Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 36

سب اسکے پاس موجود تھے ۔ مگر انکی نظروں میں ہمدردی دیکھ کر۔۔۔ اسکو اپنا آپ جیسے بے مول سا لگا جیسے اسکی تو کوئ وقت ہی نہیں تھی ۔۔۔۔
کبھی باپ نے پلٹ کر اسکی صورت نہیں دیکھی اور وہ ۔۔ ہمیشہ سے ۔ انھیں لوگوں کے ٹکڑوں پر پلی ۔۔۔۔ ماں کے وجود کو محسوس کرنے کی عمر آئ تو وہ لمس آس پاس نہیں تھا ۔۔۔ کوئ بہن بھائ کوئ ہمدرد کوئ ایسا بھی نہیں تھا جس سے اپنی تکلیف باٹتی ۔۔۔کہ وہ کیا محسوس کرتی ہے۔۔۔ وہ کس قرب سے گزرتی ہے جب وہ تنہا رہ جاتی ہے
۔۔ خاموش نظروں نے ایک نظر میں ہی سب کے جھکے سر ۔۔۔اور ترس بھری آنکھوں کو غور سے دیکھا ۔۔تھا ۔۔
عارض اسکی زندگی کا وہ شخص تھا ۔۔۔۔ جس کے لئےوہ اندھے کنوئیں میں بھی چھلانگ لگا لیتی اور آف نہ کرتی۔۔۔۔
اسکا ہر جزبہ عارض کے لیے اتنا سچا اور گھیرہ تھا کہ اگر وہ جان جاتا تو رشک کرتا کہ آیا کہ وہ اس قابل تھا۔۔۔۔۔ ؟؟
اسکے اندر سے اٹھتی عارض کے لیے محبت آنکھوں سے چمکتا جنون کیا کبھی اسے نظر نہیں آیا ۔۔۔۔
شاید وہ اپنی رہتی زندگی میں۔۔ گزشتہ رات وہ کبھی بھول پاتی جو اسکی زندگی میں ا کر گزر چکی تھی جس کا کوئ حساب کتاب نہیں تھا جس کے بارے میں اس سے پوچھنے والا کوئ نہیں تھا کیونکہ وہاں سب آسکے اپنے تھے
آیت کا کون تھا ۔۔۔۔۔
کوئ تھا کیا۔۔۔ اگر آواز لگاتی ۔۔۔۔۔ کسی اپنے کے لیے
تو وہ جانتی تھی دور دور تک بھی کسی اپنے کی آواز سنائ نہیں دیتی۔۔۔اب اسکےانسو یہ بے بسی ۔۔۔۔ سہتے سہتےتھک گئے تھے ۔۔۔۔
وہ چپ ہو گئ تھی۔۔۔۔
یہ بچہ اسکا گناہ تھا ۔۔۔اور اگر اس کی قسمت میں اسکے باپ کا لمس نہیں تھا تو نہیں تھا ۔۔۔ کیا ہو گیا۔۔وہ تو نہیں مری زندہ باپ کے ہونے کے باوجود اس حالت میں رہ کر ۔۔
تو اسکی بیٹی بھی نہیں مرے گی
کس بات کی فکر تھی
۔اس دنیا میں جب وہ جی لی تو ۔۔اسکی بیٹی بھی جی لے گی ۔۔۔
صوفیہ کھانے کا انتظام کر لو ۔۔دیکھو شام ڈھل آئ ہے اب ۔”تنزیلہ نے اسکیطرف دیکھ کر۔۔۔کہا تو نین اور زیمل کو شرمندگی سی ہوئ
ہم بنا لیتے ہیں آپ لوگ آیت کے پاس بیٹھیں ۔” نین نے کہا ۔۔۔۔۔ اور جلدی اسے اٹھنے لگی زیمل بھی سر ہلا کر ساتھ اٹھی تھی صوفیہ تنزیلہ نے تینوں کو غور سے دیکھا تھا۔۔۔۔
ہر ایک اپنی جگہ پر نگینہ تھی ۔۔۔۔۔۔ مدیھا کی تینوں بہوئیں ۔۔۔
جیسے موتیوں کیطرح تھیں ۔۔۔
حسن سے چمکتی ہوئیں مالا مال
۔۔
ان دونوں نے اپنی نگاہ پھیر لی ۔۔۔
میرے پاس کیوں بیٹھنا ہے میں بیمار نہیں ہوں ۔۔۔۔ اور ویسے بھی بھوک مجھے بھی لگی ہے ۔۔۔۔ ” آیت اپنی جگہ سے کہتی اٹھی
۔۔ سب ایکدم حیران کن نظروں سے اسکو دیکھنے لگے ۔۔۔
جو اپنے بے داغ شفاف پاوں میں چپل پہن رہی تھی
۔ چپل پہن کر وہ بنا کسی کی جانب دیکھے۔۔ اپنے کمرے سے باہر نکل گئ پیچھے ان سب نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔
زیمل کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری ۔۔۔
اگر ایت۔۔ ہمت کر چکی تھی تو کتنا اچھا تھا نہ کہ وہ اسکیطرح بے بس نہیں ہوئ ۔۔۔
ہاں اگر اسنے ۔۔ کچھ سوچ لیا تھا تو ۔۔ بہت اچھاسوچا تھا۔۔۔
مرد کے ہونے سے معاشرہ کیا صرف عورت کو قبول کرے گا بھلے وہ مردخود اس عورت کو تنہا کر دے۔۔۔ زلیل کر دے۔۔
نہیں ایساکچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔
عورت کی اپنی ایک الگ حثیت بھی ہے ۔۔۔
اسکی اپنی شخصیت بھی ہے جو ۔۔۔ بعض مردوں کے گھٹیا پن سے۔۔ مسک ہو جاتی ہے۔۔وہ اپنی سوچوں میں غلتان سب سے پہلے آیت کے پیچھے نکلی تھی جبکہ نین نے دکھ سے عارض کے بارےمیں سوچا تھا۔۔۔۔
نہ جانے وہ کس مصیبت میں اتنی بڑی بے وقوفی کر گیا تھا ۔۔۔
اور آگے جا کرا سے کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔۔۔ اسے دکھ ہوا تھا تبھی وہ افسردہ سی ۔۔۔۔ خود بھی انکے پیچھے ا گئ جب کہ سب سے پیچھے صوفیہ اور تنزیلہ اتریں تھیں دونوں ہی خاموش تھیں ۔۔
آیت کچن میں ا گئ۔۔۔ زیمل اور نین کی جیسے زبان پر تھا ۔۔۔ کہ اس سے کہیں کہ تم باہر چلی جاؤ ہم کھانا بنا لیتے ہیں وہ کچن میں بھی بہت کم آتی تھی ۔۔۔۔ اور ۔۔ سالار اور کبیر کی تو لاڈلی تھی ۔۔ اور شاید گھر میں باقی لوگوں کی بھی کہ سب اسکی تکلیف کو اسکے درد کو محسوس کرتے تھے۔۔اسےکبھئ کسی کام کے لیے نہیں کہا ۔۔اور نین اور زیمل کو بھی کوئ مسلہ نہیں تھا ۔۔وہ دونوں خود ہی بنا لیتیں مگر آیت نے بنا کسی کا آسرا تکے ۔۔ اپنے لیے کھانا بنانا شروع کر دیا۔۔۔ا
ور انداز ایساتھا کہ ان دونوں کی ہمت ہی نہ پڑی ۔۔ کہ اسے کچھ کہہ سکیں ۔۔۔
ا
وہ دونوں بھی بناکچھ بولے ۔۔ سب کے لیے کھانا بنانے لگی۔۔ جبکہ تنزیلہ صوفیہ بھی ساتھ مدد کر رہی تھیں ۔۔۔
کہ پیچھے سے افشین بھی ا گئ۔اور ایکدم آیت تک پہنچ کر اسنے آیت کے ہاتھ سے سامان کھینچاتھا ۔۔۔۔
یہ تم کیوں کر رہی ہو ۔۔ یہ دونوں کیااس گھرمیں مفت کی روٹیاں توڑنے آئیں ہیں یہ دونوں بنائیں گی ۔ میری بچی تم باہر چلو ۔۔۔ تم بھلہ ان کاموں کو کیوں ہاتھ لگاؤ گی ” افشین اسے پیار کرتی بولیں زیمل کو تو عادت تھی ۔۔۔ اس بے عزتی کی ۔۔ یہ شاید اسکا دماغ اب ان باتوں کو ایکسیپٹ کر چکا تھا ہاں البتہ نین کا چہرہ پل میں سرخ ہو گیا تھا ۔۔ زیمل کیطرف اسنے غصے سے دیکھا جو بے حس بنی۔ یہ بکواس سن کر بھی اپنے کام میں ۔مگن تھی ۔
نین نے تلملا کر۔افشین کیطرف دیکھا آیت بھی افشین کیطرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
چچی ۔ آپ بھی تو اصولا اسی کام کے لیے آئ تھیں مفت کی روٹیاں توڑنے تو آپ بھی نہیں آئیں تھیں ” نین نے چھری شیلف پر پٹختے ہوئے ۔ بڑے ضبط سے افشین کیطرف دیکھا۔۔
افشین تواسکے منہ پھٹ ہونے پر ۔۔۔۔ بھڑک ہی گئ۔۔ زیمل نے نین کو حیرانگی سے دیکھا تھا وہ کیسے بول اٹھی تھی ۔۔۔۔
اور نہ ہی زیمل یہاں مفت کی روٹیاں توڑ رہی ہے۔۔۔۔
خیر
زیمل تو ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہے جن کے شوہر انھیں پلکوں پر بیٹھاتے ہیں ۔۔۔ آپ کو نہ جانے ہم کیوں اتنا چبھتے ہیں ۔۔”
لگام ڈالع اپنی زبان کو بد لحاظ لڑکی ” افشین پھاڑ کھانے کو دوڑی ۔۔
بلکل درست کہہ رہیں ہیں چچی نین بھابھی۔۔۔۔۔
آپکو سرٹیفیکیٹ نہیں مل گیا ۔۔۔۔ واسطہ بلواسطہ ۔۔۔ زیمل بھابھی یہ کسی دوسرے پر اٹیک کرنے کا ۔۔۔۔۔
اور آپکی مہربانی ہو گی مجھ سے ہمدردیاں نہ کریں ۔۔۔۔”
یہ آیت کے الفاظ تھے ۔۔ ششدر ہونا تو سب کابنتا تھا۔۔ساکت نظروں سے سب آیت کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔
گویا جیسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ دیکھ رہے ہوں ۔۔۔۔
آیت دوابارہ سے اپنے کام کو لگ گئ ۔۔۔
افشین کی آج سے پہلے اتنی بے عزتی کبھی نہیں ہوئ تھی جتنی اسنے آج محسوس کی تھی ۔۔۔۔
گویا کہ اسکے پاس کچھ الفاظ نہیں بچے تھے
۔۔ زیمل افشین کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔اسکی نظروں میں کوئ تاثر نہیں تھا گویا وہ اسکی اس بے عزتی پر خوش ہوئ تھی یہ کچھ اور نہ اسکی ایسی عادت تھی ۔البتہ آج بھی افشین کو دیکھ کر دل کا خوف ختم نہیں ہوا تھا ۔۔۔
جبکہ افشین کو اسکی نظریں سرا سرمزاق اڑاتیں لگیں ۔۔۔۔
اور اپنے اندر اس آگ کو سموئے ۔۔۔۔ وہ خاموشی سے اس وقت یہاں سے نکل گئ تھی ۔۔۔۔
ایت ۔۔ سینڈویچیز بنا کر باہر ٹیبل پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
اصل آیت کو دیکھ کر سب حیران تھے ۔۔۔۔
نین اور زیمل نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔ پھر بولنے کی کچھ ہمت نہیں ہوئ ۔۔۔۔۔ تو وہ دونوں جلدی جلدی کھانا بنانے لگیں
۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرتضی صاحب کمرے سے نکلے ۔۔۔۔ طبعیت بوجھل تھی تبھی افس جانے کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا ۔۔۔۔
مگر باہر نکلتے ہی سیدھا نظر آیت پر گئ جو۔۔ ٹیبل پر بیٹھی ۔۔ سینڈویچ کھا رہی تھی ۔۔۔۔
جبکہ۔۔ صوفیہ نے اسکے آگے فروٹس بھی رکھے ۔۔۔
تھنکیو ” اسنے مسکرا کر کہا تھا ۔۔۔ ہاں یہ حیران کن تھا ۔۔
مگر اتنا بھی عجیب نہیں اگر حالات اس رخ جا رہے تھے تو یہ سب بہترین تھا ۔۔ وہ چہرے پر نرم مسکان لیے اسکے نزدیک ا گئے ۔۔۔۔
اور اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
کیسا ہے میرا بچہ ” وہ بولے اور چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گئے ۔۔۔۔
ایت انکیطرف دیکھ کرمسکرائ ۔۔۔
میں ٹھیک ہوں تایا ابو “آیت نے کہا ۔۔۔۔
یہ تو بہت اچھی بات ہے۔۔۔۔۔۔۔ ” وہ مدھم سا ہنسے ۔۔۔۔
میں بھی شئیرکر لوں ۔۔ سیریسلی بہت بھوک ہے”مرتضی بولے تو آیت اپنی ہنسی دبا گئ ۔اور انکے سامنے رکھی پلیٹ پر۔۔۔ سینڈویچ رکھا جبکہ نین اور زیمل کو سخت شرمندگی ہوئ ۔۔
بابا میں کھانا لگا دیتیں ہوں ۔۔ کھانا بلکل ریڈی ہے ” نین نے کہا تو مرتضی نے سر ہلایا۔۔
یہ حقیقت تھی انکی تینوں بہوئیں ۔ خوبصورت ہونے کے ساتھ خوب سیرت بھی تھیں البتہ بیٹوں کے بارےمیں انکی کوئ خاص اچھی رائے نہیں تھی ۔۔۔
زیمل چونکہ جھجھکتی تھی تبھی اسنے چپ چاپ انکے آگے کھانا لگانا شروع کر دیا ۔۔
پریششے اور عمل نے نین کو ٹیبل پر دیکھا تو دوڑتیں ہوئیں اس تک آئیں اور دونوں نے پیچھے سے اسے بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔۔۔
آیت ایکدم چونک سی گئ ۔۔۔۔
اور مسکرا دی۔۔ مرتضی بھی مسکرائے ۔۔ایسالگ رہا تھا رفتہ رفتہ گھر پر پڑے اندھیرے سائے ختم ہوتے جا رہے ہیں ۔۔۔۔
دونوں نے آیت کے گال پر پیار کیا تو وہ شرما سی گئ ۔۔۔۔
اب مجھ پر مکھن لگانا بند کرو ” آیت نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
تھینک گاڈ تم ۔۔۔ ٹھیک ہو ۔۔”
ہاں میں ٹھیک ہوں ” وہ بولی آنکھوں میں عجیب تاثر سا ا گیا ۔۔۔۔
سب نےاسکیطرف دیکھا تھا ۔۔۔۔
پریشے نے جلدی سے ۔۔ بات بدل لی۔۔
بھابیز لگتا تھا آج تو بھوکا مار دیں گی آپ دونوں ” پریشے دھڑک سےچئیر پرگیری اور اب احساس ہوا تایا ابو سامنے بیٹھیں ہیں اور اسکی حرکتوں پر ہنس رہے ہیں
وہ شرمندہ ہو اٹھی۔۔۔۔۔
ریلکس رہو بیٹا ۔۔۔ آج میرا ویسےبھی اپنی بیٹیوں کے ساتھ رہنے کا ارادہ ہے ۔۔ سارے بچے جلدی سے ا جاو۔۔۔ کھانا کھانے “انھوں نے نین اور زیمل کو بھی کہا ۔۔۔۔
تو ۔۔۔ عجیب سی خوشی کی لہر سی دوڑ گئی ۔۔ سب میں
صوفیہ تنزیلہ نے جلدی جلدی کھانا لگا دیا ۔۔۔
شام تو ہو ہی چکی تھی ۔ بس مغرب تک سب ہی گھر کے مرد گھر لوٹ آتے ۔۔۔
وہ سب ٹیبل پر بیٹھ گئیں ۔۔۔
خوش ایکسائٹیڈ سی ۔۔۔
اور سب نے کھانا کھانا شروع کیا ۔صوفیہ اور تنزیلہ بھی ساتھ بیٹھ گئیں مغرب ہونے کو آئ تھی کھانا تو کسی نے نہیں کھایا تھا ۔۔
تبھی بھوک بھی بھت لگی تھی ۔۔۔ جبکہ مدیھا اور زین ابھی زین کے روم میں تھے
تایا ابو ۔۔” ایت کئ آواز پر سب نے اسکیطرف دیکھا
وہ آیت جو بیقوقت دو لوگوں کے دیکھنے سے گھبرا اٹھے وہ آج ان سب کی نظروں کے سامنے جمی بیٹھی تھی ۔۔
وہ ایکچلی “وہ گھبرا نہیں رہی تھی۔۔۔ بس الفاظ تلاش رہی تھی۔
نہ جانے اپنے لفظ کم حثیت سے کیوں لگ رہے تھے ۔۔۔۔
اسکا یوں لفظ تلاش کرنا سب کو ۔۔۔ دوبارہ سے۔۔۔ افسردہ کر گیا ۔۔۔۔کتنا خوش رہنے لگی تھی وہ ۔۔۔
مرتضی نے کھانا چھوڑ کر اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
بولو ۔۔۔۔ ” انھوں نے کہا ۔۔۔۔
آیت نے اپنے آنسوں کو حلق میں ہی بے دردی سے اتار لیا ۔وہ ایک انسو بھی ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
میں چاہتی ہوں ۔۔ کہ میں ۔۔۔ آفس میں جاب کروں ۔۔۔ ” اسنے آہستگی سے یہ الفاظ کہے تھے ۔۔
وہ جانتی تھی مرتضی کو یہ بات بلکل نہیں پسند۔۔۔۔
سب کی اگلی نظریں مرتضی پر تھیں ۔۔۔
اچھا فیصلہ ہے ۔۔۔۔ میری جان ۔۔۔۔ تم جو چاہو وہ کرو مگرا سکو جاب کا نام مت دینا وہ تمھارااپناافس ہے۔۔۔۔
کل سےتم میرے ساتھ چلو گی اوکے”یہ کبیر کی آواز تھی ۔۔۔۔۔
سب نے۔۔ کبیر کی جانب دیکھا تھا ۔۔ایت نے مرتضی اور پھر کبیر کو دیکھا ۔۔۔ مرتضی کچھ نہیں بولے تھے چہرے پر ۔۔۔ زرا ناگواری کا تاثر تھا
کبیر نے اسکے سر پر پیار کیا تھا ۔۔۔
آیت کی آنکھوں میں پھر سے پانی بھرنے لگا ۔۔۔ نہیں وہ رونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ کبیر نے اسکی دونوں آنکھیں صاف کی ۔۔
اور نین نے جلدی سے اسکے لیے چئیر چھوڑ دی ۔۔۔
کبیر اس چئیرپر بیٹھ گیا ۔۔۔
اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر ۔۔اسنے اسکی آنکھوں سے نکلتےخاموش آنسوں کو اپنے انگوٹھے سے صاف کیا مگر آنسو تھے کہ۔۔۔ بے تابی سے بندتوڑتے جا رہے تھے ۔۔۔
جو ہوا اسے ایک بھیانک خواب سمھجہ کر بھول جاو۔۔۔۔۔
زندگی ہمیشہ ایک ڈگر پر نہیں چلتی ۔۔۔۔۔
اور تم ان فضولیات کے لیے پیدانہیں ہوئ ہو ۔۔۔
میرے نزدیک تمھارے ہر فیصلے کی اہمیت ہے ۔۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں تم خوش رہو ۔۔۔اور اگر آفس جوائن کرنے سے تمھیں خوشی ملتی ہے تو تمھاری خوشی کے لیے ۔۔۔ مرتضی ہاؤس کے اصول بھی توڑ دیے جائیں گے ۔۔۔۔
اور میرے نزدیک یہ اچھا اپشن ہے۔۔تمھاری ڈگری ۔۔۔
کسی گدھے پرضائع ہونے کے لیے نہیں ۔۔۔
مزید مت رونا ۔۔۔۔ نہ تم اکیلی تھی پہلے نہ ہو ۔۔۔۔
جب تک کبیر زندہ ہے تمھارے سامنے کھڑا ہے اگر تمھیں یقین ہو تو۔۔۔ ” وہ معمولی سا شکواہ بھی کر گیا ۔۔۔ آیت اسکے دونوں ہاتھ تھام کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔
وہاں کھڑے سب لوگوں۔ کی آنکھوں میں لاتعداد آنسو بھر ا ئے ۔۔۔۔۔
وہ کچھ نہیں بولی تھی ۔۔۔
بس بے بس سا ایک لفظ نکلا تھا ۔۔۔۔
میرے ساتھ ایسا کیوں بھیا ” کبیر نے اسکو سینے میں جکڑ لیا گویا اپنے مظبوط بازؤں کا احساس دلایا تھا۔۔۔۔
ریلکس آیت ۔۔۔ بھول جاؤ ۔۔۔ سب ۔۔۔۔ ” وہ اسے بچوں کی طرح سمبھال رہا تھا ۔۔۔۔۔
نین اسپر اور کس کس طرح فدا ہوتی ۔۔۔۔
اپنے آنسو صاف کرتے ۔۔اسکا دل اسکی محبت سے لبریز ہونے لگا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں اس ہوٹل کے نزدیک پہنچے ۔۔۔
تو اسکا پی آںے اس سے پہلے اترا تھا ۔ جبکہ سالار نے پینٹ میں گن چھپا کر ۔۔۔ شرٹ اوپر ڈال لی ۔۔۔۔
یہ ایک تھکا دینے والا عمل تھا مگر سوال اسکے بھائ کا تھا ۔۔۔
اگر تو وہ غلط نکلا تو ۔۔ لازمی عارض پشتائے گا۔۔۔
مگر تب بھی وہ اسکی جان نہیں چھوڑے گا اور اگر ویسا ہی ہوا جیسا ۔۔ وہ سوچ کر یہاں تک آیا ہے ۔۔۔ تب بھی وہ عارض کو بخشنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔
البتہ صورتیں الگ تھیں بس ۔۔۔
کان میں بلو ٹوتھ لگائے وہ ۔۔۔ افان سے رابطے میں تھا جو نزدیک ہی تھا ۔۔۔
ان دونوں نے وہاں کھڑے ہو کر افان کا انتظار کرنامناسب سمھجا ۔۔۔
کچھ دیر بعد اسکی گاڑی ایک جھٹکےسے رکی ۔۔۔
ان تینوں کے چہروں پر بلا کی سنجیدگی ۔۔اور کرختگی تھی ۔۔۔
وہ
ہوٹل ریسپشن پر ۔۔۔ انھوں نے روم نمبر معلوم کیا مگر وہ اسے روم نمبر دینے کے لیے تیار نہیں تھے ۔۔۔۔
سالار کی لاکھ کوشش کی باوجود دوسری طرف صاف انکار تھا۔
۔ سراپ سمھجیں ہم اس طرح کسی روم کی انفارمیشن نہیں دے سکتے ۔۔
اوہ یو باسٹرڈ ۔۔” وہ ایکدم بھڑکا اور اس سے پہلے اسکاگریبان پکڑ لیتا افان نے اسے پیچھے کھینچا اس آدمی کا ٹیمپر اتنا لوز تھا کہ کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا ۔۔
افان نے سالار کو پیچھے کیا اور خود ریسیپشن بوائےسے بات کرنے لگا ۔۔۔۔ اور اسنے ۔۔۔ لاکھ روپے اسکی ٹیبل پر رکھ کر اسپر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔
وہ لڑکا ۔۔اچانک گھگھیا سا گیا ۔۔۔۔اور تمام رومز کی انفارمیشن انکے سامنے رکھ دی ۔۔۔
سالار جبکہ اسے آنکھوں سے گھور گھور کر ختم کر دینا چاہتا تھا ۔۔۔۔
ہوٹل زیادہ بڑا نہیں تھا تبھی انھیں عارض کی انفرمیشن اندازے سے ملی تھی کیونکہ پورے ہوٹل میں صرف ایک ہی لڑکی تھی جس کا نام انگریزی تھا ۔۔۔
اور اسی بات پر انھوں نے اس لڑکے سے کیز لی آگے وہ اندر وہی نکلتی یہ نہیں وہ نہیں جانتے تھے وہ تینوں فورا۔۔۔ روم نمبر 89 کیطرف دوڑے جو کہ فیفتھ فلور پر تھا ۔۔۔۔۔
لفٹ پر سوار ہو کر ۔۔ وہ فورا اوپر پہنچ جانا چاہتے تھے ۔۔۔اور جیسے ہی وہ تینوں فیفتھ فلور پر پہنچے اور انھوں نے روم نمبر 89 کو تلاشہ ۔۔۔
روم نمبر 89 کے باہر کھڑے ہو کر ۔۔۔۔ وہ اس روم م
کو تینوں ہی گھور رہے تھے ۔۔۔
مگر انھیں تھمنا پڑا اندر سے آوازیں ا رہیں تھیں سالار اور افان نےا یک دوسرے کیطرف دیکھا ۔۔۔۔۔۔
اور تینوں نے کان ۔۔۔ دروازے سے لگا دیے ۔۔۔
آواز بے حد ہلکی ا رہی تھی جیسے اندر کوئ چیخ رہا ہو ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو تمھیں یہ لگا کہ میں تمھاری جان بخش دوں گی ۔۔ ابھی تو تم یہاں تک پہنچے ہو وہ بیچ اسکی گردن اتار دوں گی میں ” انگلیش میں جینی ۔۔۔۔ غصے سے بھڑکتی بولی تھی ۔۔عارض کو تین دیو ہیکل گارڈز نے جکڑا ہو اتھا اور جینی کے حکم پر ۔۔وہ اسکے جسم کے کسی بھی حصے پر مارنا شروع ہو جاتے۔۔عارض نے لہو رنگ آنکھوں سے اسکو دیکھا ۔۔
یہ اسکی غلطی تھی جو آج اسی کے سامنے آئ ہوئ ۔۔تھی۔اور اس کا سامنا وہ اپنے گھر کے ایک فرد سے بھی نہیں کرانا چاہتا تھا ۔۔۔۔۔
جینی عارض کے نزدیک آئ ۔۔۔اور اسکے بال جکڑ کر پیچھے جھٹکا دیا ۔۔۔۔۔
تمھاری آیت کو ان کتوں کے سامنے پھینک دوں گی ۔۔۔ میں اگر تم نے ۔۔۔ مجھے تیس کروڑ نہ دیے تو ” وہ آنکھیں نکالتی بولی ۔۔۔
جبکہ عارض ۔۔۔ بھپر گیا ۔۔۔
تم (گالی) اگر آیت کا نام بھی اپنے منہ سے نکالا تو جان سے مار دوں گا ” وہ دھاڑا ۔۔۔۔
بڑی آگ ہے تمھارے دل میں اسکے لیے “جینی نے اسکے چلانے پر کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ مارا اگر وہ ۔۔۔ ان گارڈز میں جکڑا نہیں ہوتا تو جینی کا قیمہ بنا دیتا ۔۔۔۔۔
اسنے بمشکل یہ تھپڑ ساہا تھا جبکہ باہر کھڑے ۔۔۔۔ لوگں کے تن بدن میں آگ لگ گئ سالار نے بنا کچھ دیکھے دروازے میں چابی گھمائ ۔۔اور دروازہ دھاڑ سے کھول کر ۔۔۔ وہ اندر داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔
جینی ایکدم پلٹی ۔۔ جبکہ عارض کی حالت دیکھ کر
۔۔ جیسے سالار آپے سے باہر ہو گیا اسنے بناکچھ سوچے سمھجے ۔۔ جینی کے منہ پر کھینچ کھینچ کر کئ تھپڑ مارے۔۔ جیسے کسی کے بھی حرکت سے پہلے ۔۔اور اسکی گردن اپنے سخت ہاتھ کی گرفت میں بھر کر دبا دی گرفت اتنی سخت اور طاقت اتنی تھی کہ جینی کی انکھیں ابل آئیں ۔۔۔۔
تیری اتنی ہمت” وہ دانت کچکا کر بولا
دوسری طرف اسکے تین گارڈز عارض کو چھوڑ کر ۔۔۔ جیسے ہی سالار پر جھپٹنے لگے پیچھے سے افان اور سالار کے پی آئے نے ۔۔انھیں ۔۔۔ اپنی طاقت کے مطابق روکنا چاہا ۔۔۔ جبکہ عارض ۔۔۔ ایکدم
زمین پر گیرہ تھا اسکے سر پر سے خون نکل رہا تھا جبکہ ناک میں سے بھی ۔۔۔۔ اور چہرے پر کئ نیلے نشان تھے ۔۔۔۔
افان اور سالار کا پی آئے ان دیو ہیکل گارڈز سے لڑنے سے قاصر تھے تبھی عارض نے ۔۔۔۔ روم سروس یوز کرتے ہوئے ۔۔
نیچے سے سکیورٹی بولا لی ۔۔۔
افان عارض ایک پل کے لیے جینی کا سرخ چہرہ اور ساکت آنکھیں دیکھ رہا تھا جبکہ ۔۔۔ سالار کے ہاتھ کی سخت پھولی ہوئ رگیں اور چہرے پر بلا کی کرختگی ۔۔۔اور غراہٹ ۔۔۔ دیکھ کر ۔۔۔۔ وہ دنگ تھا اسکی سوچ میں بھی نہیں تھا کہ کوئ اس تک پہنچے گا مگر یہ اسکے سوچنے کا وقت نہیں تھا وہ ۔۔۔ جیسے ہی ان گارڈز کیطرف بڑھا ۔۔ گارڈز نے گن نکال لی ۔۔ مگر فائر نہیں کر سکے ۔۔کیونکہ۔ نیچے سے سکیورٹی بھی پہنچ گئ تھی اور عارض نے ۔۔ اسکی گن پر لات مار کر گن ہاتھ میں لے لی ۔۔
نہ جانے کس نے اس ہنگامے کو دیکھ کر ۔۔پولیس کو کال کر لی تھی۔۔ وہ تینوں گارڈز مار رہے تھےا فان کو ۔۔۔۔ پولیس کے آنے سے پہلے سالار نے جینی کو دور جھٹکا اور خود بھی ۔۔
بیچ میں کود پڑا اور جیسے چاروں نے مل کر ان گارڈز کا بھرکس بنا دیا ۔۔
پولیس بھی پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔
اور اسنے سب کو اریسٹ کر لیا ۔۔۔۔۔
ان چاروں کے بھی چوٹیں لگیں ہوئیں تھیں جبکہ ۔۔۔ گارڈز کے بھی جینی وہاں۔ سے فرار ہونا چاہتی تھی مگر ۔۔۔ سالار کی نگاہ سے بچ نہیں سکی ۔۔ اور پولیس نے جینی کو بھی اریسٹ کر لیا ۔۔۔
مگر اصل مصیبت سالار کے لیے تھی لوگ اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے کون تھا جو اسے نہیں جانتا تھا ۔۔۔
یہ سکینڈل اسکو بھاری پڑنے والے تھا ۔۔ جبکہ سرخیوں میں آنا کہاں مشکل تھا ۔۔
ایک لائن ہی تو بنننی تھی ۔۔
مشہور موڈل ایکٹر ۔۔۔ اور ابھی سنگینگ کی دنیا میں قدم رکھنے والے سالار مرتضی پولیس حراست میں ۔۔۔ ایک لڑکی کے سبب۔۔۔ “
اگر وہ عارض کا خون بھی پی جاتا تو ۔۔۔ بھی کم تھا۔۔
وہ چاروگارڈز اور جینی سمیت سب ۔۔پولیس کے ساتھ پولیس موبائل میں سوار ہو گئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات ڈھل آئ تھی۔۔سالار واپس نہیں لوٹا تھا ۔۔۔ زیمل کو بے چینی ہو رہی تھی وہ ۔۔۔ باہر لون میں نکل آئ ۔۔۔۔
اب اسکی یاد بھی آنے لگی تھی ۔۔ آج جب ۔۔۔نین نے ۔۔۔ اسکے بارے میں کہا ۔۔کہ وہ ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہے جن کے شوہر انھیں آنکھوں پر بیٹھا کر رکھتے ہیں تو وہ ایک گھیری سوچ میں اتر گئ تھی ۔۔
اس کا ماضی قابل زکر بلکل نہیں تھا ۔۔۔۔۔
اسکا باپ آج بھی اسے بیچ دیتا اگر وہ۔۔اسے کہیں مل جاتی ۔۔۔
سالار وہ شخص تھا جس نے اسے ۔۔۔۔ تحفظ دیا تھا ۔۔۔
نہ وہ اس سے پیار کرتا تھا ۔۔۔ اور نہ شاید وہ اتنی خوبصورت تھی ۔۔اور سب سے بری عادت وہ کتنا ڈرتی تھی لوگوں سے۔۔۔
اور اسکے برعکس جب وہ سالار پر نگاہ ڈالتی تو شاید وہ واقعی خوشقسمت تھی ۔۔
ایک دنیا جس کوچاہتی تھی وہ اسکا تھا ۔۔۔۔
آنکھ بھر کر اسکو دیکھ سکتی تھی حق سے اسکو چھو سکتی تھی۔۔۔۔۔
مگر وہ اسکے قابل نہیں تھی ۔۔۔۔۔۔
اسکا ماضی افشین تھی ۔۔۔اور یہ ہی حقیقت تھی ۔۔۔۔ وہ کبھی اسکو وہ ماضی بھولنے نہیں دے گی ۔۔۔ زیمل جانتی تھی ۔۔۔
اسنے گھیرہ سانس بھرا ۔۔اج دل اسے پکار رہا تھا خود سے کے وہ سامنےا۔ جائےاچانک ۔۔اسی طرح صبح اس سے بحث ہو گئ ۔۔۔۔
اور وہ کیسے پٹ پٹ سب بول گئ تھی اسے دکھ ہوا
وہ کبھی اتنی بدتمیز نہیں تھی۔ پھروہ۔ سالار کے ساتھ کیسے بدتمیزی کر گئ ۔۔جبکہ وہ غصے میں ا گیا تھا ۔۔اسکے لیے اسے گھر والے بھی بہت اہم تھے ۔۔
پھر سب گھر والے اسے ۔۔۔ کیسے۔۔۔ سرپر اٹھائے پھیرتےتھے ۔۔۔
وہ بہترین انسان تھا ۔۔جبکہ خود وہ ادھوری ۔۔ کئ ٹکروں میں بٹی ۔۔۔
خود کو سنبھالتی گرتی سنبھلتی بس ایک عام سی لڑکی ۔۔
وہ انھیں سوچوں میں گم تھی کہ اچانک اسے احساس ہوا کوئ اسکے پیچھے کھڑا ہے ۔۔۔۔
زیمل مڑی ۔۔۔ اور اپنے پیچھے افشین کو دیکھ کر ۔۔ایکدم اسکا سانس رکا تھا ۔۔۔۔ اور سر جھکتا چلا گیا ۔۔۔۔
بہت خوشی ملی ہے آج تجھے “افشین نے اسپر جھپٹنا چاہا ۔۔ کہ زیمل چلا کر اس سے دور ہوئ ۔۔۔
میڈیم ۔۔۔ دور دور رہیں ۔۔۔ م۔۔۔میں سالار سے ۔۔۔ کہ۔۔۔کہہ دوں گی ” وہ اٹکتے ہوئے ہمت بناتی بولی ۔۔۔۔
افشین اس دھمکی پر اسکی شکل تکنے لگی ۔۔۔۔
تیرے جسم پر اتنے نشان ہیں کہ وہ تجھے دیکھ کر تھوکے گا ۔۔سمھجی تو ۔۔۔۔ اگر تجھے لگتا ہے تو حور پری ہے اور وہ تیرے ساتھ ساری زندگی گزارے گا ۔۔ تو بہت بڑی بیوقوف ہے تو ۔۔۔۔
وہ تجھے ۔۔۔۔ اپنی زندگی سے ۔۔۔ نکال باہر پھیکے گا ۔۔ زرا گور سے کبھی خود کو تو دیکھ ۔۔۔
میرے بیٹے نے بھی تیرے جسم پر
۔۔۔۔ اچھے نقشے بنائے ہیں ۔۔۔۔ ہاہاہاہاہاہاہاہا ۔۔
توگندی نالی کا بس ایک کیڑہ ہے تو سالار مرتضی کے خواب دیکھنا بند کر دے ۔۔۔ کیونکہ جلد تو اس محل سے دھکے دے کر نکلنے والی ہے ” افشین اسکے نزدیک تو نہیں آئ تھی مگرا سکی خوف سے پھٹی پھٹی آنکھوں میں اپنے الفاظوں سے اٹھتا ڈر اور کانپتا وجود دیکھ کر اسکے دل کو تسکین ملی تھی۔۔ سر جھٹک کر وہ اسکے پاس سے چلی گئ جبکہ
زیمل نیچے بیٹھتی چلی گئ ۔۔۔۔۔
واقعی کبھی اسنے خود پر گور نہیں کیا ۔۔۔ تھا ۔۔۔۔
تیز ہوا نے اسکے بال بکھیر دیے ۔۔۔۔ اور سفید چمکتے چہرے سے اڑتیں بالوں کی لٹیں ۔لبعں کے بلکل نزدیک چمکتا مگر بے بس تل کو اسکے حسن کو روشن کر دے اور بھی ۔۔۔سرخ ناک ۔۔۔۔ کانپتے ہونٹ ۔۔۔ ڈرا سہما وجود جو خود میں ہی سمیٹنا چاہ رہا تھا ۔۔۔ وہ آنکھوں کو چھاپا کر رو دی ۔۔۔۔
لبوں پر بس ایک نام سدا کیطرح تھا ۔۔
سالار ۔۔۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے