Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 51

سالار کی آنکھوں میں اسکی اداؤں سے ۔۔خمار اترنے لگا ۔۔اسکا نشہ سا بھر رہا تھا سالار کے وجود میں اسکے ہاتھوں کی حدت سے ۔۔زیمل نے حلق میں سانس اتارا ۔۔۔۔
جبکہ سالار نے اسکی بند آنکھوں کو چاہت سے دیکھا تھا
۔۔
میں معاف نہیں کروں گا ۔۔۔۔ ” اسنے اسکی پشت پر لکھا سوری چھوا ۔۔۔۔
زیمل نے مٹھیاں۔ سختی سے بھینچ لیں ۔۔۔
پلیز ۔۔۔۔۔ میں دوبارہ کبھی آپکا ہاتھ نہیں چھوڑوں گی” وہ ۔۔۔ اپنی بات کا یقین دلانے لگی اسے کیا خبر تھی وہ کس طرح ۔۔سے ۔۔ اسکی بے پناہ جھلسا دینے والی قربت کو سہہ رہی تھی ۔۔۔
اور آج اسکو اسکاحق دے دینا چاہتی تھی ۔۔۔۔
سوچ لو بار بار دل پر وار کرنے والے نظروں سے گیر جاتے ہیں”
اسکی سانسیں زیمل کے چارواطراف میں تھیں ۔۔۔
نہیں گیرنا ” وہ رو دینے کو تھی ۔۔۔۔
اسنے کانپتے ہاتھوں سے سالار کا چہرہ پکڑا ۔۔۔
سالار اسی کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔
دونوں کے دلوں کی دھڑکنوں میں آج ایک بھسم کر دینے والا طوفان تھا ایساطوفان جو کسی طور نہیں روکتا
بس اپنے ساتھ بھا کر لے جانے کے لیے سر کشی پر اتر آیا ہو ۔۔ دنوں کے جزبوں میں ایسا بھنچال تھا ۔۔۔
سالار نے اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑا اور ۔۔اسکے چہرے پر جھک گیا ۔۔۔۔
جیسے برسوں کی تشنگی مٹا دینا چاہتا ہو ۔۔۔۔
جیسے اپنےا ندر چھپی ہر بات ہر درد کو نکال لینا چاہتا ہو ۔۔۔
زیمل ہلکان سی ہوئ اسکی اس قدر جزباتیات کو سہتے سہتے اسکی سانس بھی بھال نہیں ہو پا رہی تھی ۔۔ سالار نے اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیے جو احتجاج کے لیے بے تاب تھے وہ بے بس سی اپنے آپ کو اسکے رحم و کرم پر چھوڑ گئ وہ اپنی مرضی سے اس سے دور ہوا ۔۔۔۔
سالار نے ایک بار پھر سے اسکو نرمی سے چھوا ۔۔ زیمل ٹماٹر کیطرح سرخ ہو رہی تھی اسکی آنکھوں میں وہی شرارت اترنے لگی ۔۔اسنے پھر سے چھوا ۔۔اور بار بار چھوتا رہا یہاں تک کے اس پاگل پن پر زیمل نے آنکھیں کھول کر دیکھا اسکو مسکراتا دیکھ ایسا لگا سب مل گیا ہو ۔۔۔۔
نارض تو نہیں ۔۔” اسنے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا مگر سالار ۔۔ نے اسکے ہاتھ آزاد نہیں کیے ۔۔
کل صبح بتاؤ گا ” وہ بولا ۔۔ خمار تھا اسکی آنکھوں میں ۔۔۔۔۔
اب
۔ابھی کیوں نہیں ” اسکی بے باک جسارت پر اسکی سانسیں بھاری ہو گئیں ۔۔۔۔
تم میں بولنے کی پھر میرے سوالوں کے جواب دینے کی ہمت نہیں رہے گی ” وہ پھر سے بے باکی پر اترا اور ۔۔ حقیقتاً زیمل کی سیٹی غم ہو گئ ۔۔۔۔۔
س۔۔۔سالار” وہ گھبرا کرا سکو پکار گئ ۔۔۔۔
بھادر بنی ہو تو برداشت کرو ” وہ کہتا ۔۔۔ اسکی گردن سے چھلکتے سوری پر انگلی کا لمس چھوڑنے لگا ۔۔۔
نظر بھک کر اسکے تل پر جا ٹھری ۔۔
اکثر وہ ۔۔ یہاں ۔۔ خود کو ہارتا محسوس کرتا تھا آج اسنے اس شریر تل کو بھی سبق سکھانے کا سوچا ۔۔۔
اور تا دیر اسے مشکل میں ڈالتا گیا ۔۔۔
زیمل نے اس سے بلآخر ہاتھ چھڑا ہی لیے ۔۔اور اسکو زرا سا دور کیا
سالار نے گھور کر دیکھا
سوری می۔۔میں کچھ بات کرنا ۔۔ چاہ رہی تھی ۔”
کہا نہ کل صبح کرنا ۔۔۔۔ ابھی ۔۔ اس کی کلاس لینی ہے
مجھے ” وہ پھر سے جھکا ۔۔۔ زیمل حیران ہوئ ۔۔۔وہ اسکے تل کے پیچھے کیوں پڑا تھا ۔۔۔
کیوں لینی ہے کلاس اتنا معصوم سا ہے بلکل میری طرح۔۔
بلآخر اسنے حمایت کر ہی لی ۔۔
بات سنو میری” وہ پیچھے ہوا اور کھینچ کر اسے سیدھا کیا
زیمل بکھری بکھری سی ۔۔۔ بیٹھ گئ وہ بلکل سامنے تھا جبکہ اسکا ۔۔تل بے چارگی کی ا نتہا پر تھا
تم آج کے بعد کسی کی حمایت نہیں کرو گی ۔۔۔۔ مطلب کسی کی بھی کسی چیز کی نہیں ۔۔ کسی انسان کی نہیں حتیٰ کے اس تل کی بھی نہیں ” سالار نے اسکے تل پر چٹکی کاٹی ۔۔” زیمل نے منہ بسورا
یہ کیا بات ہوئ بھلا “
سالار کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔
اچھا سوری ٹھیک ہے ” زیمل نے جلدی سے کہا اور اسکے ہاتھ پکڑ لیے ۔۔۔۔
مجھ سے کوئ سوال نہیں کرو گی ۔۔۔۔” سالار نے اسکی آنکھوں میں دیکھا زیمل کے اندر تو ہزاروں سوال تھے ۔۔
ایک ۔۔بس ایک ۔” وہ ہاتھ سے چھوٹا سا کر کے کہتی سالار کو بہت کیوٹ لگی ۔۔۔۔۔
نہیں” وہ اپنی ہنسی روکتا ۔۔سختی سے بولا
۔وہ سر جھکا گئ ۔۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے بس ایک وہ بھی صبح” اسنے احسان کیا
۔
ام
۔ایک دو ۔۔ تین ۔۔۔نہیں چار ۔۔بس چار اسکے بعد کوئ نہیں پکا پروامیس ۔۔۔ بس چار پلیززززز” وہ شاید سالار کو نوٹس نہیں کر رہی تھی کہ اسکی ان حرکات سے ۔۔وہ کس طرح دیوانگی آنکھوں میں سجائے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اوکے چار ۔۔۔ نو مور ” اسنے پھر سے احسان کیا وہ بچوں کیطرح خوش ہو گئ ۔۔۔۔
اور کچھ ” زیمل نے اسکیطرف دیکھا
۔
واقعی جو میں کھوں گا کرتی جاؤ گی” سالار نے ۔۔ اسکو اپنے نزدیک کیا ۔۔۔۔
پ۔۔۔پیار آپ کریں گے ” وہ پھولتی سانسوں میں اسکے بلکل قریب آہستگی سے بولی ۔۔
کیوں تمھیں کرنے پر ٹیکس آتا ہے ” وہ گھورنے لگا ۔۔۔
نہیں ۔۔وہ تو آپ پر ہی اچھا لگتا ہے “
او ناینٹینز کی ہیروئن ۔۔۔ایساکچھ نہیں چلے گا ۔۔۔ تم صرف مجھ سے پیار کرو۔ گی ۔۔۔ باقی سب کو میں کر لوں گی ٹینشن مت لو ” وہ بولا بالوں میں ہاتھ چلایا ۔۔
مطلب کون سب ” زیمل نے اسکیطرف دیکھا
ہمارے بچے یار ۔۔ان سب کو میں پیار کروں گا اور تم مجھے تم نہ ادھر دیکھ سکتی نہ ادھر بس سامنے دیکھو صرف سالار نظرائے گا تمھیں” وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتا بولا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے” وہ مسکرا دی ۔۔۔۔
مگر مجھے بچے پسند ہیں سالار” وہ اداسی سے بولی ۔۔
مجھے بھی بہت پسند ہیں زیمل ” وہ آنکھ مارتا ۔۔شرارتی لہجے میں بولا ۔۔
میرا مطلب وہ نہیں تھا” وہ سرخ ہوئ
آئ ہیو آ ڈرٹی مائینڈ میں سسری ایسی باتیں سمھجہ جاتا ہوں ۔۔۔ تمھیں نہیں پتہ چالاکی اینڈ ہے ۔۔ سالار مرتضی پر” وہ فخر سے بولا تھا اپنا پورا نام زیمل نے ۔۔۔ اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
سالار بھی ایک پل کے لیے ۔۔ رک گیا ۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتی تھی وہ اداس ہوا جیسے برسوں بعد اسے ایسے دیکھا تھا ۔۔وہ اسے خوش دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔
زیمل ایکدم اسکے پاس سے اٹھی ۔۔۔
اسکا زہن دوبارہ اپنی جانب کرنے کے لیے ” سالار نے جیسے چونک کر دیکھا
اور زیمل اپنے پلین میں کامیاب ہو گئ ۔۔۔۔ وہ گھورنے لگا تھا اسے
واپس آؤ ادھر” اسنے حکم دیا ۔۔
زیمل نے سر نفی میں ہلایا ۔۔۔۔
ہم باتیں کرتے ہیں نہ ساری رات ” وہ مشورہ دینے لگی ۔۔
ہاں گدھا ہوں میں تو ” وہ بگڑا ۔۔۔۔
کیوں گدھے باتیں کرتے ہیں ” وہ کھلکھلائ ۔۔
بس زیادہ زہین مت بنو ۔۔۔۔ تم مجھے بیوقوف ہی پسند ہو ۔۔۔ تمھاری ہر غلطی کی معافی ہے ۔۔۔۔ سوائے اسکے کہ تمھاری نظروں میں میرے علاؤہ کوئ اور ا بسے ۔۔” وہ اسے جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ کر بولا ۔۔۔
کبھی نہیں ” زیمل نے اسکی کچھ کچھ اداس آنکھوں پر ۔۔۔ بڑھ کر پیار کیا جیسے وہ کوشش کر رہا ہو کچھ دیر پہلے کی کیفیت سے نکلنے کے لیے ۔۔۔۔
آپ نے مجھے معاف کر دیا نہ ” وہ آہستگی سے بولی بس اتنے میں ہی سانسیں منتشر دھڑکنیں بے ہنگم سی ہو گئی۔ ۔۔
سالار نے اسے خود میں جکڑ لیا ۔۔
سٹیمپ لگا دوں ” وہ اسکے کان پر جھکتا بولا ۔۔۔
ن
نہیں ” وہ اپنی مسکراہٹ دبانے کو دانتوں تلے لب دبا گئ ۔۔
کیونکہ کچھ دیر پہلے بھی وہ ۔۔۔ سارے بدلے لینے پر اتر آیا تھا ۔۔
مگر سالار کو کوئ روک سکتا تھا ۔۔وہ جھکا ۔۔
زیمل کو
۔اٹھا لیا ۔ جبکہ چہرے پر جھکا ہو اتھا ۔۔ لمس بکھیر دیا تھا ۔۔
آج کوئ روک ٹوک نہیں تھی زیمل خود سپردگی دیتی اسکی بانہوں میں سما گئ تھی ۔۔
اسنے اسے بیڈ پر دھکیلا اور ۔۔۔۔ اسپر پھر سے جھک آیا ۔۔زیمل نے ۔۔اسکی گردن میں بازؤں حائل کیا ۔۔۔۔
آج وہ اسپر سال بھر کا غبار نکال رہا تھا ۔۔
بنا کسی پابندی کے ۔۔
زیمل سرخ سی اسکی محبت کی بارش میں بھیگ رہی تھی ۔۔۔
جبکہ سالار کی دیوانگی اسے ہلکان الگ کر رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح بہت دیر سے ہوئ ۔۔ کوئ اسے صبح کہہ ہی نہیں سکتا کیوں کہ رات ہی دن نکلنے کے بعد ہوئ تھی تو دن رات کے قریب ہوا ۔۔۔
زیمل کی آنکھ آج پہلے کھلی تھی اسکی آنکھیں بھاری ہو رہیں تھیں جبکہ خود کو سالار کے بے حد نزدیک دیکھ کر ۔۔جیسے وہ شرم سے دھوری ہونے لگی ۔۔
جبکہ وہ آرام سے سو رہا تھا ۔۔۔۔
پرسکون سا۔۔۔۔
اسکا سیل فون وائیبریٹ ہوا تو زیمل نے اٹھ کر کمبل سے منہ نکال کر تھوڑا سا دیکھا فون بج رہا تھا ۔۔۔
سیل فون پر فیروز لکھا تھا ۔۔اسنے اٹھانا چاہا ۔۔
چھوڑو اسے سو جاؤ ۔۔” اسنے اسکے دونوں ہاتھوں کو ۔۔۔ اپنے ارد گرد کیا اور اسکا سر نزدیک کر لیا ۔۔
نہیں ا رہی اب نیند ” زیمل منمنائ
اچھا ” اسنے ایک آنکھ کھول کر اسکو دیکھا ۔۔۔ جبکہ زیمل نے اسکی انکھوں پر ہاتھ رکھ لیا
آپ نے مجھے نہیں دیکھنا اب بہت بے ہودہ قسم کے انسان ہیں ” وہ شرما کر بولی ۔۔۔
مجھے یہ سب پتہ ہے ۔۔کچھ اور کہو ” سالار نے آنکھیں بند کیے ہی کہا ۔۔۔
مجھے بھوک لگی ہے ” وہ بولی اور بلنکیٹ میں سے منہ نکالا ۔۔۔۔
باہر بہت سردی ہے ” سالار نے پھر اسکا چہرہ اندر کر لیا ۔۔
نہیں مجھے نہیں سونا ” زیمل نے اسکے ہاتھ پر تھپڑ مارا اور پھر سے سر باہر نکال لیا سالار نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔۔
پھر کیا کرنا ہے” معنی خیزی سے اسکیطرف دیکھا۔۔
ک
۔۔کھانا کھانا ہے” وہ بولی ۔۔ انداز میں شرم و حیا چھپی ہوئ تھی ۔۔
آہ ۔۔ اچھا چلو پھر ۔۔۔ فریش ہو ۔۔۔ ہوٹل چلیں گے” وہ بولا ۔۔۔
زیمل نے جلدی سے سر ہلایا ۔۔اور اسکی آنکھوں پر سارا کمبل ڈال کر ۔۔ وہ جلدی سے اٹھ کر واشروم میں بھاگ گئ ۔۔
سالار کا قہقہ نکلا ۔۔۔
وہ فریش ہو کر آئ تو ۔۔۔ سالار کو بھی فریش دیکھا ۔۔وہ بیٹھا ۔۔اپنے شوز پہن رہا تھا ۔۔۔۔
زیمل کے بال گیلے تھے جبکہ ۔۔۔ وہ پتے کیطرح کانپ رہی تھی اسنے اپنے بازو کھولے ۔۔۔اور زیمل ان بازؤں میں سما گئ ۔۔
کہا تھا نہ سردی بہت ہے ۔۔ مگر تمھیں کہاں سمھجہ آتی ہے ” وہ اسکے گیلے بالوں میں ہاتھ چلاتا بولا ۔۔۔
اب اب باہر نہیں جائیں گے کیا ” وہ اداس ہو گئ ۔۔۔ جبکہ سردی سے ۔ کانپ الگ رہی تھی
جائیں گے” وہ مسکرا دیا ۔۔۔
اور روم میں ہیٹر تیز کر دیا ۔۔۔
زیمل کچھ نارمل ہوئ ۔۔۔ سالار نے اسکے بال ڈرائیر سے خود سکھائے ۔۔ وہ اپنی ہنسی روکتی اسے دیکھتی رہی ۔۔
واٹ” اسنے گھورا
نہیں کچھ بھی نہیں اچھے لگ رہے ہیں” اسنے اسکی تعریف کی ۔۔جو جینز کی جیکٹ اور شرٹ پینٹ اور جوگرز میں گھنے بالوں کو یوں ہی ماتھے پر چھوڑے ۔۔۔ ہوئے تھا ۔۔
جبکہ رنگت اور نقوش ۔۔۔ بے حد وجہی تھے۔۔
اوکے گریٹ کرو پھر” اسنے اسکے آگے گال کر دیا ۔۔
مط۔۔مطلب” زیمل کچھ سمھجہ نہ سکی
جب کوئ اچھا لگے تو اسے گریٹ کرنا چاہیے “
سالار نے بتایا اور انگلی سے ۔۔ اشارہ کیا ۔۔
زیمل جھجھکتی اس سے پہلےا سکے گال کو چھوتی سالار نے اپنا فیس سیدھا کر لیا ۔۔۔
اور اسکے اب سوکھے بالوں میں ہاتھ چلاتا وہ اپنے دل کی مراد پوری کررہا تھا ۔۔
من تھا کہ بھرنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔۔
زیمل کو کچھ دیر بعد خود سے الگ کیا تو ۔۔۔ وہ شرمیلی سی مسکان لیے ہوئی تھی ۔۔
سالار مسکرایا ۔۔
اسکے سر پر کیپ رکھی ۔۔۔ جو وائٹ اور ریڈ تھی
۔زیمل کو وہ کیپ بہت پسند آئ ۔۔۔
اسپر سوٹ بھی بہت کر رہی تھی سالار نے اسکی پیشانی پر پیار کیا ۔۔اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھ کر ۔۔ اسکو ۔۔ کوٹ پہنایا ۔۔ جو لونگ تھا پاؤں تک ۔۔۔ اور اسکے گلے میں مفلر ڈالا پاؤں میں سوکس خود پہنائے ۔۔زیمل بے حد خوش تھی ایسے جیسے آسمانوں پر ہو وہ مسکراتی رہی ۔۔۔۔ سالار نے اسکے گال کھینچے ۔۔۔۔
اور اسکو باہر چلنے کا کہا ۔۔۔
زیمل ہاتھ رگڑتی باہر نکلی ۔۔
یہ لو کیچ کرو ” سالار نے اسکی جانب گلوز اچھالے ۔۔۔۔
جو بھی ریڈ اور وائٹ تھے ۔۔۔
زیمل نے وہ پہنے اور سالار کو خود پہنائے دونوں گھر سے باہر ا گئے
تیز ہوا چل رہی تھی فیروز وہیں موجود تھا
یہ سب اب اتنی سردی میں یہاں ہیں” زیمل حیران ہوئ
اور کہاں ہونا ہے انھوں نے” وہ اسکی کیپ کو اسکے کانوں پر کرتا اسکی گردن میں بازو ڈالتا اپنے نزدیک کرتا بولا ۔۔
زیمل اسکے ساتھ چلتی رہی ۔۔۔
دونوں کے ہاتھ ا
ہاتھوں میں تھے دونوں گاڑی تک پہنچے ۔۔ توزیمل نے سکون کا سانس لیا ۔۔۔
آف” وہ جلدی سے سالار کے قریب ہو گئ
کافی فائدے مند ہیں سردیاں ” وہ ہنسا اور اسکے گالوں کو چھوا ۔۔ زیمل بھی اسکی بات پر مسکرا دی
رنگ برنگی لائٹس سے اور رات کے اس جگمگاتے راستے ۔۔ لوگوں کی چہل پہل کے بیچ سے انکی گاڑی گزری ۔۔
اور وہ جلد ہوٹل پہنچ گئے اندر داخل ہوئے تو سالار کو کئ لوگوں نے دیکھا
مگر اس تک کوئ پہنچ نہیں سکا کیوں کہ سکیورٹی ساتھ تھی
زیمل اسکی پروٹوکول دیکھ کر ۔۔ بے حد ایکسائٹیڈ ہو رہی تھی ۔۔
ادھر ادھر لوگوں کو دیکھنے لگی
اے لڑکی ادھر میری طرف دیکھو بس ” وہ بولا اور منیو دیکھنے لگا ۔۔۔
اوکے” زیمل دونوں ہاتھوں پر چہرہ ٹکائے اسے دیکھنے لگی ۔۔ سالار اسکی حرکات انجوائے کرنے لگا ۔۔۔۔
اور اسنے کھانا آرڈر کیا ۔
فیروز تبھی آگے آیا ۔
سر آج پورا دن آپ پریکٹیس کے لیے نہیں آئ ڈائیرکٹر خفا ہو رہا تھا
ہاں یار میں نے کہا تھا میں جلدی آؤں گا اچھا یہاں سے فری ہو کر جاؤ گا ” وہ بولا ۔۔
سر آپکو یاد ہے کل کنسرٹ ہے” فیروز نے یاد دلایا ۔۔
سالار نے سر پکڑ لیا ۔
وہ تو بھول گیا تھا زیمل ۔۔۔۔ دونوں کو دیکھ رہی تھی
ایسا کرو ڈنر کر کے زیمل کو گھر لے جانا میں وہاں خود چلا جاؤں گا ” اسنے کہا
نہیں نہیں میں نہیں جاؤں گی آپکے ساتھ رہنا ہے “
بیبی کسی کو کیا پتہ تم کون ہو “
آپکی بیوی میں سب کو خود بتاؤ گی “
یار کوئ بات کر لڑکی ۔۔ میں کنوارا زیادہ اچھا لگتا ہوں “
زیمل نے گھور کر اسکیطرف دیکھا ۔جو اسے چیڑا رہا تھا فیروز نے بھی ا سکے گھورنے پر ہنسی روکی ۔۔
سب پتہ ہے مجھےا پکے بارے میں ۔۔ یہ تو شکر کریں میں نے کوئی سوال اور ہاں میں نے چار سوال کرنے تھے” وہ ایکدم اچھلی
بیٹے اور انجوائے کرنی ہے میری بے عزتی” سالار نے فیروز کو گھورا جو سٹپٹا کر دوسری طرف نکل گیا ۔۔
ہاں اب بولو ” اسنے مسکرا کر دیکھا
اولیویا کون ہے”
زیمل نے پوچھا
۔
ہیروائن” سالار نے مختصر جواب دیا ۔۔
جھوٹ “
بلکل سچ”
شادی کرنے والے تھے اس سے”
تم نہ آتی تو کر لیتا ” اسنے شانے اچکائے
ایسا بھی کوئ سوچتا ہے” زیمل اداس ہوئ
کیا تو نہیں “
کر تو جاتے”
بحث مت کرو “
کروں گی میں تو ” وہ کانٹا اٹھا کر بولی ۔۔
یہ اللہ تم پر پورا نین بھابھی کا اثر نظر ا رہا ہے” وہ پھر مزاق میں گھر والوں کا نام لے گیا
۔اور ایک بار پھر سے خاموش ہو گیا ۔۔
بیوی بیوی ہوتی ہے سمھجے آپ ” زیمل نے گھورا
اسکا دھیان بدلنا چاہا ۔۔
دکھ رہا ہے ۔۔ ” وہ معمولی سا مسکرایا ۔۔
اب بھی کریں گے” وہ پوچھنے لگی ۔۔۔
چار سے زیادہ نہیں ہو گئے سوال ” سالار نے تیوری چڑھائی
جواب دیں” وہ ٹیبل پر ہاتھ مارتی زور سے بولی ۔۔
بلکل نہیں موٹی ۔۔” وہ منہ بسور کر بولا جیسے بہت اداس ہو ۔۔
ہاں منہ تو ایسے لٹکا رہے ہیں جیسے ۔۔۔ بہت غم ہو “
شی از ٹو مچ ہاٹ”
استغفار جو منہ میں آیا کہہ دیا ایسے لفظ کون بولتا ہے_” زیمل نے گھورا
اللہ تعالیٰ نے آنکھیں نکال لینی ہے بیوی کے علاؤہ کسی کو دیکھا تو۔”
چلو یہ ہی کثر رہ گئ تھی بن جاؤ مولانی” وہ بولا ۔۔۔ جبکہ وہ یہ سب خوب انجوائے کر رہا تھا ۔۔
نہیں مطلب کیا ہے سمھجتے کیا ہیں خود کو میڈ کو اردو سکھاتے ہیں۔۔ اولیویا سے شادی ۔۔۔ کرنی ہے میں مر گئ ہوں مجھے سیکھا دیں جو سیکھانا ہے” وہ اٹھ کر اسکے سر پر کھڑی ہو گئ ۔۔
یار قسم اٹھوا لو میں بہت معصوم ہوں ڈر لگ رہا ہے اب “
آئے بڑے ڈرنے والے” زیمل پھر سے بیٹھ گئ ۔۔۔
لوگ کیا سوچیں گے” سالار نےا فسوس کیا ۔۔
میں سب کو بتاؤ۔ گی میں وائف ہوں آپکی” وہ گھورنے لگی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے بتا دینا بلکہ ۔۔۔ ایسا کرو ڈبا بجانے والی بن جاؤ روڈ پر بیٹھ کر چیخ چیخ کر گاؤ” وہ کھانا اسکے آگے رکھتا بولا جو ابھی ویٹر رکھ گیا تھا ۔۔۔
ہمم یہ بھی کر دوں گی اگر کسی اور کو دیکھا تو🙄😒 ” اسنے احسان کرنے والے انداز میں کھانا کھانا شروع کیا
جبکہ سالار مشکور تھا 🙇
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں پہنچے تو ۔۔۔ اسکے سینگر ڈانسر ۔۔ اولیویا ۔۔سب پریکٹیس کر رہے تھے ۔
ڈریس ارٹیسٹ نے سب کو بتایا سالار ا گیا ہے ڈائیریکٹر نے اسکو دیکھا اسنے سوری کیا
اور زیمل سب کچھ حیرانگی سے دیکھ رہی تھی ۔۔
یہاں بہت ساری لڑکیاں تھیں جو سالار کے ارد گرد ہو گئیں تھیں ایکدم سے ۔ کوئ اسے ۔میکپ لک دیکھا رہا تھا تو کوئ ڈریس تبھی ایک شارٹ ڈریس میں لڑکی آئ اور سالار کا گال چھوا ۔۔
زیمل کے تو آگ لگ گئ ۔۔
وہ ان دونوں کے بیچ میں ا گئ
زیمل”
تم اولیویا ہو ” زیمل اردو میں بولی جبکہ اولیویا اردو سمھجتی نہیں تھی
یہ کس کی بچی ہے سالار” اسنے انگلش میں پوچھا
سالار کے لیے اپنی ہنسی دبانا مشکل ہو گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے