Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

سب میں آیت کی رخصتی کی بات پھیل گئ مرتضی نے اس بات پر خفگی کا اظہار کیا مگر مدیحا کی ضد کے آگے چپ سے ہو گئے سب ہی حیران تھے کے مدیھا اتنا ضد پرکیوں اڑی ہوئ ہے گویا وہ عارض کے اسی اچانک فیصلے کی منتظر تھی ۔۔۔۔
سب میں آیت کی رخصتی کی خبر کیا پھیلی ۔۔۔۔ سب اسکو چھیڑنے لگے جو سن سی بیٹھی تھی اسکی اندرونی کیفیت سے تو پریشے ہی آگاہ تھی۔۔۔۔
دیکھو رخصتی ہو رہی ہے تمھاری اور منہ تم نے من بھر کا بنایا ہوا ہے “ایمن نے زرا ناگواری سے کہا ۔۔ آیت کچھ نہیں بولی جبکہ پریشے نے ضبط سے اسکو دیکھا
ایمن جب انسان کچھ نہ جانتا ہو تو چپ رہنا چاہیے”
ہائے کیا بات ہے ایسی کسی اور کو پسند کرتی ہو ” وہ ہنس کر پوچھنے لگی جس پر آیت اور پریشے ایک دوسرے کو دیکھ کر رہ گئیں اسکے بعد دونوں ہی کچھ نہ بولیں جبکہ۔۔ ایمن کافی دیر بولتی رہی ۔۔۔
عمل اسکے لیے اوبٹن لے کر اندر داخل ہوئے ۔۔
تاہم امی نے کہا ہے ابٹن لگا لو “عمل نے مسکرا کر کہا اور ایکسائٹیڈ سی ۔۔ اسکے پاس آ گئ ۔۔۔
سب عورتیں بھی ابھی آتی ہوں گی ۔۔ “عمل نے جلدی سے کہا ۔۔۔۔
تو آیت گھبرا گئ ۔۔
پریشے مجھے یہ سب نہیں کرنا “اسنے ہمت کر کے کہا ۔۔
آیت تماشہ نہ بناؤ اپنا “
پریشے میری شادی پر میرا باپ موجود نہیں ہے کیا یہ ازیت کم ہے “وہ آنسو سے لبریز آنکھوں سے اسکو دیکھتی مدھم لہجے میں بولی ۔۔
تب تک سب عورتیں بھی اندر آ گئیں اور اس طرح ۔۔ آیت کی رسم ہونے لگی ۔۔۔۔
نانی نے تو۔۔ اسے پورا پورا ابٹن میں نہلا دیا ۔۔۔
آئے لڑکی اب تو نے لباس نہیں بدلنا ” انھوں نے حکم دیا ۔۔۔ اور عمل نے ڈھولکی بجانا شروع کر دی ۔۔
شغل میلہ لگتا رہا ۔۔۔۔
آیت کافی سنجیدہ تھی اور پریشے بار بار اسے سمبھال رہی تھی ۔۔۔
رات گئے ۔۔ مرتضی صاحب کے حکم پر محفل ختم ہوئ ۔۔ کیونکہ کل بڑا دن تھا ۔۔ کبیر کی مہندی اور عارض کی رخصتی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلا دن بے حد مصروف تھا ۔۔۔۔ سالار کو شدید بخار ہو گیا تھا ۔۔ آنکھیں سرخ تھیں ۔۔۔ مگر وہ ۔۔ سب سمبھال رہا تھا ۔۔۔
عارض کا موڈ سخت خراب تھا وہ کسی ایک بھی فرد کو اپنے نزدیک برداشت نہیں کر رہا تھا ۔۔ جبکہ ۔۔۔ کبیر ۔۔ بے حد خوش تھا ۔ سالار کے ساتھ اسنے پوری پوری مدد بھی کرائ تھی جبکہ زین بھی لگا ہوا تھا ۔۔۔
تمھارے سے زیادہ ایکسائٹیڈ دولہا نہیں دیکھا میں نے”سالار نے ٹشو سے ناک صاف کر کے ۔۔۔ زین کے ہاتھ میں تھما دیا اور کبیر کو کہا ۔۔۔
جس نے اسے مصنوعی گھوری سے نوازا جبکہ زین تلملا گیا سالار کی اس حرکت پر ۔۔۔۔
بھیا یار آپ صبح سے ایسا ہی کر رہیے ہیں ۔۔۔”زین نے ٹشوزمین پر پھینکا ۔۔۔
کاش یہاں میرا پی آئے ۔۔ ہوتا تو کم از کم نخرے تو نہ دیکھتا ایک تم ہو ” سالار نے گھورا جبکہ زین نے منہ بنالیا ۔۔۔
ویسے بڑے بھیا ۔۔ اس لڑی کو جوڑ دیں آپکے سسرالی اسی لڑی کے نیچے بیٹھیں گے لائٹیں پوری پڑنی چاہیے “افان کے شوشے پر زین سالار اور فان تینوں ہنسنے لگے ۔۔ جبکہ کبیر نے اسکی کمر پر مکہ مارا ۔۔
اب سارا کام تم خود ہی کرو گے ۔ گدھوں ” کبیر بھڑکا کر کہتا پلٹ گیا ۔۔
لو سن لو گدھے بھی ہم ہیں مہراج کی شادی نہیں پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے ویسے افان تجھے لگتا ہے ہماری شادی ہو گی “سالار نے ٹھنڈی ابھری ۔۔۔
میری شادی تو تو ہی کراے گا “افان نے دانت نکالے۔۔۔
یہ بہت ہی غلط ہے۔۔ اس عارض کی رخصتی کا شوشہ وہ تو سالار باپ کو سمبھالے گا ۔۔ کبیر کی شادی ہو ۔۔ تو سالار تیاری کرے گا۔۔افان صاحب شادی پوری کی پوری میرے اوپر ڈالے بیٹھے ہو ۔۔ تم لوگوں کو میں مرد نہیں لگتا میرے اندرجزبات نہیں ہیں ۔۔۔۔ “وہ آنکھیں نکالتا چلایا جبکہ زین اور افان خوب ہنسنے لگے۔۔۔
بند کرو اپنے منہ”وہ لائٹوں کی لڑیاں پھینکتا چئیر پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
جبکہ افان اور زین لڑیاں لگانے لگے ۔۔۔۔
تقریبا تیاریاں ہو گئیں تھیں ۔۔۔ ۔ بس کچھ ہی دیر میں فنکشن شروع ہو جاتا۔۔۔۔ پہلے مہندی کی رسم ادا کی جاتی اور اسکے بعد رخصتی ۔۔۔
سالار موبائل سکرولنگ کر رہا تھا۔۔
پینٹ کے پائنچے فولڈ کیے سفید پاؤں میں چپلیں پہنے اور بلیک ٹی شرٹ پہنے جس میں اسکے مسلزواضح ہو رہے تھے وہ لاپرواہ سا ایک ایک کی نگاہ کا مرکز بن رہا تھا ۔۔ایمن نے اسکا سر سے پاؤں تک تجزیہ کیا اور اسے اندازا ہوا کہ وہ کبیر سے کہیں زیادہ ہینڈسم اور ڈیشنگ ہے اسپر وہ کتنا جنگلی سا ہے اسکا دل گدگداسا گیا ۔۔۔
اور گنگناتی ہوئی وہ پلٹی ۔۔ اور تیار ہونے گئ۔
آیت کو پریشے اور عمل پالر لے گئیں تھیں اسنے جانے سے انکار کر دیا ۔۔وہ تو سالار کو دیکھنا چاہتی تھی اچھے سے۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مہندی کا فنکشن شروع ہو گیا تھا ۔۔۔۔ کبیر کو سٹیج پر بیٹھایا گیا ۔۔ تو سب دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اسکے سسرالی کتنے کم تھے بس چھ بندے تھے ۔۔۔۔ تین بچے اور تین ہی بڑے سب نے اس بات کو محسوس کیا مگر خوشی کے موقعے پر کوئ کچھ نہیں بولا وہ لوگ رسم کرکے ایک طرف بیٹھ گئے ۔۔ جبکہ سالار جو کھانے کیطرف متوجہ تھا مرتضی کے ڈانٹنے پر کپڑے چینج کرنے بھاگا ۔۔ افان اور زین تو کبیر کے ساتھ پہلے سے ہی تھے موجود جبکہ پریشے اور عمل بھی ۔۔ پریشے پر سے تو افان کی نگاہ ہی نہیں ہٹ رہی تھی جبکہ زین بھی نہ جانے بار بار عمل کو دیکھنے سے خود کو روک نہیں پا رہا تھا ۔۔۔ جبکہ اسکے اندازمیں زین کے اس طرح دیکھنے سے خوب ناگواری تھی ۔۔۔
دوسری طرف پریششے بھی افان کو گھور رہی تھی مگر وہ تو نگاہ ہٹا ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔۔
اور بڑے بھیا ۔۔۔ مسکرا رہے تھے مدیحا نے اسکی بلائیں لے ڈالیں ۔۔۔
ایمن بھی تیار تھی غرارے میں وہ ۔۔ سالار کی نگاہ کا مرکز بننا چاہتی تھی ۔۔۔۔
تبھی وہ بھی سٹیج پرآ گئ
جبکہ آنکھیں سالار کی منتظر تھیں ۔۔۔
بلیک کرتا شلوار میں وہ تیار ہوکر نکلا ۔۔۔ جبکہ گلے میں یلو پرنا ڈالا ہوا تھا
تو ایکدم اسکی نگاہ عارض پر گئ جو کسی سے بات کر رہا تھا ۔۔۔
اووو بھائ ۔۔۔ تو یہاں کیوں ہیں ” سالار نے کہا تو عارض نے ایکدم فون بند کر دیا ۔۔
میں آ رہا ہوں بھیا آپ چلیں “وہ بولا ۔۔
کس سے بات کر رہے تھے” سالار نے سنجیدگی سے اسکو دیکھا ۔۔
ک۔۔کسی سے نہیں” اسنے کہا اور سیل فون جیب میں ڈال لیا ۔۔
سفید کرتا شلوار میں ۔۔ریڈ ویسکوٹ پہنے وہ بھی بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔۔
سالار کچھ لمہے اسکو دیکھتا رہا ۔۔۔
کبھی بھی عورت سے بدلا نہیں لینا چاہیے ۔۔ میرے نزدیک جو مرد عورت سے اپنی محرومی کا بدلہ لیتا ہے ۔۔۔۔ وہ بے حد کمزور ہوتا ہے ۔۔۔ مرد کو شیوا دیتا ہے کہ وہ اپنے ہی جیسے کسی مرد سے۔ ۔۔ بدلے کے جزبات رکھے ۔۔۔ ہمیشہ عورت کو پروٹیکٹ کرنا چاہیے ۔۔ کسی بھی رشتے میں ۔۔۔
پھر وہ تمھاری بہن ہو ۔۔۔۔ یہ بیوی ۔۔۔ یہ محبت ۔۔” اسکے شانے پر ہاتھ رکھتا وہ بول رہا تھا جبکہ عارض چپ چاپ اسے سن رہا تھا ۔۔۔ اسے
عجیب سا لگ رہا تھا وہ ایسی سوچ رکھتا ہے لگتا بھی نہیں تھا ۔
عارض نے بس سر ہلا دیا۔۔
چلو “سالار نے کہا اور وہاں سے دونوں نکل کرباہر آ گئے لون میں شام ڈھل آئ تھی۔۔۔
چاروطرف لائٹوں نے لون کو عجب کشش بخش دی تھی ۔۔
کبیر کی رسم اب فیملی کے لوگ کر رہے تھے سالار اور عارض دونوں آ گئے ایمن جو بور کھڑی تھی ایکدم الرٹ ہوئ سالار کی بھی نگاہ اسپر اٹھی تھی مگر سرسری سی وہ کبیر کے نزدیک آ گیا ۔۔
آ یار مجھ سے بھی پیلا پیلا ہو جا “اسنے دونوں ہاتھوں میں ابٹن ملا اور کبیر کے پورے منہ پر مل دیا ۔۔ جبکہ کبیر اسکو ہٹاتا رہ گیا ۔۔ ایکدم شور سا اٹھا تھا ۔۔۔ اور سب ہنسنے لگے ۔۔
سالار میں تمھیں بخشو گا نہیں ” کبیر چلایا ۔۔
یہ جو دولہے ہوتے ہیں نہ بیٹا ان کی چونچ۔۔۔بند ہی رہتی ہے کیسے کیسے میسنے سے لگتے ہیں ” سالار ہنسا ۔۔۔۔
ہاں تمھیں دیکھ لوں گا میں تمھاری شادی پر”کبیر نے اپنے منہ پر سے صاف کیا ۔۔۔
ہاں دیکھنا ۔۔۔ مجھ سے زیادہ ہینڈسم دولہا دنیا میں ہو گا ہی نہیں “
بس کروشوخا ہر وقت تعریفیں اپنی”کبیر نے جھڑکا ۔۔۔
سب ہنس رہے تھے محفل گرم تھی عارض نے بھی کبیر کو مہندی لگائے ۔۔۔ اور اسپر بھی کافی ہوٹینگ ہوئ ۔۔۔
اور پھر سب لڑکوں نے مل کر ۔۔ کبیر کو بیچ میں کھڑا کر کے بھنگڑے ڈالے ۔۔۔
کافی دیر تک سالار کے سانس پھول گئے ۔۔۔۔
تو ایمن جلدی سے اسے پانی دینے لگی ۔۔۔۔
سالار نے چونک کر دیکھا ۔۔۔اور پانی کا گلاس لے لیا ۔۔ ایمن تو پھولے نہیں سمائ ۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد آیت کو بھی سٹیج پر لایا گیا ۔۔۔
اور پھر ۔۔ کبیر نے چہرہ صاف کر لیا۔۔ کپڑے چینج کر کے وہ اب ایک بھائ لگ رہا تھا ۔۔ جبکہ سالار زین اور افان نے بھی اپنے پیلے پرنے اتار دیے ۔۔
وہ سب آیت کے بھائ لگ رہے تھے سنجیدہ سے ۔۔۔
عارض خوف ناک خاموشی لیے سٹیج پر بیٹھا تھا اسکے ساتھ آیت کو بھی بیٹھا دیا گیا جو۔۔ دنیا کی سب سے خوبصورت دلہن لگ رہی تھی ۔۔۔
خاموش سجی سجی ۔۔ پور پور عارض کے لیے سجائے ۔۔۔
وہ دلکشی کی انتہا پر تھی ۔۔۔
کھانا کھلا سب نے کھانا کھایا
۔۔ اور اسکے بعد ۔۔۔ پریشے اور عمل نے دودھ پلائ کی ۔۔۔
عارض ان چونچلوں کے لیے بلکل تیار نہیں تھا ۔۔۔جبکہ سالار نے ان دونوں کی خواہش پوری کی اور کبیر سے الگ انھوں نے پیسے لیے تھے ۔۔
کچھ ہی دیر بعد رخصتی کا شور ہوا تو ۔۔ آیت نے ضبط سے مٹھیاں بھینچ لییں ۔۔۔
آج اسے شدت سے اپنے باپ کی یاد آئ تھی جس کو بلایا گیا تھا مگر وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھنے بھی نہیں آیا تھا ۔۔۔ آیت کا جیسے سانس سا رکنے لگا ۔۔ وہ ایک بار تو آتے ایک بار تو وہ اسکے سر پر ہاتھ رکھتے یہ احساس دیتے کہ وہ اسکی بیٹی ہے ۔۔ مگر کچھ نہیں ہوا تھا ۔۔
جب اسے اٹھایا گیا تو اسکی بند مٹھیوں پر عارض کی نگاہ گئ ۔۔۔
اور بے اختیار اسنے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔
آیت کی بند مٹھی اسکے ہاتھ میں چھپ گئ ۔۔۔۔ اس وقت وہ جو محسوس کر رہی تھی عارض کی اس حرکت پر وہ جیسے اسکے اندر اٹھتا طوفان ایکدم ٹھر گیا ۔۔
جیسے لاشعوری طور پر وہ اسے احساس دلا گیا تھا کہ وہ تنہا نہیں ہے ۔۔ آیت کو اس وقت محسوس ہوا اسکی ساری تکلیفوں پر یہ لاپرواہ ہاتھ مرحم رکھ گیا ہے ۔۔
عارض اسکا ہاتھ تھامے ۔۔۔۔ لون سے گھر میں داخل ہوا۔۔ سالار کبیر یہاں تک کے سب بڑوں کے چہروں پر اسکی اس حرکت پر مسکان ٹھر گئ ۔۔اور ۔۔ عارض آیت کو لے کر اندر داخل ہوا ۔۔۔۔
پریشے اور عمل کے ساتھ زین افان اور سالار نے بھی ۔ رسمیں شروع کر دیں ۔۔
چل بھئ نکال پیسے ” سالار نے کہا ۔۔۔۔
جبکہ اسکے پیچھے ایمن بھی آ گئ ۔۔
یار بھیا ۔۔ پیسے دینا آپکا کام ہے میرا نہیں” عارض نے صاف انکار کیا ۔۔
اب تم لوگ بس کرو گے رات اتر آئے ہے تماشے نہیں ختم ہو رہے” مرتضی بھڑکے تو ۔۔۔ سالار منہ بنانے لگا جبکہ عارض نے شکر کا سانس بھرا ۔۔
چلو جاؤ اپنے کمرے میں ۔۔ پہنچاؤ انھیں”انھوں نے مدیھا کو کہا ۔۔
یہ کیا یہ اتنی آرام سے پہنچ جائے گا کمرے میں”افان سالار کے کان میں گھسا۔۔۔
کوئ اور آپشن نہیں ۔۔ میرا باپ گبر ہے وہ
ہم سب کو کھا جائے گا ۔۔ چپ رہ فلحال ” سالار نے کہا ۔۔۔ جبکہ خواتین آیت کو اسکے کمرے میں پہنچانے لگیں ۔۔۔
اور عارض ۔۔۔ وہاں سے باہر ہی نکل گیا ۔
کدھر کمرے میں جاؤ تم بھی” کبیر نے گھورا توچار نگار اسے بھی کمرے میں جانے لگا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت اسکے کمرے میں آج حق سے بیٹھی تھی ۔۔
خاموش پلکیں جھکائے ۔۔ سب باہر چلے گئے تھے عارض بھی اندر موجود تھے ۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ پہلی بار دونوں تنہا تھے ۔۔۔
مگر آج سے وہ بس اسکی ہو گئ تھی ۔۔
اٹھو اور کپڑے چینج کرو اپنے میرے لیے اس طرح بیٹھ کر وقت ضائع مت کرو ” عارض نے دو ٹوک بات کی آیت نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
کچھ بھی کہنے کا کوئ فائدہ نہیں تھا ۔۔ وہ اٹھی ۔۔۔ اور ڈریسنگ ٹیبل کیطرف آ گئ ۔۔۔ اور آہستہ آہستہ اپنی چیزیں اتارنے لگی ۔۔ عارض کو بلکل نظر انداز
کر دیا تھا ۔۔ جبکہ عارض اسکی چھوڑی ہوئی جگہ پر بیٹھ گیا ۔۔ تقریبا لیٹ کر وہ موبائل استعمال کرنے لگا کمرے کی خاموش فضا میں اسکی چوڑیوں کی کھنک کھن تھی ۔۔۔
عارض ہر ممکن طریقے سے اسکو اگنور کرنا چاہ رہا تھا ۔۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہو پا رہا تھا جس طرح وہ خود کو قابو کر رہا تھا اسکے حسین چہرے سے نگاہ چرانے کی کوشش میں تھا ۔۔ ہر ہربہ جاتا رہا تھا ۔۔ اور جب اسنے ۔۔ خود پر سے دوپٹہ ہٹایا ۔۔ تو عارض ایک پل کو ساکت رہ گیا ۔۔
لہنگے کے گھیرے گلے نے اسے اپنی جانب اپیل کیا ۔۔ تھا وہ جینی کے میسیج کا جواب چھوڑ کر اٹھا ۔۔۔
مگررک گیا ۔۔ آیت کی بلکل بھی توجہ اسپر نہیں تھی ۔۔۔
اپنی ویسکوٹ کھول کر ۔۔ وہ ۔۔۔ غصے سے واشروم میں چلا گیا ۔۔۔
جبکہ آیت نے بیڈ پر پڑی ویسکوٹ دیکھی اور پھر اپنے ائیر رنگز اتارنے لگی ۔۔
تھکاوٹ اسے واقعی ہو رہی تھی اور پھر بھوک بھی لگی تھی ۔۔۔
جسے وہ برداشت کرنے کی کوشش میں تھی ۔۔۔
مگر اسنے سوچ لیا تھا چینج کرکے وہ کھانا کھانے باہر چلی جائے گی ۔۔
اسنے اپنے گلے سے سیٹ نکالنا چاہا مگر اتنا سب کچھ اتار کر تو تھکاوٹ اور بھی بڑھ گئ تھی وہ تھک کر صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔
بالوں سے پینے کھینچ کر اسنے لمبے بال کھول دیے تھے جو پہلے ڈئیزائنر کی صورت بندھے ہوئے تھے ۔۔۔
عارض باہر نکلا ۔۔۔
تو وہ صوفے پر بیٹھی تھی ۔۔
کھلے بال ۔۔۔۔ گلے میں سیٹ ۔۔ جبکہ ناک کی نتھ جو ہونٹوں پر گیر کر ایک ادھم مچا رہی تھی ۔۔ اسکے اندر جزبات کی توڑ پھوڑ شروع ہو گئ ۔۔۔
وہ بنا جھجھکے اسکے نزدیک گیا ۔۔۔
اور اسکے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔
بیوی تو تھی نہ وہ اسکی ۔۔۔۔ “اسنے دل میں سوچا ۔۔۔۔۔
مگر وہ اسے بلکل پسند نہیں کرتا ۔۔اور جو بھی اسنے اسکے ساتھ پہلے کیا تھا وہ سب غصہ اور ضد تھی اور آج وہ
کس طرح اسے متاثر کر رہی تھی ۔۔۔
آیت ایکدم اسکے بیٹھنے پر اٹھ گئ ۔۔
حیرانگی سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔
عارض اپنی اس حرکت پر سر تھام گیا ۔۔
آیت نے جلدی سے سیٹ اپنی گردن سے جدا کرنا چاہا ۔۔ تو عارض نے سیٹ کی ڈوری ۔۔ کو تھام لیا ۔۔
آیت تھم گئ ۔۔۔۔
اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔
جس کی نگاہ اسکی شفاف گردن سے شانے پر سرکنے لگی تھی ۔۔۔
عارض نے ۔۔۔ جزبات سے بوجھل لمس اسکے ہاتھوں پر بکھیر دیا ۔۔
آیت کا دل بری طرح دھڑکنے لگا
جبکہ عارض اپنی عقل شعور اپنی ضد اپنی پسند اپنا غصہ سب ایکطرف رکھ چکا تھا ۔۔۔
آیت کے سیٹ کی ڈوری ڈھیلی کر کے اسنے اسکی گردن سے وہ سیٹ جدا کر دیا ۔۔۔۔
آیت پھر بھی یوں ہی کھڑی رہی ۔۔ جبکہ اب عارض کا لمس وہ اپنے شانے اور گردن پر محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
کیا یہ بس اسکے جسم کی دلکشی تھی جس سے وہ متاثر ہوا تھا ۔۔۔۔
کیا وہ اپنی بات پر اتنا بھی قائم نہیں رہ سکا تھا ۔۔۔
کیا اسکے دل میں آیت کے لیے کوئ جزبہ تھا ۔۔
کیا اسنے اپنے بچے کو اپنانے کا سوچ لیا تھا ۔۔
کئ سوال تھے آیت کے دل میں ۔۔ عارض نے ۔۔۔ کھینچ کر اسکا رخ بدلا ۔۔۔
اور اسکی نتھ دیکھنے لگا ۔۔۔
اسکی نتھ پر ہی اپنا پر حدت لمس رکھ کر وہ ۔۔ آنکھیں بند کر گیا ۔۔۔
جیسے یہاں اسے دنیا جہان کا سکون میسرایا تھا ۔۔۔۔
دونوں کی بے ترتیب سانسیں ۔۔۔ بھجنے لگیں تھیں ۔۔۔
عارض نے اسکے ریشمی بالوں میں ہاتھ پھنسالیا ۔۔۔۔اور اسے اور بھی نزدیک کر کے وہ جزبات پر قابو نہ رکھ سکا ۔۔۔۔
بہکتا چلا گیا ۔۔۔۔
کیا آپ نے بھی وقت ضائع کرنے کا سوچ لیا ہے ” آیت مدھم لہجےمیں بولی ۔۔۔
جبکہ عارض کو کوئ کھینچ کر حقیقی زندگی میں لایا تھا ۔۔۔۔
اسنے آنکھیں کھول کر آیت کیطرف دیکھا ۔۔ جس کی لیپسٹک پھیل سی گئ تھی ۔۔۔ اسکے شدید لمس کی گواہ تھی ۔۔
تمھارا بولنا ضروری تھا ۔۔ “وہ بگڑے تیوروں میں بولا ۔
کیوں حقیقت میں آ گئے میرے بولنے سے یہ میرے چہرے میں کسی اور کا چہرہ تلاش کر رہے تھے”آیت نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
عارض نے اسکو خود سے دور جھٹک دیا ۔۔۔
آپکی بھیک میں دی گئ قربت نہیں چاہیے ۔۔ عارض مجھے”
اپنی بکواس کو منہ کے اندر رکھو ۔۔۔۔”وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولا ۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔آپکو برا لگ رہا ہے کہ آپکے حقوق کے بیچ میں حائل ہو گئ میں ۔۔۔۔ “وہ مسکرا کر اسکو چیڑا رہی تھی ۔۔۔
آیت میں کہہ رہا ہوں مجھے مزید کچھ نہیں سننا “وہ چلایا ۔۔۔
چلائیں مت عارض ۔۔۔ باہر آواز جائے گی ۔۔ میں نے اپنے نام سے بہت تکلیف برداشت کی ہے میں بھولی کچھ نہیں “
میں نے کہا منہ بند کرو سمھجہ کیا رہی ہو اپنے آپ کو ۔۔ بہت حور پری ہو جس کو دیکھ کر میں اپنی بات سے پھیر جاؤ گا ” اسکا منہ جکڑ کر ۔۔۔۔ وہ بولا ۔۔۔
تو نہ پھیریں نہ اپنی بات سے نہ ثابت کریں مجھ پر کہ آپ ۔۔ مجھ سے اپنی حوس ۔۔”
شیٹ آپ”وہ دھاڑا ۔۔۔۔
بیوی ہو تم میری”اسنے جتایا ۔۔۔
بیوی کے ساتھ یہ سلوک نہیں ہوتا عارض کے میں ۔۔ رخصتی سے پہلے ماں بننے والی “
اسکے منہ پر پڑنے والے تھپڑ نے اسکی زبان روک دی وہ نیچے بیٹھتی چلی گئ ۔۔۔۔
بار بار یہ تانا مارنا ضروری ہے مجھے ۔۔۔ تم میری بیوی ہو ۔۔ بھلے مجھے تم پسند نہیں ہو مگر جب اور جس وقت مجھے تمھاری ضرورت ہو گی میں پوری کروں گا اور یہ بات یاد رکھو مجھے تم روک نہیں سکتی “وہ آنکھیں نکالتا غرایا ۔۔۔۔
آیت سسکنے لگی ۔۔۔
منہ بند کرو اپنا اور چینج کرو “وہ اٹھ گیا اسکے پاس سے ۔۔۔
میں آپکی کسی بھی نیچ حرکت کا نشانہ نہیں بنو گی اب “وہ روتے میں بولی ۔۔۔۔
اچھا واقعی چلو تمھیں دیکھاتا ہوں ۔۔ میں کتنا نیچ ہوں ” اسکا بازو گھسیٹ کر اسنے اسے بیڈ پر پھینکا ۔۔۔ اور اپنا کرتا اتارنے لگا ۔۔
عارض ” آیت سہم سی گئ ۔۔
کیا ہوا۔۔ آیت ۔۔۔۔” وہ خباثت سے مسکرایا ۔۔
آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے ” وہ روتے میں اسے روکنے لگی ۔۔
چاہو تو روک لو ۔۔۔”اپنا کرتا صوفے پر پھینک کر وہ اسکے پاس ۔۔۔۔ ہی بیڈ پر بیٹھ گیا اور اسے کھینچ کر اپنے پاس کر لیا ۔۔اسکی سرخ آنکھوں سے لبریز آنکھوں میں آنسو ۔۔ تسکین کا باعث تھے ۔۔۔
اسکی ناک سے نتھ پھر بھی اسنے احتیاط سے اتاری ۔۔۔
سمھجہ وہ خود بھی نہیں پا رہا تھا کہ ۔۔ وہ چاہ کر بھی اسکے ساتھ بے رحم کیوں نہیں ہو رہا
کیوں اسکے وجود میں اتنی کشش تھی ۔۔
آیت کے سانسوں کو اپنی قیدی کر کے وہ ۔۔ جیسے مگن سا ہو گیا ۔۔ آیت پھڑپھڑا سی گی ۔۔۔
مگر عارض بلکل اسپر حاوی ہو گیا ۔۔ تکیے پر اسے دھکیل کر وہ اپنے کام میں شدت لے آیا تھا ۔۔
شششش”آیت کی مزاحمت پر آنکھیں نکالتا وہ بولا ۔۔۔۔
آیت کو وہ شب یاد آ گئ ۔۔ جو اسنے تکلیف میں گزاری تھی ۔۔ جس میں بھی اسنے اسکے لبوں پر انگلی رکھ کر اسے چپ رہنے کا کہا تھا ۔۔۔۔
اور پھر جیسے وہ بے بس ہو گئ ۔۔۔
نہ وہ کچھ کر سکی۔۔ اور نہ آیت روک پائ ۔۔۔
اور ایک بار پھر ۔۔۔ وہ اسکے حقوق نہ چاہتے ہوئے بھی پورے کرنے لگی ۔
جبکہ عارض ۔۔۔۔ دنیا جہان کی شدتیں اسپر لوٹا رہا تھا ۔۔۔
یہ جانے بنا کہ وہ اس سے سخت نفرت کرتا ہے ۔۔
اسکے انداز میں ۔۔۔۔۔ جنون نہیں تھا ۔۔۔۔
عجب مسروریت تھی ۔۔۔ جس سے آیت بھی جلد ہی سب بھول گئ ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔