٹوں کو ۔۔۔
نرمی سے پکڑا ۔۔
چھوڑو مجھے۔۔۔ میں تمھاری شکایت لگا دوں گی” حرم ڈرتی ڈرتی بولی ۔۔
لگا دو ۔۔۔۔ ” وہ مسکرایا ۔۔۔ اور بے تابی سے اسکا چہرہ دیکھنے لگا ۔۔۔
جبکہ حرم اس سے دور سرکنے لگی ۔۔۔
یار ڈرتی کیوں ہو اتنا ” زین ہنسا ۔۔۔۔
دور رہو ۔مجھ سے میں سچ کہہ رہی ہو میں تمھاری شکایت لگا دوں گی” حرم بولی ۔۔۔ زین نے سر جھٹکا ۔۔۔
کس کو لگاؤ گی” وہ ایک قدم دور ہوتا اوپرسے نیچے تک اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔
حرم کو اسکی نظروں میں پہلی سی نرمی نہیں دیکھائی دی ۔۔ بلکہ اس وقت اسکے دیکھنے کے انداز میں عجیب حوس پوشیدہ تھی ۔۔
تبھی وہ کانپ سی اٹھی تھی ۔۔۔
زین دوبارہ اسکے نزدیک ہوا ۔۔ یہاں تک کے نزدیک تر ۔۔۔
” حرم رونے ۔۔۔ لگی ۔۔
کیا ہو گیا بیبی ۔۔۔ جسٹ ریلکس ۔۔۔” زین نے اسکے گال پر ہاتھ پھیرہ ۔۔
ز۔۔زین چھوڑو مجھے ” اپنی کمر میں اسکا بازو رینگتا محسوس کر کے ۔۔۔ حرم چلائ ۔اور اسکے چلانے پر زین نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔
ادھر ادھر دیکھا ۔۔ پیچھے احتشام کھڑا تھا ۔۔۔ یہ نظارہ دیکھ رہا تھا ۔۔
اور حرم نے ادھر ہی فائدہ اٹھایا اور وہاں سے بھاگ گئ ۔۔۔
احتشام اسکے نزدیک ا آگیا ۔۔۔
مال زبردست ہے” وہ بولا ۔۔
وہ کوئ مال نہیں ہے مجھے پسند ہے ” زین نے ۔۔ لاپروائ سے کہا ۔۔
میرے بھائ اپنی پسند کے ساتھ ایسانہیں کیا جاتا” احتشام ہنسا ۔۔
زین بھی ہنس دیا ۔۔۔۔
چل ۔۔۔ کہیں پکڑتے ہیں اسکو ” اسنے کہا ۔۔
نہیں” زین نے نفی کی ۔۔
چل نہ یار پہلا حق تو تیرا ہی ہے اسپر” احتشام نے اسکو بھلایا پھسلایا ۔۔
جس پر زین نے حامی بھر دی یہ بات بھول کر کہ وہ اسکی پسند تھی ۔۔۔۔
اور دونوں نے آج رات ہونے والی کوالی میں اس لڑکی کو پکڑنے کا پلین بنا لیا ۔۔
مگر احتشام نےا سکو روکا کہ یہ بات کسی کو نہیں بتانی ۔۔۔
جس پر زین بھی متفق ہو گیا ۔
جاری ہے