Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 50

اسکی آنکھ کھلی تو ۔۔۔۔تھکی تھکی سی آنکھوں میں ایکدم سالار کے لیے تلاش شروع ہو گئ ۔۔۔
اسنے سر گھما کر دیکھا اسکے ہاتھ پر ڈریپ لگی تھی ۔۔۔۔
مگر پورے کمرے میں کوئ نہیں تھا ۔۔۔۔۔
اسنے اٹھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
اور اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
کمرے کو اب غور سے دیکھا تھا ۔۔ کمرہ بے حد خوبصورت تھا
مگر وہ تو تب خوبصورت لگتا جب اس کمرے کا مالک اس سے راضی ہو جاتا ۔۔۔۔
تبھی دروازہ بجا
۔۔ اسے لگا وہ آ گیا ۔۔ بے تابی سے آنکھوں کو دروازے پر لگا دیا ۔۔۔اس بھری آنکھیں ۔۔۔
مگر دروازہ کھلا تو کوئ ملازمہ تھی ۔۔ ہاں اسکا یونیفارم تھا جس سے پتہ چل رہا تھا وہ ملازمہ ہے ورنہ وہ بہت پیاری تھی زیمل نے اسے کن انکھیوں سے دیکھا
جب وہ آئ تھی تب تو یہاں کوئ نہیں تھا پھر یہ اچانک کہاں سے آئ
وہ اس لڑکی کو غور سے دیکھنے لگی جو کہ مختلف کھانوں سے سجی ٹرالی گھسیٹ کر اندر آ گئ ۔۔۔۔۔
اسنے مسکرا کر زیمل کو گریٹ کیا ۔۔۔
زیمل ایک پل کو ساکت رہ گئ وہ واقعی بہت خوبصورت تھی اگر تو وہ سالار کی ملازمہ تھی ۔۔۔ تو مان جانے کے بعد اس بات پر جنگ ہونے والی تھی ۔۔۔۔
وہ لڑکی اسکے آگے ایک چھوٹی سی سنگل ٹیبل ٹائپ سٹول رکھ چکی تھی ۔۔جو گرے کلر کا بہت خوبصورت تھا ۔۔۔
سر کہہ کر گئے تھے آپ کو کھانا کھلا دوں ویسے تو میں یہاں نہیں آتی ۔۔۔۔۔۔ مگر جب جب ۔۔۔ کوئ خاص مہمان آتا ہے تب سر بلا لیتے ہیں “
کون خاص مہمان ” وہ ایک دم بولی
لڑکی نے اسکی بے تابی پر حیرانگی سے دیکھا
جیسے اولیویا میم خاص کر جب وہ آتی ہیں تب سر مجھے بلا لیتے ہیں ۔۔۔۔ مگر سر یہاں نہیں ہوتے ۔۔۔ وہ اکثر سر سے بحث کرتی ہیں ۔۔۔ کہ جب وہ آتی ہیں تو سر ۔۔۔ کا کام بڑھ۔ جاتا ہے بس یہ ہی خیر آپ کیوں پوچھ رہی ہیں” وہ اسکی پلیٹ میں کھانا نکالتی بولی ۔۔
کیونکہ میں اسی سر کی بیوی ہوں ” غصے سے ۔۔۔ سرخ ہوتی وہ بولی ۔۔
جی” وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ گویا شاکڈ ہو گئ ۔۔
زیمل البتہ مطمئین سی دیکھی تھی
جی ہاں ۔۔۔ اور تقریباً دو سال سے شادی شدہ ہیں وہ ۔۔ اور میں ہی انکی بیوی ہوں ” وہ جتا گئ ۔۔۔۔
جبکہ وہ لڑکی سر ہلا گئ ۔۔۔
یہ اولیویا کون ہے ” زیمل نے کھانا دیکھے بنا ۔۔ پوچھا ۔۔۔
کوئ نہیں میم” وہ لڑکی سنبھل گئ ۔۔
سچ بتاؤ مجھے” وہ بضد ہوئ ۔۔۔
وہ ایکچلی ۔۔۔ یہ بات آپ سر سے پوچھ لیجیے گا ” اس لڑکی نے صاف انکار کیا اور زیمل اسکو گھور کر رہ گئ ۔۔۔۔
مجھے نہیں کھانا ” اسنے کہا ۔۔
میم آپکی ڈریپ بھی ختم ہو گئ ہے میں یہ ہٹا دیتی ہوں پھر آپ کھانا کھا لیں ” وہ بولی
نہیں پہلے سالار کو بلا دو پلیز ” وہ اداسی سے بولی ۔۔۔
تو وہ لڑکی مسکرا دی
میم سر باہر گئے ہیں ابھی تھوڑی دیر پہلے ہی وہ آتے ہوں گے ” وہ کہہ کر اسکی ڈریپ اترانے لگی ۔۔۔۔
زیمل نے سر ہلا دیا ۔۔۔۔
اسنے اسکو فرسٹ ایڈ کیا
اب آپ کچھ کھا لیں ” وہ بولی ۔۔۔ تو زیمل نے سر نفی میں ہلا دیا ۔۔۔۔
میں انھیں کے ساتھ کھاؤ گی ” زیمل نے جیسے طے کر لیا تھا ۔۔۔
اس لڑکی نے زیادہ فورس نہیں کیا ۔۔۔۔
اور اسکے پاس سے جانے لگی۔۔۔۔۔۔
پلیز بتا دو اولیویا کون ہے ” زیمل کے دماغ میں ایک ہی بات ٹھر گئ تھی ۔۔۔
وہ لڑکی چپ ہو گئ ۔۔۔۔
آپ نیٹ پر سرچ کر لیں “
زیمل کو اب غصہ آنے لگا ۔۔
میں انکی بیوی ہوں اور میں آرڈر دے رہی ہوں تم مجھے سب بتاؤ ” وہ غصے سے ہی ۔۔سردی الگ رہی تھی ۔۔۔ اوپرسے یہ لڑکی جلا رہی تھی جبکہ کھانا دیکھا کر تو بھوک نے بھی انگڑائ لے لی تھی ۔۔
اولیویا ۔۔۔ میم سے جلد ہی سر شادی کرنے والے ہیں ۔۔۔
میں نہیں جانتی اب ۔۔۔ کیوں یا کیسے بس اتنا جانتی ہوں میم نے ۔۔ خود سر کو پرپوز کیا تھا اور سر نے ایکسیپٹ کر لیا تھا “
زیمل پر بجلیاں گیرا کر وہ ۔۔ آرام سسے کھڑی ہو گئ ۔۔۔
زیمل کا دماغ آگ بگولہ سا ہو گیا ۔۔۔
میں تمھارے سر کا دماغ سیٹ کر دوں گی اچھے سے “۔ وہ بھڑک کر بولی ۔۔۔۔۔
جبکہ وہ لڑکی باہر چلی گئ ۔۔۔۔۔
زیمل پیچھے تپ رہی تھی ۔۔۔۔ کیسے وہ کسی بھی آنگریزی سے شادی کر سکتا تھا ۔۔۔ یہ کیا طریقہ تھا بھلہ ۔۔۔۔۔
ہاں اس سے غلطی ہوئی تھی اور وہ بہت غلطیاں کر دیتی تھی مگر کسی اور سے شادی ۔۔۔ تو نہیں کرنی چاہیئے تھی ۔۔۔
اسکی آنکھیں بھیگ گئی وہ اسکی منتظر تھی اپنے اوپر سے بلنکیٹ اتار کر اسنے ایک طرف رکھا ۔۔۔۔
اور جلتی بھنتی اٹھی ۔۔
جبکہ جاتے جاتے نظر تکیے پرگئ ۔۔۔
سالار “اسنے تکیے کو زور زور سے مکے مارے۔۔۔۔۔۔
میں کسی اور کا نہیں ہونے دوں گی آپ کو ” وہ گھور کر تکیے کو بولی ۔۔اور ۔۔تکیہ وہیں پھینک کر نیچے آ گئ
نیچے کوئ نہیں تھا سوائے اس لڑکی کے جو کچن میں کچھ کر رہی تھی ۔۔
کتنی بار آئ ہیں وہ یہاں اور سالار کہاں ہوتے تھے “
وہ جیلس بیویوں کی طرح سوال کر رہی تھی ۔۔
جی بہت بار ۔۔۔۔ اور اس بار چار مہینے سے نہیں آئیں ۔۔ مجھے سر نے آج چار ماہ بعد کال کی تھی ۔۔ورنہ ۔۔۔ چھ سات مہینے تو ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ تقریبا ۔۔۔ ہی یہیں ہوتی تھی ۔۔۔
زیمل نے گھیرہ سانس بھرا یہ سب جان کر بہت مشکل تھا ۔۔۔
سالار بھی اسکے ساتھ ہوتے تھے ” وہ چبھتی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔
جی نہیں جب وہ ہوتی تھی تو فیروز سر بھی یہیں روکتے تھے اور میں بھی ۔۔۔
اور سر تو زیادہ تر اپنے روم میں یہ کام میں ہوتے تھے ۔
ہاں سر نے جب فلم بنائی تھی انکے ساتھ تب ۔۔۔۔ انکے ساتھ بھی ہوتے تھے زیادہ ترسیٹ پر ۔۔۔۔ گھر نہیں آتے تھے تب “
ہمم ٹھیک ٹھیک “وہ غصے سے بولی ۔۔ اور صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
کچھ دیر انتظار کرنے کے بعد جب وہ لڑکی بھی نہیں گئ تو ۔۔۔۔
زیمل نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
تم نے کب جانا ہے “
جی میم میں جا رہی ہوں ۔۔۔
وہ لڑکی اپنی ہنسی روک کر ۔۔۔ اپنا سامان سمیٹ کر اٹھ گئ ۔۔۔۔
ویسے تمھیں لگتا نہیں تھا اردو آتی ہوگی ” زیمل نے کہا تو وہ مسکرا دی ۔۔
سر نے ہی سکھائ تھی ۔۔۔
زیمل ایکدم جھٹکے سے مڑی جبکہ وہ لڑکی دروازہ کھول کر باہر نکل گئ ۔۔
اس وقت وہ سہی معنوں میں جل کر راخ ہو چکی تھی ۔۔۔
وہ سال بھر اذیت کا شکار رہی اور یہاں ۔۔ گلچھرے اڑا رہے تھے ۔۔۔۔
اسنے ۔۔۔ منہ بسور لیا ۔۔۔۔
کچھ دیر مزید وہ یوں ہی گھر دیکھتی انتظار کرتی رہی مگر سالار واپس نہیں آیا اسنے گلاس وال سے باہر دیکھا ۔۔۔
سرد رات اتر آئ تھی ۔۔۔۔
وہ اپنا اور سالار کا نام دھند زدہ شیشے پر لکھ کر مسکرائی ۔۔
تبھی پیچھے سے ۔۔۔ دروازہ کھلا اور وہ ہاتھ رگڑتا اندر داخل ہوا ۔۔۔۔
زیمل فورا مڑی تھی ۔۔ سالار اسے دیکھ چکا تھا ۔۔اسنے نظر پھیر لی اوورکوٹ اتارا بالوں میں ہاتھ پھیرہ اور ۔۔۔ ہیٹر تیز کر دیا
باہر اتنی سردی تھی اسے لگا وہ کلفی بن جائے گا ۔۔۔ تبھی اسنے ایسا کیا اور اوپن کچن میں آ گیا
جہاں اسنے باولز کھول کر دیکھے کچھ کھانے کے لیے۔۔۔ زیمل اسکے نزدیک آ گئ ۔۔۔۔۔
سالار ۔۔ خود سے ۔۔۔ کافی بنا رہا تھا ۔۔۔
تم نے کچھ کھایا ہے ” وہ بولا ۔۔۔
زیمل کا دل ایک دم ڈوب کر ابھرا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
اسے بلکل امید نہیں تھی وہ بولے گا اس سے ۔۔۔۔
سالار نے مڑ کراسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔۔ وہ آنکھیں کھولے
۔۔ بنا حرکت کے کھڑی تھی ۔۔۔۔
آنکھوں میں صاف واضح تھا کہ اسے امید نہیں تھی اسکے بولنے کی ۔۔۔ سالار نے دوسرا کپ بھی اٹھایا اور اسکے لیے چاکلیٹ کافی بنانے لگا ۔۔۔۔۔
تمھیں فیور تھا ۔۔۔۔ ” وہ پھرسے بولا ۔۔۔۔
زیمل کی آنکھیں ڈبڈبا گئ ۔۔۔۔۔۔
مگر بولنے کی سکت نہیں رہی ۔۔۔۔
سالار نے اپنے لیے ۔۔۔کافی بنا کراسکے لیے بنائ اور کپ اسکے آگے رکھ دیا ۔۔۔۔
پی لو ۔۔۔سردی نہیں لگے گی ” اسنے کہا اور اپنا کپ لے کر
وہ اوپن ہال میں رکھے بڑے سارے صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔
جھک کر اپنی سوکس اتاری ۔۔۔۔
اور ایل سی ڈی چلا لی ۔۔۔
وہاں اسکی مووی کی ریٹنگ ۔۔۔ دیکھ رہی تھی جسے وہ مصروف سے انداز میں دیکھ رہا تھا اور مختلف دوسری چیزوں کو بھی
زیمل نے سر جھکا لیا ۔۔ جو وہ سمجھی تھی ویسا کچھ نہیں تھا ۔۔۔۔ زیمل خود میں ہمت نہیں پاتی اس تک جانے کی جبکہ پہلے وہ ارادہ کر چکی تھی کہ ۔۔۔ وہ اس سے لڑے گی مگر ۔۔ اب ساری ہمتیں ختم ہو گئیں تھیں
وہ ہمت باندھی اس تک پہنچی ۔۔۔۔ اور اسکے پاس بیٹھ گئ ۔۔
سالار کی نشست میں کوئ فرق نہیں آیا البتہ اسکا کپ اسکے ہاتھ میں نہیں تھا ۔۔۔۔
اسنے ترچھی نظر سے ایک منٹ کے لیے زیمل کو دیکھا جو اس سے کچھ کہنے کے لیے بہت محنت کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
تم نے کافی نہیں پینی ” اسنے پھر سے سوال کیا بے تاثر چہرہ تھا۔۔۔
یہ والی پینی ہے ” وہ بولی سالار نےاپنا کپ دیکھا ۔۔۔
اور کپ اسکے ہاتھ میں دے دیا ۔۔۔
زیمل ایکدم آنکھیں پلکیں جھپک جھپک کر اسکیطرف دیکھنے لگی
پیو ” وہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
زیمل نے کالی سیہ کافی دیکھی اسکی کافی میں تو کافی ساری چاکلیٹ تھی ۔۔۔۔
مگر اس میں تو صرف کالا پانی ۔۔۔۔
پیو ” اسنے پھر سے کہا ۔۔۔
زیمل نے سر ہلایا اور گرم گرم کافی کے مگ کو لبوں سے لگایا ۔۔۔۔
اسکی خوشبو بھی کڑوی تھی ۔۔ وہ حلق میں سانس اتارتی آنکھیں زور سے بند کرکے ۔۔۔ اس کافی کا گھونٹ بھر گئ ۔۔۔
اور اگلا لمحہ ۔۔۔۔
حیران کن تھا ۔۔۔ ابھی اسنے گھونٹ ۔۔۔ حلق میں اتارا نہیں تھا ساری زبان کڑوی ہوگئ تھی ۔۔۔۔
سالار نے اسکے بالوں میں ہاتھ سختی سے حائل کیا ۔۔۔۔ اور مٹھی میں اسکے بال جکڑ کر اسکے چہرے پر جھکا ۔۔۔۔
زیمل اسکے لمس پر ایکدم آنکھیں کھول گئ۔۔۔۔۔
جبکہ سالار اپنا کام ۔۔۔۔ کرچکا تھا ۔۔۔۔
زیمل کے منہ میں کافی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔ سالار نے اسے جھٹکے سے دور کر دیا ۔۔۔
جو کام نہیں کر سکتی اسے کرنے کی کوشش بھی نہ کرو ” اسنے کہا
اور سرد لہجے میں کہتا ۔۔۔۔ وہاں سے اٹھ گیا ۔۔۔۔
جبکہ اپنا کپ بھی ہاتھ میں لے لیا ۔۔۔
زیمل تو اسکے لمس پر ۔۔۔ اپنے دل کی بے ترتیب دھڑکنوں میں ہی الجھی ہوئی تھی ۔۔
سالار “وہ ایکدم اسے پکار گئ ۔۔
سالار رک گیا ۔۔۔۔
خاموش نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
زیمل کو سمجھہ نہیں آیا کیسے اسے کہے کہ وہ اسے معاف کر دے
وہ کچھ نہیں بول پائ تھی مگر سالار نے بس چند لمہے انتظار کیا ۔۔اور پلٹ گیا ۔۔۔
زیمل کو خود پر غصہ آیا ۔۔۔ تھا ۔۔۔ وہ اوپر چلا گیا تھا جبکہ وہ اس اتنے بڑے گھر میں اکیلی کھڑی رہ گئ ۔۔۔
جبکہ جیسے ہی وہ ۔۔ کمرے میں داخل ہو گیا پیچھے سے سارے گھر کی لائٹس آف ہو گئیں ۔۔
زیمل اندھیرے میں پریشان ہوتی خوف زدہ سی اوپر بھاگی تھی ۔۔۔
اور سیدھا کمرے میں گھس گئ ۔۔۔
یہ سب بہت مشکل تھا وہ جانتا تھا وہ ۔۔ کچھ نہیں کر پائے گی پھر بھی وہ ایسے بن گیا تھا ۔۔ غلطی بھی تو اسکی اپنی تھی اور کرنا بھی اسے کچھ نہیں آ رہا تھا اسے رونا آنے لگا اوپر آ کر بھی وہ ۔۔ ایل سی ڈی کو دیکھنے میں مگن ہو گیا تھا ۔مگر ۔۔۔ ڈریس بھی چینج کر چکا تھا ۔۔۔
کھانا نہیں کھایا تم نے ” وہ اسکی جانب دیکھنے لگا ۔۔
زیمل نے زور سے سر ہلا دیا نفی میں ۔۔
سالار نے ایک نظر اسکی پریشان حال گھبرائے ہوئے صورت دیکھی ۔۔۔۔
اسکے گال پر سالار کی انگلیوں کا نشان تھا ۔۔۔اور یہ ہی بات اسکو تکلیف دے رہی تھی ۔۔تبھی وہ اس سے بول پڑا تھا ۔۔۔
کھانا کھاو لو ” وہ نرمی سے بولا ۔۔۔
نہیں کھانا ” وہ رو دی ۔۔۔۔
سالار اسکے بعد کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔۔
بیڈ پر لیٹ کر وہ آرام سے ٹی وی دیکھنے لگا ۔۔۔۔
زیمل اسکی سردمہری پر ۔۔۔۔
یوں ہی روتی رہی وہ اسکی سسکیوں کی آواز سن رہا تھا ۔۔۔۔
مگر پھر بھی کچھ۔ نہیں بولا تھا ۔۔۔۔
اور لائٹ بھی بند کر دی تھی ۔
ایل سی ڈی کی روشنی تھی صرف روم میں ۔۔
آج اسنے اندھیرے پر اسکے گھبرانے پر یہ بھی نہیں کہا تھا کہ ۔۔۔ میں ہوں ادھر “
زیمل اس سے فاصلے پر تھی وہ بیٹھے بیٹھے ہی اسے دیکھتے دیکھتے ہی سو گئ
اسکی بھاری سانسوں کی آواز سن کر ۔۔۔۔۔ سالار نے بیڈ کے ایکطرف ڈھیر بنی زیمل کو دیکھا ۔۔اور لائٹ اون کی ۔۔۔
کمبل اپنے اوپر سے ہٹا کر اسنے ۔۔ زیمل کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تھا ۔۔۔۔
وہ اسکیطرف آ گئ ۔۔۔
نیند میں حساس بھی نہ کر سکی کہ وہ اب اسکے پاس ہے ۔۔۔ سالار نے ڈھنڈ کی وجہ سے اسپر کمبل پورا کیا ۔۔ مگر وہ اب بھی سکڑی سیمٹی ہوئ تھی اپنی ٹانگیں اور ہاتھ جوڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔
سالار نے پہلے اسکے ہاتھ کھولے اور پھر ٹانگیں ۔۔۔
اور اپنے بازؤں میں اسے بھر لیا ۔۔۔
جب کے نظریں خاموش تھیں زبان خاموش تھی ۔۔۔۔۔
اسنے اسکا سر اپنے بازو پر رکھ لیا ۔۔۔
زیمل جیسے اس میں سما گئ ۔۔۔
سالار اسکے نیلے ہوئے گال کو دیکھنے لگا ۔۔۔
اسکے گال پر اسنے اپنی انگلی کی پور رکھی ۔۔ تھی اور اس کو سہلانے لگا ۔۔
ایم سوری ” بس اتنا کہا تھا ۔۔اسنے
اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
زیمل جو جاگ رہی تھی اسنے یہ سب ۔۔ خود سے محسوس کیا ۔۔۔۔ تھا جو سالار نے اسکے ساتھ کیا اور جب اسنے سوری کہا زیمل کا مقام ایسا تھا کہ وہ شرمندگی سے کہیں گڑ جائے ۔
یہ تھپڑ ہاں اسے جسمانی تکلیف سے زیادہ دلی تکلیف دے گیا تھا ۔۔
اسنے سب کی مار کھائی تھی اور اب اضافہ سالار کے نام کا بھی ہوگیا تھا
اور اسنے اس بات کو اہمیت بھی نہیں دی ۔۔۔۔
کہ شاید وہ ڈیزرو کرتی تھی ۔۔۔۔۔
مگر یہ مار پیٹ تو بچپن سے ہی سہتی آئ تھی ۔۔۔۔
اور اس وقت جب اسنے اسکے گال پر لمس چھوڑتے ہوئے ۔۔۔ ایم سوری کہا ۔۔
زیمل نے اپنے آنسووں سسکیوں کو ۔۔حلق میں ہی اتار لیا ۔۔۔۔
کہ کہیں وہ محسوس نہ کر لے ۔۔ وہ بہت نرم دل انسان تھا
حساس ۔۔۔۔۔ نہ جانے اتنے عرصے اپنے رشتوں سے دور کیسے گزارے ۔۔۔ تھے اسنے اور وہ ایک معذرت نہیں کر پائے تھی اب تک اس سے ۔۔۔
انھیں سوچوں میں گم وہ بھی جلد ہی سو گئ تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ صبح اٹھی تو ۔۔۔ سالار اسکے پاس نہیں تھا وہ جلدی سے اٹھ کر نیچے جانے لگی کہ خود کو شیشے میں دیکھا ۔۔۔۔
اسنے واشروم کو ایک نظر دیکھا پھر خیال آیا کہ اسکے پاس تو کپڑے نہیں تھے ۔۔
وہ ایکدم مسکرائ اور جلدی سے وراڈروپ میں داخل ہوئی ۔۔۔
کتنی خوبصورت تھی اسکی وارڈروپ اور اس میں سے ۔۔اسنے ۔۔۔
سالار کی شرٹ اور پینٹ کھینچی ۔۔۔۔ اور لے کر واشروم میں چلی گئ
گرم پانی سے شاور لے کر اسنے وہ کپڑے پہنے وہ خوش تھی بہت ۔۔۔
اسکے کپڑے اچھے لگ رہے تھے۔۔۔
مگر جب وہ باہر آئ ۔۔۔ تو اسے محسوس ہوا کہ بے حد سردی ہے اور اسنے شاور لے کر ۔۔۔۔ بہت غلط کرلیا تھا ۔۔۔
وہ ہاتھ رگڑتی جلدی سے نیچے آئ ۔۔۔۔
اور سالار کو ڈھونڈنے لگی ۔۔۔۔ مگر وہ تو پورے گھر میں نہیں تھا ۔۔
وہ اداس ہو گئ مگرسوچ چکی تھی کہ وہ اب منا لے گی اسکو ۔۔۔اسنے کیبنیٹ پر رکھے ۔۔۔ اپنے ناشتے کیطرف دیکھا اور وہ مسکرا دی ۔۔۔
اسے بھوک بہت تھی اسنے ناشتہ کیا اور فریج کھول کر ۔۔۔ اور بھی سامان کھایا ۔
اور تھوڑی دیر بعد اسے یاد آیا کہ وہ تو موبائل لے کر آئ تھی ۔۔اور گھر والے ۔۔۔ اسکی کال کا ویٹ کر رہے ہوں گے ۔۔۔۔
وہ جلدی سے اپنا سامان دیکھنے لگی ۔۔
اسکا سامان کہاں تھا ۔۔۔۔۔
وہ اپنی شرارت پر مسکرا دی ۔۔۔۔۔
کہ اسنے کتنی معصومیت سے سوچ لیا تھا اسکے پاس کپڑے نہیں ۔۔۔
مگر وہ خوش تھی اسکے کپڑوں میں ۔۔۔۔
تبھی یوں ہی پہنے وہ ۔۔۔ اپنے بیگز جو کہ ایک سائیڈ پر کل سے یوں ہی رکھے تھے ۔۔۔
کھولے اسنے بیگز تو اپنا سیل فون نکالا ۔۔۔
اور اسے اون کیا ۔۔۔۔
زین نے اسے سیم ڈلوا دی تھی ۔۔۔۔۔
تبھی سب کو اسکا نمبر پتہ تھا اور ۔۔۔۔ آسانی بھی ہو گئ تھی اسنے ۔۔ فون اون کیا تو ۔۔۔۔ کال آ رہی تھی ۔۔
اسنے جلدی سے پیک کر لی ۔۔۔۔
دوسری طرف نین تھی ۔۔۔
لڑکی تم تو جا کر بھول بھال گئ ہو ” وہ خفگی سے بولی۔۔
سب یہاں ۔۔۔۔ تمھیں فون کرتے رہے اور تم فون بند کر کے موج مستیاں کرنے لگی” وہ معنی خیزی سے ہنسی ۔۔۔۔
زیمل نے اداسی سے منہ بسور لیا ایک معافی تو مانگ نہیں سکی تھی وہ ۔۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔ سالار زیادہ غصے میں ہے کیا “
بھابھی مجھے سمجھہ نہیں آتا میں کیسے سوری کروں انھیں ” وہ بولی ۔۔۔
جبکہ نین کو غصہ آ گیا ۔۔
یار تم کس قدر احمق لڑکی ہو ” وہ غصے سے بولی ۔۔۔
زیمل آنکھیں جھکا گئ ۔۔۔
تمھارا شوہر ناراض ہے تم سے زیمل تم نے اسکی دل جوئ نہیں کی اب تک” نین کو حیرانگی ہوئ اس لڑکی پر یہ تو وہ ڈرپھوک تھی ضرورت سے زیادہ ۔۔ یہ بیوقوف ۔۔۔۔۔
میں ” زیمل کچھ نہیں پائی ۔۔۔۔
بس بہت ہو گیا ۔۔۔ یہ تو شکر ہے اس وقت سب سو رہے ہیں کسی نے تمھیں کال نہیں کی اب تم میری بات سنو ۔۔۔ اور جو میں کہو گی تم وہ کرو گی ورنہ تم ۔۔۔۔ تم بس ٹھیک ہے پھر ۔۔۔ ہم سب کا تم سے کوئ واسطہ نہیں “
وہ بولی دھمکیانہ انداز تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ اپنے کونسرٹ کی تیاری میں مشغول تھا ۔۔۔۔
کافی بڑا کانسرٹ تھا اور کافی پیسہ لگا ہوا تھا ۔۔۔
وہ اپنی پریکٹس کررہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ اسکے میکپ ارٹیسٹ اسکے کیمرہ مین ۔۔۔اسکے باقی سب وارکز بھی ساتھ تھی تبھی اولیویا ۔۔ روم میں داخل ہوئ ۔۔۔
کیسے ہو ” وہ انگلش میں بولی تھی ۔۔۔
ایم فائین تم کافی لیٹ ہو ” وہ بولا ۔۔ناگواری سے ۔۔
ایکچلی میں زرا شوپینگ کرنے گئ تھی۔۔۔۔ اوکے ناراض مت ہو میں جانتی ہو تمھیں انتظار کی عادت نہیں ۔۔۔۔” وہ بولی اور اسکا گال تھپتھپایا ۔۔۔ سالار نے اپنا چہرہ موڑ لیا اور اپنے سینگر کیطرف دیکھا ۔۔ جو اسے ۔۔۔
لیرکس دیکھا رہا تھا ۔۔۔۔
اسکا بینڈ ۔۔۔۔ بھی موجود تھا ۔۔۔۔ اولیویا بھی کام کی جانب متوجہ ہوئ اور وہ سب تادیر ۔۔۔۔۔
وہاں پریکٹیس کرتے رہے ۔۔
انکی پریکٹیس کے دوران ۔۔۔ ڈائریکٹرز بھی آئے تھے ۔۔۔
وہ کافی تھک کرواپس لوٹ تھا ۔۔۔۔
ایک نظر ۔۔ پورے گھر کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
وہ کہیں نظر نہیں آئ ۔۔۔
اسنے معمول کیطرح کافی پی ۔۔۔
فیروز بھی اندر داخل ہوا
سر ایم سوری پلیز ۔۔” وہ بلآخر زیچ ہو کر بولا آج پورے دن سے سالار اسے اگنور کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
جیسٹ لیو” سالار بولا ۔۔۔۔۔ غصے سے
اچھا ٹھیک ہے آپ مار لیں ۔”
کیوں میں جنگلی ہوں ” وہ گھور کر بولا
تو کم از کم بولیں تو سہی یار ” وہ بولا ۔۔۔۔
میرا موڈ نہیں تمھاری شکل بھی دیکھنے کا ۔۔۔اور ہاں اولیویا کو دور رکھنا کبھی منہ اٹھا کر یہاں آ جائے ” اسنے حکم دیا ۔۔۔
اوکے ” وہ بولا ۔۔۔
جاؤ اب ” سالار نے کہا
مگر”
یار کیا آدمی ہے تو پیچھے پڑا ہوا ہے صبح سے ۔۔۔” وہ زیچ ہو کر چلایا ۔۔تو فیروز کو کچھ تسلی ہوئ
اوکے اوکے جا رہا ہوں “
ہاں دفع ہو جاؤ ” وہ بولا تو وہ باہر نکل گیا ۔۔جبکہ ۔۔۔ سالار کافی کا کپ ہاتھ میں لے کر اوپر آ گیا ۔۔۔
روم کا دروازہ کھولا ۔۔۔۔ تو کمرے میں اندھیرا تھا ایکدم وہ گھبرا گیا
وہ تو اندھیرے میں کبھی نہیں رہ سکتی تھی ۔۔۔
اگر وہ روم میں بھی نہیں تھی تو کہاں تھی ۔۔
کافی کا کپ وہیں چھوڑ کر اسنے ایکدم لائٹس اون کی
زیمل” وہ پریشانی سے بولا ۔۔۔۔
تو زیمل کو سامنے کھڑا دیکھا ۔۔۔۔
ایک لمہے کے لیے دنگ رہ گیا ۔۔۔۔۔
سرخ پاؤں تک آتے فراق میں ۔۔۔ اپنے خوبصورت حسن کو ۔۔۔ مزید دو آتشاں کیے ۔۔۔وہ بیڈ کے پاس کھڑی تھی ۔۔۔
جبکہ ہاتھوں پر مہندی بھی لگی تھی ۔۔۔۔
لمبے سیاہ بال کھلے ہوئے تھے ۔۔۔ چہرے کے نقوش کو میکپ سے سجا سنوار کر اور بھی دلکش بنا لیا تھا ۔۔
وہ سانس روکے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
زیمل اسکے نزدیک آنے لگی ۔۔
نظریں جھکی ہوئیں تھیں ۔۔۔ مگر پھر بھی وہ چلتی ہوئی اسکے پاس آ رہی تھی ۔۔۔۔
دوپٹہ بیڈ پر رکھا ہوا تھا ۔۔ ۔
جبکہ انگلیوں کو کنفیوز ہو کر وہ چٹخا رہی تھی وہ عین اسکے سامنے آ کھڑی ہوئ ۔۔۔۔
سالار اپنی جگہ سے ہل بھی نہیں سکا تھا ہاں وہ اتنی حسین لگ رہی تھی ۔۔
اور انتہا تو تب ہوئ ۔۔۔ جب اسنے اسکیطرف پشت کی ۔۔۔اور اپنے ریشمی بالوں کو اپنے ہاتھوں سے گردن پر سے ہٹایا ۔۔۔۔۔
گردن پر بلیک پین سے بڑا سارا سوری لکھا تھا ۔۔۔۔۔
اسکی سفید ملائ جیسی رنگت پر ۔۔۔ یہ لفظ لکھے سالار کی دل کی دھڑکنیں ۔۔۔۔
بڑھا گئے ۔۔۔
اسنے معصومیت سے بت بنے سالار کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
سالار کے چہرے پر غصے کی لہریں اٹھیں ۔۔۔۔
آج اسکی بس ہو گئ تھی اس بکری نے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری تھی
اسنے دروازہ دھاڑ سے بند کیا اور زیمل کو ایکدم دیوار کیطرف دھکیل کر ۔۔۔
دیوار سے پین کر دیا ۔۔
زیمل نے ایکدم لبوں کو دانتوں تلے دبا لیا ۔۔۔
بہت زور سے اسکی کمر دیوار سے ٹکرائی تھی ۔۔۔۔
کس نے سکھایا ہے یہ سب تمھیں ” وہ اسکے چہرے پر آئے بالوں کو ۔۔۔۔ اپنے انگلی کی حرکت سے پیچھے کرتا ۔۔۔
اسکے چہرے کے بے حد نزدیک ہوتا بول اٹھا یہاں تک کے ۔۔۔ اسکی سانسیں زیمل کے چہرے سے ٹکرانے لگی ۔۔۔۔
آپ مجھے معاف کر دیں ۔۔۔ میں آپکا ہاتھ نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ۔۔۔
وہ دکھ بہت بڑا تھا میں جانتی ہوں ۔۔ مگر یہ چاہتی تھی آپ اپنوں کے بیچ میں رہیں ۔۔۔۔”
اچھا تو تمھیں اندازا تھا کہ میرا دکھ بہت بڑا ہے ” اسے دیوار سے ۔۔ دور دھکیلتا وہ اسکی کلائی موڑتا سختی سے بولا ۔۔۔
زیمل کے سارے بال اس جھٹکے سے آگے آ گئے ۔۔۔۔
س۔۔سالار” وہ ہاتھ میں اٹھنے والی درد سے ایکدم پریشان سی ہو گئ ۔۔۔۔
بتاؤ مجھے۔۔۔۔ تمھیں پتہ تھا میرے دل پر کیا گزری ۔۔۔۔ اور تم نے کتنی آرام سے میرے ہاتھ سے ہاتھ نکال لیا ” وہ اسکی پشت پر فراق کی بندگی ڈوریوں کو ایک جھٹکے سے کھول گیا ۔۔۔۔
ریشمی فراق اسکے شانوں ۔۔۔ پر پھسلنے لگا ۔۔۔
نہیں میں جانتی تھی آپکو اپنوں کے ساتھ رہ کر ہی خوشی ملتی ہے میں بس اتنا چاہتی تھی ۔۔۔ کہ آپ ادھر ہی رہیں “
کیوں رہوں میں ادھر ” وہ اسکی گردن میں ہاتھ ڈالتا پوچھنے لگا ۔۔۔۔
وہ سب آپکو بہت مس کرتے ہیں سالار “
اس وقت تمھاری اور میری بات ہو رہی ہے ” وہ اسکے کان کے قریب جھکتا ۔۔۔۔۔ بولا ۔۔۔
زیمل نے تھوک نگلا ۔۔۔۔۔
مجھ سے غلطی ہو گئ ۔۔۔ میں نے آپ کو بہت یاد کیا ۔۔۔۔
آپ جانتے ہیں نہ ” وہ اسکے چہرے پر ہاتھ رکھنے لگی ۔۔
ڈونٹ ٹچ می ” اسنے ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔۔
اور اسکے دونوں ہاتھوں کو جکڑ کر ۔۔۔۔ اسی کے دوپٹے سے باندھ دیے ۔۔۔۔
آپ جو سزا دیں گے قبول ہے ” وہ اپنے آپ کو ہر سزا کے لیے تیار کرتی اسکی نظروں کو اپنے شانوں پر پھسلتی دیکھتی پھولتی سانسوں کو ۔۔۔۔ قابو میں کرتی بولی ۔۔۔۔
سالار اسے خاموش نظروں سے دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔
زیمل نے بھی نگاہیں اٹھا لیں شرمندہ شرمندہ سی نظریں ۔۔۔۔۔
تمھیں معاف کرکے مجھے کیا فائدہ ہوگا تم ایک بے حس لڑکی ہو تمھیں اچھا لگتا ہے میری انسلٹ کرکے ۔۔۔۔ ” اسکے ہاتھوں کی بے باک حرکت پر زیمل نے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔
ا۔۔۔ایسا نہیں ہے ۔۔۔ میں میں اپنے لیے پر بہت شرمندہ ہوں ” وہ نم آنکھوں سے بولی ۔۔۔۔
میں تمھاری جان پر بنا دوں گا مت وہ سب کہو جو سہہ نہ سکو ” اسکے چہرے کو ہاتھ میں جکڑتا ۔۔ سختی سے بولا ۔۔۔
م۔۔مجھے سب قبول ہے ۔۔” وہ بھی بولی ۔۔۔
مجھے اب صرف آپ چاہیے ہو سالار ۔۔۔ میں میں نے بہت وقت گزار دیا اپنی بیوقوفی سے ” وہ بولی آنکھیں ۔۔۔۔ بھیگی ۔۔۔۔۔
اچھا تو تمھیں بھی احساس ہے ۔۔۔” وہ غصے سے بولتا اسکے گال پر ۔۔کاٹ گیا ۔۔۔
زیمل نے اسکی ہر سزا قبول کر لی تھی
جاری ہے