Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 53

صبح اسکی آنکھ کھلی تو سالار کو خود پر جھکا پایا ۔۔
اسنے ناراضگی سے ۔۔۔ کمبل کو اپنے چہرے پر دوبارہ ڈال لیا ۔۔۔
۔۔۔ تم۔۔۔۔۔۔ ناراض ہو ۔۔۔۔
میرے ۔۔۔۔۔ کتنے پاس ہو ۔۔۔” وہ مسکرایا
زیمل نے پھر بھی کوئ ریاکشن نہیں دیا ۔۔۔
جبکہ یہ اسے ماننا پڑا تھا وہ بے حد حسین آواز میں گنگنایا تھا ۔۔ کہ وہ کمبل پر گرفت اور بھی سخت کر گئ تھی ۔۔۔
اچھا یہ پسند نہیں آیا ” سالار سوچ میں پڑ گیا ۔۔۔۔
جب سے میرا ۔۔۔ دل تیرا ہو ا ۔۔۔۔
اسنے ۔۔۔۔ کمبل کو اسکے چہرے سے ہٹایا ۔۔اور ۔۔۔ تھوڑی اونچی آواز میں گنگنایا ۔۔
زیمل کا دل ۔۔۔ بری طرح دھڑکا تھا ۔۔۔۔۔
اسنے آنکھیں بند کر لی جبکہ سالار نے ۔۔۔ مسکرا
کر اسکے نخرے دیکھے تھے ۔۔۔۔
اور اسکے چہرے کو بے پردہ کر دیا ۔۔۔
خوبصورت چہرہ اسکے سامنے تھا ۔۔۔
سالار ۔۔ سنجیدگی سے اسکے چہرے کی جانب دیکھتا رہا ۔۔۔۔
ایک گھیری سانس اسنے اسکے کان کے پاس کھینچی تھی ۔۔
زیمل نے کمبل کو اور بھی سختی سے جکڑ لیا ۔۔۔
سالار کے لب پھر سے مسکرائے
تمھیں انگلش سونگ سمھجہ نہیں آئیں گے ۔۔۔۔ اردو ۔۔ پر ہی پٹ جاؤ ” وہ شرارتی لہجے میں بولاجبکہ زیمل نے ایکدم ا نکھیں کھولیں ۔۔اور اسکو دور جھٹکا ۔۔۔۔۔
ہاں جاہل ہوں نہ میں تو ” وہ آنکھیں گھما کر بولی ۔۔
اور اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔
سالار کا قہقہ نکلا اور اسنے اسکی گود میں زبردستی سر رکھا اور لیٹ گیا ۔۔۔۔
اسی کے بلنکٹ پر ۔۔۔
کوئ شک ہے ۔۔۔ تمھیں کہاں سمھجہ آتی ہے ۔۔۔ کچھ ” اسنے ۔۔ اسکو گھیری نظروں سے دیکھا
اپکو شرم ا رہی ہے میری بے عزتی کرتے ہوئے ” وہ افسوس سے اسے دیکھنے لگی
دیوانہ کر رہا ہے ۔۔ تیرا روپ سنھرا ۔۔۔” وہ آنکھ مار کر پھر سے گنگنایا ۔۔۔
زیمل نے چہرہ موڑ لیا
یعنی ۔۔ تمھارا ماننے کا کوئ ارادہ نہیں “
وہ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیتا بولا ۔۔۔
آپ کتنا روکھے ہو گئے تھے سالار ایکدم ۔۔۔” زیمل نے اسکی جانب دیکھا ۔۔سالار نے گھیرہ سانس بھرا
تم یہ کیوں نہیں یاد رکھتی ۔۔۔ کہ بس ہم تم ہیں ۔۔۔
تمھیں سب کو یاد رکھنا ضروری ہے ” وہ اسکی ہتھیلی پر پیار کرتا بولا ۔۔۔
کیونکہ یہ میں جانتی ہوں وہاں سب آپ سے کتنا پیار کرتے ہیں ” زیمل نے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرہ
جبکہ وہ ہنسا۔۔۔۔
بھاڑ میں جائیں ۔۔۔ سچی بھاڑ میں جائیں
ہم ٹوٹے دل کا جشن ۔۔ منائیں ۔۔۔ ۔۔۔۔”
وہ آنکھ مارتا اٹھا ۔۔۔ اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑا ہو گیا
جبکہ دلکشی سے وہ مسکراتا ۔۔گنگنا رہا تھا ۔۔
یاد نہ آئے ۔۔۔ مجھے یاد نہ آئے ۔۔۔
اتنی پیلا دو کہ وہ یاد نہ آئیں ۔۔۔” وہ مسکرایا
اسکی مسکراہٹ میں عجیب سی بات تھی ۔۔زیمل اسے نم آنکھوں سے دیکھتی رہی ۔۔۔
جبکہ وہ اسکے پاس آیا
تمھیں صرف میری فکر کرنی ہے ۔۔۔۔ نہ اتنا سوچو۔۔۔۔۔ مسکراو ۔۔ تمھیں بھی مزاہ آئے گا ۔۔۔” وہ اسکی پیشانی پر پیار کرتا گال تھپتھپا کر ۔۔۔ پیچھے ہو ا۔۔۔ وہ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔۔ وائٹ جیکٹ اور پینٹ شرٹ میں ۔۔۔
آج پورابیزی ڈے ہے ۔۔۔ مگر میں تمھیں گھنٹے تک اپنے پاس بلا لوں گا ۔۔ اس گھنٹے میں تم نے ناشتہ کرنا ۔۔ ہے اور فریش ہونا ہے ۔۔ اوکے ” وہ بولا ۔۔۔زیمل نے سر ہلایا ۔۔۔ جبکہ وہ ونک دیتا ۔۔ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔۔
زیمل جبکہ وہیں بیٹھی رہ گئ ۔۔۔۔۔
اسنے دل سے ۔۔اسکی تکلیف کو محسوس کیا تھا پیار احساس کئیر ۔۔ محبت یہ زیمل نہیں کر رہی تھی وج سوچ کر آئے گی کہ وہ سمیٹ لے گی اسکو ۔۔ بلکہ سالار اسکو کر رہا تھا ۔۔۔۔
کون ۔۔ جب وہ بھی نہیں تو کون کرے گا ۔اسکے اندر سے ۔۔۔ یہ احساس ختم ۔۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سٹوڈیو پہنچا تو ساری سٹیج ۔۔۔ ڈریسنگ ۔۔ مائکس ۔۔۔ میٹینگ ۔۔۔
میکپ ۔۔۔ شوز ۔۔۔۔ کو پاٹنر میٹنگز ساؤنڈ اور ان سب میں اسے بہت وقت گزر گیا یہاں تک کے ۔۔۔۔ وہ جو اسے ایک گھنٹے کا کہہ کر نکلاتھا ۔۔۔
ایکدم تھک ہار کر اندر ا بیٹھا ۔۔۔۔
فیروز نے اسے ۔۔ پانی کی بوتل دی ۔۔ وہ اولیویا سے بات کرتے ہوئے وہ پی رہا تھا
اولیویا کا انداز روکھا تھا ۔۔ مگر پھر بھی وہ نارملی اس سے بات کر رہا تھا ۔۔۔
اب تک اولیویا نے اس سے اس بارے میں کوئ بات نہیں کی تھی ۔۔
سالار اسےٹون سمھجا رہا تھا ۔۔۔
جبکہ اچانک اسکی نظر ایل سی ڈی پر پڑی ۔۔۔
جہاں باہر کا منظر دیکھائی دے رہا تھا
یعنی اوڈینس جمع ہونی شروع ہو گئ تھی
شیٹ ٹائم کیا ہو رہا ہے” اسنے فیروز کو دیکھا
سر ۔۔ کنسرٹ شروع ہونے میں بس گھنٹہ رہ گیا ہے
وہ گھڑی دیکھ کر بتانے لگا ۔۔
مائے گاڈ ۔۔۔ زیمل کا فون نہیں آیا کیا ” وہ ایکدم اٹھا اولیویا کو بھول گیا تھا ۔۔
اولیویا اردو سمھجہ تو نہیں سکی تھی زیمل نام پر البتہ منہ ضروربن گیا تھا
نہیں سر ۔۔ ویسے سر آپکو جلدی ریڈی ہوناچاہیے آپکا ریڈ کارپیٹ انٹرویو ہے اولیویا میم کے ساتھ” فیروز نے کہا ۔۔۔
تم سب چھوڑوزیمل کو لے کر آؤ ” وہ آرڈر دینے لگا ۔
سالار ۔۔۔ ” اولیویا بولی ۔۔۔
آئ تھینک تمھیں ۔۔ ریڈ کارپٹ پر فوکس کرنا چاہیے ” وہ اندازا لگا کر ۔۔۔ اپنی زبان میں بولی ۔۔۔
سالار مسکرایا ۔۔ جبکہ اسکو آنکھ الگ ماری ۔۔۔۔
شی از مائے ۔۔۔ بریتھ ۔۔۔ آئ کانٹ لیو ود آؤٹ ہر ۔۔۔” وہ مسکرایا ۔۔۔
جاؤ تم ” فیروز کو کہا ۔۔۔
اولویا نے سر جھٹکا ۔۔۔۔
جبکہ سالار کو ڈریس ڈیزائنر نے کپڑے لا کر دیے ۔۔۔۔
اور اسنے ۔۔ ان کپڑوں کو توجہ سے دیکھا
یہ بے حد مہنگا سوٹ تھا ۔ ۔۔
جبکہ ۔۔۔ تین اور سوٹ تھے جو اسنے اسی کنسرٹ میں چینج کرنے تھے اور ریڈ کارپٹ اسنے اس ڈریس میں اٹینڈ کرنا تھا اسنے سر ہلایا اور ڈریس لے کر ۔۔ وہ ۔۔۔ اپنے روم کیطرف چلا گیا ۔۔۔۔ جو پرائیویٹ تھا
اولیویا بھی اپنا ڈریس چینج کرنے کے لیے اٹھ گئ تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیمل کو غصہ تو بہت تھا ۔ مگر اسکو ایکدم سامنے دیکھ کر ساراغصہ ہوا ہو گیا ۔۔۔ اور جیسے وہ ساکت رہ گئ ۔۔۔
ہینڈسم لفظ اب اسکے لیے چھوٹا لگ رہا تھا
وہ بے حد سٹنیگ لگ رہا تھا ۔۔۔
ایک پاکٹ میں ہاتھ ڈالے ۔۔۔ وہ دوسرے ہاتھ سے اپنے بالوں کو سنوارتا ۔۔۔۔ اسی کیطرف ا رہا تھا جبکہ چہرے پر مسکان ۔ تھی ۔۔
اور اسکے پرفیوم کی خوشبو تو ۔۔ پورے ڈریسنگ روم میں تھی ۔۔۔
وہ دانتوں تلے لب دبائے اسے دیکھتی رہی واقعی وہ خوش قسمت تھی اتنابھرپور شخص اسکی قسمت میں تھا ۔۔۔۔
ایم سوری” وہ نزدیک ا کر ۔۔اسکا گال کھینچتا پیار سے بولا ۔۔۔۔۔
زیمل نے آنکھیں پھیر لیں
اچھا لگتا تھا بار بار اسکا منانا اسکا قریب آنا
اور پھر ارد گرد کے لوگوں گا زیمل کورشک سے دیکھنا
یہ سب اسکے لیے بے حد حسین تھا
زندگی کو اسنےاسطرئ تصور نہیں کیا تھا
یہاں تک کے اسکے دماغ اسکی یاداشت میں کہیں کسی کی یاد نہیں تھی کہ اسکی زندگی میں کبھی کوئ عدیل بھی تھا ۔۔۔اسکا باپ بھی تھا جسنے اسے بیچا ۔۔ یہ پھر سعیر۔۔۔۔
نہیں اسے کچھ یاد نہیں تھا اسے یاد تھا تو سالار جو اسکا حال تھا ۔۔۔۔
اور جس کے ساتھ وہ مستقبل گزارنے کے خواب سجائے ہوئے تھی ۔۔
مگر وہ اسے خوش دیکھنا چاہتی تھی وہ جانتی تھی ۔۔اسکی خوشی ۔اپنی فیملی کے ساتھ ہے وہ جتنا خوش ہوںے کا ۔۔۔ ڈرامہ کر لےمگر وہ اپنے رشتوں کے لیے بے حد حساس تھا ۔۔اور جتنا اسنے دیکھا تھا اسے بہت حساس ہی دیکھا تھا
وہ غصے میں تھا ۔۔ تبھی وہ ایسا بیہیو دے رہا تھا ۔۔۔۔
اتنی نارضگی ” وہ اسکی پرسوچ نظروں کے آگے چٹکی بجاتا۔۔۔ اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتا بولاجبکہ ۔۔۔
اسکے سر پر بلیو کلر کی میکی ماؤس والی کیپ ٹھیک کی ۔
آپ نے گھنٹے کا کہا تھا میں کب سے انتظار کر رہی تھی اب بلائیں اب بلائیں مگر نہیں یہاں نوشہ میاں بن کر کھڑے ہیں ” وہ غصے سے بولی
پیار ایک جگہ انتظار کی بھی ولیو تھی جو اسنے کیا تھا ۔۔۔
اوہ ڈارلنگ آپ کہو تو سارے کام چھوڑ کر بیڈ سے لگ جاؤں بس ایک اشارہ کرو ” وہ اسے پیار سے گلے لگاتا ۔بولا ۔۔ جبکہ ۔۔ اسے اردگرد کے لوگوں کی پرواہ نہیں تھی لوگ کن انکھیوں سے انھیں دیکھ رہے تھے چلو
انگریزوں کی تو خیر تھی ساتھ فیروز جو کھڑا تھا ۔۔ کیا اس سے بھی سارے پردے ختم ہو گئے تھے ۔۔
ایسے اسے اسپر لاڈ آتا تھا ۔۔۔۔
اپکو موقع چاہیےبس ۔اورکل رات کل رات دیکھا تھا ایسے پھینک گئے تھےا پ مجھے وہ بھی ساڑھیوں پر جانتے بھی ہیں کتنی زور سے لگی ہے مجھے” وہ اس سے دور ہوتی شکواہ کرنے لگی
میں آج ساری غلطیوں کی ۔۔ بہت توجہ سے ۔۔اور بہت رومنٹک انداز میں معافی مانگو ۔۔گا ۔۔” وہ بولا ۔۔ شرارت آنکھوں۔ میں تھی
نہیں جی ضرورت نہیں ہے آپکو بھی پنیشمنٹ ملے گی ” وہ بولی اور بال جھٹکے ۔
سالار نے دل پر ہاتھ رکھا
بس پنیشمنٹ میری پسند کی ہونی چاہیے” وہ جھک کر بولا
یہ کیا بات ہوئ ” زیمل کو ہنسی آئ ۔۔۔۔
یہی بات ہے ہماری بات میں بھی بات ہے ۔۔۔ خیر ویٹ” وہ بولا اور مڑا اسنے کسی لڑکی کو بلایا اور اسکو کچھ سمھجانے لگا وہ انگلش میں بول رہا تھا زیمل کو بس تھوڑی بہت ہی سمھجہ ا رہی تھی ۔۔
اسنے لڑکی سے بات ختم کی لڑکی نے مسکرا کر زیمل کو اپنے ساتھ آنے کا کہا
زیمل نے سالار کیطرف دیکھا
جاؤ ” وہ اسکا گال تھپتھپا کر بولا
۔
میں تم سے آدھے گھنٹے بعد ملوں گا ۔”
مگر میں کیوں” وہ سمھجہ نہیں سکی ۔۔۔
سالار نے گھور کر دیکھا ۔۔ اتنی سی بات پر گھور دیا تھا
زیمل پھر سے ناراض ہوتی اس لڑکی کے ساتھ چلی گئ البتہ سالار مسکرا کر ۔۔۔ اولیویا کے روم میں ا یا تھا جہاں اسکے کو پاٹنر بھی تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سفید ستاروں سے بھری پاؤں تک آتی میکسی پر ہلکا ہلکا میکپ اور ۔۔۔ گلے میں ڈائمنڈ سیٹ جبکہ کانوں میں چھوٹے چھوٹے موتیوں کیطرح ڈائمنڈ ائرینگ ۔۔ جو دور سے
ہی چمک رہےتھے۔۔۔
اور لمبے بالوں کا ۔۔۔ ڈھیلا سا ۔۔۔۔ برائیڈ جوڑا ۔۔ جس کی لٹیں بھی آگے پیچھے سے نکلی تھی ۔۔ بار بار شرارتی لٹیں اسکے چہرے پر جھوم کرا جاتیں ۔۔
پنک ۔۔ ہلکا براؤن سالیپسٹک کا کلر اور ۔۔ گالوں سے رس کی مانند چمکتی روشنی ۔۔
وہ اپنی چئیر سے اٹھ کر اس تک جانا چاہتا تھا مگر وہیں تھم گیا
زیمل کو چلنے میں مشکل ہو رہی تھی اسنے کبھی اتنا بھاری لباس نہیں پہنا تھا اور دوسرا ہیل بھی کبھی نہیں پہنی تھی ۔۔۔
وہ جب چل نہ سکی تو سالار نے آگے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا۔۔۔۔
اسکی آنکھوں میں زیمل کے لیے نشہ اور۔۔ لبوں کی تراش میں معنی خیز مسکراہٹ جو زیمل کو شرمانے پر مجبور کر رہی تھی وہ اپنی ہنسی دباگی ۔۔ اور حسب عادت دانتوں تلے لب دبا آگئ ۔۔
سالار اسکے کان کے نزدیک جھکا اسکے پرفیوم کی خوشبو زیمل کے وجود سے اٹھ رہی تھی ۔۔۔
ان پر میرا حق ہے ۔۔۔ وقت سے پہلے مشکل میں مت ڈالو انکو ” زیمل کے اندر ایک عجیب سے احساس اٹھے اور وہ نظریں چرانے لگی ۔۔۔
یو لک گورجیس ” اسنے اسکی تعریف کی ۔۔۔۔
زیمل مسکر دی ۔۔اور اب آنکھوں میں سوال تھا کہ اسے کیوں اتنا تیار کیا تھا اور خود بھی تیار تھا ۔۔
فیروز کو اسنے اشارہ کیا کہ اب وہ ریڈ کارپٹ اٹینڈ کرنے کے لیے ریڈی تھا ۔
فیروز سر ہالا کر باہر نکلا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ریڈ کارپٹ ۔۔ پر زیمل کے ساتھ چلتا ہوا ا رہا تھا ۔۔۔ اور لوگوں کا ایک شور سا اٹھ گیا ۔۔۔۔
ہاں اسکا یہ کونسرٹ تھا مگر اسکے ہر کنسرٹ سے پہلے ریڈ کارپٹ لازمی ہوتا تھا کیونکہ بہت کم وقت میں وہ بے حد مشہور ہو گیا تھا ۔۔اور لوگ اسکے بارے میں جاننا چاہتے تھےا ور اپنے کنسرٹ سے پہلےو ہ یہ سیگمنٹ لازمی خود سے رکھتا تھا ۔۔۔۔
زیمل نے سالار کا ہاتھ پکڑا ہو اتھا سختی سے جبکہ و ہ ۔۔ کانپ الگ رہی تھی سالار اسے زبردستی لےا یا تھا اسکاچہرہ لال ٹماٹر کیطرح سرخ ہو رہا تھا ۔وہ بلکل اس قسم کا کوئ شوق نہیں رکھتی تھی اور نہ ہی آنا چاہتی تھی مگر سالار اسے لے آیا تھا ۔۔
اسکے آگے مائک کیا گیا ۔۔اور سب سے پہلا سوال اس سے زیمل کے بارے میں پوچھا گیا ۔۔۔۔
سالار نے زیمل کیطرف نظر بھر کر دیکھا ۔۔
اور آج پوری دنیا کے سامنے اسنے ۔ ۔۔ اعتراف کیا
شی از مائے بیلوڈ وائف ۔۔۔
بیٹیفل ۔۔ کیرنگ ۔۔۔ اٹریکٹیو اینڈ ویری شائے ” وہ زیمل کیطرف مسکرا کر دیکھ رہا تھا جبکہ پورے کونفیڈینس میں وہ بولا تو ۔۔۔ زیمل سر جھکا گئ ۔۔
ایک شور سا اٹھ گیا تھا اسکی بات پر۔۔۔۔
اپکو نہیں لگتا ۔۔۔ بہت سارے لوگوں کا دل ٹوٹا ہو گا ۔۔ائ مین بہت ساری لڑکیوں کا ” اس لڑکے نے اسکے آگے پھر سے مائیک کیا ۔۔
سالار دلکشی سے مسکرایا ۔۔کیمرے کیطرف دیکھ کر ایک آنکھ دبائ ۔۔۔
آئ ایم سوری گرلز ۔۔۔۔ ” سالار سمیت اس لڑکے کا بھی قہقہ ۔۔
نکالا۔۔۔
کیا ہم میم سے کچھ سوال کر سکتے ہیں” وہ انگلش میں بولا ۔۔
آئ سیڈ شی از ویری شائے ۔۔” سالار نے کہا ۔۔۔ تو وہ لڑکا ۔۔۔ بات سمھجتا مائک زیمل سے دور کر گیا ۔۔۔۔
سر آپ نے شادی کب کی۔ یہ راتوں رات کیسی خبر تھی۔ مطلب ہم سمھجے لندن پر دھمکا ہوا ہے ” وہ لڑکا ۔۔ لڑکیوں کے دلوں کی حالت سوچتا افسوس سے بولا ۔۔
نو ایکچلی ۔۔۔ I got married a year ago
وہ سہولت سے بولا ۔۔ لڑکا حیرانگی سے دیکھنے لگا جبکہ سالار بھی تسلی سے اسے ساری بات بتانے لگا ۔۔۔
اسکا یہ انٹرویو بہت ہٹ جانے والا تھا وہ جانتا تھا زیمل اسکی جانب دیکھ رہی تھی
دل کی دھڑکنوں میں شمار نہیں تھا ۔۔۔۔۔
بے ہنگم سی دھڑکنیں تھیں ۔۔۔۔
فیروز زیمل کے پیچھے کھڑا تھا اور اسے سالار ۔۔۔ کے بولے گئے ہر جملے کے بارے میں بلکل ایسے بتا رہا تھا جیسے ۔۔ کوئ سمھجہ بھی نہ پائے کہ وہ زیمل کو ٹرانسلیٹ کر کے بتا رہا تھا ۔۔۔۔
زیمل کے دل میں اسکے لیے مزید پیار بڑھ گیا ۔۔
وہ دنیا کے سامنے اسے اپنی بیوی بتا چکا تھا ۔۔
اس سے محبت کا اظہار کر گیا تھا ۔۔۔
اسکی دل کی ہر دھڑکن سانسوں کی ہر آہٹ پر سالار ۔۔۔ تھا ۔۔
زیمل کا اچانک دل کیا وہ بھی یوں ہی پوری دنیا کے سامنے اظہار محبت کرے ۔۔۔
مگروہ اسکی طرح انگلش نہیں بول سکتی تھی ۔
اورسچویشن ایسی تھی ۔۔ وہ فیروز سے بھی نہیں کہہ سکتی تھی جو اسنے سوچا تھا ۔۔اسپر اسے گال پہلے ہی سرخ ہونے لگے ۔۔۔۔
سالاد کا انٹرویو ختم ہو ا۔۔
آئ ویش سر ہم۔میم سے بھی بات کر سکتے” وہ لڑکا بولا ۔۔۔
زیمل نے اپنے ہاتھوں ۔ کی کپکپاہٹ پر ۔۔ قابو کیا ۔۔اور اس لڑکے کیطرف ۔۔۔ ہاتھ بڑھایا ۔
سالار سمیت اس لڑکے نے بھی چونک کر دیکھا ۔۔
میرے خیال سے میم ہم سے بات کرنا چاہتی ہیں ” وہ لڑکا پرجوش ہوا ۔
سالار کے چہرے پر ایکدم الجھن ا گئ ۔۔ وہ بلکل ایساکچھ نہیں چاہتا تھا کہ زیمل کی کوئ بات اسکے کم پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دے کیونکہ ۔ انڈسٹری ۔۔ایک حساس جگہ تھی اور یہاں ۔۔ عرصے تک لوگ باتیں یاد رکھتے تھے ۔
I have ۔
never seen a person like you in my life.
If girls love u . So I don’t feel angry with them. Because Salar Murtaza can be every girl’s dream.
All of them in Salar Murtaza. There are features. Which can be in any girl’s ideal.
I will not say how and when.
I love your every style.
Because I have fallen in love with you. Probably countless
(میں نے اپنی زندگی میں اپ جیسا شخص نہیں دیکھا ۔۔۔
اگر اپکو لڑکیاں پسند کرتیں ہیں ۔۔ تو اج مجھے ان سے جلن محسوس نہیں ہو رہی ۔۔۔۔ کیونکہ سالار مرتضی ہر لڑکی کا خواب ہو سکتا ہے ۔۔
سالار مرتضی میں وہ سب ۔۔ خصوصیات ہیں ۔ جو کسی بھی لڑکی کے ائیڈیل میں ہو سکتی ہیں ۔۔
میں یہ نہیں کہوں گی کیسے کب ۔۔۔
مجھے اپکے ہر انداز سے محبت ہے ۔۔سالار ۔۔۔
کیونکہ مجھے محبت ہو گئ ہے اپ سے ۔۔ بے شمارشاید)
سالار دنگ ہی رہ گیا اسنے اتنا شور کبھی نہیں سنا تھا لوگوں نے تالیاں پیٹ ڈالیں ۔
جبکہ سالار ساکت تھا ۔۔اسنے اپنے ہونٹوں پر حیرانگی سے زبان پھیری اور پھر ایک شاندار مسکراہٹ کو اسنے ۔ہونٹوں میں دبا کر روکا تھا ۔۔۔۔
آئ ایم شوکڈ” سالار نےا سی مائیک میں کہا ۔ جبکہ سب ہنسنے لگے ۔۔۔۔۔
زیمل البتہ اپنے چہرے کی سرخی دبا نہیں سکی ۔
اٹس نوٹ گڈ سر میم نے اظہار کیا ہے آپکو جواب دینا چاہیے” وہ لڑکا بولا ۔۔۔۔۔
سالار نے سر ہلایا ۔۔۔
اکثر اظہار تنہائ میں اچھے لگتے ہیں اور ایسے اظہار کا جواب ۔۔ تنہائ میں بنتا ہے ” وہ بے شرمی سے ہنسا ۔۔
اور زیمل کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھ گیا ۔۔
جبکہ لوگوں کا شور ۔۔اج سے پہلےا سنے اتنا نہیں سنا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیمل بے حد خوش اور ایکسائٹیڈ تھی اسنے جو سوچا تھاوہ کر کے دیکھایا ۔۔
یہ سب اسنے پریشے سے لکھوا کر یاد کیا تھا ۔۔۔
اسے خود پر بھی یقین نہیں تھا کہ وہ یہ سب بول دے گی مگر وہ بول گئ ۔
سالار اسکے اظہار کا جواب دینے کے لیے بے تاب تھا ۔ ۔۔
مگر وقت تھا کہ مل نہیں رہا تھا
ڈائریکٹر نے فورا شو شروع کرنے کے آرڈرز دے دیے تھے اسنے ڈریسنگ بھی چینج کرنی تھی ۔۔۔
زیمل اسکی منتظر تھی مگر وہ نہیں ا سیکا تھا ۔۔ زیمل وہیں بیٹھی رہی تھی ایک لڑکی آئ اوراسنے مسکرا کر کہا
میم آپ ڈریس چینج کرنا چاہتی ہیں ” وہ اردو میں بولی ۔۔
زیمل۔کو کچھ تسلی ہوئ وہ ۔۔ کوئ انڈین لڑکی لگ رہی تھی ۔۔۔
زیمل نے سر نفی میں ہلا دیا ۔۔۔
سر نے کہا ہے اگر آپ ڈریس چینج کرنا چاہتی ہیں تو کر لیں ” اسنے مسکرا کر کہا
زیمل کرنا نہیں چاہتی تھی مگر اسے احساس ہو رہا تھا سالار کو بہت دیر لگ جائے گی ۔۔اسنے سر ہلایا اور ۔۔ اپنا ڈریس چینج کیا لڑکی نے اسے لونگ کوٹ اور جینز دے دی ۔۔
جینزاسنے واپس کر دی ۔۔ جبکہ اپنے پورانے کپڑے پہن کر اسپر لونگ کوٹ پہن لیا ۔۔ سر پر ویسے ہی ہیٹ رکھی ۔۔ وہ اس وقت کمرے میں تنہا ۔۔ تھی ۔۔۔۔
شیشے میں اپنے سر پر ہیٹ سیدھی کر رہی تھی تبھی دروازہ دھڑ سے کھلا وہ گھبرا کر مڑتی کہ سالار کو دیکھ کر ایکدم ۔۔مسکرائ ۔۔سالار نے دروازے کو لوک کیا ۔۔۔
وہ اسوقت سٹائلش جینز اور اوپر بلیک ۔۔ جیکٹ میں تھا جس پر کام ہو رہا تھا ۔۔۔۔ اور اندر بلیک شرٹ تھی ۔۔
اسکی گردن پر ۔۔ ایک ٹیٹو بنا ہو اتھا یعنی وہ بے حد سٹائلش لگ رہا تھا وہ ۔۔ بھاگ کر زیمل تک پہنچا اور۔۔بے خودی میں اسکے چہرے پر جھک گیا ۔۔ بنا کچھ بھی کہے ۔۔۔
اور زیمل کو خود بھی پھر پتہ نہیں چلا ۔۔۔
وہ ۔۔۔ بے حد چاہت ۔۔۔ سے اسکی سانسوں کو الجھا چکا تھا ۔۔۔
زیمل نے اسکی گردن میں ہاتھ ڈال لیا ۔۔۔
ہنی بنی تم مجھے پاگل کر دو گی ایک دن ” وہ اسکا چہرہ پکڑ کر بولا
زیمل شرما گئ ۔۔
یہ سب تم نے کیسے کہہ دیا اور کس سے سیکھا ۔۔۔
تفصیل سے مجھے سب جاننا ہے اس وقت تو ڈائریکٹر سے جان بچا کر آیا ہوں ۔۔۔۔
فیروز تمھارے ساتھ ہی ہو گا تمھارے لیے وی آئ پی سیٹ ہے ۔۔وہ تمھیں لے جائے گا ۔۔۔۔
اور جو کھانے کو دے کھا لینا سمھجی ہو ۔۔۔ باقی ۔۔ باتیں ۔۔۔
اور بھی نزدیک ا کر کروں گا ” وہ اسکے گال کھینچتا۔۔ اسی طرح عجلت میں بھاگ گیا جبکہ ۔۔زیمل کھلکھلا دی ۔۔۔۔
یہ اسکے صبر کا پھل تھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وائلڈ اینٹری کی تھی اسنے ۔۔۔۔ اوڈینس کے اوپر سے ۔۔ وہ آیا تھا ۔۔۔۔
اور سٹیج پر ۔۔۔۔ جیسے ہی وہ اترا ۔۔اسکی آواز نے چارو سمت جادو بکھیرا دیا ۔
اولیویا ۔۔۔ پیچھے سے بھاگتی ہوئی آئ تھی
میوزک کا شور سالار کے نام کی پکار ۔۔۔
اور یہ سب کچھ کسی خواب سے کم نہیں تھا
وہ دیکھ رہی تھی اسے وہ ۔۔سٹیج پر ۔۔۔
لوگوں کے دلوں پر۔۔۔ گیرا تھا بجلی کیطرح
۔
لڑکیوں نے اسپر پھول پھینکے تھے جسے ۔۔۔وہ کیچ کر لیتا۔۔
زیمل نے منہ بنایا ۔۔
کہنے کی حد تک وہ جیلسی نہیں رکھتی تھی مگر اسے جیلسی ہوئ
اسنے منہ نیچے کر لیا ۔۔
جبکہ اچانک اسے احساس ہوا اسکے سر پر کسی نے نرم سی چیز بجائ ہے
۔
سالار انگلش سونگ گا رہا تھا ۔ اولیویا اسکے ساتھ گا رہی تھی ۔۔
اور پھر اولیویا چپ ہو گئ ۔۔
سالار نے سونگ گایا
اس گانے کے لفظ زیمل کو سمھجہ نہیں آئے مگر ۔۔۔ احساس ہوا جیسے وہ تمام لفظ اسکے لیے ہوں ۔
سالار نے وہ سب پھول اکھٹے کر کے اسکے سامنے پیش کر دیے تھے
جسے زیمل نے مسکرا کر تھام لیا
وہ اسکے پاس سے ہٹ گیا
وہ خود بھی جوش میں تھا لوگوں کو بھی پرجوش کیا ہوا تھا
ایک گھنٹہ گزر گیا تھا
یہ تین گھنٹے کا کنسرٹ تھا
عوام بڑھتی جا رہی تھی شور بڑھتا جا رہا تھا
سالار کے نام کی پکار اٹھ رہی تھی ۔۔۔۔
سالار پوری سٹیج پر چھایا ہوا تھا کبھی ایک طرف کے لوگ۔ کے پاس جاتا تو کبھی دوسری طرف کے ۔۔۔۔
وہ پسینے میں شرابور ہو گیا تھا یہاں تک کے اسکے بال بھی پسینے میں بھیگ گئے تھے پیچھلےا یک گھنٹے سے وہ گا رہا تھا اچھل رہا تھا بیچ میں اپنی موج میں ڈانس سٹیپ بھی کر لیتا ۔۔۔۔
اور گھنٹے بعد وہ رک گیا ۔۔۔۔
فیروز نے اسے پانی دیا
اسنے
۔۔۔اڈینس کی جان پر مزید بنوا دی اپنے چہرے پر پانی کی بوتل ڈال کر اسکی جیکٹ ۔۔۔ اسکی شرٹ آگے سے پانی میں بھیگ گئ تھی اسنے گیلے بالوں میں ہاتھ پھیرہ
زیمل کو اسکی پرواہ ہوئ وہ بیمار پڑ سکتا تھا
لوگوں کا شور بڑھ رہا تھا ۔۔
دس منٹ پندرہ منٹ بیس۔۔ منٹ ۔۔۔۔
لگ گئے ۔۔۔ وہ سٹیج سے غائب رہا ۔۔
زیمل کا دل کیا کاش وہ فیروز کی جگہ ہوتی بھاگ بھاگ کر اسکے کام کرتی ۔۔۔
بیس منٹ بعد وہ آیا
۔۔
آر یو رڈی گائز ” اسکی بھاری آواز ۔۔۔۔ چاروں طرف گونجی۔
اور زیمل کو اپنے کانوں پر ہاتھ رکھنا پڑا
۔اتنا شور۔
اوکے ریلکس ریلکس ۔۔۔۔۔
لندن یو آر امیزنگ ۔۔۔۔
آئ رئیلی انجوائے دس ۔۔۔ نائٹ ۔۔۔
ود یو ۔۔۔۔ گائز۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈو یو وانٹ مور فن ” اسنے چلا کر پوچھا
اور ۔۔ اس سے دس گناہ چیخوں کی آوازوں میں لوگوں نے یس کہا ۔۔۔۔
تو وہ دلکشی سے ہنسا ۔۔۔۔
اوکے لیٹس سٹارٹ” میوزک کی تیز ردھم پھیر سے بجنے لگی ۔۔۔۔
وہ ۔۔ لوگوں میں اچھل کر جوش کا اضافہ کر رہا تھا ۔۔۔
اسنے ایکدم جیکٹ اتار دی
مسلز میں اسکی بوڈی اب سب کے سامنے تھی ٹھنڈ بہت تھی اچھل کود میں اسے ڈھنڈ کا احساس نہیں ہو رہا تھا
اور اسنےو ہ جیکٹ اولیویا کو دے دی ۔۔۔
زیمل نے گھور کر سالار کو دیکھا
ہ اسے بھی تو دے سکتا تھا مگر ٹھرک تو نہیں جانی تھی ۔۔۔۔
سالار نے پھرسے گانا شروع کیا اور پھرسے ایک ہنگامہ اٹھ گیا
مزید گھنٹہ وہ گاتا رہا
یہ آخری گھنٹہ تھا ۔۔
وہ سٹیج پر نیچے بیٹھ گیا ۔۔
اولیویا لوگوں سے باتیں کر رہی تھی ۔۔۔
اسکے کو سنگر بھی بیچ بیچ میں ہنسی مزاق کر لیتے وہ بھی ہنس رہا تھا
لوگ سالار کے بولنے کے منتظر تھے
Salar, there are many people who like you
اولیویا نے سر نفی میں ہلا کر ہنس کر کہا ۔
اور سالار کے ہاتھ میں مائیک دے دیا
اوہ لندن ریلکس ریلکس ” وہ بولا ۔۔۔
اور جیسے ۔۔۔ سب لوگ چپ ہوئے
مائے وائف از السو دیر” وہ ہنسازیمل کو تلاشہ ۔۔
نظر نظر سے ملی زیمل ناراض بھی نہ ہو سکی مسکرا دی
ڈو یو وانٹ ٹو میٹ مائے وائف” وہ ایکدم چلا کرا ٹھا
زیمل نے بے حد شور سنا تھا ۔۔۔۔
سالار اسکے پاس بھاگتا ہوا پہنچا ۔۔۔
اسکے آگے ہاتھ بڑھایا
نہیں” زیمل نے جلدی سے انکار کیا
پلیز نہ ۔۔” سالار نے پیار سے کہا
سالار مجھے شرم آتی ہے آپ ۔۔ ہی یہ اوچھی حرکتیں کریں” زیمل نے کہا اور ہاتھ دور کیے ۔۔
سالار دل کھول کر ہنسا اور زیادہ فورس کیے بنا وہ ۔۔ سٹیج پر۔ آگیا ۔۔
شی از ٹو روڈ ” سالار نے منہ بنایا ۔۔۔
سب ہنسنے لگے ۔۔۔۔۔
LONDON I want to hear your heart’s content
سالار کی آواز پر ۔۔۔۔ سب پھر سے پرجوش ہو گئےاور اسنے مائیک ایکدم اٹھا کر لبوں کے قریب کیا ۔۔۔
ہزاروں کی تعداد میں لوگ تھے ۔۔
مگر لوگوں کی بھیڑ میں ۔۔۔۔ ایک شخص جو۔ لوگوں کے دھکے مکوں سے ۔۔۔ پریشان ہو رہا تھا ۔۔۔
پر نظر پڑی
سالار پتھر کی مانند منجمند رہ گیا ۔۔
لوگوں نے آخری لفظ ۔۔
بابا مائیک میں سنا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے