No Download Link
Rate this Novel
Episode 2
اسلام علیکم بڑی مامی ” افان نے مسکرا کر مدیھا کو دیکھا ۔۔۔
ارے تم آئے ہو تمھاری امی نہیں آئیں ۔۔ کتنے دنوں سے یاد کر رہی تھی میں ” مدیھا نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ اور اسنے مسکرا کر اب بکھر جانے والے بالوں کو درست کیا ۔۔۔
تائ امی پراٹھا ہی بنا دیں ” پیچھے سے آتی آواز پر وہ دونوں پلٹے کالج یونیفارم میں ۔۔۔ وہ گرمی سے گھبرائ ہوئ لگ رہی تھی ۔۔۔
بیٹا کھانا بن گیا ہے ۔۔۔۔ میں بس دیتی ہوں تمھیں ” مدیھا بولی ۔۔۔ جاؤ فان تم بھی ٹیبل پر بیٹھو میں کھانا لگاتی ہوں ” مدیھا نے پیار سے اسکو دیکھا ۔۔۔
اور تنزیلہ بھی تبھی داخل ہوئ ۔۔۔ تھی افان نے انکو بھی سلام کیا
اور ڈائینیگ ٹیبل کی جانب ا گیا ۔۔ پریشے نے اسکو بس ایک نظر دیکھا تھا اور اسکے بعد وہ اپنے سیل فون میں مگن ہو گئ ۔۔ یونیفارم بھی نہیں بدلہ تھا ۔۔
افان اسکو ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
عجیب مصیبت ہے پتہ نہیں کیوں منہ اٹھا کر ا جاتا ہے” پریشے سیل پر نگاہیں جمائے ۔۔۔ غصے سے سوچ رہی تھی ۔۔ جب بھی وہ آتا تھا اسی پر نگاہ جما کر بیٹھ جایا کرتا تھا ۔۔۔۔
افان کو محسوس ہو رہا تھا کہ وہ چیڑ رہی تھی اس سے ۔۔۔ ڈھٹائ سے مسکراتے ہوئے ۔۔۔ اسنے سیل فون نکالا ۔۔۔ اور پریشے کی دو تین پیکس لے لیں ” مقابل کا منہ ہی کھل گیا اسکی اس جرت پر ۔۔
یہ یہ آپ نے میری تصویر کیوں لی ہے ” وہ ایکدم بھڑکی ۔۔۔۔
تم مصروف بننے کی ایکٹینگ کرتی اچھی لگ رہی تھی تو میں نے سوچا تصویر لے لوں ” وہ بولا ۔۔۔ اور آنکھ دبائ ۔۔۔
پریشے ماتھے پر بل ڈالے اسے گھورنے لگی ۔۔
میری تصویر ڈیلیٹ کریں ابھی” وہ سیل فون ٹیبل پر پٹختی ۔۔۔ بولی ۔۔۔
نہ کروں تو ” اسنے بھی اسی کے انداز میں کہا ۔۔۔
تو زہر کھا کرمر جائیں ” پریشے نے دونوں پاؤں پٹخے اور وہاں سے واک آؤٹ کر گئ ۔۔۔۔
جانتی تھی ۔۔ وہ اسے اور سلگائے گا ۔۔۔۔ وہ کچن میں مدیھا اور تنزیلہ کے پاس ا گئی۔
تمھیں ہی کسی دن کھا کر مرو گا ۔۔۔ ایسے ۔۔۔ افان مرنے والا نہیں_” اسنے اسکی جانب رخ موڑتے ہوئے سوچا ۔۔اور ہنس دیا ۔۔۔۔
سیل فون میں اسکی تصویریں دیکھیں یونیفارم میں وہ بے حد کیوٹ لگتی تھی ۔۔۔۔
افان نے گھیری سانس کھینچی اور نگاہ اٹھائ ۔۔۔۔ زین لڑاکا عورتوں کیطرح ۔۔۔ دونوں ہاتھ کمر پر جمائے کھڑا تھا ۔۔۔ افان نے جلدی سے سیل فون آف کیا ۔۔۔
کیا مصیبت ہے جن کیطرح سوار ہو گئے ہو سر پر” آفان اٹھا
اور ڈائینیگ پر سے صوفوں کیطرف ا گیا ۔۔۔۔
مجھے سب پتہ چل رہا ہے ۔۔۔ افان بھیا ۔۔۔ یہ جو آپ اپنی کیمیسٹری بنا رہے ہیں بڑے بھیا کو بھنک بھی پڑ گئ نہ بیٹے گئے کام سے ” زین نے اسے وارن کیا ۔۔۔
تم اپنا منہ بند رکھنا باقی کوئ بڑے بھیا تک کچھ نہیں پہنچائے گا ” افان نے اسکو گھورا ۔۔۔
منہ بند کرنے کی قیمت ” زین نے ہاتھ اگئے کیے ۔۔ آج جو وہ اپنی ساری پوکٹ منی پروفیسروں کے دھڑ اتار آیا تھا ۔۔تو اب یوں ہی اسنے اپنا خرچہ پورا کرنا تھا ۔۔۔
افان نے چیڑ کر جیب میں سے پانچ ہزار کا نوٹ نکال کر اسکی ہتھیلی پر سجا دیا ۔۔
ویری گڈ ۔۔۔” زین نے نوٹ کو چوما ۔۔۔
بیٹھیں نہ کھڑے کیوں ہیں” اسنے عزت سے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔ افان اسکی اداکاری پر خون کا گھونٹ بھر گیا
۔۔ سالار کی واپسی نہیں ہوئ ” افان نے سالار کے بارے میں پوچھا ۔۔۔۔ جو کہ اسکا دوست بھی تھا ۔۔۔
آپکا دوست ہے اپکو پتہ ہو گا ۔۔۔ ہمیں نہیں پتہ ہوتا انکا ۔۔۔ بڑے بھیا کو پتہ ہوتا ہے یہ اپکو ۔۔” زین نے سیل پر میسیج ٹائیپ کرتے ہوئے بتایا ۔۔
میرا ایکچلی اس سے کنٹیکٹ نہیں ہو رہا ” افان نے بتایا ۔۔
میرے خیال سے وہ شمالی علاقوں میں ہیں سگنل ایشو تھا بڑے بھیا کو بھی” زین کو یاد آیا تو بتایا ۔۔افان نے سر ہلایا ۔۔۔
ارے بچوں وہاں کیوں بیٹھ گئے” مدیھا نے ٹیبل پر سامان رکھا تنزیلہ نے بھی انکو ٹیبل پر آنے کا کہا ۔۔
مما میں کھانا اپنے روم میں کھاؤ گی” پریشے افان کو گھورتی ہوئی بولی ۔۔
کیوں کیا مسلہ ہے” تنزیلہ نے اسپر گھوری ڈالی ۔۔۔۔ وہ اکثر اسپر سختی کرتی تھی کیونکہ صوفیہ اور مدیھا اسکی بہت حمایت کرتیں تھیں ۔۔۔
مما میرا موڈ نہیں یہاں کھانا کھانے کا ” اسنے منہ بسوارا ۔۔۔
کیوں پریشے تمھیں کسی سے دقت محسوس ہو رہی ہے” زین نے دانت نکالتے ہوئے پوچھا۔ ۔۔
بکواس بند کرو ” پریشے غرائ ۔۔۔ آفان نے اپنی ہنسی روکی ۔۔
پریشے تمھیں تمیز ہے بھائ سے کیسے بات کر رہی وہ ” تینزیلہ کو برا لگا ۔۔۔
اس کو مت ڈانٹو اسکو ڈانٹو کیسے تمھارے غصہ کرنے پر دانت نکال رہا ہے ۔۔۔ ” مدیھا نے زین کو گھورا ۔۔۔
پریشے ادھر ہی بیٹھو بس ” تنزیلہ نے کہا ۔۔۔ تو وہ پاؤں پٹختی پلیٹ اٹھا کر ان دونوں سے دور بیٹھ گئ ۔۔۔
تنزیلہ نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
بہت ضدی ہو گئ ہے یہ لڑکی”
عارض او بیٹا کھانا کھاؤ ” مدیھا نے عارض کو باہر جاتے دیکھا تو روکا ۔۔۔
نہیں کھانا مجھے” اسنے ٹکا سا جواب دیا ۔۔
عارض ” مدیھا نے پھر سے پکارہ ۔۔۔
مما مجھے کھانا ہی نہیں” وہ چیڑ کر بولا ۔۔۔۔ اور باہر نکل گیا ۔۔۔۔
غصے سے سر جھٹکا تھا ۔۔اتنا ہی میرا احساس اور خیال ہوتا تو ۔۔۔۔ مجھ سے گاڑی نہ چھینتے”وہ بڑبڑایا ۔۔اور باہر جانے لگا کہ اسکی نگاہ ۔۔۔ لون میں بینچ پر بیٹھی آیت پر گی ۔۔۔۔
اور اسنے اسکی جانب قدم اٹھائے ایک بار پھر سے غصے کی لہر اٹھی تھی اور وجہ ایک ہی نظر آئ تھی اور وہ تھی آیت ۔۔ جس کی وجہ سے ۔۔اج اسپر ہر چیز کی پابندی لگ گئ تھی ۔۔۔
وہ اسکے پاس ا کر رک گیا ۔۔۔ آیت نے سر اٹھایا ۔۔۔
اور سانس حلق میں اتارا ۔۔۔ عارض اسکو گھورتا رہا ۔۔۔۔
یہاں دھوپ میں بیٹھ کر کیا کر رہی ہو کیا ثابت کرنا چاہتی ہو۔ سارے گھر والوں پر” وہ بھڑک کر بولا ۔۔۔۔
م۔۔میں اپنی مرضی سے بیٹھی ہوں ۔۔”
اچھا تو تمھاری بھی کوئ مرضی ہے آیت محترمہ ۔۔۔ مجھے تو نہیں لگتا تمھاری کوئ مرضی بلکہ روکو ۔۔۔ تم بھی کچھ ہو کیا ۔۔۔ ” وہ طنزہ ہنسا ۔۔۔
آیت جانتی تھی وہ اسپر طنز کر رہا تھا ۔۔۔۔ نہ اسکے پاس ا سکا باپ تھا اور نہ ہی ماں ۔۔۔۔ اسکی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔
میں آپکی شکایت بڑے بھیا سے لگا دوں گی” آیت ہمت کرتی سرخ نظروں سے اسکو دیکھ کر بولی ۔۔ آج سیاہ شلوار قمیض میں ۔۔ وہ نظر لگ جانے کی حد تک اپنے پرسوز حسن سے حسین لگ رہی تھی مگر سامنے کھڑے شخص کے دماغ میں نہ جانے ایسا کیا تھا کہ اسکا حسن بھی اسکے آگے دھندلا تھا ۔۔۔
اچھا ۔۔”عارض ضبط کرتا اسکے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔ آیت جلدی سے اٹھی ۔۔ جبکہ عارض نے اسکی کمر میں ہاتھ ڈال کر اسکو ۔۔ دوبارہ کھینچ کر بیٹھا لیا ۔۔
کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں مجھے” ایت ایکدم بولی ۔۔
ششش” عارض نے اسکے گلابی لبوں پر اپنی بھاری انگلی جما دی ۔۔
آیت کا وجود سنسنا اٹھا ۔۔۔۔
یہاں تک کے اسکے وجود کی کپکپاہٹ عارض کو بھی محسوس ہوئی ۔۔۔۔
وہ طنزیہ مسکرایا ۔۔۔
تمھاری حقیقت ہی تو یہ گھر والے بنانا چاہتے تھے جو تمھیں میرے سر چیپکا دیا ۔۔۔ میں بھی دیکھو گا ان سب کے سامنے خود کو کیسے صاف کرو گی ۔۔۔ یہ بچہ ۔۔۔ ” اسکے کان کے قریب جھکتے ہوئے باہر وہ اسکی کان کی بالی سے کھیل رہا تھا مگر درحقیقت وہ اپنے وجود کا زہر اس میں منتقل کر دینا چاہ رہا تھا ۔۔۔
آیت نے آنسو سے بھری آنکھوں کو سختی سے بند کر لیا ۔۔۔
اس بچے کا کیا بتاؤ گی ” اسنےا سے دور جھٹکا ۔۔۔۔
یہ آپکا ہے ۔۔ آپ ہی۔ اسکو قبول کریں گے” وہ ہچکیاں بھرنے لگی ۔۔۔
اممم مممم ” عارض مسکرایا ۔۔۔۔۔ آیت نے جلتی آنکھوں میں اسکا عکس دیکھا ۔۔
تمھیں ایسا کیوں لگا ۔۔۔۔” اسنے حیرانگی سے پوچھا ۔۔۔
پلیز عارض ” آیت رونے لگی ۔۔۔۔
عارض ہنسنے لگا اور نفی میں سر ہلاتا اسکے پاس سے اٹھ گیا ۔۔۔۔
پریشے جو آیت کو بلانے باہر آئ تھی پھٹی پھٹی آنکھوں سے دونوں کو دیکھ رہی تھی شاید وہ انکی ساری باتیں سن چکی تھی آیت کی حالت ایسی تھی کہ ابھی زمین کھلے اور وہ اس میں سما جائے ۔۔۔
جبکہ عارض نے مڑ کر آیت کو دیکھا جس کا رنگ لٹھے کی مانند سفید تھا ۔۔ وہ ہنستا ہوا وہاں سے نکل گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ آیت منہ پر ہاتھ رکھے اپنے آنسو ضبط کرنے لگی ۔۔۔
پریشے اسکی جانب بڑھی ۔۔
ک۔۔۔کیا یہ ۔۔یہ سچ ہے” اسکی اپنی آنکھیں بھی بھیگنے لگیں تھیں ۔۔۔۔
آیت کے ٹپ ٹپ آنسو گیرنے لگے ۔۔۔
اور پریشے نے اسکو ایکدم سینے سے جکڑ لیا ۔۔۔۔
یہ یہ سب کیسے ” وہ حیران تھی ۔۔۔۔ جبکہ آیت یہ بھید کھلنے پر بے بسی سے سسک اٹھی تھی ۔۔۔۔
پریشے نے اسکو آنسو صاف کیے ۔۔۔۔ بھوک سیرے سے اڑ گئ تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر یہ لڑکی نین عباس ۔۔۔ ہے باپ ریٹائرڈ ٹیچر ہیں ۔۔۔ دو بھائ ہیں اور دو ہی بہنیں یہ سب۔سے چھوٹی بہن ہے ۔۔۔ خاندانی لوگ ہیں مگر بس مناسب ۔۔ سے ” اسکے پی آئے نے نین عباس کی ڈیٹیل اسکے سامنے رکھی اور اسکو بتانے لگا ۔۔۔۔
کبیر اس فائلز کو دیکھ کر پڑھنے لگا جس میں اسکے گھر کا اڈریس بھی شامل تھا ۔۔۔
اسنے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔۔ صورتحال کچھ ایسی تھی کہ ۔۔ ایک نگاہ کے بعد دوسری نگاہ دیکھنے کو دل بے چین سا تھا ۔۔ ہاں یہ پہلی بار ہوا تھا ۔۔۔ کتنی ہی بار سب نے اسے فورس کیا تھا کہ شادی کر لو مگر وہ صاف انکار کر دیتا ۔۔۔۔
وہ درحقیقت منن پسند چیزوں کا قائل تھا ۔۔اور ایک وجود جس کے ساتھ اسنے زندگی گزارنی تھی وہ کیا اسکی من پسند کا نہ ہوتا ۔۔۔ اسی سوچ کے تحت اسنے ہمیشہ انکار ہی کیا تھا ۔۔ مگر نین عباس ۔۔۔ جو کہ تھرڈ آئیر کی سٹوڈنٹ تھی ۔۔ یعنی بیس سالہ لڑکی اسکے دماغ اور عصاب پر کیسے ا سمائ تھی ۔۔
اسنے سر ہلا کر پی آئے کو جانے کا اشارہ کر دیا ۔۔۔۔
اور تبھی مرتضی اندر داخل ہوئے تو اسنے جلدی سے وہ فائلز نیچے ڈرا میں ڈال دی ۔۔
یہ فائل ہے اسپر سائین کر دو ۔۔اور جتنا بھی مال بھیجنا ہے ۔۔۔ شہاب کو بتا دینا ۔۔ وہ آگے پہنچائے گا ۔۔۔” انھوں نے کہا ۔۔
تو اسنے سر ہلایا ۔۔
ٹھیک ہے بابا” وہ بولا ۔۔۔
سالار ا گیا ” انھوں نے پھر سے پوچھا ۔۔۔۔
میں اسکو کال کر رہا ہوں مگر وہ اٹھا نہیں رہا ۔ ” کبیر نے فائل دیکھتے ہوئے بتایا ۔۔۔۔
تو مرتضیٰ زرا غصے میں ا گئے ۔۔۔
خاندانی بیزنیس تو جھنم میں چلا جائے ان تینوں کیطرف سے ۔۔۔۔ ” وہ بھڑک کر عارض سالار اور زین پر بولے ۔۔
کبیر نےا نکی طرف دیکھا ۔۔
آپ عارض کے ساتھ زیادہ سختی مت برتیں ۔۔” کبیر بولا
۔۔
سختی وہ میری جوتیوں کے قابل ہے مجھ سے برداشت ہی نہیں ہوتا ۔۔وہ اس انگریزنی پر میری حلال کمائ لگائے گا ” وہ غصے سے پھنکارے ۔۔۔
کبیر بھی خیر اسی بات پر سب سے زیادہ بھڑکا تھا ۔۔۔۔۔
عارض کو ۔۔۔ تم کہو کے وہ بیزنیس کو سمبھالے ” مرتضیٰ بولے ۔۔۔
ہمم ٹھیک ہے” وہ بولا ۔۔۔
اور مرتضیٰ آٹھ کر چلے گئے ۔۔۔۔
جبکہ کبیر فائلز ریڈ کرنے لگا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شوٹ سے فارغ ہو کر اسنے چئیر کا کین منہ سے لگا لیا ۔۔۔
دو دن سے بے آرامی کے سبب وہ جاگ رہا تھا ۔۔۔۔
اور اب اگر وہ سو جاتا تو یہ کٹلاک اور بھی لمبی ہو جاتی ۔۔۔ جو وہ چاہتا نہیں تھا جانتا تھا ۔۔ کبیر اسے الٹا لٹکا دے گا ۔۔۔ جبکہ بابا ۔۔ تو شاید ہڈیوں کا کچومر ہی بنا دیں ۔۔ اسنے سر کو جھٹکا ۔۔اور کین کا دوسرا گھونٹ بھرا ۔۔۔۔
سر شوٹ ریڈی ہے ” اسنے سر ہلایا ۔۔۔
اور سکریپٹ پر ایک نگاہ دوڑائی ۔۔۔
اور ہزاروں کیمروں کے آگئے ا کھڑا ہوا ۔۔ بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔۔ سامنے کھڑی ہیروئن کو دیکھا ۔۔ جس میں ایک پرسنٹ بھی دلچسپی پیدا نہیں ہوئ تھی ۔۔۔اسنے سین فائنل کیا ۔۔۔ اور گھیرہ سانس لیا ۔۔۔۔
مجھے آج رات ہی واپسی کے لیے نکلنا ہے ” وہ بولا ۔۔۔
تو گارڈ نے سر ہلایا ۔۔۔۔
کچھ دن ہمارے ساتھ بھی ٹھرتے ” وہ لڑکی بولی سالار نے اسکو دیکھا ۔۔ سگنل فون کے آ نہیں رہے تھے ۔۔ بئیر پینے کے باوجود دماغ نیند کا طلبگار تھا ۔۔اور اوپر سے ۔۔۔ سامنے کھڑی لڑکی ۔۔۔
کیا کچھ نہیں ہو سکتا تھا ۔۔ دلفریب نظروں سے اسکی جانب دیکھا تھا ۔۔۔
اور مسکرا دیا ۔۔
تمھیں اپنی عزت پیاری نہیں ہے” وہ بولا ۔۔۔ اور پانی کا گلاس اٹھا لیا ۔۔۔
تمھارے لیے کچھ بھی” اسکے بازوں سے چیپٹتے ہوئے وہ بولی ۔۔۔
ہمم آئ لئک آٹ” سالار نے اسکے ریشمی بالوں میں ہاتھ پھیرہ ۔۔۔ اور اسکے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔۔
سر گاڑی ریڈی ہے” اس سے پہلے اس سے کوئ خطا ہوتی ۔۔۔ اچانک گارڈ کی آواز پر وہ اوپر دیکھنے لگا ۔۔ گارڈ اسکی تیاریوں سے گھبرا کر ۔۔ وہاں سے ہٹ گیا ۔۔
اوپس سوری ڈئیر ۔۔۔ میرا دل تو تمھیں چکھ لینے کا ہے ۔۔ مگر ۔۔۔ تھکاوٹ زرا بھی اجازت نہیں دے رہی” وہ بولا ۔۔۔
میں اتار دوں گی ” وہ لڑکی بولی ۔۔۔۔
پھر کبھی” سالار نے سگریٹ کو منہ میں دبایا اور سر پر ہڈ ڈال کر وہ وہاں سے ۔۔ مظبوط چال چلتا ۔۔۔ باہر نکل آیا ۔۔۔ ڈائریکٹر سے فون پر بات کر لی تھی اور آدھی رات کے سنئے وہ ۔۔۔ اسلامہ آباد کے لیے نکل پڑا ۔۔۔
گاڑی میں اسکے شوق کا سارا سامان موجود تھا ۔۔ جس سے وہ شغف لیتا یہ راستہ گزارنے والا تھا
