Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 56

سالار کے لیے یہ کنسرٹ اسکی زندگی کا بہترین کنسرٹ تھا ۔۔
سب اسکے ساتھ تھے ۔۔وہ سٹیج پر کھڑے ہو کر کراؤڈ پر نظر دوڑاتا تو ۔۔۔ ایک طرف مسکراتا باپ دیکھائی دیتا جو اپنی مسکراہٹ کو ۔۔اپنے مزاج کے غصے میں چھپانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔ایک طرف ماں دیکھتی جس کی آنکھیں ۔۔۔۔ اسکے چہرے کی خوشی دیکھ کربھیگ گئیں تھیں ۔۔۔ تین بھائ تھے ۔۔۔ بڑے کی آنکھوں میں محبت کا اپنے لیے جہان دیکھتا ۔۔ جبکہ دونوں چھوٹوں میں جوش۔۔ کمال تھا ۔۔۔۔
بھابھی تھی ۔۔۔ بہنیں تھیں ۔۔۔۔
اور جب اپنے پہلو میں دیکھتا تو اسکی محبت تھی ۔۔۔۔
ہاں یہ غم بڑا تھا کہ عمر کے اس حصے میں وہ یہ جان سکا تھا کہ اسکا باپ جس کی اسنے مانی ۔۔ جس کو اپنا آئیڈیل سمجھا وہ اسکا حقیقی باپ نہیں یہ دل پر جیسے زخم کیطرح تھی بات ۔۔۔ مگر وہ ان چہروں میں خوشیوں کو اپنے دل پر لگے زخم کی وجہ سے کھو نہیں سکتا تھا ۔۔
یہ کنسرٹ ۔۔۔۔ اسکا شاندار کنسرٹ تھا ۔۔ اسکا جوش ولولہ ہی الگ تھا ۔۔ ایک ادا تھی جو لندن میں وہ ۔۔اس رات اتار آیا ۔۔۔ تھا ۔۔۔۔
آسمان ۔۔۔۔ پر چاند طرح اسکا نام چمک اٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔
اور اسے ان رشتوں کے لیے اپنی تکلیف کو ایک طرف رکھنا پڑتا تو وہ بلکل ایسے ہی کرتا ۔۔ وہ اس بیوقوفی سے ان پیاروں کو نہیں کھو سکتا تھا
جو اسکے خوش ہونے سے خوش ہوں اور اس کے اداس ہونے سے اداس وجہ سگے یہ سوتیلے کی نہیں تھی یہ اپنے یہ غیر کی نہیں تھی وجہ اپنائیت اور خلوص کی تھی جو اسنے کی تھی ۔۔۔
ماں سے ۔۔۔اپنے باپ سے ۔۔۔۔۔
اور وہ ۔۔ انھیں کے ساتھ رہ کر خوش رہ سکتا تھا ۔۔۔۔۔
اس کنسرٹ کے دوران اسنے ایک بار آسمان کی جانب دیکھا ۔۔
یہ آخری کنسرٹ تھا ۔۔۔
یہاں وہ طے کر چکا تھا وہ آج کے بعد کبھی گائے گا نہیں ۔۔۔۔
کیونکہ ۔۔۔۔ مرتضی اکثر اس بات پر بضد ہوتے تھے کہ وہ یہ پرفیشن چھوڑ دے۔۔اور جب سے ایک سال وہ ان سب سے دور رہا تو نہ جانے کس کس لمہے وہ ۔۔اپنے پرفیشن کی وجہ سے خود کا دم گھٹتا محسوس کرتا رہا تھا ۔۔۔ کتنی بار دل کرتا تھا سب چھوڑ کر پلٹ جائے ۔۔۔۔۔
اور جب اسے ۔۔ سب مل رہا تھا ۔۔۔۔
اللہ ایک بار اسے پھر اسکے اپنوں میں بھیج رہا تھا ۔۔۔۔۔
تو وہ سب چھوڑ سکتا تھا ۔۔ یہاں اپنی کامیابی اپنی شہرت سب ۔۔۔
کیونکہ اسے ۔۔ رشتوں کی تلاش تھی ۔۔۔۔
اور یہ رشتے اسکے لیے سب تھے ۔۔۔
وہ لمہہ بھی دور نہیں رہنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
وہ جانتا تھا اس فیصلے سے شاید مرتضی اسکی پیشانی چوم لیں ۔۔۔۔
اور وہ انکے چہرے پر یہ خوشی دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔
پھر تھی اسکی محبت ۔۔۔۔۔
خوبصورت بیوقوف ۔۔۔۔۔
اسکے بنا توشاید سانس بھی اب محال تھی ۔۔۔ اسنے زیمل کو مسکرا کر چاہت سے دیکھا ۔۔۔۔۔
اور ۔۔۔ لندن کی فضا میں یہ آواز گونجی تھی ۔۔۔۔
Life is more beautiful than the beauty of a red inchal
…………….۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حالانکہ زین کی خواہش تھی کہ اسکی شادی یہیں لندن میں ہو مگر مرتضی کے جھٹکنے سے ۔۔ وہ منہ بسور گیا ۔۔۔۔
کیونکہ مرتضی واپس لوٹنا چاہتے تھے ۔۔۔
اپنے گھر ۔۔۔۔ اور وہ ان سب کو آرڈر دے چکے تھے ۔۔۔ سالار کی کنسرٹ کی رات ہی سب کی صبح کی فلائٹ کی ٹکٹس بک ہیں ۔۔ تو سب تیاری کر لیں ۔۔۔
کچھ لوگوں کی ہنی مون کی خواہش بھی دم توڑ گئ جس میں عارض اول نمبر پر تھا
۔ البتہ آیت بہت خوش تھی ۔۔۔ کیونکہ اسکی انھیں حرکتوں نے ایک بار اسے پھر مشکل میں ڈال دیا تھا ۔۔
یعنی نور کا بہن یہ بھائ آنے والا تھا ۔۔ اور لندن آنے سے پہلے ہی اسے یہ خبر ملی تھی عارض تو بے حد خوش تھا البتہ آیت شرمندہ سی تھی ۔۔۔
جبکہ نین نے اسے خوب چھیڑا تھا ۔۔۔۔
البتہ ساتھ ساتھ صاف لفظوں میں کہہ بھی دیا کہ وہ تو ایک بچے سے ہی تھک گئ ہے ۔۔ دوسرے کا ابھی کوئ چانس نہیں ۔۔۔۔ جبکہ سالار نے زیمل کے کانوں میں ساری فلائٹ ایک ہی بات کہہ کہہ کر دھوائیں نکال دیے تھے ۔۔۔۔
یہاں تک کے اسنے ۔۔ کوشش کی کہ وہ سیٹ بدل لے ۔۔ مگر اسکے چنگل سے نکلنا کوئ آسان کام تھا ۔۔۔۔
مرتضی نے اپنی فیملی پر مسکرا کر نگاہ ڈالی تھی ۔۔۔ انکے سارے بیٹے اپنی بیویوں کے ساتھ بیٹھے تھے انکی اپنی بیوی اب بھی ان سے ناراض تھی مگر بیٹھیں انھیں کے ساتھ تھیں اور یہ سالار کی بدولت تھا ۔۔۔
اسنے ضد کرکے سب کی سیٹ مینیج کی تھیں ۔۔ جبکہ خود وہ سب سے اینڈ میں بیٹھا تھا تاکہ سب پر نظر رکھے مگر کوئ اسپر نگاہ نہ ڈال سکے اسکی چلاکی پر کبیر نے داد دی تھی جسے اسنے مسکرا کر قبول کیا تھا ۔۔۔
تمھارے سے زیادہ ۔۔ بے ہودہ آدمی پیدا ہی نہیں ہوا ۔۔” کبیر نے اسکی ڈھٹائی پر گھورا ۔۔۔
عارض ہو چکا ہے بگ برو ۔۔۔ ڈونٹ وری اپنی اور اسکی سپیڈ دیکھ لو ” کبیر جانتا تھا اسکی بات کا رخ کیا ہے ۔۔۔
شرم ورم ہے تم میں بابا نے سن لیا تو یہیں الٹا ٹانگ دیں گے “
۔
اب اس میں الٹا ٹانگنے کی کیا بات ہے ۔۔ یار شرطیہ بات ہے ۔۔ میں تو کہہ رہا ہوں مما بابا کی صلہ کراتے ہی نہیں مجھے خطرہ ہے ۔۔ ان دونوں سے ” وہ آنکھیں گھما کر بولا ۔۔۔
زین تو اپنی ہنسی روکنے کے چکر میں سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔ جبکہ کبیر نفی میں افسوس سے سر ہلانے لگا جبکہ عارض نے اسکا شانہ تھپتھپایا تھا ۔۔۔۔
بہت گھیرہ سوچا ہے بھیا آپ نے ” عارض کا قہقہہ اٹھا ۔۔ توسب نے انکیطرف دیکھا خاص کر انکی بیویوں نے ۔۔۔
لگا تھا عرصے بعد وہ سب اکٹھے ہوئے ہیں ۔۔۔
تم سب بیٹھو گے یہ نہیں ” مرتضی نے پلٹ کر زرا روعب سے کہا ۔۔۔۔
وہ سب شرافت سے بیٹھ گئے ۔۔۔۔
جبکہ سالار نے زیمل کا ہاتھ تھام کر ۔۔۔ نرمی سے چھوا ۔۔
سالار” وہ سٹپٹا کر اپنا ہاتھ اس سے چھڑانے لگی جبکہ نگاہ ادھر ادھر بھی تھی ۔۔۔
میڈیم میں آخر میں اسی لیے بیٹھا ہوں تا کہ میرا رومینس کوئ دیکھ نہ سکے تو۔۔ ایزی رہو اور جو میں کرنا چاہتا ہوں کرنے دو ” وہ بولا اور زیمل کے کان کے نزدیک جھکا
م۔۔مگر کوئ پلٹ بھی تو سکتا ہے ۔۔ پلیز آپ دور ہوں ” وہ گھبرا کر بولی ۔۔۔
سب چاہتے ہیں کوئ انکی طرف نہ دیکھے اگر تم چاہتی ہو میں سب کے رومینس میں گھس جاؤں تو بتا دو “وہ ایکدم سیدھا ہوگیا ۔۔۔
تو اسنے ۔۔۔ جلدی سے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔
پلیز ۔۔۔۔ کسی کو تنگ مت کیجیے گا ” زیمل نے کہا جبکہ سالار نے ہنس کر ۔۔اسکا چہرہ تھام لیا ۔۔
اسکے خطرناک ارادے اسکی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے
نہیں سالار” زیمل نے ہونٹوں کو دانتوں میں دبا لیا ۔۔۔۔
سالار نے اسکے گال پر لمس بکھیرا ۔۔۔
اور ایک دم اس سے دور ہوا ۔۔
البتہ زیمل چکرا ہی گئ ۔۔۔
تھی
۔۔
دور رہو مجھ سے ۔۔۔ ایسی مشکل بنا کر آ جاتی ہو بار بار چپکنے کا دل کرتا ہے ” وہ چیڑ کر بولا ۔۔ زیمل نے اسے ۔۔ دیکھا ۔۔۔
ڈرامے” وہ سر جھٹک کر بولی ۔۔
تمھارے ڈرامے تو نکالتا ہوں نہ میں ۔۔ اور زبان چلاؤ بعد میں مت کہنا پلیز سالار پلیز ۔۔۔ “
اچھا اچھا” زیمل سرخ رہ گئ ۔۔۔۔۔
وہ تو بنا لحاظ کے چلے ہی جا رہا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تم سوچ بھی نہیں سکتی ۔۔۔ میں کتنا خوش ہوں ” آیت کے شانے پر ہاتھ رکھ کر عارض نے اپنی بیٹی کا گال چھوا تھا
اور آپ جانتے ہیں میں کتنی پریشان ہوں عارض مجھ سے تو نور بھی نہیں سنبھلتی ” وہ بے چارگی سے بولی ۔۔۔
اے سنو شرافت سے جتنے سالار بھیا کے بچے ہوں گے اتنے ہی میرے ہوں گے ۔۔ خبردار ۔۔ جو مجھے روکا “
میری بھی کوئ ولیو ہے عارض صاحب ” آیت نے آنکھیں گھما کر دیکھا
میری موٹی سر آنکھوں پر تمھاری ہرادا ۔۔” وہ آنکھ دبا کر بولا ۔۔ آیت نے گھورا ۔۔۔۔
جبکہ دونوں ہنس دیے ۔۔۔۔
ہر گزرتا دن دونوں کو ایک دوسرے سے مزید قریب ترین کرتا جا رہا تھا ۔۔
آیت نے اطمینان سے ۔۔ اسکے شانے پر سر رکھ کر آنکھیں موند لیں تھیں
وہ اب گھبراتی نہیں تھی نہ ہی بابا کو یاد کرتی تھی کیونکہ اب اسے ضرورت نہیں تھی
اسکے پاس اسکی زندگی کا سب سے خوبصورت رشتہ تھا ۔۔ اب کوئ اسے چاہیے تھا
نہیں کوئ نہیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر آپکی بیٹی کے علاؤہ اس جہاز میں میں بھی بیٹھی ہوں ” نین نے زرا خفگی سے کہا ۔۔۔
میری جان آپ تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہی ہیں یار ۔۔ بیٹی سے پیار کر رہا ہوں تب بھی جلن ہو رہی ہے ” وہ ہنسنے لگا ۔۔۔۔
جلن کی بات نہیں ہے ٹھیک ہے کریں بیٹی سے پیار اچھے سے کر لیں کبھی کچھ رہ نہ جائے” وہ بولی اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔۔
کبیر نے نیند میں جھولتی اپنی بیٹی کو ۔۔۔ گود میں لیٹا لیا اور گود میں لیٹتے ہی وہ ۔۔ سو گئ ۔۔ جبکہ کبیر نے نین کا شانہ ہلایا
کبیر مجھے بات نہیں کرنی” نین نے صاف ہری جھنڈی دیکھائی
دیکھو مجھے بھی فیل ہو رہا ہے عارض کتنا تیز نکلا ہے جبکہ میں اور سالار” وہ افسوس سے بولا ۔۔
کوئ شرم کریں یہ کوئ جگہ ہے ایسی باتوں کی ” نین نے گھورا ۔۔۔
واللہ اچانک شرمایا جا رہا ہے ۔۔ خیر مجھے یقین ہے ۔۔ میرے سارے شریف بھائ اسی موضوع پر بحث کر رہے ہیں ” وہ بولا
نین نے اپنی ہنسی روکی ویسے وہ جانتی تھی سالار سے تو یہ ہی امید تھی کہ وہ کسیے جل بھن گیا تھا ۔۔۔۔
یہ جان کر کہ عارض ایک بار پھر سے باپ بننے والا ہے جب کہ وہ چاہتا تھا سب نے عجیب ریس لگا لی تھی ۔۔۔
وہ کبیر کیطرف دیکھ کر ہنسنے لگی
مجھے بھی اس ریس میں حصہ لینا ہے” وہ معصومیت سے بولا
ہاں اتنے ہی بڑے نوشہ میاں ہے شریف زادے ۔۔۔ جانتی ہوں میں کتنے خطرناک ہیں آپ ” نین نے سر جھٹکا ۔۔۔۔
پراوڈ آف می “کبیر نے آنکھ دبائ
نین اسکی بے حیائ پر اسکے مکے مارنے لگی
جبکہ کبیر نے اسے خود میں بھر لیا ۔۔
میں بہت خوش ہوں ” وہ بولا اپنی بیٹی کو بھی پیار سے دیکھا تھا
جانتی ہوں ۔۔ سالار بہت اہم ہے آپ سب کے لیے ” نین نے کہا تو ۔۔۔ کبیر نے سر ہلایا ۔۔۔۔
پہلے بھی بہت تھا اور اب تو ۔۔ بے حد ہو گیا ہے ” وہ بولا ۔۔۔ تو نین نے سر ہلا دیا ۔۔۔۔
جیسے وہ مان گئی ہو کہ انکے رشتے آپس میں بہت مظبوط تھے
مرتضی ایک تناور درخت تھے جبکہ انکی چار شاخیں اور ایک شاخ بھی انکے تن سے جدا نہیں ہو سکتی تھی نہ ہونا چاہتی تھی ۔۔۔۔
………………..
رمشہ زین کا پھولا ہوا منہ دیکھ رہی تھی مگر وہ سمجھہ نہیں پا رہی تھی کہ منہ پھولنے کی وجہ کیا ہے
اسنے ایک بار پھر سے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
اب کے زین نے بھی دیکھا ۔۔
رمشہ نے نگاہ پھیر لی ۔۔
ایک بار شادی ہو گئ نہ یہ نظروں کی ہیرہ پھیری اچھے سے سیکھا دوں گا ” وہ اسکا ہاتھ اپنے ہاتھ میں جکڑتا زرا غصے سے بولا ۔۔۔
زین ” رمشہ نے ہاتھ چھڑانا چاہا
کوئ دیکھ لے گا ” وہ پریشان ہوئ
دیکھتا رہے ۔۔ بیوی ہو میری تم جب میں کہہ رہا تھا کہ تم میرے ساتھ بیٹھو گی تو تمھیں کیا دورے پڑے تھے ۔۔۔ بھائیوں کے ساتھ بیٹھنے کے ” وہ زرا بگڑے تیروں میں بولا ۔۔۔
تایا ابو کیا سوچتے۔۔ایسے آپ تو ۔۔ بے حیائ سے بول گئے تھے ” رمشہ نے اسے شرم دلائی
واہ واہ ۔۔۔ تایا ابو کے پاس اپنی بیوی ہے تو وہ جو بھی سوچے ہمارے بارے میں ۔۔ ویسا ہی سوچتے جیسا سوچا جا سکتا ہے ۔۔۔
بات اتنی ہے کہ ۔۔۔ ایک منٹ بھی گھر لوٹ کر میں انتظار نہیں کروں گا ” وہ بگڑا بگڑا جا رہا تھا
۔۔
رمیشہ نے اپنی ہنسی روکی ۔۔۔
ہنس کیوں رہی ہو یہ ولیو ہے میری میں غصہ کر رہا ہوں خود ہنس رہی ہو ” وہ غصے سے بولا ۔۔
نہیں ۔۔ بس سوچ رہی ہوں ۔۔ بچپن سے لگتا تھا تایا ابو کے سارے بیٹے دماغ سے کریک ہیں آج پتہ نہیں کیوں یقین ہو گیا ہے ” اسنے منہ پر ہاتھ رکھا ۔۔
اور ونڈو کیطرف چہرہ موڑ لیا ۔۔۔
یہ کریک شخص رومینس بھی میڈنسی سے کرتا ہے ۔۔ جسٹ لیٹیل ویٹ اینڈ واچ ” اسنے ۔۔ اسکے کان میں دھیرے سے کہا
رمشہ کا دل زور سے دھڑکا تھا
زین البتہ دور ہو گیا اسکے بھائ اسے بم سے اڑاتے یہ نہیں باپ ضرور اڑا دیتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ سب گھر پہنچ گئے تھے ۔۔ مرتضی ہاؤس کی خوشیاں لوٹ آئیں تھیں ۔۔۔۔
پورے گھر کی رونق لوٹ آئ تھی ۔۔۔
اور آتے ساتھ ہی زین کی شادی کی تیاریاں شروع ہو گئ تھیں ۔۔۔۔
جس میں سب بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے کیونکہ سب بہت خوش تھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعیر اور اسکا باپ اپنا گھر چھوڑ کر کنیڈا کی فلائیٹ کے لیے پیکنیگ کر رہے تھے کیونکہ وہ دنوں پاکستان سے ہمیشہ کے لیے چلے جانا چاہتے تھے ۔۔
وہ دونوں حال میں آئے ۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کیطرف دیکھا
سنا ہے کہ سلاار لوٹ آیا ہے ” سعیر کے باپ نے اسے بتایا
مجھے ان سے غرض نہیں۔
اور سالار کے اصل باپ کا کیا کیا ہے تم نے ” انھوں نے پھرسے پوچھا
سالہ لالچی تھا۔۔۔اسے تو۔۔۔ دفع کر دیا میں نے خیر ۔۔ چلیں ” وہ بولا ۔۔۔اور اس سے پہلے وہ لوگ باہر نکلتے ۔۔
مرتضی صاحب اپنی شاہانہ چال چلتے سامنے سے داخل ہوئے انکے پیچھے ۔۔۔ کبیر ایک طرف سنجیدہ چہرہ لیے جبکہ دوسری طرف سالار مرتضی بے حد شاندار پرسنلٹی کے ساتھ غضب جلال چہرے پر لیے ۔۔۔۔
جبکہ پیچھے زین اور عارض کے چہرے ویسے ہی تھے ۔۔
سالار نے انکے حیران و پریشان ۔۔۔ چہروں پر مکے برسا دیے ۔۔۔ جیسے۔۔۔۔ بنا روکے بنا کچھ سوچے سمجھے وہ سعیر پر ایسے تل پڑا ۔۔ جیسے کوئ جنگلی شیر اپنے شکاری کو چی پھاڑ دے جبکہ ۔۔ کبیر عارض اور زین ۔۔ بھی اسکے باپ کو پیٹ ڈال چکے تھے
سالار بنا سانس لیے سعیر کو مار رہا تھا ۔۔ جیسے وہ ۔۔اپنے اندر کی تکلیف کو ختم کر دینا چاہتا ہو۔۔ یہ وہ شخص تھا جو اسکے سامنے یہ حقیقت لایا تھا
کاش وہ چھپا کر رکھتا اور اسے آخری سانس تک بھی پتہ نہ چلتا کہ وہ کسی اور کا بیٹا تھا مرتضی کا نہیں ۔۔۔۔
مگر یہ شخص اسے ساری عمر کی تکلیف دے چکا تھا تبھی ۔۔ سالار۔۔ نے اسکی جان پر بنا دی تھی یہاں تک کے وہ آدھ مرا ہو گیا ۔
مرتضی نے اسے دور کھینچا ۔
لوگوں کے پیسے ماریں ہیں ان دونوں نے باقی بدلہ ان سے پولیس کے گی “
مرتضی بولے۔۔ سالار نے سعیر پر تھوک دیا ۔۔
یہ اصلیت ہے سالار مرتضی کی اور یہ اصلیت ہے سعیر کی ۔” وہ دھاڑا تھا ۔۔۔ اسکو نخوت سے دیکھا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے