Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 41

تم نے زرا تو میری عزت کا خیال کیا هوتا افشین میری بیٹی بهی اسی وجہ سے اس گهر میں نهیں رهتی “
وه بولے سالار کها جانے والی نظروں سے افشین کو دیکھ رها تها اسکا بس نهیں چل رها تها مار مار کر اس عورت کا اور اس سے ڈرنے والی اپنی بیوی کا حشر هی بگڑ دے وه اسے لیے کیا کیا سوچ رها تها اور جب کهلی تو اندر کهانی هی الگ تهی اس سے بڑ ا احمق بهی کوئ دنیا میں موجود تها کیا
وه سرخ چهرے سے باپ کیطرف دیکھ رها تها افشین زیمل کو گهور رہی تهی جو رونے میں مصروف تهی
سکندر اب یہ حقیقت بن گئ هے که تمهاری بیوئ یهاں رهنے قابل نهیں
انکی بات پر سکندر نے شرمندگی سےسر ہلایا جبکہ افشین چلانے لگی
میں یها ں سے کهیں نهیں جاو گی کوئ جائے گا تو یه جسم فروش میرے بیٹے کی اترن”
بس ” اس سے پہلے وه بات مکمل کرتی سالار کی دهاڑ سے ایکدم رک گئ سب افشین کو نفرت سے دیکھ رهے تهے سب کی زبانوں پربنے پانے ایمیج اور اپنی عزت کو اج اسنے داو پر لگا دیا تها
بابامیں بنا لحاظ کے اس عورت کی زبان کهینچ لوں گا “
سالار کا غصے سے جیسے دماغ پهٹنے کو تها سکندر نے مرتضیٰ کے دیکهنے پر شرمندگی سے افشین کو کهینچا تها
کوئ اس کی اصلیت نہیں جانتا
سوائے میرے اس کا باپ اسے بیچ چکا تها ایک رات کسی غیر مرد کےساتھ گزاری تهی اس.منحوس نے میرا بیٹا تو ٹهیک هے پاگل تهل سالار بیٹا تم تو پاگل نهیں هو یہ لڑکی کہیں سے بهی تمهارے ساتھ. رہنے قابل نهیں
افشین نےسارا سچ کهول کر سب کے سامنے رکھ دیا وه سچ جس سے زیمل اپنی جان چهڑانا چاهتی تهی مگر افسوس کہ اسکی قسمت میں صرف رسوائ تهی اسنے حیران حونک کهڑے سب کے چهرے دیکهے مقام ایسا تها که زمین کهلے تو وه اس میں سما جائے. سالار سرخ نظروں سے اب بهی افشین کو دیکھ رها تها اسنے اگے بڑهک ر زیمل کا هاته تهاما اور بنا کسی کیطرف دیکهے سالار مرتضیٰ مرتضیٰ هاوس کی جان بنا کسی کا دوسرا لفظ سنے وهاں سے نکلتا چلا گیا وه تینوں بهائ پل میں هوش میں ائے تهے سالار کے پیچهے دوڑے جو روتی هوئ زیمل کو گاڑی میں دهکیل کر خود بهی سوار هو گیا تها
پاگل هو گئے هو
کبیر بولا
اگر زیمل کی جگہ بهابهی هوتی تب بهی یه کهنے اتےتم یه یه هی سوچ رکهتا.میں بهی که پاگل هو گئے هو تم تو
وه غصے سے بولا اور کبیر کا هاته جهڑک کر گاڑی سٹارٹ کر لی
جانے دو ومجهے ابهی روکا تواس افشین کا قتل کر دوں گا
وه نفرت سے بولا عارض نے کبیر کا هاتھ پکڑ کر پیچهے کیا تها بلکل جائز بات تهی اگر وه اسکی جگہ هوتا تو ایسا هی کرتا سوال اس کی بیوئ کا تها اور جو جو باتیں اسنے کہیں تهیں کسی بهی غیرت مند مرد کی برداشت سے باہر تهی اسنےگاڑی موڑ لی اور وها ں سے چلا گیا تینوں بهائ بهڑک کر اندر ائے اور باپ کے انصاف کا انتظار کرنے لگے افشین بنا شرم کیے کهڑی تهی گویا اسنے تو سچ بیان کیا تها سکندر شرمندگی سےسر جهکا گیا
بابا کچھ بولیں گے بهی
زین مچلا “
جاو اپنی اپنی جگاہوں پر سب
مگر سالار اس گهر میں نهیں هے
کبیر نے باپ کو احساس دلایا وه اجائے گا
بابا یہ احتجاج عارض کیطرف سے تها
لے جاو اپنی بیوی کو یهاں سے سکندر مرتضیٰ نے کها تو سکندر افشین کو وهاں سے گھسیٹ کر لے گیا پورے گهر میں سالار کے جانےپر احتجاجی نظریں مرتضیٰ پر تهیں
مجھ سے زیادہ یہ کسی کو عزیز نهیں هے اسکا غصہ اترنے دو
اور جو افشین چچی بولیں هیں بهابهی کے متعلق “
وه دوباره یهاں اب کبهی نهیں ائے گی اور کوئ اس گهر کا فرد دوباره اس موضع پر بات نهیں کرے گا
اور سب کے بیچ بتا رها هوں اج ان دونوں کی رخصتی هو گئی ہے جب غصہ اتر لے گا لوٹ ائے گا
انهوں نے کها اور وہاں سے چلے گئے
باقی پیچهے سب ایک دوسرے کو دیکهتے ره گئے
………………………
گاڑی میں صرف زیمل کے رونے کی اواز تهی
سالار اب تک کچه نهیں بولا تها
جیسے هی وه فلیٹ کے نزدیک پهنچےسالار نے اپنے پیچهے اتی گاڑی میں اپنی گاڑی کی چابی پهینکی اور زیمل کا ہاتھ کهینچ کر وه اسے باہر گهسیٹ کر لیفٹ تک لے ایا زیمل اج اس سے خوب ڈر رهی تهی
سالار نے فلیٹ کهولا اور اسے اندر دهکا دیا بلکل بهی نرمی نهیں تهی اس کے انداز میں کیا وه ان سیب باتوں پر یقین لےایا هے کیا وه اس سے کچھ سوال نهیں کرے گا اور اگر کرے گا تو کیا اور اس کے پاس کیا جواب هوگا وه کیا کهے گی ان سب باتوں کے اس کے پاس کوئ جواب نهیں تها اسکی دعا تهی سالار اس سے کچھ نہ پوچهے سالار نے دروازه بندکیا اور اپنے پیچهے حونک کهڑی زیمل کو دیکها اج اندازا هوا تها اسے اسکا زیمل سے کیا تعلق تها
وه زیمل کے قریب ایا
تم نے مجهے پہلے کیو ں نهیں بتایا
زیمل کو لگا وه اج ڈه گئ
اب اسکے پاس کوئ جواب نهیں تها ه تو اسکی محبت میں چور هو گئ تهی اب اسے اپنے ماضی کا حساب دینا پڑے گا
میں یه سب باتیں اپ کو پهلے بتا دیتی مگرمگر مجهے ڈر لگتاتها میرے وجود سے نفرت کر کے پ مجه سے الگ هو جائیں گے
کیا بکواس هے میں افشین کے بارے میں پوچھ رها هوں وه تمهیں حراساں کرتی تهی اور تم نے مجهے نهیں بتایا
تمهیں مارتی بهی تهی وه
نهیں میں اپکو سچ بتانا چاہتی هوں سالار اسنے جو بهی کها هے سب سب کچھ
شششش
بس چپ
نهیں خدا کے لیے سن لیں سب مجه سے میں اپنی زندگی کے اس بوجه کو اتارنا چاهتی هوں وه پهوٹ پهوٹ کر رو دی جبکه
سالار نےاگے بڑه کر اسےبانهوں میں سمیٹ لیا اور وه اسے لیے صوفے پر بیٹھ گیا اج اسنے کوئ احتجاج نهیں کیا تها وہ اسکےحصار سے نکلنے کی
سالار کی گرفت اسپر سخت تهی
……………………..
وه شخص جس کو میں بیچی گئ اسکا نام سعیر تها ابونے پیسوں کے لیے مجهے بیچ دیا میری کوئ ماں نهیں تهی مجهے پته بهی نهیں کون هے وه لگتا هے اج تک میرا تو باپ بهی سگا نهیں وه رونے لگی انهوں نے مجهے بیچ دیا میں قسم کھاتی هوں میری عزت محفوظ هے
انف زیمل سخت اریٹیٹ کرتی هے مجهے تمهارا یه رونا میں کچه نهیں جاننا چاهتا
میں جانتا هوں تم بلکل صاف هو تمهارا کردار صاف هےتمهاری عزت پر کوئ حرف نهیں اور جو بھی بات ہے اسے بتا کر منه ٹوٹواو گی اپنا
زیمل اسکی طر ف حیران نظروں سے دیکهنے لگی
میں نے ایک رات حقیقت ہے اسکے ساته گزاری تهی زیمل بولی سالار نے اسکی جانب دیکها اور اچانک اسکے بال مٹهی میں جکڑ کر اسنے پیچهے کهینچا زیمل کی اه نکلی
جب میں تمهیں کہہ رہا هوں مجهے کچه نهیں جاننا پھر کیوں مهے ٹیز کر رهی هو
اسنے غصے سے کہا
اپکو واقعی مجه پر یقین ہے ” وہ سوال کرنے لگی
ہاں
جاری ہے