Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 54

ایک سال بعد انھیں دیکھا تھا ۔۔۔۔ وہ جیسے بے تاب نظروں سے انھیں دیکھ رہا تھا ۔۔
لوگ اسکے لفظ اسکی نظر کی سمت دیکھنے لگے۔۔۔۔
مگر کوئ بھی مرتضی تک نہیں پہنچ سکا تھا ۔۔ جبکہ مرتضی کی نظریں بھی اسکی نظروں سے جا ملیں تھیں
بے تابی محبت ۔۔۔ کیا کیا نہیں تھا انکی نظروں میں ۔۔۔۔
سالار۔۔۔۔ بنا کچھ دیکھے سٹیج سے چھلانگ لگاتا اترا تھا ۔۔۔۔
لوگ ایکدم ۔۔۔۔ چلاتے ہوئے اسکیطرف بڑھے تھے لوگوں کی بے شمار بھیڑ میں وہ ان تک نہیں پہنچ سکا ۔ مگر سرخ نظریں انھیں پر تھیں
لوگوں نے اسکو گھیر لیا تھا اسکے ساتھ تصویریں لے رہے تھے ۔۔
زیمل اسکی اس حرکت پر ایکدم پریشان ہوئ
سالار کا آڈینس میں اترنا ۔۔۔۔ ایک ہنگامہ مچا گیا کہ لوگ وہاں سے بھی اتر اتر کر اسکے پاس بھاگنے لگے
زیمل اس بھگدڑ پر پریشانی سے۔۔ ادھر ادھر دیکھنے لگی
وہ لوگوں کو ہٹا رہا تھا ۔۔ چ
فیروز ایکدم اس طرف دوڑا تھا اسکے گارڈز اسطرف دوڑے تھے ۔۔ وہ عوام کو چیرتے ہوئے ا س تک پہنچے تھے
مرتضی اس سے بہت دور تھے
ہنگامہ سا تھا ۔چارسو ہر طرف ۔۔۔
سالار نے نظروں نظروں میں ہی سختی سے جیسے باپ کو تھام رکھا تھا ۔۔
مرتضی کو دھکے لگ رہے تھے لوگ ان کی پرواہ نہیں کر رہے تھے
سر یہ آپ کیا کر رہے ہیں ” فیروز نےا سے جھنجھوڑا
بابا ۔۔ بابا کو پروٹیکٹ کرو ” وہ زر اغصے سے چلایا ۔۔
فیروز نے ایکدم ا سکی نظروں کی سمت دیکھا لوگ سالار تک پہنچنے کو بے تاب تھے تبھی مرتضی پریشان ہو چکے تھے کیونکہ ۔۔۔ لوگوں کے دھکے انھیں لگ رہے تھے فیروز جانتا تھا اسے اپنی پرواہ نہیں ہو گیا اس وقت وہی جسے وہ دیکھ رہا ہے اسی کی پرواہ کرے گا فیروز لوگوں کی بھیڑ چیرتا مرتضی تک پہنچا ۔۔۔۔
اور انھیں ۔۔۔ اپنے ساتھ وہاں سے نکالنے لگا
مگر مجھے سالار سے ملنا ہے ” مرتضی بولے ۔۔۔
جبکہ فیروزنے اانکے قریب اونچی آواز میں کہا
سر وہ ا جائیں گے آپ چلیں یہاں سے۔۔” وہ انھیں کو
نہ نہ کرنے کے باوجود زبردستی کھینچ کر ۔۔۔
وہاں سے نکال چکا تھا ۔۔ سالار۔۔۔ اب بھی اسی راستے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ لوگ اسکے ساتھ۔۔ تصویریں بنا رہے تھے وہ بیچ میں ۔۔۔ خاموش کھڑا تھا جیسے ۔۔۔ وہ ایک بار پھر سے پیچھے چلا گیا ہو ۔۔۔۔۔
اسکے گارڈز اسے جس سمت کھینچ کر ۔۔۔۔ لے جانے لگے وہ سمت چلتا گیا ۔۔۔۔۔
زیمل کہاں تھی وہ نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔ گارڈز اسے لوگوں کے بیچ سے نکال لائے تھے ۔۔۔
وہ ۔۔۔۔۔ اسے سٹوڈیو کے اندر لے جانے لگے ۔۔۔ سالار نے اپنا راستہ بدل لیا ۔۔۔۔۔
گارڈز اسکو روکنا چاہتے تھے مگر وہ بنا روکے ۔۔ وہاں سے ۔۔۔۔ باہر نکل گیا ۔۔۔ گاڑی میں سوار ہوا ۔۔اور ۔۔ نہ جانے کن راستوں پر وہ نکل چکا تھا ۔۔۔۔۔
پیچھے مرتضی زیمل ۔۔۔ اسکے سٹوڈیو کےا ندر انے کے منتظر تھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم نے کہا تھا وہ یہاں آئے گا کہاں ہے وہ ” مرتضی فیروز کا گریبان پکڑ کر چیخے
سر آپ گھر چلیں وہ ا جائیں گے ” وہ بولا
نہیں میرا بیٹا کہاں ہے و ہ چلا گیا میں اسکے پاس پہنچ جاتا تم نے مجھے دور کر دیا پھرسے اس سے ” وہ بس اس طرح تھے کے فیروز کے منہ پر تھپڑ مار دیتے ۔۔۔
تبھی زین پیچھے سے بھاگتا ہوا آیا ۔۔۔
بابا ” فیروز سے ان کو الگ کیا
بھائ کہاں ہے ” اسنے زیمل اور فیروز کیطرف دیکھا
زیمل خود بھی نہیں جانتی تھی پریشانی سے اسکی آنکھوں میں انسوں ا گئے ۔۔۔۔
جبکہ فیروز ان سب کو سمبھالنا چاہتا تھا بتانا چاہتا تھا کہ وہ یہاں سے چلیں سالار خور پہنچ جائے گا مگر مرتضی ہتھے سے اکھڑ چکے تھے بار بار فیروز کو مارنے کے لیے اٹھتے ۔۔۔۔
تبھی اچانک انکی نیت خراب ہو گئ
بابا ” زین اور زیمل ایکدم انکیطرف بڑھے
میں سب کہہ رہا ہوں سراپ لوگ گھر چلیں سر خود ا جائیں گے” فیروز نے کہا ۔ اور زین نے اسکی بات کا یقین کرتے ہوئے یہاں سے نکلنا مناسب سمجھا یہاں بہت شور بہت رش تھا ۔۔۔
اور ۔۔۔ میڈیا یہ اچانک بننےوالی صورتحال کوریج کرنے کے لئے بے تاب تھا ۔۔۔۔
مرتضی زین اور زیمل کو بمشکل فیروز لے کر وہاں سے نکلا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات رفتہ رفتہ اتر رہی تھی ۔۔۔۔ سیاہی آسمان پر پھیل رہی تھی ٹھنڈ بڑھ رہی تھی نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی زیمل مسلسل دعائیں مانگ رہی تھی سالار کے واپس ا جانے کی فیروز کے ساتھ زین نے جانا چاہا مگر ۔۔۔ فیروز اس کے کہنے سے پہلے ہی جل گیا ۔ا۔ور یہاں کے راستے زین جانتا نہیں تھا وہ سالار کو کہاں ڈھونڈتا
آپ نے کہا تھا آپ بھائ کو لے کر واپس آئیں گی” زین اسکے مگر ہو گیا جو خودبیٹھی رو رہی تھی
میں” اس سےکوئ بات نہیں بن پڑی ۔۔
مرتضی تو اس بھری نظروں سے صرف دروازے کو تک رہے تھے ۔۔
زین نے سر جھٹکا ۔۔۔۔
اور غصےسے زیمل کو دیکھا
زیمل اور بھی پریشان ہو گئ ساری بات کا قصور وار خود کو سمھجنے لگی ۔۔۔
اور ۔۔۔ فیروز لوٹ آیا ۔۔۔۔
مگر خالی ہاتھ
میں پتہ کرو آرہا ہوں سر کا ” مرتضی نے غصے سے فیروز کو دیکھا وہ خود پریشان تھا سالار ۔۔۔۔
اسطرح بچوں کیطرح بیہیو نہیں کر سکتا تھا اسے اندازا تھا وہ خود لوٹ آئے گا وہ انکو دیکھ کر اپنی کیفیت سے پریشان ہو گیا ہو گا مگر سنبھلتے ہی وہ لوٹ آئے گا ۔۔۔
زین اور مرتضی اسپر غصہ کرنے لگے بھڑکنے لگے رات مزید سرک گئ گھر سے فون پر فون آنے لگے
کہ کیا ہوا کیا بنی۔۔۔۔
یہاں تک کے سب نے فورس کیا کہ وہ ۔۔ وڈیو کال پرا۔ جائے مگر انھیں بھی بتایا گیا سالار نہیں ہے یہاں۔ ۔۔۔
سب کی آنکھیں اسے تک رہیں تھیں لوٹ آنے کی منتظر تھیں اسکے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اس وقت لندن بریج پر کھڑا تھا ۔۔۔
شہر رنگین تھا دنیا چل رہی تھی۔۔۔۔
وہ کیوں ا گئے تھے ” وہ سرخ نظروں سے آسمان کیطرف دیکھنے لگا ۔۔۔
انھیں نہیں انا چاہیے تھا ” اسنے ۔۔۔ اپنے اوپر جیسے بہت بوجھ محسوس کیا۔ ۔۔
خود میں عجیب خالی پن محسوس کیا وہ خالی پن جسے پر کرنے کے لیے سال بھراسنے جتن کیے مگر ایک لمہہ بھی ایسا نہیں گزرا کہ وہ ۔۔۔
اس خلا کو اس بات کو خود میں سے مٹا سکے ۔۔۔۔
دھوکا دیا تھا مرتضی نے اسے ۔۔ اتنا بڑا دھوکا ۔۔۔۔
وہ ڈیزرو نہیں کرتا تھا ۔۔ اسنے اپنا سر تھام لیا ۔۔۔
ان سب سے وہ بچ نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔
سارے حالات کا سامنا اسے کرنا تھا ۔۔۔ اسنے سرد سانس کھینچی تھی۔۔ اس سانس میں بے حد تکلیف تھی ۔۔۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھا اور گاڑی گھر کیطرف گھما لی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو پہلی نظر ۔۔۔ فیروز پر پڑی جو لون میں بیٹھا اسکاانتظار کر رہا تھا ۔۔۔
اسکے اندراتے ہی ایکدم اسکیطرف بڑھا
سر آپ کہاں چلے گئے تھے”فیروز اسکے پاس آیا
اندر کون ہے ” اسنے سرد لہجے میں پوچھا
سر بابا ہیں آپکے اور زین سر ہیں اور میڈیم ہیں ” اسنے بتایا
سالار سر ہلا کر اندر کی جانب بڑھنے لگا اسکے قدم بھاری ہو رہے تھے ۔ اور پھر بلآخر وہ اندر ا گیا
۔۔۔
دروازہ بند کر کے اسنے ان تینوں کو دیکھا مرتضی ایکدم اٹھے اور اسکے پاس بھاگ کر پہنچے اور اسے سینے میں ایسے بھینچا کے سالار بے بس ہو گیا وہ جو خود کو سمیٹ کر آیا تھا ۔۔۔۔
وہ انکے سینے سے لگا بکھرنے لگا ۔۔۔
مرتضی بچوں کیطرح رو رہے تھے
۔
مجھے معاف کر دو سالار میرے بچے میری جان میرے بیٹے مجھے معاف کر دو میں نہیں رہ سکتا تمھارے بنا نہیں ۔۔۔ رہ سکتا میں نے گناہ کیا یہ ۔۔ میں نے بہت غلط کیا تمھارے ساتھ نا انصافی کی میں نے ” وہ اسکے گھنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے مسلسل اس سے معافی مانگ رہے تھے جبکہ وہ انکے شانے پر سر رکھے چپ کھڑا تھا ۔۔۔
سالار کچھ تو بول ۔۔ مت کر اسطرح چپ ۔۔۔ میں جانتا ہوں یہ خاموشی تجھے اندر اندر ختم کر رہی ہے۔۔۔ مت رہ چپ ۔۔۔
تو جو چاہتا ہے سزا دی مجھے مگر ۔۔۔ دور مت رہ ۔۔ میں نے تجھے سگوں سے بڑھ کر سمھجا ہے ۔۔۔۔
میرا بیٹا ہے یار تو ” وہ اسکا سرخ آنسوں سے تر چہرہ اپنے ہاتھوں میں تھام کر بولے ۔۔ ایل سی ڈی پر چلنے والی وڈیو کال سے یہ منظر سب دیکھ رہے تھے۔۔ سب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔۔ زین ۔۔ ضبط کیے کھڑا تھا جبکہ زیمل مسلسل آنسو صاف کر رہی تھی
وہ نظریں جھکائے کھڑا رہا مرتضی کا دل پھٹنے کو تھاسالار مرتضی کبھی نظریں نہیں جھکاتا تھا۔
سالار ۔۔۔ تو نظر مت جھکا مجھ سے نظر ملا کر بات کر۔۔۔۔ کچھ تو بول”وہ بولے انکے چہرے پر تکلیف تھی مگر اس سے کئ گناہ بڑھ کر سالار کے چہرے پر تھی
کیا کہوں ” اسنے نظریں اٹھا کر مرتضی کو دیکھا تینوں بھائ بے چین ہو اٹھے تھے تڑپ اٹھے تھے جبکہ مرتضی کو لگ رہا تھا وہ یوں ہی رہا تو انکا دم گھٹ جائے گا
اپکو کیا پکاروں۔۔۔۔ بابا یہ بس مرتضی ۔۔۔۔
آپ جانتے ہیں ان دونوں لفظوں میں کتنا فرق ہے ۔۔۔۔
۔۔اپ نے مجھے کہاں لا کر چھوڑا ہے ۔۔۔۔ ” وہ پوچھ رہا تھا مرتضی اسکے شانے تھام کر رو پڑے ۔۔۔
مجھے معاف کر دو ۔۔۔۔ ” وہ بولے۔۔۔۔
میرا مان میرا فخرمیری محبت میری ضد میری آنا ۔۔۔ آپکے ساتھ ختم ہو گئ ۔۔۔ جب پتہ چلا باپ جیسا رشتہ تو ۔۔۔ میرے گردہی نہیں ۔۔ یہ خرید و فروخت ہے ۔۔۔” وہ کہہ کر انکے ہاتھ ہٹا گیا
سالار ۔۔۔۔ایکدم مدیھاکی اوازپر اسنے دیوار پر فل سائز لگی ایل سی ڈی پر سرخ نظروں سے دیکھا
میری جان۔ میں تو کچھ بھی نہیں جانتی ۔۔تھی میں نہیں جانتی تھی سالار سالار میں نے تمھیں کبھی غیر نہیں سمھجامیں جانتی ہی کیاتھی۔۔۔ میرے بیٹے دھوکا دیاہےتمھارےباپ نے ہم سب کو بہت برے انسان ہیں یہ “مدیھا چیخی جبکہ مرتضی بیٹھتے چلے گئے ۔۔۔ ہار کر ۔۔ وہ اپنے آنسو نہیں روک سکے۔۔۔
آپ کیوں کہیں گی برا ۔۔۔ یہ میرا اور انکا مسلہ ہے ۔۔۔ باقی کوئ انھیں برا سمجھے ۔۔۔ مجھے برداشت نہیں ہو گا ” وہ سخت لہجے میں بولا ۔۔۔ مرتضی ۔۔۔ نے پلٹ کر اسکیطرف دیکھا تھا ۔۔۔
وہ سر تھام کر بیٹھ گئے ۔۔۔
سالار ” کبیر ۔۔ نے اسکو پکارہ ۔۔۔۔
سالار نے کسی کیطرف نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔
اور اپنے کمرے میں جانے لگا ۔۔۔۔
مرتضی جبکہ ایکدم لیٹتے چلے گئے ۔۔۔۔
بابا” زین کی چیخ پر سالار موڑا ۔۔۔۔
اور باپ کو ۔۔۔۔۔ زمین پر بے بس پڑا دیکھ رک وہ ۔۔سڑھیوں پر سے اترتا ۔۔ بھاگا تھا ۔۔۔۔
اسنے مرتضی کو زین سے پہلے پکڑا ۔۔۔ اور بازؤں میں بھر لیا ۔۔۔
بابا” وہ اچانکا گال تھپتھپا نے لگا مگر مرتضی میں کوئ جان نہیں تھی ۔۔
بابا” خوف سے وہ چلایا تھا ۔۔ یہاں تک کہ وہ بمشکل سناؤ بھی نہیں لے پا رہے تھے ۔۔
فیروز ” وہ دھاڑا ۔۔۔۔ اور فیروز ایکدم اندر داخل ہوا مگر سالار بنا کچھ دیکھے ۔۔
مرتضی کو بازؤں میں بھر کر ۔۔۔ وہاں سے باہر بھاگا تھا اسکا دل اس وقت بے حد تیز رفتار میں دھڑک رہا تھا۔
اگر مرتضی کو کچھ ہو گیا تو ۔۔ شاید وہ خود کو کبھی معاف کر پاتا ۔۔ وہ جان و دل سے اسے اپنا باپ مانتا تھا وہ اسے کھو نہیں سکتا تھا وہ اس سے ناراض ہو سکتا تھا ۔۔۔
وہ گاڑی میں بیٹھا تو۔۔۔ زین فورا ۔۔۔ مرتضی کو لے کر بیٹھا جبکہ سالار تیز ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔ دوسری طرف سارے گھر والے بے تاب بے چین ہو گئے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ہوسپیٹل پہنچے ۔۔۔ تو مرتضی کو فورا ۔۔۔
اڈمیٹ کر لیا ۔۔۔۔۔
وہ پریشان تھا زین بے چین نظروں سےا سے دیکھ رہا تھا اسنے زین کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ وہ بار بار دیوار پر مکہ مارتا ۔۔۔۔ اور ادھر ادھر چلنے لگ جاتا ۔۔۔۔
زین کی آنکھوں میں بے اختیار آنسو ا گئے ۔۔۔۔
وہ سر جھکا گیا ۔۔
سالار جیسے ۔ جلے پاوں کی بیلی بن گیا تھا ۔۔۔
اچانک اسکی نظریں زین پر گئیں زین نے بھی اسکیطرف دیکھا ۔۔۔ اور وہ بے بس ہوتا ضبط کھوتا سالار کے سینےسے لگ گیا
بس کر دیں بھیا اپکی ناراضگی آپکی ہمیں مار دے گی ۔۔۔ جنہیں برداشت ہو رہی مجھ سے ۔۔ آپکی ناراضگی ۔۔۔ آپ ایسا مت کریں بھیا ۔۔۔۔ پلیز ۔۔ آپ مت سوچیں ۔۔ ہم ہیں آپکے
بابا ہی آپکے بابا ہیں ” وہ اسے بڑوں کیطرح سمھجا رہا تھا ۔۔۔
تبھی ڈاکٹر ۔۔۔ باہر نکلا وہ کچھ بولتا کہ ڈاکٹر کیطرف بڑھا
یہ مائینر ہارٹ اٹیک ہے “
انھیں ۔۔ پروپر کئیر کی ضرورت ہے ” ڈاکٹر بولا ۔۔۔
وقت پر یہاں پہنچنے کی وجہ سے انکا کوئ بڑا نقصان نہیں ہوا انکا خیال رکھیں ” وہ کہہ کر وہاں سے چلا گیا جبکہ سالار دروازہ کھولتا اندر گیا تھا
مرتضی ہوش میں نہیں تھے ۔۔۔ سالار سرخ نظروں سے انھیں دیکھنے لگا۔۔۔
بار بار مجھے ہی جھکنا پڑتا ہے مگر اس بار ایساکچھ نہیں ہو گا “وہ روٹھے انداز میں بولا ۔۔۔۔
اور وہیں بیٹھ گیا ۔۔۔
زین نے جیسے ۔۔۔۔ سر تھام لیا تھا ۔۔۔۔
سوکھ کا سانس ۔۔۔ اسکے حلق سے نکلا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے