Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 31
No Download Link
Rate this Novel
Episode 31
سمیر کا دباؤ مرتضی پر بڑھنے لگا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بیمار پڑ گئے
انکی خراب طبعیت پر سب پریشان ہو گئے جبکہ ۔۔مرتضی کسی کو یہ بات بتا نہیں سکتے تھے ۔۔۔۔۔
انھیں اس بات کے کھلنے پر اپنے دل پر تیر چلتے محسوس ہو رہے تھے بلکل خاموش سے ہو کر وہ کمرے کی حد تک رہ گئے تھے ۔ سالار کو گئے ہوئے تین دن گزر چکے تھے جبکہ وہ پانچ دن کا کہہ کر گیا تھا تا کہ اپنا کام پورا کرکے ایک بار ہی واپس لوٹے ۔۔۔
مگر ایک بار بھی مرتضی نے اسے فون نہیں کیا تھا ۔۔۔
جیسی انکی عادت اور طبعیت تھی دوسری طرف کبیر ۔۔۔ کے ہاں خوشخبری کا کنفرم سن کر بھی وہ بس مسکرا کراسکے شانے پر ہاتھ رکھ گئے ۔۔ جبکہ کبیر زرا مایوس سا ہو گیا ۔۔۔
اسکے دماغ میں یہ چل رہا تھا کہ ابھی تک اسکے باپ نے نین کو قبول نہیں کیا تھا ۔۔۔
عارض زیادہ تر باہر رہنے لگا تھا ۔۔ آیت اس بات پر ۔۔ غصہ کرتی تو وہ اسے پیار سے منع لیتا ۔۔ مگر حیران عارض بھی تھا کہ اسکے باپ نے اب تک اس چیز پر ہنگامہ نہیں مچایا ۔۔
جبکہ زین اپنی سوچوں میں گم تھا کہ وہ کیسے مرتضی کو کیے کہ وہ ٹرینیگ کے لیے جانا چاہتا ہے ۔۔سب ہی مرتضی کی خاموشی کو محسوس کر رہے تھے مدیھا نے بارہا پوچھا کہ وہ انکو تو بتائیں آخر مسلہ کیا ہے ۔۔
سالار نے مدیھا کے پاس فون بھی کیا تھا کہ بابا کا فون کیوں نہیں لگ رہا ۔۔۔ تو مدیھا نے اسکو انکی طبعیت کی خرابی کا بتایا جس پر وہ بے چین ہو گیا اور جلد واپس لوٹنے کا کہا ۔۔
کبیر غمزدہ سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ کہ اسکا باپ اسکی خوشی میں خوش نہیں ۔۔اور رشتوں میں کندے لوگ یا رشتوں سے محبت اور امیر دیکھنے والوں کے لیے اپنے رشتوں کی خوشی سب سے اہم ہوتی ہے ۔۔جب آپکی خوشی میں وہ شخص خوش نہ ہو جس کو اپنے آئیڈیل سمھجتے ہیں ۔۔۔۔ توآپ کےلئے اپنے سے جڑی ہر خوشی بے معنی ہو جاتی ہے اور یہ ہی حال کبیر کا تھا ۔۔ وہ خود بھی ان تین دنوں میں بے حد خاموش ہو گیا تھا جبکہ نین سوچ رہی تھی ۔۔ کہ وہ اب بھی اس سے بدظن بدگمان ہے اسے اپنی اولاد کا سن کر کوئ خوشی نہیں ہوئ ۔۔۔۔
اور یہ ہی بات اسے اندر اندر ٹیشن کر رہی تھی وہ اس سے بات بھی کرتی تو اتنا نارمل اور ٹھنڈے لہجے میں جواب دیتا کہ ۔۔ نین چپ سی رہ جاتی۔۔ اکثر اسنے کبیر سے معافی مانگنے کی کوشش کی تھی۔۔۔ مگر وہ آج کل کام میں زیادہ مصروف تھا یہ مصروف ظاہر ہونے کی اداکاری کر رہا تھا جو بھی تھا نین ان کچھ دنوں میں بے حد تکلیف محسوس کر رہی تھی کبیر کے رویے سے ۔۔
عارض بابا سے ملا انکی طبعیت پوچھیں اورکن انکھیوں سے انکی طرف دیکھا۔۔ وہ کل رات گھر نہیں آیا تھا جس کا انھیں علم تھا مگر وہ کچھ نہیں بولے تھےکوئ سوال نہیں کیا تھا ۔۔
عارض کو سمھجہ نہیں آئ مدیھا نے عارض کیطرف دیکھا اور عارض نے ماں کیطرف دونوں کی آنکھوں میں ایک جیسا سوال تھا جواب دونوں کے پاس ہی نہیں تھا عارض کچھ دیر بیٹھا رہا کہ وہ کچھ بولیں مگر مرتضی کچھ نہیں بولے تو تشویش بڑھنے لگی ۔۔۔
عارض ماں کو ایک نظر دیکھ کرانکے پاس سے اٹھ گیا۔۔
پریشانی کی لکیریں اسکے ماتھے پر سجی تھیں ۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں آیا ۔۔۔۔ تو آیت کو صوفے پر بیٹھے دیکھا شاید وہ نماز پڑھ کر بیٹھی تھی کیونکہ اسکے خوبصورت چہرے پر نماز کے انداز میں دوپٹہ بندھا تھا ۔۔ وہ کافی ہیلدی بھی ہو گئ تھی ۔۔
اٹھتی بیٹھتی بھی اب زرا ۔۔ سہارے سے تھی ۔۔
عارض کووہ دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی لگی ۔۔وہ مسکرا دیا ۔۔
کہاں تھے آپ ” آیت نے دوپٹہ کھول کر اسکیطرف دیکھا۔۔۔۔
عارض اسکے نزدیک آ گیا ۔۔
میں تو تمھارے ساتھ ہی ہوں ۔۔ بھلے تم سے دور کیوں نہ ہوں ” اسنے جیسا جواب دیا ۔۔ آیت نے ایک دم اسکیطرف دیکھا ۔۔
آپ مجھ سے دور نہیں جا سکتے۔۔۔۔ تو ایسا مت کہیں ” وہ سنجیدگی سے بولی ۔۔ اور اسکے ہاتھ تھام لیے ۔۔
افکورس یار میں تمھارے پاس پاس ہی ہوں کہاں جاؤ گا تمھیں چھوڑ کر”اسنے پیار سے اسکا گال تھپتھپا یا ۔۔۔
بات مت ٹالیں کہاں تھے آپ رات بھر آپ جانتے ہیں میں کتنا پریشان تھی میں ایک پل کو نہیں سوئی عارض “آیت اسکے پاس بیڈ پر بیٹھ گئ جو جھک کراپنے شوز اتار رہا تھا ۔۔۔
ایک دوست کیطرف تھا “عارض نے کہا ۔۔۔
۔مجھے کھانا دے دو ۔۔۔۔ بابا کی فکر الگ ہو رہی ہے نہ جانے کیا ہو گیا ہے انکو ” وہ پیچھے گر گیا ۔۔ پیٹ پر ہاتھ پھیلا کر
کچھ اسطرح کے ٹانگیں اسکی بیڈ سے نیچے تھیں جبکہ باقی وجود بیڈ پر تھا ۔۔۔۔
آیت نے سکیطرف دیکھا وہ اس بات کو اہمیت ہی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کل رات اسکے لیے کتنا پریشان رہی تھی ۔۔اور اتنے آرام سے بس دوست کیطرف کہہ کر ۔۔۔ وہ آنکھیں بند کر گیا تھا ۔۔۔۔
عارض” آیت نے اسکے سینے پر ہاتھ رکھا اور ایسے بولی ۔۔کہ عارض نے لمبا سانس کھینچا تھا مگر آنکھیں نہیں کھولیں ۔۔۔۔
آیت خود ہی اسکے سینے پر جھک گئ ۔۔ قریب سے غور سے اسکا چہرہ تکنے لگی ۔۔۔
مجھے آپ پر یقین ہے ۔۔۔ بس میں پریشان تھی آپ لیے ۔۔میں آپ پر پابندیاں نہیں لگا رہی کہ آپ کہیں نہ جائیں ۔۔بس بتا دیا کریں تاکہ فکر ۔۔۔ نہ ہو ۔۔۔ پلیز ” وہ پیار سے اسکے چہرے پر انگلی سے ۔۔سطر کھینچتی بول رہی تھی ۔۔
عارض نے آنکھیں کھول کر اسکو دیکھا ۔۔۔
اور سختی سے دوبارہ آنکھیں بند کر لیں ۔۔
آیت اسے دیکھتی رہی ۔۔ لبوں پر مسکراہٹ تھی ۔۔
عارض نے پھر سے آنکھیں کھولیں ۔۔
آپ جب جب آنکھیں کھولیں گے ۔۔ مجھے ہی پائیں گے اپنے سامنے” وہ ہنس دی۔۔۔
اب کھانا دو گی” وہ بولا
۔۔ تو آیت کا چہرہ ایکدم اتر سا گیا ۔۔۔۔ جبکہ چہرے پر سرخی چھا گئ ۔۔۔۔
وہ میں بس “اسکی تلخ کلامی پر وہ رو دینے کو تھی ۔۔۔
جاؤ آیت مجھے کھانا لا دو پلیز ۔۔” عارض جھنجھلا کر بولا ۔۔
روایت جلدی اٹھ گئ ۔۔
دھیان سے ” اچانک وہ بولا ۔۔اور سر اٹھا کر اسکیطرف دیکھا۔۔
آیت نے عارض کی جانب دیکھا ۔۔ اس وقت اسکا دل کر رہا تھا ۔۔ رو دے مگر
۔ سر ہلاتی وہ وہاں سے چلی گئ جیسے وہ بری طرح کنفیوز وہ سمھجہ نہیں آ رہی تھی یہ کیا ہوا عارض کو
مگر جلد ہی اسکی تھکاوٹ کا سوچ کر اسنے خود کو فریش کیا عارض کے لیے کھانا نکالنے لگی ۔۔ تبھی نین کچن میں آ گئ ۔۔۔
بھابھی ۔۔ آپ نے زیمل بھابھی کو دیکھا ہے “آیت نے اسکیطرف دیکھا جو اپنے لیے چائے بنانے لگی تھی ۔
نہیں میری بھی طبعیت ٹھیک نہیں تھی ۔۔ میں تو کمرے میں تھی صبح سے ہی ۔۔”نین کپ میں چائے انڈیلتی بولی۔۔
دیکھیں زراجب سے سالار بھائ گئے ہیں غائب ہی ہو گئیں ہیں مجھے تو سمھجہ نہیں آتی وہ اتنا ڈرتی کیوں ہیں”آیت نے نفی میں سر ہلایا ۔۔ جبکہ نین نے بھی سر ہلایا ۔۔۔
ویسے آپ رات میں چائے پیے گئی تو جاگتی رہیں گی ” آیت نے مسکرا کراسکیطرف دیکھا نین نے بھی اسکیطرف نگاہ اٹھائ ۔۔
کیا بتاتی اسکو ۔۔جو وہ محسوس کر رہی تھی ۔۔ اسکی راتوں کی نیندیں ہی اڑ گئیں تھیں ۔۔
اسکا گال تھپتھپا کر نین وہاں سے ۔۔۔ باہر نکل کر کمرے میں آ گئ جبکہ ۔۔۔ آیت بھی ٹرے میں کھانا لگا کر ۔۔۔ وہاں سے نکلی اور اوپر روم میں آئ تو دروازے کے باہر سے ہی اسے عارضکی آواز آ رہی تھی
وہ شاید کسی سے بات کر رہا تھا مگر اتنے غصے میں کیوں تھا ۔۔وہ لفظوں پر توجہ دیے بنا اندر داخل ہوئ تو عارض نے ایکدم اسکیطرف دیکھا ۔۔۔عارض کا چہرہ بری طرح سرخ ہو رہا تھا آیت اسکو دیکھ کر گھبرا گئ ۔۔
عارض ۔۔” وہ اسکیطرف بڑھی ۔۔
عارض نے سیل فون آف کر دیا
اور ضبط سے اسکو دیکھا ۔۔
آیت اگر میں فون پر بات کر رہا ہوں تو تمھارا بولنا بیچ میں ضروری ہے”وہ سپاٹ لہجے میں غصے سے بولا ۔۔۔
آیت جو اسکیطرف بے تابی سے بڑھ رہی تھی وہیں رک گئ ۔۔
اسکا سخت لہجہ بلکل ویسا ہی تھا جیسے پہلے ہوتا تھا ۔۔ آیت کے چہرے پر تکلیف کے آثار سے ابھرے۔۔اور وہ انھیں قدموں سے کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔
جبکہ عارض ۔۔۔۔ نے اپنا سر تھام لیا ۔۔
اور پاؤں سے ٹیبل پر زور سے لات ماری۔۔۔۔
جیسے سارا غصہ ٹیبل پر نکال دینا چاہتا ہو۔۔۔۔ ٹیبل پر سے سامان گر گیا تھا ۔۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھ گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت ڈبڈباتی آنکھوں سے ۔۔۔۔ اپنے کمرے میں آ گئ ۔۔۔اسے لگا یہاں زیمل ہو گی مگر کمرے کو خالی دیکھ کر وہ حیران ہوئ یہاں زیمل نہیں تھی ۔۔۔ مگر وہ تادیر نہیں سوچ سکی کیونکہ ۔۔۔ اسکا دل ٹوٹ گیا تھا ۔۔عارض کا رویہ اسکے ساتھ دوبارہ سے پہلے جیسے ہو رہا تھا ۔۔۔ اور آیت کا دل بیٹھ رہا تھا یہ سوچ سوچ کر ۔۔
وہ بیڈ پر بیٹھ کر رو دی ۔۔۔۔
جبکہ کمرے کو تالا بھی لگا دی ۔۔ کچھ دیر بعد اسے ۔۔۔ محسوس ہوا دروازے پر کوئ ہے ۔۔آیت” عارض کی آواز ائ۔۔۔
مجھے آپ سے بات نہیں کرنی جائیں یہاں سے ” آیت نے کہا ۔جبکہ آنسو صاف کیے ۔۔۔۔
بھولو مت میڈیم ۔۔۔ تمھارے
کمرے میں تالے لگے ہوتے تھے پھر بھی میں گھس جاتا تھا تمھارے روم میں یاد ہے تمھیں وہ رات” وہ اسے یاد دلانے لگا ۔۔ جس رات کے بارے میں آیت سوچنا بھی نہیں چاہتی تھی کیونکہ اس رات کی ازیت وہ بیان نہیں کر سکتی تھی ۔۔
اس رات آپ نے گناہ کیا تھا ” آیت نے اسے یاد دلانہ چاہی ۔۔ تم میری بیوی تھی اور میں نے کوئ گناہ نہیں کیا تھا فلحال دروزی کھولو میرا کوئ محنت کا موڈ نہیں ” عارض نے پھر سے بجایا ۔۔
نہیں کھولوں گی ۔۔۔۔اپکا رویہ کیوں بدل گیا ہے میں کچھ دنوں سے محسوس کر رہی ہوں ۔۔آپ پہلے کیطرح جھٹکنے لگ گئے ہیں ” آیت بھیگے لہجے میں شکوہ کرنے لگی ۔۔۔
میں تھکا ہوا ہوں آیت آئ نیڈ ریسٹ وڈ یو ۔۔۔ باہر آؤ ۔۔۔” عارض جھنجھلایا ۔۔۔
آیت کو وہ اس وقت سخت مطلبی لگا ۔۔
یعنی اسے اپنے لہجے کا کوئ احساس نہیں تھا بس اسے اسکی طلب تھی ۔۔ تبھی وہ اسکے دروازے پر کھڑا تھا ۔۔
آیت نے بھی ضد باندھ لی آج تو بلکل نہیں جائے گی ۔۔۔۔
میں نہیں آ رہی میں بھی تھکی ہوئی ہوں اور مجھے آپ نہیں چاہیے ہو ” وہ بولی ۔۔ لہجہ ضدی تھا ۔۔
سوچ لو ” عوارض خراب تیوروں میں بولا۔۔۔
س۔۔سوچ لیا ” آیت گھبرا کر دروازے تک آئ مگر لبوں سے پھر بھی ضد نکلی تھی ۔۔
میں کہہ رہا ہوں ایک بار پھر سوچ لو ” عارض نے ضبط سے کہا ۔۔
میں نہیں او گی” وہ اداسی سے بولی ۔۔۔
وہ کیسے بدل گیا تھا بس چار دن پیار کرنا تھا اسنے اسکو ۔۔۔۔۔
ٹھیک ہے ” عارض نے کہا اور وہاں سے چلا گیا ۔۔ آیت کو محسوس ہوا وہ جا چکا ہے اسنے فورا دروازہ کھولا ۔۔تو باہر عارض نہیں تھا ۔۔۔ اسنے ادھر ادھر دیکھا شاید وہ چلا گیا تھا ۔۔
دل اداس ہو گیا ۔۔اسنے اسے نہیں منایا تھا ۔۔۔
آیت بھجے بھجے دل سے
۔۔ کمرے سے نکلی اور سیدھا بھاگتی ہوئی عارض کے پاس آگئ ۔۔
وہ لائٹ بند کیے بیڈ پر لیٹا تھا جبکہ ٹیبل کا واس اور کچھ چیزیں کارپیٹ پر تھیں اسنے وہ سامان اٹھایا ۔۔۔
اور عارضکے پاس آ گئ ۔۔۔
عارض ” وہ بولی ۔۔۔
آیت جبکہ یوں ہی اسکو دیکھتی رہی ۔۔اداسی سے اسکے کوئ جواب نہ دینے پر وہ ۔۔ پلٹںے لگی کہ عارض نے بڑھ کر اسکی کلائی تھامی اور اسے پیچھے بستر پر کھینچ لیا۔۔۔
آیت کی چیخ سے نکلی ۔۔
عارض کو پرواہ نہیں ہوئ ۔۔۔۔
عارض نے اسکا منہ سختی سے جکڑ لیا ۔۔۔
عا۔۔عارض مجھے ڈرلگ ۔۔لگ رہا ہے “وہ رو دینے کو تھی ۔۔
میں تمھیں آخری بار بتا رہا ہوں ۔۔۔۔ مجھ سے دوبارہ بحث مت کرنا ۔ ۔” سختی سے اسکا منہ جھٹک کر وہ بولا ۔۔
آیت کچھ نہیں بولی ۔۔۔
جبکہ وہ تادیر اسکو دیکھتا رہا اور ایکدم اسکا چہرہ اوپر کر کے وہاں اسکے چہرے پر جھکا
۔۔۔اسکی سانسوں کو قیدی بنا گیا ۔۔۔
آیت نے کوئ مزاحمت نہیں کی ۔۔۔
مگر وہ اسکو ریسپوںس بھی نہیں کر رہی تھی۔۔
عارض اسکے دونوں ہاتھ گردن میں حائل کیا
۔۔ اور ۔۔۔ اپنا جادو اسکے چارو سو ۔۔۔ بکھرنے لگا ۔۔ کچھ ایسے کے آیت بھک گئ ۔۔۔
جیسے اسکا دماغ اور وجود عارض کا غلام ہونے لگا ۔۔۔
اور وہ خود با خود نہ چاہتے ہوئے بھی اسکی پسند کے کام کرنے لگی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین کبیر کو کام کرتا دیکھتی رہی ۔۔۔۔
اور جب
۔ اسکا حوصلہ ٹوٹ گیا تو اسنے چہرہ اپنے ہاتھ میں چھپایا اور ٹانگیں سمیٹ کر رونے لگی ۔۔۔۔
وہ یہ بوجھ مزید برداشت نہیں کر سکتی تھی وہ اسکی بے رخی نہیں سہہ پا رہی تھی ۔۔۔۔
کبیر اسکے رونے پر متوجہ ہوا۔۔ پیچھے موڑ کر دیکھا ۔۔اور پین چھوڑ کر وہ اسکے پاس ایا۔۔اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔۔
اب کیا ہو گیا ہے ۔۔” کبیر نے سپاٹ لہجے میں پوچھا ۔۔۔
جبکہ نین اسکا ہاتھ پکڑ کر اٹھتی ہوئ اچانک اسکے گلے لگ گئ ۔۔
کبیر اسکا وجود دیکھ رہا تھا جو اسکے سینے سے لگا تھا ۔۔ جبکہ اسکی گردن میں چہرہ چھپائے وہ رورہی تھی۔۔۔
کبیر اسطرح مت کریں میرے ساتھ”
اس دن سے لے کر آج تک تم یہ ہی بات کہہ رہی ہو میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں میں نے تمھارے ساتھ کیا کیا ہے” کبیر نے اسکو خود سے دور کیا ۔۔
نین کی نگاہیں جھک گئیں ۔۔
تم نے مجھ پر ٹرسٹ نہیں کیا نین ۔۔ تم مجھے اب بھی اصل وجہ نہیں بتاؤ گی میں جانتا ہوں اور جب میں نے سوال شروع کیے تو
۔شاید کسی سوال کا جواب بھی نہ دے سکو “وہ اسکو جتاتا اٹھنے لگا ۔۔۔
احمد ۔۔۔ م۔۔میرا مینگتر رہ ۔۔ رہ چکا ہے ۔۔۔ ” نین نے بہت ہمت کر کے بتایا ۔۔۔
کبیر کو لگا اسکے دل میں کسی نے چٹکی سی بھری ہو مگر وہ سر نفی میں ہلا گیا ۔۔
مجھے فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔۔کیونکہ میں میری نظر میں منگنیوں اور منگیتروں کی کوئ اہمیت نہیں جو رشتہ میں نے تم سے بنایا ہے ۔۔۔۔ وہ حقیقت ہے ۔۔۔۔ اور میں اسی کو جانتا ہوں “
کبیر نے مظبوط لہجے میں کہا اپنا ہراحساس چھپا گیا ۔۔۔
نین نے حلق میں گٹھلی اتاری ۔۔۔۔۔
بس بس یہ ہی بات تھی” وہ ہر بات چھپاتی ۔۔۔ جلدی سے اسکا ہاتھ تھام گئ ۔۔
مجھے ڈر تھا کہ آپ اس بات کو مائینڈ نہ کریں ۔۔۔اور وہ اسی وجہ سے اسنے میرے ہاتھ سے گیرہ بریسلیٹ اٹھا لیا ۔۔۔
شاید وہ” نین کچھ کہتے کہتے رک گئ ۔۔
کبیر اسکی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔۔
وہ پیچھے ہٹ کر دوبارہ بیٹھ گیا ۔۔۔
آر یو شیور بس اتنی ہی وجہ ہے ” اسنے سوال کیا نین کچھ حواس بختہ سی ہوئ جی بس یہ ہی وجہ ہے ” اسنے نظریں چرا کر کہا جبکہ کبیر
۔ مسکرا دیا ہر اندیشہ جو اسکے دل میں وسوسے ڈال رہا تھا ۔۔۔ وہ دور ہو گیا وہ ایسا ہی تھا کسی کو زیادہ ٹیز نہیں کرتا تھا ۔۔
نین کو اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔
نین کو لگا وہ ایکدم صحرا سے چھاؤں میں آ گئ ہو ۔۔۔
کانپتے ہاتھوں سے اسکی شرٹ تھام لیا ۔۔
کبیر نے جھنجھلا کر اپنے شرٹ پر موجود شکنوں کو دیکھا نین ۔۔ کا ہاتھ ہٹتا چلا گیا ۔۔۔
سزا بنتی ہے اس بات پر “وہ زرا تپ کر بولا ۔۔۔۔
سوری” نین سر جھکا گئ ۔۔
نوٹ ایکسیپٹیڈ ” اسکو پیچھے دھکیل کر ایکدم وہ اسپر حاوی ہوا تھا ۔۔
نین اسکی حرکت پر ایکدم ہنسنے لگی ۔۔
ہنس رہی ہو ۔۔ابھی بتاتا ہوں “وہ اسکے چہرے پر جھکا ۔۔۔۔
ایسا لگا تھا جیسے برسوں بعد وہ وہی پیار کرنے والا کبیر ہو ۔۔۔۔
اسکا لمس جا با جا بکھرتا ۔۔ نین کو ۔۔۔ دیوانہ کرنے لگا ۔۔
آئ لو یو “وہ جزبات چور لہجے میں بولا ۔۔۔
آواز دھیمی تھی ۔۔۔۔۔
نین جھک سی گئ ۔۔۔۔ آئ وانٹ انسر” کبیر نے اسکی جانب سنجیدگی سے دیکھا ۔۔
چہرہ اسکی گردن سے نکالا ۔۔۔۔
نین نے اپنا ہاتھ اس سے چھڑایا اور اسکا چہرہ تھام لیا ۔۔۔
آئ لو یو ” آہستگی سے بلکل مدھم لہجے میں وہ کبیر کو شاید دنیا کی سب سے بڑی خوشی دے گئ تھی۔۔
واقعی”وہ سوال کرنے لگا۔۔ نین نے سر ہلایا۔۔
آنکھوں میں محبتوں کا جہان تھا ۔۔۔
یعنی میرا بچہ خوش نصیب ہے میرے لیے” وہ ہنسا ۔۔۔
جبکہ نین بھی مسکرائی ۔۔۔۔
اور کبیر نے اسکی مسکراہٹ کو ہی چن لیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ عدیل کے کمرے میں تھی ۔۔۔۔
کل رات سے
۔۔۔ اسنے کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔یہاں اسے افشین نے بند کر دیا تھا جان بوجھ کر پہلے اس سے پورے کمرے کی صفائ کرائ اور پھراسکو بند کر دیا ۔۔۔
وہ جانتی تھی ایک اور دن چڑھ گیا ہے ۔۔
آج پانچواں دن تھا ۔ وہ اسکی بے تابیاں اسکی منتظر تھی ۔۔۔اس کمرے میں بے حد اندھیرہ تھا جبکہ بھوک سے جان سوکھ رہی تھی ۔۔۔۔
ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا تھا ۔۔۔
بس وہ آج کے دن کی شام کی منتظر تھی جب شام ہو گی ۔۔اور اسکی آمد قریب ہو گی۔۔
وہ نہیں جانتی تھی زیمل کے بارے میں کوئ وہاں پوچھ رہا ہو گا یہ نہیں اگر کسی کو پروا ہوتی تو شاید اس تک پہنچاتا ۔۔۔
آج اسکے دل نے محسوس کر لیا تھا ۔۔
جس کے حقوق وہ اس عورت کے خوف سے نہیں دے پا رہی وہ ۔۔ ہی شخص صرف اسکا ہے دنیا میں۔۔اسے ہی صرف اسکی پروا ہے اور اسکی کتنی اتھارٹی ہوتی ہے جب وہ یہاں تھا تب افشین اسکے پاس بھی نہیں پھٹکتی تھی ۔۔
وہ بری طرح رو دی تھی بچوں جیسے ۔۔
جیسے کوئ بچہ خوف سے ۔۔۔۔ روپڑے جیسے کسی اپنے کی تلاش میں ہو ۔۔ بہت سارے لوگوں میں جیسے کسی مانوس ہو ڈھونڈ رہا ہو ۔۔
وہ مسلسل دعا کر رہی تھی کہ وہ آ جائے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اسنے گانا سینگ کیا تھا ۔۔۔ یہ پہلی بار تھا جو اسے نے اپنی آواز کا جادو بکھیرا تھا ۔۔اور ڈائریکٹر کا کہنا اتھا ۔۔اسکا گانا ۔۔
ٹوپ ہٹ سونگز میں شامل ہو گا اسکی پاٹنر بھی بہت خوبصورت تھی ۔۔۔ مگر سالار نے محسوس کیا تھا اسکے اندر کے فلرٹ سے بھرپور جراثیم ۔۔ اب صرف زیمل کے لیے رہ گئے ہیں ۔۔ مگر شانزے کافی فرینک تھی ۔۔اور اسکو آز آ فرینڈز ٹریٹ کرتی تھی ۔۔ تبھی وہ بھی اس سے بہت جلد کھل گیا ۔۔
اس وقت بھی شانزے ۔۔ سکون سے اسے۔۔ اپنی چوپ سٹک سے ۔۔
چاومنگ کھا رہی تھی جبکہ وہ گیم کھیلنے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
دونوں کو ہی گویا اس بات سے فرق نہیں پڑتا تھا جبکہ ۔۔ چپکے سے انکی تصاویر کھینچ لیں گئیں یہ بات دونوں ہی نہیں جانتے تھے اب دونوں ہی کسی بات پر کھل کر ہنسے ۔۔۔
تب بھی فلیش پڑا مگر انھیں اندازا نہیں ہو سکا
جاری ہے
