Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 14

وہ عارض کے اٹھنے سے پہلے اٹھ کر فریش ہوئ اور جلدی سے روم سے باہر نکل گئ ۔۔۔
اسکے باہر نکلنے پر ۔۔۔۔ مدیحا نے سب سے پہلے اسکطرف دیکھا ۔۔
اسپر انوکھا ہی روپ چڑھا تھا ۔۔۔ مدیحا اسکی طرف بڑھی ۔۔۔
جبکہ آیت ایکدم کچھ خفیف سی ہو گئ ۔۔۔
پگلی اپنے شوہر کے ساتھ باہر آنا تھا تمھیں اورمجھے پتہ ہے وہ نواب تو اٹھا بھی نہیں ہو گا “مدیحا نے مسکرا کراسکا ماتھا چوما ۔۔۔۔
جبکہ آیت انکی طرف دیکھنے لگی ۔۔کتنا مان تھا انھیں اپنے بیٹے پر جبکہ انکا بیٹا کیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ چاہ کر بھی کچھ کہہ نہیں سکی انکے چہرے کی مسکراہٹ کو اسنے برقرار رہنے دینے کا سوچا ۔۔۔۔۔
جاؤ ابھی نانی کی نظر تم پر نہیں گئ ورنہ نہ جانے کیا کیا سنا دیں جاؤ عارض کے ساتھ باہرآنا ” مدیحا نے پیار سے کہا ۔۔
مگر تائ امی ۔۔ مجھے بھوک لگ رہی ہے” وہ بے چارگی سے بولی تو مدیحا ہنس دی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے میں بھیجواتی ہوں کھانے کے لیے کچھ ۔۔۔۔ اور اسکو اٹھاؤ تاکہ جلدی ناشتہ کر سکو “مدیحا نے کہا تو آیت کو چار نگار واپس پلٹنا پڑا۔۔ وہ کمرے میں دوبارہ آئ ۔۔ مرجھائے ہوئے پھولوں کی خوشبو اسکی ناک سے ٹکرائی اور اسنے ۔۔۔ بیڈ پرعارض کی جانب دیکھا۔۔۔
وائٹ کرتا شلوار میں وہ ۔۔ تکیوں کو سینے میں بھینچے ۔۔۔ بے خبر سو رہا تھا ۔۔۔
وہ کچھ پل اسے دیکھتی رہی کیا ہی اچھا ہو کہ وہ شخص صرف اسکا ہو جائے ۔۔ اتر جائے اسکے دماغ سے ہر کسی کا فتور اور ۔۔ وہ اسکی محبت کو محسوس کرے۔۔تو شاید آیت خود کو خوش قسمت تصور کرے گی۔۔۔۔
اسکے چہرے کے نقوش کو دیکھتے وہ کافی دیرسوچتی رہی ۔ جبکہ اچانک بجنے والے دروازے پر ۔۔ وہ اچھل پڑی دوسری طرف عارض جو سکون سے سورہا تھا وہ بھی ۔۔ نیند میں جیسے ڈسٹرب سا ہوا اور اسنے کروٹ بدل لی ۔۔
آیت نے احتیاط سے اپنے کھانے کا سامان ملازمہ سے لیا جو کہ اسکو معنی خیز نظروں سے دیکھ کرشرما رہی تھی مگر آیت کا شرمانے کا کوئ موڈ نہیں تھا رات سے بھوک سے وہ پاگل ہو رہی تھی ۔۔۔
اور تائ امی نے بی اچھا ناشتہ بھیجا تھا دیکھ کر منہ میں پانی آنے لگا ۔۔اسنے ٹرےلی ۔۔اور صوفے پررکھ دی۔۔۔
جبکہ دروازہ دوبارہ بند کرکے وہ سب بھول کر ۔۔۔ اب ناشتہ کرنے میں مگن ہو گئ تھی۔۔۔
کچھ ہی دیرگزری تھی کہ عارض کی نگاہ بھی کھل گئی ۔۔۔
اسنے ارد گرد دیکھا بیڈ پر وہ نہیں تھی۔۔ اور سامنے صوفے پر نظر گئ تو وہ۔۔۔
دودھ کے گلاس کومنہ لگائے
۔۔ بہت سپیڈ سے پینے کی کوشش میں تھی عارض چپ چاپ اسکو دیکھنے لگا ۔۔
بھیگے بال گزشتہ شب کا نکھارچہرے پر سجائے ۔۔۔ وہ لاپرواہی سے ناشتہ کر رہی تھی ۔۔ عارض اٹھا ۔۔ تو آیت کی نظر اسپرگئ ۔۔۔
تو پوری کا لقمہ یوں ہی رہ گیا ۔۔۔۔
عارض اسکو اگنور کر کے اٹھا اور واشروم میں بند ہو گیا ۔۔۔
جبکہ اسکے واشروم میں جاتے ہی ۔۔اسکا سیل فون بجنے لگا ۔۔آیت خاموشی سے ناشتہ کرتی رہی اسکے سیل فون کو اگنور کر کے مگرکال کرنے والا بھی شاید بہت ڈھیٹ تھا جب وہ باہر نہیں آیا اورکال پھر بھی آتی رہی تو آیت خود ہی اٹھی اور سائیڈ ٹیبل پر سے اسکا سیل فون اٹھایا ۔۔۔
جینی کا نام شو ہو رہا تھا ۔۔ وہ اس نام کو تا دیر گھورتی رہی یہ وہ نام تھا جو اسکی زندگی میں سکون میسر نہیں ہونے دے رہا تھا ۔۔۔
اسنے پلٹ کر واشروم کے بند دروازے کو دیکھا ۔۔
کیا اسے یہ فون کال اٹھانی چاہیے”وہ ابھی اسی سوچ میں تھی کہ اسکے پیچھے سے کسی نے سیلفون اچک لیا ۔۔۔
عارض کی نظروں میں سخت غصہ تھا ۔۔۔ اسکے گیلے بال اور گلے میں پڑا ٹاول پتہ دے رہا تھا وہ شاور لے کر نکلا ہے ۔۔۔۔
آیت واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئ ۔۔
ہیلوہنی”عارض کی خوش باش آواز کمرے میں گونجی ۔۔
ہمم شاور لینے گیا تھا “شاید دیر سے فون اٹھانے کی وجہ پوچھیں گئ تھی ۔۔
آیت چپ رہی ۔۔ اپنے دل میں اٹھتی توڑ پھوڑ کو ۔۔۔ وہ آنکھوں کے زریعے بہہ کر نکلنے سے روکتی خاموشی سے ۔۔۔ ناشتہ کر رہی تھی مگر دل تھا کہ ہر چیز سے اچاٹ سا ہو گیا تھا اب کھانے میں بھی کہاں دل لگنا تھا اس سے پہلے وہ ناشتہ چھوڑتی عارض اسکے پاس آ بیٹھا ۔۔۔۔
آیت کا یوں بھی کھانا اب مشکل تھا وہ اٹھنے لگی توعارض نے سرد ہاتھوں سے اسکا آدھ جکڑ لیا اور آنکھوں سے ناشتہ کرنے کا اشارہ کرنے لگا ۔۔۔۔
آیت اسکو گھورنے لگی باتیں میٹھی میٹھی کسی اور سے ہو رہیں تھیں ساتھ کے ساتھ حکم اسپر لازمی جمانا تھا ۔۔۔۔
غصہ اسکے چہرے کو سرخ کر گیا ۔۔۔
افکورس ہنی آئ مس یو سو مچ”وہ بولا ۔۔۔ اور اسکی جانب دیکھتا لبوں پر طنزیہ مسکان سجائے ۔۔ خود بھی ناشتہ کرنے لگا ۔۔
ہمم بریک فاسٹ کررہا ہوں “وہ انگلش میں بولا ۔۔۔
جبکہ آیت ہاتھ روکے بیٹھی تھی آنکھیں چھلکنے کو بے تاب تھیں ۔۔ عارض نے آیت کا ہاتھ پھر سے ہلایا اور ۔۔۔ دوبارہ سے ناشتہ کرنے کا کہا جبکہ آیت کا ضبط جواب دے گیا ۔۔۔
جب مجھے ناشتہ نہیں کرنا تو مجھے کیوں فورس کر رہیں ہیں “وہ ایک دم بلند آواز میں چیخی کے فون پر موجود شخص بآسانی سن سکتا تھا ۔۔۔
عارض کو ایکدم کھانسی چڑھ گئ اسنے فورا سپیکر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ “وہ دبا دباغرایا ۔۔۔
ڈر نہیں لگتا مجھے آپکی اس بندریا سے ” وہ غصے سے چیختی ۔۔ اٹھی اوربلاوجہ ڈریسنگ چینج کرنے کے لیے کپڑے تلاشنے لگی ۔۔عارض کا بس نہیں چلا ۔۔ کچا ہی چبا جائے مگر جینی ۔۔۔۔ کیطرف متوجہ ہوا۔۔
کس کی آواز تھی یہ “یہ تو شکر تھا جینی کو اردوسمجھہ نہیں آتی تھی ۔۔
نہیں کسی کی آواز نہیں تھی” عارض نے جھوٹ بولا
نہیں ابھی لڑکی بولی تھی “جینی نے کہا ۔۔۔
پہلے بھی تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا تمھارے بیوی تھی نہ یہ ۔۔ آیت
تمہارے کمرے میں کیا کر رہی ہے عارض “جینی غصے سے بولی جبکہ عارض نے سر تھام لیا ۔۔۔
تم میرے ساتھ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہو۔۔ شاید اب تم مجھ سے محبت کرتے ہی نہیں”وہ بھڑک کر بولتی کال کاٹ گئ ۔۔ جبکہ ۔۔۔ آیت نے اسے کان سے فون
ہٹاتے دیکھ جلدی سے ۔۔۔ ڈریسنگ میں گھس جانا مناسب سمجھا ۔۔۔
عرض نے ٹھنڈی سانس بھرکراپنےغصے کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی
اسے بیس منٹ ہو چکے تھے عارض تیار ہو چکا تھا آیت ڈر کے مارے اب تک نہیں نکلی تھی باہر ۔۔۔۔
اسنے جینی کو میسیجز کر کے اسے ہینڈل کرنے کی کوشش کی اور آیت جو دروازے سے کان لگائے کھڑی تھی ۔۔ جب کمرے میں سے اٹھا پٹخ کی آواز کم ہوئ تو اسنے باہرنکلنے کا سوچا شاید وہ چلا گیا ہو ۔۔۔
مگرجب وہ باہرآئ وہ ۔۔ صوفے پر بیٹھا ٹائیپنگ کر رہا تھا کیونکہ جینی فون نہیں اٹھا رہی تھی عارض نے سرخ جوڑے میں اسکو دیکھا ۔۔ جس کا حسن اس لباس میں دو گنا زیادہ ہی ہو گیا تھا ۔۔
آیت جلدی سے اسے اسکی لو دیتی نظروں کو اگنور کرتی ڈریسنگ کے پاس چلی گئ ۔۔اور بال سنوارنے لگی ۔۔
عارض اسکو یوں ہی گھورتا رہا ۔۔۔۔
آیت سے مشکل ہوگیا تھا ۔۔ کچھ بھی چہرے پر لگانا وہ اٹھا اور اسکے پیچھے آ کھڑا ہوا ۔۔
لگاؤ لیپسٹک” اسنے حکم دیا۔۔
نہیں لگانی مجھے”وہ کافی ضدی ہو رہی تھی ۔۔۔
عارض نے غصے سے اسکے بال مٹھی میں جکڑے ۔۔۔ اور اسکا چہرہ کھینچ کر اپنے مقابل لے آیا ۔۔۔
اس دن تواتنی تیز لگائے تھی جیسے ۔۔ بھابھی سے ملنے نہیں کسی ۔۔۔
میں آپکی جیسی نہیں ہوں ” آیت نے بیچ میں سے ہی اسکی بات کاٹ دی۔۔۔
آیت تم مجھے صرف غص دلا رہی ہو اتنی بکواس کر کے ۔۔
اسکے علاؤہ آپکو آتا ہی کیا ہے “آیت نے خود کو اس سے چھڑانا چاہا مگر بے سود ۔۔۔ عارض نے لیپسٹک اٹھائ ۔۔۔ اور سرخ لیپسٹک سے ۔۔اسکے ہونٹوں کو سرخ کرنے لگا ۔۔۔۔
آیت سٹپٹا ہی گئ ۔۔ آنکھوں میں حیرانگی لیے اسکو دیکھنے لگی جس کی توجہ اسکی لیپسٹک پر تھی ۔۔۔
اور جب وہ اپنے بقول لیپسٹک لگا چکا تھا ۔۔۔۔ ایت کو چھوڑا ۔۔ آیت نے اپنا چہرہ دیکھا شرم سی آ گئ ۔۔ اتنے سارے لوگوں میں وکیس ایسے نکلے گی ۔۔
یہ بہت تیز ہے “وہ دھڑکتے دل سے ۔۔۔۔ بولی ۔۔۔
قریب آ جاؤ کم کر دیتا ہوں “عارض نے گھور کراسکو دیکھا۔۔۔
وہ نگاہیں جھکا گی ۔۔۔۔۔
جبکہ عارض چوڑیاں اسکے ہاتھوں میں ڈالنے لگا ۔۔
عارض ان چیزوں کی ضرورت نہیں”آیت کے گال سرخ پڑنے لگے ۔۔ باہر والے لوگوں کا خیال اسے زیادہ تھا ۔۔۔۔
شیٹ آپ”عارض بولا ۔۔۔اور دونوں ہاتھوں میں چوڑیاں سجا کر اسنے اسکے کانوں میں ائیر رینگز ڈالے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔ وہ اسکے چہرے کو غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔
اور پھر لمبا سانس کھینچ کر وہ اس سے دور ہٹا ۔۔۔۔
آیت جبکہ اسکے اس طرح دور ہٹنے پر اسے بھیگی نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔
عجیب ضد سی عجیب بات تھی ۔۔۔۔ کیسے وہ اسکو اگنور کرتا تھا صرف اس لڑکی کے لیے ۔۔۔ آیت غصے سے ۔۔۔ اسکے پاس سے دور ہٹ گئ ۔۔۔۔
اور سر پر دوپٹہ لے لیا ۔۔۔
عارض بھی اسکے پیچھے تھا ۔۔ دونوں ایک ساتھ کمرے سے باہر نکلے ۔۔۔
تو تقریبا سب ہی جاگ چکے تھے
۔۔
آیت کا چہرہ لال ٹماٹر ہو رہا تھا ۔۔۔۔
آج کبیر کی برات بھی تھی ۔۔۔۔
سب نے ان دونوں کو پیار کیا ۔۔۔ اور دونوں نے سب کے ساتھ دوبارہ ناشتہ کیا
جبکہ اسکے بعد آیت عارض کے سامنے نہیں آئی وہ پریشے اور عمل کے ساتھ چلی گئ تھی ۔جبکہ عارض بھی ساری دلچسپی ایک طرف اٹھا کر ۔۔ افان اور زین کے ساتھ کاموں میں لگ گیا ۔۔۔
سالار کو تیز بخار تھا ۔۔۔ تبھی وہ مدہوش سویا ہوا تھا ۔۔
ارے اس لڑکے کو بھی کوئ اٹھالے شام ڈھل آئ ہے کسی کو اسکی فکر میں ” نانی غصے سے بولیں ۔۔
نانی میں جا کر اٹھا او”ایمن بولی ۔۔
ارے چھوری تو کیوں جائے گی چپ کر بیٹھ بس “انھوں نے جھڑک دیا ۔۔۔
تو ایمن نے منہ بنا لیا ۔۔۔
مدیھا جا بچے کو اٹھا ” وہ بولیں تو مدیحا پریشے کو تلاشنے لگی ۔۔۔
لڑکیاں تو شاید۔۔۔ پالرجا چکیں ہیں “وہ منہ میں بڑبڑائیں ۔۔۔
اممم خالہ کیا میں جاؤ ” ایمن بولی تو مدیحا کام کی جلدی میں سر ہلا گئیں اور ایمن جس نے خود بھی پالر جانا تھا بس سالار کی وجہ سے نہ جا سکی ۔۔ وہ جلدی سے اوپرائ تو نیچے کی نسبت یہاں سکون تھا ۔۔
وہ بے ہوش سویا ہوا تھا
۔۔ کمرے میں اندھیرا تھا ۔۔۔ جبکہ ایسے ماحول سے ۔۔ اور اسکی موجودگی سے ایمن کو جھرجھری سی آئ وہ مسکرا کر اسکو دیکھنے لگی وہ شرٹ لیس تھا
وہ آنکھیں جھپک جھپک کر اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
زیمل” اچانک یہ نام اسکے منہ سے سن کر ایمن جیسے متوجہ ہوئے ۔۔۔
اسکے قریب ہوئ وہ بڑبڑا رہا تھا شاید اب بھی تبھی وہ اسکے بلکل نزدیک چلی گئ ۔۔
اور دوسری طرف کسی کو اپنے نزدیک محسوس کر کے سالار نے پٹ سے آنکھیں کھول دیں ۔۔۔
ایمن کان اسکے منہ کے قریب لگائے ہوئے تھی ۔۔ سالار نے اچانک اسکی گردن پکڑی اور اسکا چہرہ اپنی طرف کر لیا ۔۔
سرخ نظریں ۔۔ خاموشی ملگجا اندھیرہ ایمن ڈر گئ ۔۔۔
جبکہ ایمن کی شکل دیکھ کر اسنے اسے دور جھٹکا اور وہ ۔۔۔ فرش پر جا گیری ۔۔۔۔
یہاں کیا کر رہی ہو ” سالار نے گھومتے سرکو سنبھالا ۔۔۔
تم ابھی کسی کو پکار رہے تھے “ایمن سب چھوڑ کر اسکو بتانے لگی ۔۔سالار نے حیرت سے اسکو دیکھا ۔۔
کس کو “سرد لہجے میں پوچھا ۔۔۔
کسی زیمل کو ” ایمن نے بتایا جبکہ سالار نے ناگواری سے اسکی جانب دیکھا ۔۔
ہوگئ بکواس نکلو اب یہاں سے کس لیے آئ ہو تم یہاں ” وہ ایکدم بھڑکا ۔
ارے مجھے تمھاری مما نے بھیجا ہے تمھیں اٹھانے “ایمن اسکے بھڑکنے پر بتانے لگی ۔۔۔
جبکہ سالار نے اسکا ہاتھ جکڑا ۔۔ اور اسے روم سے باہر دھکا دے دیا ۔۔۔
بدتمیز ” ایمن منہ میں بولی ۔۔
جبکہ وہ دروازہ دھاڑ سے بند کرکے بالوں میں ہاتھ پھیر کر سوچنے لگا ۔۔ کہ اسنے زیمل کا نام کیوں پکارہ ۔۔۔۔
بکواس کر رہی ہے ” خود کو جھڑک کر اسنے وقت دیکھا ۔۔ چھ بج رہے تھے ۔۔اوہ شیٹ “جلدی سے ٹراؤزر شرٹ پہن کر ۔۔۔ اسنے میڈیسن کوئ بھی لیے بنا ہی ۔۔ نیچے جانا ضروری سمجھا وہ دوڑتا ہوا نیچے آیا ۔۔۔
اور بنا کسی کو دیکھے باہر نکل گیا ۔۔۔
لو آندھی طوفان ہے یہ لڑکا تو “نانی نے لقمہ دیا ایمن ممنہ بنائے بیٹھی رہی جبکہ ۔۔۔۔
مدیھا مسکرا دی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر کی بارات جب اس محلے میں پہنچی جہاں پر صرف ایک چھوٹے سے گھر میں انتظام تھا ۔۔ کوئ سجاوٹ کچھ نہیں تھا ۔۔۔ محلے والے ۔۔ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر بڑی بڑی گاڑیوں کو دیکھ رہے تھے ۔۔
جبکہ ۔۔۔ وہ سب ایک دوسرے کو ۔۔ کہ یہ سب کیا ہے ۔۔۔ کبیر نے سالار کے کان میں کہا کہ ۔۔ سب کو واپس لے جاؤ ۔۔ کیونکہ گھر میں جگہ نہیں تھی ۔۔۔ جبکہ ۔۔۔ بس بڑے بڑے اندر آ گئے ۔۔
اس وقت کبیر کے چہرے پربلا کی سختی تھی محلے والے ۔۔۔ نین کی قسمت پر رشک کررہے تھے سالار سب کو لے کر دوبارہ حویلی کی راہ چل پڑا ۔۔۔۔
جبکہ کبیر اندر آیا ۔۔۔
تو وہ ایک سادی سی دولہن بنی ہوئ تھی ۔۔ اسکے بھیجے گئے بھاری لباس میں بس لیپسٹک چہرے پر لگائے وہ آنکھیں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔ ہاں وہ اس طرح بھی بے حد حسین لگ رہی تھی ۔۔۔
ان دونوں کا نکاح ہوا ۔۔۔ اور دونوں ایک دوسرے کے عمر بھر کے ساتھی ہو گئے ۔۔احمد اس شہر میں موجود نہیں تھا ۔۔ جبکہ پھوپھو نے ہر ممکن کوشش کر کے وہاں موجود مہمانوں سے بات کرنے کی کوشش کی مگر کسی کو دلچسپی نہیں تھی ۔۔۔
نکاح ہو جانے کے بعد کبیر پل بھر بھی رکنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
اسنے مرتضی کو دیکھا جن کا چہرہ غصے سے سرخ تھا ۔۔ اوروہ ضبط سے بیٹھے تھے جبکہ ۔۔ وہاں موجود لوگ ۔ کچھ کھانے کے لیے لا رہے تھے ۔۔۔
بابا کا چہرہ دیکھ کر کبیر نے سرپرپہنا کلا اتارا اور بالوں میں ہاتھ پھیرا وہ خود ڈپریس ہو گیا تھا کہ یہ کس قسم کی حرکت ہے ۔۔۔
اور اچانک سالار آ گیا ۔۔ کبیر نے گھیری سانس بھری سفید شلوار سوٹ میں وہ دوڑتا ہوا اندر آیا ۔۔۔ کبیر نے شکر کا سانس کھینچا وہ اب سمبھال لے گا سب ۔۔۔
وہاں سب ایسے خاموش بیٹھے تھے جیسے شادی نہیں نہ جانے کیا ہو رہا ہو ۔۔۔
جبکہ نین کی فیملی میں سے بس اسکی ماں ۔۔ بیٹھی تھی جو بے حد کنفیوز لگ رہی تھی ۔۔۔
سالار نے یہ سب دیکھا ۔۔
بابا گاڑیاں آ گئیں ہیں چلتے ہیں بس “بلکل خاموشی میں اسکی آواز ابھری ۔۔ مرتضی تو اسی انتظار میں تھے گویا ۔۔۔
اٹھے اور سر ہلا کر باہر نکل گئے ۔۔
جی بہن بس چلتے ہیں ہم “مدیحا نے کہا ۔۔
کچھ کھا کر جاتے”وہ بولیں شرمندہ سی ۔۔۔
نہیں بس بچی لینے آئے تھے”مدیحا نے کہا اور ۔۔ یوں رفتہ رفتہ سب جانے لگے ۔۔ کبیر بھی پہلے ہی نکل گیا ۔۔
نین کو مدیحا تنزیلہ اور صوفیہ لے کر جا رہیں تھیں یہ تو شکرتھا ۔۔ کہ ایمن مامی اور نانی کو بھی سالار حویلی پہنچا چکا تھا ورنہ زیادہ تماشہ ہوتا۔۔۔۔
نین ماں باپ کو دیکھنے لگی آنکھوں میں آنسو لیے ۔۔۔
ابو نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور وہاں سے چلے گئے جبکہ امی ۔۔ ایکدم رو دیں ۔۔۔
نین کا بھی ضبط ٹوٹ گیا تھا ۔۔۔ وہ بھی انکے سینے سے لگی رونے لگی ۔۔۔
پھوپھو نے تو۔۔ جلتے مارے کچھ بھی نہیں کہا اور یوں وہ رخصت ہو گئ ۔۔۔۔
ارے ارے یہ کیا “سالار بیچ میں ٹپک پڑا ۔۔
مما آپ اپنے دولہے کو سنبھالیں بھابھی کبیر کے ساتھ جائیں گی “اسنے کہا ۔۔۔ جبکہ مدیحا ہنس پڑیں ۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔” انھوں نے کہا اور سالار نے نین کو ۔۔ دوسری طرف آنے کا کہا وہ بھاری لہنگا اٹھاتی ۔۔۔ اسکے پیچھے چلنے لگی ۔۔
سفید گاڑی جو پھولوں سے سجی تھی ۔۔۔ اسکی منتظر تھی ۔۔
محلے کے لوگ اسکی قسمت پر رشک کررہے تھے ۔۔
آپ اندر بیٹھیں “سالار نے اسکے لیے دروازہ کھولا ۔۔
نین نے ایک نظر اس لڑکے کو دیکھا اور حیران رہ گئ ۔۔
وہ تو ایکٹر تھا ۔۔۔ اسکو تو وہ اکثر ٹی وی پر دیکھتی تھی۔۔
سالار اسکی آنکھوں کو سمھجہ کرہنس دیا ۔۔۔
برو تیری دولہن تجھ سے زیادہ مجھے دیکھ کر حیران ہوئ ہے ” جھک کر وہ کبیر کے کان میں بولا ۔۔ جس کا غصہ ناک پر تھا ۔۔
اچھا یارغصہ کر کے دن سپوئل نہ کر اپنا ۔۔ بی ایزی”سالار نے کہا مگر کبیر کچھ نہیں بولا ۔۔ نین فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گئ ۔۔
اور دروازہ بند کیا ۔۔
میں بھی آو”سالار دانت نکال کر بولا ۔۔
ہاں آ جاؤ “کبیر ایکدم غرایا ۔۔۔
نین نے لہنگے کو سختی سے جکڑ لیا ۔۔
لو۔۔۔ شکل اچھی نہ ہو تو انسان دولہا نہ بنے”وہ بولا ۔۔۔
نین کی پھر سے نگاہ اسپر گئ۔
بائے بھابھی”سالار نے اسکو ویو کیا ۔۔۔اور انکے پاس سے ہٹ گیا ۔۔۔
جبکہ گاڑی چلتے ہی نین نے پلٹ کر اپنے گھر والوں کو دیکھا تھا ۔۔
اسکا دل بھر آیا ۔۔ آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔۔۔
کبیر اس گلی میں سے جلدی سے گاڑی آگے نکال لایا ۔۔۔
اور وہ گاڑی کافی سپیڈ سے چلا رہا تھا ۔۔ نین کو ڈر لگنے لگا۔۔
وہ کبھی گاڑی میں بیٹھی بھی نہیں تھی کیونکہ احمد اسے اپنی گاڑی کے شان شان نہیں سمھجتا تھا۔۔۔
پلیز آہستہ چلائیں”وہ آنکھیں جھکائے ہی بولی ۔۔۔۔
کبیر کو دیکھا بھی نہیں تھا اب تک ۔۔
کبیر نے لہنگے پر اسکی سخت گرفت دیکھ کر ۔۔ گاڑی کی سپیڈ میں مزید اضافہ کیا ۔۔
اس سے پہلے اسکی چیخ نکلتی اسنے نین کا وہی ہاتھ اپنے ہاتھ میں جکڑ لیا ۔۔۔
اور جیسے طوفان تھم سا گیا ۔۔
نین نے اسکی طرف پہلی بار نظر اٹھائ ۔۔
کبیر نے بھی اسکو دیکھا ۔۔
آپ” اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔۔
کبیر مرتضی”کبیر نے اپنا تعارف کرایا ۔۔
لبوں کی تراش میں مسکراہٹ تھی غصہ تھم گیا تھا اسکے حیران ہونے پر ۔۔۔
نین شاکڈ کی کیفیت میں ۔۔۔ بیٹھی تھی بار باراسکی طرف دیکھتی ۔۔
کبیر کو اسکی حرکت پر ہنسی آ رہی تھی ۔۔۔۔
حویلی جانے کا موڈ تو نہیں تھا مگر وہ سالار سے درگت نہیں بنوانا چاہتا تھا ۔۔ تبھی حویلی کے آگے گاڑی روکی ۔۔۔
تو ساری بہنیں باہر نکل آئیں آیت بھی تھی ۔۔
نین کے لیے کافی ایکسائٹیڈ تھی کبیر نے دروازہ نہیں کھولا ۔۔
نین شرمندہ ہونے لگی ۔۔
ہاتھ چھوڑیں”وہ بولی ۔۔
کیا چھوڑنے کے لیے پکڑا ہے “وہ جھک کر اسکے کان کے نزدیک بولا ۔۔
نین کے تو رونگٹھے ہی کھڑے ہو گئے ۔۔۔
کبیر نے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔ ہنسی بھی آئ ۔۔۔
اورگاڑی سے باہر نکلے ۔۔ دونوں کی جوڑی پر سب اش اش کر اٹھے ۔۔۔
اور نین اتنے بڑے گھر میں داخل ہوئ
یہ قسمت کا ہی کھیل تھا ۔۔۔ کہ جس شخص نے جس پیسے کے لیے اسے ٹھکرایا اسکی محبت کو ٹھکرایا آج وہ ۔۔ کتنے امیر اور دولت مند لوگوں کے گھر اتری تھی ۔۔۔۔
اسکا دل دھڑک رہا تھا ۔۔۔
کبیر پیچھے رہ گیا تھا ۔۔۔
بے حد رسمیں ہوئیں ۔۔۔ شرارتیں ہوئیں ۔۔۔۔۔
اور حسب عادت مرتضی کو ہی جھڑکنا پڑا تو وہ سب وہاں سے ہٹے ورنہ سالار نے تو سوچ لیا تھا کبیر کی بینڈ بجانے کے بارے میں مگر گھر آ کر اسکا بھی موڈ اچھا ہو گیا تھا ۔۔۔۔
نین کو
کمرے میں پہنچا دیا گیا تو سالار نے کبیر کو جکڑ لیا ۔۔
چل برو۔۔۔۔ آج میرے ساتھ میرا بھائی سوئے گا “وہ اسکا ہاتھ پکڑ کر بولا ۔۔
شیٹ آپ “کبیر نے جھڑک دیا۔۔۔
دفع ہو جاؤ ۔۔ لڑکے ۔۔۔ میری بھی شادی ہوگئ ۔۔ تم لوگوں کو کیا لگتا ہے میں کنوارہ مرو گا ” وہ منہ بنا کر بولا ۔۔۔
کبیر نے اسکو پکڑا بھائ جزبات کو قابو میں رکھ ” وہ دونوں اپنی حرکتوں پر خوب ہنسے ۔۔ جبکہ کبیر اپنے روم میں چلا گیا ۔۔۔ عارض بھی کیونکہ جینی کا فون آ رہا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔ تو اسکا کمرہ تو اسنے اب دیکھا تھا کافی خوبصورت ڈئیکوریٹ ہوا ہوا تھا ۔ اور یہ کارنامہ سالار کا ہی تھا ۔۔ گھیری سانس بھر کر ۔۔وہ نین کے پاس بیٹھا ۔۔۔۔
جو نظریں جھکائے بیٹھی تھی ۔۔ کبیر نے اسکے ہاتھ پرہاتھ رکھا ۔۔۔
تو اسکا ہاتھ کانپ رہا تھا ۔۔۔۔
ریلکس “کبیر نے اسکے گال پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف نین کا دل جیسے اندرہی اندر پھٹنے کو تھا ۔۔۔۔
ویسے ایسا نہیں ہوتا جیسے ہم سوچتے ہیں ویسا ہو اسنے جس شخص کے لیے اپنے جزبات سمبھالے آج اسکے علاؤہ کوئ اور شخص اسکے سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔۔
اور اگر اس انسان کو یہ پتہ چل جائے کہ نین نے شادی صرف اسکے پیسوں کی وجہ سے اس سے کی ۔۔۔ تو ۔۔۔ تب “وہ اندر ہی اندر خوف کا شکار ہونے لگی ۔۔۔۔
جبکہ کبیر نے اسکی دونوں ہتھیلیوں پر اپنا لمس چھوڑا تو جیسے نین ہوش میں آئ ۔۔۔
تم نے مہندی نہیں لگائی “
کبیر کے اندر بھی بہت سوال تھے مگر اسنے ایک بھی سوال نہیں کیا تھا ۔۔۔۔
وقت وقت ہی نہیں تھا ” نین بولی کمر ٹوٹنے کو تھی ۔۔۔۔
کبیر کو اسکی تھکاوٹ کا احساس ہوا اوراسنے آگے بڑھ کر اسکی کمر کے پیچھے تکیے لگا دیے ۔۔ اور نین ۔۔۔ کو کسی گڑیا کی طرح تقریبا پیچھے لیٹا دیا کہ وہ آدھی بیٹھی تھی اور آدھی لیٹی تھی ۔۔۔
اور خود اور بھی اسکے قریب ہو گیا ۔۔۔
تیار بھی نہیں ہوئ ٹھیک سے ” کبیر ایک ہاتھ اسکے ایکطرف رکھتا اب اسکے چہرے پر جھکا ہوا تھا ۔۔
نین کا گھبراہٹ سے دم گھٹنے لگا ۔۔
کیا یہ سب برداشت کرنا آسان تھا۔۔ کبیر اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا جبکہ وہ کسی اور سمت ۔۔۔
اور اس سوال پر پلکیں جھکا گئ ۔۔ سمھجہ نہیں آیا کیا جواب۔ دے ۔۔۔
کبیر نے آہستگی سے ۔۔اچانک اسکی سانسوں پر پرحدت لمس چھوڑا ۔۔۔
نین اسکا کرتا ہتھیلی میں جکڑ گئ ۔۔۔
بے ساختہ سانس پھول گئ تھی ۔۔۔
یہ سب اچانک تھا ۔۔ وہ خود کو تیار نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔۔۔ مگر انکار نہیں کر سکتی تھی جھٹک نہیں سکتی تھی اسکو کیا وجہ دیتی کیا ریزن پیش کرتی ۔۔۔۔
دوسری طرف کبیر کے جزبات بہکا رہے تھے اسکو ۔۔۔۔
وہ اس سے دور ہوا ۔۔۔ نین نے اسکا کرتا چھوڑ دیا ۔۔۔
کبیر نے اسکا زیور اتارا ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔