Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

کل رات سے ہی وہ کافی ڈسٹرب تھا ۔۔مزاج خراب اور برہم سے تھے ۔۔۔
وہ ناشتے کے لیے نیچے آیا ۔۔۔ اور بابا کو ۔۔ اپنے بھائیوں سمیت لاونج میں دیکھ کر ۔۔اسنے اپنی آنکھیں صاف کیں ۔۔ کپڑے وہی حال تھا وہ نائٹ ڈریس میں تھا پاؤں پٹخ کر وہ دوبارہ کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔
بار بار عدیل اور اس لڑکی کا خیال دماغ میں ا رہا تھا ۔۔۔۔
کس قدر چیپ ہیں افشین چاچی ” اسنے نخوت سے سوچا ۔۔ بستر پر اندھا لیٹا ۔۔۔ وہ موبائل کو سکرول کرنے لگا ۔۔ تبھی افان کا فون آیا ۔۔۔ جسے اسنے پیک کیا ۔۔
سالے تو ا گیا ہے اور مجھے بتایا بھی نہیں” اسنے بنا حال حوال کے شکواہ کیا تھا ۔۔۔
میرے بھائ ۔۔۔ تیری محبت کی قبر پر ۔۔۔ مینار بن رہا ہے ۔۔۔ فلحال اپنی پروہ کر” وہ سر جھٹک کر بولا ۔۔
کیا مطلب” افان سمھجا نہیں ۔۔۔۔
پتہ نہیں یار ۔۔۔ بابا کے ساتھ مسلہ کیا ہے ۔۔ اب انسان بوڑھا ہو گیا ہے تو مان ہی لے کے ہاں میں بوڑھا ہوں ۔۔ نہیں سارے الٹے سیدھے فیصلے خود ہی کرنے ہیں ۔۔۔ ” وہ برہم لگا ۔۔۔
تمیز۔ سے بھئ ۔۔۔۔ سن لیا نہ کسی نے ۔۔۔ لگ پتہ جائے گا ” افان ہنسا ۔۔۔۔
پریشے کا رشتہ ہو رہا ہے سمیر نامی شخص سے ۔۔۔” سالار نے اسے حقیقت سے آگاہ کیا ۔۔
کیا” افان اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا ۔۔
تمام افس ورکرز اسکو حیرت سے دیکھنے لگے ۔۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ” وہ بولا ۔۔۔ اور باہر نکل آیا ۔۔۔
میرے باپ کا فیصلہ ہے یہ ” سالار نے سر جھٹکا ۔۔۔۔
اور تم کچھ نہیں بولے جبکہ تم جانتے ہو کہ ” وہ رک گیا ۔۔ سالار جانتا تھا کہ وہ پریشے کے لیے فیلنگز رکھتا ہے ۔۔۔ بلکہ آج سے نہیں ۔۔ کافی عرصے سے ۔۔۔۔۔
کبیر کے ہاتھ میں ہے فلحال یہ معملہ دیکھتے ہیں وہ کیا کرتا ہے ۔۔ برحال میرا ایک مشورہ ہے ۔۔۔ بابا لازمی پرشے سے بات کریں گے ۔۔ تم اپنی فیلنگز سے اسے آگاہ کر دو ۔۔ تاکہ وہ سیدھا انکار کرے ” سالار بولا ۔۔۔ جبکہ افان خاموش تھا ۔۔۔
تمھیں لگتا ہے وہ مجھے میرے جزبات کو سمھجہ جائے گی ۔۔۔۔ افکورس میرا سٹیٹس تم لوگوں جتنا نہیں ہے” افان سنجیدہ تھا ۔۔۔
بکواس کم کرو ۔۔۔۔ کسی سٹیٹس کا دل کی فیلنگز سے کوئ تعلق نہیں ہوتا ۔۔ اگر محبت پیسوں میں تولی جاتی تو ۔۔۔۔ بن جاتی بڑی بڑی کھانیاں ہیر رانجھا لیلہ مجنوں فلاں فلاں ” اسنے جھڑک دیا ۔۔ جبکہ افان نے فون بند کر دیا ۔۔۔۔
سالار نے جبکہ سیل فون سائیڈ پر پھینک دیا ۔۔
آج سنڈے تھا تبھی سب گھر پر تھے ۔۔۔۔
وہ اٹھ کر ۔۔ اپنے کمرے کی گلاس وال کے پاس۔ آکھڑا ہوا ۔۔۔ جہاں سے پورے گھر کا نظارہ صاف دیکھائی دیتا تھا ۔۔اور تیسری منزل پر صرف اسی کا پورشن تھا جو ہر قسم کی آرائش اور لگژری سے آراستہ تھا ۔۔
سیگریٹ جلا کر لبوں سے لگانے کے بعد اسنے ۔۔۔ گلاس وال پر سے پردے ہٹائے ۔۔۔۔
آج موسم کافی اچھا تھا ۔۔ جگہ جگہ سفید بادلوں کے مرغولے ہلکے نیلے آسمان کی خوبصورتی کو بڑھا رہے تھے ۔۔۔ جبکہ جھومتے درخت بتا رہے تھے کے ہوا بھی خوشگوار ہے ۔۔۔ سیگریٹ کا دھواں شیشے کو دھندلا کرنے لگا ۔۔۔ تو اسنے اپنے ہاتھ سے اس دھند کو صاف کیا ۔۔۔۔ اور نگاہ بلکل سامنے جا ٹھری ۔۔۔۔
وہ اپنے بالوں کو پکڑے رو رہی تھی ۔۔۔۔
سالار کے منہ سے سیگریٹ چھٹی اور فرش پر جا گیری ۔۔۔
کل رات جن بالوں کی خوبصورتی پر ۔۔ وہ پل بھر کو ٹھٹکا تھا ۔۔۔ آج جگہ جگہ سے کٹے ہوئے الٹے سیدھے بالوں کو دیکھ کر اسکادل جیسے مٹھی میں جکڑا گیا ۔۔۔
خاموش ساکت نظروں سے اسنے یہ نظارہ دیکھا تھا ۔۔۔
وہ بینچ پر بیٹھی تھی ۔۔۔ اور مسلسل رو رہی تھی ۔۔۔ سالار نے اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرہ ۔۔۔ دانتوں کو سختی سے ۔۔ دانتوں پر جما کر ۔۔۔۔ وہ اس شیشے پر بے چینی سے ہاتھ رکھتا ۔۔سامنے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
جبکہ اس لڑکی کو جیسے کسی نے آواز دی تھی ۔۔ آنسو جلدی سے صاف کر کے وہ یوں ہی اندر بھاگ گئ ۔۔۔۔
سالار نے گلاس وال پر مکہ مارا ۔۔۔۔
اس بے حسی پر اسکا خون کھول اٹھا تھا اگر گلاس وال مظبوط نہ ہوتی تو ضرور ٹوٹ جاتی ۔۔۔۔
وہ جلدی سے وہاں سے ہٹا اور فریش ہونے چلا گیا ۔۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں فریش ہو کر وہ ۔۔ بلیک قمیض شلوار میں باہر نکلا ۔۔ چہرے پر سختی تھی الجھن تھی ۔۔ اسکا سیل فون بجنے لگا ۔۔ اسنے بلو ٹوتھ اٹیچ کی ۔۔اور اسکے پی آئے کی آواز ابھری ۔۔
سر اکبر انصاری مووی ڈائیریکٹر آپ سے ملنا چاہتے ہیں_ اسنے انفارم کیا ۔۔۔
ٹھیک ہے” سالار نے جواب دیا ۔۔
سر میں آپکی گاڑی ریڈی کر چکا ہوں ۔۔۔ پانچ منٹ میں اپکو پیک کرتا ہوں ” وہ بولا تو اسنے بلو ٹوتھ آف کر دی ۔۔۔۔
بال بنا کر وہ نیچے ا گیا ۔۔۔
جہاں اب بھی سب چائے کا لطف لے رہے تھے ۔۔
کہاں جا رہے ہو تم” مرتضیٰ سب سے پہلے بولے۔ کبیر بھی اسی وقت اپنے کمرے سے باہر نکلا تھا ۔ جبکہ عارض موجود نہیں تھا اور زین کل ہوئ واردات کے نشے میں سن بیٹھا تھا ۔۔ البتہ پریشے اور عمل کا ٹیپ ریکارڈر چل رہا تھا ۔۔۔
جس پر سب مسکرا رہے تھے آیت بھی آج تو بیچ بیچ میں بول رہی تھی ۔۔۔
کام سے جا رہا ہوں لیٹ ہو جاؤ گا “اسنے جواب دیا اور جانے لگا ۔۔یہ مہینے بعد تمھاری شکل گھر میں نظر آئ ہے پھر سے کام شروع ہو گئےتمھارے” وہ بولے تو سالار نے تپ کا رخ بدلا ۔۔
تو کیا کرو ۔۔ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جاؤ ۔۔۔۔ کام دھندا چھوڑ دوں ۔۔۔۔ ” وہ ایکدم پھنکارہ ۔۔۔۔
یہ کس طرح بات کر رہے ہو تم” مرتضیٰ ہتق کے احساس سے دھاڑے ۔۔ ایکدم چارواطراف میں سناٹا چاہ گیا ۔۔۔۔
میں ۔۔
سالار” کبیر کی سخت آواز بیچ میں سنائ دی۔۔۔
ڈونٹ کروس یور لیمٹس ” وہ گھور کر بولا ۔
۔ تو انھیں بھی سمھجا دو ۔۔۔۔ کام سے ہی جا رہا ہوں ہر چیز پر نگاہ رکھنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ کچھ اپنے گھر پر بھی نگاہ ڈال لیں ۔۔ کیا کیا تماشہ لگایا ہوا ہے” وہ غصے سے پھنکار رہا تھا ۔۔
بدتہزیبی اکثر وہ کر جاتا تھا ۔ مگر ۔۔۔ کبھی ایسا رویہ نہیں رکھا تھا ۔۔ سب ہی حیرانگی سے اسکو دیکھ رہے تھے ۔
مرتضیٰ اپنی جگہ سے اٹھے اور اس تک آئے ۔۔۔
عارض بھی شور کی آواز سن کر باہر نکل آیا ۔۔۔۔ وہ جینی سے بات کر رہا تھا جس نے اسکو ویزہ لگ جانے کی خوشخبری دی تھی۔۔۔ کافی خوش دیکھائی دے رہا تھا مگر باہر ۔۔ سے سالار بھیا کی آواز سن کروہ باہر نکل آیا ۔۔۔۔
کیا تماشہ لگایا ہوا ہے میں نے اس گھر میں” وہ سخت نظروں سے اس سے پوچھ رہے تھے ۔۔۔
سالار نے بنا ڈرے اپنا رخ بلکل انکی جانب کر لیا ۔۔۔
اپکو بہت شوق ہے بابا ہر چیز میں بیلینس رکھنے کا ۔۔۔ کوئ چیز بھلے وہ اولاد ہی کیوں نہ ہو کوئ نقص نہ ہو اس میں ۔۔۔ کہیں آپکے چاربیٹے کسی بری صحبت میں نہ پڑ جائیں ۔۔ کہیں آپکے بھائ ۔۔۔ کچھ غلط نہ کر دیں ۔۔۔
جب زندگی میں اتنی مین ٹین ہے ۔۔ تو کیسے آپ اس پاگل آلو کے پٹھے عدیل کے ساتھ باشعور لڑکی کو باندھ سکتے ہیں” وہ دھاڑا ۔۔۔۔
افشین تو بیٹے کے لیے یہ الفاظ سن کر ۔۔ تلملائ سکندر کا بازو جھنجھوڑ دیا ۔۔
بچپن سے اسکو میرے بیٹے سے بیر ہے مجھے مسلہ سمھجہ نہیں آتا اسکے ساتھ کیا مسلہ ہے ۔۔۔۔ ” وہ بیچ میں بولیں ۔۔۔۔
جبکہ مدیھا نے انکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔
بس کریں بھابھی آپکا یہ بیٹا ۔۔۔ اسے پاگل پاگل کہہ کہہ کر مجھے تکلیف دیتا ہے میں جانتی ہوں میری اولاد میں نقص ہے ۔۔۔ تو کیا میں اسکو خوش نہیں کر سکتی ۔۔۔
تو اسکو خوش کرنے کے لیے کسی کے ارمانوں کا گلا گھونٹنا ضروری ہے ” وہ ایکدم غصے سے بولا
۔۔ کہ مرتضیٰ کا ہاتھ اسپر اٹھ گیا ۔۔۔
بس چپ ” وہ سختی سے بولے ۔۔۔۔ سالار انکی جانب سرخ چہرےسے دیکھنے لگا جبکہ کبیر ایکدم باپ اور اسکے بیچ میں آیا تھا
سب نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیے ۔ ایسے عمل کی کسی کو
امید نہیں تھی ۔۔۔۔
سالار بنا لحاظ کے انپر جھپٹا۔۔۔ جبکہ عارض دوڑ کر اس تک پہنچا تھا ۔۔
کیا کر رہیں ہیں بھیا آپ ” اسنے سالار کو دونوں بازو سے جکڑ لیا ۔۔۔
باپ پر ہاتھ اٹھائے گا ۔یہ۔ چھوڑو اسے ۔۔ میں بھی دیکھو یہ کیسے ہاتھ اٹھاتا ہے ۔۔ ایک ۔۔ انجان لڑکی کے لیے ۔۔۔ کیسے سامنے تنے گا ” وہ چلائے ۔۔
بابا کیا ہو گیا ہے اپکو ۔۔۔۔۔ ” کبیر نےا نکو دور کیا ۔۔۔۔
میری ایک بات سنیں جسے تکلیف ہے اسے پاگل کہنے سے تو وہ ۔۔ کان کھول کر سنے وہ پاگل ہی ہے ۔اور اس پاگل کو ٹھکانے تو میں خود لگاؤ گا ۔۔ اس کی وجہ سے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ہے نہ آپ نے” اس سے جیسے یہ بےعزتی برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔
سالار اپنی زبان کو لغام دو بیٹا ہے وہ میرا ” سکندر انگلی اٹھا کر بولے ۔۔
سالار نے عارض کو جھٹکا ۔۔۔۔
اور وہاں سے نکلتا چلا گیا ۔۔۔۔۔
جو اسنےاپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اسکے بعد اسکایہ ریاکشن یقینی تھا ۔۔ کس طرح وہ اپنے خراب ہوئے بالوں کو جکڑ کر رو رہی تھی اسکو لگ رہا تھا غصے سے دماغ کی رگیں ہی کہیں نہ پھٹ جائیں ۔۔
پی آئے نے اسکے آگے جوس کا گلاس کیا ۔۔۔ اسنے وہ تھام کر ایک سانس میں چڑھا لیا ۔۔۔۔
بئیر دو مجھے” وہ بولا ۔۔ تو پی آئے نے جلدی سے گاڑی کی ڈگی سے ۔۔۔ سامان نکالا اور اسکے سامنے پیش کر دیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرتضیٰ صاحب بے حد غصے میں تھے جبکہ ۔۔۔ انھوں نے دوبارہ سالار کا گھر میں آنا بند کر دیا تھا کہ اب وہ دوبارہ گھر نہیں آئے گا ۔۔۔
کبیر باربار انکو ٹھنڈا کرنا چاہ رہا تھا ۔۔۔
دوسری طرف سکندر اور افشین نے ایک ہنگامہ مچایا ہوا ۔۔ تھا ۔۔۔
اور سب لڑکیاں سہمی ہوئی سی ایک کمرے میں بند تھیں ۔۔ جبکہ زین کو اپنی ہی فکر لگی ہوئ تھی پہلی بار اسنے شراب پی تھی ۔۔ اور اب تک وہ اپنے توازن میں نہیں تھا ۔۔۔۔
تبھی زیادہ سے زیادہ وقت اسنے کمرے میں گزارنے کا سوچا تھا ۔۔
وہ کمرے میں لیٹا لڑائ کے بارے میں سوچ رہا تھا تبھی احتشام کی فون کال آئ ۔۔اسنے پیک کی ۔۔
کیا پلین ہے برو آج کا ” اسنے مسکراتے ہوئے پوچھا ۔۔۔
کچھ نہیں یار آج میں گھر سے نہیں نکل سکتا بابا گھر ہیں آج سنڈے ہے نہ” زین نےا فسردگی سے کہا جبکہ ایک بار جو چسکا اسکو لگ گیا تھابار بار وہاں جانے کے لیے دل اکسا رہا تھا ۔۔۔
اوو پاگل ۔۔۔ تو کیوں ڈرتا ہے اپنے باپ بھیوں سے اتنا ” احتشام بولا ۔۔۔
یار تم نہیں جانتے ہمارے گھر کے ماحول کو ” زین نے کہا ۔۔۔۔
اچھا تو پھر کچھ کر آج رات میں جا رہا ہوں بہت زبردست ویڈیو ہے ۔۔۔ ” احتشام نے لالچ دی جبکہ ۔۔ زین ایکدم اٹھا ۔۔
نیو آئ ہے کیا ” وہ بولا ۔۔ تو احتشام ہنس پڑا ۔۔
ہاں بھئ ۔۔۔”
اف پھر تو کچھ کرنا پڑے گا ” اسنے ارد گرد دیکھا ۔۔
مگر سالار بھیا گھر پر نہیں ہیں ورنہ نکلنا آسان ہو جاتا” زین بولا ۔۔ تو ایسا کر ۔۔۔ چپکے سے بھاگ کر نکل جا ۔۔۔ ایسے کے کسی کو شق نہ ہو تو کہاں ہے” احتشام بولا ۔۔ تو زین وہ یہ بات کچھ مناسب لگی ۔۔
چل ٹھیک ہے ملتے ہیں پھر” وہ مسکرایا ۔۔ اور جلدی سے ۔۔ باہر نکل گیا ۔۔
باہر کوئ نہیں تھا ۔ مما بابا کے کمرے میں کبیر بھیا تھے ۔۔۔ سکندر چاچو تھے اور باقی بڑے تھے ۔۔ عارض بھی وہیں تھا ۔۔۔
اسنے وقت دیکھا شام ہونے میں کچھ ہی دیر تھی کسی کی توجہ اسپر نہیں جائے گی ۔۔
تھینکیو بھیو” اسنے بنا دیکھے سالار کا شکریہ ادا کیا کہ آج جب وہ بھاگے گا اور کسی کا دھیان اسپر نہیں جائے گا تو یہ سب بھی سالار کی وجہ سے ہی ہو گا ۔۔۔۔
جیسا وہ ہنگامہ مچا کر گیا تھا وہ جلدی سے دوبارہ اپنے
کمرے میں چلا ۔۔۔گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارض بہت دیر بعد تھک کر وہاں سے نکلا جانتا تھا اسکے باپ کو اپنی ضد سے کوئ نہیں ہٹا سکتا ۔۔۔۔۔
تبھی اسنے وہاں سے اٹھنا ضروری سمجھا ۔۔۔
کبیر نے کل ہی اسے آرڈرز دے دیے تھے کے وہ کل سے آفس جوئن کرے گا ۔۔۔ اور اسنے حامی بھی بھر کی تھی دس پندرہ دنوں میں ویسے بھی وہ یہاں سے فرار ہونے والا تھا ۔۔۔۔
مگر اسے پیسے کی ضرورت تھی ۔۔اور وہ پیسہ اسے آیت دلا سکتی تھی ۔۔
اسنے پورے گھر پر نگاہ دوڑائی وہ اسے کہیں نہیں ملی ۔۔ اسنے میسیج سینڈ کیا ۔۔۔
سالار بھیا کے پورشن میں
تمھارا ویٹ کر رہا ہوں ۔۔۔ دو منٹ میں میرے پاس پہنچ جاؤ ” میسیج کر کے وہ خود تیسری منزل کی جانب چل دیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت نے میسیج پڑھا ۔۔۔۔ اور پڑھتے ہی جیسے اسے گھبراہٹ ہونے لگی ۔۔
پریشے نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔ آیت کی بھی نگاہ اسپر گئ ۔۔ اور پریشے نے عمل کو باہر سے چائے لانے کا کہہ کر بھانے سے باہر نکلا ۔۔ اور زبردستی آیت سے موبائل کھینچ کر اسنے وہ میسیج ریڈ کیا ۔۔
اس عارض کو تو میں چھتربڑے بھیا سےپڑواو گی ” وہ ایکدم غصے سے بھڑکی ۔۔
پلیزپریشے ۔۔۔۔ میرا سیل فون واپس دو ہو سکتا ہے کوئ ضروری بات ہو “
کوئ رج کر کوڑھ مغز ہو ۔۔۔ اسے تم سے کیا کام پڑ گیا ہے ۔۔۔ تم اپنے بارے میں سوچو خوف ا رہا ہے مجھےا س حقیقت سے جس کے بارے میں کسی کو پتہ چلایا تو کیا بنے گا کہیں نہیں جو گی تم بیٹھی رہو ی
ادھر ہی” وہ غصے سے بولی ۔۔
پریشے” آیت منمنائ ۔۔
شیٹ آپ” پریشے نے اسکو آنکھیں دیکھائ ۔۔
یہ تمھاری بزدلی ہی ہے جو
۔۔ وہ یہاں تک پہنچ گیا ۔۔اور اسنے اتنی بڑی حرکت کر دی اسے کوئ شرمندگی بھی نہیں و
اور کیسے وہ تمھیں ٹارچرکر رہا ہے” وہ چلا اٹھی تھی ۔
آیت کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔۔۔۔
وہ غصہ ہو گئے ” وہ سرخ نظروں سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔
بھاڑ میں جائے ” پریشے نے لاپرواہی سے کہا ۔۔
تم چائے کے مزےلو ۔۔اس افلاطون کو بھی اندازا ہونا چاہیے ۔۔ کہ تم کوئ گیری پڑی نہیں ہو جو ۔۔وہ تمھیں دن کہے گا تو دن اور رات کہے گا تو رات مان لو گی” وہ غرائ ۔۔۔ جبکہ آیت کو بھی کچھ حوصلہ ساہوا ۔۔ پریشے کے ہاتھ میں دبا اپنا سیل دیکھ کر اسنے گھیری سانس بھری اور آنسو صاف کیے ۔۔
پریشے ۔۔۔ اسکے حوصلہ پکڑنے پر خوش سی ہوئ ۔۔۔۔
اور عمل بھی اتنی دیر میں آ گئ ۔۔اب تینوں ۔۔ ڈسکس کررہی۔ تھیں ۔۔ کہ سالار بھیا نے ایسا کیا دیکھ لیا ۔۔جو اس لڑکی کے لیے ایسے تن کر کھڑے ہو گئے اور انھیں بھی درحقیقت دیکھنا چاہیے مگر عدیل سےڈر لگتا تھا ۔
کیسے وہ برداشت کر رہی ہو گی اس عدیل پاگل کو ” پریشے بولی ۔۔
بری بات ایسے مت کہو وہ ۔۔ اللہ کیطرف سے ایسے ہیں” ۔۔۔
ہاں تو چچی کو ۔۔ اس لڑکی پر تو ظلم نہیں کرنا چاہیے تھا تم سمھجے نہیں ہو ۔۔اصل جنگ اس لڑکی کے ساتھ ہوئ زیادتی پر ہے ” وہ بولی
تو سب متفق ہوئے ۔۔۔
میں اس لڑکی سے ملوں گی دیکھ لینا تم رات میں چلیں گے ۔۔۔ عدیل کے پورشن کیطرف” پریشے نے جلدی سے کہا۔
پاگل لڑکی عدیل بہت شور کرتا ہے چچی کو بھنک بھی پڑ گئ ۔۔۔ دلیہ بنا دیں گی ا
ہمارا کے ہم انکے بیٹے کا مزاق بنا رہے ہیں” ۔۔۔
عمل نے ٹوکا ۔۔۔ خیر ہے دیکھا جائے گا ” پریشے نے کہا ۔۔ جبکہ آیت کا دماغ بار بار عارض کیطرف جا رہا تھا ۔۔۔ جس کو کوشش کر کے وہ ہٹانا چاہ رہی بھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارض بہت دیر تک انتظار کرتا رہا مگر آیت واپس نہیں لوٹی یہاں تک کے اب غصے سے اسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا ۔۔ اسنے سیدھے قدم اسکے کمرے کی جانب اٹھائے۔۔۔۔ چونکہ رات ہو چکی تھی سالار بھیا کا موضوع گرم تھا سب اپنے اپنے کمروں میں تھے وہ سیدھا آیت کے روم میں ا گیا ۔۔۔۔
جو بسترپر تھی ۔۔ پنک بلینکٹ کے نیچے کسی وجود کا احساس ہو رہا تھا ۔۔۔
آج موسم اچھا تھا بارش کے امکان سے تھے ۔۔۔۔ کمرے میں ملگجا سا ندھیرہ تھا ۔۔۔ اسنے ڈور کو لوک کر دیا ۔۔۔۔
اگر جرت کی تھی تو بعد میں آنے والے اثرات سے تو خود کی حفاظت کرنی چاہیے تھی آیت ۔۔۔ ” اسنے افسوس سے سوچا اور ڈور کو لوک کر کے ۔۔ وہ اسکے بیڈ کے پاس ا گیا ۔۔۔۔
بلینکٹ سر تک تانا ہوا تھا ۔۔ نیند میں ڈوبی سانسوں کا شور سنائ دے رہا تھا ۔۔اسنے بلینکٹ اسکے چہرے پر سے اتار دیا ۔۔۔۔
تو ایک پل کو ٹھٹک کر خود ہی وہیں رک گیا ۔۔
سفید نائٹ ڈریس میں جس پر چھوٹی چھوٹی براؤن کلر کی ہیرن بنی تھی
۔۔ وہ زرا لاپرواہی سے ۔۔۔ کے اسکے وجود کا حسن بھی واضع ہو رہا تھا ۔۔۔ سو رہی تھی ۔۔
چہرے پر بلا کی معصومیت اور خوبصورتی تھی ۔۔۔ جبکہ اس سے جھجھکتی پریشان سی آنکھیں بند تھیں ۔۔۔ ہلکی ہلکی سرخی میں ڈھلے گال اور تکیے پر بکھرے بال ۔۔۔۔ عارض دوسرا سانس بھی بھال نہیں کر سکا ۔۔۔
بے اختیار وہ اسکے نزدیک ہوتا چلا گیا ۔۔۔
پہلے اسکا ہاتھ تھامہ ۔۔۔ اور پھر اسکے چہرے پر اپنی انگلیوں ا
سے سطر کھینچی ۔۔
ملائم جلد پر اسکی انگلی پھیسلتی چلی گئ ۔۔۔
وہ رات آنکھوں کے سامنے گھوم گئ جب اسنے اسکی چیخوں کا آنسوں کا آہوں کا گلہ گھونٹا تھا ۔۔۔۔
تب بھی اسکے انداز میں بے اختیاری نہیں تھی ضد تھی جنون تھا ۔۔۔ بس اپنے باپ کو نیچا دیکھنے کی اکڑ تھی مگر آج ۔۔۔ کچھ الگ سا ہوا تھا ۔۔۔
اسنے اسکی گردن کی جانب دیکھا نگاہ نیچے پھسلتی جا رہی تھی ۔۔۔
اسکی گردن کے اختتام پر ایک تل تھا ۔۔۔۔ عارض حق سے جھکا اور اس تک
ل کو ۔۔۔ خود کے لمس سے روشناس کر دیا ۔۔۔۔
اگلے لمہے میں ہی اسنے چہرہ اٹھا کر آیت کی جانب دیکھا تھا ۔۔۔ مگر وہ گھیری نیند میں تھی ۔۔۔ وہ پھر جھکا اس بار اس تل پر ظلم ڈھاتا وہ شدت سے اسے اپنے لمس کا احساس دلا رہا تھا یہاں تک کے سرخ نشان بن گیا ۔ آیت بے چینی سے پٹ سے آنکھیں کھول گئ ۔۔۔۔ عارض گویا اب مطمئین تھا ۔۔
ہیلو آیت” اسنے آنکھوں کو لاجواب جنبش دے کر پوچھا ۔۔۔
عارض ” آیت کو یہ گویا اپنا خواب لگا تھا ۔۔ وہ مسکراتا ہوا اسکے نزدیک کیسے ہو سکتا تھا ۔۔ نزدیک تھا تو مسکرا نہیں سکتا تھا صرف نفرت جتا سکتا تھا ۔۔
نیند سے بوجھل ہوتی آنکھوں سے پکار کر اسنے اپنا ہاتھ عارض کے گال پر رکھا ۔۔۔ عارض ششدر سا رہ گیا ۔۔۔
آیت اسکی جانب دیکھتی رہی ۔۔۔
محبت ہر نفرت ہر جزبوں سے بلا تر تھی ۔۔ وہ کتنی نفرت ا سے کر لیتا ۔۔۔ اس وقت اسکی آنکھوں میں موجود محبت سے جیسے وہ ساکت رہ گیا ۔۔
ایت نے نگاہ اسپر سے نہیں ہٹایا ۔۔ جبکہ عارض یوں ہی اسکے چہرے پر جھک گیا ۔۔۔۔۔
و
جبکہ وہ اسکو صرف سبق سیکھانے آیا تھا ۔۔۔
مگر وہ خود نہیں جانتا تھا وہ کیسے اتنا مدہوش ہونے لگا ۔۔۔
آیت اسکے لمس کو محسوس کر کے پٹ سے آنکھیں کھول گئ ۔۔ جیسے ہوش میں ا گئ ہو ۔۔۔۔
اسنے اپنا چہرہ عارض سے دور کیا ۔۔۔ ا
ور عارض کا تسلسل جو بہت نرمی لیے ہوئے تھا ٹوٹ گیا ۔۔۔
اسنے اب کہ آیت کی خوف زدہ نظروں کو دیکھا ۔۔۔ اور اس سے دور ہوا ۔۔
چہرہ سنجیدہ ہو گیا ۔۔ ماتھے پر کئ بل ڈل گئے ۔۔۔ آیت جلدی سے اٹھی ۔۔۔
ملگجے اندھیرے میں وہ انکے قد و قامت کے ساتھ منہ موڑے کھڑا تھا ۔۔۔ جبکہ اب باہر بارش شروع ہو گئ تھی ۔۔۔
آیت نے جلدی سے اپنا حلیہ درست کیا اور عارض کی جانب دیکھا ۔۔۔
ک۔۔کیا کر رہیں ہیں آپ آپ میرے کمرے میں” وہ ہمت کرتی بولی ۔۔ وہ ایڑیوں کے بل پلٹا اور اسکے بال جھپٹ لیے ۔۔ آیت کی چیخ نکلی جسے اسنے دوسرے ہاتھ سے دبا دیا ۔۔۔
تمھاری اتنی جرت کیسے ہوئ کہ تم میرے میسیج کو اگنور کرو ۔۔۔” وہ پھنکارہ ۔۔ عارض ” اسنے بولنا چاہا ۔۔
منہ بند اگر تمھاری آواز نکلی تو اسی کھڑکی سے باہر پھینک دوں گا ” وہ آنکھیں نکال کر غرایا ۔۔۔۔
آیت سہمی ہوئی نظروں سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
عارض نے اسکے لبوں پر سے ہاتھ ہٹا لیا ۔۔
آیت سرخ نظروں اور آنسو سے بھیگتی آنکھوں سے ۔۔۔۔ دروازے کی جانب تیزی سے بڑھی ۔۔
میں شکایت لگاؤ گی آپکی تایا ابو سے ۔۔۔۔ آپ مجھے تکلیف دینے آتے ہیں جب بھی آتے ہیں” وہ بری طرح روتی ۔۔۔ بولی ۔۔
اچھا ” عارض نے اسکو دوبارہ کھینچا ۔۔۔
بارش تیز ہونے لگی تھی کہ بارش کا شور انکی آوازوں سے کہیں زیادہ تھا ۔۔
عارض چھوڑیں مجھے ۔۔” آیت کو بھی آج جیسے ضد چڑھ گئ تھی وہ کب تک ۔۔اسکے ہاتھوں زلیل ہوتی جبکہ عارض کو اسکی ضد سے ضد چڑھی تھی جو بات وہ کرنا چاہتا تھا وہ تو بھول بھال گیا تھا ۔۔۔
اسنے آیت کو صوفے پر پھینکا
۔ آیت اچانک اپنا پیٹ تھام گئ ۔۔۔
ایک آہ نکلی مگر اسے فرق نہیں پڑا ۔۔
بابا کو بتاو گی ۔۔۔ اس سے پہلے ہی تمھاری لاتیں کاٹ دوں گا میں” ۔۔۔
کاٹ دیں ۔۔۔ کاٹ دیں اپکو سکون مل جائے گا ۔۔ کاش آپکی بھی کوئ بہن ہوتی اور اسکے ساتھ بھی ایسا ہی ہو”
کھینچ کر منہ پر پڑنے والے تھپڑ سے اسکی زبان تالو سے جا لگی ۔۔۔
آیت سن ہوئے کان اور گال سے ۔۔ ساکت رہ گئ جبکہ عارض نے اسکے بال جکڑ لیے ۔۔
دوبارہ بولو کیا بدعا دے رہی ہو ۔۔۔۔
عارض آپکے بیٹی ہو ” اسکا آنسو ۔۔۔ ٹوٹ کر عارض کے ہاتھ پر گیرہ ۔۔
وہ چند لمہے اسکو دیکھتا رہ گیا ۔۔۔۔
نہ جانے کیا ہو گیا تھا ۔۔ایکدم ان لفظوں سے ۔۔۔۔
جاری ہے