Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
ہسپتال کے کاریڈور میں وہ سب پریشان کھڑے تھے سب کے چہروں پر پریشانی تھی جبکہ سالار تو اندر جانے کے لیے بےتاب تھا ۔۔اسکے پاؤں جیسے جل اٹھے تھے کے اسکی اس حرکت کو اسکے باپ نےا تنا دل پر لے لیا ۔۔۔ کہ اسکو کچھ ہو گیا یہ ہو جائے تو وہ ۔۔۔۔ کیسے زندہ رہے گا ۔۔۔۔۔جبکہ سکندرا پنی جگہ شرمندہ کھڑا تھا کیونکہ ۔۔۔ اسکی بیوی کی وجہ سے یہ ہو رہا تھا ۔۔۔
کچھ دیر بعد ڈاکٹر باہر آئے ۔۔۔۔ اور سالار فورا انکی طرف بڑھا کبیر اور زین بھی ۔۔
برخوردار پریشان مت ہو ۔۔وہ ٹھیک ہے ۔۔ بس ۔۔ اسکی ڈائیٹ ٹھیک نہیں ہے ۔۔ تھوڑ ا پریشرائز ہو گیا ہے ۔۔اور نیند میں شور برپا ہونے سے بعض اوقات انسان کا دل پریشر میں آ جاتا ہے جب وہ گھیری نیند میں ہو تو بس وہ ہی ہواہے باقی تمھارے والد بلکل ٹھیک ہیں “وہ مسکرا کر بولے تو ۔۔۔۔
سالار نے سانس بھال کیا ۔۔۔
کیا میں مل سکتا ہوں “وہ بولا ۔۔۔
تم ہی نہیں تم سب مل سکتے ہو ” ڈاکٹر کہہ کر وہاں سے چلا گیا جبکہ وہ سب اندرا۔ گئے ۔۔
مرتضی ہوش میں تھے ان سب کو دیکھ کر مسکرائے جو انکی بات پر اتنا ناراض ہو چکے تھے ان سے ۔۔۔
یہ سب کیا ہے یار ۔۔ اتنا بھی ڈھیلا کون ہوتا ہے ۔۔۔۔ یہ تو وہ بات ہو گئ ۔۔ غبارے میں سے ہوا نکلی تو پھیس ہو گیا غبارہ ” سالاربولتا ہوا ۔۔۔ سٹول کھینچ کر بیٹھ گیا بلکل انکے پاس۔۔۔
تو پیٹنے کے لیے ہی پیدا ہواہے “مرتضی ہنس دیے ۔۔
جبکہ اسنے انکا ہاتھ پکڑ لیا لبوں کی مسکراہٹ سنجیدگی میں بدل گئ ۔۔
آپکو کچھ ہو جاتا میرا کیا ہوتا ۔۔۔
دیکھیں ۔۔اسے ۔۔ وہ سب سے بڑا ہے ۔۔وہ سب کو سمبھال لے گا سوائے میرے ۔۔اور یہ سب سے چھوٹا ہے اسکو میں سمبھال لوں گا ۔۔۔عارض ۔۔۔ کے لئے ہم دونوں مل کر بھی کافی ہیں ۔۔۔ مگر ۔۔ سالار کے لیے ۔۔۔ ان میں سے کوئ بھی نہیں ہے ۔۔۔سالار کو صرف مرتضی صاحب چاہیے۔ ۔۔ ہیں وہ ہی اسکو سمبھال سکتے ہیں سمھجہ رہیں ہیں نہ آپ ۔۔۔ بس آپ میرے ساتھ رہیں گے ۔۔۔۔ کہیں نہیں جائیں گے ” وہ جزباتی لہجے میں بولا جبکہ مرتضی اسکی آنکھوں میں دیکھتے رہے ۔۔ جو کبھی کبھی سنجیدہ ہوتا تھا ۔۔
اور اسکے دل میں اپنی حثیت جان کر ۔۔انکا دل جیسے خوشی سے ۔۔ ایکدم بلکل ٹھیک ہو گیا ۔۔
انھوں نے اسکے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرہ ۔۔۔
شیر ہے میرا بیٹا ۔۔۔” اسکی بڑھی بریڈز کو پیار سے چھوتے وہ بولے ۔۔۔۔
مگر اسکا مطلب بلکل یہ نہیں ہے کہ تم مجھےاپنی بیوی کے لیے پٹا لو گے” انھوں نے زرا گھوری لگائ ۔۔
اف ۔۔۔ میں تو واقعی پٹا رہا تھا یار” وہ قہقہ لگا کر ایکدم اٹھا ۔۔۔۔
جبکہ سب ہنسنے لگے ۔۔۔۔
کبیر ۔۔ مرتضی کے پاس آیا اور اپنے باپ کا ۔۔ ہاتھ چوم لیا ۔۔
آپ بہتر محسوس کر رہے ہیں” اسنے پوچھا تو وہ مسکرا کر سر ہلانے لگے ۔۔۔۔
بس بھوک لگی ہے آدھی رات کو تمھاری ماں کے ہاتھ کا بنا کچھ مل جائے تو اچھا ہو گا ” مرتضی بولے تو ۔۔کبیر مسکرا دیا ۔۔ میں مما کو فون کر کے کہہ دیتا ہوں ۔۔۔۔” اسنے کہا ۔۔
اور سالار نے زین کو دھکا دیا ۔۔
جو ۔۔ باپ کے سینےسے لگ گیا ۔۔
اوہ میرا بیٹا ۔۔” مرتضی ان سب کی محبتوں پر نازاں تھے ہنسنے لگے ۔
یار بابااس طرح تو نہیں ڈراتے ۔۔۔” زین نے خفگی سے کہا ۔۔۔
چلو چلو میرا پتر ٹھیک ہوں میں ” وہ اسکا گال تھپتھپا کر بولے ۔۔۔
میں اس عارض ۔۔۔ کو فون کر کے کہتا ہوں ۔سالہ اور کتنے دن ۔۔ہنی مون مناے گا ” سالار نے پاؤں پٹخا ۔
تمھارے اندر کی تکلیف ختم نہیں ہو گی کبھی خبردار جو اسے تنگ کیا ۔میری بیٹی نے پہلی بار کوئ فرمائش کی تھی انھیں وہیں رہنے دو جب دل کرے گا ا جائیں۔ گے ” مرتضی نے ڈپٹا ۔۔
ٹھیک ہے بابا۔۔ آپ دیکھیے گا میرے بیس بچے بھی ہو جائیں گے میں پھر بھی ہنی مون پر جاو گا اور آپ روک کر تو دیکھاو” وہ انکھیں نکالتا بولا جبکہ سب بیس بچوں پر ہنسنے لگے ۔
میں سچ کہہ رہا ہوں ” وہ ناراضگی سے بولا
آج شادی ہوئ ہے آج بیس بچوں کے سپنے ۔۔ بھائ کوئ لحاظ کریں” زین نے کہا تو اسنے زین کو گھورا
تم تو اپنی شکل گم کرو میں کبھی تمھارا بھیجا پھوڑ دوں”
شیٹ آپ سالار ” مرتضی گھور کر بولے ۔۔
بس مجھے ہی ڈانٹتے رہیں گے ” وہ خفگی کا اظہار کرتا باہر نکلنے لگا ۔
میں تم سے اب بھی ناراض ہو سمھجے” مرتضی نے پیچھے سے کہا ۔
جبکہ سالار سر ہلاتا باہر نکل گیا ۔۔
تم گھر چلو میں لے کر آتا ہوں بابا کو ” کبیر نے کہا تو وہ وہاں سے نکلنے لگے ۔۔
جبکہ فون پر زین اور شاداب چاچو کو آنے کا کہا کیونکہ گاڑی میں جگہ پھر کم رہتی ۔۔ وہ دونوں ا گئے تو ۔۔وہ تینوں پہلےا ور مرتضی سکندر کبیر اور وجاہت ۔۔ وہ چاروبعد میں آئے ۔۔۔ تھے ۔۔گھر آتے ہی سب مرتضی کے گرد جمع ہو گئے ۔۔ جبکہ مرتضی سب کو سمھجاتےرہے کہ وہ ٹھیک ہیں۔۔
افشین بھی شرمندہ سی ا گئ ۔۔
بھائ صاحب معافی چاہتی ہوں میری وجہ سے ۔۔ ہو ایہ سب “
افشین نے کہا ۔جبکہ کبیر سالار اور زین نے بھڑک کر اسکو دیکھا ۔۔۔۔
مرتضی نے نفی کی ۔۔
کچھ نہیں ہوتا ۔ ” انھوں نے کہا ۔
بابااپکو ریسٹ کی ضرورت ہے ” کبیر نے کہا تو مرتضی اٹھے۔
نین کچھ بنادو باباکے لیے”وہ جاتےجاتےبولا تونین ۔۔ کچن میں ا گئ ۔ مما بھی روم میں آ گئیں ۔۔۔
نین نے ہلکا پھلکا سا کھانا بنایا ۔۔اور کمرے میں داخل ہوئ تو وہ تینوں بھائ مرتضی اور مدیھا تھے وہ کچھ گھبرائ اور پھرا گے بڑھ کر انکے آگے کھانا رکھ دیا ۔۔
مرتضی نے چپ چاپ کھانا شروع کیا ۔۔۔
نین جانے کے لیے پر تولنے لگی ۔۔
ایک منٹ بھئ ” سالار کو پھر سے کھلبلی ہوئ ۔۔۔
اب تم نے کوئ نیا شوشہ آدھی رات کو چھوڑا تو اچھا نہیں ہو گا ” مرتضی نے بھڑک کر کہا ۔
میں کیا کرو میرا نام سالار غلط رکھا ہے شوشہ رکھ دینا چاہیے تھا وہ بھی ڈھیٹ رومنٹک شوشہ “
کبیر اس کےلئے ایک خاص چھتر بنوا لو ۔۔۔”مرتضی اپنی ہنسی دباتے بولے ۔۔سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی
کہنا مجھے یہ ہے ۔۔ بھابھی نے فرسٹ ٹائم آپکو کچھ کھلایا ہے جیب ہلکی کریں فورا ” سالار نین کے پاس ا گیا جبکہ نین گھبرا گی ۔۔
نہیں اسکی ضرورت نہیں ۔۔ وہ میرے بھی بابا ہیں ” نین نے کچھ جھجھکتے ہوئے کہا پورے گھر میں مرتضی ہی اس سے سب سے کم بولتے تھے ۔
ہاں تو ۔۔۔” سالار نے شانے آچکائے ۔۔
سالار”کبیر نے ٹوکا ۔۔۔
مدیھا مسکرا دیں ۔۔۔۔ جبکہ زین بھی سالار کے ساتھ مل گیا ۔۔
مجھے پتہ ہے ۔۔۔ ادھر آؤ بیٹا ” مرتضی نےا سکو بلایا انھوں نے محسوس کیا تھا وہ ان سے زرا دور ہی رہتی ہے ۔۔
نین نے کبیر کو دیکھا جس نےا نکھ سے انکے پاس انے کا اشارہ کیا ۔۔
نین انکے پاس آئ اور انھوں نےاسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔
یہ لو ” نیگ اسکے ہاتھ پر رکھا ۔۔
اس کی کیا ضرورت ہے” نین نے کہا ۔۔
بیٹا یہ تو محبت ہوتی ہے ۔۔ رکھ لو اور سوپ اچھا بنا ہے اپنی ساس کو بھی سیکھا دو “وہ شرارتی لہجے میں بولے تو ایکدم سب ہنس دیے ۔۔
بابا کتنا اچھا لگےاگر میری بیوی کو بھی میرے سامن اپ نیگ دیں ” سالار نے ٹھنڈی آہ بھری ۔
بیٹا جی نیگ تو اسے مل جائے گا ۔۔ مگر تم اور تمھارے سامنے ۔۔۔۔ ایساتو کبھی نہیں” مرتضی سوپ پیتےسنجیدگی سے
بولے ۔۔۔
ظالم ہے مما آپکا شوہر” سالار نے ماں کو دیکھا ۔۔۔۔
ڈرامے باز” مرتضی اور سالار بیک وقت بولے
اس بات پر تو میں بھی آپ سے خفا ہوں “مدیھا نے کہا تو سالار نے گھیری سانس بھری ۔۔۔۔
کبیر کو گھور کر دیکھا مجال ہو وہ بے وفا آدمی ایک لفظ بھی منہ سے اسکے حق میں جھاڑ لیتا ۔۔۔
وہ بائے بائے کرتا وہاں سے نکل گیا جبکہ باہر نکلتے ہی کبیر کو گالیوں سے بھرپور ایک میسیج سینڈ کر دیا ۔۔۔
کچھ دیر بعد مرتضی کے آرام کےا حساس سے سب ہی باہر نکل گئے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر کمرے میں داخل ہوا تو نین کمرے میں اس نوٹ کو بیٹھی دیکھ رہی تھی ۔۔
کبیر اسکے پاس آیا تو ۔۔وہ اسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔
خوشی اسکے چہرےسے ایاں تھی ۔
کبیر میں بے حد خوش ہوں ” وہ ہاتھ کوکھول کر بولی جبکہ کبیر نے اپنی ہنسی روکی ۔۔
صرف پانچ ہزار کے نوٹ پر میری بیوی اگر اتنا خوش ہوتی ہے تو دن رات دے دیتا ہوں میں” وہ اسکو اپنی طرف کھینچ کر بولا جبکہ نین نے ۔۔اسکے شانے پر تھپڑ مارا کبیر نے اسکو گھورا جس کا اسنے رتی بھی اثر نہیں لیا ۔۔
میں اس لیے خوش ہوں کہ میرے ماں باپ نہ صیحی آپکے بابا تو مجھ سے راضی ہو گئے ہیں ” ایکدم کہتے ہی اسکی آنکھیں بھیگ سی گئیں
۔۔
کبیر نےا سکے آنسو خود میں چن لیے ۔۔۔ پرحدت لمس سے ۔۔ نین حسب عادت حرکت کر گئ ۔۔۔
اسکے سفید کرتےمیں شکنیں ڈال گئ کبیر نے گھیری سانس بھری ۔۔۔
یاد ہے میں نے تمھیں کہا تھا میرے پاس تمھارے لیے سر پرائز ہے ” کبیر بولا ۔۔۔۔ تو نین نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
اور اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
تم نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں کہ وہ کیا سرپرائز ہے” کبیر نے کہا ۔۔
کیا سرپرائز ہے” نین نے سوال کیا ۔۔
آ آ کچھ لو اور کچھ دو کا اصول ہے میری جان ۔۔۔ اب میں تمھارے پیرنٹس کے بارے میں تمھیں کچھ بتاؤں گا تو اس سے پہلے تمھیں مجھے کچھ دینا ہو گا “کبیر نے اسکے بالوں کو کیچر کی گرفت سے آزاد کیا ۔۔
نین نے اسکی آنکھوں میں دیکھا ۔
آپ کیا جانتے ہیں ایسا ” نین کچھ خوفزدہ بھی تھی ۔۔
میں تمھیں بتاؤ گا تو تمھیں مجھے کچھ دینا پڑے گا ” کبیر نے مسکراہٹ روکی ۔۔۔
آف ہو کیا چاہیےاپکوابھی میرے پاس پانچ ہزار آئیں ہیں اور آپکی نظر بھی بیٹھ گئ انپر” نین اسکی پناہوں سے نکلتی بولی ۔اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔
ویسے یہ چیپ جوک تھا” کبیر بالوں میں ہاتھ پھیرتا اٹھا ۔۔
نین کھلکھلا کر ہنسی ۔۔۔۔
بتا دیں نہ ایسے ہی میں جانتی ہوں آپ مشکل میں ہی ڈالیں گے مجھے” نین نے کہا ۔۔
مائے لو ۔۔ کچھ پانے کے لیے کچھ مشکل تو اٹھانی پڑتی ہے نہ یہ تو اصول ہے” کبیر نے اسکے گال پر جھک کر پیار کیا ۔
اچھا ٹھیک ہے جو آپ کہیں گے میں کروں گی ” وہ پلکیں بار بار جھپکاتی بولی ۔۔۔
جبکہ کبیر کو اسپر ٹوٹ کر پیار آیا ۔۔۔۔
تم جانتی ہو ۔۔ دن بدن تم میرے لیے کتنی ضروری ہو گئ ہو ” وہ اسے اپنے نزدیک کھینچتا بولا ۔۔۔
کتنی” نین نے جاننا چاہا ۔۔۔ اس وقت وہ سب کو بھلائے بس اسکے محبت بھرے لمس کو اپنی گردن سے سرکتا محسوس کر رہی تھی ۔۔
جتنا ۔۔۔۔ پیاسے کے لیے کنواں جتنا محبت لکھنے کے لیے م ” وہ کہتے ساتھ اسکی بھاری سانسوں میں اپنی سانسیں الجھائے ۔۔ بیڈ پر اسکو دھکیلتا چلا گیا ۔۔
تادیر اسکے لمس سے ہلکان ہونے کے بعد وہ اپنی مرضی سے جیسے ہی ہٹا۔۔۔ اس سے پہلے وہ ۔۔ اپنی مدہوشی میں بھکتا نین نے اسکاچہرہ تھام لیا ۔۔
کبیر اسکو مخمار نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
وہ کیسبات ہے کیا سرپرائز ہے” نین نے بے چینی سے پوچھا ۔۔
کل ہم تمھارے پیرنٹس کے ہاں چلیں گے انھوں نے بلایا ہے ” کبیر نے اسکے گال کو نرم پوروں سے چھوا ۔۔۔
نین حیران رہ گئ ۔۔۔۔
وا۔۔واقعی” خوشی سے چہرہ چمک اٹھا ۔۔
کبیر نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔
مگر ک۔۔۔کیسے ” نین نے سب جاننا چاہا جبکہ اسے دوبارہ ۔۔اسکے کام سے ہٹایا تھا کبیر اب کے سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا ۔۔
نین کو غلطی کا احساس ہوا ۔۔
یہ باتیں کل کریں گے” وہ بولا ۔۔اور اسکی گردن میں سے دوپٹہ جدا کیا ۔۔۔۔
جبکہ ہاتھ مار کر لیمپ بھی بھجا دیا ۔۔۔
نین نے حسب عادت اسکا کرتا ۔۔۔ سختی سے جکڑا تھا ۔۔۔
اب تم اپنی خیر مناؤ ” کبیر اسکے کان میں سختی سے بولا۔۔
نین گھبرا اٹھی ۔۔
سوری نہ”
مگر اتنے میں ہی کبیر اسپر حاوی ہو گیا ۔۔۔
اسے اپنی محبت اور چاہت کی بارش میں بھیگوتا دیوانہ کرنے لگا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیمل پریشے کا ہاتھ پکڑے سونے کی کوشش کر رہی تھی ابھی وہ نیند میں جاتی ہی کہ ۔۔اسے احساس ہوا جیسے اسکے نزدیک کوئ موجود ہے ۔۔۔۔ اچانک اس احساس کے تحت اسکی آنکھ کھل گئی ۔۔۔۔
اور اپنے سامنے ہاتھ پر ہاتھ جمائے سینے پر باندھے ۔۔۔ سالار مرتضی کھڑا تھا چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی ۔۔۔
اسکی اس سے پہلے چیخ نکلتی سالار نے اسے گھورا ۔۔۔
کہ زیمل کی چیخ بھی حلق میں رہ گئ جبکہ اسکا ہاتھ جو پریشے کے ہاتھ میں تھا کانپنے لگا اسے یقین نہیں تھا سالار یہاں آئے گا ۔۔۔
پریشے میری بہنا ۔۔۔۔ بس بہت ڈرامہ ہو گیا ۔۔۔
دس منٹ میں اپنی بھابھی کو میرے کمرے میں بھیجو ورنہ وہ سارے پیسے واپس لے لوں گا جو تم نے مجھ سے لیے ہیں” وہ جھڑک کر بولا جبکہ پریشے نے ایک آنکھ کھول کر اسکو دیکھا ۔۔
میں نے بھیو آپ سے کہا تھا ۔۔ آپکا کام کل کروں گی آپ سے تو انتظار ہی نہیں ہوتا ۔۔” پریشے ایکدم اٹھ کر بولی جبکہ زیمل منہ کھولےا ن دونوں کو دیکھ رہی تھی یہ سب کیا تھا ۔۔۔
چونٹی تمھیں نہ میں بتا بھی دوں گا میرے ساتھ بے ایمانی نہیں چلے گی ۔۔ آج کی ہی مکی تھی ہم دنوں میں اور ۔۔اج ہی تمھیں یہ کرنا ہو گا ورنہ کل صبح ہونے سے پہلے تم دنیا سے رخصت ہو جاؤ گی”وہ آنکھیں نکالتا غرایا ۔۔
اچھا بھئ ۔۔ چند پیسے دے کر ہیرو بن رہے ہیں” پریشے منمنائ ۔۔
او میڈیم سلار مرتضی ہیرو ہی ہے ۔۔۔ گوگل کر لینا ۔۔” اسنے ۔۔۔ زرا فخر سے کہا ۔۔۔
مگر آج کی رات تمھاری بھابھی کے لیے ویلن بننے والا ہے ” وہ بنا شرم کے زیمل کیطرف جھک کر مدھم آواز میں بولا گویا پریشے تو سمھجنے کی کوشش میں اپنی سماعتوں کو کھنگالتی رہ گئ ۔۔
زیمل جو حونک تھی ایکدم دل تھام گئ ۔۔
میں جا رہا ہوں ۔۔ اور ہاں دس منٹ” اسنے پھر سے یاد دلایا ۔۔
ٹھیک ہے بھیو ” پریشے نے وکڑی کا سائین بنایا ۔۔
جبکہ سالار وہاں سے چلا گیا
زیمل نے پریشے کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
جبکہ پریشے نے ایکدم اسکے آگے ہاتھ جوڑ دیے ۔۔
دیکھو زیمل ۔۔۔ سمھجو مجھے یہ آدمی تمھارے ساتھ پھر بھی رائیت برت دے گا مگر مجھے تو الٹا لٹکا دے گا ۔۔ ہو سکتا ہے جان سے ہی مار دے پلیز پلیز ۔۔۔ میری جان اپنی چھوٹی سی نند کی زندگی کی خاطر تم اسکے پا س چلی جاؤ “پریشے کا ڈرامہ بھی سیم ٹو سیم سالار کے جیسا تھا ۔۔
تم نے ان سے پیسے لیے ہیں اس کام کے” زیمل حیران تھی
ہاں یار کالج میں ضرورت پڑتی ہے پوکٹ منی تو ختم ہوگئ تھی اور کبیر بھیا سے کون مانگے اتنے سوال کرتے ہیں تبھی میں نے سالار بھیا سے مانگے اور انھوں نے ۔۔۔ پھر مجھے ۔۔۔ یہ کرنے کو کہا ۔۔
وہ معصومیت سے بولی ۔۔
زیمل نے اسکا ہاتھ چھوڑا
میں عمل کے پاس سو جاؤ گی بلکل آنٹی مجھے بلکل ٹھیک کہہ رہیں تھیں کہ آیت کے کمرے میں چلی جاؤ میں غلط تمھارے پاس آئ ” زیمل برا مناتے اٹھ گئ ۔۔
یار زیمل ایک بار جو انھوں نے سوچ لیا وہ کر کے رہیں گے ۔۔۔
تم کہیں بھی چلی جاؤ ۔۔۔ وہ تمھارے پاس پہنچ جائیں گے انھیں غصہ دلانےسے بہتر ہے انکے پاس چلی جاؤ ” پریشے اب سنجیدگی سے بولی ۔۔۔
پریشے ۔۔۔ مجھے بلکل یقین نہیں ا رہا تم کیسی باتیں کر رہی ہو ۔۔۔ میں انکے پاس جانا ہی نہیں چاہتی ۔۔۔ اور تم افسوس ہے مجھے میں کیوں تمھارے پاس رکی ۔۔” زیمل نے خفگی سے کہا اور روم سے نکل گئ ۔۔۔۔
جبکہ پریشے نے سرد سانس کھینچی ۔۔۔
اور شانے آچکا دیے ۔۔
اسن سیل فون اٹھایا ۔۔۔
زیمل بھابھی کافی غصے میں تھیں دو چار باتیں مجھے سنا کر جا چکیں ہیں یہ تو آیت کے روم میں یہ عمل کے روم میں گئیں ہیں اور جتنے آپ نے پیسے دیے تھے اتنے میں ۔میں اتنی ہی کوشش کر سکتی تھی ۔۔ گڈ نائیٹ بھیو اب میں سو رہی ہوں باقی آپ جانیں یہ آپکی بیوی ” اسنے سینڈ کر کے روم لوک کیا ۔۔۔
اور سیل پاور آف کر کے وہ ۔۔۔ سو گئ ۔۔۔ جبکہ دوسری طرف یہ میسیج اسنے سنجیدگی سے پڑھا تھا ۔۔۔
نہ جانے نکاح ہونے کے بعد دل کیوں اس بات پر مچل رہا تھا کہ وہ چند لمہے اس سے باتیں کرے ۔۔۔
اسکی پہلے سے خوف زدہ آنکھوں کو اور ڈرائے ۔۔
مگر وہ لڑکی ہر بار اسکی بے عزتی کر کے گزر جاتی تھی اسنے بے حد غصے سے سیل فون سائیڈ پر پھینک دیا ۔۔۔
اور بستر میں لیٹ گیا ۔۔
دل جو بلاوجہ مچل رہا تھا اسے خفگی سے ڈپٹ کر وہ لیٹ گیا ۔۔۔۔اگر اسے اس سے اتنی ہی پروبلم۔تھی تو سالار مرتضی بھی کوئ مرا نہیں جا رہا تھا ۔۔۔ بھلے اسکا دل مر جائے وہ دوبارہ کوئ کوشش نہیں کرے گا ۔البتہ اسے ان چیزوں کی سزا ضرور ملے گی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیمل۔کو افسوس ہو رہا تھا وہ پریشے سے کیسے بول کر آئ ہے ۔۔۔
وہ دکھی دل سے آیت کے روم میں بیٹھی تھی نیند تو اسے بلکل نہیں آ رہی تھی اس خوف سے کہیں وہ ا ہی نہ جائے تبھی ۔۔
اسنے روم کی لائٹس اون کی ہوئیں تھیں اور ۔۔ خود وہ ۔۔۔ بیٹھی تھی ۔۔۔۔
اچانک اسکے کمرے کا لوک کھلا ۔۔۔وہ کھڑی ہو گئ ۔۔۔
کوئ دروازہ کھول رہا تھا اسے ڈر لگنے لگا وہ آدمی واقعی اتنا خراب تھا ۔۔ کہ اسکے ساتھ ایسی حرکت کرنے پر وہ اس حد تک پہنچ جاتا ۔۔۔۔
دروازہ دھڑ سے کھلا ۔۔۔اور افشین کو سامنے دیکھ کر زیمل کی روح جیسے فنا ہو گئ ۔۔۔
وہ حق و دق اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
جس کے چہرے پر سنگنی تھی افشین نے دروازہ بند کیا ۔۔اور اندر ا گئ ۔۔۔
زیمل پتے کیطرح کانپنے لگی ۔۔
تو تجھے لگتا ہے میں تجھے اس گھر میں ٹکنے دوں گی مہارانی میرے بیٹے کو مار کر تو اچھی زندگی گزارے گی ۔۔ تو نے سوچا بھی کیسے ” افشین نے بنا لحاظ کے اسکے تھپڑ منہ پر مار دیا “زیمل جس کا چہرہ خوف سے پہلے ہی سفید وہ گیا تھا ایکدم نیچے جا گیری۔ ۔۔۔
میڈیم ۔۔۔ میں ” وہ کچھ بولتی کے افشین نے اسکے بال مٹھی میں جکڑے ۔۔۔
تیرے ٹکڑے کر کے وحشیوں کے آگے ڈال دوں گی تیری اصلیت کیا ہے ۔۔۔۔ تو نہیں جانتی ۔۔۔ جس جگہ سے تو بچ کر آئ ہے وہی جگہ تیرا مستقل ٹھکانہ بنا دوں گی ۔۔۔ میں چڑیل تجھے صرف میرے بیٹے کی ملازمہ رکھا تھا میں نے اور اب تو ۔۔ یہاں راج کرے گی جبکہ میرا بیٹا تو مر گیا ” وہ لاتوں سے تھپڑوں سے اسے مارتی بولیں ۔۔
چپ بلکل چپ” وہ چلائ اواز البتہ نیچی تھی ۔۔۔
زیمل جو اسکے مارنے پر تکلیف سے رونے لگی تھی ۔۔۔۔
خوف سے اپنی سسکیاں دبانے لگی ۔۔۔۔
افشین نےا سکا منہ سختی سے پکڑا جس پر اسکے تھپڑوں کے نشان واضح تھے ۔۔
تو اس گھر سے نکلنے کی تیاریاں کرے گی بس ۔۔۔اور اگر تو نے یہ بات کسی کو بتائ ۔۔تو تیرا منہ توڑ دوں گی ۔۔
قاتلا ۔۔ تجھے جیل پہنچا دوں گی ۔۔یہ مت سمجھ کہ تو سالار کی بیوی بن گئ ہے تو ۔۔ بہت کوئ توپ چیز بن گئ ہے وہ مرد ہے تجھ پرا الزام لگوا کرا سی کے ہاتھوں زلیل کروا دوں گی ۔۔۔۔۔
تو میرے بیٹے کی ہی تھی سمھجی ۔۔وہ مر گیا تو تجھے بھی مر جانے کا حق ہے ۔۔اور نہیں مرنا تو اس گھرسے دفع ہو جا ۔۔” وہ آخری تھپڑ مارتیں اپنے دل کی بھڑاس نکالتیں وہاں سے چلیں گئیں ۔۔ گویا وہ اپنے پاگل پن کا ثبوت دے کر گئیں تھیں ۔۔۔۔
زیمل یوں ہی بیٹھی رہ گئ ۔۔۔۔
انکے مارے گئے ۔۔۔ زخم تو پہلے بھی اسکے وجود پر موجود تھے جس سے گھبرا کر سالار کو قریب نہیں آنے دیا تھا ۔۔۔ جن زخموں کے ہونے سے وہ ڈر رہی تھی کہ وہ دیکھ کر کیا سوچے گا۔۔۔۔
وہ کانپتی ٹانگوں سے اٹھ گئ ۔۔۔
دل تو تھا بھاگ کر اسکے پاس پہنچ جائے اسکی پناہوں میں چھپ جائے ۔۔۔
مگر ایسا کچھ نہیں کر سکتی تھی وہ ۔۔۔ تبھی وضو کرنے خود اذیتی کا شکار ہوتی وہ ۔۔۔ چلی گئ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔عارض اسکو غور سے دیکھ رہا تھا جو رات بھر الٹیاں کرتی رہی تھی اور اب رو رہی تھی ۔۔
یار رونا توبند کرو “اسنے اسکی پیشانی پر لب رکھے محبت و چاہت سے ۔۔۔۔
یہ سب اپکا قصور ہے “آیت اور بھی رو دی
عارض نے اسکو بازؤں میں بھرا اور روم میں لے آیا ۔۔ بیڈ پر بیٹھا کر اسے لٹایا ۔۔۔
بہت خوب بیوی سارے قصور میرے نکال لو “وہ خفگی سے بولا ۔۔۔۔
تو آپ ہی بدتمیز ہیں میں تو نہیں ہوں ” اسنے معصومیت سے کہا ۔۔
جبکہ عارض نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
میں بدتمیز ہوں نہ” اسکے ارادے خونخوار ہوئے ۔۔
عارض عارض نہیں آپ بہت اچھے ہیں ” آیت جلدی سے خود کو اس سے چھپاتی بولی ۔۔۔جبکہ عارض ہنس دیا ۔۔
اسکے ہاتھوں پر پیار کیا ۔۔
میں ابھی اچھا سا کھانا اارڈر کرتا ہوں ” وہ اسکے بال سنوارتے بولا اسکی شرٹ میں وہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔
نہیں مجھے آپکے ہاتھ کا بنا کھانا کھانا ہے” وہ فرمائش کرنے لگی ۔۔
عارض کا منہ کھل گیا ۔۔
مگر مجھے تو بنانا آتا ہی نہیں” وہ شانے آچکا کر بولا ۔۔
تو سیکھ لیں ۔ لوگ تو چاند تارے لے آتے ہیں محبت میں آپ صرف کھانا نہیں بنا سکتے” وہ خفگی سے بولی ۔۔
کیوں نہیں میری جان ملازم ہوں شوہر تو نہیں ہوں تمھارا ” وہ چیڑتا بولا ۔۔۔
واہ عارض جب بیوی خدمت کرے تو ملازمہ ہوتی ہے” آیت نے گھورا ۔۔
میں تمھارے ساتھ لڑنا ہی نہیں چاہتا چالاک لومڑی” عارض نے کہا جبکہ آیت کا تو منہ کھل گیا ۔۔
میں لومڑی ہوں” وہ حیران تھی ۔۔ تکیے کو سختی سے جکڑا ۔۔
ہاں” عارض کا قہقہ نکلا ۔۔
اب میرے پاس آنا اب لومڑی کے پاس بھی انا آپ” وہ اسپر تکیہ پھینکتی غصے سے بولی جبکہ عارض نے زبردستی اسکے دونوں گالوں پر پیار کیا ۔۔
اور اسکو مسکرا کر دیکھنے لگا ۔۔۔
میں کیا کروں تمھارے پاس آئے بنا گزارا نہیں” وہ بے بسی سے بولا ۔۔۔۔
جبکہ آیت شرما گئ ۔۔
جائیں اب ۔۔ کچھ بنائیں میرے لیے”
اوکے مائے لو ” اسنے کہا ۔۔
میں بھی او ” آیت بولی ۔۔
ا جاؤ ” عارض کچن میں سے بولا ۔۔۔
آیت اٹھ کر ۔۔ روم سے باہر نکلی اور کچن میں ا گئ ویسے ہی ۔۔۔
عارض نے اسکو بانہوں میں قید کر کے شیلف پر بیٹھا دیا اور اسکے ہاتھ میں ریڈ سٹوبریز دے دیں ۔۔
آپ جب تک یہ کھائیں ۔۔۔ آپکے لیے کھانا یہ نا چیز بناتا ہے” وہ بولا تو آیت کھلکھلا دی ۔۔۔
میں نے کبھی سوچا نہیں تھا آپکو ایسے بھی دیکھوں گی” وہ پاؤں جھلاتی بولی ۔۔
اکثر جو ہم سوچتے نہیں وہ ہی ہوتا ہے ” وہ بولا ۔۔۔مصروف سا
جبکہ آیت اسکی بات سے سہمت تھی
جاری ہے
