Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 48
No Download Link
Rate this Novel
Episode 48
روز کی طرح یہ دن بھی بلکل ویسا ہی تھا خالی اکیلا۔۔۔۔۔ ویران سا۔۔۔۔
اور زیادہ موسم نے ستمگری کر دی تھی ۔۔۔ گرمیوں کے طویل دن سردیوں کے چھوٹے چھوٹے ۔۔۔ سرد بلکل اسکے دل پر جمی اوس کیطرح بدلنے لگے تھے ۔۔۔۔
ماحول میں ویرانی سی پھیلنے لگی ۔۔تھی اور سردیوں تو ویسے ۔۔۔ آمد سے پہلے اداس کر دیتی ہیں ۔۔ اور یہاں تو پھر معملہ ہی الگ تھا ۔۔۔۔۔
زیمل نے سیل فون دیکھا۔۔۔۔۔ کچھ شو نہیں ہوتا تھا وہ اون لائن ہے یہ نہیں ۔۔۔۔۔
کال وہ پیک نہیں کرتا تھا میسیجز کا جواب نہیں دیتا تھا ۔۔
بس بہت تھا یہ ایک سال ۔۔۔۔ اسکی سزا کی لیے کافی تھے اسنے ۔۔۔ 365 دن نہیں گزرے تھے کیونکہ ۔۔۔۔ یہ تعداد میں بہت کم تھے اسنے اسکے بنا ایک ایک لمہہ گزارا تھا ۔۔ ایک ایک لمہے کی تکلیف سہی تھی ہاں سب اسکا بہت خیال رکھتے تھے سوائے زین کے جو ۔۔۔ کافی بدتمیزی کر جاتا تھا ۔۔۔ مگر زیمل نے پہلے کسی کو کچھ کہا تھا جو اب کسی کو کچھ کہتی ۔۔۔ وہ چپ چاپ سنتی رہتی تھی ۔۔۔
کھانے پینے میں حد سے زیادہ چور ہو گئ تھی ۔۔۔ تبھی وہ مزید سمارٹ ہو گئ تھی ۔۔۔
اب بھی فجر کی نماز پڑھ کر اسے بھوک کا احساس ہوا ۔۔اور وہ نیچے آ گئ ۔۔۔۔
تو دیکھا رمشہ بھی جاگ رہی تھی زیمل کو دیکھ کر وہ مسکرائی ۔۔۔۔
آپ کے لیے کچھ بنا دوں ” اسنے پوچھا ۔۔۔
نہیں شکریہ ۔۔۔۔ ” زیمل بنا مسکرائے نرمی سے کہتی کچن میں آ گئ ۔۔۔۔۔ اور بریڈ نکال کر بس اسپر جیم لگانے لگی
آپ نے کل رات بھی کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔اور ۔۔۔ اب بھی بس بریڈ جیم کھا رہی ہیں میں آپکو ۔۔۔۔ پراٹھا بنا دیتی ہوں ۔۔” رمشہ اسکے پیچھے ہی آ گئ ۔۔۔
ارے نہیں ۔۔ اتنی بھوک نہیں ہے ” زیمل جلدی سے بولی ۔۔۔۔
ہو گی بھی تو آپ کھائیں گی نہیں ” رمشہ اسکی طرف دیکھنے لگی وہ بہت خوبصورت تھی سب سے خوبصورت اسکی آنکھیں ۔۔ جن میں سالار تھا ۔۔۔۔ پوشیدہ ۔۔۔۔
اور پھر اسکا ۔۔۔ بے داغ چمکتا ۔۔۔ نکھرا نکھرا چہرہ اور سر سے پاؤں تک ایک رنگت ۔۔اس پر اسکا بیوقوفانہ مزاج ۔۔۔۔ کسی کو بھی اپنی طرف متوجہ کر سکتا تھا ۔۔۔۔
رمشہ اپنی سوچ پر ہنس پڑی وہ اسکے بارے میں کیا کسی سوچ رہی تھی
زیمل نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔ کہ وہ کیوں ہنس رہی ہے ۔۔۔۔
نظروں میں سوال تھا
ایکچلی آپ بہت پیاری ہیں میں سوچ رہی ہوں سب کہتے ہیں سالار بھیا کو آپ سے بہت پیار تھا۔۔ آئ مین ہو گا ۔۔۔۔ ہی
۔۔تو کس چیز سے پیار ہوا ہو گا ۔۔انھیں ۔۔ آپکی آنکھوں سے ۔۔۔
یہ آپکی رنگت سے ۔۔۔ زرا بھی آپکی رنگت میں مختلف رنگ نہیں ۔۔۔۔۔
یہ پھر آپکے بیوقوف مزاج سے ” وہ منہ پر ہاتھ رکھتی ہنسنے لگی
۔۔۔
بہت تیز ہو ” زیمل مسکرا دی اسکی باتوں پر ۔۔۔ جو بھی اس سے سالار کی بات کرتا وہ شوق سے سنتی تھی
مجھے خود نہیں معلوم ۔۔۔۔ مگر لگتا ہے ۔۔۔ اب نہیں کرتے۔۔ دیکھو ۔۔ کتنا وقت گزر گیا ۔۔۔ پلٹ کر میری طرف دیکھا بھی نہیں ۔۔۔۔۔ جبکہ تم جانتی ہو ۔۔۔۔ سب سے پہلے شاید انکی نظروں میں میرے آنسوں کی قدر بڑھی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ میری آنکھ میں آنسو نہیں دیکھ سکتے تھے اور اب سب کی آنکھوں میں آنسوں دیے کر خود منہ موڑ گئے ہیں ” وہ اداس ہو گئ
رمشہ اسے اداس نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
بھابھی ۔۔۔ آپ اداس نہ ہوں وہ لازمی آئیں گے ۔۔۔۔ تائ امی اتنی انکے لیے دعائیں مانگتی ہیں انکے لوٹ آنے کی ۔۔ تایا ابو مانگتے ہیں ہم سب مانگتے ہیں وہ واپس آ جائیں گے ” رمشہ نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔
ایسے ہی کوئ منہ اٹھا کر واپس نہیں آ جاتا ۔۔۔۔۔ جب کسی بہت اپنے کو ۔۔۔ کسی کی قدر نہ ہو ۔۔۔۔” کچن کے دروازے میں دونوں نے دیکھا زین کھڑا تھا ۔۔۔۔
پولیس یونیفارم میں وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔۔ زیمل کی تو نظریں جھک گئیں ۔۔۔ رمشہ البتہ احتجاج کرنا چاہتی تھی وہ ہر وقت زیمل کو ٹیز نہیں کرسکتا تھا ایک ہی بات لے کر ۔۔۔۔
جنھیں محبت ہوتی ہے ۔۔۔۔ وہ اپنی محبت کی تمام غلطیوں کو سب سے پہلے بھلا دیتے ہیں ” رمشہ نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔۔
اوہ رئیلی” وہ اندر آ کر چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا
محبت بھلا سر پر ناچتی رہے ۔۔ ساتھ دینے کے وقت میں ہاتھ چھوڑ دے ۔۔۔ اکیلا کر دے ۔۔۔۔
اور پھر ۔۔۔۔ کھائے پیے خوش رہے موج میں رہے ” اسنے زیمل کے ہاتھ میں موجود بریڈ جیم پر ٹونٹ کیا ۔۔۔ جبکہ ایک بائٹ بھی اسنے نہیں لی تھی ۔۔۔
زیمل نے دوبارہ وہ شیلف پررکھ دیا ۔۔۔
آنکھیں بھیگنے لگیں ۔۔۔
آپ ایسا نہیں کہہ سکتے۔۔۔۔۔۔۔ ” رمشہ کو غصہ آیا تھا
میں سب کہہ سکتا ہوں ۔۔۔ جب تک میرا بھائ نہیں آتا ۔۔۔۔۔
اور تم یہاں کیوں کھڑی ہو سونا نہیں ہے ۔۔۔ وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کچھ ڈھنگ کا کام کر لو چلو جاؤ اپنے روم میں ” وہ بولا ۔۔۔۔
رمشہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی رمشہ نے زیمل کیطرف دیکھا ۔۔۔ ابھی بس ایک پل کے لیے تو وہ مسکرائی تھی اور اب دوبارہ آنکھوں میں پانی بھر چکا تھا سرخی پھیل گئ تھی ۔۔۔۔
زیمل نے رمشہ کی جانب دیکھا اور اسکا گال تھپتھپایا ۔۔۔۔
وہ ٹھیک کہہ رہا ہے وقت ضائع مت کرو ۔۔۔ جاؤ شاباش ” وہ پھینکا سا ہنس کر ۔۔۔کچن سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔
جبکہ رمشہ ضبط کیے وہیں کھڑی رہی ۔۔۔۔
آپکو کوئ لحاظ نہیں ہے وہ آپکی بھابھی ہیں آپکے ہی بھائ کی محبت ۔۔۔ اسطرح آپ انکے پیچھے انکا خیال رکھیں گے ” رمشہ غصے سے بھنتی اسکے پاس آئ جو چئیر پر بیٹھا ۔۔اسکا سرخ چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔
تم کیوں اتنا اچھل رہی ہو ۔۔۔۔ ” اسنے ۔۔۔ آنکھوں کو جنبش دی
میں کوئ نہیں اچھل رہی ۔۔ مگر آپ ضرورت سے زیادہ بدتمیزی پر اتر چکے ہیں “
زین نے شانے آچکا دیے ۔۔۔۔
زین کسی کا دل دکھانا سخت گناہ ہے” رمشہ نے کہا ۔۔۔۔
تو سب سے پہلے ۔۔۔۔ تو میرا دل دکھا ہے ۔۔ میرے باپ نے ۔۔ہمارا دل دکھایا ہے تو سارا گناہ میرے باپ کو ملنا چاہیے ۔۔اس عورت نے میرا دل دکھایا ہے ۔۔ میرا بھائ ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ۔۔ یہ اسکے ساتھ جا سکتی تھی اسکی تکلیف کم کر سکتی تھی ۔۔ مگر یہاں رہ کر نہ جانے اسکو کیا
زین ” رمشہ اسکے انداز پر فق تھی ۔۔۔۔۔
میرے خیال میں اس گھر میں سب سے ۔۔۔ فالتوں چیزبیویاں ہیں ” وہ بھڑک کر بولی ۔۔۔۔۔
نہیں تم فالتوں نہیں ہو ” اسنے زرا گھیری نظریں اسپر ڈالی ۔۔ انداز میں پل دو پل میں تبدیلی آئ تھی ۔۔
رمشہ نے اسکی جانب دیکھا ۔۔یہ انکی پہلی کنورسیشن تھی ۔۔۔
مجھے اندازا ہے میں کیا ہوں ۔۔۔۔۔۔ ” اسنے اسکے گزشتہ رویے پر ٹونٹ کیا ۔۔۔۔
زین کچھ دیراسکی جانب خاموشی سے دیکھتا رہا ۔۔۔
کچھ نہیں بولا ۔۔ رمشہ اسکے پاس سے جانے لگی ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔۔ کوئ فائدہ نہیں دیکھ رہا تھا وہ زرا بھی اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹا تھا وہ جانے لگی کہ زین کے ہاتھ کی گرفت میں اسکی کلائی آ گئ ۔۔۔۔
رمشہ نے مڑ کر اسکیطرف دیکھا۔۔۔۔
سکون چاہتا ہوں میں کچھ دیر ۔۔۔” وہ تھکی تھکی نظروں سے اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
رمشہ اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگی ۔۔۔ اسکا ہاتھ پکڑ لینے سے ۔۔دل کی حالت کیا تھی یہ تو وہ ہی جانتی تھی ۔۔
اس گھر میں کسی کو سکون نہیں ہے اور آپ جب دوسروں کو سکون نہیں لینے دیتے تو آپ کو کیسے ملے گا “
رمشہ نے غصے سے کہا ۔۔۔ بریڈ جیم وہیں پڑا دیکھ کر اسے مزید تپ چڑھ رہی تھی
زین نے ایکدم اسکو اپنی جانب کھینچا کہ وہ اسکے بلکل نزدیک سامنے آ کھڑی ہوئ ۔۔۔۔۔۔
رمشہ سٹپٹای تھی ۔۔۔ دل کی رفتار پر سے بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔
زین نے ایک لمہے کے لیے سر اٹھا کر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔۔
وہ چئیر پر بیٹھا تھا رمشہ اسکے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔۔
اور زین نے ۔۔ پہلی بار اپنا حق استعمال کرتے ہوئے ۔۔۔۔ اسے خود سے لگا لیا ۔۔۔۔
رمشہ حق و دق رہ گئ ۔۔۔۔
اسکی کمر میں دونوں ہاتھ ڈالے وہ ۔۔۔ ۔۔۔ آنکھیں موند گیا
رمشہ کے ہاتھ پاؤں کانپ اٹھے تھے ۔۔۔
البتہ زین کی سرخ نظریں جن کی جلن ختم ہوتی ہی نہیں تھی بند تھیں
ز۔۔۔زین” رمشہ نے کچھ الگ ہونا چاہا ۔۔۔
تمھیں کیا پتہ میں کس حالت میں ہوں ۔۔۔
میری خوشیوں میں ۔۔۔ میری کامیابی میں میری ترقی میں ۔۔۔۔ جب وقت آیا تو ۔۔۔ میرا بھائ ہی نہیں ۔۔۔۔۔
جانتی ہو میرے ہرکام میں وہ ایسے ہوتے تھے ۔۔
یار تو کر لینا باقی میں دیکھ لوں گا ۔۔۔۔
میں کیسے برداشت کروں اس عورت کو ۔۔۔۔ تم خود بتاؤ ۔۔۔۔
میرا بھائ اسے پھولوں کیطرح رکھ رہا تھا اور یہ لڑکی کانٹا بن گئ ۔۔
بس ہاتھ ہی تو تھامنا تھا ۔۔۔۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ہاتھ چھڑا لیا ۔۔۔
ایسا کون کرتا ہے محبت سب کا نہیں سوچتی محبت تو خودغرض ہوتی ہے محبوب کے آگے تو کوئ نہیں دیکھتا پھر کیسے رشتے ۔۔۔۔
ہم لگتے ہی کیا تھا انکے ۔۔ جو یہ یہاں رکیں ۔۔۔
تم نہیں سمجھہ سکتی شاید تم نے محبت نہیں کی ” وہ آنکھیں بند کیے آہستہ آہستہ بولتا جا رہا تھا ۔۔۔۔
رمشہ نے اسکے سر کیطرف دیکھا ۔۔۔
اسکا چہرہ اسے نظر نہیں آ رہا تھا ۔۔ مگر کمر پر گرفت کی مظبوطی دیکھ رہی تھی ۔۔
میں تو سب سے چھوٹا ہوں گھر میں ۔۔۔ میری بات کوئ نہیں سنتا ۔۔۔ سب بدتمیز بدتمیز کہنے لگ گئے ہیں یقینا ۔۔۔ انکے سامنے ایسا ہوتا تو دو چھتر لگا دیتے مگر بدتمیز نہ کہتے ” وہ ہنس دیا ۔۔
رمشہ کو احساس ہوا وہ کس طرح اپنے بھائ سے محبت کرتا ہے
شاید وہ حق پر بھی ہو مگر زیمل بھی تکلیف میں تھی اسے لحاظ کرنا چاہیے تھا ۔۔۔۔
آج جو سب ۔۔۔ مجھے مارنے کو دوڑتے ہیں کسی کا ہاتھ بھی نہیں اٹھنے دیتے تھے وہ ۔۔ بڑے بھیا کا بھی نہیں بس ایک بار ” وہ رک گیا
رمشہ جانتی تھی اس ایک بار کے بارے میں ۔۔۔۔
زین نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔۔
اور بت بنی کھڑی رمشہ کو ایکدم کھینچ لیا
وہ اب مزید پریشانی کا شکار ہو گئ تھی کیونہ زین نے اسے اپنی ٹانگوں پر بیٹھا لیا تھا ۔۔ پیچھے ٹیبل تھی اور اسکی کمر ٹیبل سے ٹکرا رہی تھی ۔۔۔
رمشہ کا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا ۔۔۔ جبکہ زین اسکے بکھرے بال سنوارنے لگا ۔۔۔۔
مگر یہاں مجھے کوئ نہیں سمجھ رہا ۔۔۔” وہ شکوہ کرنے لگا۔۔۔
آپ کی ساری باتیں جائز ہیں مگر پھر بھی بھابھی یہ رویہ ڈیزرو نہیں کرتیں ” رمشہ اپنے جزبات پر قابو پاتی بولی۔
وہ اس سے بھی برے کی حق دار ہیں اور جب تک میرا بھائ نہیں لوٹے گا ۔۔۔ میں ایسا ہی رہو گا ” اسنے حتمی لہجے میں کہا ۔۔۔۔
اور رمشہ کا چہرہ غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔
جو بہت پیاری تھی ۔۔۔۔
غصہ بھی کرتی تھی ۔۔۔۔
اسے وہ اس دن کیطرح اچھی لگی ۔۔ بات کر کے اور بھی اچھی لگی ۔۔۔۔۔
رمشہ خاموشی سے جیسے کچھ سوچنے لگی ۔۔۔۔
زین کے لبوں پر مسکراہٹ تھی مگر رمشہ اپنی ہی سوچ میں مگن تھی تبھی اسے اپنی پوزیشن کا خیال نہیں آیا ۔۔۔۔
تمھیں اچھا لگ رہا ہے ” زین ایکدم بولا ۔۔۔ آنکھیں اسکے معصوم چہرے کو دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔
رمشہ نے چونک کر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
مطلب ” وہ کچھ سمجھہ نہیں ۔۔۔
مطلب یہ کہ ۔۔میری بیوی کو میرے پاس بیٹھنا کچھ زیادہ اچھا لگ رہا ہے تبھی اپنے یہ بھاری وجود کے ساتھ مجھ پر چڑھی بیٹھی ہے ” وہ اسکے کان کے قریب بولا ۔۔۔
رمشہ تو بری طرح سٹپٹا گئ ۔۔۔
وہ تو بلکل بھول گئ تھی احساس تک نہیں رہا تھا کیا
وہ ایکدم اٹھی زین نے اپنی ہنسی دبائ
رمشہ نے گھور کراسکیطرف دیکھا
میں بلکل بھاری نہیں ہوں ۔۔۔ ” وہ منہ بنا کر بولی جبکہ ۔۔۔
زین اٹھا ۔۔۔
میری ٹانگوں سے پوچھو یہ تو تم ” وہ بے چارگی سے بولا ۔۔۔
رمشہ اسے گھور کر رہ گئ ۔۔۔
وہ بھرے ہوئے جسم کی تھی جس کا مطلب بلکل یہ نہیں ہوتا کہ وہ بھاری ہے ۔۔
وہ پاؤں پٹختی وہاں سے چلی گئ جبکہ زین خود کو کافی دنوں بعد ہلکا پھلکا محسوس کر رہا تھا اور اسے شرمندگی ہوئ کہ وہ اتنے دن اس سے لاپرواہ رہا ۔۔۔۔
اور اب ارادہ کر چکا تھا کہ وہ ۔۔۔ بلکل ایسا کچھ نہیں کرے گا اسکے ساتھ ۔۔۔
بالوں میں ہاتھ پھیرتے وہ اپنے روم کی جانب چل دیا ۔۔۔۔۔ جبکہ اوپر سے ۔۔اسے رونے کی آواز آ رہی تھی اسنے ۔۔۔ ایک نظر اوپر دیکھا وہ جانتا تھا یہ زیمل ہے ۔۔۔
اکثر اسنے اسے روتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔۔
مگر بات وہیں کی وہیں تھی ۔۔۔۔
اسے سالار کا ہاتھ نہیں چھوڑنا چاہیے تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بری طرح تڑپ تڑپ کر رو دی تھی ۔۔ہاں اسے چاہیے تھا سالار آج ۔۔۔ضبط جواب دے گیا تھا بس ہو گئ تھی مزید وہ اپنی زندگی میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔
کیا اسکی قسمت میں بس دو دن کی خوشی لکھی تھی کہ وہ ۔۔۔ دودن سوکھ کا سانس لے کر ایک بار پھر ۔۔ مسلسل ملنے والی تکلیف میں پھنس گئ
اسنے سالار کو پاگلوں کیطرح کالز کی میسیجز کیے مگر ایک ایک کا بھی جواب نہیں دیا تھا
اسنے سین بھی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
وہ تڑپ رہی تھی آج اسے دیکھنے کے لیے ۔۔۔۔
وہ جانتی تھی وہ اسے نیٹ پر اور ٹی وی پر سرچ کر سکتی ہے مگر اسنے سالار کو چھونا تھا ۔۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں براہِ راست دیکھنا تھا۔۔۔۔
یوں ہی روتے روتے اسکی آنکھ لگ گئ ۔۔۔۔۔
دوبارہ جب آنکھ کھلی تو ۔۔۔۔۔ سر میں بے حد درد تھا بھوک سے نڈھال ہو رہا تھا اسکا وجود اور دن بھی نکل آیا تھا ۔۔اسنے وقت دیکھا ۔۔ گیارہ بج رہے تھے صبح کے ۔۔۔۔
وہ یوں ہی ۔۔ منہ ہاتھ دھو کر بنا لباس تبدیل کیے نیچے آ گئ
آج اسکی حالت بہت بری تھی پہلے دنوں کی نسبت
نین ایکدم منہا کو ۔۔۔ آیت کے ہاتھ میں دے کر زیمل کی جانب بڑھی
زیمل تم ٹھیک اور یہ کیا حالت بنا رکھی ہے ۔۔۔۔ ادھر دیکھو ” نین پریشانی سے بولی
صوفیہ تنزیلہ نے بھی اسکو بیٹھایا ۔۔ وہ گیری گیری جا رہی تھی ۔۔۔
آنکھیں بند ہو رہیں تھیں۔
بھابھی نے تو کل صبح کے بعد اب تک کچھ نہیں کھایا تبھی انکی حالت ایسی ہو رہی ہے ” رمشہ پریشانی سے بولی جبکہ آیت دونوں بچوں کی وجہ سے اس تک نہیں پہنچ سکی تھی ۔۔۔
نین نے جلدی سے اسکے لیے دودھ گرم کیا اور اسکے لبوں سے لگا دیا
زیمل کو لگا وہ کچھ کھا پی نہیں سکتی ۔۔۔
زین بھی اٹھ گیا تھا اسنے کمشنر سے ملنے جانا تھا ۔۔ عارض اور کبیر تو صبح ہی آفس کے لیے نکل گئے تھے ۔۔۔۔
زیمل کو دیکھ کر اسنے لاپرواہی سے سر جھٹکا
اور باہر نکلنے لگا ۔۔۔
کہ اچانک کچھ یاد آیا ۔۔۔
اوہ یارآج بھیا کا انٹرویو ہے ” وہ ایکدم چیخا اور صوفے پر سے جمپ کرتا۔۔ جلدی سے ایل سی ڈی کا ریموٹ لے کر ایل سی ڈی اون کر گیا
گھر میں کیا ہو رہا تھا ۔۔ اسے بلکل انٹرسٹ نہیں تھا ہاں زیمل کی جگہ کوئ اور ہوتا تو شاید وہ ۔۔۔۔ توجہ دیتا ۔۔ یہ ڈاکٹر کو بلاتا مگر فلحال اسے اپنے بھائ کا انٹرویوعزیز تھا سب نے اسکی اس حرکت کو افسوس سے دیکھا تھا ۔۔۔
بھابھی میں ڈاکٹر کو فون کرو” رمشہ نے اسکو غصیلی نظروں سے دیکھ کر ۔۔۔۔ نین سے پوچھا ۔۔
ہاں مجھے لگتا اہے اسکو بخار سا ہے ۔۔۔ ” نین اسکی گردن پر ہاتھ رکھتی بولی ۔۔
جاؤ بچی کے لیے کچھ ہلکا سا بنا لاؤ دودھ تو پی ہی نہیں رہی” صوفیہ پریشانی سے بولی ۔۔۔۔
اور زیمل نے زین کی بات پر آنکھیں کھول لیں ۔۔ ایل سی ڈی بلکل سامنے چل رہی تھی جس پر وہ لندن میں ہونے والے سالار کے انٹرویو کو سرچ کر رہا تھا
لائیو انٹرویو ۔۔ اسکی بولی وڈ ہٹ گئ مووی کے بارے میں تھا ۔۔۔۔۔
وہ معمولی سی مسکراہٹ کے ساتھ ۔۔۔ مووی کے متعلق سارے جواب دے رہا تھا
۔
زیمل ڈبڈبائ نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
۔
انٹرویو پر سب کا دھیان چلا گیا تھا
اسکو اکثر سب یوں ہی کھڑے دیکھتے رہتے تھے وہ سب کے دلوں میں اپنی ایک الگ جگہ رکھتا تھا کسی کی وجہ سے ۔۔کوئ اسے عزت نہیں دیتا تھا خود سے اسنے سب کے ساتھ جو رویہ رکھا سب اسکی وجہ سے
۔ اپنی آنکھیں نم لیے ہوئے تھے ۔۔
تو سر شادی کا کیا پلین ہے ” لڑکی نے انگلش میں پوچھا ۔۔۔
سالار نے اس لڑکی کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
کر لوں گا ۔۔۔ ” اسنے سرسری سا جواب دیا ۔۔
زیمل ایکدم ایکٹیو ہوئ ۔۔۔۔۔
پیچھے سے روم میں سے مدیھا بھی بے تابی سے اسکی آواز سن کر نکل آئیں تھیں اسکی ہر مووی ہر انٹرویو ۔۔۔ وہ ۔۔ دن میں نہ جانے کتنی بار دیکھ لیتیں تھیں ۔۔۔
اور آج تو نہ جانے سب ہی تڑپ سے گئے تھے ۔۔اور جب مرتضی کمرے سے نکلے تو ۔۔۔۔ ایکدم سب شاکڈ ہو گئے
وہ سال بعد اپنے کمرے میں سے نکلے تھے
۔
بوڑھے نہیف سے لگ رہے تھے ۔۔۔۔
مطلب کب کر لیں گے ” وہ لڑکی ہنسی ۔۔۔۔
جب دل کرے گا ” سالار نے کہا ۔۔۔۔
اوکے آپ لندن میں کسی امریکن کی تلاش میں ہیں ” وہ لڑکی مسکرا کر گھیری نظریں اسپر ڈالتی بولی ۔۔۔ زیمل ایکدم اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔۔۔
ام م ہاں شاید مجھے لگتا ہے مجھے سیٹل ہوجانا چاہیے ۔۔۔۔ ” سالار کا یہ جواب تھا ۔۔۔
یہ انگارے جو اسپر گیرے تھے وہ ایکدم نیچے بیٹھتی چلی گئ ۔۔زین نے طنزیہ نظروں سے اسے دیکھا جو ۔۔آج سب کے سامنے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔تھی
زین بند کر دو اسکو ۔۔۔۔ ” نین کی اپنی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔ جبکہ زین نے بند نہیں کیا تو آیت نے غصے سے اسکے ہاتھ سے ریموٹ لے لیا ۔۔۔
تم اور کتنا بدتمیز ہونا چاہتے ہو
۔۔۔” آیت بھڑکی ۔۔۔
یہ ڈیزرو کرتی ہیں یہ سب ” زین نے سر جھٹک کر کہا ۔۔۔
م۔۔۔مجھے ۔۔۔مجھے جانا ہے سالار کے پاس بھابھی مجھے جانا ہے ۔۔میں ان سے معافی مانگوں گی وہ میرے ساتھ ایسا نہیں کرسکتے یہ بہت طویل سزا ہے ” وہ بولی ۔۔۔۔
نین اسکے انسو صاف کرنے لگی ۔۔۔۔
زیمل کی بات پر زین ایکدم چونکا تھا ۔۔۔
پلیز کسی طرح مجھے انکے پاس پہنچا دیں ورنہ میں گھٹ گھٹ کر مر جاؤں گی” وہ بولی ۔۔ اور چہرے پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔
مدیھا مرتضی دونوں چپ کھڑے تھے ۔۔باقی سب کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں ۔۔۔۔
زین نے زیمل کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
میں پہنچاؤ گا آپکو وہاں ۔۔۔۔۔۔ مگرشرط یہ ہے ۔۔۔۔ میرے بھائ کو آپ واپس لائیں گی ہمارے پاس ۔۔۔۔۔۔
ہم سب کے پاس بلکل ویسے ہی جیسے وہ تھے ۔۔۔۔” وہ ایکدم بولا
تو آواز اونچی اور مظبوط تھی ۔۔۔۔
مرتضی دوبارہ کمرے میں چلے گئے تھے ۔۔ جبکہ مدیھا نے زین کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
سب اسے حیرانگی سے دیکھ رہے تھے تھے
زیمل نے ایکدم اٹھ کر اسکے نزدیک آئ ۔۔
زین میں قسم کھاتی ہوں جو تمھاری شرط ہے میں سب مانوں گی بس مجھے انکے پاس پہنچا دو ” زیمل بولی تو ۔۔۔ زین نے سر ہلایا ۔۔۔۔۔
آپ بھولیں گی نہیں اس وعدے کو ۔۔۔۔” وہ جیسے پکا کرنے لگا ۔۔۔میں قسم کھاتی ہوں ” زیمل کو جیسے ۔۔۔ اسکی بات ڈوبتے کو تنکے کے سہارے جیسی لگی ۔۔۔۔
زین کو شاید اسکی بات پر یقین آ گیا تھا ۔۔۔
وہ سر ہال کر باہر نکلا ۔۔ زیمل اسے ۔۔اس بھری نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔
نین اور آیت نے اسکو گلے سے لگا لیا ۔۔۔۔
وہ اسکی تکلیف سمجھہ سکتی تھیں ۔۔
جبکہ رمشہ ۔۔۔ کو محسوس ہوا ۔۔۔کہ وہ ۔۔۔ چیڑچیڑا شاید حالت کی وجہ سے ہو گیا تھا ورنہ اتنا بھی پتھر دل نہیں تھا جتنا ۔۔ زیمل کے ساتھ ہو جاتا تھا ۔۔۔۔
وہ پھر سب بھولائے
انتظار کی آنکھیں سجائے ۔۔۔ زین کے انتظار میں بیٹھ گئ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین آفس میں داخل ہوا اور سیدھا عارض کے پاس گیا
بھیا بڑے بھیا کے پاس آ جائیں بات کرنی ہے کچھ “
عارض ایک ضروری فائلز ریڈ کر رہا تھا چونک کر اسکو دیکھنے لگا
ابھی ضروری ہے “
وہ بولا
جی ضروری ہے زیمل بھابھی کے متعلق ہے” زین دروازے میں ہی کھڑا بول رہا تھا
کیا ہوا ہے انھیں ٹھیک تو ہیں” عارض جلدی سے اٹھا
بڑے بھیا کے روم میں آجائیں ” زین نے کہا اور دونوں نکل کر کبیر کے پاس آ گئے ۔۔۔
جو ایک چھوٹی سی میٹینگ کر رہا تھا مینیجر سے ۔۔
ان دونوں کو گھور کر دیکھا ۔۔
بھیا ضروری ہے” زین نے کہا تو اسنے مینیجر سے ایکسکیوز کیا اور مینیجر اٹھ کر چلا گیا ۔۔۔
جبکہ ۔۔ زین نے بات شروع کی ۔۔
زیمل بھابھی بھیا کے پاس جانا چاہتی ہیں اور میں بھی چاہتا ہوں کہ وہ چلی جائیں تاکہ سالار بھیا واپس لوٹ آئیں “
اسنے بڑی تمہید باندھنے کے بجائے بات سمیٹ دی
کبیر اور عارض ایک دوسرے کو دیکھنے لگے ۔۔۔
کافی دیر سے سوچا بھابھی نے یہ” عارض بولا ۔۔
ٹھیک ہے انکے جانے کے انتظامات کر دو ۔۔۔ تم ساتھ جاؤ گے ” کبیر نے اسکیطرف دیکھا
اتنی بار جا چکا ہوں کوئ فائدہ نہیں ہوا ۔۔۔ انکی لوکیشن تک کبھی نہیں پہنچ پایا ۔۔”زین نے بتایا ۔۔۔۔
تو زیمل کیسے جائے گی” کبیر پریشانی سے اسکو دیکھنے لگا
وہ چلی جائیں گی ۔۔۔” زین نے جتاتی نظروں سے دیکھا ۔۔ جیسے کہہ رہا ہو وہ بیوی ہے ۔۔ اسکی
کبیر اور عارض نے سر ہلایا اور اسطرح زیمل کے جانے کا پلین فائنل ہو گیا ۔۔۔
جیسے ایک نئ زندگی اس لڑکی کے وجود میں بھرنے لگی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام میں سب گھر لوٹ آئے ۔۔۔۔ زیمل کا ۔۔۔ کام زیادہ تھا ویزا پاسپورٹ ۔۔۔ اور یہ سب۔۔۔ تبھی زین ۔۔۔ پورا دن گھل کر گھر لوٹا تھا اسکے چہرے پر ۔۔ خوشی تھی ۔۔
اسنے زیمل کے ڈاکومنٹس نکلوا کر انپر سارے کام کرا دیے تھے ۔۔ جبکہ نکاح نامہ جس کی کاپی افان کے پاس تھی اس سے اسے بہت فائدہ ملا تھا ۔۔۔
وہ جب گھر لوٹا تو جیسے پہلے والا زین لگنے لگا ۔۔۔
ٹکٹ اسنے ہوا میں لہرائے تھے اور چہرے پر جاندار مسکان تھی ۔۔
بھابھی کہاں ہیں ” وہ نین ایت رمشہ کو دیکھنے لگا ۔۔
وہ تو اسے دیکھ کر حیران تھیں کبیر بھی مسکرا دیا ۔۔
کتنا اچھا ہو جب سب پہلے جیسے ہو جائے ۔۔
عارض آیت کے ساتھ بیٹھ کرنورکو گود میں بھر کر پیار کرنے لگا آیت اسے ۔۔۔ خوشی سے دیکھنے لگی ۔۔۔
جبکہ کبیر نے بھی منہا کو پیار کیا تھا اور اسے گود میں لے لیا ۔۔
ماں باپ کے کمرے کیطرف اداسی سے دیکھا
وہ لوٹ آتا تو ۔۔ شاید یہ کمرے دو نہیں ہوتے کبھی ۔۔۔
اور جب وہ لوٹ آئے گا ایک پل لگائے گا ۔۔اب بس اسی کا منتظر تھا وہ ۔۔۔
زیمل اوپر سے نماز پڑھ کر نیچے آئ ۔۔ تو زین ایکدم اسکے پاس پہنچا
یہ دیکھیں کل کی ٹکٹ لے آیا ہوں آپکی ۔۔۔”وہ بولا بہت ایکسائٹیڈ تھا سب اسے دیکھ کر خوش دیکھائی دے رہے تھے ۔۔۔
زیمل اسے تشکر بھری نظروں سے دیکھنے لگی۔
لیں پکڑیں” زین نے اسکے ہاتھ میں ٹکٹ دی
مجھے یقین ہے اب بھیا واپس آ جائیں گے بس آپ جائیے گا اور لے آئیے گا ۔۔۔۔ ” زین نے کہا زیمل نے سر ہلا دیا
آنکھوں میں نمی تیر گئ ۔۔۔۔
زین ہٹ گیا ۔۔ جبکہ وہ سب کی نظروں کو دیکھنے لگا
ایسے کیوں دیکھ رہیں ہیں سب جیسے میں عجوبہ لگ رہا ہوں ” وہ پوچھنے لگا ۔۔۔۔
اتنے دانت نکلتے ہم نے تو کبھی نہیں دیکھے آپ کے” رمشہ کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔۔۔اور جیسے وہ سرخ پر گئ اپنی اس کوتاہی ہر ۔۔ ایکدم وہ ۔۔۔ دانتوں تلے زبان دبا گئ جبکہ عارض اور کبیر کا قہقہہ بلند ہوا تھا زین البتہ ۔۔
اس جرت پر حیران تھا
میرے بھیا لوٹ آئیں پھر بتائے گا زین کیا شے ہے ۔۔تمھیں تو ” وہ بولا ۔۔ تھا بے دھڑک ۔
او ہیرو ” کبیر نے گھورا ۔۔۔۔
تو زین ہنس دیا ۔۔
زیمل البتہ ٹکٹ دیکھ رہی تھی
کیا وہ اسکا آنا قبول کرے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پوری رات نہیں سوئی تھی وہ ۔۔ جبکہ جب اسکی فلائٹ کا ٹائم ہوا توعارض اور زین اسے چھوڑنے جا رہے تھے ۔۔
زیمل سب سے ملی سب نے ۔۔اسے ۔۔۔۔ بامراد لوٹنے کی دعا دی وہ گھبرائ ہوئے بھی تھی پہلے اسے لگا شاید زین ۔۔ ساتھ جائے گا مگر وہ اکیلی جا رہی تھی پہلی بار ۔۔اسنے تو کبھی شہر سے باہر قدم نہیں رکھا تھا ۔۔۔
وہ ڈر رہی تھی مگر اب جنون سوار تھا اس تک پہنچ جانے کا وہ ۔۔
وہ مدیھا کے کمرے میں آئ ۔۔
مدیھا ۔۔۔ وضو کر رہیں تھیں
زیمل انکی جانب دیکھنے لگی ۔۔
جا رہی ہو” مدیھا نے اس سے پوچھا ۔۔۔۔
اسنے سر ہلایا ۔۔
مدیھا کی آنکھیں بھیگ گئیں
میرے بیٹے کو لے آنا ۔۔اس سے کہنا بھلے میں نے اسے جنم نہیں دیا مگر ۔۔۔۔ مجھے سب سے پیارا وہ ہے ۔۔۔ واپس آ جائے وہ ۔۔۔۔ پلیز درخواست ۔۔۔کرنا ” وہ بے بسی سے رو دیں جبکہ
۔۔ کبیر عارض اور زین تڑپ کر ماں تک پہنچے تھے ۔۔۔
مما اب سب ٹھیک ہو جائے گا زین نے انکا چہرہ پکڑا ۔۔۔۔
نہیں زین ۔۔ وہ حساس ہے اپنے اندر ۔۔ کہ جانے کتنی آگ دبائے بیٹھا ہے ۔۔ وہ مجھ سے نہیں ہوا مگر میں نے اسے ان ہاتھوں سے پالا ہے ۔۔۔ وہ ۔۔۔ رشتوں کا بھوکا ہے ۔۔۔۔ وہ ہمارے بنا سال بھر سے ۔۔ کیسے رہا ہے ۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ وہ کتنا تنہا ہو گیا میرا بچہ ۔۔۔ ” وہ مسلسل رو رہیں تھیں ۔۔۔
سب کی ہی آنکھیں نم تھیں ۔۔
اب بھابھی لے آئیں گی مما ۔۔ آپ دیکھیے گا ” عارض نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
اور ہم انتظار کریں گے زیمل جلد لوٹ آئے گی ” کبیر نے کہا ۔۔تو مدیھا نے آگے بڑھ کر زیمل کو پیار کیا وہ خود بھی سہمی سہمی سی ان میں چھپنے لگی تھی ۔۔۔۔
کچھ دیر وہاں رک کر ۔۔وہ مرتضی کے پاس آئی جو بستر پر لیٹے ہوئے تھے
نظریں سپاٹ تھیں ۔۔۔
زیمل ان کے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔
بابا جا رہی ہوں میں” مرتضی جب کچھ نہیں بولے تو زیمل خود سے بولی ۔۔
زین البتہ اندر نہیں آیا تھا باقی سب تھے ۔۔۔
وہ نہیں آئے گا ” مرتضی نے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔۔
سب چپ رہ گئے ۔۔۔۔۔
دھیان رکھنا اپنا ” اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر وہ اٹھ کر۔۔واشروم میں چلے گئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاز میں بیٹھ کر آج ۔۔۔ دل کانپ رہا تھا وہ تنہا ۔۔۔ تھی ۔۔۔۔ جیسے ہی جہاز اڑا اسنے سیٹ کو کس کے پکڑ لیا ۔۔۔
ڈر سے دل کانپ رہا تھا ۔۔۔
زین نے اسے سب سمجھایا تھا عارض نے بھی تسلی دی تھی ۔۔۔ کہ فیروز کو ای میل کر دی ہے
اسنے زور سے سیٹ پکڑ لی ۔۔
ساتھ بیٹھی لڑکی نے مسکرا کر دیکھا
پہلی بار بیٹھیں ہیں آپ جہاز میں” وہ پوچھنے لگی
زیمل آیت الکرسی پڑھتی زور سے سر ہلا گئ ۔۔۔
ریلکس ہو جائیں ۔۔۔ جہازفلائے کر چکا ہے “
لڑکی نے کہا اور ہاتھ تھپتھپایا ۔۔۔
زیمل شرمندہ سی ہو گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جہاز لندن ائیر پورٹ پر اترا ۔۔۔ زیمل نے جلدی سے فون نکال کر ۔۔۔ زین کو کال ملا لی وہ اسے گائیڈ کر رہا تھا وہ نروس سی ہوتی سب کرتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اور اچانک اسے ۔۔ بھاگ کر ائیر پورٹ میں داخل ہوتا فیروز نظر آیا ۔۔۔
زیمل کی تو جیسے مشکل آسان ہو گئ
آپ یہاں کیوں آئ ہیں ” وہ زرا غصے سے میں لگا ۔۔۔
زیمل چپ سی رہ گئ ۔۔۔۔
فیروز نے ۔۔۔۔ اسکے ہاتھ سے غصےسے سامان لیا
میں آپکو بس وہاں تک پہنچاؤ گا ۔۔جہاں سر ہیں ۔۔اسکے بعد میں آپکو نہیں جانتا ” وہ سرد مہری سے بولا
زیمل کی آنکھیں نہیں اٹھ رہیں تھیں وہ بھی ۔۔۔ اس سے خفا تھا ۔۔۔
صاف واضح تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
