Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 34

مرتضی اور مدیھا گھر واپس لوٹے تو ۔۔۔ دونوں کے چہروں پر مسکان تھی ۔۔ درحقیقت مرتضی اپنے دوستوں سے مل کر بہتر محسوس کر رہے تھے طبعیت بھی اچھی ہو گئ تھی اور یہ ہی بات مدیھا کو پرسکون کر رہی تھی ۔۔۔ وہ دونوں اندر روم میں آ گئے ۔۔ تو پورے گھر میں خاموشی تھی
رات کے دو بج رہے تھے افکورس سب نے اپنے کمروں میں ہی ہونا تھا ۔۔۔ مرتضی فریش ہو کر بیڈ پر لیٹے اور مدیھا کیطرف دیکھا۔۔۔
بس مجھے چائے دے دیں آپ “وہ کچھ کچھ تھکے تھکے لگے “
اس وقت چائے لیں گے نیند کیسے آئے گی”مدیھا بولی وہ خود بھی فریش ہو چکی تھیں ۔۔۔
نہیں چائے لے لوں گا تو سکون سے نیند آئے گی”انھوں نے ضد کی تو مدیھا مسکرا کر باہر نکل گئ ۔۔
مرتضی کے دماغ میں ایک بار پھر سے سمیر اتر آیا۔۔تو چہرے کے تاثرات بدل گئے ۔۔
وہ انھیں ٹیزکر رہا تھا ور وہ اپنی خاطر بلکل بھی ۔۔۔پریشے کی زندگی کو مشکل میں نہیں ڈال سکتے تھے انھیں اندازا ہو گیا تھا آج تک کبیر سمیر سے چیڑتا کیوں رہا ۔۔۔۔
اچانک انھیں اسکی پرسوں کی بات یاد آئ جس میں اسنے فون پر انکا ۔۔۔۔ ایک پلاٹ تھا ڈیفینس میں ۔۔۔ جو سالار اور کبیر کو کافی پسند تھا ۔۔۔۔
اور ان دونوں کو ہی انھوں نے تحفہ لے کر دیا تھا ۔۔۔
مگر خود سے الگ وہ کسی کو نہیں ہونے دیتے تھے تبھی سارے بھائ بھی آج انکے ساتھ تھے ۔۔۔۔
وہ پلاٹ سمیر نے ۔۔۔ مانگا تھا ۔۔۔ کہ وہ پریشے کے لیے اس پلاٹ پر گھر بنوانا چاہتا ہے ۔۔۔
وہ پلاٹ انھیں اپنے بچوں سے زیادہ قیمتی نہیں تھا مگر پھر بھی ۔۔۔۔اس پلاٹ کو اسکے حوالے کرتے سوچنا انھیں بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا دماغ میں صرف اتنا تھا کہ ہو سکتا ہے وہ اپنا منہ بند رکھے۔۔۔ پیسہ ملتے رہنے سے تبھی وہ اٹھے اور جلدی سے الماری کھول کر کبرڈ چیک کی ۔۔۔ سیو میں تالا لگا تھا ۔۔۔
وہ جانتے تھے مدیھا چابیاں کہاں رکھتی ہے ۔۔تبھی انھوں نے وہ چابی نکال کر ۔۔ دراز کھول لیا وہاں کئ ضروری پیپرز تھے اور وہ کبھی خود سے ان چیزوں کو چھوتے نہیں تھے بس مدیھا کو کہہ دیتے وہ سب کچھ جو وہ چاہتے تھے نکال کر دے دیتی ۔۔
انھوں نے وہاں پڑے کاغزات کو باہر نکال لیا اور چیک کرنے لگے ۔۔ اس پلاٹ کے پیپرز پر نظر پڑی ۔۔ تو انھوں نے ۔۔۔ وہ پیپرز اندر رکھنا چاہے بنا دیکھے تو ۔۔ ان میں سے کچھ پیپرز نیچے گیر گئے ۔
مرتضی نے جھک کر۔۔ وہ نیچے گیرے پیپرز اٹھانے چاہے تو۔۔۔ زمین پر ہوسپیٹل کے پیپرز بکھرے دیکھ انکے ماتھے پر اچانک بل ڈلے اور انھیں وہ دن یاد آیا جب آج سے پہلے بھی یہ پیپرزانکی نظروں کے سامنے آئے تھے ۔۔۔
پیپرز پر آیت کا نام لکھا تھا وہ تعجب سے ان پیپرز کو اکٹھا کر کے ۔۔۔۔ رپورٹس دیکھنے لگے جو پوزیٹیو تھیں ۔۔
بنا ڈیٹ دیکھے وہ اس سوچ میں آ گئے کہ ۔۔عارض نے
یہ پیپرز اپنے کمرے میں کیوں نہیں رکھے وہ سر جھٹک کر دوبارہ پیپرز اندر رکھتے کہ نظر ڈیٹ پر چلی گئ ۔۔۔۔
اور انھیں لگا انکے قدموں تلے زمین کھسک گئ ہو ۔۔۔۔
وہ ڈیٹ آیت اور عارض کی شادی سے ۔۔ تین ماہ پہلے کی تھی ۔۔ انھوں نے اپنے ہاتھ میں موجود فائلز کو تو۔۔ وہیں چھوڑ دیا ۔۔۔ فائلز زمین پر جا گیری ۔۔ پیپرز ار کر ادھر ادھر بکھر گئے جبکہ وہ ۔۔ دو پیپرز کو ہاتھ میں رکھے ۔۔۔ توجہ سے ان کو پڑھ رہے تھے جس میں آیت کے ماں بننے کی خبر تھی اور یہ خبر شادی سے پہلے کی تھی ۔۔۔۔۔
انکے لیے یہ شاکڈ تھا اتنا بڑا کے ۔۔۔ وہ بیڈ پر بیٹھتے چلے گئے ۔۔
مدیھا یہ سب جانتی تھی اور انھیں کچھ نہیں بتایا ۔۔یعنی انکے بیٹے نے کسی لڑکی کی عزت برباد کر دی ۔۔۔تھی اور اسکے بعد سکون سے اس سے شادی کر لی کہ اسکا یہ گناہ چھپ جائے ۔۔۔
یعنی عارض نے آیت سے اس لیے شادی کی ۔۔۔۔۔ تھی ۔۔۔۔
دھچکے انکے زہن پر مسلسل لگ رہے تھے اور اس کھیل میں انکی بیوی شامل تھی وہ جانتی تھی عارض کی اس حرکت کو۔۔
انکا گلا سوکھنے لگا۔۔ مدیھا چائے کی ٹرے لے کر اندر داخل ہوئ مگر مرتضی کو سٹل بیٹھے دیکھ ۔۔۔۔ وہ کچھ سمھجہ نہیں سکیں نہ ہی نیند کے باعث انکی توجہ ان پیپرز پر گئ جس کو مرتضی بیٹھے گھور رہے تھے ۔۔۔۔۔
انھوں نے چائے کا کپ سائیڈ پر رکھا ۔۔اور انکے پاس آئیں تو نظر پیپرز پر گئ اور انکے قدم مرتضی سےتین قدموں کے فاصلے پر ہی رک گئے ۔۔
انکو اپنے وجود میں واضح لرزش محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
مرتضی نے سر اٹھا کر مدیھا کیطرف دیکھا آنکھوں میں بے یقینی تھی جن کا سر جھک گیا تھا ۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے اٹھے اور کمرے سے باہر نکل گے قدموں میں تیزی تھی ۔۔
مدیھا کی جان سوکھنے لگی ۔۔انھونی کا احساس جاگا ۔۔۔ کیا ہونے والا تھا وہ انکے پیچھے بھاگیں ۔۔
مرتضی بات سنیں اب اس بات کا کوئ فایدہ نہیں وہ دونوں شادی شدہ ہیں ” مدیھا نے انھیں احساس دلانا چاہا جبکہ وہ مدیھا سے مخاطب نہیں ہوئے ۔۔
سیڑھیاں چڑھ کر وہ دوسری منزل پر عارض کے روم کے باہر آ گئے ۔۔
مرتضی پلیز بات سنیں اس بات کو یہیں ختم کر دیں آیت کی عزت کا سوال ہے ” مدیھا انکا ہاتھ پکڑنے لگی جبکہ ۔۔۔
انھوں نے مدیھا کا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔
عارض ” وہ دروازہ بجاتے دھاڑے۔۔۔۔۔۔
انکی آواز کی للکار سے ۔۔ مدیھا کو خوف محسوس ہونے لگا ۔۔ وہ جلدی سے نیچے بھاگی تھی ۔۔۔۔۔
کبیر کے کمرے کیطرف ۔۔۔
نہیں انھیں سالار کے پاس جانا چاہیے تھا پہلے ۔۔۔۔۔۔ کیونکہ وہ انھیں ہینڈل کر سکتا تھا
وہ اوپر جاتی یہ نیچے وہ ۔۔ اوپر بھاگی ۔۔۔۔
تو سالار اپنے پورشن میں نہیں تھا ۔۔۔
وہ وہیں سے نیچے دوڑیں ۔۔ تب تک مرتضی جیسے دوبارہ دروازہ توڑ دینے کا ارادہ رکھتے تھے ۔۔۔۔
عارض”وہ چلائے ۔۔۔۔۔
مدیھا کبیر کے کمرے کیطرف بھاگی ۔۔۔۔
اور اسکا دروازہ پیٹنے لگی ۔۔
ک۔۔۔۔کب۔۔کبیر” بھیگتے خوف زدہ لہجے میں۔۔۔وہ اسے پکارنا چاہ رہی تھیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف عارض ہڑبڑا کر اٹھا اسے بابا کی آواز آ رہی تھی آیت بھی اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔
دونوں نے ایک دوسرے کیطرف دیکھا اور عارض بابا کی آواز پہچان کر جلدی سے اپنی شرٹ پہن کر ۔۔۔ اپنے حلیے کو ٹھیک کرتا دروازے کیطرف بڑھا اور ۔۔۔ آیت نے بھی جلدی سے خود کو سمبھالا تھا جب تک وہ ٹھیک نہیں ہوئ عارض نے دروازہ نہیں کھولا ۔۔۔۔۔
اور جیسے ہی عارض نے دروازہ کھولا ۔۔ مدیھا سوکھے پتے کیطرح کانپنے لگی کیونکہ مرتضی کا تھپڑ عارض کے منہ پر دروازہ کھلتے ہی لگا تھا ور ایسا تھپڑ جس سے۔۔عارض ایکدم پیچھے ہوا تھا ۔۔۔۔ لڑکھڑا کر ۔۔۔۔
اچانک پورے گھر میں دوعورتوں کی چیخ ابھری مدیحا اور آیت کی ۔۔۔
کبیر نے بھی دروازہ کھولا ۔۔۔
مما “
وہ پریشانی سے ماں کو دیکھنے لگا ۔۔
کبیر تمھارے بابا”وہ رونے لگی ۔۔
کیا ہوا ہے بابا کو “وہ جلدی سے باہر نکلا پیچھے نین بھی نکلی ۔۔
مگر باہر کا منظر قدرے مختلف تھا ۔۔۔
عارض اس تھپڑ کو سمھجہ نہیں سکا اسنے بے یقینی سے باپ کیطرف دیکھا جس نے اسکے منہ پر وہ پیپرز مار دیے
۔۔
اسکی نگاہ زمین پر پھیلے پیپرز پر گئ ۔۔۔۔
اتنے گھٹیا ہو تم ” انھوں نے چلاتے ہوئے عارض کا گریبان پکڑ کر باہر پھینکا ۔۔۔
تم نے اپنے گھر میں نقب لگائی ” عارض ایک لفظ نہیں بولا تھا جس کے باعث مرتضی نے اسکو کھینچ کر لات ماری غصے سے انکا چہرہ پھٹنے کو تھا ۔۔۔۔
آیت ایکدم چلائ وہ اسکے آگے آنا چاہتی تھی پیپرز دیکھ چکی تھی خوف سے وہ بھی لرز گئ ۔۔۔
جبکہ کبیر یہ منظر دیکھ کر اوپر بھاگا تھا ۔۔
بابا”وہ آیا اور عارض کو مارتے مرتضی کو اس سے دورکیا۔۔عارض بلکل خاموش تھا ۔۔۔
کیا کر رہے ہیں آپ ” کبیر نے انکو دور کیا ۔۔۔۔
بس چپ” وہ انگلی اٹھا کر آنکھیں نکالتے کبیر کو بولے سرخ آنکھوں میں نمی دیکھ کر کبیر چونک گیا اسکا باپ ایک مظبوط آدمی تھا ۔۔۔۔ وہ جانتا تھا پھر ایسا کیا ہو گیا کہ انکی آنکھیں بھیگ گئیں وہ بے تاب ہو گیا تھا دل میں انکی آنکھوں میں نمی دیکھ کر چبھن سی ہوئ تھی جبکہ مرتضی نے عارض کا گریبان پکڑا اور اسے زمین سے اٹھایا ۔۔۔
ایسی تو تربیت نہیں کی کبھی تمھاری ” عارض کا منہ جکڑ کر وہ بولا ۔۔ انکے تھڑوں سے عارض کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔
وہ انکی آنکھوں میں نہیں دیکھ رہا ۔۔ تھا ۔۔
جواب دو ” وہ چلائے ۔۔۔۔
جبکہ کبیر سے مزید کچھ برداشت نہیں ہو رہا تھا
کیا مجھے بتائیں گے ہوا کیا ہے” وہ ان دونوں کو الگ کرتا بولا ۔۔۔
تمھاری بہن شادی سے پہلے ہی ماں بننے والی تھی اس نیچ کے بچے کی “مرتضی غرائے ۔۔۔
نین نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔ حیرت شاکڈ سے ۔۔ جبکہ ۔۔آیت کو لگا وہ زمین میں گڑ جائے گی ۔۔
اور اس گھٹیا کھیل میں یہ عورت بھی شامل تھی” وہ مدیھا کو دیکھ کر ۔۔۔غصے سے
پھٹنے کو تھے ۔۔ جبکہ مدیھا خود کچھ بولنے قابل نہیں رہی تھی ایسا لگ رہا تھا ساری دلیلیں ختم ہو گئ ہیں ۔۔۔
کبیر حیرت بھری نظروں سے عارض کو دیکھنے لگا جس کی نظر ایک پل کے لیے بھی اوپر نہیں ہوئ تھی ۔۔۔
مرتضی نفی میں سر ہلاتے وہاں سے نیچے اترنے لگے ۔۔۔
جبکہ اچانک عارض کی آواز گونجی ۔۔۔
میں آیت کو پسند نہیں کرتا ۔۔۔اور نہ ہی اسکے ساتھ کبھی رہنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ اور نہ ہی اب رہنا چاہتا ہوں ۔۔ بہت اچھا ہو گیا ۔۔ جو یہ بات کھل گئی ۔۔۔ اتنے عرصے سے بس انھیں پلوں کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
میں پاکستان سے باہر جانا چاہتا ہوں ۔۔اور جب یہ گھڑی آ گئ ہے ۔۔۔ تو آپ لوگوں کو بتا دوں ۔۔۔کل رات کی میری فلائیٹ ہے اگر یہ بات نہ بھی کھلتی تو میں یہاں سے چپ چاپ نکل جاتا ۔۔۔۔
لیکن جبکہ سب پر بات کھل گئی ہے ۔۔تو میرا فیصلہ بھی سنتے جائیں ۔۔۔۔۔
ہو سکے تو آخری بار دیکھ لیں مجھے”مرتضی کیطرف سرخ نظروں سے دیکھتا وہ بولا ۔۔۔
مرتضی کی آنکھوں میں ۔۔ جنونیت نظر آ رہی تھی جیسے ابھی وہ ابل کر باہر نکل آئیں گی ۔۔۔
عارض انکی نظروں میں دیکھ کر جان ہی نہیں سکا کہ یہ بات انپر کس طرح اثر انداز ہوئ ہے ۔۔۔
جبکہ یہ بات بولتے ہوئے تو اسے یہ بھی نہیں پتہ چلا کہ وہ جو اسپر دل وجان ہاری بیٹھی ہے ۔۔۔۔ اسکی کیا حالت ہو گی ۔۔۔
سب کو گویا سانپ سونگھ گیا ۔۔۔
کوئ ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکال سکا تھا۔۔۔۔
عارض مرتضی کیطرف دیکھتا رہا جیسے جی بھر کر آج ہی دیکھ لینا چاہتا ہو۔۔۔۔۔۔۔
مرتضی چپ کھڑے تھی۔۔۔ ایکدم شورتھم گیا تھا۔۔۔۔۔
عارض نے قدم پیچھے لیے ۔۔۔۔
نہ جانے کسی نے دیکھے تھے یہ نہیں ۔۔۔۔۔۔ یہ جو مرتضی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے وہ سچ تھا
۔۔۔عارض کمرے میں گیا ۔۔
دروازے میں زمین پر ڈھیر ہوئ آیت کو اسنے دیکھا۔۔
قدم اسکے ہاتھوں کے پاس رک گئے ۔۔۔۔
اتنی گھیری خاموشی تھی ۔۔۔۔۔ کہ صرف دل کی مدھم مدھم پڑتی دھک دھک کی آواز رہ گئ تھی ۔۔۔۔
عارض نے حلق میں جیسے اپنا ہی خون اتارا تھا اور اندر چلا گیا ۔۔۔۔ دماغ کی رگیں پھولیں ہوئیں تھیں ۔۔
نظر اس بستر پر گئ جہاں اب سے کچھ دیر پہلے وہ اسکی بانہوں میں قید تھی ۔۔اسنے ہر سوچ کو پس پشت ڈالا اور وہاں سے نکلا ۔۔۔۔
بیگ اور اسکا سامان سب پیک ہی تو تھا
۔۔۔ بس وہ سب لوگ کچھ نہیں جانتے تھے ۔۔۔
عارض باپ کے پاس سے گزر گیا جو سیڑھیوں میں کھڑا تھا
۔۔۔۔
سب اسکیطرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔ جو رفتہ رفتہ ۔۔۔ وہاں سے نکلتا جا رہا تھا ۔۔۔۔
اچانک آیت اٹھی اسنے اپنے سوکھے گلے کو تر کیا اور اپنی طبعیت کا لحاظ کیے بنا وہ عارض کے پیچھے بھاگی تھی ۔۔
عارض “اسکی پکار پر ۔۔۔ شاید وہاں کھڑے سب لوگ کا دل پھٹ جاتا ۔۔وہ رکا نہیں ۔۔
کبیر نے ۔۔ دو لمہوں میں اسکا ہاتھ جکڑ لیا تھا ۔۔اسے آگے جانے نہیں دیا ۔۔
عارض میں آپکے بنا کیسے رہوں گی ۔۔۔
عارض
۔۔۔میں تایا ابو کو منا لوں ۔۔۔گی ۔۔۔۔ عارض رک جائیں ۔۔۔۔ میرے ساتھ اتنا بڑا ظلم نہ کریں عارض ” اسکی چیخوں سے ۔۔۔۔ نین کی ہچکیاں بندھ گئیں
۔۔ عارض وہاں سے نکل گیا تھا ۔
جبکہ ۔۔۔۔ مدیھا ۔۔۔۔ ایکدم زمین بوس ہوئیں
۔۔وہ بے ہوش ہو گئیں تھیں ۔۔
کبیر ماں کو دیکھتا یہ بہن کو ۔۔۔
شدت طلب سے سالار کے پورشن کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے ایک بوٹ ریڈی کرائ تھی جس میں اسکا زیمل کے ساتھ ڈنر کرنے کا پلین تھا وائٹ بوٹ پر ریڈ روزیز اور رات میں چلتی دلکش تیز ہوا ۔۔۔ پانی کا شور ۔۔۔۔ اور بس سالار اور زیمل
۔
زیمل نے آج سے پہلے ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
پورا چاند انکی کشتی پر جیسے کھل آیا تھا ۔۔وہ تو ٹھر کر چاند کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
سالار نے مسکرا کرا سکیطرف دیکھا ۔۔
مگر کیا مسلہ تھا بار بار اسکا دل موڑ کر گھر کیطرف کریں جا رہا تھا ۔۔
یہاں آنے سے پہلے تو ایسا کچھ نہیں ہو رہا تھا ۔۔
وہ خوش تھا
۔۔ زیمل کے لیے یہ سب کر کے
ایکطرح وہ اپنی لاپرواہی پر لی جانے والی غلطی کی تلافی کر رہا تھا اور وہ ۔۔۔۔ بھی جیسے سب بھول کر اس ماحول میں مگن ہو گئ تھی ۔۔
وہ ایک حسین رات
۔۔
جس میں اس سے باتیں کر کے وہ اسکے ساتھ گزارنا چاہتا تھا ۔۔۔ مگر
۔۔ کیوں اسکا دل اس ماحول میں خود کو اڈجیسٹ نہیں کر رہا رہا تھا دو ایک بار اسنے کوشش کی وہ فاصلے پر کھڑی زیمل کے پاس جائے ۔۔۔ اسکا ہاتھ تھامے ۔۔۔ مگر نہ وہ ایسا کر سکا ۔۔۔ اور نہ ہی اسکا دماغ گھر پر سے ہٹ رہا تھا ۔۔
دل میں عجیب دھڑکا سا لگ رہا تھا ۔۔۔
وہ بلآخر زیمل کے پاس آ گیا ۔۔
وہ تیز ہوا میں سر پر گاؤن کی ہالف شال رکھے ۔۔۔ اڑتے بالوں کی لٹوں سے بے پرواہ ۔۔۔مسکرا کر۔۔۔۔ چاند کو دیکھ رہی تھی
۔
تمھیں ڈر نہیں لگا ۔۔ میرے ساتھ آنے پر ” سالار کا سنجیدگی میں لیپٹا سوال سن کر زیمل نے چونک کر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
نہیں” بس ایک لفظ میں بات ختم کر دی ۔۔۔۔
کیوں “سالار نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔
معلوم نہیں ” وہ بس اتنا ہی کہہ سکی ۔۔۔۔۔
مجھے ڈر لگ رہا ہے ” سالار کے منہ سے نکلنے والے لفظوں پر زیمل نے چونک کر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں عجیب سی بات تھی جتنی بار وہ اس آدمی سے ملی تھی اسنے اسے نڈر بے خوف پایا تھا ۔۔۔ یعنی جو وہ کر رہا ہو ۔۔۔وہ سب سنبھالنے کی طاقت رکھتا ہو
کیسا خوف ” زیمل خود نہیں جانتی تھی وہ اس سے اتنا نارمل کیسے بات کر رہی ہے ۔۔اور اسکے پریشان ہونے پر سالار کے ہاتھ پر اسکی پکڑ اپنے آپ مظبوط ہو گئ ۔۔۔
گھر چلیں ” سالار نے اسکیطرف دیکھا ۔۔
اسنے بنا کسی ترد کے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔۔۔۔
سالار نے بھی سر ہلایا اسکے گال پر ہاتھ رکھا ۔۔اور بوٹ کو دوبارہ موڑ لی ۔۔ یہ ایک چھوٹی سی جھیل تھی جو بہت خوبصورت تھی ۔۔زیمل اسکے پاس ہی کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔
سالار چپ تھا ۔۔۔۔ وہ نہیں جانتی تھی کیا ہوا ہے ۔۔۔۔
سالار اور وہ بوٹ سے نکلے تو سالار کا فون بجنے لگا ۔۔۔۔
اسنے زیمل کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا ۔۔دونوں گاڑی میں سوار ہونے والے تھے ۔۔
کہاں ہیں بھیا ” زین کی روتی آواز پر ۔۔۔۔ اسکا دل جو پہلے سے بیٹھا جا رہا تھا ۔۔۔ایکدم ڈوبا ۔۔
تم ٹھیک ہو رو کیوں رہے ہو “سالار بے چینی سے پوچھنے لگا ۔۔اسکے لیے تو وہ اپنی جان بھی دے دیتا اسکی آنکھ میں ایک بھی آنسو کہاں برداشت تھا ۔۔۔
بھیا مما گیر گئیں ہیں ۔۔۔۔پلیز آپ ہاسپٹل پہنچیں ” زین نے بس اتنا کہا ۔۔۔۔
سب خیریت ہے”زیمل نے پہلی بار اسکے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
معلوم نہیں کہہ رہا ہے مما کو چوٹ لگ گئ ہے” وہ بے حد کتگفکر تھا ۔۔ زیمل نے اسکی حالت ایسی پہلے نہیں دیکھی تھی ۔۔۔
یہ تو اسے غصہ آتا تھا ۔۔ یہ بس وہ اپنے رشتوں کے لیے جزباتی ہو جاتا تھا ۔۔۔۔
اسنے یہ دو جزبے اس میں بے حد پائے تھے ۔۔
زیمل نے درود پڑھنا شروع کر دیا ۔۔ دل میں ۔۔ وہ اسکی پریشانی دیکھ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔
دونوں گھر بیس منٹ میں پہنچے تھے ۔۔
زیمل جھجھک رہی تھی ۔۔ مگر سالار کو پرواہ نہیں تھی ۔۔۔
اسنے ۔۔۔ زیمل کاا ہاتھ پکڑا اور دوڑتا ہوا گھر کے اندر داخل وہا ۔۔ وہاں سب گھر والے موجود تھے ۔۔۔ زیمل نے جلدی سے اس سے ہاتھ آزاد کرا لیا وہ اسی ڈر میں تھی کہ سب کیا سوچیں گے جبکہ ۔۔ باقی سب ۔۔۔۔ تو بلکتی آیت کیطرف متوجہ تھی ۔۔ہاں البتہ افشین نے نفرت سے اسکیطرف دیکھا تھا جس سے وہ نظریں چرا گئ ۔۔۔
وہ خود بھی پریشان سی سالار کے پیچھے ہوئ تھی ۔۔۔
کیا ہوا ہے” سالار آیت کے نزدیک پہنچا ۔۔
بھیو بھیو عارض ۔۔۔عارض کو لے آئیں میں کسیے رہوں گی انکے بنا میرے پاس تو کوئ نہیں ہے انکے سوا بھیا انھیں لے آئیں ۔۔ان سے کہیں میں انکی بچی نہیں سمبھال سکتی اکیلے انھیں لےا ئیں ۔۔۔ ” وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی سالار کے سینےسے لگ گئ ۔۔۔
جبکہ نین پریشے عمل ۔۔۔ بھی مسلسل رو رہیں تھیں ۔۔ سالار نے آیت کو ۔۔ پکڑا ہو اتھا ۔۔۔۔
اسنے نین کیطرف دیکھا ۔۔ شہاب چاچو کیطرف دیکھا ۔۔جو کہ صوفیہ کو کچھ بنانے کا کہہ رہے تھے ۔۔۔۔
ہوا کیا ہے” بلاخرا سکا ضبط جواب دے گیا ۔۔۔
مگر آیت کی وہی رٹ تھی جبکہ سب منہ پر قفل لگائے ہوئے تھے ۔۔
بھاگ گیا تمھارا بھائ اس معصوم بچی کو چھوڑ کر جس کے ساتھ تو کبھی کسی نے اچھا نہیں کیا ۔۔ نہ باپ ساتھ رہا اور اب تو شوہر بھی چلا گیا ” افشین نے ہی جواب دیا ۔۔۔ سالار کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں ۔۔۔
جبکہ آیت بے ہوش ہو گئ یہ الفاظ اسکا دل چیر نے کے لیے کافی تھے ۔۔
آیت ” سالار نے اسکے گال تھپتھپائے ۔جبک زیمل پلٹ کر ۔۔ کچن کیطرف بھاگی وہ اب بھی گاؤں میں ہی تھی ۔۔۔
آیت”نین پریشے عمل تنزیلہ سب آیت کے گرد تھیں جبکہ زیمل جو پانی کا گلاس لائ تھی ۔۔ وہ بھی۔۔۔۔
وہ پیچھے ہٹا کچھ اسکی کنڈیشن کی وجہ سے بھی
اسے محسوس ہوا بابا کمرے میں ہیں کیونکہ چاچو وغیرہ باہر تو کوئ نہیں تھا ۔۔وہ جلدی سے روم میں داخل ہوا تو بابا خاموش بیٹھے تھے ۔۔۔
بابا” وہ انکے نزدیک آیا ۔۔۔۔
میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں ” انھوں نے سب سے کہا جبکہ سالار سے بولے بھی نہیں ساری بھائ اٹھ کر باہر چلے گئے جبکہ اسنے کون سا اٹھ کر جانا تھا ۔۔
اپنی ماں کے پاس جاؤ پہلے اسے ضرورت ہے تمھاری”مرتضی مظبوط لہجے میں بولے ۔۔۔
مما کو کیا ہوا ہے ” سالار پوچھنے لگا ۔۔۔
وہیں جا کر دیکھ لینا وہ اٹھ کر سٹڈی میں چلے گئے ۔۔
جبکہ سالار گھن چکر بن گیا تھا کوئ اسے کچھ بتانے کے لیے تیار نہیں تھا ۔۔اسنے باہر کیطرف قدم اٹھائے اب اسے کبیر ہی کچھ نہ کچھ بتا سکتا تھا ۔۔تبھی وہ گاڑی لے کر زین کو نمبر ملاتا ہوسپیٹل کی جانب بڑھا تھا ۔۔۔ جبکہ آیت کی پھر سے چیخیں اور رونے کی آوازیں سن کر وہ اگنور کر کے آگے بڑھا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہوسپیٹل کے کوریڈور میں بھاگتا ہوا داخل ہوا ۔۔ بلیک شرٹ جس کے اوپری بٹن کھولے تھے جبکہ ۔۔ کف چڑھے ہوئے تھے بلیک ہی پینٹ اور بوٹ میں وہ ایکدم وہ سب کی توجہ کھینچ گیا ۔۔۔۔
افکورس وہ ایک ایکٹر موڈل تھا ۔۔۔۔ مگر اس سے پہلے لوگ اسکیطرف بڑھتے اسکے پی آئے اور گارڈز نے اسے پروٹیکشن دی تھی ۔۔
اور وہ کبیر اور زین کیطرف بڑھا ۔۔۔۔
دونوں چپ کھڑے تھے اسکی سانسیں پھول رہیں تھیں۔۔۔
کہاں ہیں مما ” وہ پھلتے سانسوں میں پریشانی سے پوچھنے لگا ۔۔
سٹیچیز لگ رہے ہیں ۔۔سر پھٹ گیا ہے انکا “کبیر نے بتایا جبکہ اس نے اندر جانا چاہا ۔۔۔
رہنے دو ۔۔۔ ” کبیر نے روک لیا ۔۔۔
ہوا کیا ہے یہ سب ” سالار کی شکل بتا رہی تھی کہ اب اگر اسے نئ پھیلی ملی تو وہ پھٹ مڑے گا ۔۔۔
آیت پریگنینٹ تھی ۔۔۔۔ شادی سے پہلے سے ” کبیر نے سب سے بڑی خبر دی تھی ۔۔۔ سانسیں پھولنی بند ہو گئیں تھیں ایکدم ہی ۔۔۔۔
عارض کے بچے کی ماں وہ شادی سے پہلے ہی بننے والی تھی اور اس بات کا علم مما کو بھی تھا اور بابا کو آج پتہ چلا رپورٹس دیکھ کر ۔۔ بابا نے عارض پر ہاتھ اٹھا دیا ۔۔اور کافی مارا ہے اسکو ۔۔۔۔ اور عارض نے کہا کہ وہ آیت سے ۔۔ صرف شادی کا ڈھنگ کر رہا تھا وہ آیت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتا نہ وہ آیت کو پسند کرتا ۔۔۔۔ وہ یہ ملک چھوڑ کر جانا چاہتا ہے اور کل رات کی اسکی فلائیٹ ہے ۔۔۔۔ اچھا ہوا اسکے بقول کے یہ بات کھل گئی ۔۔۔۔
اور وہ روتی ہوئی آیت کو چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔
جبکہ مما ایکدم گیریں تو ٹیبل سے سر ٹکرا گیا ” ایک سانسیں کبیر اسے سب کچھ بتا گیا ۔۔
ایک کے بعد ایک شوکڈ لگ رہا تھا ۔۔اسے ۔۔۔ وہ حیرانگی سے کبیر کو دیکھ رہا تھا ۔۔
دماغ ٹھیک ہے یہ کیا فلم ہے ” وہ ایکدم ہائیپر ہوا ۔۔۔
یہ ہی حقیقت ہے “کبیر نے کہا ۔۔۔ تبھی ڈاکٹر نے آ کر بتایا کہ سٹیچیز لگ گئے ہیں وہ تینوں بے تابیاں سے اندر بڑھے ۔
مدیھا ان تینوں کو دیکھنے لگیں ۔۔۔۔
اور اچانک وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیں ” چہرے پر ہاتھ رکھے وہ بری طرح سسک رہیں تھیں ۔۔۔
عارض نے بہت تکلیف دے دی سب کو ۔۔” وہ سسکنے لگیں ۔۔۔
زین نے مدیھا کو پیار کیا اور انھیں اپنے ساتھ لگا لیا ۔۔ کبیر اور سالار یوں ہی کھڑے تھے ۔۔۔
ناراض ہو نہ تم دونوں بھی مجھ سے ” مدیھا انکیطرف دیکھنے لگی جبکہ زین کی شرٹ کو سختی سے جکڑ رکھا تھا ۔۔
سب سے پہلے وہاں سے کبیر نکلا تھا ۔۔اور اسکے پیچھے سالار بھی نکل گیا ۔۔۔۔
پیچھے مدیھا مزید شدت سے رو دیں کہ زین نے انھیں سختی سے سینے میں جکڑ لیا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں باہر نکل کر ایک دوسرے سے بھی نہیں بولے تھے نہ جانے یہ بات ایسی تھی کہ کوئ کچھ بولنے قابل نہیں رہا تھا ۔۔۔
دونوں الگ الگ گاڑیوں میں سوار ہو گئے۔۔۔ جبکہ کبیر تو وہاں سے نکل گیا سالار البتہ زین کا ویٹ کر رہا تھا کہ مما کو گھر لے کر جانا ۔۔۔۔زین مدیھا کو لے کر آیا ۔۔ تو مدیھا گاڑی میں بھی سارے راستے روتی رہیں زین انھیں چپ کرا رہا تھا ۔۔
پوچھو زین اس سے یہ کیوں چپ ہے ۔۔۔ مت کرو میرے ساتھ ایسا میں صرف آیت کی عزت کی وجہ سے کسی کو نہیں بتا سکتی “مدیھا نے اپنا مدہ بیان کیا مگر سالار پھر بھی کچھ نہیں بولا تھا یہاں تک کے گھر پہنچ گئے ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار آتے ساتھ اپنے پورشن میں چلا گیا تھا ۔۔۔ جبکہ کبیر اپنے روم میں ۔۔ مدیھا کو زین انکے کمرے میں لے جانے لگا کہ ۔۔ دروازہ کوک دیکھ کر ۔۔ مدیھا شرمندہ سی رہ گئ ۔۔۔
مما آپ میرے روم میں چلیں ۔۔۔۔نین زیمل بھی یہ منظر دیکھ چکیں تھیں ۔۔زیمل اپنا لباس بھی تبدیل کر چکی تھی ۔۔۔۔
نین اور زیمل مدیھا کو زین کے روم میں لے گئے ۔۔۔ وہ تینوں پریشے عمل بھی وہیں تھے جبکہ باقی سب بھی کچھ کچھ دیر بعد ۔۔۔ بیٹھ کر اٹھ گئے ۔۔البتہ آیت کو نیند کی گولیاں دے دیں تھیں کیونکہ اسکی حالت سمبھل ہی نہیں رہی تھی
جاری ہے