Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

اگلی صبح ہی سالار چلا گیا تھا ۔۔۔ جبکہ ۔۔۔۔ گھر کے ماحول کے تناؤ میں کمی۔ آگئ تھی ۔۔ مگر نانی کی باتیں شروع ہو گئیں تھیں ۔۔
ہیں واقعی مدیھا یہ اپنا زین کوٹھے پر جاتا رہا ہے”وہ بولیں تو مدیھا شرمندہ سی ہو گئ ۔۔۔
امی جی ۔۔۔ اب ٹھیک ہو جائے گا سب “
اے لو بھلا کون دے گا ایسے چھوکرے کو ۔۔۔ لڑکی مطلب اتنا آوارہ ۔۔۔”انھوں نے کانوں کو ہاتھ لگایا مامی بھی بیچ بیچ میں لقمے دینے لگیں جبکہ مدیھا خاموش ہو گئ ۔۔۔۔
سمھجہ نہیں آیا کیا جواب دے ۔۔
اسلام علیکم ” نین کو آج دوسرا دن تھا ۔۔ مگر دولہن والی کوئ سچویشن نہیں تھی اس میں ۔۔۔۔
اسکے سلام۔پر سب نے جواب دیا ۔۔۔
میں تو یہ سوچ رہی ہوں ۔۔ مدیھا تیرےتو بیٹے سارے ہی ایسے نکلے
۔ بڑا پسند کی چھوکری لے آیا ۔۔۔۔
جن کا نہ گھر بار ہمارے معیار کا ۔۔۔۔
اور چھوٹا ۔۔۔ کوٹھے پر جاتا ہے ۔۔ جبکہ عارض کی تو مت ہی پوچھو ۔۔
بس سالار ہی کچھ درست لگتا ہے “
نین نے انکی گفتگو غور سے سنی تھی جو کہ اسکو دیکھ شروع ہو گئیں تھی تبھی وہاں پر آیت بھی ا گئ ۔۔۔۔۔
جس نے بھی یہ سب سنا تھا نانی اسے بہت غور سے دیکھ رہیں تھیں ۔۔ جبکہ وہ نگاہ چرا رہی تھی ۔۔۔
آپ کبیر کی نانی ہیں تو میری بھی نانی ہی ہیں ۔۔۔ بس آپکو یہ کہنا چاہو گی معیار پیسے سے نہیں ہوتا۔ ۔۔ جو جتنی حثیت رکھتا ہے ۔۔ وہ اتنا ہی کام کرتا ہے ۔۔ اور غلطیاں تو سب سے ہی ہوتی ہیں ۔۔ زین ابھی چھوٹے ہیں ۔۔انکی غلطی کو گناہ نہیں کہا جا سکتا نانی جان آپ بہتر سمجھتی ہیں “سنجیدگی سے جواب دیتی وہ سب کو حیران کر گی جبکہ آیت اور مدیھا یہاں تک کے تنزیلہ اور صوفیہ بھی اسکو حیران کن نظروں سے دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔
آنٹی میں آپکی کچھ مدد کروں “اسنے زیادہ نوٹس نہیں لیا اور مدیھا سے پوچھا ۔۔ جو سر نفی میں ہلا گئ ۔۔ نانی جان کی زبان تالو سے لگ گئ ۔۔۔
ابھی تو تمھارا ہاتھ میٹھے میں بھی نہیں ڈالا”مدیھا نے کہا
۔۔۔
تو میں میٹھا بنا لیتی ہوں “نین بولی تو مدیھا مسکرا دی ۔۔
اے بہو ۔۔ یہ رسم پورے اطوار سے ہوتی ہے۔اسطرح نہیں ہو گا ۔۔ یہ آیت چھوکری اور تجھ سے۔۔ ایک ساتھ ہی ۔۔ یہ رسم کرائ جائے گی ۔۔ تو صبر رکھ”وہ بولیں چہرے پر ناگواری تھی ۔۔
جی بہتر” نین نے کہا ۔۔۔ اور وہیں بیٹھ گئ ۔۔ جبکہ مامی کی کھسر پھسر ساس کے کان میں جاری تھی ۔۔
بہت تیز ہے امی جی ۔۔ لڑکی ۔۔۔ میں تو کہتی ہوں جلد ہی ایمن کی بات چلا لو ” وہ بولیں تو ۔۔۔ انھوں۔ نے سر ہال دیا ۔۔
مدیھا رکھی سے ضروری بات کرنی ہے فارغ ہو کر کمرے میں آ” وہ کہہ کر خالا اور مامی کا سہارا لے کر ۔۔۔
کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔
بھابھی سپرلگیں آپ تو “پریشے جو نانی سے چھپی ہوئ تھی۔۔۔
اچانک سامنے آئ ۔۔۔اور بولیں ۔۔۔۔ توایت بھی ہنس دی ۔۔
بری بات بیٹا ایسے نہیں بولتے بڑوں کے آگے ۔۔ مدیھا نے کہا ۔۔
سوری آنٹی ۔۔۔ آئندہ خیال رکھو گی”نین نے فورا کہا تو وہ مسکرا کرا سکے سر پر ہاتھ رکھ کر چلی گئ جبکہ پیچھے سے ۔۔ پریشے اور۔۔ آیت دونوں ہنس دیں ۔۔۔
کیوں ہنسا جا رہا ہے “اچانک کبیر کی آواز پر سب کی ہنسی کو بریک لگا۔۔۔۔
نین نے کبیر کیطرف دیکھا جو اسکی جانب دیکھ کر مسکرایا تھا مگر نین مسکرا نہیں سکی ۔۔۔وہ جگہ چھوڑ کرا ٹھی۔۔
بیٹھ جاو یہ میری جگہ نہیں ہے” کبیر نے کہا اور فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔۔۔
جبکہ اخبارمنہ کےا گے کر لیا ۔۔۔
بھابھی جان دیکھ رہی ہیں آپ اپنے شوہر کے کام شادی کے تیسرے دن آفس جارہے ہیں “پریشے کو کھلبلی ہوئ ۔۔
توکیا ہوااچھی بات ہے کام پر جائیں “نین سمھجی نہیں ۔۔
اف ہو ۔۔ ہنی مون پر نہیں جانا ” وہ آہستہ بولی نین کا چہرہ سرخ ہوا۔۔
جبکہ آیت نےا سے تھپڑ لگایا ۔۔۔
تمھیں شرم بھی نہیں آتی ایسی باتیں کرتی ہو۔۔
ہاں تو تم نے بھی تو جانا ہے “اسنے آیت کا شانا ہلایا۔۔۔ اندازشرارتی تھا۔۔۔
بہت بدتنیزہو “آیت نے غصے سے کہا ۔۔
ںاشتہ کرو باتیں کم کرو” کبیر کو انکے بولنے سے زرا الجھن ہوئ تبھی وہ بولا ۔۔۔
آیت اور پریشے نے منہ بنا لیا ۔۔۔ نین نے کبیر کا اخبار ہٹایا۔۔
اور اگر ہمارابات کا موڈ ہو تو “اسنے پوچھا ۔۔۔۔
کبیر مسکرا دیا جبکہ ۔۔۔ پریشے نے منہ میں انڈا رکھتے ہوئے ہنسی روکی اور آیت نے دودھ کا گلاس منہ سے لگا لیا۔۔۔ جبکہ عمل بھی ا گئ تھی ۔۔۔
تو ناشتہ نہ کر کے بات کر لینا باتوں سے روکا تو نہیں “کبیر نے جواب دیا ۔۔
عارض بھی جلدی سے ریڈی ہو کر نیچے ٹیبل پر ا گیا اور آیت کیطرف دیکھا جو اس سے نگاہ نہیں ملا رہی تھی ۔۔۔۔
آپ نے تو منہ کو اخبار لگا لیا اب ہم بولیں بھی نہیں یہ تو غلط بات ہے بلکہ آپ بھی اخبار رکھ کر ہماری باتوں میں شامل ہوں “تحمل سے بولتی وہ سب کا فیور کرتی کبیر کو اپنی طرف مائل کر گئ تھی ۔۔۔
جبکہ اسنے اخبارفولڈ کر کے رکھ دیا تھا ۔۔۔
مبارک ہو بھابھی” عارض نے ہاتھ اسکے آگے کیا ۔۔
نین نہ سمھجی سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔
عارض کوئ بکواس ہوئ تو پیٹو گے”کبیر جانتا تھا وہ کوئ چٹکلا ہی چھوڑے گا ۔۔
ارے اب کیا ۔۔ ڈر بڑے بھیا ۔۔۔ بھابھی کے ایک حکم۔پرا پ نےا خبار سئایڈ پر رکھ دیا وہ اخبار جو کہ آپ بابا کے ڈانٹنے پر بھی نہ چھوڑیں تبدیلی تو ا گئ ہے ۔۔ مگر آپکی جرت کو سلام “اسنے کہا ۔۔ تونین ۔ ناشتہ کرنے لگی ۔۔ وہ ان سب کی بونڈینگ سے کافی ایمپریس ہوئ تھی ۔۔۔۔
سب کے چہروں پر مسکان تھی ۔۔۔۔
تمھیں جو فائل دی تھی وہ ریڈی کی”کبیر نے عارض سے پوچھا ۔۔
جی کر لی “وہ دونوں آفس کی بات کرنے لگے جبکہ سب لڑکیاں کانوں میں لگی ہوئیں تھیں یہ پہلی بار تھا کہ وہ ناشتہ کرتے ہوئے بول رہا تھا ۔۔ اور اخبار نہیں پڑھ رہا تھا ۔۔ یہاں اسکے بیٹھے ہوئے سب لوگ اتنا ایزیلی ناشتے کے دوران بات چیت کر رہے تھے ۔۔
۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار وہاں پہنچا ۔۔۔ زین کو دیکھا ۔۔۔ اور اسکو۔ پہلے تو اسنے گلے سے لگالیا ۔۔۔۔
زین بھی اسکے گلے لگ گیا ۔۔ فیملی میں رہنے والا وہ لڑکا تنہائ کو بہت زیادہ ہی محسوس کر رہا تھا اور سالار کا منتظر بھی تھا
۔۔ اسکو دیکھ کر وہ رو دیا۔۔۔
سالار نے اسکو چپ کرایا ۔۔۔ اور اسکے بعد کھینچ کر مکہ اسکے منہ پر مارا ۔۔
آہ بھیا “زین بیڈ پر جا کر گیرہ اور چلایا ۔۔
سالے مجھے بتانے کی توفیق نہیں ہوئی تجھے” سالار نے اسکی کمر پر کئ مکے رکھے۔۔۔
زین پیٹتا رہا اور پھر اسکا سانس پھول گیا تواسکے ساتھ ہی لیٹ گیا ۔۔۔۔
سوری بھیا ” زین نے سالارکو دیکھا۔۔
چل اب کیا لڑکیوں کیطرح روئے جا رہا ہے “اسنے بگڑے تیوروں میں کہا ۔۔۔
زین مسکرادیا۔۔
بیٹےباپ کو سنبھالنا ہے اب ۔۔۔ اور تمھیں پتہ ہے مسٹر مرتضی شکاری بنے تمھاری بوٹیاں نوچنے کو تیار ہیں” وہ اٹھا۔۔
زین بھی اٹھ گیا ۔۔۔
مجھے پتہ ہے آپ بچا لیں گے” زین نے منہ بنا کر کمر سہلائ
ہیرو اپنی زندگی میں اپنے لیے سٹینڈ لینا چاہیے ۔۔۔
دوسروں کے کندھوں کا سہارا نہیں لینا چاہیے “
وہ بولا تو زین بھی اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
مگر خاموش تھا۔۔۔۔
تمھاری یونیورسٹی کے پیپرز ہونے والے ہیں آگے کیا سوچا ہے “سالار نے پوچھا۔۔۔
سوچا تھا پولیس جوائن کروں گا ۔۔” زین بولا ۔۔۔۔
سالار نے سر ہلایا ۔۔
میں پہلے کم۔زلیل ہوتا ہوں مرتضی سے جوتم نے بھی اپنی ٹانگیں توڑوناے کا سوچا ہے ” سالار بولا ۔۔ جبکہ زین ہنسا ۔۔
یار بابا کیوں نہیں کہا جاتا آپ سے “
کہتا تو ہوں انکے سامنے” سالار بولا ۔۔ تو زین کھل کر ہنسا۔ سالار بھی ہنس دیا ۔۔۔۔
مگر میں نے طے کر لیا ہے بھیا ” زین باضد ہو ا ۔
گڈ ۔۔ ڈٹے رہنا باقی میں دیکھ لوں گا “وہ بولا ۔۔۔ تو زین مسکرا کر اٹھا ۔۔
اور خود بھی اٹھ گیا ۔۔۔
اب مجھے بتاؤ احتشام کہاں ہے کون ہے۔ ” سالار نے جاننا چاہا ۔۔
میں نہیں جانتا وہ بس ہمارے گروپ میں شامل ہو گیا تھا ۔۔ اور ہماری دوستی ہو گئ “
تمھاری یہ سب کی” سالار نے سوال کیا ۔۔
میری” زین بولا ۔۔۔
ہممم چلو اٹھاو سامان سامان تو ایسے لائے تھے جیسے واپس نہیں آنا گدھے ” اسنے گھور کر کہا اور خود گاگلز لگاتا باہر نکل گیا ۔۔
بارش تیز ہو رہی تھی اسپر کئ لوگوں کی نظریں اٹھیں ۔۔۔
اور وہ گاڑی میں سوار ہو گیا ۔۔۔
چند گھنٹوں میں وہ اسلامہ آباد کا سفر طے کر کے ۔۔۔ واپس اپنے شہر ا گئے تھے
۔۔گھر نہیں جانا ” زین بولا ۔۔
پہلے احتشام کو دیکھنا ہے مجھے” وہ بولا ۔۔۔اور زین ایک بار اسکے گھر کیطرف ۔۔۔ گیا تھا اسے وہ ہی راستہ یاد تھا ۔۔۔
تبھی اسنے اسے وہ راستہ بتایا مگر وہاں جا کر علم ہوا کہ ۔۔۔ وہ تو یہاں کرایہ دار تھا ۔۔
کوٹھے کے بارے میں جانتے ہو “سالار کے سوال پر زین نے حیرانگی سے دیکھا ۔۔۔
جواب دو ” سالار سنجیدہ تھا اور زین اسے اڈریس بتانے لگا ۔۔
اس علاقے میں ا کر ۔۔۔وہ گاڑی سے باہر نکلے تو کون تھا جو انھیں نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔
زین اسے ۔۔ ایک بنگلے میں لے آیا ۔۔۔
جہاں بازار گرم تھا
وہ سب کو اگنور کرتا ۔۔۔ آگے چل رہا تھا جبکہ زین بھی اسکے پیچھے تھا ۔۔ دونوں اتنے ہینڈسم لگ رہے تھے کہ وہاں کھڑی لڑکیاں انکے قریب آنے کے لییے مچلنے لگی ۔۔
سالار ایک بڑے سے حال میں پہنچ گیا ۔۔
یہاں جوتی لانا منع ہے “ایک آدمی سامنے آیا ۔۔ جس نے اپنا حلیہ ۔۔۔عورتوں ولاا کیا ہو اتھا اٹھلا کر بولا ۔۔۔
احتشام رہتا ہے یہاں ” سالار نے سنجیدگی سے سوال کیا ۔۔
ہاں یہیں رہتا ہے “وہ آدمی بولا
۔ لڑکیوں کی چہل پھل بھڑنے لگی اور سنیتہ بائ اپنے بھاری وجود کے ساتھ اس حال میں ا گئ جہاں ۔۔۔ روز ناچنا گانا ہوتا تھا ۔۔۔۔
بلاؤ اسے”سالار نے کہا
۔۔
یہاں لوگ عورتوں کو بلاتے ہیں باؤ تم عجیب ہو مرد کو بلا رہے ہو “سنیتہ بائ اپنے تخت پر بیٹھتی پان منہ میں ڈالتیں بولیں ۔۔۔۔
سالار نے ایک نظر زین کو دیکھا ۔۔
جو چپ چاپ کھڑا تھا مگر چہرے پر کوئ ڈر خوف نہیں تھا ۔۔
سالار مسکرا دیا ۔۔۔
ایکچلی یہاں کی عورتوں میں بات نہیں ۔۔۔ کوئ ” اسنے مسکرا کر شانے آچکا ے ۔۔
بھیا یہ فری ہونے کا کیا مقصد ہے”زین نے اسکے کان میں گھس کر سوال کیا ۔۔
میری جان ۔۔۔ تھوڑا مزاہ مجھے بھی کرنے دے ۔۔اور خبردار جو ۔۔ کسی کے آگے بکواس کی “وہ آنکھیں نکالتا بولا ۔۔۔
زین نفی میں سر ہالا کر دور ہو گیا ۔۔
ارے ۔۔۔ تو تو بتا نہ باؤ تجھے کیسی عورت چاہیے ایک سے بڑھ کر ایک ہے” ۔اف ” سالار نے گھیری سانس کھینچی ۔۔۔
وہ کافی چیپ تھی دل اچاٹ سا ہو گیا اسکا ۔۔
اوراتنی دیر میں احتشام ا گیا ۔۔۔
سالار نے احتشام کو دیکھا جو کہ زین کو دیکھ کر ایکدم وہاں بھگانے لگا تھا مگر سالار نے اسے آگے بڑھ کر جکڑلیا ۔۔۔
احتشام مدد کو چلانے لگا۔۔۔۔
سب ایکدم وہاں جمع ہونے لگے ۔۔ جبکہ سالار نے اسے گریبان سے پکڑ کر بیچ میں پھینکا ۔۔
احتشام اٹھا ۔۔۔ اور دوبارہ بھاگنے لگا جبکہ دوسری طرف سے زین نے اسکو جکڑ لیا ۔۔۔
اگر تم نے اسکو زندہ چھوڑ دیا تو تم نہیں بچو گے مجھ سے “سالار نے زین کو دیکھا جو کہ احتشام کو دیکھ کراگ بغولہ ہو گیا تھا اسنے اپنے کیے کی سزا بھگت لی تھی اب اسے کسی چیز کا خوف نہیں تھا جبکہ ۔۔احتشام کو دیکھ کر حرم یاد ا گئ ۔۔کیسے بےبسی سے اس نے اسکو اپنی درندگی کا نشانہ بنایا تھا اور زین بنا سوچے سمجھے ۔۔ احتشام کو بری طرح پیٹنے لگا ۔۔اسکے اندر کا غصہ واضح پتہ چل رہا تھا ۔۔ جبکہ سالار نے احتشام کا موبائل اٹھایا ۔۔۔
اور اسکو زمین پر پھینک کر مارا ۔۔ یعنی سارے ثبوت مٹا دیے
احتشام چلایا ۔۔ وہاں کھڑےلوگوں میں کسی میں جرت نہیں ہوئ کہ وہ ان دونوں کو روک سکیں ۔۔۔
زین نے اسے بری طرح مارا تھا ۔۔۔ سالار آگے بڑھا اور اسکے بال جکڑے ۔۔
تو تم نے اس لڑکی کا ریپ کیا تھا “وہ آنکھیں نکالتا بولا ۔۔۔
ن۔۔۔نہیں تمھارے بھائ نے کیا تھا اور میں پولیس کو سب ۔۔”سالار کا مکہ اسکے منہ پر پڑا جبکہ دوسری طرف سے زین کا ۔۔۔۔
سچ بول “زین چلایا ۔۔۔۔
احتشام کچھ نہیں بولا ۔۔۔
سالار نے جیب سے سیل فون نکالا اور پولیس کو کال کی ۔۔۔
آج تمھارا یہ دہندہ بند ہو کر رہے گا ۔۔۔ “اسنے کہا ۔۔
جبکہ سنیتہ بائ ایکدم اسکے پاس آئ ۔۔
اوئےکم بخت بھونک بھی کے تو نے ہی کیا تھا کیوں میرے دہندے کو آگ لگاتا ہے ” وہ احتشام کو مارتی بولیں ۔۔ جس نے چیختے ہوئے ہامی بھر لی کہ ۔۔۔حرم کے ساتھ زیادتی اسی نے کی سالار نے اسکی بات ریکارڈ کر لی اور زین نے ایکدم پھر سے غصے سے ۔۔۔۔ اسکو پیٹنا شروع کر دیا
۔
غلطی میری ہے تجھے میں نے دوست سمجھا ۔۔ تیری باتوں پر عمل کرتا رہا “وہ چلایا ۔۔۔
جبکہ سالار نے اسے وہاں سے اٹھایا اور زین نے اسے آخری ٹھوکر ماری ۔۔ دونوں وہاں سے نکلتے چلے گئے جبکہ پیچھے احتشام کا قیمہ بن گیا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں گھر لوٹے تو ۔۔۔۔ سالار کے پی آئے کی کال ا گئ ۔۔۔
اسنے وہ کال پیک کی ۔۔
سر میڈیم کی طبعیت نہیں ٹھیک لگ رہی ” وہ بولا ۔۔۔
تو دوائ دو ” اسنے بس اتنا ہی کہا ۔۔
سر وہ دروازہ نہیں کھولتی “پی آئے بے بسی سے بولا ۔۔۔
سالار نے زین کو اندر جانے کا اشارہ کیا جس نےنفی کی۔ ۔۔
بابا اور بڑے بھیا گھور گھور کر مار دیں گے”وہ بولا تو سالار کو فون بندکرنا پڑا اور اسکے ساتھ اندر آیا ۔۔
ان دونوں کے اندر داخل ہوتے ہی مدیھا تو ایسے زین سے ملی جیسے وہ حج کر کے آیا ہو ۔۔ اور رونے لگی ۔۔۔
جبکہ سب زین سے ملے اور مرتضی جانے لگے کہ زین نے جلدی سے انکا ہاتھ تھام لیا ۔۔
پلیز بابا مجھے معاف کر دیں میں اگلی بار آپکو شکایت کا موقع نہیں دوں گا ” وہ بولا تو مرتضی کچھ تردد کے بعد مان گئے اور ایک بار پھر گھر میں خوشی کی فضا سی گونج اٹھی سالار پی آئے کے فون کو بھول کر کھانے میں مشغول ہو گیا ۔۔۔
جبکہ ۔۔۔ سب کے بیچ بیٹھے عارض کا فون رنگ ہوا۔۔ ایک نئے طوفان کے ساتھ
جینی کی کال دیکھ کر وہ ۔۔۔ ایکدم ان سب کے بیچ سے اٹھ گیا ۔۔۔۔
آیت نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔ اور دل جیسے افسردہ ہو گیا ۔۔۔لگتا ہی نہیں تھا وہ شخص کبھی اسکا ہو گا بھی
نین نے بھی یہ نوٹس لیا ۔۔۔
اور آیت کی اداسی کی وجہ جاننے کے لیے وہ بے تاب سی ہو گئ ۔۔
آیت تھی ہی اتنی انوسینٹ کے سب اسکیطرف متوجہ ہوتے ۔۔۔
زین کی نگاہ عمل سے ملی تھی ۔۔
جس نے اسے مکمل اگنور کیا تھا ۔۔