Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Epiosde 57
No Download Link
Rate this Novel
Epiosde 57
اسنے کروٹ لی تو ۔۔۔ جیسے خود کو قید پایا ۔۔۔ اپنا آپ چھڑانے کی حتلامکان کوشش کی مگر ۔۔۔ اسنے چھوڑنانہیں تھا یہ بھی وہ جانتی تھی ۔۔ اسنے سالار کو زرا سا دور کیا اور اسکا ہاتھ بھی خود پر سے ہٹایا اسی جدوجہد میں وہ نیند سے مکمل بیدار ہو گئ تھی ۔۔۔ آج زین کی بارات تھی ۔۔۔اور گزشتہ شب مہندی کا فنکشن گزرا تھا ۔۔۔۔۔
اور سالار نے اسے اچھی طرح احساس دلایا تھا کہ وہ کتنی خوبصورت لگ رہی تھی ۔۔۔ خود بھی وہ بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا مگر ۔۔۔ وہ خود سے زیادہ زیمل کو اہمیت دیتا تھا ۔۔ زیمل کی تعریفیں کرنے میں اس نے محفل میں بھی کوئ کثر نہیں چھوڑی دوسری طرف زیمل شرمندہ تھی سب سے سب آنٹیاں ۔۔۔ اسکو دیکھ دیکھ کر ہنستی ۔۔۔ لڑکیاں بھی جبکہ ۔۔۔ نین آیت پریشے عمل سب نے الگ ریکارڈ لگائے تھے ۔۔۔اور شاید ہی وہ لمہہ وہ کبھی بھول پاتی جب کل رات اسنے اچانک اسکے لیے گنگنا کر محفل میں زافران بھر دیے تھے ۔۔ سمھجہ نہیں آتا تھا اتنی محبت اس سے اسکو ہو کیسے گئ تھی ۔۔ جیسے ۔۔۔برتن میں سے محبت کا جام ۔۔ بھر کر اب چھلک اٹھا تھا ۔۔۔
اور پرواہ کسے تھی وہ ہر انداز سے محبت جتانا چاہتا تھا ۔۔۔۔
ہر لمہے اسپر محبت کی برسات کر رہا تھا
۔اور زیمل خود کو دنیا کی ۔۔۔ خوش قسمت ترین لڑکی تصور کر رہی تھی
۔۔
اسنے ۔۔۔ ایک بار پھر سے اسکا ہاتھ ہٹانا چاہا ۔۔
میں جانتی ہوں اب آپ جان بوجھ کر کر رہے ہیں ” وہ اب کے غصے سے بولی ۔۔۔۔
ہنی بنی غصہ کیوں آتا ہے تمھیں اتنا ۔۔ محبوبوں کی صبح اتنی جلدی نہیں ہوتی ۔۔۔ ویسے بھی ۔۔۔ تم سوئے ہی کہاں ہو ۔۔۔ مجھے خیال ہے تمھارا اب سو جاؤ ” وہ بولا ۔۔ آنکھیں بند تھیں لبوں پر شرارتی مسکان تھی ۔۔۔ ہاں زیمل کو بھی احساس ہوا کہ وہ سو نہیں سکی تھی اور وجہ بس یہ انسان تھا ۔۔۔ جو لمہہ بھی اسکی جان چھوڑ دیتا ۔۔۔ تو ۔۔ وہ سوچتی ۔۔ کہ کتنا سکون ہے ارد گرد مگر ۔۔۔۔ ایسا کہاں ممکن تھا ۔۔۔۔
اور کل رات بھی ایسا ہی ہوا تھا جہاں سب باہر بیٹھ کر فنکشن کو ڈسکس کر رہے تھے ۔۔ سالار صاحب کی اچانک طبعیت خراب ہو گئ تھی ۔۔۔۔
اور نہ جانے سب کیوں بھول گئے تھے وہ بائے پرفیشن ہی ایکٹر ہے ۔۔۔۔
سب نے اسے تو کمرے میں بھیجا ہی ۔۔۔ کہ وہ ریسٹ کرے ۔۔ساتھ زیمل کو بھی بھیج دیا ۔۔اور چاہیے ہی کیا تھا اسے ۔۔ کمرے میں آتے ساتھ ہی اسنے ۔۔۔۔ زیمل کی طبعیت خراب کر دی تھی کوئ مان ہی نہیں سکتا تھا ۔۔۔ نیچے موجود ایک ایک شخص کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا اسنے صرف اپنے رومینس کے لیے ۔۔۔ زیمل کے غصہ کرنے کے باوجود بھی ۔۔۔ اسنے۔۔۔ زیمل ہو واپس جانے نہیں دیا تھا البتہ خود میں خود کی محبت میں جان لیوا لمس میں چاہت بھری نشیلی آنکھوں میں ایسا الجھایا کہ وہ ۔۔ بس اسکی ہو گئ ۔۔۔۔
بنا کسی احتجاج کے اسکی شدت اسکی نرمی ۔۔۔ اسکا پیار سب اسکے لیے تھا ۔۔ اسنے سہا تھا ۔۔۔
مگر اب تو اسے بھوک لگ رہی تھی کم از کم اب تو وہ پیچھے ہٹ سکتا تھا ۔۔۔۔
سالار مجھے بھوک لگی ہے ” زیمل سنجیدگی سے اسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔۔۔
کیا واقعی ” اسنے ایک آنکھ کھول کر اسکیطرف دیکھا ۔۔ تو زیمل کا سنجیدہ چہرہ دیکھ کر ۔۔۔۔ اسنے ہاتھ ہٹایا ۔۔
ایسی بھی نافرمان بیوی نہیں ملے گی کہیں کہاں کسی کو ملے گی ۔۔۔۔
زیمل بیبی
۔۔ سخت گناہ ہے شوہر کو یوں تنہا چھوڑ کر جانا وہ بی صرف بھوک کے لیے ” وہ جل کر بولا کیونکہ زیمل اسکے پاس سے اٹھ چکی تھی ۔۔۔۔۔
بڑا جانتے ہیں آپ دین کو ۔۔۔” زیمل نے ہنسی دبائ اور ۔۔۔ غصے سے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
ہاں تو ۔۔۔ ساری باتیں پتا ہیں مجھے” سالار نے تکیوں سے اونچا ہو کر ٹیک لگاتے سر جھٹکا ۔۔۔
ایک نماز تو میں نے پڑھتے نہیں دیکھا آپکو کبھی” زیمل نے ترچھی نظریں اسپر ڈالیں اور زمین پر پڑا دوپٹہ اٹھایا ۔۔۔۔
سالار نے بھی اسکیطرف دیکھا ۔۔ نظروں میں ایسا تاثر تھا کہ زیمل بے ساختہ ہنستی چلی گئ ۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔ یہ سچ ہے
۔ ایک بھی نماز نہیں پڑھتے آپ ۔۔۔ شرم آنی چاہیے اللہ کو کیا منہ دیکھائیں گے ” زیمل نےا فسوس کیا ۔۔۔۔
وہ کچھ نہیں بولا ۔۔ بڑا مزاہ آیا تھا اسکی بولتی بند کر کے ۔۔۔۔
اوپر سے ہر وقت گانے گاتے ہیں اداکاری کرتے ہیں توبہ توبہ ” زیمل کو مزید اسے جلانے کا موقع مل گیا تھا ۔۔ مزے کی بات تھی اس سے کوئ بات نہیں بن پا رہی تھی ورنہ اب تک تو لڑ لڑ کر وہ اسے ہار ماننے پر مجبور کر دیتا ۔۔۔
اوپر سے ۔۔ فلرٹ سب سے ۔۔۔۔ ہر لڑکی سے شادی کرنے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔۔۔” زیمل کو امریکہ میں ہوئ صورتحال یاد آئ ۔۔۔۔۔۔
وہ پیٹھ موڑے ۔۔۔۔ ہوئے تھی ۔۔ اچانک ۔۔ موڑی
اور “
سالار نے اسے مڑنے نہیں دیا ۔۔۔۔
زیمل کو دونوں شانوں سے پیچھے سے جکڑ لیا ۔۔۔
کہ زیمل ہل بھی نہ سکی ۔۔۔۔
اسکی پشت پر پھیلے لمبے گھنے سلکی بالوں کو اسنے اپنے ایک ہاتھ سے ہٹایا ۔۔۔۔
اور سارے بال ایک جانب کر دیے ۔۔
ڈونٹ موو ” وہ آہستگی سے اسکے کان پر جھکا ۔۔۔۔ اور ۔۔ زیمل ایکدم آنکھیں بند کر گئ ۔۔۔ سالار نے اسکی گردن پر ہاتھ رکھا اور زرا سا پیچھے کیا ۔۔۔۔
تو زیمل کا سر پیچھے اسکے شانے سے جا لگا ۔۔
سالار کی انگلیوں کا جادو اسکی گردن پر ۔۔۔ سرک رہا تھا ۔۔۔ نظر اسکے تل پر تھی ۔۔۔ بند آنکھیں ۔۔۔۔ اس میں خمار بھر رہیں تھیں ۔۔ جبکہ مٹھیاں بھی اسکی زور سے بند تھیں ۔۔۔
اور تمھارا عاشق بھی ہے بیوی سے محبت کرنے کا ثواب تو مل رہا ہے نہ ” وہ بولا ۔۔۔ اور نرمی سے لمس ۔۔۔ کو جا با جا بڑھانے لگا زیمل۔۔۔ بے چین سی ہو کر آنکھیں کھول گئ ۔۔۔۔
سالار نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر۔۔اسے اپنے سامنے ۔۔۔ ایک جھٹکے سے کیا ۔۔ کہ وہ اسکے سینے سے لگ گئ ۔۔۔
نماز کا جواب تو دینا ہے نہ ۔۔۔ سالار ” زیمل نے اسے احساس دلایا ۔۔۔
اچھا یار پڑھ لوں گا ۔۔۔ بس یاد دلاتی رہا کرو ۔۔” وہ مسکرایا ۔۔
کیا سچی ” زیمل ایکدم خوش ہوئ ۔۔۔
ہاں بدتمیز لڑکی ایسے خوش ہو کر شرمندہ کر چکی ہو ” وہ بولا ۔۔۔۔ مسکراہٹ دبائ زیمل البتہ کافی خوش ہوئ تھی ۔۔۔۔
سالار نے اسکے تل کو جھک کر ۔۔۔۔ قید کر لیا ۔۔۔
زیمل نے اسکے گلے میں بازو حائل کیے ۔۔۔۔
سالار مگر مجھے بھوک تھی ۔۔
کچھ ہی لمہوں میں وہ اس سے دور ہوئ ۔۔۔۔
عجیب لڑکی ہو ایسے لمہوں میں کسی کو بھوک لگتی ہے ” وہ خفا ہونے لگا ۔۔۔۔۔
زیمل نے آنکھیں جھپک جھپک کر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
کوئ بڑے والی ڈرامے باز ہو ۔۔۔۔ ” سالار نے ایکدم اسکے منہ پر زور سے ہاتھ رکھا اور ۔۔ پوری شدت سے ۔۔ اسکے گال کو کاٹ لیا ۔۔۔
زیمل کے منہ سے دبی دبی چیخیں نکلنے لگیں جبکہ سالار محظوظ ہوتا ۔۔اسکے منہ کو اور بھی سختی سے بند کر گیا ۔۔۔
جب وہ نارمل ہوئ تو سالار نے ہاتھ ہٹایا ۔۔۔
زیمل کی آنکھ میں آنسو۔ آگئے تھے سالار ایکدم پیچھے بھاگا ۔۔۔۔
زیمل نے سارے کشن اٹھا کر اسپر غصے سے مارنا شروع کر دیے ۔۔
سخت گناہ ہے شوہر کو مارنا ” وہ خود کو بچاتا بولا ۔۔۔۔
ایسے شوہر کو مارنے سے ثواب ملتا ہے ۔۔۔۔ ” زیمل اپنا گال رگڑتی غصے سے بولی ۔۔۔۔
سالار نے ہنسی روکی ۔۔۔
کون کہے ۔۔ اس وقت تمھیں دیکھ کر ۔۔ تم زیمل ہو ” وہ اسکا دماغ ہٹانے لگا مگر زیمل کو تسلی نہیں ہوئ ۔۔۔ وہ مسلسل اسپر کشن پھینک رہی تھی سالار ۔۔۔ نےا گے بڑھ کر اسکی دونوں کلائیاں جکڑ لیں ۔۔۔ اور بے حد شدت جزبات سے ۔۔ اسکے چہرے پر جھک گیا ۔۔۔
زیمل تو اس شدت پر سٹپٹا ہی گئ ۔۔۔۔
ڈونٹ ڈو دس ” وہ اسے دور کر رہی تھی سالار نے سنجیدگی سے کہا ۔۔۔
زیمل نے سر اثبات میں ہلایا جیسے اسکی بات مان گئ ہو ۔۔۔ اور سالار ایک بار پھر اسکے چہرے پر جھک گیا ۔۔۔۔
بے حد شدت ہے میرے پیار میں اور تمھیں تمام زندگی اس شدت کو برداشت کرنا ہے ۔۔ میری ہر شدت پر تمھارا حق ہے اور ۔۔۔۔ میرا حق ہے ۔۔۔ کہ میں جتنی شدت بھی لٹاو تم آف بھی نہ کرو ” وہ بولا جبکہ ۔۔ اپنے کام کو ۔۔ جاری بھی رکھا ۔۔۔
زیمل نے جیسے اسکی خواہش کو سر آنکھوں پر رکھا تھا ۔۔۔۔
اسنے ۔۔ اپنی دونوں کلائیوں کو ۔۔۔ سالار کی گردن میں حائل کر لیا
سالار نے اسکی کمر کو جکڑ لیا گویا ۔۔۔۔
کمر توڑ ہی دے گا ۔۔۔ زیمل مزید نزدیک ا گئ ۔۔اسکی بے باک
کیاں بھڑنے لگیں۔۔ زیمل اسکے بالوں میں اپنی مخروطی انگلیوں سے جادو بکھرنے لگی ۔۔۔۔
مجھے منظور ہے ” وہ ۔۔۔ آہستگی سے بولی ۔۔۔۔
پھر بھوک ووک ختم کرو ” وہ آنکھ دبا کر ۔۔ بولا ۔۔
جی نہیں ” زیمل نے ۔۔۔ جلدی سے کہا
پلیزز زززز” وہ پیار سے ۔۔ معصومیت سے بولی تو ۔۔سالار کو اسپر ڈھیروں پیار آیا ۔۔ نہ جانے کیسے ایک سال اسکے بنا گزار لیا تھا شاید۔۔ اس گزرے ایک سال نے سالار کو مزید اسکا دیوانہ بنا دیا تھا ۔۔
وہ بس یہ جانتا تھا زیمل کی بانہیں ۔۔اسکا سکون ہیں ۔۔۔۔
اوکے چلو آج میں ناشتہ کراتا ہوں ” وہ بولا ۔۔۔ اور اپنی شرٹ بیڈ سے اٹھائ
سالار ” زیمل نے گھورا
یہ کوئ طریقہ ہے آپکا ۔۔” وہ خفگی سے بولی ۔۔
بی اماں ۔۔۔ پورے کپڑے پہن کر سر پر ٹوپی رکھ کر ہاتھ میں تسبی لے کر ۔۔ نیچے آتا ہوں ۔۔ آپ چلیے محترمہ کچھ دیر تک آپکے خاوند بھی تشریف فرمائیں گے ۔۔” وہ سینے پر ہاتھ رکھتا ۔۔۔ جھک کر ۔۔ بولا چہرے پر ایسی عاجزی تھی ۔۔۔۔ لہجے میں طنز تھا ۔۔ زیمل ہنسنے لگی ۔۔
کوئ جانے نہ جانے میں جانتی ہوں آپ بیسٹ ایکٹر ہیں کل رات سے ہم لوگوں پر اپنی ایکٹینگ کے جوہر دیکھا رہے ہیں ” وہ بولی ۔۔
سالار خود بھی ہنسنے لگا اور ایک خوبصورت ونک دی ۔۔۔
ابھی زیمل واشروم کیطرف بڑھتی کے زور دار چکر پر اسنے ٹیبل تھام لی ۔۔
سالار جو دوبارہ بستر پر ۔۔ایکدم گیر کر ۔۔۔۔ آنکھیں بند کرنے لگا تھا ۔۔ فورا اٹھا ۔۔
آر یو اوکے ” وہ پریشانی سے پوچھنے لگا ۔۔
جی ٹھیک ہوں ۔” وہ بولی ۔۔
شاید مجھے زیادہ ہی بھوک لگی ہے ” زیمل پھیکا سا ہنس دی
ویسے ۔۔۔ لڑکی کا یوں چکرانا ۔۔۔۔ کچھ ۔۔اور ہی ہوتا ہے ” سالار نے دانت نکالے ۔
سالار آپ دائ تھے کیا ۔۔ ” زیمل نے معصومیت سے اسکی ایسی بے عزتی کی کے سارے دانت اندر چلے گئے الٹا چہرے پر ایسی مزاہیہ سنجیدگی چھا گئ کہ زیمل کا ہنس ہنس کر برا ہال ہو گیا ۔۔۔
بے حد بد تمیز ترین لڑکی ہو تم ” وہ ۔۔ گھور کر بولا ۔۔۔۔
زیمل نفی میں سر ہلاتی واشروم میں بند ہو گئ ۔۔۔۔
جبکہ سالار ۔۔۔۔
منہ میں بڑبڑایا
دائ” اسنے جھرجھری لی
لاحول ولاقوۃ الاباللہ” پورا پڑھ کر
۔وہ بستر پر گیر گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح سے چکراتی پھیر رہی ہو زیمل خیریت تو ہے ” نین نے اسکا شانہ تھاما ۔۔
پتہ نہیں بھابھی ہر تھوڑی دیر بعد چکر ا رہے ہیں متلی الگ ہو رہی ہے ۔۔” وہ اب رو دینے کو تھی صبح سے حالت عجیب ہو رہی تھی ۔۔۔
آیت بھی وہیں کچن میں ا گئ ۔نور کو بھی پکڑا ہوا تھا جو رو رہی تھی ۔۔۔۔
آیت مجھے لگتا ہے سالار بھی اس ریس میں ا گیا ہے ” نین کھل کر ہنسی ۔۔۔
کیا واقعی بھابھی ” وہ تو خوشی سے اچھلی نور ایکدم اور رونے لگی ۔۔
یار تم تو چپ کرو ” اسنے جھڑک دیا عارض جو پیچھے ہی ا رہا تھا ۔۔ آیت کو گھورنے لگا ۔۔
تمھیں تمیز ہی نہیں میری بیٹی سے بات کرنے کی ” وہ گھور کر بولا ۔۔
ہاں تو لے جائیں اپنے ساتھ ۔” وہ جان چھڑانے کے انداز میں بولی ۔۔۔۔
عارض نے نور کو گودمیں لیا اور اسکا کھانے کا سامان لے کر آیت کو بری طرح گھورتا وہ وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
جبکہ آیت ۔۔ مسکرا دی ۔۔
اب اپنی خیر بنو ۔۔ ارادے اچھے نہیں لگ رہے ” نین نے چھیڑا ۔۔ آیت کھلکھلا دی ۔۔۔۔
اپکو نہیں پتہ ۔۔ یہ عامبات ہے جب دوسرا گل کھلایا ہے تو پہلے گل کو خود سمبھالیں وہ لاپرواہی سے بولی ۔۔۔
ارے بھابھیز میں تو پورے گھر میں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں آپکو ” پریشے اندر آئ ۔۔۔ بھاری وجود سے وہ بھی جیسے تھکی ہاری اندر آئ تھی ۔۔۔۔
اور چئیر کھینچ کر بیٹھ گئ ۔۔ جبکہ عمل بھی ا گئ ۔۔۔مگر فون پر کسی سے بات کر رہی تھی ۔۔۔۔
یار کچھ کھانے کو ہی دے دیں ” پریشے نے بیٹھتے ہی کہا ۔۔۔
امی وغیرہ نظر نہیں آ رہیں ” عمل نے پوچھا ۔۔۔
وہ افشین چچی شادی میں نہیں ا رہیں سب انھیں منانے گئے ہیں “
وہ تو ہیں ہی پاگل ” پریشے نے سر جھٹکا
یہ آپکا رنگ کیوں زرد پڑ رہا ہے ۔۔ بھابھی جان ” پریشے نے شرارتی نظروں سے زیمل کو دیکھا ۔۔۔
تم سب کی جب سے شادی ہوئ ہے سب بگڑ گئ ہو ایک ہی نظریے سے دیکھتی ہو سب کو ” زیمل جھنجھلا کر بولی تو ان سب کے قہقے بلند ہوئے ۔۔۔۔
شادی کے بعد نظریں گندی ہو جاتی ہیں ” پریشے نے ۔۔ عمل کے ہاتھ پر ہاتھ مارا ۔۔۔
استغفار افان بھائ باہر ہی ہیں ” آیت نے اسکو گھورا
مجھے کیا ” پریشے نے شانے اچکائے ۔۔
یار پلیز دو مجھے کچھ ” وہ بولی تو نین نے سر ہلایا اور فریزر سے اسے آئس کریم نکال دی
پریشے تو خوش ہو گئ دونوں آرام سے آئس کریم کھانے لگیں عمل اور پریشے ۔۔۔
زیمل سر تھام چکی تھی ۔۔
اگر طبعیت زیادہ خراب ہے تو ڈاکٹر کے پاس چل لو ۔” نین نے کہا ۔۔
جبکہ زیمل تو رونے لگی تھی
۔
وہ سب پریشان ہو گئیں ۔۔
میرا دل گھبرا رہا ہے ” وہ روتے میں بولی
عمل باہر بھاگی سالار کو لینے کچھ دیر میں ان سب نے تیار ہونا تھا ۔۔ کیونکہ شام ہونے میں کچھ ہی دیر تھی ۔۔
ایسے میں زیمل رونے لگی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ پریشان صورت بنائے ۔۔۔ ڈاکٹر کے لفظوں کا منتظر تھا ۔۔۔
شی از پریگنینٹ مبارک ہو آپ سب کو ” ڈاکٹر نے کہا ۔۔
جبکہ زیمل کا چہرہ سرخ پڑ گیا دوسری طرف ۔۔ سب ایکدم خوش ہو گئے ۔۔ سالار کے چہرے کی چمک تو دیکھنے لائق تھی ۔۔ سب نے زیمل۔کو پیار کیا جبکہ مدیھا نے سالار کی پیشانی چومی تھی ۔۔۔۔
مما دیکھنا میرے ٹوئنز ہوں گے” وہ جلدی سے بولا
مدیھا نے ہنس کر اسکے شانے پر ہاتھ مارا
بے شرم ” وہ بولیں اور زیمل کے پاس گئیں اسکو پیار کیا ڈھیر ساری دعائیں دی ۔۔۔
سالار منتظر تھا جلدی سے سب چلے جائیں تو وہ زیمل کو ۔۔ بہت پیار کرے ۔۔اتنی بڑی خوشی دی تھی اسنے اسے ۔۔۔
مگر وہ ساری تو مدہو مکھیوں کیطرح چپکی ہوئیں تھیں اسکے
اب تم سب باہر نکلو گے ” جب ضبط جواب دے گیا تو اسنے ۔۔۔ چیڑ کر کہا ۔
دیکھو کیسے بے شرم لڑکا ہے ” نین نے سالار کو گھورا
آپکے میاں سے زرا سا کم” سالار نے شانے آچکا کر کہا ۔۔۔
نین نے تو اسکے منہ لگنے سے بہتر باہر نکلنا مناسب سمجھا ۔۔۔ وہ سب باہر نکلیں تو وہ اچھل کر اس تک پہنچا۔۔۔۔۔
یار بیبی میرا بیبی ” اسے یقین ہی نہیں آیا اور زیمل کو ایکدم بانہوں میں قید کر لیا ۔۔۔۔۔
وہ بے حد خوش تھا خوشی سے چہرے پر رونق ہی الگ تھی ۔۔۔
اچانک اسکا فون بجنے لگا ۔
سالار نے فون کال اٹینڈ کی۔
سر گھر مل گیا ہے ۔۔ آپ بتا دیں آگے کیا کرنا ہے ” فیروز بولا تو ۔ سالار کا چہرہ اس خوشی میں سنجیدہ ہو گیا ۔۔
میں تم سے رات میں بات کروں گا ” اسنے کہا اور فون بند کر دیا
زیمل کنفیوز سی اسے دیکھنے لگی
سالار نے اسکے دونوں گالوں پر اور پھر پیشانی پر پیار کیا
باقی پیار رات میں ۔۔” وہ گال تھپتھپا کر بولا ۔۔
کس کا گھر ملا ہے سالار” وہ بولی ۔۔
سالار کے چہرے پر سنجیدگی چھا گئ ۔۔
یہ تمھارا میٹر نہیں ہے ٹیک اٹ ایزی ۔۔اور ہاں تمھیں تیار کرنے پالر والی یہیں آئے گی تم اب روم سے مت نکلنا سیڑھیاں تو بلکل نہیں اترنی ۔۔۔
اوکے ” وہ ہدایت دینے لگا ۔
پہلے مجھے بتائیں وہ بضد ہوئ
اب دل اسکی کسی بھی بات سے گھبرا جاتا تھا ۔۔
بائے بائے ۔۔۔” وہ بولا اور دروازے کی جانب بڑھا ۔جبکہ ایک پل کو دروازے میں رکا
اپنا خیال رکھنا اب میری امانت بھی تمھارے پاس ہے ” وہ ونک دیتا ۔۔باہر نکل گیا زیمل البتہ پریشان تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب تیار تھے ۔۔ زین کا سالار نے جینا حرام کیا ہو اتھا آج تو کبیر اور عارض بھی شامل تھا
بابا یار اب میں کیا شادی بھی نہ کروں ۔۔ خود تو تینوں کر کے بیٹھ گئے اوپر سے مجھے کہے جا رہیں ہیں پھنسے گا نہ کر ۔ابھی بھی وقت ہے رک جا ” زین زیچ ا کر بولا ۔۔ سب ہنسنے لگے ۔۔ تینوں نے زین کو گھورا جبکہ مرتضی نے تینوں کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔۔
اب مجھےاواز نہ سنائ دے تم سب کی ” مرتضی کا وہی روعب جیسے لوٹ آیا تھا ۔۔۔
وہ تینوں شرافت سے ایک طرف ہو گئے ۔۔اور زین کی بھابھیوں نے بھنوں نے اور سب نے رسمیں کیں اسکو سہرا پہنایا گیا ۔۔۔
ڈھول باجوں میں یہ بارات ۔۔۔ رمشہ کو لینے کے لیے نکلی تھی ۔۔
افشین بس سکندر کی وجہ سے اس شادی میں شامل ہوئ تھی ۔۔وہ بھی ڈائیریکٹ حال میں ۔۔ ورنہ جہاں زیمل تھی وہاں وہ نہیں ہونا چاہتی تھی ۔۔۔ وہ زیمل کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بارات حال میں پہنچی رمشہ بے حد خوبصورت لگ رہی تھی کھانے کے بعد ۔اسے زین کے پاس لا کر بیٹھا دیا گیا اور ایک نہ ختم ہونے والا شغل شروع ہو گیا ۔۔۔
سب بھابھیاں اور بہنیں رمشہ کیطرف سے دودھ پلائ لینے کے لیے زین کے سر پر سوار ہو گئیں
۔
یار یہ فقیرنیاں کہاں سے حال میں آ۔ گئیں ” سالار نے ادھر ادھر دیکھا ۔۔
بھیا ” پریشے تو چیخی
لو ایک فقیرنی چیخ بھی پڑی ۔۔ بی بی گھر جاؤ ہم تو معصوم سےبندے ۔۔۔۔
ٹھیک ہے بھیا ان فقیرنیوں میں اپکی بیوی بھی ہے ” پریشے نےا نکھیں نکالی
ہاں ۔۔ یہ زرا خوبصورت والی نہ ۔۔۔ کیسی آفت لگ رہی ہے “
حد ہے اس لڑکے پر بے حیائ کی ” نین نے افسوس سے کہا زیمل کے تو رنگ ہی آڑے ۔۔
جبکہ سب کے قہقہے اٹھ رہے تھے ۔۔۔
زین شرافت سے جیب خالی کرو ” آیت نے گھور کر کہا ۔۔۔۔
لو ایک اور آگے آئ ” یہ عارض تھا
عارض صاحب گھر بھی انھیں پاؤں پر جانا ہےا پ نے ” آیت نے بال جھٹکے
واللہ دھمکی” عارض نے ڈرنے کے ڈرامے کیے ۔۔۔ تو سب ہنس پڑے ۔۔
اچھا چلیں دے دیں بھیا ۔۔۔ پیسے کیا بچاریاں اتنے روغن کے بعد بھی خالی ہاتھ جائیں ” یہ زین تھا ۔۔۔
بڑے ہی بدلحاظ ہو بدتمیز ” نین نے دولہے کے چپت لگا دی
یہ پہلا دولہا ہے جو بھرے میدان میں پیٹا ہے ” کبیر ہنسا ۔۔۔۔۔
بھابھی جان پوزیشن خراب ہوتی ہے ایسے ” وہ زرا اکڑ کر بولا ۔۔۔ اور ترچھی نظروں سے رمشہ کو دیکھا ۔۔۔
تو سب ہنسے ۔۔۔
یوں ہی شغل میلا جاری رہا جبکہ ۔۔۔ کبیر نے نا سب کو پیسے نکال کر دیے تب وہ سب خوش ہوئیں البتہ عارض زین اور سالار تو۔۔۔۔ انکے ہاتھ میں رقم دیکھ کر ہی دنگ رہ گئے ۔۔
کنجوس زیادہ ہی خوش ہے ” عارض کے کان میں سالار بڑبڑایا ۔۔۔
لگ تو یہ ہی رہا ہے ہمارے لیے تو پھوٹی کوڑی بھی نہیں ” اسنے کہا ۔۔۔ کبیر نے دونوں کے کان پکڑ لیے ۔۔۔۔
میری چغلیاں بعد میں کرنا بابا غصہ کر رہیں ہیں گاڑیاں تیار کرو رخصتی کے لیے” وہ بولا ۔۔ تو دونوں کھانستے ہوئے ادھر ادھر ہو گئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رخصتی ہوئ تو رمشہ نگین کے گلے لگ کر رو دی ۔۔
جبکہ افشین نے بس سرسری طور پر اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
اسے غصہ تھا زین اور رمشہ کی شادی پر ۔۔۔جبکہ سکندر نے بیٹی کو اچھے سے پیار کیا تھا ۔۔۔۔
وہ اسی گھر میں تھے ۔۔ پیار کر کے وہ ان سے جدا ہوئ اور ۔۔۔ زین نے رمشہ کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھام لیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
