Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 46

چارو طرف سکوت چھا گیا تھا ۔۔ کبیر سب سے پہلے ہوش میں آہا اور اسکے ساتھ ہی زین اور عارض تینوں نے اس آدمی کا گریبان جکڑ کرا سکے منہ پر کبیر نے مکہ کھینچ کر مار دیا ۔۔ جبکہ عارض نے سعیر کے کھینچ کر تھپڑ مارا اور اسی طرح زین بھی تینوں ان دونوں پر ایکدم ایسے پڑے ۔۔۔۔ کہ وہ اپنا بچاؤ کرنے لگے ۔۔
یہ جھوٹ نہیں ہے یہ سچ ہے ۔۔۔۔۔” وہ آدمی چیخا۔۔۔۔۔
جبکہ کبیر نے تھپڑوں سے اسکا منہ سرخ کر دیا
۔سب گھر والے باہر نکل آئے تھے ۔۔۔ اس جھوٹ پر تو وہ سامنے والے کی جان لے لیتے ۔۔ مدیھا بھی وہاں بھاگ کر آئ تھی ۔۔ مرتضی اتنے مظبوط مرد تھے ۔۔۔ کبھی انھوں نے انھیں روتے نہیں دیکھا تھا زندگی میں جتنی بھی پریشانیاں آئیں تھیں انھوں نے وہ ہمت سے فیس کی تھی اور آج اس جھوٹ پر وہ کیسے رو رہے تھے ۔۔۔
مدیھا نے مرتضی کا ہاتھ تھاما کیا ہو گیا ہے مرتضی آپ ۔۔۔ ایسے کیوں رو رہے ہیں بکواس کر رہا ہے یہ آدمی ہمارا بیٹا ہے ۔۔۔ وہ ” مدیھا بولی ۔۔ جبکہ سب بھائیوں نے ۔۔ کبیر عارض اور زین کو ان دونوں سے دور کیا ۔۔۔۔
سالار آگے بڑھا اور اس آدمی کے ہاتھ سے ۔۔اسنےو ہ پیپر لے لیا ۔۔۔ جو پروو تھا ۔۔۔۔
وہ غور سے اس پیپر کودیکھتا رہا ۔۔
پاگل ہو گئے ہو کیا بکواس دیکھ رہے ہو ” کبیر نے اسکے ہاتھوں سے پیپر چھینا ۔۔۔
ایک منٹ” اسنے کبیر کیطرف سرد نظروں سے دیکھا اور مرتضی کیطرف بڑھا ۔۔۔۔
مرتضی سالار کو اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھ رہے تھے انکا بس نہیں چل رہا تھا وہ کہیں بھاگ جائے ۔۔ مگر وہ انکے سامنے ا گیا ۔۔۔۔
وہ انکو دیکھنے لگا ۔۔ مرتضی کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔
تم میرے بیٹے ہو سالار ” وہ جلدی سے بولے اور اٹھ کراسکا چہرہ تھام لیا ۔۔۔
سچ کیا ہے ” وہ انھیں دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
یہ یہ ہی سچ ہے ۔۔” مرتضی بولے ۔۔۔ انکا بس نہیں چل رہا تھا سالار کو چھپا لیں سب سے ۔۔۔
سالار نے انکے آگے برتھ سرٹیفیکیٹ کیا جس میں سالار کی ولدیت ۔۔ مختلف تھی ۔۔۔
یہ سب جھوٹ ہے تم صرف میری بات کا یقین کرو ۔۔۔۔ سالار میں ہی تمھارا باپ ہوں اور تم سے بے حد محبت کرتا ہوں ۔۔۔” وہ بولے ۔۔
جھوٹ بول رہے ہو ۔۔۔ جھوٹ بول رہے ہو ۔ سچ بتاؤ تمھارا بیٹا مر گیا تھا جبکہ تم
بس چپ” مرتضی چیخے
تم سچ کیوں نہیں بتاتے ” وہ آدمی بھی چیخا ۔۔۔
تم نے کسی سے کسی کی اولاد چھینی تھی مرتضی “
آج تمھیں اولاد کا احساس ہوا جبکہ تم
۔۔ نے ہی یہ آفر کی پھر میرے کہنے پر ہی مان لیا تھا کہ ہاں تم اپنا بیٹا بیچو گے ” وہ دھاڑے ۔۔۔۔۔
جبکہ سب سن ہو گئے ۔۔۔
مرتضی نے اچانک اپنے لفظوں پر گور کیا ۔۔۔۔ سارا گھر انکیطرف۔ دیکھ رہا تھا ۔۔ جبکہ سعیر مسکرا دیا ۔۔۔۔
وہ آدمی بھی مطمئن سا دیکھ رہا تھا ۔۔
سالار کے ہاتھ سے پیپر چھٹا ۔۔۔ تھا پیپر ہوا میں اڑ گیا ۔۔
وہ لالچی آدمی نزدیک آیا ۔۔۔ اور سالار کا ہاتھ تھام لیا تم میرے بیٹے ہو سالار ۔ تم میرے اور تمھاری ماں وہ بہت یاد کرتی ہے تمھیں ” وہ سعیر کے پلین سے ہٹ کر اب بول رہا تھا یعنی سالار اتنا امیر تھا ۔۔۔ آگرو ہ انکے ساتھ رہنے لگا ۔۔ تو کیا ہی بات ہے ۔۔۔۔۔
سالار نے ناگواری سے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے چھڑا لیا ۔۔۔۔
مدیھا نے مرتضی کیطرف دیکھا۔۔
مرتضی کیا ہے یہ سب ” وہ بے چینی سے بولیں انکا دل بری طرح دھڑک رہا تھا
بابا یہ تو آپ سچ بتا دیں ورنہ میں ان سب کو پولیس اریسٹ کرا دوں گا ” کبیر چلایا تھا پورے گھر میں اسکی دھاڑ ۔۔۔ اٹھی تھی
سب ہی تو منتظر تھے مرتضی کے بولنے کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر کے بعد مدیھا کی طبعیت بہت خراب رہنے لگی تھی اور ۔۔ جبکہ ہمارے گھر ایک اور خوشی بھی آنے والی تھی ۔۔
میں بے حد خوش تھا ۔۔۔۔۔ اور جس دن وہ ہمارے ہاتھ میں آتا ۔۔۔ ڈاکٹرز نے میرے آگے پیپر کر دیا
۔۔کیس کومپلیکیٹیڈ تھا ۔۔۔۔
یہ تو بچہ بچتا یہ بیوی ۔۔۔۔
میں ڈاکٹر کی شکل دیکھنے لگا ۔۔۔۔ ڈاکٹر سے دونوں کو بچانے کے لیے فورس کیا مگر انھوں نے کہہ دیا پھر آپ کہیں اور لے جائیں ۔۔ میں جانتا تھا مدیھا ۔۔ کتنی حساس ہے بچوں کے لیے اور میں ایک پل کے لیے اسکی آنکھوں میں آنسو نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔ میں نے اپنی بیوی کو بچانا تھا میں نے سائین کر دیے ۔۔۔
جب وہ ہوش میں آئ تو بار بار اپنے بچے کا پوچھنے لگی میں نے بہت ٹالنا چاہا مگر سچ بتانے کی ہمت نہیں ہو سکی ۔۔
اس دن میں مرضا میرے پاس آیا ۔۔۔۔
میں کچھ سوچ سمھجہ نہیں پا رہا تھا میں نے غصے میں اسے فورا اپنے پیسے ۔۔۔ لینے کی ڈیمانڈ کی
اسی ہوسپیٹل میں مجھے پتہ چلا مرضا کے ہاں بیٹا ہوا ہے ۔۔ جبکہ مرضا میں جانتا ہوں کتنا گھٹیا اور لالچی آدمی ہے ۔۔۔۔
اسنے میرے فورس کرنے پر ۔۔۔۔بس اتنا ہی کہا کہ میرا بیٹا ہے اسے لے لو اور میری جان چھوڑو ۔۔۔
اس بات پر میں ایکدم متوجہ ہوا ۔۔۔
مدیھا کی طبعیت ۔۔ ڈاکٹرز کا فورس کہ وہ کافی زہنی برڈن کا شکار ہو جائیں گی ۔۔۔
میں نے حامی بھر لی جبکہ اس لاچی آدمی نےا یک پل بھی نہیں لگایا الٹا مجھ سے قرضہ معاف کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بیوی نے بچہ دینے سے پہلے ۔۔۔ مجھ سے مزید پیسے مانگے ۔۔۔ جسے میں نے دے دیے ۔۔ یہ دونوں گھٹیا ہیں ۔۔۔۔
سانپ ہیں اپنی ہی اولاد بیچی تھی انھوں نے مجھے ۔۔۔۔
انکی زندگی میری دی رقم سے ۔۔ سکون سے گزرتی شاید بچہ تو انھیں چاہیے بھی نہیں تھا ۔۔ جبکہ میں نے مدیھا کے سامنے سالار کو کر دیا ۔۔۔۔
میں جانتا تھا ہم اسے بہت محبت کریں گے۔۔۔۔ اور مجھے
وہ چپ ہو گئے انکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔
میں نے یہ بات سب سے چھپائی تھی ۔۔ اس بات کو کوئ نہیں جانتا تھا سوائے میرے ۔۔۔
زندگی میں ایک لمہہ بھی ایسا نہیں گزرا جب میں نے تم میں اور باقی سب میں فرق کیا ہو ۔۔۔
الٹا جان بستی تھی تم میں ۔۔۔ کہیں تمھیں کبھی پتہ نہ چل جائے ۔۔۔۔۔
ساکت نظروں سے شاکڈ کی کیفیت میں سب مرتضی کو سن رہے تھے ۔۔۔
مرتضی چپ ہو گئے جبکہ سب نے سن کھڑے سالار کیطرف دیکھا ۔۔۔۔۔
یہ سچ ہے سالار تم میرے بیٹے نہیں بس اس حد تک کہ تمھیں تمھاری ماں نے نہیں ایک لالچی اور پیسوں کی حیرص بھری عورت نے جنم دیا ۔۔۔ مگر تم میری اولاد ہو تمھیں میں نے پالا ہے تمھاری ماں نے پالا ہے ۔۔۔
وہ اسکے سامنےا۔ گئے ۔۔
سالار کو لگ رہا تھا اگر وہ اگلا سانس بھی لے گا ۔۔ تو وہ سانس بھی اسے بتا دے گا کہ وہ تو اسکا ہے ہی نہیں ایسی دغا دے گا ۔۔۔۔
سالار نے مرتضی سے نظریں پھیر لیں ۔۔۔۔ یہ نظروں کا پھیر مرتضی کی جان پر بن گیا
اور اس بھیڑ میں سرخ نظروں سے کھڑی ۔۔۔ زیمل کیطرف دیکھا ۔۔۔
شاید کوئ تھا تو اب بس وہ تھی اسکی ۔۔۔
وہ مرتضی کے پاس سے ہٹ کر ۔۔۔ زیمل کے سامنے آ گیا ۔۔ گھیری سانس ایسی کھینچی کے خاموشی میں بس اسکی سانس گونجی تھی ۔۔۔
چلو ” اسنے زیمل کا ہاتھ پکڑا ۔۔
زیمل نے سب کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
وہاں کھڑے سب لوگوں کی نظروں میں آنسو تھے اسے کھو دینے کا ڈر تھا اسے ۔۔۔ بتانے کے لیے زبانیں بے تاب تھیں کے وہ سب اس سے کتنی محبت کرتے ہیں اور کیسے یہ مرتضی ہاؤس اسکے بنا ویران ہے مگر زبانوں پر قفل ۔۔۔۔ تھا
سعیر ا ور اسکا باپ نکل چکے تھے چپکے سے جبکہ وہ آدمی زرا فاصلے پر کھڑا تھا یہ سب ٹوپی ڈرامہ ضبط سے دیکھ رہا تھا جبکہ سالار تو اسے اے ٹی ایم لگ رہا تھا ۔۔۔
اتنا امیر تھا وہ ۔۔۔۔
سعیر سے پیسے لینے کے بجائے پیسے بنانے والی مشین ہی کیوں نہ بلیک میل کر کے ساتھ لے جائے
۔۔۔
زیمل نے سالار کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ نکال لیا ۔۔۔
سالار نے چونک کر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
ہم یہیں رہیں گے سالار ۔۔۔ اکھٹے اپنوں کے ساتھ ۔۔۔۔
یہی ہمارے ا پنے ہیں” زیمل نے بمشکل اپنی بات پوری کی تھی ۔۔
سالار اپنے خالی ہاتھ کو دیکھتا گیا ۔۔۔
ایک نظر غور سے اسکو دیکھا ۔۔۔۔
اور پھر پیچھے پلٹ گیا ۔۔۔۔
سالار ۔۔۔۔۔” وہاں کتنوں نے اسے آواز دی تھی جبکہ سالار مرتضی مرتضی ہاؤس سے بنا کچھ سنے بنا کچھ دیکھے ۔۔۔۔
نکل گیا وہ آدمی اسکے پیچھے بھاگا تھا سالار اپنی گاڑی میں بیٹھا ۔۔
پورا گھر اسے پورچ میں نظر آیا تھا دوڑ کر آتا ہوا ۔۔۔ جس میں سب سے آگے گھبرائے ہوئے پریشان سی زیمل تھی
جبکہ مرتضی زمین بوس ہو گئے تھے ۔۔ اور سالار نے گاڑی آگے بڑھا لی ۔۔۔۔شاید ان سب نے اسے آخری بار دیکھا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس رات بہت پی تھی اسنے بے حد ۔۔ پی اتنی پی کہ ۔۔۔ صبح ہو گئ ۔۔۔ شراب پی کر وہ اپنے زہن سے سب کچھ نکال دینا چاہتا تھا ۔۔وہ اپنے فلیٹ نہیں گیا تھا جانتا تھا وہاں سب ا جائیں گے ۔۔۔
شراب پی پی کرا ب تو اسک انکھیں بھی نہیں کھل رہیں تھیں ۔ فیروز نے اسکی جانب ۔۔ بڑی ازیت سے دیکھا تھا جس نے آنکھیں بند کر کے سر پیچھے ڈال دیا ۔۔۔۔
اور اسکی بند آنکھوں میں سے گالوں پر ۔۔۔ آنسو گیرنے لگے ۔۔
فیروز نے پہلی بار دیکھا تھا یہ پانی اسکی آنکھوں سے نکلتے ہوئے ۔۔وہ بے حد ضدی تھا ۔۔ اپنی ضد کا پکا ۔۔۔۔
اور وہ سب کچھ جان چکا تھا ۔۔۔۔
فیروز کے لیے یہ جان کاری اتنی مشکل تھی تو جس پر یہ بیتی تھی اسکی حالت ایسی بنتی تھی
سالار نے سر تین بار جھٹکا اور گلاس سے سارا پانی اپنے اندر اتار لیا ۔۔۔۔
سر فلائٹ کا ٹائم ہو گیا ہے ” فیروز نےا چانک کہا ۔۔۔۔
تو اسنے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
جاؤ کچھ دیر کے لیے یہاں سے ” سالار بھاری آواز میں بولا اسکا گلا خراب ہو چکا تھی شراب کی زیادتی سے ۔۔۔۔
فیروز چپ چاپ اس کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
یہ ایک مہنگے بار کا کمرہ تھا ۔۔۔۔۔
فیروز باہر ایسے نکلا کے ۔۔ وہیں کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
وہ اسے چھوڑ کر جا بھی کیسے سکتا تھا ۔۔۔۔
سالار نے اپنا سر ٹیبل پر ڈال دیا ۔۔۔ اور کانچ کے گلاس کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
گھیری خاموشی تھی چاروطرف۔۔۔۔
بے حد گھیری ۔۔۔۔۔۔
اچانک گلاس اسکی نظروں کے آگے دھندلا سا گیا ۔۔۔۔
آنکھوں میں پانی بھرنے کی وجہ سے گلاس دھندلا گیا تھا ۔۔۔۔
وہ ہنس دیا ۔۔۔ تکلیف سے ہنسنے لگا ۔۔۔
اور اچانک پیچھے صوفے پر سر ڈال کر زور زور سے ہنسنے لگا ۔۔۔۔
سالار ۔۔” اسنے بات ادھوری چھوڑ دی ۔۔۔۔
نہ آگے کوئ نہ پیچھے کوئ ۔۔۔
وہ سوچتا رہ گیا ۔۔۔
کون سا نام لگنا چاہیے میرے ساتھ ۔۔” وہ اب سوچنے لگا ۔۔
مرضا یہ مرتضی ۔۔۔۔
اچانک اسکی ہنسی سمٹ گئ ۔۔۔۔۔۔
یار فیروز ” اسنے فیروز کو پکارہ وہ پل میں اندر ا گیا ۔۔
یار پتہ تو کرو کتنے میں ہوا تھا میرا سودہ ۔۔” وہ پرسوچ نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
سر پلیز ۔۔اپ اس بارے میں نہ سوچیں ” فیروز کو وہ خود اذیتی کا شکار ہی لگا ۔۔۔۔۔
سالار اسکی جانب دیکھتا رہا اور اچانک اسنے ٹیبل پر ایک ہاتھ مارا تھا ۔۔۔ سارے گلاس اور تقریبا دس شراب کی بوتلیں زمین بوس ہو گئیں ۔۔۔۔
سالار نے ہاتھ جھاڑے ۔۔
چلو “بس اتنا ہی کہا ۔۔اور سیاہ ماکس لگا کر سر پر کیپ رکھ کر ۔۔ بلیک گاگلز لگائے وہ ۔۔۔۔ میڈیا سے بچ کر ۔۔۔ چلا گیا ۔۔۔
بہت دور سب سے دور ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے