Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 42

آپکو واقعی مجھ پر یقین ہے ۔۔”وہ سوال کرنے لگی
نہیں مجھے اپنے پڑوسیوں پر یقین ہے تمھارے ساتھ بیٹھا ہوں تمھیں بانہوں میں قید کیے تو مطلب یقین بھی تم پر ہی ہے”وہ بولا تو زیمل ایکدم اس سے دور ہوئ سالار اسکو دیکھنے لگا ۔۔اسکے سر سے دوپٹہ اتر چکا تھا
۔۔ لہراتے بال ادھر ادھر ڈھل گئے ۔۔جو چھوٹے سے کیچر میں قید تھے اور ہالف اونچے تھے ۔۔
ہر بات پر کیوں چیڑتے ہیں آپ کوئ بات آپکے لیے بڑی نہیں ہے “وہ زرا خفگی سے بولی ۔۔۔
سالار کو لگا ایکدم جیسے ساری تھکاوٹ ختم ہو گئ افشین کے کیے گئے عمل کو بھی جسیے وہ فراموش کر گیا ۔۔
وہ کتنی پیاری تھی۔۔۔ آنکھیں ۔۔۔ اٹھا کر اسکودیکھتی تھی تو۔۔ مرد ہونے کے باوجود اسکا دل ہارٹ بیٹ مس کررہا تھا
مگر اسی لیول کی بیوقوف لڑکی تھی افشین جیسی فالتو عورت سے ڈرتی رہی تھی ۔۔۔
ہاں وہ ایک نام پر اس سارے قصے میں چونکہ تھا اور وہ نام سعیرکا تھا ۔۔۔۔
پل بھر کے لیا ۔۔۔۔ اسنے زیمل کو دیکھا بھی تھا۔۔۔۔
مگر شاید وہ محسوس نہیں کر سکی ۔۔
اسے اسپر یقین تھا
۔۔ ہر لحاظ سے ۔۔۔ اور وہ بلکل ایسا نہیں چاہتا تھا زیمل اپنے کردار کی صفائیاں دے ۔۔۔۔
تمھیں بڑی بات بتاتا ہوں چلو جس سے مجھے فرق پڑا ہے ۔۔ اور لگ رہا ہے بہت زوروں شور سے فرق پڑا ہے “
اسنے اسکے شانے پر سے نرم لٹوں کو دور کیا ۔۔۔
زیمل کی نگاہ اسکے ہاتھ کی حرکت پر تھی
۔۔ وہ کچھ فاصلہ بنا گئ ۔۔
سالار نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔
صوفے پر ہاتھ پھیلا لیا ۔۔۔۔اور اسےاپنی نزدیک آنے کا اشارہ کیا۔۔
زیمل نے سانس حلق میں اتارا ۔۔۔۔ اور لاشعوری طور پر نیچلے ہونٹ کو دانتوں میں دبا گئ ۔۔
سالار پر یہ حرکت کافی بھاری پڑی
وہ۔۔دم سادھے اس مڑے ہونٹ کو دیکھنے لگا ۔۔
زیمل کو احساس ہوا تو
جلدی سے چہرہ موڑ لیا۔۔
نظروں میں ہی اتنی تپش رکھتا تھا کہ ۔۔۔ سامنے والا اپنےآپ بچائے بھی تو کیسے
۔۔۔
بات سنو میری یہ اٹیٹیوڈ کسی اور کو جا کر دیکھاو ۔۔۔”اچانک اسکا ہاتھ کھینچ کر وہ بولا ۔۔۔
زیمل نے اسکی جانب دیکھا آنکھوں میں حیرانگی اتر آئ
میں نے کب اٹیٹیوڈ دیکھایا ہے ” وہ منمنائ ۔۔ اسکے بازؤں کے حصار میں قید ہو چکی تھی ۔۔بھلہ اب یہاں سے نکل سکتی تھی۔۔ دور بھی نہیں ہو سکتی تھی جہاں تک کہ
سالار کے تیز کلون کی خوشبو اسکے اردگرد پھیلنے لگی ۔۔
پوچھو اب۔۔۔۔ کون سی بڑی بات ہے ” وہ اسکو سختی سے اپنی گرفت میں قید کرکے پوچھنے لگا ۔۔
میں میں ایسے کیسے پوچھو آپ تھوڑا دور ہوں” زیمل نے اس سے خود کو دور کرنا چاہا۔۔
جبکہ سالار نے اب کہ اسکا سر۔۔۔ تھوڑی سے پکڑ کر اونچا کیا ۔۔۔۔ اور اپنے بازؤں پر رکھ لیا جو کہ صوفے کی پشت پر پھیلا ہوا تھا ۔۔۔
اس طرح زیمل کی گردن اسکے سامنے تھی جبکہ سالار کی نظریں اسکی سہمی نظروں سے ہوتی چہرے کا ایک ایک نقش چھوتی ۔۔۔۔
اب نیچے اسکی گردن اور گردن کی اوٹ میں موجود تل پر تھی اسنے اس تل سے کھیلنا شروع کر دیا ۔۔
زیمل کے لیے یہ سب بہت تھا ۔۔
وہ کانپ اٹھی تھی ۔۔
کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔ پوچھو کیا بڑی خبر ہے “وہ آنکھیں نکالتا ۔۔اسکی گردن پر چٹکی کاٹتا بولا ۔۔
زیمل کی سی نکلی اور اسنے۔۔ جھٹکےسے سالار کو دور کیا ۔۔۔۔
سالار کا قہقہہ ابھرا ۔۔۔۔
جبکہ زیمل اپنی بے ترتیب دھڑکنوں کو سنبھالنے لگی ۔۔۔
بتا دیں ایسی کون سی خبر ہے آپکے پاس”
وہ ماتھے پر بل ڈالے پوچھنے لگی ۔۔۔۔
بڑی بات ہے ۔۔۔۔ تمھیں اسکے لیے کچھ کرنا پڑے گا ” وہ اتراتا بولا ۔۔
زیمل چند پل کے لیے اسے دیکھتی رہ گئ اوراسکے بعد اپنا دوپٹہ درست کرتی وہ وہاں سے اٹھ گئ ۔۔
نہ بتائیں چلیں ۔۔۔ “اسنے عام سے لہجے میں کہا دل خوش تھا ۔۔۔۔
اتنی بڑی بات کو اسنے عام اور بے ضرر کر دیا تھا ۔۔
یہ شاید محسوس کیا تھا تو محسوس ہونے نہیں دیا ۔۔۔۔
مگر اسے لگ رہا تھا آج سارے بوجھ دل پر سے اتر گئے ۔۔
ہاں وہ کبھی اس سے اظہار نہیں کر پائے گی
مگر آج وہ مان گئی تھی اور۔۔ دل میں اسے تصور کر کے اسے کہہ دیا تھا ۔۔ سالار مرتضی مجھے تمھارے خود پر یقین سے محبت ہے ۔۔
تمھارے محافظ ان بازؤں سے محبت ہے ۔۔۔
تمھاری دی گئ عزت سے محبت ہے ۔۔ ہاں مجھے تمھارے اس لاپرواہ ۔۔۔۔
عجیب سے
مگر سب سے یونیک دل سے محبت ہے ۔۔
مجھے تمھارے چہرے کی ہینڈسم نقوش سے محبت ہے
۔
تمھاری آنکھوں کا اپنی طرف اٹھنا اور نظر بھر کر دیکھنا
مجھے ہر اس لمہے سے محبت ہے جو میں نے تمھارے ساتھ گزارہ وہ کچن تک چلتی مسکراتی ہوئی سوچ رہی تھی ۔۔
وہ اتنی آزاد زندگی میں کبھی خود کو محسوس نہیں کر پائ تھی جتنا اس وقت کر رہی تھی
اچانک اسکی نگاہ سالار پر اٹھی وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا
۔
نہ جانے کیسے مگر بے ساختہ وہ ہنس پڑی ۔۔
کھلکھلا کر ۔۔۔۔
یہ جو تمھاری حرکتیں ہیں نہ مجھے اگنور کرنے کی بس ایک منٹ میں چٹکی بجا کر تمھیں سیدھا کر دوں گا سمھجتی کیا ہو خود کو ” وہ غصے میں بھرتا اٹھا ۔
مگر صاف دیکھ رہا تھا یہ غصہ مصنوعی ہے
وہ اسکے پاس آنے لگا زیمل کو صاف خطرہ دیکھائی دے رہا تھا ۔۔۔وہ جلدی سے گھبرا کر ۔۔ کمرے کی جانب بھاگی سالار چونکہ اس سے دور تھا تبھی ایکدم اسے بھاگ کر پکڑ نہیں سکا اور اسطرح زیمل تو کمرے میں بند ہو گئ اور سالار باہر کھڑا رہ گیا مگر گلاس وال ہونے کی وجہ سے ۔۔ سب آر پار نظر آ رہا تھا ۔۔۔
زیمل مسکراتی نظروں سے اسے دیکھتی رہی
سالار بھی مسکراہٹ روکے اسکی مسکراتی آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔۔
بڑی بات میرے نزدیک یہ ہے ۔۔۔” اسنے شیشے کے اس پار سے ۔۔۔زیمل کے چہرے کو چھوا تھا ۔۔
زیمل ہمہ تن گوش تھی نگاہیں جیسے ایک پل وہ بھی اسے دور نہیں ہو رہی تھی ۔۔
سالار نے شیشے پر ہی اپنا لمس چھوڑا ۔۔ حالانکہ وہ اس سے دور تھی ۔۔ شیشہ بیچ میں حائل تھا پھر بھی وہ شرما گئ ۔۔۔۔
مجھے تم سے محبت ہے ” وہ بولا ۔۔۔۔ لہجہ مدھم تھا مگر پرسوز تھا ۔۔
ایک سرسراتی لہر زیمل کے وجود میں دوڑی اور پلکیں جھکتی چلیں گئیں ۔۔۔
تمھاری آنکھوں سے ۔۔
تمھارے ہونٹوں سے ۔۔ وہ خمار آلودہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔
تمھارے سرخ آنچل سے ۔۔” وہ مسکرایا ۔۔
زیمل بھی مسکرا دی ۔۔۔۔۔
اور تم پر فرض ہے تم بھی اس قدر نو ۔۔ آئ مین پاکستان میں سب سے ہینڈسم بندے سے ۔۔ محبت کرو ” وہ بولا
۔ لہجہ اتراہٹ سے بھرپور تھا ۔۔
زیمل ہنس دی ۔۔
بس پاکستان ” وہ اسکے شیشے پر رکھے ۔۔ ہاتھ۔ پر دوسری طرف سے خود بھی اپنا ہاتھ اسی جگہ پر شیشے پر رکھتی بولی ۔۔۔۔
سالار نے آئ برواچکائ ۔۔۔
تم یہ دروازہ تو کھولو تمھیں اچھے سے بتاتا ہوں سب ۔۔۔” وہ ہینڈل ہلانے لگا ۔۔۔
ب۔۔بھوک لگی ہے مجھے” اسنے واضح لفظوں میں کہا
حکم سر آنکھوں پر بیبی شوگر ” وہ آنکھ مارتا بولا ۔۔۔۔ اور خود ہی اپنی بات سے محظوظ ہوا ۔۔ خیر ۔۔ بیبی شوگر کا مطلب۔۔۔
کم ازکم سامنے کھڑی لڑکی نہیں جانتی تھی ۔۔
زیمل شرما سی گئ وہ مزید محظوظ ہوا ۔۔
مگر ۔۔۔ یہاں پر کوئ بھی چیشاپکو بنا محنت کے نہیں ملے گی ۔۔ میرے ساتھ رہنا ہے تو ہر پل ۔۔۔ ہارڈ ورک میں مشغول رہنا ہو گا ۔۔ ایسے ہی تمھارا شوہر اتنا امیر نہیں ہے۔۔ دو دو منٹ میں اپنے باپ کو گھر چھوڑنے کی دھمکیاں دیتا ہے “وہ بولا ۔۔۔
زیمل اسے سمھجہ نہیں سکی وہ اسکی آنکھوں کی الجھن سے اندازا لگا گیا ۔۔۔
کھانا تمھیں ایک شرط پر ملے گا جب تم میری خوراک بنو گی ۔۔ بکری ” وہ پھر سے ایک آنکھ دبا گیا ۔۔۔
زیمل کے ماتھے پر چھوٹے چھوٹے بل پڑے ۔۔۔۔
آپ بہت خطرناک ہے کھانے کے لیے بھی آپکی منتیں کرنی پڑیں گی “
وہ بولی منہ پھول سا گیا ۔۔
یس بیبی ۔۔۔ میں شاور لینے جا رہا ہوں ۔۔ شرافت سے باہر نکلو ” وہ تیوری چڑھا کر بولتا ۔۔۔
اور خود دوسرے روم میں چلا گیا ۔۔۔
زیمل کوایک پرسنٹ بھی اس آدمی پر یقین نہیں تھا تبھی ۔۔ تھوڑی دیر یوں ہی کھڑی رہی اور جب پانچ منٹ گزر گئے اسنے ہینڈل گھمایا اوروہ باہر آ گئ ۔۔
باہر آتے ہی وہ سوچ رہی تھی کھانا کیا کھانا ہے۔۔ کیونکہ ناشتےکا وقت تونکل گیا تھا۔۔ابھی وہ یہ ہی سوچ رہی تھی ۔۔ اچانک دروازہ کھول کر وہ اسکے نزدیک آیا تھا ۔۔اور اسکے گال پر۔۔۔
پر شدت بھرا لمس رکھا ۔۔ اپنے دونوں بازوں سےاسکا احتجاج کرتا وجود جکڑا۔۔اور وہ اسکے گال پر۔۔ زور سے کاٹ کر ۔۔۔۔ دوبارہ ۔۔۔ روم میں بھاگ گیا ۔۔۔۔
زیمل کو جھٹکا لگا تھا اور گال پر اتنی شدت تکلیف ہوئ تھی کہ اسکے آنسو آ گئے ۔۔۔
اسنے دانت نکالتے سالار کو دیکھا۔۔۔۔
زیمل کا بس نہیں چلا پاس پڑا واس اٹھا کر اسکے سر پر مار دے ۔۔
تمھیں کیا لگ رہا ہے تم بچ جاؤ گی اب مجھ سے ۔۔۔
وہ فلائنگ کس اچھالتا بولا ۔۔۔۔
آپ چلے جائیں یہاں سے ” وہ آنسو روکتی بولی گال پر بہت زور کا درد تھا ۔۔۔
یہ نشان تمھارے منہ پر بہت جچھ رہا ہے ابھی مزید نشانوں کی منتظر رہو” وہ مزے سے کہتا ۔۔ ڈور کلوز کر کے۔۔اندر بند ہو گیا ۔۔ جبکہ زیمل ۔۔ گال رگڑنے لگی۔۔۔
کیا اس جیسی لڑکی کا اسکے ساتھ گزرا ہے جو پل میں آندھی طوفان بن جاتا ہے اور۔۔اسکی جان پر بنا دیتا ہے
بے شرم” اسنے بس اتنا ہی سوچا ۔۔۔۔ اور صوفے پر بیٹھ گئ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین کے سر میں بہت درد تھا ۔۔۔ وہ مدیھا سے کہہ کر
واپس کمرے میں آ گئ اسے آج عجیب سا احساس ہو رہا تھا ۔۔۔
نہ جانے کیوں ۔۔ جیسے دل بجھ سا رہا تھا اسنے سوچا کیوں نہ ۔۔۔
اپنے گھر چلی جائے ۔۔ وہ اٹھ کر باہر ائ ۔۔۔اور ۔۔۔
مدیھا سے پوچھا ۔۔۔
مدیھا مسکرا دی
میں نے پہلے بھی کہا ہے میری اجازت کی ضرورت نہیں تمھیں ” وہ بولی اور ۔۔۔نین نے سر ہلایا اور ۔۔۔
وہ روم میں آ کر ریڈی ہونے لگی ۔۔
حالانکہ کے اس کو چند ماہ ہوئے تھے وہ توتھک گئ تھی بہت زیادہ
نہ جانے آیت اپنے آخری منتھس میں یہ جوب کا مشغلہ کیسے انجام دے رہی تھی ۔۔۔۔
وہ تیار ہو کر ڈرائیور کے ساتھ گھر کے لیے نکل گئ ۔۔
ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی ۔۔
بہت دنوں بعد اپنے گھر جا رہی تھی وہ ۔۔
جیسے ہی وہ گھر کے دروازے پر پہنچی ۔۔
تو محلے کے سب لوگوں نے اسکی بڑی ساری گاڑی ڈرائیور کو دیکھا تھا ۔۔وہ گاڑی میں سے اتر کر اندر چلی گئ ۔۔
دروازہ امی نے کھولا تھا ۔۔سب اسے دیکھ کر خوش ہوئے ۔۔ مگر وہ پھوپھو اور احمد کو دیکھ کر
بلکل نہیں ہوئ۔
اسنے بے زاریت سے سب کو دیکھا
احمد سے تو نفرت ہی ہو گئ تھی
کس طرح اسنے اسے بلیک میل کرنے کی کوشش کی تھی وہ بن اسلام دعا کے بیٹھ گئ
بیٹی اتنی بڑے لوگوں میں جا کر سلام دعا تہذیب سب بھول گئ ہو ” پوپھو نے طنز مارا ۔۔
پوپھو۔۔ جب احمد کی نوکری میرے شوہر کے آفس میں لگی تھی تو احمد نے بھی ابا سے سلام کرنا چھوڑ دیا تھا بہت دکھ ہوتا تھا کہ پیسہ کیا اتنی اہمیت رکھتا ہے ۔۔ مگر پھر بات تربیت کی بھی آ جاتی ہے۔۔ اور سب سے اہم بات چند پیسے کچھ لوگوں کے پاس آ جائیں تو وہ اسے سما نہیں پاتے
اور میری نہ تربیت ایسی ہے ۔۔اور نہ پیسے کا گھمنڈ ہے مجھے
اللہ نے مجھے بہتر ۔۔ سے بہترین اور اگر اس سے بھی کچھ زیادہ کہو تو ۔۔وہ دیا ہے آپ نہ کہتی میں بھی سلام ہی کرنے لگی تھی ۔۔
خیر کیسی ہیں آپ ” یہ کونفیڈینس ۔۔ احمد پھوپھو یہاں تک کے اسکے اپنے ماں باپ بھی دیکھ کر حیران رہ گئے
وہ بنا جھجھکے پھوپھو کیطرف دیکھنے لگی ۔۔
ہاں میں ٹھیک ہوں “پھوپھو چند لمہوں بعد بولی ۔۔
امی مجھے بھوک لگ رہی ہے ۔۔ کچھ کھانے میں ہے”اسنے اب ماں کیطرف دیکھا تھا ان دونوں کو سیرے سے اگنور کر دیا ۔۔۔
جبکہ امی نے سر ہلایا پلاؤ بنایا ہے لاتی ہوں میں” وہ مسکرا کر بولی ۔۔تو نین خوش ہو گئ ۔۔
اسکا بڑا سارا موبائل ہاتھوں میں سونے کی انگوٹھیاں ۔۔۔
کانوں میں سونے کے ائیرینگ ہاتھوں میں مہنگے کڑے جو سونے کے ہی تھے
گلے میں k ایلفا بیٹ کی چین
۔۔ اور دوسرے ہاتھ میں وہی بریسلیٹ جو احمد نے اٹھایا تھا وہ سر تا پیر بدل چکی تھی۔۔وہ ابا سے بات کر رہی تھی جبکہ دونوں ماں بیٹے اسے گھور رہے تھے ۔۔۔
بیٹا کبیر کو بھی لاتی کتنے دنوں بعد آئ ہو ” انھوں نے کہا ۔۔۔
تو نین مسکرا دی ۔۔
بابا آج کل تو وہ بہت بیزی ہیں اس وقت بھی آفس میں ہیں ۔۔۔۔ اور دیکھیں میں بتا کر بھی نہیں آئ ۔۔۔” وہ مسکرا دی ۔۔تو اسکے والد بھی اسکو خوش دیکھ کر مسکرائے ۔۔اور سکون کی سانس لی ۔۔۔
چلو اس سے کہو رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھا لے ۔۔۔” وہ بضد ہوئے ۔
ہاں ہاں بیٹی ہم بھی مل لیں گے”پھوپھو نے کہا ۔۔۔۔
کہہ ہی ماری
۔ نین اور اسے ۔۔ اتنا خوبصورت نوجوان کیسے مل سکتا تھا وہ بی اتنا امیر ۔۔۔
پھوپھو کی جلتی کم ہی نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔
نین نے ایک نظر پھوپھو کو دیکھا
وہ کبیر اور احمد کو آمنے سامنے نہیں کرنا چاہتی تھی مگر ابا کی ضد پر وہ اٹھی اور باہر چلی گئ ۔۔۔۔
کبیر کو کال ملائ ۔۔۔۔
جی فرمائیے ۔۔۔ طبعیت صحت ٹھیک ہے” کبیر خوش مزاجی سے بولا ۔۔۔
جی میں ٹھیک ہوں ۔۔اپ کیسے ہیں ۔۔۔ آپ نے صبح ناشتہ بھی نہیں کیا تھا کچھ کھایا ہے” وہ فکر کرنے لگی ۔۔
تم آ جاؤ سامنے تمھیں کھا جاؤ گا “کبیر موڈ میں تھا بولا ۔۔
لگتا ہے
۔۔ کام شام نہیں ہےکوئی” نین ہنس دی ۔۔۔
کہاں یار بہت کام ہے ۔۔ فرصت نہیں تھی ۔۔۔ یہ تو اس تپتے ماحول میں تمھاری کال ٹھنڈی ہوا کیطرح لگی ہے”
بس ڈائیلوگ مارنا بند کریں
۔سالار بھائ کے بارے میں کچھ پتہ چلا ” نین نے پوچھا ۔
ہاں وہ اپنے فلیٹ میں ہے ۔۔۔” کبیر بولا ۔۔
پھر وہ کب آئیں گے “
جب اسکاغصہ ٹھنڈا ہو جائے گا اور ویسے بھی وہ اپنی جان میں رخصتی کر گیا ۔۔یہاں بابا نے کہہ دیا اب تمھیں کیا لگتا ہے کسی کو انھیں ڈسٹرب کرنا چاہیے” کبیر بولا تو نین ہنس دی
شرم کریں آپ دونوں تو کسی بات کا لحاظ نہیں رکھتےزیمل۔پر ترس آرہا ہے مجھے تو ” نین نے کہا ۔۔۔۔
تم خود پر کھاؤ ترس ۔۔” وہ بولا ۔۔۔
اچھا بات سنیں ۔۔ میں یہاں امی کے گھر آئ ہوں بہت دن ہو گئے تھے مجھے انکی یاد آ رہی تھی” وہ بتا گئ ۔۔ کچھ ڈر بھی لگا ہو سکتا ہے اسے اچھا نہ لگے ۔۔
اوکے پھر ۔۔” وہ نارملی بولا
۔ نین مسکرائی
تو آپ بھی آ جائیں ۔۔۔” اسنے جلدی سے کہا ۔۔
فلحال تو بلکل نہیں میری جان ۔۔ میں رات تمھیں پیک کر لوں گا ” وہ بولا ۔۔
اوکے ” نین کا دل جوش سا مارنے لگا وہ کتنا ۔۔اچھا تھا
۔۔
اوکے ” بائے کہہ کر دونوں نے فون بند کیا وہ مڑی تو احمد پیچھے کھڑا تھا
۔
وہ اسکی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی
وہ اگنور کرکے جانے لگی
کیسی ہو “
بہت خوش ہوں تم کیوں پوچھ رہے ہو ” نین نے ٹکا سا جواب دیا۔۔
یہ بریسلیٹ ” احمد اسکے بریسلیٹ کیطرف دیکھنے لگا۔۔
چوری ہو گیا تھا کسی نے۔۔اپنے گندے ارادوں کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی تھی مگر قسمت تو دیکھو میری کتنی اچھی ہے ۔۔۔ یہ میرا تھا میرے پاس ہی ا گیا “
اسنےکہا احمد نے غصےسے اسکیطرف دیکھا وہ سب سمجھتا تھا یہ طنزونز
اتنا مت اتراو تمھاری محبت کی داستان منظر عام پرلا کر یہ شان و شوکت سب چھین لوں گا ” احمد مسکرایا ۔۔
نین کا چہرہ پھیکا سا پڑ گیا ۔۔
وہ صرف بھول تھی ” وہ جیسے غصے سے بولی ۔۔
خیر ۔۔۔ بھول تو مت کھاؤ تم میری محبت میں پاگل تھی یہاں تک کہ کبیر سے توتم نے پیسے کے لیے ۔۔ شادی کی تھی ۔۔۔ مجھے نیچا دیکھنے کے لیے ۔۔ یہاں محبت یہ شیری لہجے ۔۔اور یہ تمھارا بھرا وجود۔۔ یہ سب بتا رہا ہے یہ اس آدمی کی زبردستی ہے” احمد اسکے نزدیک ہوا
نین کا اسکی بکواس سے دم سا گھٹنے لگا ۔۔۔
یہ یہ سب جھوٹ ہے۔۔ میں صرف اپنے شوہر سے محبت کرتی ہوں ۔۔اور تم ۔۔ مجھے فضول بلیک میل کرنا بند کرو ” وہ زرا خود پر قابو پاتی غصہ ہوئ ۔۔۔
جبکہ احمد کچھ دیکھ کر ۔۔ مسکرا رہا تھا ۔۔
سوچ لو ۔۔اب تو تمھارے پاس پیسہ بھی آ گیا بہت کچھ دیا ہے اسنے واپس لوٹ آو۔۔ میں آج بھی تم سے محبت کرتا ہوں ہاں میں بہک گیا تھا مگر محبت ختم نہیں ہوئ تھی
بکواس بند کرو ” وہ چیخی ۔۔۔
جبکہ احمد نے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔
اسکے جس ہاتھ میں سیل فون تھا وہ ہاتھ اسکی آنکھوں کے آگے کیا ۔۔۔
اورنین کولگا اسکے قدموں تلے زمین کھسک گئ ہوئ ۔۔
کال چل رہی تھی کبیرکال پر تھا ۔۔۔ اسکے ہاتھ کانپ اٹھے ۔۔۔
آنکھوں سے آنسووں کی روانگی بندھ گئ ۔۔۔
وہ پتے کیطرح کانپنے لگی ۔۔
جبکہ احمد اسکا گال تھپتھپا کر جان بوجھ کر آئ لو یو ۔۔ بیبی کہہ کر وہاں سے چلا گیا ۔۔
کال اب بھی چل رہی تھی ۔۔۔
نین نے خشک حلق میں تھوک نگلا ۔
کب۔۔۔یر” لفظ ٹوٹ گیا ۔۔۔۔
وہ بمشکل بولی تھی دوسری رف سے کال ڈراپ ہو گئ ۔۔۔
نین وہیں بیٹھتی چلی گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارض کے سر پر بم بن کر گیری تھی یہ بات کہ اسکی سیکرٹری آج سے ۔۔ آیت ہے ۔۔
بڑے بھیا کی اس حرکت پر وہ ۔۔ خون کے آنسو رو دیا تھا ۔۔ آیت ۔۔آیت اسکی سیکرٹری ۔
یہ کیسے ممکن تھا ۔۔۔ جبکہ آیت خود سن تھی۔۔اسنے کبیر کو صاف انکار کر دیا اس کام سے
۔۔
میں تم دونوں کو بتا چکا ہوں یہاں تم دونوں پرفیشنل ہو ۔۔
وہ تمھاری سیکرٹری اور ۔۔۔ وہ تمھارا بوس ۔۔
مگر بوس کا مطلب ۔۔ کام کی حد تک بس ۔۔۔کیونکہ تم جانتے وہ ۔۔اس آفس کا بوس کون ہے” کبیر نے عارض کو آنکھیں دیکھائی ۔۔۔۔
مگر بھیا ۔۔۔ میرا کام ۔۔۔کیسے کرے گی وہ ” عارض نے جھنجھلا کر کہا ۔۔
اسے ورکرز چاہیے تھے اپنے لیے ۔۔وہ بلکل عادی نہیں تھا ۔۔۔
خود سے کام کرنے کا ۔۔
آپکے لیے مسٹر عارض ایک ورکر بھی کافی ہے پورے آفس میں سب بوسز ہے آپکے پاس سیکرٹری ہے ۔۔ آپکی ٹیم اب کسی اور کام میں ہے ۔۔ مس آیت آپکے ساتھ ہیں”
بھیا ” آیت نے رونی صورت بنائ ۔
میری جان ۔۔۔ کام تو کام ہوتا ہے ۔۔” وہ بولا لبوں پر مسکراہٹ آ گئ ۔۔۔
بلکل اس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں” اسکے کان کے قریب کہہ کر وہ باہر نکل گیا جبکہ آیت نے عارض کیطرف دیکھا ہی نہیں وہ اپنی ٹیبل پر جا کر بیٹھ گئ ۔۔
جبکہ عارض۔۔۔ واقعی رونے والا ہو گیا تھا۔۔۔
اسے تو یہ بھی نہیں پتہ تھا اسکے پروجیکٹ کی فائلز کہاں ہیں ۔۔۔
وہ اپنی چئیر چھوڑ کر اٹھا ۔۔۔
اور آیت کے پاس آ گیا ۔۔۔
بہت مزہ آ رہا ہے نہ تمھیں”
عارض غصے سے بولا ۔۔۔
سرمجھے کس بات پرمزہ آنا ہے” آیت نے سرد مہری سے کہا ۔۔
یہ سب کرکے۔۔۔اپنی حالت دیکھی ہے تم نے ۔۔۔۔ آخری منتھ چل رہا ہے تمھارا ” عارض بولا تو۔آیت نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
واقعی۔۔۔۔ اچھا مجھے نہیں پتہ تھا ۔۔ اب تک صرف اتنا پتہ چلا ہے مجھے کہ میں دوسروں کے ٹکڑوں پر پلی بڑھی ہوں تو میرا بچہ بھی دوسروں کے ٹکڑوں پر پلے گا ۔۔۔ نہیں ایسا میں نہیں چاہتی ۔۔ “
واٹ ۔۔ کیا بکواس ہے یہ ۔۔ مر گیا ہوں کیا میں” وہ جل کر بولا ۔۔۔۔
آیت نے اسکی جانب دیکھا آنکھوں میں ویرانی سی اتر آئ ۔۔
نہیں آیت مرگئ ہے ” وہ بس اتنا ہی بولی ۔۔
عارض کے دل کو کچھ ہوا ۔۔۔وہ
چئیر گھسیٹ کے اسکے پاس بیٹھ گیا ۔۔
آیت وہ سب جو میں نے کیا
میں بڑے بھیا کے پاس چلی جاتی ہوں اگر آپ کے پاس میرے لیے کوئ کام نہیں ” وہ غصے سے بولی ۔۔
آیت مجھے ایک بار سن لو ۔۔۔ شاید تمھاری بدگمانی چلی جائے “
عارض نے اسکا ہاتھ پکڑا ۔۔جسے آیت نے جھٹکےسے چھڑایا ۔۔
میں مر جاؤ گی مگر آپ کے بارے میں دوبارہ اچھا کبھی نہیں سوچوں گی ۔۔۔ تو بدگمانی کیسی ” وہ سرجھٹک کر اپنے آنسو اندر اتارتی بولی ۔۔۔
آیت ۔۔ کوئ مجھے نہیں سمجھہ رہا پلیز تم تو سمجھو ۔۔”
عارض میرا بھی کوئ نہیں تھا یہاں ” لہجہ بھیگ گیا ۔۔
وہ ٹوٹ سی گئ ۔۔۔
دور دور تک میرا کوئ نہیں تھا عارض۔۔۔۔” اچانک وہ چیخی ۔۔۔
عارض اسکا چہرہ تھام گیا ۔۔
دور ہو جائیں مجھ سے ” آیت نے اسکا ہاتھ دور کیا اور چئیر چھوڑ کر اٹھی ۔۔
تم پینک مت کرو طبعیت خراب ہو جائے گی ” وہ بولا لہجے میں محبت ہی محبت تھی ۔۔۔
انف عارض انف ۔۔” وہ چیخی ۔۔۔
ہزیانی سی کیفیت میں اس سے دور ہوئ ۔۔۔۔
میں نے سوچا اگر عارض کسی اور کے ہو گئے تو میں مر جاؤ گی ۔۔ مگر نہیں میں اتنی ڈھیٹ جان تھی میں نہیں ماری جبکہ عارض تو میرے تھے ہی نہیں ۔۔ پھر سوچا عارض میرا عشق ہیں
یہ بچہ
۔۔ وہ حسین دن ۔۔۔۔ وہ راتیں ۔۔۔ عارض کے بنا کیسے رہوں گی ۔۔۔
مگر نہیں عارض نے مجھے اپنے غرور اپنے گھمنڈ میں صرف ٹھوکر پر رکھ ” اچانک وہ اپنا پیٹ پکڑ کر چلا اٹھی ۔۔
آیت” عارض چیخا اور گیرتی وہی آیت کو سنبھال لیا انکی آواز سے ۔۔۔ کبیر فورا کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔
کیا ہوا ہے آیت کو ” کبیر نے کھا جانے والی نظروں سے عارض کو دیکھا تھا ۔۔۔
جبکہ آیت چیخ رہی تھی ۔۔عارض کی شرٹ مٹھیوں میں جکڑے ۔۔ وہ درد سے دوہری ہونے لگی ۔۔ چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔
بھیا ” عارض نے کبیر کیطرف دیکھا ۔۔
میں گاڑی نکالتا ہوں لے کر آؤ باہر” وہ سمجھہ گئے تھے فورا ۔۔۔
کبیر باہر بھاگا جبکہ ۔۔ عارض آیت کو
۔
عارض ” آیت کے منہ پر بس ایک ہی پکار تھی ۔۔
میری جان ” عارض نے اسے خود میں بھینچا ہوا تھا ۔۔۔
وہ دوڑتا ہوا باہر نکلا تھا
۔
مجھے بہت درد ہو رہا ہے” وہ ۔۔ اسکی گردن میں چہرہ چھپا کرپھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔”
عارض نے اسے گاڑی میں بیٹھایا اور کبیر نے ہاسپیٹل کی جانب گاڑی موڑ لی ۔۔ جبکہ آیت اسی کے سینے سے لگی ہوئ تھی جس۔۔ سے نفرت کا اظہارکر رہی تھی ۔۔جبکہ عارض اسکے کانوں پر جھکا ۔۔ صرف دو لفظ بول رہا تھا
ایم سوری ایم سوری “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے