Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

افان حیرانگی سے سالار کی جانب دیکھ رہا تھا جبکہ زین اب تک نہیں آیا تھا ۔۔۔
یہ تم کیا کر رہے ہو تم جانتے ہو تمھارے اس فیصلے سے کیسا طوفان آئے گا “وہ سنجیدگی سے ۔۔۔۔ بولا ۔۔۔۔
سالار نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔۔
شاید وہ مجھے پسند ہے ” وہ سیگریٹ لبوں سے نکلتا ۔۔۔۔ گاڑی میں لائیٹ سا انگلش میوزک چلاتا بولا ۔۔۔۔
اور یہ تمھیں کیسے پتہ چلا کہ شاید وہ تمھیں پسند ہے ” افان نے غصے سے پوچھا ۔۔۔
کوئ شاید بھی پسند آ جاتا ہے ۔۔۔۔” افان نے اسے گھورا ۔۔۔۔
جب کوئ پسند آتا ہے ۔۔ تو ۔۔۔۔ اس سے محبت ہو جاتی ہے ۔۔۔ تو کیا تمھیں اس سے محبت ہے یہ محبت پر بھی شاید ہی کہو گے ۔۔۔۔” افان نے اسے آرام ریلکس بیٹھے دیکھ سوال کیا ۔۔۔۔
یار تو آم کھا گوٹھلیاں کیوں گن رہا ہے ” سالار نے لاپرواہی سے کہا ۔۔۔
ام میں نے نہیں تو نے کھانا ہے سمھجا ۔۔”
واقعی ” دانت نکالتا وہ آنکھ مار کر بولا ۔۔ جبکہ ۔۔۔۔ افان نے اسکے شانے پر تھپڑ مارا ۔۔ جسے سہلا کر رہ گیا ۔۔۔
سالار تم اپنی زندگی کے اتنا بڑا فیصلہ لینے جا رہے ہو ۔۔۔ اور اسپر تم اتنے غیر سنجیدہ ہو کہ شاید وہ تمھیں پسند ہے تو تم اس سے شادی کر رہے ہو ۔۔جبکہ وہ تمھارے کزن کی بیوی رہی ہے ۔۔افشین آنٹی اس سے کتنی نفرت کرتی ہیں ۔۔ حتی کہ وہ ۔۔۔وہ لڑکی ہے ۔۔۔ جس کے چلے جانے سے بھی ۔۔ ہم اتنے نرم دل لوگوں کو فرق بھی نہیں پڑا ۔۔۔ یعنی وہ اتنی غیر اہم اور غیر ضروری ہے ۔۔۔۔۔ “
میں تو اہم ہوں نہ ۔۔۔۔۔ اور میرے ساتھ جوڑنے کے بعد اسکا ہمیت اک اندازا تم بھی نہیں لگا سکتے ۔۔۔۔
ویسے ایکچلی درحقیقت ۔۔۔۔ مجھے اس لڑکی ۔۔۔۔ کو ۔سب کی نظروں میں اپ گریڈ کرنا ہے ۔۔ جب سے میں نے اسے دیکھا ہے اسکو میں نے ۔۔۔ دوسروں کی نظروں میں ۔۔۔ غیر اہم ہی پایا ہے ۔۔۔۔
مگر جو بھی ہے میری نظر میں اسکی اہمیت ہے اور وقت رہتے سب کو اندازا ہو جائے گا
۔۔۔ کہ اہمیت کسے کہتے ہیں ” وہ اسکی طرف رخ کرتا اسے اصل وجہ بتانے لگا۔۔۔
تمھارے دل کا اس میں کوئ عمل دخل نہیں ” افان کو کچھ سمھجہ نہیں آ رہی تھی کہ اسکے نزدیک شادی کی وجہ کیا تھا ۔۔۔۔۔
ارینج میرج بھی تو ہوتی ہے ۔۔ایند آئ تھینک اٹس انٹرسٹیڈ ۔۔ ” وہ بتانے لگا ۔۔۔۔
جبکہ افان نے سر تھام لیا ۔۔۔۔۔
وہ فیملی کی پسند سے ہوتی ہے ” افان نے بحث جاری رکھی ۔۔
تم میرا سر نہ کھاؤ ابا بننے کے لیے نہیں بلایا میں نے تمھیں “
کیا وہ تم میں انٹرسڈیڈ ہے ” افان کو زیمل کا خیال آیا ۔۔
شاید نہیں” سالار نے گاڑی سے باہر سیگریٹ اچھال دی ۔۔۔۔
یہ شادی دنیا کی بہترین شادی ہونے والی ہے” افان زرا شدید غصے میں آیا اور چیختا ہوا باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔
سالار بھی گاڑی سے باہرآ گیا ۔۔۔
یہ دیکھو مجھے غور سے دیکھو ۔۔ تمھیں لگتا ہے میں کسی بھی لڑکی کی چوائس نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ لڑکیاں مرتیں ہیں مجھ پر ۔۔۔
میرا نام میرا سٹیٹس میری فیملی میرا باپ ۔۔۔۔
کیا کمی ہے مجھ میں ۔سب تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔ وہ کیوں ریجیکٹ کرے گی” وہ اسکے نزدیک آتا ۔۔۔ آنکھوں میں زندگی سے بھرپور چمک لیتے بولا ۔۔ جبکہ
آنے والے وقت سے انجان تھا ۔
افان نے کوئ جواب نہیں دیا ۔۔ کیونکہ پیچھے سے ۔۔۔اسکے پی آئے نے اسکو پکار لیا تھا ۔۔۔۔۔۔
وہ خود ہی مڑ گیا ۔۔۔ اور گھیری سانس لی ۔۔۔۔۔
چلو اب ” افان نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔
وہ افان کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔جو اسکے چہرے پر کچھ تزبزب دیکھ کر مسکرا دیا ۔۔۔
میں تمھارے ساتھ ہوں ۔۔۔۔ اگر تم سوچتے ہو تو یہ فیصلہ تمھارے لیے اچھا ثابت ہو گا ” وہ دھیمی آواز میں بولا تو سالار نے سر ہلایا اور خود سب اندر کی جانب چل پڑے ۔۔۔
اسنے سب کو باہر روکا اور خود پہلےا ندر داخل ہوا تاکہ دیکھ سکے کے وہ کیا کر رہی ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اندر آیا تو زیمل ۔۔۔ لاونج میں ہی صوفے پر بیٹھی تھی اسکو دیکھ کر ایکدم کھڑی ہو گئ ۔۔سالار نے محسوس کیا اسکے چہرے پر سرخیوں سی پھیلی تھی ۔۔۔ جبکہ اسنے گلاسز لگائے ہوئے تھے ۔۔ تبھی اسکی آنکھیں چھپ گئیں تھیں اور زیمل کو پہلے سے قدرے بہتر لگا ۔۔ کم از کم
وہ اپنی بے باک آنکھوں سے ۔۔۔اسکا ایکسرے تو نہیں کر رہا تھا ۔۔۔
زیمل وہاں سے جاری تھی کہ سالار کے پکارنے پر رک گئ ۔۔۔۔۔
گھوما پھیرہ کر میں بات نہیں کرتا ۔۔۔۔ مجھے جو کرنا ہوتا ہے کر جاتا ہوں ۔۔۔اور فلحال میں نے فیصلہ کیا ہے میں تم سے نکاح کر لو ” سالار کے الفاظ تھے کہ بم وہ ایکدم پلٹی ۔۔۔۔ تو دوپٹہ جو سر پر تھا شانوں پر ڈھلک آیا ۔۔ گیلے ہلکے سنہری بال ۔۔۔۔ لٹوں کی صورت میں آگے آ گئے ۔۔
اس وقت یہ منظر اتنا دلچسپ اور بھرپور تھا کہ سالار نگاہ چرا گیا ۔۔۔۔
۔۔یہ کیا بات کر رہے ہیں آپ ” زیمل حیران رہ گئ ۔۔۔۔۔
وہی جو تم سن رہی ہو ” سالار نے سیدھے لفظوں میں کہا ۔۔
م۔۔۔مگر ایسا نہیں ہو سکتا ” زیمل بھکلائ ہوئ لگ رہی تھی ۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔ تم لڑکی ہو میں لڑکا ہوں
۔اور جہاں تک میری نالییج ہے ۔۔ ایک انجان لڑکا اور لڑکی میں ۔۔۔۔ سب سے بہتر ریلیشن شادی کا ہی ہوتا ہے ” وہ اپنی تھیوری اسے بتانے لگا ۔۔۔
م۔۔مگر میں شادی نہیں کرنا چاہتی ” زیمل پیچھے ہٹنے لگئ ۔۔۔
سالار کے تیور بگڑے اب تک وہ بلکل صیحی موڈ میں تھا مگر زیمل بار بار سکی انسلٹ کرتی تھی جبکہ یہ بات صرف وہ محسوس کرتا تھا ۔۔ کیا وہ ایسی چیز تھا کہ کوئ اسکی انسلٹ کرتا ۔۔۔۔
مجھ سے نہیں کرنا چاہتی یہ عدیل تمھیں اتنا پیارا تھا ۔۔۔ کہ کسی سے نہیں کرو گی ” وہ قدم بھرتا اسکے پاس آیا ۔۔۔ جبکہ زیمل پیچھے ہوتی چلی گئ ۔۔۔۔
اسنے اپنی آنکھوں پر سے ۔۔۔۔ گلاسز اتار دیے تھے زیمل سے اسکی جانب دیکھنا مشکل ہو گیا جبکہ وہ ۔۔۔ خراب تیوروں میں اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
زیمل ایکدم صوفے سے ٹکرائی اور صوفے پر اچانک ہی بیٹھ گئ ۔۔سالار البتہ اسکے بلکل سامنے آ گیا ۔۔۔۔
یہاں تک کے اسنے زیمل کو ایک ہاتھ سے شانے پر دباؤ ڈال کر پیچھے کیا ۔۔اور خود جھک کر اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔۔وہ اسکے جواب کا منتظر تھا ۔۔۔۔
م۔۔۔مجھے آپ ۔۔آپ سے شادی ن۔۔نہیں کرنی ” زیمل دونوں ہاتھ سینے پر جوڑے ۔۔ایک ایک لفظ اسکے خود سے بمشکل بولی ۔۔۔۔
سالار غور سے اسکی جانب دیکھتا رہا ۔۔۔۔
کیوں “بے عزتی کا احساس ۔۔۔۔ انگاروں کیطرح لگا ۔۔۔۔۔
ک۔۔۔کوئ وجہ ۔۔وجہ نہیں ۔۔۔ مجھے نہیں کرنی ۔۔۔ آپ آپ ۔۔ مجھے فورس کیسے ۔۔کیسے کر سکتے ہیں پلیزدور ہوئیں مجھ سے “وہ اسکی آنکھوں کی گھوری برداشت ہی نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔ ادھر ادھر دیکھتی حلق تر کرتی بولی ۔۔۔۔
سالار اس سے دور ہوا ۔۔
باہر نکاح خواں اور گواہ موجود ہیں ۔۔۔” سالار نے اطلاع دی ۔۔۔۔۔
آپ مجھ سے زب۔۔زبردستی کریں گے ” وہ حیران تھی وہ انکار کر چکی تھی پھر وہ کیوں کہہ رہا تھا ۔۔۔۔۔
زب۔۔زبردستی جو ہوتی ہے نہ اسکو نہیں کہتے ۔۔۔۔ اور دل تو کر رہا ہے دوبار چماٹ لگا کر دماغ ٹھکانے لگاؤ ۔۔ بٹ ۔۔ میں سالار مرتضی ہوں ۔۔۔اور مجھے بھی تم سے شادی کا کوئ شوق نہیں ۔۔ اوکے ” گلاسز اسکے منہ پر پھینک کر ۔۔وہ لمبے ڈنگ بھرتا باہر نکل گیا ۔۔۔زیمل کے ماتھے پر گلاسز بجے تھے ۔۔وہ غصہ نکال کر گیا تھا ۔۔۔ بار بار وہ اسکی انسلٹ جو کر دیتی تھی ۔۔ جبکہ وہ خود سمھجہ نہیں پایا تھا کہ اسے ایسا کیا کہے ۔۔۔۔
تبھی باہر نکل گیا لاپرواہ بن کر ۔۔۔اور وہ لاپرواہ ہی تھا ۔۔۔۔۔
زیمل ماتھے پر ہاتھ رکھے ۔۔۔ بیٹھی اپنی دھڑکنوں کو سمبھال رہی تھی ۔۔۔
جبکہ اسنے پیشانی پر سے ہاتھ ہٹایا ۔۔۔۔ تو خون کی دو بوندیں انگلی کی پور پر لگیں ۔۔۔۔
وہ اس خون کو ہی دیکھ رہی تھی اندر ۔۔ اسکا پی آئے داخل ہوا ۔۔۔۔
یہ سب کیا ہے بھائ ” زیمل اسکو ایسی طرح کہتی تھی ۔۔۔۔
آپکو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ” وہ کچھ فاصلے پر رک گیا ۔۔۔۔
مگر میں ایسا نہیں چاہتی “
اپکے محسن ہیں وہ ۔۔۔۔ اور مجھے لگتا ہے آپکی بھلائ اسی میں ہے ۔۔۔انکے دماغ کا کوئ اندازا نہیں ۔۔۔آپکو یہاں سے نکال دیا انھوں نے تو کہاں جائیں گی ۔۔
دارلامان ۔۔۔ جہاں ۔۔ عورتوں کا کوئ محافظ نہیں ۔۔۔۔ جہاں نا جانے ان سے کیا کیا کام لیے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔ یہ وقت آپکی تکلیفوں کو گھٹانے کا تھا نہ کہ اضافے کا باعث تھا ۔۔۔۔” پی آئے کا لہجہ اس وقت اپنے بوس کی حمایت میں للکار رہا تھا زیمل
۔۔۔ کا وجود ڈھیلا پڑ گیا ۔۔۔۔۔۔
میں آپکو صرف انکے بارے میں ایک ہی بات بتاؤ گی ۔۔۔۔
وہ انھیں لوگوں کی پرواہ اور پیار کرتے ہیں جو انھیں عزت دیتے ہیں ۔۔۔۔۔
اور آپکی یہ بات ۔۔۔ بالفرض انھیں بھڑکا گئ ۔۔ تو آپکے پاس یہ چھت نہیں رہے گی ۔۔۔ اور افشین میڈیم آپکی منتظر ہیں باہر جبکہ آپکے سوتیلے باپ کو انھوں نے آپکو ڈھونڈنے پر لگایا ہوا ہے
۔۔ وہ ہر روز کیطرح آپکو کسی کو بھی بیچ دے گا ۔۔اور آپ جانتی ہیں کہ عدیل سے پہلے آپ کہاں تھیں ” زیمل کو وہ یہ سب کہنا نہیں چاہتا تھا اسے دکھ بھی ہوا اسکے کانپتے ہاتھ دیکھتے ہوئے ۔۔۔
م۔۔۔مجھے مجھے یہاں سے کہیں نہیں جانا ” وہ ایکدم بولی ۔۔۔۔
بڑے بڑے آنسو ۔۔۔ آنکھوں میں پھیل گئے ۔۔ جبکہ بہہ کر نیچے گیرے ۔۔۔۔
میں بھی یہ ہی چاہتا ہوں ۔۔۔۔ اس سب میں آپکی بھلائ ہے ۔۔۔۔اور مجھے یقین ہے اب خاموشی سے جو بھی ہو گا آپ پوری رضامندی کا اظہار کریں گی اسپر ” وہ سخت لہجے میں پوچھ رہا تھا ۔۔۔ زیمل کا سر جھک گیا تھا ۔۔۔ وہ خود کو کٹ پتلی کیطرح تصور کر رہی تھی جس کو جہاں بھی موڑا جاتا وہ مڑ جاتی ۔۔۔۔۔
اسنے سر ہلا دیا ۔۔۔۔۔
جبکہ وہ آگے بڑھا ۔۔اسے احساس تھا وہ اسے خوف زدہ کر گیا ہے ۔۔۔۔۔ اسکا سوتیلا باپ تھا ہی اتنی گھٹیا یہ تو افشین اگر اسے نہ لے جاتی تو وہ اسے ایک آدمی کو بیچ دیتا جو
۔کہ اس سے گھٹیا کام کراتا ۔۔۔۔۔ اور یہ تصور بھی زیمل کی جان سوکھا دیتا تھا اکثر عدیل کو دیکھ کر وہ شکر ادا کرتی ۔۔۔۔کہ چلو جیسا بھی تھا ۔۔۔
وہ اسکو اس گندگی سے بچا چکا تھا ۔۔۔۔۔
پی آئے نے آگے بڑھ کر اسکے سر پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔
میں یقین دلاتا ہوں اپنی زندگی کے خوبصورت دنوں کی ابتدا ہے یہ دن ۔۔” وہ کہہ کر باہر نکل گیا جبکہ زیمل ۔۔۔۔ وہیں بیٹھ گئ ۔۔۔۔
اور دونوں ہاتھ ۔۔۔ چہرے پر رکھ کر ۔۔۔ وہ رو دی ۔۔۔۔
اور جیسے ہی پندرہ منٹ بعد دروازہ بجا ۔۔اسنے سر پر دوپٹہ لیا اور اپنا چہرہ بھی جھکا لیا ۔۔۔۔
اسکے ساتھ آکر وہ بیٹھ گیا تھا ۔۔۔ مگر اس سے فاصلہ بنا کر ۔۔۔
انداز میں ۔۔۔ آنا تھی ۔۔۔ مغروریت تھی ۔۔۔۔ جسے زیمل محسوس کر رہی تھی ۔۔ جبکہ دیکھنے والوں کو ۔۔۔وہ سنجیدہ لگ رہا تھا اپنی عادت کے برخلاف ۔۔۔۔
مولوی نے دونوں سے ایک دوسرے کے لیے قبول ہے کھلوایا تو دونوں ہی
۔۔ اس اقرار پر ۔۔ زرا چونکے گئے ۔۔۔۔
سالار ۔۔۔ نے بالوں میں ہاتھ پھیرہ اور پیپر پر سائین کیا ۔۔اور پیپر کو اسکی طرف کھسکا دیا ۔۔۔۔
زیمل پین اٹھانا چاہتی تھی ۔۔۔
اسکی مدھم سی سسکی ابھری ۔۔ سالار نے دانتوں میں لب سختی سے دبا کر ۔۔۔ اپنے پی آئے کو دیکھا ۔۔۔۔
پارہ ہائ ہوا ۔۔۔۔۔
اگر زبردستی کرنی ہوتی تو وہ خود کر لیتا ۔۔ جبکہ پی آئے نے سر جھکا لیا۔۔سالار بے چین ہو گیا ۔۔وہ نہیں جانتا تھا اسکے رونے کا اتنا اثر وہ خود کیوں لیتا ہے ۔۔اسنے ۔۔۔۔ افان کیطرف دیکھا جس نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔
زیمل کے ہاتھ سے بار بار پین پھسل رہا تھا ۔۔۔۔۔
اگر تم نکاح نہیں کرنا چاہتی تو ۔۔۔۔ رہنے دو ” سالار کی آواز ابھری۔۔۔۔ سب سالار کو دیکھنے لگے ۔۔۔
زیمل کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔۔اسنے۔۔۔ پھر سے پین پکڑا ۔۔۔۔۔
مگر ہاتھوں کی کپکپاہٹ پر قابو نہیں پا سکی ۔۔۔
اور یہ ہی سب سالار دیکھ کر اس سے پہلے بھڑکتا ۔۔۔ کہ زیمل نے سالار کیطرف دیکھا ۔۔۔
م۔۔۔۔میں کرنا۔۔کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔م۔۔۔مگر مجھ سے ۔۔۔ پین۔۔پین نہیں پکڑا جا رہا ” بھیگی معصوم لہجہ ۔۔۔۔ ایک پل کو سالار حیران رہ گیا ۔۔ جبکہ باقی سب یہاں تک کے مولوی بھی مسکرا دیا تھا ۔۔۔
سالار نے اسکے دوپٹے میں سے ۔۔انسوں سے لبریز آنکھیں دیکھی افان نے اپنی ہنسی کو ۔۔۔۔ حلق میں اتارا ۔۔۔
جبکہ سالار جو اٹھنے کے لیے پر طول رہا تھا ۔۔۔
اوراس سے فاصلہ بنائے ہوئے تھے ۔۔۔ وہ اسکے نزدیک ہوا اور اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔ وہی ہاتھ جس سے اسنے سائین کرنے تھے ۔۔۔
زیمل کو بلکل اپنے نزدیک کر کے اسنے اسکے ہاتھ پر گریپ کی ۔۔۔ زیمل کا سارا فوکس ۔۔۔ پین پر تھا اور وہ انداز ہی نہیں کر سکی کہ وہ کس طرح اسکے ہاتھ کے حصار میں آ گئ تھی ۔۔۔۔
سالار نے بس اسکے کانپتے ہاتھوں پر گریپ کی اور زیمل نے پین پکڑ کر ۔۔۔۔ سائین کر دیے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین عجلت میں تھا ۔۔۔۔۔ اور اسکی اس وقت سب سے بڑی غلطی یہ ہوئی کہ وہ گھر آ گیا کیونکہ اسکے کپڑوں پر ۔۔۔ کوک گرگئ تھی ۔۔۔ وہ جلدی سے اپنے کمرے میں بھاگا ۔۔۔ مرتضی صاحب جو طبعیت خرابی کے باعث پانچ بجے ہی گھر لوٹ آئے تھے اسے بھاگتے ہوئے حیرانگی سے دیکھا ۔۔۔
اور دوبارہ اپنی چائے کی جانب متوجہ ہوئے وہ کچھ دیر بعد دوبارہ تیار ہو کر نکلا تو انکی نگاہ اسپر پھرسے گئ ۔۔۔۔
کہاں جا رہے ہو جو اتنی جلدی میں ہو ۔۔” انھوں نے پوچھا تو زین کے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔۔
سالار بھیا کے پاس ” اور ایکدم زبان دانتوں تلے دبا گیا ۔۔۔۔
وہ دل میں دعا گو تھا کہ وہ مڑ کر کچھ نہ پوچھیں ۔۔۔
اسنے تمھیں کیوں بلایا ہے وہ ۔۔تو اپنے کام پر نہیں گیا تھا آج ” مرتضی نے چونک کر پوچھا ۔۔
آف یہ بابا اتنے تیز ہیں کیوں ” زین نے جھنجھلا کر سوچا ۔۔۔۔
وہ شاید کوئ کام ہو ” زین سے کوئ بات ہی نہ بن پڑی ۔۔۔۔
کیا مطلب ۔۔اتنے اسکے ملازم اور پی آئے وہ چمچا ساتھ لے کر گھومتا ہے پھر بھی کام کے لیے تمھیں بلایا ہے اور تمھارے تو پیپرز نہیں ہونے والے” وہ گھور کر بولے ۔۔
بابا آ کر تیاری کر لوں گا ابھی تو جانے دیں” وہ بے چارگی سے بولا ۔۔۔
گھر پر کوئ بھی نہیں ہے پورا گھر خالی ہے ایک تم آئے ہو وہ بھی جا رہے ہو ” مرتضی بولے ۔۔
نہیں نانی گھر پر ہیں” زین نے بتایا ۔۔جلدی سے اور باہر نکلنے لگا ۔۔
روکو ۔۔ میں بھی ساتھ چلتا ہوں آخر دیکھوں زرا یہ آوارہ کرتا کیا پھیرتا ہے ” وہ ہاتھ جھاڑتے اٹھے ۔۔
ب۔۔ب بابا کیوں ” زین چیخا ۔۔
مرتضی کو گڑبڑ کا احساس ہوا آئ برو آچکا کر اسکو گھورا ۔۔۔۔
چلو ۔۔۔زیادہ نہ بولو ” انھوں نے اسکے ہاتھوں سے چابی لی اور خود پہلے باہر نکلے ۔۔۔
سالار بھیو ۔۔۔۔ کیا آپ پر مجھے فاتحہ پڑھ دینی چاہے ۔۔۔
ہاں یہ ہی بہتر ہے ” وہ بولا اور سر جھکاتا انکے پیچھے ہو لیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیمل اٹھ کر اندر چلی گئ تھی ۔۔ مگر باہر اور اندر کے مناظر صاف دیکھائی دے رہے تھے ۔۔۔ اس سے گویا بیٹھا ہی نہیں جا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ اٹھ کر واشروم میں بند ہو گئ جبکہ وہ باہر کھڑا کسی لڑکے سے بات کر رہا تھا ۔۔۔
اسے انکی آواز نہیں آ رہی تھی ۔۔ مگر ۔۔ وہ وہاں بیٹھ نہیں سکی اور واشروم میں بند ہو گئ ۔۔
کیسا گھر بنوایا تھا ۔۔ کسی چیز کا کوئ پردہ نہیں وہ اپنی گھبراہٹ ۔۔ اپنا خوف ۔۔کہاں چھپاتی ۔۔۔۔۔
زبح بھی کر دیا تھا اور سانس آخری سانس بھی نہیں بھرنے دے رہا تھا۔۔
وہ سوچنے لگی ۔۔۔۔ اسکی باتوں کو ۔۔۔۔
ٹھیک ہی تو کہہ رہا تھا اسکا پی آئے ۔۔۔
کیا اسکے پاس کوئ چھت تھی ۔۔۔۔۔ کوئ ٹھکانہ تھا ۔۔۔۔
نہیں کوئ نہیں تھا ۔۔اور افشین بیگم اسکو کیوں تلاش رہیں تھیں کیا وہ جانتی تھیں وہ یہاں ہے ۔۔۔
یہ پھر اسکا سوتیلا باپ ۔۔۔۔
وہ گھٹیا انسان اگر اس تک پہنچ جاتا ۔۔تو ۔۔۔
کتنی بار
اسے اسکی عزت ۔۔۔۔
اسنے مٹھیاں بھینچ اور نیچے بیٹھتی چلی گئ ۔۔۔
سمھجہ نہیں آیا کیا کرے ۔۔۔ خوف سے وہ زرد ہو رہی تھی ۔۔۔
کیا اسکی زندگی کا واقعی خوبصورت سفر شروع ہو گیا ہے ۔۔
کیا وہ اسے سب سے بچا لے ۔۔۔ مگر
وہ اپنے کانپتے ہاتھوں کو پھر سے دیکھتی اپنی جھولی میں چھپ کر
سیمٹ سی گئ ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افان کو فارغ کر کے ۔۔ وہ کمرے میں آیا تو کمرہ خالی تھا اسے اندازا ہو گیا کہ اس لڑکی کی فیورٹ جگہ واشروم ہے ۔۔۔۔۔
وہ پہلے کھڑا رہا ۔۔۔۔ انتظار کرتا رہا ۔۔۔
اور جب وہ باہر نہیں آئ تو ۔۔وہ بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔
کچھ دیر بعد وہ بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔
انتظار اتنا کوفت زدہ تھا ۔۔۔اسے غصہ آنے لگا ۔۔۔۔
اپنا سیل فون نکال کر ۔۔۔ وہ ۔۔۔ اپنی اپڈیٹس دیکھنے لگا ۔۔
جبکہ آہستگی سے دروازہ کھلا ۔۔۔
سالار کی نظریں دروازے پر ہی تھیں ۔۔۔۔۔
زیمل باہر نکلی سامنے ہی اسکو دیکھ۔ کر ۔۔اس سے پہلے وہ دوبارہ باتھ روم میں گھس جاتی سالار کی بات پر قدم رک گئے ۔۔
نارملی انسانوں کو باتھروم اتنے پسند نہیں ہوتے جتنے تمھیں پسند ہیں ۔۔۔”اسنے طنز کیا تھا وہ جان گئ تھی ۔۔
شرمندگی سے ۔۔۔ وہ اندر بھی نہیں جا سکی ۔۔۔
ادھر آؤ “ایکدم اسکے کہنے پر دل بے ہنگم ہو اٹھا ۔۔۔۔۔
دھڑکنوں کا شور چارو جانب گونج اٹھا ۔۔۔
سالار اسکے سرخ ہوئے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ وہاں سے اٹھ گیا ۔۔۔۔
بیڈ سے زرا فاصلے پر ہو کر ۔۔۔ وہ کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
کوشش کرو تم چل سکتی ہو ” پھر سے طنز اچھل کر ۔۔ زیمل کے چہرے پر آ پڑا ۔۔ وہ دوسری طرف جا کر بیڈ پر بیٹھ گئ ۔۔ سالار جہاں ۔۔۔ کھڑا تھا اس طرف نہیں بیٹھی تھی ۔۔
ادھر آ کر بیٹھو ” اسنے پھر سے حکم دیا ۔۔ انداز سنجیدہ تھا جبکہ چہرے پر بھی سنجیدگی تھی یہ نہیں زیمل کی آنکھیں اٹھتی تو دیکھ پاتیں ۔۔
زیمل اٹھی ۔۔۔ سالار نے دیکھا اسکے ہاتھ کانپ رہے ہیں ۔۔۔
اپنی شرٹ مٹھی میں جکڑ کر وہ ۔۔۔ اسکی بتائ گئ جگہ پر بیٹھ گئ ۔۔۔ سر بلکل جھکا ہوا تھا ۔۔۔
سالار نے لائٹس آف کر دیں ۔۔
زیمل ایکدم کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔۔
یہ۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ ” اسکے منہ سے نکلا ۔۔
سالار نے یلو لائٹس اون کیں ۔۔۔ اور اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
وہ کیا سمھجہ تھی ۔۔ اسکی آنکھوں میں شرارت ناچ گئ ۔۔۔
امم مجھے نہیں لگتا جو تم سمھجی ہو ۔۔وہ سب کرنے کا ابھی وقت ہے ” وہ بے باکی سے بولا ۔۔۔
زیمل کے وجود میں سرد لہر سرسرا سی گئ ۔۔۔
وہ دوبارہ بیٹھ گئ ۔۔
ہمیں جواب دے گئیں ۔۔۔ ۔جبکہ سالار دوسری طرف آیا ۔۔۔
اسکی کمر کے پیچھے سے ایک تکیہ نکالا ۔۔۔اور اسکو اپنے بازو کے نیچے فولڈ کر کے ۔۔وہ ۔۔ لیٹنے والے انداز میں بیٹھ گیا اسطرح کے اسکا چہرہ جھکا ہوا ہونے کے باجود بھی اسے دیکھائے دے رہا تھا ۔۔
شاید آج وہ اسے توجہ سے دیکھ رہا تھا یہ اختیار سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ملائ سا رنگ ۔۔۔۔ پتلی سی ناک ۔۔ بڑی بڑی خوف زدہ آنکھوں پر گھنی پلکوں کا سایہ ۔۔۔۔ جبکہ گلابی لب سختی سے ایک دوسرے میں پیوست تھے ۔۔۔۔۔
وہ ہاتھوں کی انگلیوں کو موڑ رہی تھی بار بار ۔۔۔۔
میں زندگی میں اتنا کنفیوز نہیں ہوا ۔۔۔ جتنا اسوقت ۔۔۔ سوچ رہا ہوں کہ تم سے بات کیا کرنی چاہیے” وہ بولا ۔۔۔۔
زیمل تو سانسیں روکے بیٹھی تھی ۔۔۔۔
ہششششش مگر مجھے کنفیوز نہیں ہونا چاہیے ایکچلی ۔۔۔
اسنے تکیے اپنے بازو کے نیچے سے نکال کر پھینکا اور اسکے ۔۔۔ ہاتھ اسکی جھولی سے ہٹا کر سالار نے اپنا سر زیمل کی گود میں رکھ لیا ۔۔۔
زیمل نے ہاتھ پیچھے کر لیے ۔۔۔وہ تو پوری کی پوری کانپ اٹھی ۔۔ پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
سالار کی ساری توجہ اسی پر تھی
خوبصورت ہو تم” آنکھوں سے اسکے چہرے کے ایک ایک نقوش کو ۔۔۔فرصت سے دیکھتا وہ بولا ۔۔۔۔
زیمل تو رونے والی ہو گئ ۔۔
سالار مسکرا دیا ۔۔
اور اسکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔اسکی انگلیوں کو دیکھنے لگا ۔۔۔
کہنے کے لیے واقعی ہی اسکے پاس کچھ نہیں تھا ۔۔
اوہ مجھے یاد آیا ” وہ ایکدم اٹھ کر بیٹھا زیمل ڈر ہی گئ ۔۔
بال دیکھاؤ اپنے”اسنے اسکا دوپٹہ کھینچا سنہری بال بکھر گئے ۔۔۔
سالار لمبے سنہری بالوں کو ۔۔۔ دیکھنے لگا جو اتنے تو نہیں ۔۔۔
البتہ ۔۔۔ کافی اب بڑھ گئے تھے ۔۔
زیمل کا گھبراہٹ سے بے ہوش ہو جانے والا مقام تھا ۔ وہ تو ۔۔۔ درمیان کوئ فاصلہ ہی نہیں رکھ سکا ۔۔
اسکے ریشمی بالوں کو ہاتھوں میں بھر لیا ۔۔۔۔
زیمل کی نظریں جھکی ہوئیں تھیں ۔۔۔
سالار اسکو دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔
بولا کچھ نہیں ۔۔۔۔
م۔۔۔میں مجھے ۔۔۔ پ۔۔پانی پینا ہے ” زیمل وہاں سے اٹھنے کا بھانہ تلاشنے لگی جھکی جھکی نظروں سے بولی ۔۔۔
کیوں ” سالار نے اسکا چہرہ اپنی جانب موڑ لیا ۔۔۔
نکاح کے حق نے اور اسکے کھل کر سامنے آنے والے حسن نے سالار کے جزبات میں آگ سی بھڑکا دی تھی ۔۔۔۔
زیمل نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
پیاس لگی ہے”لمبی لمبی تیز تیز سانسیں لیتی وہ بولی ۔۔۔
سالار اس سے پہلے اسکی پیاس ۔۔ کو اپنے انداز میں بھجاتا ۔۔۔۔
دروازہ دھڑ دھڑ بجنے پر ایکدم چونک گیا جبکہ زیمل ڈر کر اس سے دور ہوئ چہرے پر پسینہ پھیلنے لگا ۔۔۔
سالار نے ایک نظر اسکی جانب دیکھا۔ ۔۔۔۔
نرم سانسوں میں دھنکی سی تھی ۔۔۔۔ وہ مسرور سا ہوا ۔۔
ہمیشہ بولڈ لڑکیوں سے اسکا واسطہ پڑا تھا شاید پروفیشن ہی اسکا ایسا تھا ۔۔۔
اسکی شرم و حیا اور گھبراہٹ کو محسوس کر کے ۔۔۔
اسکا دل گدگدا سا گیا ۔۔
کھوتے کو میں نے منع کیا تھا ۔۔۔ ” وہ افان کے بارے میں سوچ کر اٹھا ۔۔۔ زیمل بھی اٹھ گئ ۔۔۔۔
سالار باہر نکلا زیمل بھی اسکے پیچھے نکلی اور کچن میں چلی گئ ۔۔۔۔
سالار نے مڑ کر اسکو دیکھا ۔۔۔۔
وہ گلاس میں پانی ڈال کر اپنے لبوں تک لے کر گئ تھی کے اسکیطرف ۔۔ نگاہ اٹھی ۔۔ جو آئ برو آچکا۔ کر اسکو گھور رہا تھا ۔۔
جبکہ انگلی سے اشارہ کر رہا تھا کہ گلاس واپس ۔۔۔ رکھ دو ۔۔۔
پانی بھی نہیں پینے دے رہا تھا ۔۔۔ زیمل کو اس شخص سے خطرہ محسوس ہونے لگا ۔۔۔
اپنے آپ ہی گلاس اسنے نیچے رکھ دیا ۔۔
سالار مسکرا کر اسکو آنکھ مارتا ۔۔ دروازے تک آیا جو دوبارہ دھڑ دھڑ بج رہا تھا ۔۔
کھول رہا ہوں ۔۔کیوں موت آ گئ”وہ چیخا ۔۔۔۔ اور دروازہ کھول دیا ۔۔۔۔
اور جیسے سامنے کھڑے مرتضی صاحب کو دیکھ کر۔۔اسکا منہ پورا کھل گیا ۔۔۔
آنکھوں میں حیرانگی حونک پن تھا ۔۔اسکے پیچھے سے زین ۔۔ برآمد ہوا۔۔۔۔
جو کہ رونے والا ہوا ہوا تھا ۔
مرتضی صاحب ۔۔۔ کی آنکھوں میں شعلے سے تھے ۔۔۔
سالار کا شوخ سانس جو وہ ارادہ بنا گیا تھا ۔۔۔
اس ڈرپھوک کی سانسوں۔ میں حائل کر دے گا ۔۔۔
اس وقت تو ۔۔ جیسے ۔۔ بند ہی ہو گیا تھا ۔۔۔
اسے لگا موت کا فرشتہ اسکے باپ کی شکل میں سامنے آ گیا ہو۔۔۔ اور ابھی چھتر لگا کر اسکی روح قبض کر کے اپنے سنگ لے جائے گا جبکہ وہ تو یہ بھی نہیں بتا سکے گا کہ اسکی تو ابھی شادی ہوئ تھی ۔۔۔۔
ب
۔۔با” لہجہ لڑکھڑا گیا ۔۔۔۔
مرتضی خاموشی سے اسے دھکیلتے اندر آ گئے سامنے زیمل کو دیکھ کر ۔۔انپر جیسے فلیٹ کی چھت گیری تھی ۔۔سالار نے پھاڑ کھانے والی نظروں سے ۔۔۔ زین کو دیکھا ۔۔۔
بھای۔۔تھپڑ لگا ہے مجھے” وہ منہ بسورا بولا ۔۔
تجھے تو میں اچھے سے دیکھ لوں گا ” سالار نے کہا ۔۔اور باپ کے پیچھے آیا ۔۔ جسے سکتا ہو گیا تھا زیمل کو دیکھ کر ۔۔
تو اس سے تمھارا نکاح ہے آج بیٹے باپ کو بھی انوائیٹ کر لیتے” مرتضی مڑے۔۔۔اور شعلہ بار نگاہوں سے اسکو دیکھنے لگا ۔۔
ب۔۔بابا میں پسند کرتا ہوں ۔” سالار کو لگا آج اسکی ساری ڈھٹائی ہوا ہو چکی ہے ساری بے شرمی پانی میں مل گئ ہے
بہت خوب جب بچے ہو جاتے مجھے اور وہ تمھاری ماں ۔۔۔ اسکو تب بتاتے ۔۔۔۔ جو تمھاری لیے اپنی بھانجی کو پسند کیے بیٹھی ہے ۔۔۔ سالار صاحب اوقات ہی اتنی دی آپ نے ہمیں ۔۔۔۔ چلو وہ بڑا ۔۔۔ بدبخت ۔۔۔ ضد پر منوا گیا تھا اپنی بات ۔۔ تم نے تو میری جان زبردست کیا ۔۔ نہ بتانے کی زحمت کی
بابا “وہ بیچ میں بولا ۔۔ کہ مرتضی اس سے پہلے اسکے منہ پر تھپڑ مارتے۔۔۔ وہ ایکدم جھکا اور انکا ہاتھ ہو میں لہرا گیا ۔۔۔
جبکہ وہ تو پاگل سے ہوے اپنی جوتی اتاری
بابا اللہ کی قسم ابھی شادی ہوئ ہے میری ۔۔ ہوئ عزت نہیں بچے گی میری” وہ بھاگا ۔۔۔ جیسے بچہ ہو چھوٹا سا۔۔
اگر تم گھر میں گھسے نہ سالار ۔۔۔تو میں تمھارا قتل کر دوں گا ” وہ وارن کرتے دھاڑے ۔۔۔۔
بابا”
کیا بابا بابا ” وہ چلائے ۔۔۔۔
سالار کچھ بول نہیں سکا ۔۔
مرتضی زیمل کی جانب مڑے ۔۔۔
جس کے ہاتھ لگنے سے گلاس زمین بوس ہوا ۔۔
ابھی ہوا ہے نکاح” وہ سخت تیوروں میں اسکو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
زیمل نے فورا سر ہلا دیا جبکہ آنکھوں میں بڑے بڑے آنسو بھر گئے ۔۔۔
زبردستی کیا ہے اس نے ” وہ اسکے نزدیک آئے جو سسکنے لگی تھی ۔۔ خوف سے اسکا دم خشک وہ گیا تھا ۔۔۔
زیمل کی نظریں سالار کی جانب اٹھیں ۔۔۔۔
پوچھ رہا ہوں کچھ اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جواب دو “وہ بھڑکے تو ۔۔زیمل نفی میں سر ہلانا چاہتی تھی مگر اثبات میں سر ہل گیا ۔۔
مرتضی جو ہاتھ میں چپل لیے ہوئے تھے ۔۔سالار کی کمر میں بجائ ۔۔۔۔
جبکہ سالار کا تو منہ ہی کھل گیا ۔۔۔
چلو میرے ساتھ تم ” مرتضی نے زیمل کو باہر نکلنے کا اشارہ کیا ۔۔
سالار اس سے پہلے کچھ کہنے کو آگے بڑھتا مرتضی نے اسکو گھور کر دیکھا ۔۔
اپنی شکل لے کر چلو بھر پانی میں ڈوب مرو افشین نے اس بچی پر کمظلم کیے تھے جو تم نے شروع کر دیے” وہ بے حد غصے سے بولے ۔۔۔۔
سالار تو زیمل پر حیران ہی تھا بازی تو ساری پلٹ گئ ۔۔ اسکا باپ اسی کی بیوی کے حق میں کھڑا ہو گیا تھا ۔۔
بہت خوب زیمل میڈیم ” دل میں اسے کچا چبا جانے کے جزبات لیے وہ چپ رہ گیا ۔۔
اچھا ہی تھا ۔ ۔۔ کہ انپر یہ ہی ثابت ہوا ۔۔۔ ایک طرح سے اسنے سوچا اور میسنی سی شکل بنا لی ۔۔۔
لے کر چلو زین اسکو ” زیمل کو زین کیطرف کر کے ۔۔ مرتضی وہیں رک گئے ۔۔ جبکہ زیمل نے ایک نظر سالار کو دیکھا ۔۔
سالار نے اسکو ایسے دیکھا ۔۔۔۔
جیسے کہہ رہا ہوں جو تم نے کیا ہے اسکی خطرناک سزا کے لیے تیار رہنا ۔۔
زیمل جلدی سے باہر نکل گئ اور سالار مرتضی کے ارمان دھندے رہ گئے ۔۔
اسنے اپنے باپ کو دیکھا ۔۔ ۔
چور چور نظروں سے ۔۔۔
مرتضی اسکے قریب آئے جبکہ وہ ڈر کر پیچھے ہوا ۔۔۔
جس دن تک وہ لڑکی خود نہیں چاہے گی ۔۔تمھاری شادی نہیں ہو گی ۔۔ بھلے آدھے شادی شدہ اور آدھے کنوارے رہو ۔۔ساری زندگی ۔۔
کسی کا باپ اتنا ظالم نہیں ہوتا ” وہ بے چارگی سے بولا ۔۔
کسی کی اولاد اتنی نافرمان بھی نہیں ہو گی ” مرتضی بولے اور بمشکل اپنا غصہ دباتے باہر نکلے ۔۔
یار بابا ۔۔۔” سالار بھی پیچھے بھاگا جبکہ پی آئے نے پیچھے سے گھر لوک کیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر سمیر کے پرپوزل کو مرتضی سے انکار کرا چکا تھا ۔۔۔۔
جبکہ ۔۔۔۔ اسے بہت غصہ بھی تھا اسی غصے میں وہ گھر آ گیا ۔۔۔
لاونج میں بیٹھا وہ ۔۔۔ پریشے اور عمل کی باتیں سن رہا تھا جو بتا رہیں تھیں کہ نین کی کتنی تعریفیں ہوئ تھیں وہاں مگر وہ غائب دماغی سے سن رہا تھا اسنے ایک نظر پریشے کو دیکھا ۔۔۔۔
جو ہر وقت ہنستی کھلکھلاہتی رہتی تھی ۔۔اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔پریشے ایکدم ساکت ہوئ ۔۔۔۔
خوش رہو ” مسکرا کر اسنے کہا ۔۔۔ تو پریشے حیرانگی سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔
بڑے بھیا مجھے تو نہیں کہتے آپ”عمل نے فورا ۔۔۔ خفگی سے کہا ۔۔۔
کبیر ہنس دیا ۔۔
ہاں تم بھی” وہ اسکا گال تھپتھپا کر نین کو دیکھنے لگا جو اسکو مضطرب سا محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔
اگر ڈسٹرب نہ ہو تو کافی کا ایک کپ دے دو ” اسنے کہا تو نین سر ہلا کر کچن میں چلی گئ ۔۔۔
ابھی وہ ان سے باتیں کر رہا تھا کہ ۔۔۔
سامنے سے مرتضی صاحب بڑے زلزلے میں اندر آئے ۔۔
انکے پیچھے زین تھا جبکہ اس سے پیچھے زیمل تھی ۔۔وہ اس گھر میں دوبارہ آتی کانپ رہی تھی ۔۔۔
جبکہ سالار کو تو انھوں نے چوکیدار کے ساتھ بیٹھا دیا تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے