Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 32
No Download Link
Rate this Novel
Episode 32
رات کا نہ جانے کون سا پہر تھا اسکی آنکھ کھلی تو ایکدم اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔
دل کیا کہ وہ آنکھ کھولتی تو وہ اسکے سامنے ہوتا مگر وہ نہیں آیا تھا
وہ سسکیوں سے رو دی لبوں سے بے آواز سالار کو پکارہ تھا،۔۔۔
دل کی دھڑکنوں نے اسکو بلایا تھا بس ایک بار وہ اسکے آپس آ جائے وہ دیکھ لے کیسی حالت کر دی تھی ۔۔۔اسکی ۔۔۔۔
اسنے اپنے آنسو صاف کیے ۔۔۔
عدیل کے کمرے میں آج اسے تیسرا دن تھا اور وہاں سب اپنی دنیا میں اتنا مگن تھے کے سالار نہیں تھا تو اس سے جڑے رشتے کو کسی نے یاد بھی نہیں کیا ۔۔۔۔
زیمل میں اٹھنے کی بھی ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔
اور اچانک اسکی آنکھوں کے آگے اندھیرہ چھا گیا ۔۔۔اب وہ مزید اذیت برداشت نہیں کر سکتی تھی تبھی وہ ایکطرف لڑھک گئ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر میں داخل ہوا تو۔۔۔۔ تھک گیا تھا چھ گھنٹے کی فلائٹ نے اسے تھکا دیا تھا ۔۔۔وہ جلدی سے اپنے پورشن میں جانا چاہتا تھا تب
بس یہ چاہتا تھا بستر پر موندھا ہو کر سو جائے ۔۔۔
مگر گھر میں داخل ہوتے ہی پہلا خیال رگ و جاں میں چھوا تھا وہ اسکو دیکھنے کی خواہش کا تھا ۔۔سالار کی نظروں نے ڈھونڈنا چاہا جبکہ وہ دیکھ چکا تھا گھر والے سو رہے ہیں اور رات دو بجے بھلا کیسے کوئی اٹھا ہو سکتا تھا ۔۔۔
وہ اپنے پورشن میں آ گیا ۔۔ فریش ہو کراسنے ۔۔ بستر پر لیٹنا چاہا اور کسی کو سوچے سونے کی کوشش کی مگر نیند اسپر مہربان نہیں ہوئ ایک ہی خیال بار بار آ رہا تھا جیسے نشہ سا ٹوٹ رہا تھا اسکو دیکھنے کا وہ ۔۔ غصے سے اٹھا ۔۔۔
آج اس لڑکی کو ۔۔ ایک رومنٹک سزا دے گا تاکہ اسکے خیالوں پر سوار نہ ہو وہ نیچے اترا اور آیت کے روم کا دروازہ کھولا تو وہ کھلتا چلا گیا ۔۔
کسے میرے سواگت کے لیے کھول رکھا تھا ۔۔اسکے دماغ میں سوال آیا اور خود ہی مسکرا دیا ۔۔ وہ اندر آیا تو اندر کوئ بھی نہیں تھا ۔۔ واشروم کا دروازہ کھلا تو وہاں بھی کوئ نہیں تھا وہ پریشے کے روم کا دروازہ نوک کرنے لگا ۔۔
کچھ دیر بجانے کے بعد اسکا صبر جواب دے گیا تو اسنے زور سے دروازہ بجایا۔۔ تو نیند میں ڈوبی پریشے اٹھ کر سامنے آئ
بھیو آپ ” وہ حیرانگی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
زیمل کہاں ہے ” سالار نے اندر جھانکا وہ یہاں بھی نہیں تھی ۔۔ اب اسے پریشانی ہوئ وہ یہیں ہوتی تھی ان دونوں کمروں میں اسکے علاؤہ وہ کہیں نہیں جاتی تھی ۔۔
بھیو میں تو بھابھی سے تین دن سے نہیں ملی” پریشے نے ہواسی روکتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔
کیا مطلب ہے اس بات کا ۔۔وہ بھڑکا ” تو پریشے کی نیند اڑی ۔۔
میرا مطلب بھیو۔۔ بھابھی سے میں تین دن سے نہیں ملی وہ اب خود پر بھی حیران ہوئ کہ اسنے تو واقعی زیمل کو تین دن سے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔
تمھارا دماغ ٹھیک ہے کیا بکواس کر رہی ہو تم تین دن سے نہیں ملی تو کہاں ہے زیمل” وہ چلایا اسے۔۔۔۔ کہ ابھی پھاڑ کھائے گا ۔۔۔۔ پریشے کی شکل رونے والی تھی اور۔۔۔ اچانک جیسے وہ حواسوں میں آیا تھا۔۔۔۔ وہ پیچھے بھاگا ۔۔۔۔۔ تو پریشے پریشانی سے نکلی ۔۔۔
بھیو کہاں جا رہے ہیں ایسے بھابھی گھر میں ہی کہیں ہوں گی ” پریشے نے اسکو تسلی دینا چاہی مگر سالار بنا سنے وہاں سے ۔۔۔ باہر نکل گیا ۔۔
پریشے کو پریشانی کا احساس ہوا پہلے تو وہ سوچتی رہی کہ کیا کرے اور پھر اسنے جھجھکتے ہوئے کبیر کے کمرے کا دروازہ بجایا ۔۔
صرف کچھ منٹوں میں ہی کبیر دروازے پر تھا ۔۔
پریشے”ایکدم اسے اپنے دروازے پر دیکھ کر وہ ۔۔ پوری طرح الرٹ ہوا تھا ۔۔۔۔
پریشے نے بھیگی پلکوں سے کبیر کو دیکھا ۔۔
وہ سالار بھیو “وہ بس اتنا کہہ کر رو دی سالار نے پہلی بار سے ڈانٹا تھا ۔۔ آج سے پہلے اسنے اونچی آواز میں بھی اس سے بات نہیں کی تھی
کبیر باہر نکلا کیا ہوا سالار کو
وہ بولا ۔۔۔ اور پریشے نے باہر کیطرف اشارہ کر دیا ۔۔
کبیر باہر بھاگا تو نین جو نیندوں میں سن رہی تھی وہ بھی اٹھ گئ ۔۔پریشے کے پاس آ گئ ۔۔ پریشے اور نین بھی وہاں سے باہر نکلے تو ۔۔سالار۔۔۔ عدیل والے پوریشن کیطرف بھاگا۔۔تھا وہ عدیل کے کمرے کیطرف نہیں گیا جو اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔
سالار کہاں جا رہے ہو تم اس وقت”کبیر کی آواز اسے اپنی پشت سے آئ ۔۔۔
وہ رک گیا
۔۔۔
زیمل۔کہاں ہے “اسنے بنا کسی لچک کے رک کر سوال کیا کبیر اسکے نزدیک پہنچ گیا
۔ جبکہ سوچ میں پڑ گیا کہ زیمل کو تو اسنے بھی کئ دنوں سے نہیں دیکھا۔۔
گھر میں ہی ہو گی ۔۔
وہ گھر میں نہیں ہے” سالار ضبط سے بولا ۔۔۔۔
تو تم اسے یہاں کہاں ڈھونڈنے آئے ہو ” کبیر نے پوچھا ۔۔
جو میرا شک ہے کبیر اگر وہ سچ نکال یقین مانو اس گھر کی اینٹ سے اینٹ بجا دوں گا “انگلی اٹھا کر۔۔وہ سرخ آنکھوں سے کبیر کو ایسے بولا کہ ۔۔ پریشے اور نین تو خوفزدہ ہی ہو گئیں ۔۔۔ سالار کو کہاں کبھی دیکھا تھا ایسے ۔۔۔
سالار کچھ بولنے سے پہلے اسکے وہاں سے آگے افشین کے کمرے میں کیطرف آ گیا۔۔۔۔
سالار یہ غیر اخلاقی حرکت مت کرو اگر زیمل نہ ہوئ یہاں تو واقعی ایک ہنگامہ اٹھ جائے گا”کبیر نے غصے سے کہا
سالار نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اسے کسی کی پرواہ نہیں تھی کسی کی مطلب کسی کی بھی نہیں وہ افشین کے روم کے باہر آیا اور دروازہ دھڑ سے کھولا ۔۔۔۔
یہ پورشن بلکل الگ تھا خاص کر افشین کا تبھی لوک وغیرہ کا کچھ خاص خیال کہیں رکھتی تھی وہ۔۔ اور یہاں کوئ آتا بھی نہیں تھا ۔۔۔
دروازہ ایکدم کھولنے سے ۔۔۔ سکندر کی آنکھ سب سے پہلے کھلی سالار کو دیکھ کر۔۔ اسکو حیرانگی ہوئ مگر غصہ ایکدم بھڑک اٹھا ۔۔
یہ کیا بیہودگی ہے ” وہ چلائے۔۔ انکے چلانے سے افشین بھی اٹھ گئ ۔۔
اپنی بیوی سے پوچھو میری بیوی کہاں ہے” سالار ضبط کا مظاہرہ کرتا پوچھنے لگا ۔۔
کیا بولا سالار اور کبیر تم بھی اسکے ساتھ آ گئے ہمیں کیا پتہ تمھاری بیوی کہاں ہے” سکندربستر چھوڑ کراٹھے تو چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔سالار پل میں افشین تک پہنچ گیا جبکہ کبیر اسکو روکنا چاہتا تھا نین اور پریشے بھی پیچھے کھڑیں تھیں اسکا پاگل پن دیکھ رہیں تھیں ۔
میں پوچھ رہا ہوں زیمل کہاں ہے” وہ ایک ایک لفظ کو چھباتا بول رہا تھا ۔۔۔
جبکہ جنون ایسا تھا کہ سب کچھ تہس نہس کر دے گا ۔۔۔
سکندر کا میٹر گھوما ۔۔
سالار دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔
جب تک یہ نہیں بتائے گی زیمل کہاں ہے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا “سالار نے آنکھیں نکال کر کہا ۔۔
مجھے کیا پتہ وہ منحوس کہاں ہے” افشین نے صاف انکار کیا ۔۔
جبکہ سالار آپے سے باہر ہو گیا ۔۔
نہیں بتاو گی ۔۔ ٹھیک ہے “اسنے ادھر ادھر سے سارا سامان اٹھا کر زمین بوس کرنا شروع کر دیا ۔۔ واس اٹھا اٹھا کر دیوار پر دے مارے ۔۔ جبکہ افشین نین اور پریشے کی چیخیں نکل گئیں تھیں ۔۔
سالار” کبیر نے اسکو ۔۔۔ پیچھے کھینچا۔۔
میری بیوی کہاں ہے ۔۔ یہاں میں کس کے پاس چھوڑ کر گیا تھا اسے ۔۔ سالار مرتضی کی یہ اوقات ہے کہ تین دن سے اسکی بیوی کو کسی نے نہیں دیکھا” وہ اسکا ہاتھ جھٹکتا ۔۔ مار دینے کے درپر تھا ۔
کبیر کو شرمندگی ہوئ تھی ۔
مگر اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ تم افشین چچی کے ساتھ اسطرح رویہ کرو ” کبیر نے اسے احساس دلایا ۔۔
یہ عورت بتائے گی میری بیوی کہاں ہے ۔۔۔۔” وہ۔۔۔ واس توڑ ۔۔ کر۔۔۔ اسکا ایک ٹکڑا ۔۔۔۔ لے کر افشین پر۔۔اس سے پہلے چڑھتا ۔۔ صرف ڈرانے کے لئے کہ افشین چیخنے لگی ۔۔
عدیل کے کمرے
میں عد۔۔۔عدیل کے کمرے میں” وہ چلائ ۔۔ سب حیران رہ گئے۔
جبکہ سالار ۔۔۔ وہیں وہ واس پھینک کر
۔۔۔ باہر بھاگا تھا اندھیرے میں ڈوبا وہ کمرہ ۔۔اسکی حالت ایسی تھی کہ ۔۔۔اسکا وجود کے ایک ایک حصے میں کسی نے اگ بھر دی ہو
لات مارتا اسنے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔
کمرے میں قبر کا سا اندھیرہ تھا ۔۔۔۔
اسنے ۔۔۔ لائٹس جلانا چاہی تو اندازا ہوا یہاں کی بجلی بند کی گئ ہے۔۔اسنے سب چیزیں پھینک کر اسے پکارہ تو آواز میں تڑپ تھی ۔۔زیمل” وہ بے چینی سے بولا مگرجواب نہیں ملا ۔۔اسنے موبائل کی ٹارچ ماری وہ فرش پر پڑی تھی جبکہ اسکے جسم پر افشین کے پرانے کپڑے تھے۔۔۔۔
سالار ۔۔ دیوانوں کی سی طرح اس تک پہنچا زیمل اسکا چہرہ اپنے ہاتھوں میں بھرتے وہ اسکو پکارنے لگا ۔۔
زیمل” وہ رک گیا ۔۔اسکی دھڑکنوں کو محسوس کرنے لگا ۔۔۔اور اسکو اس منحوس جگہ سے اچک کر وہ لے کر بنا کسی کو دیکھے باہر دوڑا تھا ۔۔ جب وہ گھر کیطرف داخل ہوا ۔۔ تو ۔۔ اسکے بھاگنے سے مدیھا بھی اٹھ چلی تھیں ۔۔ اسکو آتا دیکھ ۔۔ وہ پریشان ہو گئیں ۔۔جبکہ اسکے پیچھے کبیر روتی ہوئی نین اور پریشے سمیت پریشان سے سکندر بھی تھے
۔۔۔
جبکہ سالار سیدھا اپنے پورشن میں چلا گیا تھا ۔۔
کیا ہوا ہے” مدیھا نے کبیر کا بازو پکڑا ۔۔
وہ جو نہیں ہونا چاہیے تھا “کبیر شرمندگی کی انتہا پر تھا ۔۔
اتنے شور میں مرتضی بھی اٹھ گئے ۔۔
جبکہ پریشے نے عارض زین اور عمل کو بھی اٹھا دیا ۔۔ عارض نے سر تھام لیا تھا اتنی بڑی غلطی ان سب سے کیسے ہو سکتی ہے ۔۔
مما آپکو تو خیال رکھنا چاہیے تھا ” عارض نے ماں کیطرف دیکھا ۔
بیٹا میری غلطی ہے ” مدیھا ۔۔۔ کو محسوس ہو رہا تھا اس وقت انکا بیٹا کس قدر بدگمان ہو گیا تھا اور وہ سب کیسے یہ کوتاہی برت گئے تھے۔۔وہ بھی اس سے ریلیٹیڈ رشتے کے ساتھ ۔۔
وہ سب اوپر آئے تو ۔۔زیمل بیڈ پر لیٹی تھی ہوش سے بے گانہ ۔۔ جبکہ سالار فون پر کسی پر دھاڑ رہا تھا ۔۔
میں نے تمھیں کہا ۔۔۔ تم بھلے پورا ہسپتال لے کر میرے پاس پہنچو مجھے پانچ منٹ میں تم یہاں چاہیے ہو “وہ دھاڑا۔۔۔
جی سر” اگلی طرف سے جواب ملا اور اسنے سیل فون ۔۔۔اتنی شدت تھی غصے کی کے بند کرنے بجائے دیوار پر مار کر ہمیشہ کے لیے بند کر دیا ۔۔۔
وہ زیمل کیطرف مڑا ۔۔ صاف نظر آ رہا تھا سب گھر والے اوپر آ چکے ہیں مگر کسی میں اس سے بات کرنے کی جرت نہیں ہوئ ۔۔ سالار نے زیمل کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔۔
ایم۔سوری” وہ ایک ہی لفظ بار بار بولے جا رہا تھا ۔۔
ایم رئیل سوری”اسنے پھر سے کہا ۔۔ تبھی اسکا پی اے بھی آ گیا ۔۔۔ ڈاکٹرز کی ایسا لگ رہا تھا پوری فوج آ گئ ہے سب گھر والے ایکطرف ہو گئے ۔۔سالار بھی اٹھ گیا ۔۔۔
ڈاکٹر زیمل کو چیک کرنے لگے ۔۔اور جلد ہی انھوں نے سالار کے کمرے کو ہوسپیٹل
بنا دیا ۔۔۔
زیمل کے ڈریپس لگ رہیں تھی جبکہ کچھ اور بھی انجیکشن لگے ۔۔
ذہنی شدید دباؤ کا شکار ہیں یہ اور دو دن سے کچھ نہ کھانے کے باعث بے ہوش ہو گئیں ہیں ۔۔” ڈاکٹر نے ڈاکٹر کیطرف دیکھا جو چپ چاپ کھڑا تھا ۔۔۔
ٹھیک ہو جائے گی” اسنے بس یہ سوال کیا ۔۔
افکورس سالار بٹ انکو خوش رکھیں آپکی وائف کمزور ہیں کافی ۔۔ دل کی بھی ۔۔۔۔اور جسم کی بھی۔۔ اندر ویکنیس ہے اور ۔۔ اسکے علاؤہ کسی خوف کا شکار بھی لگتیں ہیں ۔۔۔۔
آپ کسی سائیکائیٹرس سے بھی کنسرٹ کریں ” وہ ڈاکٹر بریفنگ بولا ۔۔۔
سالار پھر بھی چپ رہا جبکہ پی آئے نے دوائیوں کا پرچہ پکڑ لیا ۔۔
گھنٹہ بھر ڈاکٹر اسکا علاج کرتے رہے تھے حالانکہ ۔۔ وہ تو پندرہ منٹ میں نارمل ہو گئ تھی ۔۔ مگر سالار نے گھنٹہ پورا ان سب وہ اس پر رکھا تھا ۔۔۔
اور گھنٹے بعد ڈاکٹرز چلے گئے ۔۔ گھر والوں کے شرم دہ چہرے مزید شرمندگی سے جھک گئے ۔۔
مرتضی نے مدیھا کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا جبکہ وہ تو رونے لگیں تھیں ۔۔صوفیہ اور تنزیلہ کا بھی یہ ہی حال تھا جبکہ شہاب اور وجاہت نے بھی ان دونوں پر غصہ کیا تھا ۔۔۔
سب ہی اپنی اپنی جگہ شرمندہ تھے کہ وہ کیسے تین دن تک زیمل کو بھول گئے ۔۔۔
مرتضی کمرے میں آئے
۔۔ سالار اپنے پی آئے وہ کچھ ہدایت دے رہا تھا ۔۔۔
شاید کہیں جانے کی بات کر رہا تھا ۔۔۔۔
پی آئے سر ہلا کر باہر نکل گیا جبکہ مرتضی نے اسکےشانے پر ہاتھ رکھا ۔۔ جسے اسنے جھٹک دیا ۔۔
مرتضی مسکرا دیے ۔۔ اور اسکے شانے پر پھر سے ہاتھ رکھا ۔۔۔
جسے سالار نے پھر سے جھٹک دیا اور چلتا ہوا زیمل پاس آ گیا ۔۔۔
زیمل کے وجود پر افشین کے کپڑے آگ لگا رہے تھے بس نہیں چل رہا تھا کسی کا لحاظ کیے بنا سارے کپڑے پھاڑ کر آگ لگا دے ۔۔اور وہی آگ افشین میں بھی لگا دے ۔۔ مگر وہ ضبط کیے چپ تھا ۔۔ورنہ سب ہی جانتے تھے سالار صرف ہنگامہ کرنا جانتا ہے
یار نارض ہے” اسکے پاس آ کر وہ زیمل سے زرا دور بیڈ پر بیٹھ گئے ۔۔۔۔۔
سالار کچھ نہیں بولا چپ چاپ بیٹھا رہا ۔۔۔۔
ہے ہماری غلطی چل غصہ تھوک دے “وہ اسکے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر ۔۔۔ اسے پیار سے سمھجانے لگے ۔۔۔۔
سالار پھر بھی کچھ نہیں بولا ۔۔ نظر جھکائے ۔۔۔وہ دانت پر دانت چڑھائے بیٹھا تھا ۔۔۔۔
میرا شہزادہ اتنے غصے میں ہے” وہ ہنس دیے ۔۔۔
اچھا بھئ تمھاری رخصتی کرتے ہیں ٹھیک ہے ۔۔۔۔ اب تو خوش ہو جاؤ “وہ اسکے لاڈ اٹھانے لگے ۔۔۔۔
سالار پھر بھی چپ رہا ۔۔۔۔
کبیر آگے بڑھا اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھنا چاہا جبکہ سالار نےاسکا ہاتھ جھٹکا ۔۔
اگر مجھ سے بکواس کی تو گردن اتار دوں گا “وہ دھاڑا ۔۔۔ کبیر پر ۔۔
یار میں جانتا ہوں بہت بڑی غلطی ہو گئ ہے ۔۔۔ آئندہ ایسا نہیں ہو گا ۔۔۔” کبیر نے زبردستی اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
سوتیلا ہوں میں” وہ مرتضی کو دیکھتا چلایا ۔۔۔
مرتضی کے رنگ اڑے تھے بیٹھے بیٹھے ۔۔
بتا دیں مجھے میں آپکی اولاد نہیں ہوں ” وہ دھاڑا ۔۔ جبکہ مرتضی نے پہلی بار اپنے ہاتھ پاؤں کانپتے محسوس کیے
یہ بکواس تمھیں کس نے کہی ہے” وہ خود پر کنٹرول کرتےبولے ۔۔
نظر آ رہا ہے مجھے۔۔ سالار مرتضی کی بیوی ہے یہ بابا ۔۔۔ سالار کی ۔۔۔۔۔ جس کے تین دن یہاں نہ ہونے سے آپ میں سے کسی نے ایک بار بھی نہیں سوچا کہ وہ گئ کہاں ” وہ بیڈ پر مکہ مارتا بولا ۔۔۔
بیٹا پلیز ہمیں معاف کر دو “
مدیھا روتی ہوئی بولی
سالار نے ماں کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
میری مما ہیں آپ ۔۔اور آپ میری زندگی سے غافل ہو گئیں ۔۔۔ پیار کرتا ہے آپکا بیٹا ۔۔۔۔ اس سے
۔۔اور اتنا کہ اگر افشین کا قتل کر دوں تب بھی افسوس نہیں ہو گا مجھے ۔۔۔ اور میں یہ بات واضح سب کو بتا رہا ہوں ۔۔۔۔۔
زیمل کے اٹھنے کے بعد ۔۔۔ میں اس سے سب اگلوا لوں گا ۔۔۔۔
اور جتنی بار افشین نے میری بیوی کو ڈرایا ہو گا ۔۔ میں اتنی بار
اسکو اذیت دوں گا ۔۔” وہ غرا کر بولتا ۔۔۔ سب کو گویا چپ کرا گیا تھا آج اسنے محسوس کیا تھا وہ زیمل کے لئے لاپرواہ بلکل نہیں تھا اور شاید پسند آج واضح اظہار محبت میں بدل گئ تھی ۔۔۔۔
اسنے سب کو چپ چاپ اور شرمندہ دیکھا اور خود بھی ۔۔۔ چپ ہو گیا ۔۔اسے تو نین پریشے آیت عمل سب پر غصہ تھا ۔۔کتنی محبت تھی اسے سب سے اور اسکے معاملے میں اتنی لاپرواہی برتی تھی بس نہیں چل رہا تھا کیا کر ڈالے ۔۔۔
بھیو ۔۔۔ پلیز یار آپ معاف کر دیں ” زین اسکے پاس آ کر بیٹھ گیا ۔۔اسنے زین کو پرشکوہ نگاہ سے دیکھا ۔۔
اچھا چاہیں تو تھپڑ لگا دیں ” زین نے کہا وہ شرمندہ تھا بہت ۔۔
عارض بھی آگے آیا ۔۔۔۔
بھیو نیکسٹ ٹائم ایسا نہیں ہو گا ہم بھابھی کا خود سے بھی زیادہ خیال رکھیں گے پلیز غصہ تھوک دیں” عارض نے کہا ۔۔۔۔
سالار چپ ہو گیا ۔۔۔۔ اسکے لیے سب اہم تھے مگر زیمل سب سے زیادہ تھی ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے زیمل بیٹا ہوش میں آئے گی تو ہم سب خود اس سے معافی مانگے گے اور میں خاص کر مانگو گا کیونکہ میں ہی اسے گھر میں لایا تھا ” مرتضی کی بات پر سالار نے تلملا کراسنکیطرف دیکھا ۔۔۔
اور ایکدم انکے ہاتھ پکڑ لیے
مرتضی صاحب ۔۔۔ اس دنیا میں کسی کی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی آپ کی اور مما کی ہے اور آپ معافی مانگے گے ۔۔ بے ضمیر اور بے غیرت نہیں ہوں ۔۔” وہ تپ کر بولا ۔۔
اور مجھے ایسی باتیں کر کے ٹیز کرنا بند کریں” وہ انکی چالاکی سمھجہ رہا تھا وہ ہنس دیے ۔۔
چل میرا بیٹا مسکرا دے اب “انھوں نے کہا ۔۔۔ تو وہ ایکدم غصے سے انھیں دیکھنے لگا ۔۔
میں بچہ نہیں ہو ڈیڈ جیسے آپ مجھے ٹریٹ کر رہے ہیں” پاؤں پٹخ کر وہ بولا ۔۔۔۔
میرا تو بچہ ہے نہ ۔۔۔۔ ہم بہت شرمندہ ہیں ۔۔۔ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔ یہ سچ ہے” مرتضی بولے تو کبیر نے بی ہاں میں ہاں ملائی بلکہ سب نے ہی ۔۔۔
سوچوں گا۔۔ وہ اترا کر بولا ۔۔۔ اور ہنس دیا ۔۔۔۔
جبکہ اسکے ہنسنے پر سب ریلکس ہوئے تھے
مگر سوچنے کی صورت یہ ہے کہ افشین میری بیوی سے ۔معافی مانگے گی ۔۔۔ ” وہ سپاٹ لہجے میں سنجیدگی سے بولا ۔۔
میں منگواں گا بیٹا اپنے پاگل پن میں اسنے نیچ حرکت کی ہے “سکندر آگے آئے ۔۔۔۔
ہاتھ جوڑ کر”سالار نے ضدی لہجے میں انکیطرف گھور کر دیکھا ۔۔
ہاتھ جوڑ کر” سکندر نے مدھم آواز میں اسکی بات مانی تھی ۔۔
سالار چپ ہو گیا ۔۔اور گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔چاروں لڑکیاں ۔۔۔ شرمندہ سی تھیں ۔۔۔
سالار نے ان سب کیطرف نہیں دیکھا ۔۔۔
آپ نے کچھ دیر پہلے رخصتی کی بات کی ہے اسپر قائم رہیں گے آپ “سالار نے جلدی سے اس وقت بات منوانے کی ٹھان لی ۔۔۔
موقع پرست ہے ۔۔۔ سالار” مرتضی نفی میں سر ہلاتےاٹھے ۔۔
یہ غلط ہے جو آپ نے کہا ہے وہ پورا کریں “سالار نے انکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔جبکہ انھوں نے ۔۔ اسکا شانہ تھپتھپایا۔۔۔۔
جو تم چاہو وہی ہو گا ۔۔۔۔ تم چارو میرا سکون ہو ۔۔” اسکے چہرے کو پیار سے چھو کر وہ بولے ۔۔
سالار مطمئین ہوا ۔۔
میں اپنے ساتھ رکھوں گا زیمل کو ” اسنے کہا ۔۔۔ اور کن انکھیوں سے انھیں دیکھا ۔۔
زیادہ نہیں پھیل رہے ہو اب ” مرتضی نے گھورا اسے عزت راس ہی نہیں تھی ۔۔۔
یار بابا نکاح میں ہے وہ میرے” سالار نے کہا جب کے سب دیکھ رہے تھے کیا چیزتھا وہ ۔۔واقعی کبھی دھوپ کبھی چھاو ساتھ ۔۔۔
بے حیا بے ہودہ ۔۔۔ زلیل آوارہ انسان ” مرتضی اسکا ہاتھ جھٹک کر چلے گئے ۔۔۔
جبکہ سالار انکی پشت دیکھتا رہ گیا ۔۔وہ مڑا تو مدیھا کو روتا دیکھ دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔وہ انکے پاس آگیا ۔۔۔
اب آپ کیوں رو رہیں ہیں”اسنے پوچھا ۔۔
مجھے سمھجہ نہیں آ رہا یہ غلطی کیسے ہو گی مجھ سے یہ غلطی نہیں گناہ ہے میں زیمل سے ہاتھ جوڑ کر معافی ۔۔۔
مما” وہ سختی سے بولا ۔۔۔۔
زیمل کا تعلق صرف مجھ سے ہے ۔۔اور یقین مانیں اس بات کا احساس مجھے ہو گیا ہے میں آپ سب لوگوں پر اسکے نام کا پریشر اب ڈالوں گا بھی نہیں میرے لیے ایک بار کی کوتاہی ہی بہت بڑا سبق ہے اور آپ سب کا تعلق مجھ سے ہے اور میرے لیے میرا ہر رشتہ ہیرے کے لیے قیمتی ہے ۔۔۔ ” اسنے انکے آنسو صاف کیے ۔۔
جبکہ مدیھا ۔۔کو اسکی بات پر اور رونا آیا ۔۔۔۔۔
سالار چپ ہو گیا ۔۔۔
جاری ہے
