Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 26
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26
زیمل سانس روکے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔چہرے پر گھبراہٹ کے آثار واضح تھے ۔۔۔ جبکہ سالار کو ایکطرح سے اسکی شکل کی مسکینیت دیکھ کر ہنسی بھی آ رہی تھی جبکہ بیقوقت غصہ بھی کہ وہ اس سے اتنا بھاگتی کس لیے تھی ۔۔۔۔
وہ اسکے اور بھی نزدیک ہوا ۔۔۔۔ زیمل کی جان پر بن آئی ۔۔۔
اسکی اس حرکت کی وجہ سے بے ساختہ زیمل کا ہاتھ اٹھا اور اسکے چوڑے کسرتی سینے پر رکھا گیا ۔۔۔۔۔
سالار نے اسکا ہاتھ دیکھا چونک کر اور پھر اسکی شکل دیکھی ۔۔زیمل اپنی بے اختیاری پر شرمندہ نظر آ رہی تھی۔ ۔۔۔
حقیقت تو یہ ہے تم ہم دونوں کے درمیان رشتے کو سیریس نہیں لیتی ہو ۔۔۔ شاید تم واقعی یہ سمھجنے لگ گئ ہو کہ میں نے تم سے زبردستی شادی کی تھی ” اپنی دل کی خواہش کے ہاتھوں مجبور ہوتے اسنے اسکے خشک خوف سے سوکھتے لبوں پر اپنا انگوٹھا رکھا ۔۔۔
زیمل کانپ سی گئ ۔۔۔ وہ ایسا کچھ نہیں چاہتی تھی ۔۔ وہ سالار سے ایسا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی اپنی مرضی سے نکاح کرنے کے باوجود بھی وہ اس فاصلے کو اسکو مٹانے کیوں نہیں دے رہی ۔۔۔۔۔ شاید افشین کا خوف تھا ۔۔۔۔۔ یہ اپنے اندرونی احساسات سے وہ اتنی غافل ہو چکی تھی کہ صیحی اور غلط کچھ سمھجہ نہیں پا رہی تھی ۔۔۔
سالار کے لمس اور حرکت کرتے انگوٹھے نے اسکو جیسے کانٹے کیطرح چھوا ۔۔۔وہ ایکدم چہرہ پھیر گئ اور دوسری طرف سے ہٹی ۔۔ خیر اگر سالار نہ ہٹتا تو اسکی جرت نہیں تھی وہ ہٹے ۔۔۔
مجھے جانے دیں ” زیمل نے پھر سے کہا ۔۔اور اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔۔۔۔
میں نے تمھیں قید نہیں کیا تم اپنے شوہرکے کمرے میں ہو ” سالار نے سنجیدگی سے اسے یاد دلایا ۔۔۔ یہ رویہ اسکا سالار کی سمھجہ سے باہر تھا ۔۔۔۔۔
جب میں شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تو ۔۔ کیوں زبردستی کی جا رہی ہے “وہ ایک دم چیخی اور منہ پر ہاتھ رکھے رونے لگی ۔۔۔۔ سالار حیران رہ گیا اول تو اسے امید نہیں تھی کہ کبھی بھی زیمل کے منہ سے یہ بات سنے گا ۔۔۔ دوسرا ۔۔۔ وہ رو دی تھی ۔۔۔۔۔
اور مقابل کو ۔۔۔۔بلکل پسند نہیں تھا اسکی آنکھ سے آنسو بھی گرے شاید انکی پہلی ملاقات اور سالار کی توجہ کا مرکز اسپر یہ ہی تھا ۔۔۔۔۔
وہ بے چین سا ہوتا اسکی بات کو اگنور کرتا اس تک پہنچا ۔۔اسکے چہرے پر سے ہاتھ ہٹایا ۔۔۔۔ کہیں سے بھی وہ اس وقت لاپرواہ سالار نہیں لگ رہا تھا ۔۔ بلکہ اسکی اس حرکت پر زیمل کو اب حیرت ہوئ تھی ۔۔۔۔
اے اے رو کس بات پر رہی ہو ۔۔۔ ادھر دیکھو ۔۔۔۔۔ تمھیں کوئ پروبلم ہے یہاں کوئ ڈسٹرب کرتا ہے ” وہ دوسری بار اس سے ۔۔۔ یہ سوال کر رہا تھا ۔۔۔زیمل کا دل پھٹنے کو ہوا ۔۔۔۔ جی کیا سب کچھ بتا دے سب کچھ ۔۔۔ ہاں چوٹوں کے نشان ۔۔۔ افشین کے دیے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔ ہاں وہ اس سے دوری افشین کے خوف سے رکھ رہی ہے ۔۔۔ مگر زبان پر چپ کی کفل ڈالے وہ کھڑی رہی ۔۔۔ سالار نے اسکا چہرہ ۔۔۔ دونوں ہاتھوں میں بھر لیا ۔۔اور نرمی سے اسکے آنسوں کو چنتا ۔۔۔۔۔ وہ بھکنے لگا ۔۔۔۔ اسکے لمس سے گھبرا کر زیمل کی ٹانگیں لڑکھڑا سی گئ ۔۔۔
سالار نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکا سارا وزن خود پر لے لیا ۔۔۔۔
اور ایک انچ کر فاصلے سے ۔۔۔ اسکی جھکی پلکوں اور کانپتے لبوں کا حسین منظر دیکھنے لگا ۔۔۔۔اسکے چہرے پر سنجیدگی تھی ۔۔جبکہ زیمل اپنے آپ کو سنبھالنے کی کوشش میں ۔۔۔ بھاری سانسیں بھر رہی تھی ۔۔اسکی دھڑکنوں میں اتنا شور تھا ۔۔کہ سالار کو اس پہلی قربت میں اپنے دل کے مقام پر اسکا دل دھڑکتا محسوس ہوا ۔۔۔۔
جس ارادے سے وہ اسکیطرف رفتہ رفتہ بڑھ رہا تھا اسے لگا جیسے سارے کام کی تھکاوٹ دور ہو گئ ۔۔۔ اور زیمل کانپنے لگی ۔۔وہ اسے روکنا چاہتی تھی اس عمل سے باز رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔
مگر سالار کی سانسوں نے ایکدم ہی اسکی سانسوں کو الجھا لیا ۔۔۔ وہ اسکے لمس پر احتجاج سا کرنا چاہا ۔۔۔۔۔
مگر دوسری طرف اس احتجاج کی کوئ سنوائی نہیں تھی ۔۔۔۔ وہ اتنا مگن تھا اپنے عمل میں کہ دوسرے کا احساس ہی نہیں تھا ۔۔۔ کہ اسکی سانسیں رک گئیں تو ۔۔۔۔
زیمل نے خود ہی ۔۔۔ چہرے مور کر اس سے خود کو الگ کیا ۔۔۔۔
جبکہ سالار کے ہی شانے پر سر رکھ کر ۔۔۔وہ سانسیں ہموار کرنے لگی ۔۔۔۔۔
سانسوں کی مدھم آواز سالار کے جزبات میں طوفان سا اٹھا گی ۔۔۔
زیمل کی کمر پر پکڑ سخت سے سخت تر ہوتی گئ ۔۔۔۔
نہیں ” زیمل اسکے کان کے نزدیک بلکل مدھم آواز میں بھاری سانسوں کے درمیان بولی ۔۔۔۔۔
سالار نے اسکی کمر کو مزید سختی سے پکڑا کہ اسکی آہ نکلی ۔۔۔
جو سالار کی سماعتوں سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔
وہ غصے میں لگا ۔۔برداشت کرنے لگا ۔۔ حالانکہ وہ طبعیت کے لحاظ سے ۔۔ برداشت کا عادی نہیں تھا ۔۔۔ مگر یہاں معاملہ ۔۔۔۔ کچھ الگ سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔
میں جان سکتا ہوں کیوں ” اسنے اسکا چہرہ سامنے نہیں کیا ۔۔۔۔
زیمل نے خود کو اس سے دور کرنے کی کوشش شروع کی ۔۔۔
سالارکو اسکی یہ کوشش اور اسکے سوال کا جواب نہ دینا ۔۔۔ بے حد برا لگا ۔۔۔اسنے کھینچ کر زیمل کو خود سے الگ کیا وہ جو تھی ہی اسکے سہارے پر اسکے چھوڑنے سے نیچے جا گیری ۔۔۔۔۔۔۔
سیدھا اسکے قدموں پر ۔۔۔۔
سالار نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
اور بنا کچھ کہے وہاں سے ۔۔۔۔ واشروم میں چلا گیا ۔۔۔۔
زیمل نے اپنے آنسو صاف کیے اور جلدی سے اٹھی موقع اچھا تھا ۔۔۔وہاں سے نکل جانے کا یہ جاننے بنا کہ ۔۔ افشین اسی کی منتظر ہے وہ ۔۔۔ وہاں سے باہر نکلی ۔۔۔۔
اور دوسرے کمرے کو کروس کر کے سیڑھیاں جیسے ہی دو پار کی ۔۔افشین کو پیٹھ موڑے کھڑا دیکھ کر ۔۔۔اسکا چہرہ سفید ہو گیا ۔۔۔۔
کل ہوا نیلا چہرہ یاد آیا ۔۔ جس پر اسنے سوال کر لیا تھا ۔۔۔
اور آج سالار کے کمرے میں اسے دیکھ کر ۔۔شاید۔۔ وہ چھری سے اسکا گال کاٹ دے ۔۔۔۔ وہ پریشانی سے بنا کچھ سوچے دوبارہ اوپر بھاگ آئ ۔۔۔۔۔
کمرے میں آئ تو ۔۔۔ کمرے میں شاور کا شور تھا ۔۔۔۔
آگے کنوں پیچھے کھائ تھی ۔۔۔۔۔ وہ جائے تو جائے کہاں بے بسی سے ناخن کاٹتی وہ الجھی ہوئی تھی ۔۔۔
نیچے اس وقت جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا افشین اسکا ہال بگاڑ دے گی اور وہ کس کس کو کیا کیا جواب دے گی ۔۔اور ویسے بھی اسکی مار سے وہ ۔۔۔۔ ڈرتی تھی بہت ۔۔
وہ اندر کھڑی سوچ ہی رہی تھی کہ اب کیا کرنا ہے کہ دروازہ کلک سے کھولا ۔۔اور سالار ۔۔ٹراوزر میں ٹاول گردن میں ڈالے باہر نکلا ۔۔۔ زیمل کی نظر اسکی نظروں سے ٹکرائی ۔۔۔۔
تو ایکدم اسکی چیخ نکلی ۔۔۔۔۔
اوہ ہ ہ”اسنے جلدی سے رخ تبدیل کر دیا ۔۔۔۔۔۔
سالار کی تھکاوٹ سے بوجھل آنکھیں ایک بار پھر اسے دیکھ رہیں تھیں مگر غصے سے ۔۔۔۔
کیا مسلہ ہے تم جب ۔۔۔ میرے گھر میں ٹاول میں گھوم سکتی ہو تو میں اپنے کمرے میں شرٹ لیس نہیں داخل ہو سکتا “وہ بگڑے ہوئے لہجے میں بولا ۔۔جیسے چڑچڑا ہو گیا ہو ۔۔ ہر چیز ناگوار گزر رہی تھی جبکہ ۔۔اسکی تھکاوٹ زیمل کے وجود کیطرف اسے کھینچ رہی تھی جبکہ سالار خود پر سخت پھیرے لگائے اس سے دور رہنے کی ناکام سی کوشش میں تھا ۔۔۔۔
انسان اکیلا ہو تو بھی ایسا کر لیتا ہے ۔۔” وہ بولی رخ اب بھی تبدیل کیا ہوا تھا ۔۔۔ جبکہ دونوں آنکھوں پر ہاتھ بھی رکھا تھا ۔۔۔
تمھارے اور میرے علاؤہ تو یہاں کوئی نہیں اور ویسے بھی ۔۔۔۔
میری جوب میں مجھے شرٹ لیس ہونا پڑتا ہے ۔۔۔۔ “
وہ لاپرواہی سے بولتا اسکو اگنور کرتا ۔۔ اپنے بال بنانے لگا ۔۔۔۔
زیمل نے چور نظروں سے اسکیطرف دیکھا کہ آیا کہ اسنے شرٹ پہن لی ہے ۔۔۔۔ مگر سالار مرتضی اب بھی ویسے ہی کھڑا تھا ۔۔۔ شاید اسے زیچ کر رہا تھا ۔۔۔۔
یہ کیا بدتمیزی ہے” زیمل روہانسی ہوئ ۔۔۔
پہلے تو تم مجھے بتاؤ ۔۔ کہ جتنے تمھارے نخرے ہیں یہاں کھڑی ہی کیوں ہو ۔۔ جاؤ ۔۔۔ یہاں سے میں اپنے کمرے میں جیسے مرضی پھیروں تمھیں کیا تکلیف ہے” وہ غصے سے بھڑکا اور اسکی آنکھوں پر سے کھینچ کر ہاتھ ہٹایا ۔۔اور وہیں زیمل نے زور سے آنکھیں بند کر لیں ۔۔ سالار کو یہ لڑکی کھڑے کھڑے تپ چڑھا رہی تھی اسنے گلے میں سے بھڑک کر ٹاول نکالا ۔۔اور سائیڈ پر اچھال دیا ۔۔۔ زیمل کو محسوس ہو گیا تھا اسنے کیا کیا ہے ۔۔
آنکھیں کھولو ” وہ بولا ۔۔۔۔
زیمل کو محسوس ہوا وہ اسکے قریب آ رہا ہے وہ اپنے آپ ہی پیچھے قدم لیتی ۔۔ منمنائ ۔۔
ن۔۔۔نہیں ” دھڑکنیں بے ہنگم سی ہو گئیں ۔۔۔
کیوں وجہ بتاؤ ” وہ اسکے بے حد نزدیک آ گیا ۔۔۔۔۔
اسکی بند آنکھوں میں خم کھاتیں ۔۔ پلکیں ۔۔۔۔ دلکش تھیں ۔۔۔۔
نظارہ بھرپور تھا ۔۔ تہنائ ۔۔۔ غالب تھی ۔۔۔ دو دل دھڑک رہے تھے ۔۔۔۔۔
م۔۔مجھے آپ آپ پسند نہیں ” زیمل نے سر جھکا کر کہا ۔۔۔۔۔
سالار کے سارے جزباتوں پر برف آ پڑی تھی ۔۔ اسنے ایک ہاتھ دیوار پر مارا اور زیمل کا چہرہ پکڑ کر اونچا کیا ۔۔
آنکھیں کھولو ” وہ غرایا ۔۔زیمل بھی جیسے ضدی ہو گئ ۔۔ نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ اگر تم نے آنکھیں نہیں کھولیں ۔۔۔ تو میں تم سے اپنا حق لوں گا ۔۔۔اور تم اور تمھاری صحت اس بات کی اجازت نہیں دیتی ۔۔۔۔ کہ تم مجھے روک سکو ” وہ خطرناک لہجے میں اسکو دھمکاتا بولا اور ۔۔ زیمل نے وہیں پر سے گھبرا کر آنکھیں کھول دیں ۔۔۔۔
سالار اسکے بے حد نزدیک تھا ۔۔۔۔
غصے میں تھا چہرہ سرخ تھا ۔۔ بار بار شاید وہ اپنی بے عزتی محسوس کرتا تھا ۔۔۔
سالار طنزیہ ہنسا ۔۔۔
تو تمھیں عدیل پسند تھا ” وہ بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔ جبکہ بیڈ پر پڑی اپنی شرٹ بھی پہن لی جبکہ بٹن بند کرنا ضروری نہیں سمھجے ۔۔۔۔
زیمل پھر سے نظریں چرانے لگی ۔۔۔
جبکہ سالار نے اسکے پاؤں پر پاؤں مارا
آہ” زیمل نے اسکیطرف دیکھا ۔۔
اب اگر مجھے سے نظر ہٹی تو ۔۔۔۔ میں اس وقت کافی خطرناک صورتحال میں ہوں ۔۔۔ تمھیں زیادہ مشکل کا سامنا ہو جائے گا ” وہ مسکرا مسکرا کر۔۔۔ جیسے اسے دھمکا رہا تھا ۔۔زیمل اسکیطرف دیکھنے لگی ۔۔
جواب دو ” وہ پھر سے پوچھنے لگا ۔۔
کون کون سی بات کا ” زیمل نے حلق میں تھوک نگلا ۔۔
تمھیں عدیل پسند ہے” وہ پھر سے وہی سوال پرچھ رہا تھا ۔۔
آپ مجھ سے کیوں پوچھ رہے ہیں ۔۔۔۔ “زیمل روہانسی ہوئ ۔۔
پھسا کر رکھ دیا تھا اس نے تو ۔۔۔۔۔
سالار نے ۔۔ اسکے پاؤں میں پاؤں الجھایا ۔۔۔۔۔ اور اپنا پاؤں زور سے کھینچا ۔۔۔
زیمل ایکدم ۔۔۔ اسپر ٹوٹی شاخ کیطرح آ پڑی ۔۔سالار کے بیٹھنے کے انداز میں ایک پرسنٹ بھی فرق نہیں آیا البتہ ۔۔۔۔
زیمل۔کا چہرہ سرخ پڑ گیا ۔۔
سالار نے اسکو شانوں سے تھاما اور بیڈ پر دھکیل کر ۔۔خود اسکو اپنے ہاتھ پاؤں سے قابو کر گیا ۔۔۔
زیمل کے لیے یہ سب بہت سے بھی زیادہ تھا پہلی بار کوئ اسکے ساتھ من مانی کر رہا تھا ۔۔۔
ہاں وہ اسکا شوہر تھا مگر ۔۔۔ وہ تو ایک دوسرے کو جانتے تک نہیں تھے ۔۔یہ پھر ۔۔۔۔ ان دونوں کے بیچ ۔۔۔۔
وہ بے چارگی کی انتہا پر ہوتی ۔۔ نکلنے کی اسکے حصار سے کوشش کرنے لگی ۔سر پر جما دوپٹہ اتر کر ۔۔ شانوں پر ٹھلک گیا ۔۔۔۔
سالار اسکا چہرہ نزدیک سے دیکھ رہا تھا ۔۔
چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی
آگے سے بٹن کھلے تھے جن پر زیمل کی ہتھیلیاں لگ رہی تھیں کیونکہ وہ اسکے بے حد نزدیک تھا ۔۔۔۔
زیمل بار اگر اپنا ہاتھ بچا رہی تھی کہ اسکے جسم کو نہ چھوے جبکہ سالار نے زبردستی پکڑ کر اسکا ہاتھ اپنے دل پر رکھ دیا ۔۔
اس لیے کیونکہ تم سالار مرتضی کی بیوی ہو ۔۔۔۔ اور میں ۔۔۔ اپنی چیزوں میں شراقت کا قائل نہیں ۔۔۔۔۔
نہ مجھے کمپرومائز کرنا اور دیکھو ۔۔۔ میں جو ہوں وہ سامنے ہوں ۔۔۔۔ ۔۔ نہ مجھے چھپانے کا خوف نہ میں جھوٹ بولتا ۔۔۔۔
اور تم سے سوال کرنے کا میرا پورا حق ہے ۔۔اور میں ہر کام ڈنکے کی چوٹ پر کرتا ہوں ۔۔تمھیں ایا لگ رہا ہے مجھے دھتکار کر تم مجھے خود سے بدظن کر لو گی ۔۔ تو میڈیم زیمل تمھارے فیگر اور ہائیٹ کیطرح تمھاری عقل بھی بہت چھوٹی ہے ۔۔۔ کیونکہ ۔۔۔ مجھے جو نہیں بھی پسند وہ تب بھی میرے پاس ہی رہتا ہے ۔۔ ادھر دیکھو ” وہ آنکھیں نکال کر غراتا اسکے چہرے کو اپنے ہاتھ سے ہی موڑ گیا ۔۔ جو کہ حونک تھی ۔۔۔۔
جبکہ ہولے ہولے کانپتا وجود صاف محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
زیمل نے سامنے دیکھا ٹیبل پر ۔۔۔۔ ایک مجسمہ رکھا تھا ۔۔۔ جس میں بے لباس عورت ۔۔۔ تھی ۔۔۔۔
مجھے یہ پسند تھا ۔۔۔۔ پھر ایک دن ۔۔۔۔ بابا نے دیکھ لیا ۔۔۔
جوتیوں سے پیٹا ۔۔۔۔ اسکے بعد سے یہ مجھے برا لگنے لگ گیا ۔۔۔ مگر آج تک یہ ضد میں یہاں رکھا ہے
۔۔
جانتی وہ کیوں ۔۔۔ کیونکہ میری چیزوں سے نفرت بھی میں ہی کر سکتا ہوں ۔۔۔۔۔۔ تو تم خود کو دیکھو ۔۔اس مجسمے سے کئ زیادہ ۔۔ اٹریکٹیو ہو ۔۔۔۔ ہممم” وہ مدھم آواز میں بولتا ۔۔۔اسے معنی خیز جملوں میں بہت کچھ جتا رہا تھا ۔۔۔
مجھے یقین ہے تم یہاں سے چلی گئ تھی ۔۔۔۔ تم واپس کیوں آئ ۔۔۔ وجہ تمھارے منہ سے سننا چاہو گا ۔۔ مگر تب جب تمھیں مجھ سے محبت ہو گی ۔۔۔
اور سنو ۔۔۔ میرا تم پر پورا اختیار ہے ۔۔جو تم ہٹا نہیں سکتی تم نے اپنی مرضی سے نکاح کیا تھا ۔۔۔
جب جہاں جیسے ۔۔۔ جو بھی میں چاہو گا ۔۔تم وہ کرو گی ۔۔۔۔
نہ کرنے کی صورت میں میں زبردستی کرا لوں گا ۔۔۔۔ کیونکہ میں تمھارے لیے عدیل سے بھی زیادہ برا ثابت ہوں گا ۔۔ ویسے میں نے اسکا ذکر کیا ہی کیوں ۔۔ اس انسان کو بھی دماغ سے نکال دو ۔۔اور اب اٹھو ۔۔۔ اور نکلو یہاں سے ۔۔ کبھی ۔۔ میرا دل تم پر پھیسلے اور صبح اپنی عزت پر رو رہی ہو ۔۔۔” وہ سر جھٹکتا بولا ۔۔
وہ ہر بات کہہ دیتا تھا ۔۔زیمل کو لگا کانوں میں سے دھواں نکل رہے ہوں ۔۔۔۔ وہ اس اجازت پر ایکدم اٹھی ۔۔بنا اسکیطرف دیکھے وہاں سے دوڑ لگا دی ۔۔
کوئ فرق نہیں پڑتا تھا افشین اگر اسے مار مار کر برا حال بنا دیتی ۔۔مگر اسنے ٹھیک کہا تھا وہ اسکے لیے بے حد خطرناک تھا ۔۔
چند ہی لمحوں میں اسکی حالت بس اپنی باتوں سے ہی اسنے غیر کر دی تھی
شکر تھا افشین چلی گئ تھی وہ پریشے کے کمرے میں بند ہو گئ ۔۔ تالا بھی لگا دیا کہ اب کوئ نہ آئے اور نہ آج کے بعد وہ نکلنے کی غلطی کرے گی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسکا پی آئے انتظار کر رہا تھا ۔۔ صبح سب ناشتہ کرنے میں مصروف تھے ۔۔۔ جبکہ پی آئے ایکطرف کھڑا تھا ۔۔ مدیھا نے اسے کئ بار کہا کہ وہ بھی کچھ کھائے مگر اسنے صاف انکار کیا ایک بار کرنے کے بعد دوبارہ جواب نہیں دیا ۔۔
اس ڈھیٹ کو اٹھا دیں ۔۔۔ مدیھا ۔۔۔وہ بچہ کب سے انتظار کر رہا ہے” مرتضی آخر کو کلس کر بولے ۔۔۔۔
وہ مجھ سے نہیں اٹھے گا ۔۔” مدیھا نے جیسے ہار کر کہا ۔۔۔
تبھی مرتضی نے خود چئیر چھوڑی ۔۔
زین نے فورا ۔۔ موبائل نکالا ۔۔۔
بھیا موت آ رہی ہے ۔۔ اٹھ جاؤ ” اسنے لگاتار کئ میسیج کیے ۔۔ مگر کوئ اثر نہیں ہوا ۔۔۔
یہ آدمی واقعی مرے گا ” کبیر نے افسوس سے اخبار بند کیا ۔۔۔
مما عارض اور آیت کل تک آ جائیں گے رات میری بات ہوئ تھی انھوں نے واپسی کی ٹکٹ بک کرا لیں ہیں” کبیر نے اطلاع دی تو ۔۔ مدیھا ایکدم خوش ہو گئیں ۔۔۔
ماشاءاللہ ماشاءاللہ ۔۔۔ ” سب کے چہروں پر مسکراہٹ پھیل گئ جبکہ ۔۔ ایکدم مسکراہٹ روکی ۔۔ کیونکہ اوپر سے سالار کی چیخوں کی آوازیں آ رہیں تھیں ۔
زیمل تو حونک ہی تھی ۔۔۔ وہ آنکھیں ہٹپٹاتی ہوئ ۔۔ آوازوں کے تعاقب میں دیکھ رہی تھی جبکہ ناشتہ بھی چھوڑ دیا تھا ۔۔
پریشے اور نین دونوں ہی ہنسنے لگیں ۔۔
بھابھی فکر نہ کریں ۔۔ آپکے شوہر کو ڈھیٹوں کا آئ جی کہا جاتا ہے وہ بلکل صیحی سلامت ہو گا البتہ بابا ہانپ جائیں گے وہ اتنا بھاگے گا بابا سے ” پریشے نے بتایا تو ۔۔۔۔ زیمل نے بس سر ہلایا مگر ۔۔اب بھی اسکے چیخنے پر۔۔وہ ویسے ہی بیٹھی تھی ۔۔۔
تبھی اسکے سامنے افشین چئیر کھینچ کر بیٹھ گئ ۔۔
سالار نے اتنا شور مچایا ہے میں اٹھ گئ ۔۔ تو سوچا آج سب کے ساتھ ناشتہ کر لوں ” زیمل کو دیکھتی وہ بولیں ۔۔زیمل کا سر جھکتا چلا گیا اتنی بھی ہمت نہیں ہوئ کہ زر اٹھا کر ہی دیکھ لے ۔۔
زیمل ۔۔۔۔ اٹھ کر مجھے ناشتہ دو ” افشین نے حکم دیا ۔۔
جبکہ زیمل جو اسکے سامنے سے اٹھ کر بھاگنا چاہتی تھی جلدی سے اٹھی اور کچن میں جانے لگی ۔۔
چاچی میں دے دیتی ہوں زیمل تو ابھی آئ ہے ناشتہ کرنے” نین نے کہا ۔۔
تم کیوں دو گی یہ کہاں کی مہربانی ہے وہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھائے گی ۔۔چل اٹھ ۔۔جا میرے لیے ناشتہ بنا “افشین بولیں تو زیمل اٹھ گئ ۔۔۔ جبکہ وہاں موجود سب لوگوں کو یہ بہت بری لگی حرکت لگی
تمیز سے بھی کہہ سکتی تھی ۔۔
چچی سالارکو آپ کے اس رویے کا علم ہوا تو گھر میں نئے سیرے سے طوفان کھڑا ہو گا ۔۔۔ تو پلیز آپ اپنا رویہ درست رکھیں اور وہ انسان ہے آپکی ملازمہ نہیں “
کبیر نے کڑک لہجے میں کہا ۔۔
وہ صرف میرے بیٹے کی قاتلہ ہے جس نے سا لار کو پھنسا لیا ہے تم لوگ جانتے ہی کیا ہو اس کی حقیقت”وہ چلائیں ۔۔۔
زیمل کے ہاتھ پاؤں کانپنے لگے ۔۔۔
سکندر نے افشین کا ہاتھ تھامہ
بہت وہ گئ اٹھو ۔۔ جب تمام ے برداشت نہیں ہوتا تو سب کے بیچ مت بیٹھا کرو اور اپنی بیٹی کو بھی اس گھر میں رکھو تا کہ وہ تمھارا یہ عجیب و غریب رویہ دیکھ کر کچھ سیکھے کہ اسکی ماں کیا ہے “سکندر بے حد غصے سے بولے ۔۔
آپ مجھے کہہ رہے ہیں یہ باتیں مارا ہے اسنے میرے بیٹے کو میں تو کبھی اپنے بیٹے کی موت نہیں بھولوں گی ۔۔۔” افشین نے مٹھیاں بھینچی ۔۔۔
اور وہاں سے اٹھ کر چلی گئ ۔۔ جبکہ زیمل کچن میں تھی ۔۔۔ اسکے ہاتھ پر گرم گرم کافی گر گئ تھی جس کو ۔۔اسنے ۔۔۔ بنا آواز کے پیا اور دوبارہ کافی بنانے لگی ۔۔۔۔
باقی سب نے دور سے ایک دوسرے کو دیکھا تھا ۔۔۔ ابھی کوئ کچھ کہتا ہی سالار بھاگتا ہوا نیچے اترا ۔۔۔۔
بلیک کوٹ پینٹ میں ۔۔ ٹائ ہاتھ میں لیے بال ڈیشنگ سٹائل میں سیٹ کیے وہ گاگلز لگا کر واقعی ایک ہیرو لگتا تھا جس پر نظر رکھے تو دوبارہ نہ ہٹے ۔۔۔
وہ نیچے آیا تو ۔۔ لبوں کی تراش میں دلفریب مسکان تھا ۔۔
آج آپکے شوہر کا بی پی لو ہو گیا ہے کچھ کھلا پیلا دیں ۔۔” وہ ماں کے قریب آ کر بولا ۔۔ جبکہ مدیھا نے سر تھام لیا ۔۔
سالار سدھر جائیں کل کو آپ کے بچے ہو جائیں گے اسی طرح تنگ کریں گے پھر ہم سب کو “
نہیں ایکچلی پھر ہم مل کر کریں گے اور سب سن لیں میری پوری ٹیم ہو گی ۔۔ میں عارض اور کبیر سے زیادہ بچے کروں گا ۔۔” وہ سب کو ایسے بتا رہا تھا جیسے ۔۔۔ یہاں شک ساختہ فیصلہ ہو ۔۔۔۔
یہ پھر زیمل کو سنانا چاہتا ہو مگر ٹیبل پر زیمل تو نہیں تھی ۔۔۔۔
استغفار ” کبیر نے توبہ کی ۔۔۔۔
جبکہ سب اپنی ہنسی دبا گئے ۔۔۔
اس لڑکے کی تربیت آپ کو چار پانچ بار اور کرنی چاہیے” مرتضی بھی نیچے آ گئے انکے زرا زرا سے سانس پھول رہے تھے ۔۔۔۔
سالار اپنی ہنسی روک رہا تھا ۔۔
گھمنڈر آدمی دفع ہو جاؤ یہاں سے اب ” مرتضی غصے سے بولے ۔۔
حضور ۔۔ جو حکم اپنی زوجہ کو دیکھ لوں ” وہ دانت نکالنے لگا ۔۔ جبکہ مرتضی نے ضبط سے کبیر کو دیکھا ۔۔
سالار” کبیر نے ٹوکا ۔۔۔۔
اچھا بھئ ۔۔ بابا کو تنگ کر رہا ہوں میں اپنی بیوی سے ملنے کے لیے ان سے کیوں پوچھوں گا ۔مجھے پتہ ہے وہ کچن میں ہے ۔۔” وہ پھرسے زیچ کرنے لگا ۔۔سب اسکی دھیٹائ پر ۔۔۔ سرد آہ بھر گئے مرتضی بھی کچھ نہیں بولے ۔۔ کیونکہ اسنے انھیں ہلکان کیا تھا اور اب واقعی انکی ہمت ختم ہو گئ تھی ۔۔
سالار نے کچن کے دروازے میں سے ۔۔زیمل کو دیکھا ۔۔
جس نے تو شاید کچھ سنا ہی نہیں تھا ۔۔۔
زیمل جب پلٹی نہیں تو سالار خود ہی اس تک پہنچا ۔۔۔
اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ وہ چیخ مار کر ۔۔۔ مڑی ۔۔۔ جبکہ برتن بھی میس بیلینس ہوا ۔۔۔۔ سالار نے ایکدم اسکو دور کیا اور برتن کو اپنے ہاتھ سے دور کیا ۔۔۔ تاکہ اسکے پاؤں پر چائے نہ گیرے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ۔۔اسکے ہاتھ پر گرم گرم چائے ۔۔۔ الٹ گئ ۔۔۔
وہ معمولی سا کراہیا اور ہاتھ جھٹکنے لگا چہرے پر تکلیف کے آثار آ گئے ۔۔۔۔
زیمل نے منہ پر ہاتھ رکھ لیا جبکہ ۔۔۔۔
مدیھا اور نین بھی اس تک پہنچی ۔۔
یہ کیا کرتیں ہیں آپ بچوں کیطرح شرارتیں ” مدیھا پریشان ہو گئ ۔۔
مما میں ٹھیک ہوں ” زیمل کو ایک نگاہ دیکھ کر وہ بولا ۔۔
ہاتھ پورا جل گیا ہے سالار آپکا ” نین نے جلدی سے ۔۔ ٹیوب نکالی ۔۔
یار بھابھی ۔۔ اب میں اسے ہاتھ پر لگا کر اچھا نہیں لگوں گا ۔۔۔ آپ رہنے دیں ۔۔ میں چلتا ہوں “
تم نے ناشتہ بھی نہیں کیا” مدیھا بولیں ۔۔
اٹس اوکے ” وہ سنجیدگی سے کہتا باہر نکل گیا ۔۔۔۔
جبکہ مدیھا بھی ساتھ ہی نکلیں ۔۔۔ مگر وہ روکے بنا نکلا تھا اسکا پی آئے بھی پیچھے بھاگا ۔۔ اسکا ہاتھ بری طرح سرخ ہو گیا تھا ۔۔
میری وجہ سے انکا ہاتھ جل گیا ” زیمل نین کو دیکھتی بولی جبکہ ۔۔۔ اسکی آنکھوں میں بڑے بڑے آنسو تھے ۔۔۔۔
تو مرہم بھی تم ہی رکھ دینا ۔۔ جہاں تک میں جانتیں ہوں ۔۔۔ وہ
کافی ایمپریس ہوں گے اگر تم مرہم رکھو گی تو ” نین ہنسی ۔۔
جبکہ زیمل کو بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا اچھا ریلکس ہو جاؤ ۔۔اور ناشتہ کرو باہر جا کر ” نین نے اسکا شانہ تھپتھپا یا ۔۔اور اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر لے آئ جبکہ ۔۔۔ ملازمہ کی بیٹی سے افشین کی چائے اسکے کمرے میں بھیجوا دی
۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین کا فون بہت دیر سے بج رہا تھا ۔۔ اسے لگا کبیر کا ہے وہ دوڑتی ہوہی اندر آئ ۔۔۔ آج بھی وہ اور زیمل ہی کوکینگ کر رہے تھے زیمل اس سے زیادہ اچھی کرتی تھی کوکینگ سب کچھ بنا لیتی تھی ۔۔صوفیہ نے پریشے پر بھی غصہ کیا کہ وہ۔۔ اب تک کچھ نہیں جانتی جبکہ زیمل کو تو سب کچھ آتا ہے ۔۔۔۔تو آج کچن میں پریشے بھی تھی ۔۔۔اور اسنے ہر چیز گیرہ گیرہ کر کام بڑھایا ہوا تھا ۔۔۔
وہ اندر روم میں آئ
۔۔۔اف بہت غصہ کریں گے” نین نے سر پر ہاتھ مارا مگر کبیر کا نمبر نہیں تھا اسنے چونک کر دوبارہ کال اٹینڈ کر لی ۔۔
ہائے لیڈی نین” احمد کی خوش باش آواز سپیکر پر ابھری ۔۔۔
نین کو جیسے یقین نہیں آیا اسنے دوبارہ کان پر سے موبائل ہٹا کر نمبر دیا ۔۔۔
تمھارے پاس میرا نمبر کیسے آیا ” نین حیران تھی ۔۔۔
ہاہا ہا ہا کیا یہ مشکل تھا ” احمد ہنسا۔ ۔۔
خیر میرے پاس تمھاری ایک چیز ہے ۔۔ کافی قیمتی بھی لگتی ہے ” احمد نے بریسلیٹ کو غور سے دیکھا ۔۔۔۔
نین کی حیرانگی میں مزید اضافہ ہوا کہ اسکے پاس ایسا کیا ہے ۔۔۔
اب تم سوچ رہی ہو گی کہ میرے پاس تمھارا کیا ہے ۔۔۔ تو اپنی کلائیوں کو تو چیک کرو ہو سکتا ہے کسی کے پیار کی نشانی ہو ” وہ پھر سے ہنسا اور نین ۔۔ کے دماغ پر جیسے بلاسٹ ہوا ۔۔۔
م۔۔۔میرا بریسلیٹ تمھارے پاس کیسے آیا ” وہ چلائ ۔۔ اور پھر منہ پر ہاتھ رکھ گئ کہ جاتی تو کیا ہوتا ۔۔۔
آہستہ آہستہ نین ۔۔۔ کوئ سن لے گا ۔۔۔” احمد نے چالاکی سے کہا ۔۔۔کیوں کر رہے وہ تم ایسے میرے ساتھ ” نین نے بے بسی سے پوچھا ۔۔اب تو اسکے دل میں کبیر کے لیے کچھ جذبات پیدا ہوئے تھے اور وہ اسکی بے پناہ محبت کو نفرت میں بدلتے کیسے برداشت کرتی تبھی لا چاری سے بولی ۔۔۔
زیادہ کچھ نہیں بس تمھاری طلاق ‘ وہ ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔
نین سکت رہ گئ ۔۔۔۔
تم تم میں” نین ہکلائ ۔۔
ہاں ہاں تم تم میں ۔۔۔۔ اب تم میرے پاس آرہی وہ مجھ سے ملنے اور یاد رکھنا ۔۔۔۔ مجھے ہر حالت میں تم کل اپنے پاس چاہیے ہو کہتے ساتھ اسنے جھٹکے سے فون بند کیا ۔۔۔۔
جبکہ نین فون جو ہاتھ میں تھامے بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
یا اللہ ” بھیگی نظروں سے اسنے اوپر کیطرف مدد طلب نظروں سے دیکھا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
