Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 17
No Download Link
Rate this Novel
Episode 17
میرے پاس واپس آجاو عارض” انگریزی میں جینی بولی ۔۔ جبکہ ۔۔عارض اپنے روم میں ا گیا ۔۔۔۔
وٹس دا میٹر ” عارض نے پریشانی سے پوچھا ۔۔
بس میں نہیں جانتی تم نے مجھ سے چار مہینے پہلے یہ کہا تھا کہ تم یہاں ا جاؤ گے میرے پاس اور ہم ساتھ رہے گے ۔۔ ” جینی غصے سے بولی ۔۔
جینی ہوا کیا ہے اچانک ” وہ بولا ۔۔۔فکر مندی سے
میرے فادر میری شادی کر رہے ہیں کسی اور سے تو بتا دو اگر تم اپنی منکوحہ کے ساتھ سیٹل ہو گئے ہو تو ” وہ بھڑک کر بولی ۔۔
واٹ کس لیے کیوں ۔۔ ایسا میرا مطلب ۔۔۔” عارض رک گیا ۔۔
اگر میں باہر رہتی ہوں تو میرا ریلیجن تم سے ہی ملتا ہے اور میرے ماں باپ میری شادی کر رہے ہیں اس میں حیرانگی کی ہوئ بات نہیں ” جینی بولی تو عارض نے سر تھام لیا ۔۔۔۔
تم ایسا کچھ نہیں کرو گی” عارض غصے سے بولا ۔۔۔
میں نہیں جانتی تم میرے پاس ا جاؤ ورنہ میں پاکستان ا جاؤ گی” جینی بولی ۔۔
عارض نے سانس کھینچا پریشانی تفخر کی لکیریں اسکے ماتھے پر سج گئیں ۔۔۔
اور اسنے فون بند کر دیا جینی کو تسلی دے کر ۔۔ وہ ایکدم اٹھا اور کمرے میں ٹھلنے لگا ۔۔
اب کیا کرنا تھا آگے کیا کرنا تھا وہ نہیں جانتا تھا یہاں سے نکلنے کی کوئ صورت نہیں تھی ۔۔۔۔
اسنے بالوں میں ہاتھ پھیرہ جینی کتنی مشکل میں تھی اس ۔۔ احساس نے بھڑک سی ڈال دی ۔۔۔
اور اچانک آیت کا جھپاکا سا دماغ میں ہوا ۔۔۔
اور جیسے اسکے دماغ میں ساری پلینگ ہو گئ ۔۔۔۔
وہ ٹیریس میں چلا گیا شاید پہلی بار اسنے اسکا شدت سے انتظار کیا تھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے
۔۔ جبکہ آیت بھی اپنے روم میں آئ تو روم۔میں اندھیرہ تھا ۔۔۔اسنے ۔۔۔ ٹیرس میں اسکا عکس دیکھا ۔۔۔۔ اور لائٹ جلانے کی کوشش کی ۔۔۔
لائٹ مت جلانا ” عارض کی آواز ابھری ۔۔
آیت کا ہاتھ سوئچ پر سے ہٹا ۔۔۔۔
اور وہ ڈریسنگ روم میں جانے لگی کہ اس اندھیرے میں عارض کا ہاتھ اسکے شانے پرٹھرا ۔۔۔
خوشگوار موسم کی ٹھنڈی میٹھی ہوا نے ۔۔۔۔۔ اسکو چھو لیا تھا ۔۔۔
آیت ٹھر گئ ۔۔
جبکہ عارض نے اسکا ہاتھ ۔۔۔ اپنے ہاتھ میں تھام لیا ۔۔۔
اسکا لمس اسکے پورے بازو سے ہوتا ہاتھ پر ٹھر گیا ۔۔۔۔
آیت نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔
وہ اسکے انداز میں اتنی دلکشی کو برداشت نہیں کر پائ اور اسنے آنکھیں بند کر لیں ۔۔
عارض نے اسکو اپنی طرف موڑا ۔۔۔ چاند کی روشنی اسکے آدھے چہرے پر تھی ۔۔۔ اسکے گال اور لب چاند سے روشن تھے جب بند آنکھیں اندھیرے میں تھی۔ ۔۔
اس وقت وہ عارض کو عجب انداز میں اپیل کر گئ ۔۔ وہ جھکا اور نرمی سے ۔۔۔ اس دلکشی کو خود میں جزب کیا ۔۔۔
آیت ۔۔ کا وجود ایکدم سے سنانا سا گیا ۔۔۔۔۔۔
جبکہ عارض اس سے دور ہوا ۔۔۔۔
آیت نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔
اور عارض نے اسکا ہاتھ پکڑ کر ۔۔اسکو صوفے پربیٹھنے کا کہا ۔۔
آیت کا دل جو کچھ وقت پہلے اداسی میں قید تھا ۔۔ ایکدم دھڑکنے لگا بے ہنگم سا مسرور سا ۔۔ اور وہ جیسے کہتا گیا
۔وہ ویسے کرنے لگی ۔۔ اسکے حکم پر صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔
آنکھوں میں محبتوں کا جہان لیے وہ اسے حسرت سے دیکھنے لگی ۔۔
عارض اسکے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔
اسکے چہرے کی چمک سے نگاہیں چرائیں ۔۔۔
وہ جو سمھجہ رہی تھی ویساکچھ نہیں تھا ۔۔۔ اور جو وہ اسے کہنے جا رہا تھا نہ جانے کیوں گھبرا رہا تھا حالانکہ کہ کبھی بھی اسنے آیت کو کچھ کہتے ہوئے سوچا نہیں ۔۔۔
آیت کا سر پکڑ کر اسنے اپنے سینے پر رکھ لیا ۔۔ ایت کے لب آپ ہی آپ مسکرا دیے ۔۔۔ اسنے عارض کے شانے پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔
دونوں کے بیچ بے نام سی خاموشی تھی جیسے آج کوئ کچھ کہنا نہیں چاہتا بس ۔۔سننا چاہتے
ہوں جزبوں کی گہرائی کو ۔۔ عارض کا ہاتھ اسکے بالوں میں چل رہا تھا آیت کے لیے یہ لمحے قیمتی ترین تھے ۔۔۔
جو میں تم سے کہنے جا رہا ہوں ۔۔وہ سنجیدگی سے سننا ۔۔۔۔ ” وہ بولنے لگا ۔۔
آیت نے سر اٹھانا چاہا مگر عارض نے اسکو سر اٹھانے نہیں دیا ۔۔۔۔
آیت کا دل اچانک ہی بیٹھ گیا ۔۔۔۔
میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں ۔۔۔ میرا پاسپورٹ بڑے بھیا کے پاس ہے ۔۔۔۔
میں یہاں سے امریکہ جانا چاہتا ہوں ۔۔۔ مگر تم جانتی ہو۔۔ یہاں سے مجھے کوئ نہیں جانے دے گا ۔۔۔۔ کیوں وجہ بھی تم جانتی ہوں ۔۔۔۔۔
لیکن میں ہر صورت میں یہاں سے جانا چاہتا ہوں ۔۔۔
میں نہیں چاہتا میری محبت کسی اور کے پہلو میں سوئے ۔۔
بتاؤ مجھے بھلہ یہ سب کوئ برداشت کرتا ہے ۔۔۔۔۔ “جیسے بہت اونچائی سے ۔۔۔ کانچ کے بڑے بڑے ٹکڑوں کو پھینک دیا جائے ۔۔۔ تو کتنی کرچیوں میں بدل جائے گا ۔۔۔ آیت کو لگا اسکا وجود اسی طرح ۔۔۔۔ کرچیوں میں تقسیم ہو گیا تھا ۔۔ وہ ساکت رہ گئ ۔۔۔۔
سن ۔۔۔ جیسے گویائی سلب ہو گئ ہو ۔۔۔۔۔
میں جینی کے پاس جانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ اور میں ہمیشہ کے لیے وہیں سیٹل ہوں گا ۔۔۔۔ میں تمھاری بات نہیں کر رہا ۔۔۔” اسنے آیت کو سیدھا کیا ۔۔ جو بے جان وجود کیطرح اسکے سیدھا کرنے پر اسکے سامنے آ گئ ۔۔۔
عارض نے ہاتھ پکڑ لیے اسکے ۔۔۔
تم بہت اچھی ہو اور واجب المحبت ہو ۔۔ مگر تمھارے لیے میں نہیں ہوں آیت ۔دیکھو ۔۔ ہماری شادی بھی ہو گئ مگر پھر بھی میں تمھارے لیے اپنے دل میں کوئ جزبہ محسوس نہیں کر پایا ۔۔۔۔۔
میرے لیے تم بس میری ایک کزن تھی اور غصے میں ا کر میں نے تمھارے ساتھ ۔۔ بہت زیادتی کی ۔۔۔ کہ تم ۔۔۔ ” وہ رک گیا ۔۔ اشارہ اپنے بچے کیطرف تھا ۔
غصے میں کئ بار تمھیں بہت کچھ کہا مارا بھی ۔۔ مگر مجھے کبھی اچھا محسوس نہیں ہوا ۔۔۔۔۔ اور میں چاہتا ہوں اب یہ ڈھونگ ختم ہو جائے ۔ دیکھو سمھجھو جینی کے بھی جزبات ۔۔۔۔ تم بھی تو لڑکی ہو ۔۔۔ اسکی کیفیت سمجھو ۔۔ کیا اسکی شادی کسی اور سے ہو جائے تو وہ رہ سکے گی ۔۔۔
بلکل اسیطرح جیسے میں تمھارے ساتھ نہیں رہ پا رہا ۔۔۔۔۔
میں جانتا ہوں تمھارا کوئ قصور نہیں ہے مگر میں تمھارے لیے پھر بھی کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔
اور اگر تم اس بچے سے جان چھڑانا چاہتی ہو تو بھی میں تمھارے لیے آسانی کروں گا ۔۔۔۔ ہم کل ہی ۔۔۔
چار مہینے ۔۔ کا ہے آپکا بچہ” سر جھکائے وہ بس اتنا ہی بولی ۔۔
تو کیا فرق پڑتا ہے دنیا میں تو نہیں آیا ” عار ض نے لاپرواہی سے کہا ۔۔
آیت نے سر نہیں اٹھایا ۔۔۔
آیت میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ تم بڑے بھیا سے میرا پاسپورٹ لے لو۔۔۔
اور ہم یہ شو کریں گے کہ ہم ہنی مون پر جا رہے ہیں ۔۔۔ اور تم امریکہ کو ڈسائیڈ کر لینا ۔۔۔۔
وہاں جا کر میں تمھیں واپس بھیج دوں گا ۔۔۔۔۔ اور خود وہاں سٹے کروں گا ۔۔۔۔
واپس آ کر بھلے تم سب کچھ بتا دینا سب کو ” عارض نے بات کا اختتام کیا ۔۔۔
آیت بلکل خاموششش ایسے بیٹھی تھی جیسے دنیا میں مزید اسکے لیے کچھ بولنے کے لیے نہیں ۔۔ اور اگر وہ بولی تو ۔۔ شاید وہ اتنا روئے گی ۔۔ کے دیکھنے والے کا سینہ پھٹ جائے گا ۔۔۔۔۔
پلیز کچھ بولو ” عارض بولا ۔۔۔
ٹھیک ہے” وہ بس اتنا ہی بولی عارض کیطرف دیکھا ۔۔
آیت کی آنکھیں بے حد سرخ تھیں ۔۔۔۔ آنسو نکلنے کے لیے بے تاب تھے ۔۔۔۔
عارض نے اسکی جانب دیکھا ۔۔اور اسکی حالت دیکھ کر ۔۔اسکا دل جیسے ۔۔۔ بے قرار سا ہو گیا ۔۔۔۔۔
وہ اپنے جزبات کو اسکے لئے سمھجہ نہیں سکا ۔۔ اسے لگا وہ روے گی اس سے لڑکے گی ۔۔۔
ہمیشہ کیطرح ان دونوں کی بحث ہو گئ وہ ضد کرے گی ۔۔ مگر وہ مان گئی تھی ۔۔۔ اور آنکھوں میں ایسی ٹوٹ پھوٹ تھی کہ ۔۔عارض کو اپنا بھی دم گھٹتا محسوس ہوا ۔۔ بول وہ گیا تھا مگر خود بھی سمھجہ نہیں رہا تھا ۔۔۔
وہ جس کو چھوڑنے کی بات کر رہا ہے آگے جا کر اسی کے لئے اسکی حالت کیا ہو گی ۔۔۔
عارض اسی کیطرف دیکھا رہا تھا
ٹھیک ہے جیسا آپ کہیں گے میں بلکل ویسا ہی کروں گی” اسنے اپنے آنسو صاف کیے اور مسکرا دی ۔۔۔۔۔
تم اسکے علاؤہ کچھ نہیں کہو گی “عارض نے حیرانگی سے پوچھا ۔۔
شاید میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔۔۔۔” وہ پھیکا سا ہنسی ۔۔
آیت میں “
عارض شاید مجھے احساس ہو گیا ہے۔۔ کہ آپکا اور میرا ساتھ کبھی نہیں تھا ۔۔ میری ضد نے ہمارا ساتھ یہ میری محبت نے ہمارا ساتھ ایک کر دیا ۔۔۔
لیکن ۔۔ میری محبت میں اثر نہیں تھا مگر اس میں خطا آپکی نہیں ۔۔۔۔ باقی ۔۔ میں کل ہی بڑے بھیا سے بات کرتی ہوں ۔۔ یہ پھر ابھی چلی جاؤ ” وہ اٹھتے ہوئے بولی ۔۔۔
سوال کرنے لگی ۔۔۔
عارض اسکو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔ بار بار اپنے آنسو صاف کرتی وہ مظبوط لہجے میں بولنا چاہ رہی تھی ۔۔۔
کل چلی جانا” وہ بولا اور آیت نے سر ہلایا ۔۔اور ڈریسنگ روم میں چلی گئ ۔۔۔
عارض جبکہ ۔۔ بستر پر لیٹ گیا ۔۔۔
سب ٹھیک ہو گیا تھا پھر دماغ پر کوئی پریشانی تھی ۔۔ دل میں کیسی فکر تھی ۔۔۔
کیوں تھے ایسے احساسات جیسے کچھ چھوٹ رہا ہے جیسے کھو سا گیا ہے ۔۔۔
پانچ منٹ لگے تھے آیت اپنا آرام دہ لباس پہن کر باہر آ گئ ۔۔۔
عارض جیسے بےتابی سے اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔
عارض کو دیکھے بناایت ۔۔اپنی جگہ پر آئ ۔۔۔اور اپنی سائیڈ پراسکیطرف سے کروٹ لے کر لیٹ گئ ۔۔۔ کمبل کو۔۔ اپنی بانہوں میں زور سے قید کر لیا ۔۔
عارض نے خود پر سے کل
کمبل کو کھینچا ہو ادیکھا اور اسے محسوس ہوا آیت کانپ رہی ہے ۔۔ اسنے آیت کے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔وہ واقعی کانپ رہی تھی ۔۔۔
تم ٹھیک ہو ” وہ پوچھنے لگا۔۔
جی ٹھیک ہوں ” آیت نے جواب دیا پلٹی نہیں ۔۔۔
عارض نے اسکو کھینچ کر اپنے نزدیک کرنا چاہا ۔۔۔۔
جبکہ آیت اٹھ بیٹھی ۔۔۔ لمبے بال کمر
پر بکھر گئے ۔۔۔
میں ۔۔۔۔۔۔مزید۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شاید۔۔۔۔۔۔۔ خود ۔۔۔۔میں ہمت ۔۔۔۔ نہیں پاتی ۔۔۔ کہ
آپ ۔۔۔اپ کے حقوق پورے کر۔۔ کر سکوں ۔۔۔ اور ۔۔ویسے ۔۔بھی ۔۔۔
اسکی ضرورت نہیں رہی ۔۔۔ اگر تو آپ ۔۔۔۔ اپنی جیت کا جشن ۔۔۔ مجھ پر منانا چاہتے ہیں ۔۔ تو رحم کریں عارض ۔۔۔ آیت مر جائے گی ۔۔۔۔۔
” وہ سسکی عارض بھی اٹھ بیٹھا ۔۔۔
اسکے یہ الفاظ جیسے سینے میں موجود دل کو کاٹ سے گئے تھے ۔۔۔
میں تمھیں” وہ کچھ بولتا ۔۔ کہ آیت نے آنسو صاف کیے اور مسکرا دی ۔۔
آپ مجھے اپنے لمس سے تسلی نہ دیں ۔۔ نہ مجھ پر اپنا آخری لمس چھوڑیں ۔۔
دیکھیں یہ زیادتی ہے نہ ۔۔۔۔ میں نے آپ کے آخری لمس کو محفوظ کر لیا ہے ۔۔۔ وہ میرے وجود میں ہے ۔۔۔۔اب ان سب کی ضرورت نہیں ۔۔
آپ جا رہے ہیں ۔۔۔۔ اور جانتے ہیں ۔۔ شاید میں خوش ہوں ۔۔۔۔
آپکے فیصلے سے ۔۔ ہاں شاید ۔۔۔ کیونکہ ۔۔ میں نے کبھی یہ نہیں چاہامیں آپکو اپنے ساتھ باندھ لوں ۔۔۔ محبت میں وسعت ہوتی ہے ۔۔ آج میں نے جانا ہے عارض۔۔ اور میں نے اپنا دل چیر لیا ہے ۔۔۔۔ ہم دونوں میں سے کوئ تو خوش رہے گا ۔۔۔۔
کسی کو تو اسکی محبت ملے گی ۔۔۔
آپکو پتہ ہے عارض” وہ اسکیطرف رخ کر کے بیٹھی اور پہلی بار خود سے اسکے ہاتھ تھام لیے ۔۔
عارض بس اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
جس کے گال آنسو سے تر تھے اور وہ بہادی دیکھانے میں صبر و برداشت کے آخری مقام پر تھی ۔۔۔
مجھے لگتا تھا آپ ایسے ہی بس ۔۔ کسی کے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔۔۔۔
” وہ ہنسی آنسو ٹوٹ کر گال پر بکھر گیا ۔۔
کیسے آپ کو کسی انگریز سے محبت ہو سکتی ہے جبکہ آپ کبھی اس سے فیس ٹو فیس نہیں ملے ۔۔ کیسے بس فیس بک کی چاٹ یہ وڈیو کال سے محبت ہو جاتی ہے ۔۔۔۔۔ یہ پھر ساری ساری رات باتوں سے ۔۔۔ کسی انسان کے بارے میں جانے بنا محبت ہو جاتی ہے دیکھیں میری بیوقوفی میں نے بس اپنی محبت کو محبت سمجھا اور آپکی محبت کو سمجھا ہی نہیں ” وہ بولی ۔۔
عارض چپ سا رہ گیا ۔۔۔۔
اس میں اتنی ہمت نہیں تھی ۔۔۔ کہ اپنے دل کی سنتا ۔۔۔ جو اسے کہہ رہا تھا سب چھوڑ کر اسے سینے میں جکڑ لے مگر کیوں ۔۔وہ کسی اور سے محبت کرتا تھا اور آیت کو ہمیشہ ایک طوق سمھجا تھا ۔۔۔
مگر اب سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔ ” اسنے اسکے ہاتھ چھوڑ دیے ۔۔۔۔
مسکرا کر دوبارہ اس سے فاصلے پر لیٹ گئ ۔۔۔۔
عارض جبکہ یوں ہی بیٹھارہ گیا ۔۔۔ اور وہ رات دونوں نے آنکھوں میں کاٹ دی ۔۔۔
وہ وقفے وقفے سے اسکی سسکیاں سنتا رہا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح عارض تو سو رہا تھا جبکہ آیت ۔۔۔ کی آنکھیں لگی ہی نہیں تھیں ۔۔ اسنے شاور لیا ۔
اور تادیر لیتی رہی ۔۔ آنکھوں کی سوجن ٹھنڈا پانی پڑنے سے کچھ کم سی ہوئ ۔۔اور وہ فریش ہو کر باہر آ گئ ۔۔
کبیر کے جانے سے پہلے اس سے ملنا چاہتی تھی ۔۔۔ وہ نیچے آئ تو ۔۔۔ جینی اور کبیر کو دیکھ کر ۔۔ چہرے پر مسکراہٹ آ گئ ۔۔۔
کبیر نے نین کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا جبکہ وہ اسے کچھ کہہ رہا تھا اور نین نفی کر رہی تھی ۔۔۔۔
آیت کو دیکھ کر دونوں مسکرائے ۔۔۔
اسلام علیکم بڑے بھیا ” آیت نے کہا ۔۔
کبیر اور نین دونوں نے جواب دیا ۔۔
ایت دیکھو میں کہہ رہا ہوں تمھاری بھابھی کو کہ ایک دن میرے ساتھ آفس چل لے میرے سارے ورکرزملنا چاہتے ہیں ۔۔ مگر مان کہ ہی نہیں دے رہی لڑکی” کبیر کچھ خفا سا لگا ۔۔۔
نین نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
ایسے اچھا نہیں لگتا میں بس اس لیے کہہ رہی ہوں” نین البتہ سنجیدہ تھی ۔۔
بھابھی ۔۔ بھیا کی بات ماننی چاہیے آپکو ” آیت نے کہا ۔۔۔
بھیا اتنے پیار سے کہہ رہے ہیں” آیت نے کہا اور مسکراہٹ چھپائ ۔۔
تم میں بھی پریشے کی روح ا گئ ہے” نین بولی ۔۔ جبکہ وہاں رفتہ رفتہ سب آنے لگے سوائے عارض اور سالار کے ۔۔۔۔
بھیا وہ مجھے آپ سے بات کرنی تھی” آیت بولی ۔۔ سب ہی آیت کیطرف متوجہ ہوئے مگر وہ کنفیوز ہو گئ ۔۔۔
ہاں بولو ” کبیر متوجہ ہوا ۔۔۔۔
وہ بھیا ” آیت کنفیوز سی ہوئ ۔۔
لڑکی بول بھی چکو “نانی سے زیادہ دیر سسیپینس برداشت نہ ہوا ۔۔۔
تو سب ہنس پڑے
۔
وہ میں کہہ رہی تھی میں زرا پیکنیک پر جانا چاہتی ہوں آپکو برا نہ لگے تو ” اسکا چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔۔
سب منہ کھولے آیت کو دیکھنے لگے ۔۔ جو سر جھکا گئ ۔۔
کیا ہو گیا بھئ سب کو ۔۔۔۔ اس میں کیا بڑی بات ہے اچھی بات ہے تم جاؤ گھومو پھیرو ” کبیر نے کہا اور مسکرا کر کپ لبوں سے لگایا۔۔
عمل نین اور پریشے تو لقمہ منہ تک لے بھی نہیں جا سکیں ۔۔۔۔
کہاں جانا ہے ویسے ” مرتضی صاحب سمیت سارے بھائ بھی خوش ہوئے تھے کبیر نے سوال کیا ۔۔
امریکہ” وہ بولی ۔۔
اممممم اوکے میرے پاس ہے پاسپورٹ عارض کا نین میری الماری میں ہو گا نکال کر دے دینا۔ ۔۔ اپنا بھی بنوا لو ” کبیر بولا اور اٹھ گیا ۔۔
شکریہ بھیا ” آیت نے آنسووں کا پھندا حلق میں اتار کر کہا جبکہ کبیر اسکے سر پر پیار کر کے نین کو باہر آنے کا اشارہ کرنے لگا جبکہ نین شرمندگی کے مارے جا نہیں سکی ۔۔۔۔ جبکہ کبیر نے گھورا ۔۔۔
اٹھ بھی چلو اب” جب وہ نہیں اٹھی تو کبیر بولا ۔۔۔۔
مگر” نین کی پھر سے وہی ضد
چلی جاؤ بیٹا ورکرز پوچھ رہے تھے” مرتضی سنجیدگی سے بولے تو نین کو مزید ضد کرنا بے کار لگا جبکہ کبیر تو بہت خوش ہوا
اور اس طرح نین بھی چادر لے کر اسکے پیچھے ہو لی ۔۔۔۔۔
جبکہ آیت بھی اٹھ گئ ۔۔ پریشے اور عمل اسکے پیچھے گئیں ۔۔۔۔
مجھے اس لڑکی کے طور زرا درست نہیں لگ رہے مدیھا ۔۔۔ ڈاکٹر سے چیکپ کراؤ ۔۔۔” نانی کی بات پر ۔۔سب نےا نکیطرف دیکھا ۔۔۔ جو تذبذب کا شکار تھیں ۔۔ کیا وہ موٹی ہو گئ تھی ۔۔۔ مگر عجیب سی حالت تھی اسکی وہ سمھجہ نہیں پائیں شادی کو تو کچھ دن ہوئے ہیں مگر اسکے طور انھیں پہلے سے ٹھیک نہیں لگ رہے تھے ۔۔۔۔
مدیھا نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔ جبکہ زین اچھل پڑا ۔۔
کیا مطلب”
چپکے رہو ایسی باتوں میں نہیں بولتے” مرتضی نے جھڑکا تو ۔۔۔۔ زین چپ ہو گیا سب کے چہروں پر مسکراہٹ تھی مگر نانی سنجیدہ تھیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اتنی ضد کا فائدہ کیا ہو جبکہ میرے ساتھ ہی آنا تھا ” کبیر ہنسا ۔۔
ہنسے مت مجھے شرمندگی ہو رہی ہے اس طرح بھی ہوتا ہے” نین نے کہا اور باہر دیکھنے لگی۔۔
اوکے ٹیک اٹ ایزی آئندہ نہیں لے جاؤ گا “کبیر نے اسکا ہاتھ تھام کر ہاتھ پر پیار کیا جبکہ نین نے کسمسا کر ہاتھ اسکے ہاتھ سے الگ کر لیا ۔۔
کچھ ہی دیر میں دونوں آفس پہنچ گئے ۔۔۔
اور جیسے ہی اسنے آفس میں قدم رکھا سارے ورکرززاپنی جگہ سے اٹھ گئے ۔۔
نین شرمندہ ہو گئ ۔۔۔
گڈ مارننگ سر ” سب نے کہا ۔۔۔
اور نین کو بھی میڈیم کہا تو اسکو عجیب سا احساس ہوا۔۔وہ سب سے مسکرا کر ملنے لگی ۔۔۔ اور سب بھی بہت خوش نظر۔ آرہے تھے ۔
ایکچلی ہم نے شادی پر آپکو دیکھا تھا میڈیم مگر ۔۔۔ بات نہیں و
ہو سکی تبھی اپکو ملنے کے لیے بلا لیا ۔۔ پلیزاپ رکیں ایک ورکر کیک لینے گیا ہے ہماری خوشی کے لیے پلیز کیک کٹ کریں” لڑکی بولی تو نین مسکرا دی ۔۔ اور سر ہلا دیا ۔۔
سب اس سے مختلف سوال کر رہے تھے ۔۔
ویسے ۔ میم ہمارے سر روڈ ہیں کافی مگر آج آپکی وجہ سے انھیں مسکراتے ہوئے پہلی بار دیکھا ہے” دوسرے ورکر نے کہا تو ۔۔ کبیر نے مصنوعی گھورا جبکہ نین بھی مسکرا دی باقی سب ہنس پڑے تب تک کیک بھی ا گیا ۔۔
یار تو کہاں چلا گیا تھا میم کب سے آئ ہوئ ہیں” انکے گرد کافی رش تھے دوسرے ورکر نے کہا ۔۔
سوری یار میم کے شیان شان کیک بنوا کر لایا ہوں “اسنے جواب دیا اور کیک کھول کر ٹرے میں رکھ کر وہ ۔۔ موادب سا ۔۔ بھیڑ کو چیرتا ۔۔ کبیر تک پہنچا۔۔۔
گڈ مارننگ سر ۔۔۔” نین کی پشت تھی مگر آواز کو وہ پہچان گئ تھی ۔۔
ایسا لگا آفس کی چھت اسپر ا گیری ہو ۔۔۔۔
وہ پلٹی ۔۔ آنکھوں میں حیرانگی سموئے ۔۔احمد کو اپنے سامنے کیک تھامے دیکھ ۔۔ جیسے اپنے قدموں پر ہی لڑکھڑا گئ۔۔اور اس سے کہیں گناہ زیادہ برا حال احمد کا تھا اپنے سامنے نین کو اپنے بوس کی بیوی کے روپ میں دیکھ کر ۔۔
وہ بوس جس کی کمپنی میں آنے کے بعد اسکے طور ہی بدل گئے تھے ۔
اور اسنے نین اور نین کی محبت کو کچرےکیطرح اٹھا کر پھینک دیا تھا ۔۔
وہ آنکھیں پھاڑے نین کو دیکھ رہا تھا ۔۔
مسٹر احمد ” کبیر بولا ۔۔ تو وہ سٹپٹا کر سیدھا ۔۔۔
گڈ گڈ گڈمارنیگ م۔۔۔میم” آواز لڑکھڑا گئ ۔۔۔
نین البتہ ساکت تھی ۔۔۔ دل کی دھڑکنیں ٹھر ہی گئیں ۔۔۔۔۔
کبیر نے نین کا ہاتھ پکڑا اور مسکرایا ۔۔۔
مو۔۔مورنگ” نین نے کہا ۔۔۔ اور احمد نےا سکے آگے کیک رکھا ۔۔۔
کبیر اور نین نے کیک کٹ کیا اور کبیر نے نین کے منہ میں کیک دیا ۔۔۔۔
نین نے ایک لمبی سانس کھینچی تھی ۔۔۔
دنیا گول ہے ” اسنے زیر لب کہا ۔۔اور اسکے بعد اسکے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئ ۔۔
ایسا لگا ۔۔۔ اسکے زخموں پر مرحم رکھا گیا ہو ۔۔۔۔
اسنے کبیر کے منہ میں کیک دیا اور خود بھی مسکرا کر تالیاں بجانے لگی ۔۔۔
اب آپ لوگ کام کریں ” کبیر نے کہا اور نین کا ہاتھ پکڑ کر اپنے روم میں لے آیا ۔۔۔۔۔
نین نے احمد کیطرف نہیں دیکھا ۔۔۔۔
نہ ہی اسنے چاہا ایسا ۔۔ کہ وہ اسکو دیکھے ۔کبیر اسے اپنا آفس دیکھا رہا تھا جسے وہ دیکھنے لگی ۔۔کئ بار وہ اسکے آگے سے گزری ۔۔۔ مگر نگاہ بھی اسپر نہیں ڈالی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاسپورٹ عارض کے آگے رکھ کر ۔۔۔ وہ اٹھی۔ جبکہ عارض نے ہاتھ پکڑا ۔۔۔
جسے آیت نے جلدی سے چھڑوا لیا ۔۔۔
اور بھی کچھ چاہیے کیا”اسنے پوچھا ۔۔۔۔
آیت کا انداز عارض کو برا لگا مگر گہا کچھ نہیں ۔۔۔
میں تمھارا بھی ویزابنوا لیتا ہوں ” وہ بولا ۔۔اور وہ سر ہلا کر ۔۔۔ باہر نکل گئ جبکہ ۔۔۔۔اسکا ادھورا عشق ۔۔۔ دہائیاں دینے لگا
جاری ہے
