Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 49
No Download Link
Rate this Novel
Episode 49
وہ اسے لے کر ۔۔۔۔ اس جگہ تک پہنچا تھا جہاں سالار موجود تھا زین کا میسیج اسنے اگنور کر دیا تھا کیونکہ اس دوران زین نے اس سے ہزار بار رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی مگر سالار کیطرف سے ۔۔۔ ہر چیز پر پابندی تھی تبھی اسنے نہ چاہ کر بھی کوئ جواب دیا تھا نہ ہی کچھ کہا تھا مگر جب عارض کی بھی وہی میل آئ تو اسے سنجیدہ لگی تھی یہ بات اور وہ بس چیک کرنے کے لیے یہاں پہنچا تھا کہ آیا وہ دونوں سچ کہہ رہے ہیں اور جب سامنے زیمل کو دیکھا تو اسے غصہ آیا کہ وہ یہاں اکیلی کیوں آ گئ
لیں یہ اسکا معملہ نہیں تھا تبھی اسنے بس اتنی فیور کر دی تھی کہ جہاں سالار موجود تھا انجان بن کر وہاں چھوڑ دیتا اور اسپر واضح ہی نہ کرتا کہ وہ پہلے سے جانتا ہے
زیمل اتنے بڑے شہر کی رنگینیوں کو دیکھنے کے بجائے اپنی انگلیاں چٹخا رہی تھی جبکہ ۔۔ فیروز کچھ کچھ دیر بعد اسکے کنفیوز چہرے پر نگاہ ڈال لیتا ۔۔۔اور گاڑی کی سپیڈ بڑھا کر وہ وہاں تک پہنچنا چاہتا تھا
جبکہ اسے سالار نے اپنے ارد گرد اتنا گھیرا لیا تھا کہ اسے سر جھکانے کی فرصت نہیں ملتی تھی ۔۔۔
اب بھی چار دن بعد اسکا کنسرٹ تھا جبکہ اس وقت وہ ۔۔ ایک ہوٹل میں تھا ۔۔ جہاں اسکی ضروری میٹینگ تھی ۔۔۔اور اسکے بعد کچھ دیر ہینگ آؤٹ کرنے کے بعد وہ ۔۔ واپسی ۔۔ اپنے گھر جاتا ۔۔۔۔ جو کہ اسنے یہاں سال پہلے ہی خریدا تھا ۔۔۔ اور بے حد خوبصورت منشن تھا ۔۔۔۔
فیروز نے سارے راستے میں ایک منٹ کے لیے اس سے بات نہیں کی تھی سال بعد اسے اس بات کا خیال آیا تھا ۔۔۔۔ وہ بیوقوف تھی بزدل تھی ۔۔ ڈر پھوک تھی یہ اور بھی جو جو خطاب اسے دیے جا سکتے تھے وہ سب تھی اسے محبت کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا تھا ۔۔۔ اور فیروز کے لیے سب سے اہم سالار تھا ۔۔اور اسکے بعد اس سے ریلیٹ کرتے رشتے تبھی اسنے گاڑی ایک ہوٹل کے آگے روکی ۔۔
زیمل لوگوں کا رش دیکھ کر گھبرا گئ ۔۔
آپ اتر سکتی ہیں گاڑی سے ۔۔ یہاں ۔۔۔ سے سر ۔۔ اب سے گھنٹے بعد گزریں گے ۔۔۔ باقی آپ جانتی ہیں کہ آپ یہاں کیا کرنے آئ ہیں ” وہ سرد لہجے میں بولا اور ۔۔۔ دروازہ کھولنے لگا
مگر یہاں بہت لوگ ہیں وہ میری طرف کیسے دیکھیں گے ۔۔۔۔” زیمل گھبرا رہی تھی اور گھبراہٹ کے مارے اب اسکی آنکھوں میں نمی سی بھرنے لگی تھی ۔۔ تھی ۔۔۔۔
میم میں نہیں جانتا کچھ ۔۔۔ آپ بہتر جانتی ہیں آپ خود آئ ہیں یہاں ” اسنے دوبارہ کہا
پلیز آپ ایسا نہ کریں آپ نے ہمیشہ بھائیوں والا انداز رکھا ہے میری بہت غلطیاں ہیں مگر ۔۔۔۔۔ ایسا مت کریں ۔۔۔۔ میری مدد کریں ۔۔۔ سالار تک پہنچنے میں کیا آپ نہیں چاہتے کہ وہ ایک بار پھر خوشیوں کیطرف لوٹیں یہ وہ سب رشتے جو انکے منتظر ہیں جن کے بنا وہ نہیں رہ سکتے یہ وہ لوگ انکے بنا نہیں رہ سکتے” زیمل بھیگے لہجے میں آہستہ آہستہ بولتی رہی ۔۔۔
فیروز اسکو سن رہا تھا ۔۔۔۔
آپ پلیز میری مدد کریں ” زیمل نے بلآخر آنسو صاف کر کے بے بسی سے کہا کہ وہ ۔۔ یہاں۔ کیسے ۔۔۔ سامان کے ساتھ اڈجیسٹ کرے گی ۔۔۔۔
فیروز جانتا تھا یہاں مدد کر کے وہاں اپنی موت بلائے گا مگر حقیقت تو یہ تھی وہ خود چاہتا تھا کہ سالار اپنے زندگی اور اپنوں میں لوٹے ۔۔۔۔۔
اسنے گھیری سانس بھری
میں آپکا سامان لے جاؤں گا ۔۔۔ مگر آپ کو اترنا یہیں پر ہے ۔۔” وہ بولا ۔۔۔
زیمل اس فیور پر۔۔۔۔ شکریہ بھی نہ ادا کر سکی اسے ۔۔۔ تو اسنے پھر مشکل میں ڈال دیا تھا مگر ہر جگہ حلوا تو نہیں ملتا اور اسے اندازا ہو گیا تھا سالار اسکے لیے سب کچھ کر سکتا تھا مگر سب سب کچھ نہیں اور وہ دکھے دل سے سوچ چکی تھی آپ
یک بار وہ مان جائے وہ سب کی شکایتیں لگائے گی اسے ۔۔۔۔۔
فیروز یوں ہی سپاٹ چہرے سے بیٹھا رہا تو وہ ۔۔ جھجھکتی گھبراتی ۔۔۔ گاڑی سے باہر نکلی اور اسنے ۔۔فیروز کی جانب ابھی پلٹ کر بھی نہیں دیکھا تھا کہ فیروز گاڑی زن سے بھگا لے گیا
۔۔۔
زیمل کی آنکھ سے آنسو گیرہ ۔۔۔۔ جسے اسنے ہمت کر کے صاف کیا ۔۔۔ زیمل تمھیں مظبوط بننا ہے ” دل میں خود کو کہا ۔۔۔
اور پھر بھی وہ ڈر رہی تھی
ہاں لوگ بہت مختلف تھے ۔۔۔
اسنے ۔۔۔ بالوں کی لٹوں کو کانوں کے پیچھے کیا اور ان لوگوں کے رش میں میں کھڑی اسکا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔۔ وہ نہیں جانتی تھی اسکی نظراسپر پڑی گی یہ نہیں ۔۔پڑ گئ تو ۔۔ شاید منہ موڑ کر چلا جائے مگر نہیں ایسا تو نہیں تھا یہ شاید
وہ بہت ۔۔۔ منتشر ہو چکی تھی آگے کیا ہونا تھا وہ نہیں جانتی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک ڈیڈ گھنٹے کے طویل انتظار کے بعد لوگوں کا شور ایک دم چئیر فل چیخوں میں بدل گیا ۔۔۔۔۔
وہ باہر ا گیا تھا ۔۔۔۔
ریڈ جیکٹ وائٹ شرٹ اور بلیک پینٹ میں ۔۔اسنے باہر نکلتے ہی اپنے سر کو ہڈی سے کور کیا ۔۔۔۔۔
جبکہ لوگوں کے چیختے چلاتے جوش دیکھاتی تعداد پر ایک نگاہ بس گھمائ تھی اور اسکے بعد اسنے اپنا چہرہ ماکس سے چھپا لیا ۔۔۔۔
اور وہ اپنے گینز کو ہاتھ ہلانے لگا ۔۔ تبھی فیروز اس بھیڑ کو چرتا۔۔ اندر داخل ہوا ۔۔۔۔
فلیش لائٹس اسپر پر رہیں تھیں ۔۔۔ زیمل بہت دور کھڑی تھی ۔۔ نگاہ سکت رہ گئ ۔
وہ قیمتی تھا ۔۔۔۔۔ پہلے بھی مگر اب تو جیسے۔۔۔۔
اسکی کامیابی کو پر لگ گئے تھے ۔۔۔۔۔۔
بے پناہ خوبصورت وجاہت سے بھرپور کہ لوگ سارے بھیڑ تور کر اس تک پہنچ جانے کو بے چین تھے ۔۔۔۔
اور پھر وہ ان لوگوں کو ہاتھ ویو کر رہا تھا ۔۔
فیروز کے آنے پر وہ آگے چلنے لگا اور ۔۔ فیروز اسکے پیچھے پیچھے
اسکی گاڑی تک کے راستے میں چئیر لگے تھے اسکے گارڈز۔۔۔۔ اسکے مینجرز کی تعداد بڑھ گئ تھی ۔۔ سب اسے پروٹیکٹ کر رہے تھے ۔۔۔ گاڑی تک پہنچا رہے تھے ۔۔
جبکہ وہ راستے میں سے گزر کر گاڑی کی جانب جانے لگا ۔۔
زیمل ۔۔۔ کے وجود میں حرکت آئ تھی ۔
سالار ” لب پھر پھڑپھراۓ
مگر اتنا کافی نہیں تھا وہ اتنا قریب نہیں تھا کہ بے آواز آہٹ بھی سن لیتا بلکہ اتنا دور تھا وہ ۔۔ چلاتی بھی تب بھی آواز اس تک نہ پہنچتی۔ ۔۔
سالار” زیمل نے بلند آواز میں پکارہ اور بھگتی ہوئ ۔۔۔۔ اسکی گاڑی کے راستے میں کھڑے لوگوں کے پیچھے سے ہاتھ ہلانے لگی
شاید وہ اسے دیکھ لے
سالار ” وہ پھر سے بولی تھی مگر وہ گاڑی کا دروازہ کھلنے پر اس سے پہلے اندر بیٹھتا زیمل نے پوری طاقت لگا کر ۔۔۔۔۔ اسکا نام لیا تھا ۔۔ ۔باقی سب سرپلیز آٹو گراف پلیز پیچر یہ سب کہہ رہے تھے وہ بھی انگلش میں اور اس بیچ میں ایک چیخ نما آواز اسکے نام کی پکار پر اٹھی ۔۔۔۔
وہ جو ایک قدم اندر رکھ چکا تھا ۔۔۔ اسنے گاڑی کی اوٹ سے ۔۔۔۔
سر نکال کر باہر لوگوں کیطرف دیکھا
سالار ” وہ پھر سے چیخی ہاتھ ہلانے لگی ۔۔۔
لوگوں کو اسنے دور ہٹایا تھا اور آگے آ گئ ۔۔
سالار سامنے مشقت میں کھڑی ۔۔ چیختی ہاتھ ہلاتی زیمل کو دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔
اسنے جھٹکا کھا کر فیروز کیطرف دیکھا جو سر جھکا گیا ۔۔۔۔
اسکی ماتھیں کی رگیں تن گئ ۔۔۔۔
وہ جیسے رک گیا تھا ۔۔۔۔ زیمل دیکھ نہیں سکی تھی وہ اسے دیکھ چکا ہے۔۔۔
وہ اب بھی اسکی نظروں میں آنے کی تگ و دو میں تھی ۔
سالار نے فیروز کی جانب دیکھا انداز ایسا تھا کہ کاٹ کر ابھی کھا جائے گا ۔۔۔۔۔
فیروز کچھ نہیں بول سکا ۔۔۔۔
صیحی سلامت واپس پہنچا تو دو ” اسنے فیروز کو آرڈرز دیے اور ۔۔ خود گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔
سالار ” ایک بار پھر سے اسکی چیخ نما آواز آئ تھی ۔۔ وہ جیسے الجھن میں آ گیا ۔۔۔
فیروز گاڑی میں سوار ہوتا۔۔ کہ سالار نے بھڑک کر اسکیطرف دیکھا ۔۔
جسٹ گیٹ آؤٹ پروٹیکٹ ہر فرسٹ ” وہ پانی کی بوتل اسپر پھینکتا بولا ۔۔۔ فیروز نے سر ہلایا ۔۔۔ سالار نے ضبط اور غصے سے مٹھیاں بند کر لیں ۔۔۔۔۔
جبکہ فیروز باہر بھاگا ۔۔۔۔ اور سالار نے ڈرائیور کو گاڑی چلانے کا حکم دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ چلا گیا تھا وہ ان لاکھوں لوگوں کی آوازوں میں اسکی پکار نہیں سن سکا تھا وہ واقعی بہت قیمتی اور بڑا ہو گیا تھا اس تک رسائی کتنی مشکل ہو گئ تھی
وہ آنکھوں میں آنسو بھرے اسکو دیکھنے لگی تبھی فیروز نے اسے پکارہ ۔۔۔
چلیں آپکو واپسی کی ٹکٹ کرا دیتا ہوں ” فیروز نے کہا ۔۔
زیمل کا گلا خشک ہو رہا تھا اور اچانک جسیے غصے سے اسکا دماغ بھن گیا ۔۔۔
دماغ ٹھیک ہے تمھارا ۔۔۔۔ میں یہاں تک آ کر انھیں لیے بنا واپس جاؤں گی ۔۔۔۔۔ ” وہ جس طرح بولی تھی فیروز شاکڈ اسکیطرف دیکھنے لگا ۔۔۔
میں بیوی ہوں انکی اور میں آرڈر دیتی ہوں آپکو ۔۔۔۔ مجھے ان تک پہنچائیں ورنہ ۔۔۔ ورنہ میں ۔۔۔۔ میں اسی شہر میں پھیرتی رہو گی واپس نہیں جاو گی ” وہ سرخ ناک سرخ آنکھوں سے اسے دیکھتی بولی
میم ۔۔۔۔ سر بے حد غصہ ہوں گے” فیروز نے کہا
ٹھیک ہے ۔۔۔۔ میں یہی روڈ پر بیٹھ جاتی ہوں ” وہ بولی اور ۔۔۔ چلتی ٹریفک کیطرف جاتی کہ ۔۔۔ فیروز نے اسے روک لیا ۔۔۔۔
چلیں” وہ بولا ۔۔ زیمل خوشی سے پھٹنے والی ہو گی جلدی سے اسکے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جیکٹ اتار کر اسنے ۔۔۔۔ صوفے پر پھینکی پورا منشن جگمگا رہا تھا ۔۔۔۔ اور شرٹ کے اوپری دو بٹن کھول لیے
۔۔۔۔
اسنے فیروز کو کال ملائ ۔۔۔۔۔
جس نے پہلی بیل پر پیک کی ۔۔۔۔
کہاں ہو تم ” وہ پوچھنے لگا ۔۔۔
جی سر وہیں جہاں آپ نے بھیجا تھا ” وہ بولا ۔۔۔ تو سالار کو لگا کہ جیسا اسنے کہا تھا وہ اسے واپسی ۔۔۔ فلائیٹ میں بیٹھا رہا ہو گا۔۔ایک تلخ مسکراہٹ نے لبوں کو چھوا اور وہ ۔۔اٹھ کر روم میں آ گیا ۔۔۔
اسنے اپنا ڈریس چینج کیا ۔۔۔ جینز پر سفید شرٹ ڈالی ۔۔۔
اور اسپر۔۔۔ سوفٹ جرسی پہن کر اسنے منشن میں لگے ہیٹرز اون کر لیے منشن میں ایک بھی ملازم نہیں تھا ۔۔۔ وہ خاموشی سے اپنے لیے کافی بنانے لگا ۔۔۔۔
اور ساتھ ساتھ کچھ کھانے کے لیے بھی اسنے چیزیں نکال لیں ۔۔۔
وہ یہاں اکیلا ہوتا تھا شاید خود پر ثابت کرنے کے لیے کہ وہ کتنا اکیلا ہے ۔۔۔
سال گزر گیا تھا اسے اپنوں سے دور ہوئے ۔۔۔ خیر اب تو یہ اپنے لفظ بھی کافی انجان سا لگتا ہے
کون اپنا ہے کون پرایا ۔۔ معلوم نہیں تکلیف تو یہ تھی اس پختہ شعور کی عمر میں اسے یہ زخم پتہ چلا تھا کہ وہ کس قدر غیر ضروری تھا ۔۔۔۔
کسی نے بیچ دیا کسی نے خرید لیا کسی نے اپنا سوچا کسی نے پیسے کا سوچا ۔۔۔۔
ایک بار پھر ساری تلخ یادیں جن سے وہ روز بھاگنے کی کوشش کرتا تھا اسکے ارد گرد آ کھڑی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔
اسے مرتضی سے بے حد محبت تھی اپنی ماں سے ۔۔اپنے بھائیوں سے ان سے جڑے ہر رشتے سے۔۔۔
مگر جو محبت دماغ پر جنون بن کر سوار ہونے لگی تھی وہ زیمل کی تھی ۔۔۔۔
اسکے چہرے سے تھی ۔۔۔ آج وہ پھرسال پیچھے جا کھڑا ہوا تھا اسکا چہرہ دیکھ کر ۔۔۔۔۔
سال بعد اسے خیال آیا اسکے پاس آنے کا ۔۔۔۔ اور وہ جا بھی چکی ہوگی ۔۔۔۔
اسنے سرجھٹکا خود کو بہت مشکل سے رہائی دی تھی ۔۔ اسکا سیل فون بجنے لگا ۔۔۔ اسنے کال پیک کی
یس ” وہ بولا ۔۔۔۔۔
ایک بات بتا دو بس کب اناونس کرو گے شادی کے بارے میں ” وہ غصے سے اب تو پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔
سون ” بس اتنا کہ اور کافی کا مگ لے کر وہ پیچھے لون کیطرف آ گیا ۔۔۔ ٹھنڈ ایسی تھی کہ ٹھیٹرا دے ۔۔۔ اسنے اوور کوٹ پہننا مناسب سمجھا جس میں وہ اور بھی وجاہیہ لگ رہا تھا ۔۔۔اسکے گارڈز باہر تھے ۔۔۔۔ ایک طرف آگ کا الاؤ جلایا ہوا تھا ۔۔وہ اس آگ کی لٹوں کو دیکھتا اسکی بات سن رہا تھا ۔۔۔
سالار اگر تمھیں پروبلم تھی تو تم میری آفر ایکسیپٹ نہیں کرتے” لڑکی سنجیدگی سے بولی ۔۔۔
اپنی شادی کا ذکراسنے کہیں نہیں کیا تھا ۔۔۔اور اولیویا جورڈن اسکی لیڈ ہیروئن رہی تھی اس مووی میں جو سارے ریکارڈ توڑ گئ تھی اور اسے سالار بہت پسند آ گیا تھا ۔۔۔ اسنے تین مہینے پہلے اسے خود پرپوز کیا جو خوبصورت تھی ۔۔سالار نے بنا کچھ کہے وہ پرپوزل ایکسیپٹ کر لیا تھا ۔۔۔۔
اوراب وہ دنیا کے سامنے اس بات کو واضح کروانا چاہتی تھی۔۔۔ اکثر وہ راتوں میں سالار کے بے حد نزدیک آئ ۔۔۔۔۔
اسے بہکانے کی کوشش کی خیر یہ سب انکے لیے عام تھا
وہ بھی کوئ لحاظ نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔۔۔۔ ان سوچوں سے بھاگ جانا چاہتا تھا جو اسکے دماغ پر ہر پل اذیت کی طرح سوار رہتی تھی ۔۔ مگر جب اسنے اسکیطرف ہاتھ بڑھایا ۔۔۔ اسکے چہرے میں زیمل کا چہرہ دیکھائی دینے لگا ۔۔۔ اور وہ ۔۔ کچھ بھی نہیں کر پاتا ۔۔ بس سرخ نظروں سے اسے دیکھتا رہ جاتا ۔۔۔
اولیویا کو اسکی یہ ہی ادا پسند آئ تھی اب تک اسنے اسے چھوا نہیں تھا ۔۔۔۔
میں بعد میں بات کرتا ہوں ” سالار نے فون بند کر دیا ۔۔۔
اور آنکھیں موند کر سر چئیر کے پیچھے ڈال دیا۔۔۔
کافی تکلیف دہ ہے خود کو خود ہی سنبھلنا۔۔
مگر حقیقت ہےآپ کو خود سے زیادہ کوئ سنبھال نہیں سکتا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فیروز اسے فرنٹ ڈور سے نہیں لایا تھا وہ بیک ڈور سے گھر میں داخل وہی گھر کو حیرانگی سے دیکھنے لگی یہ بے حد خوبصورت اور قیمتی تھا بلکل اسکیطرح
اب میں چلتا ہوں ” فیروز جلدی فرار ہونا چاہتا تھا ۔۔
وہ انکا روم کہاں ہے” اسنے پوچھا ۔۔ فیروز نے اوپراشارہ کر دیا ۔۔
زیمل نے مسکرا کر سر ہلایا ۔۔۔اور فیروز باہر نکل گیا
باہر کی نسبت یہاں بہت اچھا موسم تھا وہ تو باہر کلفی ہی بن جاتی ۔۔۔۔ گھر دیکھنے میں اسے احساس ہوا سالار کہاں ہے۔۔۔
اسنے سوچا شاید روم میں ہو ۔۔۔ اب کڑا وقت تھا ۔۔ دل سنبھالتی ۔۔۔ وہ اوپر فیروز کے بتائے گئے کمرے میں آگئی ۔۔۔۔
دروازہ کو کھولا تو کمرہ خالی تھا کچھ سانس بھال ہوئی پہلے بھی وہ اسکی موجودگی سے گھبرا اٹھتی تھی اب تو ۔۔۔
وہ کانپ رہی تھی وہ جلدی سے اسی کمرے میں آ گئ وہاں سالار ہی سالار تھا ۔۔۔ جدھر نظر اٹھتی وہاں وہ تھا ۔۔ کہیں مسکراتا کہیں سنجیدہ کہیں رنگوں میں کہیں بلیک اور وائٹ کہیں کسی لڑکی کے ساتھ کہیں آوارڈ لیتے ہوئے ۔۔ کہیں کسی کو آوارڈ دیتے ہوئے کہیں سپیچ کرتے ہوئے
کہیں گانا گاتے ہوئے ۔۔۔ کہیں کنسرٹ میں ۔۔۔۔ اچھلتے ہوئے ۔۔۔
ہر طرف تھا وہ ۔۔۔۔۔
زیمل خود کو بے حد کمزور محسوس کر رہی تھی ساری طاقتیں جواب دے گئیں تھیں ۔۔۔۔
اچانک اسے باہر آہٹ محسوس ہوئ کیا وہ سالار ہو گا
وہ اسے دیکھنے کے لیے بے تاب تھی مگر اسطرح ڈر رہی تھی جیسے ۔۔ غلط ٹیسٹ کرکے بچہ اپنی ٹیچر سے خوفزدہ ہوتا ہے ۔۔۔۔
دروازے کے ناب گھومی ۔۔۔ وہ اندر داخل ہوا ۔۔سر جھکا ہوا تھا ۔۔۔ اور ہاتھ میں کافی کا بھانپ اڑاتا کپ تھا ۔۔ پوری توجہ موبائل پر تھی وہ اندرآ گیا ۔۔۔۔ یہ جانے بنا کہ اسکے کمرے میں کوئ اور وجود بھی ہے ۔۔۔ اسنے کافی کا کپ ٹیبل پر رکھا اور نگاہ سیدھا زیمل سے جا ملی ۔۔۔۔
وہ وہیں کھڑا رہ گیا ۔۔۔۔۔ زیمل بھی ساکت ہوگئ ۔۔۔۔۔۔
سال بعد
۔۔کتنے دن کتنے گھنٹے کتنے لمہے کتنے منٹ بعد اسے دیکھا تھا ۔۔۔۔
جیسے صدیوں بعد اس سے نگاہ ملی تھی اور اسکی نگاہ نے زیمل کو دیکھا تھا ۔۔۔
زیمل کی آنکھ سے مسلسل آنسو گر رہے تھے جسے وہ کنفیوز سی ہوتی ۔۔۔۔ بار بار صاف کرتی ۔۔۔ ہاتھ پاؤں اسکے کانپ رہے تھے ۔۔ سالار نے ۔۔۔ ٹیبل پر رکھنے کے بجائے کپ زمین میں پھینک دیا ۔۔۔
چھناکے کی آواز سے کپ ۔۔ ٹوٹ گیا فرش صاف ستھرا جو چمک رہا تھا ۔۔۔ گندا ہو گیا ۔۔
فیروز ” وہ دھاڑا تھا ۔۔۔۔
س۔۔۔الا” زیمل اسکا نام بھی پورا نہیں لے سکی اسقدر سہم گئ تھی وہ
۔۔۔جبکہ سالار اسے اگنور کرتا
۔۔۔ باہر نکلا ۔۔ فیروز کو پکارہ مگر فیروز ہوتا تواسکے سامنے آتا ۔۔۔۔
وہ دوبار گالیاں دے کر اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اندر داخل ہوا ۔۔
سالار” بھیگے بھیگے لہجے میں زیمل پکارتی اسکے نزدیک جانے لگی ۔۔۔
وہی رک جاؤ وہیں ۔۔ وہیں رکو ۔” وہ اتنے دنوں بعد بولا تھا اس سے بولنے کا انداز ہی بدل گیا تھا ۔۔۔۔
زیمل رک گئ ۔۔۔۔
جسٹ گیٹ آؤٹ” اسنے وہی سے اسے باہر نکلنے کا اشارہ کیا
زیمل نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔
آئ سیڈ گیٹ آؤٹ ” وہ واس اٹھا کر زمین پر پٹختے چیخا
وہ واس شکل سے ہی کافی مہنگا لگ رہا تھا ۔۔۔
سالار اپنے آپے میں دیکھائی نہیں دے رہا تھا
زیمل نے تو کبھی سوچا بھی نہیں تھا اسکا یہ رخ بھی ہے جو اسے دیکھنا ہے ہمیشہ ۔۔۔ اسے شرارتی انداز میں ہی دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
زیمل نے آنسو صاف کیے ۔۔۔۔
میں ۔۔نہیں جاوں گی ” وہ بولی ۔۔۔اور اسکے نزدیک جانے لگی ۔۔۔ سالار آگ اگلتی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
زیمل یہاں تک کے اس کے بے حد نزدیک آ گئ ۔۔۔۔
اور اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
نہ جانے کیسے ۔۔۔ وہ ایسا کرنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔
مگر پھر بھی زیمل کا ہاتھ اپنے چہرے پر سے جھٹک کر ۔۔۔اسنے اسکے منہ پر کھینچ کر تھپڑ دے مارا ۔۔۔۔۔
زیمل ایکدم زمین پر جا گیری ۔۔۔۔۔
یہ سب غیر ارادی ہوا تھا ۔۔۔وہ بلکل ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔وہ اس وقت بے حد بھڑک رہا تھا ۔۔اسے اسکے سامنے نہیں ہونا چاہیے تھا یہ تھپڑ فیروز کے منہ پر لگتا تو شاید وہ نارمل ہوتا اسکی کوئ بات سن بھی لیتا ۔۔۔
زیمل نے سر اٹھا کراسکیطرف دیکھا وہ مٹھیاں بھینچتا کھڑا تھا ماتھے کی رگیں تںی ہوئیں تھیں ۔۔۔
جبکہ ہاتھ کی رگیں بھی پھول رہی تھی
زیمل کی ناک سے خون نکلنے لگا ۔۔۔اسے لگا اسکا ۔۔۔ وہ حصہ سن ہوگیا ہے اسے کوئ آواز سنائ نہیں دے رہی تھی اس کان سے جبکہ ناک سے خون بہتا ۔۔۔۔ اسکی گال سے ہوتا گردن کیطرف جانے لگا۔۔۔
وہ سالار کا ہاتھ پکڑ کر دونوں ہاتھوں میں کانپتی اٹھی ۔۔۔۔
وہ چونکہ دو دن سے وہ ۔۔۔ کچھ ٹھوس غذا نہیں لے رہی تھی اسکا چہرہ دیکھتے دیکھتے ۔۔اسنے ایک سسکی بھری تھی ۔۔اور وہ جھول کر ۔۔۔ نیچے گرتی کہ سالار نے جلدی سے اسے پکڑ لیا
زیمل کی آنکھیں بند ہو گئی تھیں
زیمل” وہ بولا ۔۔۔ اسکا گال تھپتھپایا ۔۔۔۔۔
مگر وہ بے ہوش ہو گئ تھی ۔۔۔
وہ مزید غصے سے آگ بگولہ ہوا مگر یہ غصہ فیروز پر تھا
جاری ہے
