Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 43

پورے گھر میں ایکدم ہنگامہ مچ گیا تھا نیا ۔۔۔
سب کے چہروں کی خوشی ۔۔۔ اور پرجوشی دیکھنے لائق تھی ۔۔بس ان میں ایک چہرہ تھا جو مرجھایا ہوا تھا اور وہ تھا ۔۔ نین کا جو فورا واپس لوٹ آئے تھی خوف کے سبب کے کہیں وہ اسکو اپنی زندگی سے نکال نہ دے نہیں نہیں وہ اس سے الگ کیسے ہو گی ۔۔ اسکی جان نہ نکل جائے ۔۔
مگر وہ نین کے لیے خوش بھی تھی ۔۔
شاید انکی زندگی میں آنے والا ایسا مہمان اپنی ماں کے مسائل کو حل کر دے ۔۔ تبھی وہ خوش بھی تھی ۔۔
مدیھا کے پاؤں تو زمین پر نہیں ٹک رہے تھے ۔۔۔ وہ فورا ۔۔ صوفیہ تنزیلہ اور نین کے ساتھ ہسپیٹل پہنچی تھی ۔۔جبکہ پریشے اور ۔۔ عمل نے بھی جانے کی ضد لگائ ہوئ تھی ۔۔۔جس پر ۔۔۔ سب نے انھیں کچھ دیر بعد کا کہہ کر ٹال دیا تھا ۔۔۔
وہ سب ہسپیٹل پہنچے آیت ۔۔۔ اندر روم میں تھی سب بچے اور اسکی ماں کے لیے دعا گو تھے۔۔اور بمشکل انتظار کے بعد ۔۔۔ ایک پیاری سی روئ کے گالے جیسسی بچی نرس نے انکے ہاتھ میں لا کر تھما دی۔۔۔۔
جبکہ مدیھا نے خوشی سے اسے چوم لیا ۔۔۔
سب کے چہرےخوشی سے تمتما رہے تھے ۔۔ جبکہ عراض کو تو یقین ہی نہیں ا رہا تھا وہ اسکی بیٹی تھی بلکل آیت جیسی تھی ۔۔
گھر کے مردوں کو بھی اطلاع ملی تو وہ سب پہنچ گئے ۔۔
مدیھا عارض کو مسلسل پیار کر رہی تھی جبکہ عارض کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔
واقعی یہ صرف ایت کی محنت تھی ۔۔
اسنے آیت کو بہت تکلیف دی تھی اس بچے پر اس سے زیادہ آیت کا حق تھا ۔۔۔
اسنے بچی کے گال پر پیار کیا تو بچی رونے لگی ۔ اور کبیر نے اسے تھپڑ لگا کر الگ کر دیا
تمیزتو تم میں نام کی بھی نہیں ہے” اسنے کہا اور مسکرا کر بچی کو لے لیا نین کی نظریں بس کبیر پر تھیں
کبیر نے بھی نین کی جانب دیکھا خاموش نظریں تھیں ۔۔کوئ تاثرنہیں تھا نین کو لگا اسکا دم گھٹ جائے گا اس سرد مہری سے ۔۔
اسنے اپنے آنسو چھپا لیے ۔۔ اور اس جشن میں اچانک کبیر کو یاد آیا ۔۔ کہ سالار کو اطلاع نہیں دی ۔۔۔
مرتضی اور باقی سب بھی ا گئے سب بچی کو ۔۔لے رہے تھے دیکھ رہے تھے پیار کر رہے تھے ۔کبیر نے سالار کو فون کیا مگر وہ فون اٹھا نہیں رہا تھا ۔۔
وہ جانتا تھا وہ کتنا ضدی ہے۔۔ مگر یہ خبر بھی تو بہت اہم ہے ۔۔وہ بار بار ٹرائے کرتا رہا مگر
۔ سالار نے فون کال نہیں اٹھائ۔
بھیا نے کال نہیں اٹھائ ” عارض بولا تو کبیر نے نفی کی
یار آیت کو دیکھائیں ۔۔” کبیر نے باپ سے بچی کو لے لیا
اوہ ہاں ہاں” سب ہنسنے لگے اور آیت کو جیسے ہی روم میں شفٹ کیا گیا ۔۔ روم میں لے گئے ۔۔۔۔
وہ سب بھی بچی کو لے کر روم میں ا گئے
عارض پیچھے ہو گیا جبکہ مدیھا نے آیت کے ماتھے پر پیار کیا اور اچانک وہ رونے لگی ۔
عارض میری بچی اس قابل نہیں ہے کہ تم مزید اسکو کوئ دکھ دو ” وہ بولیں تو عارض کا چہرہ شرمندگی سے جھک گیا
نین نے بھیگی پلکیں کھولیں عارض کا بس نہیں چلا ان پلکوں کی ساری نمی ۔۔ خود میں جزب کر لے۔۔
۔۔ اسنے سب کو دیکھا اور پھر اس بچی پر نظر گئ جومدیھا کے ہاتھ میں تھی ۔۔
اسنے آنکھیں دوبارہ بند کر لیں
آج شدت سے اسے اپنے ماں باپ کی یاد آ رہی تھی
اسنے گھیرہ گھونٹ حلق میں اتارا سب نے اسکی جانب دیکھا تھا سب اسکی کیفیت سمھجہ سکتے تھے ۔۔
عارض چاہ کر بھی اسکے نزدیک نہیں جا سکتا تھا ۔
مدیھا نے پھر سے اسکو پیار کیا
تائ امی ” آیت نے انکا ہاتھ پکڑ لیا
وہ جانتی تھی یہ اسکا رب کس طرح اسنےاس بچے کو خود میں رکھا تھا
اورکسی طرح اسکے وجود نے اسے ماں کا رتبہ دیا تھا
میری بچی بس اب مزید مت رو ۔۔ اب تمھارے رونے کے دن نہیں دیکھو کتنی پیاری ہے ” وہ بولیں جبکہ آیت نے آنکھیں نہیں کھولیں
پلیز بابا کو بلا لیں ۔۔بس ایک بار ” وہ بے بسی سے بولی
تو وہاں کھڑے ایک ایک فرد کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے
کبیر ماں کو ہٹاتا آگے بڑھا
گڑیا ۔۔۔ کیسی باتیں کر رہی ہو ۔۔۔۔
تمھیں بلکل ضرورت نہیں اس آدمی کی وہ تو شاید جانتا تک نہیں تم زندہ ہو یہ مر گئے ۔۔۔اور تم اپنی خوشی کو اس کے بارے میں سوچ کر برباد نہیں کرو گی ۔۔ چلو شاباش آنکھیں کھولو ” کبیر نے اسکو پچکارہ عارض سے بھی مزید برداشت نہ ہوا ۔۔۔۔ اور جیسے ہی اسنے آگے بڑھ کر آیت کا ہاتھ تھامہ ۔۔۔ آیت نے آنکھیں کھول لیں ۔۔
سیدھی نظر آیت پر گئ ۔
جس نے سب کے سامنے اسکی ہتھیلیوں کو چوما تھا ۔۔
بہت خاص ہو تم میرے لیے ” وہ جزبات سے چور لہجے میں بولا جیسے بھول گیا ہو سارا خاندان کھڑا ہے اسکے اردگرد
میں مانتا ہوں میں نے جو کیا غلط کیا اور اگر میں یہ کہوں کے میں نے تمھیں بچانے کے لیے یہ سب کیا تھا ۔۔ تو شاید تم مانو گی نہیں ۔۔ تو میں اپنا قصور مانتا ہوں ۔۔۔ اور آج آخری بار بس مجھے ایک موقع اور دے دو ۔۔۔
میں تمھارے بنانہیں رہ سکتا ۔۔۔۔ اور میں اپنے بچے کے بنا بھی نہیں رہ سکتا “۔۔ عارض کے الفاظ پر آیت اور بھی پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔
تبھی نین بھی آگے بڑھی ۔
آیت تمھاری زندگی کی نئ شروعات ہے تم ایک موقع دو عارض کو ۔۔۔۔ ” نین نے اسکو پیار سے کہا ۔۔۔
تو آیت خاموش ہو گئ وہ کچھ نہیں بولی تھی ۔۔۔
اسنے اٹھنے کی کوشش کی اور اپنی بچی کو بازؤں میں بھر لیا
اسکے صبر کا پھل تھا یہ جس طرح وہ اپنی بچی کو چوم رہی تھی سب ہی اشک بار نظروں سے اسے دیکھتے رہے عارض بھی وہیں کھڑا تھا آیت نے اسکی جانب دیکھا
نہیں معاف کروں گی میں آ پکو اور یہ بلکل آپکی بیٹی نہیں ہے صرف میری ہے” وہ جیسے آنکھیں نکال کر بولی
ایکدم سب ہنس پڑے
باقی کا منانا ۔۔۔۔ اب تم پر ہے ” نین نے شرارتی نظروں سے عارض کو دیکھا
جو مسکرا دیا تھا
اوہ سالار کو بہت مس کر رہا ہوں میں ” کبیر نے کہا
تو مرتضی جو کب سے یہ محسوس کر رہے تھے ۔۔۔
سر ہلا گئے ۔۔۔
وہ ڈھیٹ کبھی نہیں اٹھائے گا فون ” انھوں نے زرا غصے سے کہا
سب مسکرا دیے
سکندراور افشین دونوں ہی نہیں تھے۔۔ یہاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین گھر لوٹا ۔۔۔تو اسے خبر ملی ۔۔ تو فورا اسنے بھاگنے والی کی تھی کبیر نے افان کو بھی اطلاع دے دی تھی ۔۔۔
اور آج اسکی ماں اور وہ دونوں ا رہے تھےا فان تو اکثر آتا رہتا تھا مگر ۔۔۔ اسکی والدہ ۔۔عرصے بعد ا رہیں تھیں ۔۔۔
سب گھر والے خوش تھے
تم ہمیں لے جاؤ ” پریشے نے زین کو دیکھا
کس خوشی میں میرا ارادہ نہیں اتنے وزن کو لے جانے کا ۔۔۔
تم لوگ کسی اور کے ساتھ جانا ” زین نے ہری جھنڈی دیکھائی ۔۔۔
کتنا بدتمیز ہے یہ انسان” پریشے نے اسکی جانب دیکھا جبکہ عمل تو اس واقعے کے بعد زین کی بات نہ سنتی تھی اور نہ ہی کرتی تھی ۔۔۔
زین نے دونوں کو اگنور کیا اور تیزی سے باہر بھاگا کہ ۔۔کسئ سے زور دار ٹکرایا ۔۔۔
کہ جس سے وہ ٹکرایا تھا وہ تو دور جا گیری
زین حیران رہ گیا اس دھان پان سے وجود پر جو ۔۔ سر تھامے زمین پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔
اسنے جھک کر دیکھا
اور رمشہ کو دیکھ کر وہ ۔۔ شاکڈ کی سی کیفیت میں رہ گیا
پریشے اور عمل فورا رمشہ تک پہنچیں تھیں
تم ٹھیک ہو ۔۔ اس ہاتھی کو تو چلنے کی تمیز ہی نہیں” پریشے نے کہا ۔۔
جبکہ عمل نے بھی زین کو گھورا
مجھے کیا پتہ تھا آگے سے مولی ا رہی ہے” زین نے ۔۔ جیسے برسوں بعد اسی نام سے اسے چھیڑا تھا ۔۔
افشین وہاں ا گئ تھی اور رمشہ شاید دنیا کی پہلی لڑکی تھی وہ اپنی ماں کو پسند نہیں کرتی تھی اور جب وہ نانو کے گھر آئیں تو اسنے بابا سے ضد کی کے وہ ۔۔ یہاں انا چاہتی ہے
افشین اسے گالیاں دیتی رہی کوسنے دیتی رہی اور وہ ۔۔
یہاں ا گئ ۔۔۔
اسنے زین کیطرف دیکھا تھا ۔۔
زین بڑی بڑی آنکھوں کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
جن میں معمولی سی نمی تھی ۔۔
رمشہ کو پریشے اور عمل نے اٹھایا ۔۔
اور اسے اندر لے گئیں۔ جبکہ ۔۔
زین اس نازک مزاجی پر مسکرا دیا ۔۔۔۔۔
اور اچانک اسے یاد آیا وہ چاچو بن چکا ہے ۔۔وہ دوڑ کر نکلا تھا گھر سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار ضروری کال آنے پر جا چکا تھا ۔۔۔۔
زیمل اپنا چہرہ دیکھ رہی تھی جس پر ایک نیلا نشان تھا ۔۔ وہ شرما سی گئ ۔۔
کیساانسان تھا وہ ۔۔ لاپرواہ ۔۔ ہر جزبے میں بے دھڑک۔
ہر اظہار میں بے دھڑک
اسنے ۔۔۔ بال سنوارے ۔۔۔ اور اچانک بیل بجنے لگی
وہ جلدی سے باہر بھاگی سالار واپس لوٹ آیا تھا
وہ بھاگی ۔۔۔ دروازہ کھولا ۔۔ تو وہ پیٹھ موڑے کھڑا تھا ۔۔۔۔
اور اسکی پشت پر پھولوں کا بکے تھے
کون ہیں آپ ” زیمل شرارت سے بولی ۔۔۔
آپکی جان” وہ ادا سے مڑا ۔۔۔ اور اسکے آگے پھول کیے ۔۔۔
زیمل پیچھے ہو گئ ۔۔۔اور اندر ا گئ ۔۔۔
یہ آپکو کس نے بتایا ” اسنے زرا خفگی سے کہا گال پر بڑا واضح نشان جو تھا خفگی بنتی تھی
ویسے میں تمھیں کہہ رہا ہوں ۔۔۔ تم میرے حسین لمہوں کو ضائع کر رہی ہو ” سالار سنجیدگی سے بولا ۔۔
زیمل اسکے سنجیدہ ہونے پر ۔۔۔ خود بھی سنجیدہ ہو گئ ۔
جبکہ سر بھی جھک گیا
آنکھیں پٹپٹانے لگی
سالار اسکی معصومیت پر فدا ہوتا چپکے سے اسکے نزدیک ہوا۔۔
اور اسے بانہوں میں بھر لیا ۔۔۔
لگتا ہے لڑکی راضی ہے” وہ بولا ۔۔۔۔
ن۔۔۔نہیں میں نے ایسا کچھ نہیں کہا ” زیمل تو گھبرا اٹھی ۔۔۔
کسی دن میرے دماغ پر جن چھڑے نہ تو۔۔ تمھاری ایسی کی تیسی” وہ گھور کر بولا ۔
زیمل اسکے بازؤں سے نکلی تھی
۔ جبکہ سالار نے نفی کی ۔۔
پلیز چھوڑیں” وہ جھجھکتی بولی
پکڑا کب ہے ۔ تم ہی چپک رہی ہو ” سالار نے آڑے ہاتھوں لیا ۔۔زیمل اسکے شانے پر مقرہ مار گئ
آپ کتنا تنگ کرتے ہیں”
لو میں نے تنگ کیا ہی کب ہے ۔۔۔” اسنے سر جھٹکا اور ۔۔۔ زیمل کے احتجاج کرتے ۔۔۔ وجود کو خود میں قید کرتا ایکدم ا سکے چہرے پر جھکا
زیمل۔کی آنکھیں پھٹ سی گئیں
اسکے لمس سے دل تیزی سے دھڑکا
سالار نےا یک ہاتھ سے اسکی آنکھیں بند کر دیں
جبکہ دوسرا ہاتھ۔ اسکی گردن میں حائل کر کے وہ ۔۔ موم کیطرح پگھلتی زیمل کو مزید پگھلانے لگا
زیمل خود میں اتنی ہمت نہیں پاتی تھی اسے دور کر سکے
وہ اپنی خواہش کو بڑی محبت سے پورا کر رہا تھا
لمہے سرک رہے تھے
ماحول میں خمار بڑھ رہا تھا
محبت کرتے دل ایک دوسرے کے سنگ۔ تھے
اور اس ماحول کی سحر انگیزی۔۔
موبائل کی وائبریشن نے توڑی
سالار تو پیچھے نہیں ہٹا البتہ زیمل نے جھٹکا دیا
کوئ ڈیش چیز ہو تم” وہ غصے سے چلایا
زیمل جبکہ کمرے میں بھاگ گئ
سالار نے فون دیکھ ا اور کبیر کی کال غصے سے اٹینڈ کر لی
جاری ہے