Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 45

آیت کو گھر لے جایا گیا عارض نے اسکو اپنے روم میں شفٹ کرایا تھا ۔۔۔ آیت کچھ نہیں بولی وہ اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی صرف ۔۔۔ اسکے رونے پر وہ ایکدم گھبرائی جبکہ مدیھا اور باقی سب ہنس دیے ۔۔۔۔
تم پریشان نہ ہو یہ ہمارے پاس رہے گی “
نہیں تائ امی ۔۔ یہ میرے ساتھ رہے گی آپ بس مجھے بتا دیں چپ کیسے کرانا ہے ” وہ بولی اور مدیھا سے جلدی سے اپنی بیٹی کو لے لیا
مدیھا اسکے جزبات سمھجہ سکتی تھی ۔۔ جبکہ عارض چپ تھا پیچھے سے اسکی بے تابیاں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
آیت کے ساتھ جو اسنے کیا وہ ایک ایک لمہے پچھتا رہا تھا مگر وہ محسوس بھی تو کرتی اسنے اسکے لیے یہ سب کیا وہ کیوں اسے چھوڑ کر جاتا ۔۔۔۔
مگر آیت اسکی کوئ بات سننے کے لیے تیار نہیں تھی باہر گھر والوں کے سامنے اسنے کوئ بات نہیں کی تھی ۔۔ جبکہ اسکو معاف کرنے کا ارادہ نہیں تھا شاید
مدیھا اسے سمجھا کر نیچے چلی گئ ۔۔پریشے اور عمل ۔۔۔ تو کب سے ۔۔ چیپکی بیٹھیں تھیں اور نور کو پیار کر رہیں تھیں رمشہ بھی جھجھکتی ہوئ وہاں آ گئ ۔۔۔
وہ تینوں ہی نور کو گود میں لیے اسے پیار کر رہیں تھیں آیت انھیں مسکرا کر دیکھ رہی تھی جبکہ عارض بھی وہیں کھڑا تھا آیت کی ایک نظر اس پر گئی تو اسنے نظر پھیر لی یہ نظر کا پھیر عارض کے دل پر لگا تھا ۔۔ وہ روم سے باہر نکل گیا ۔۔۔
یہ بے اعتنائی سلگانے لگی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر روم میں آیا نین بھی اسکے پیچھے گئ اب تک اسنے کوئ بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔
نین بے حد کنفیوز تھی ۔۔ یہاں تک کے ۔۔۔ کبیر فریش ہو کر آیا اور اسنے اسے معمول کیطرح ٹاول دیا چہرہ صاف کرنے کے لیے جسے کبیر نے لے لیا ۔۔
نین جیسے اسکا چہرہ پڑھنا چاہ رہی تھی کہ وہ ۔۔کیا سوچ رہا ہے مگر کبیر بلکل نارمل تھا ۔۔۔۔
ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ” بلآخر کبیر نے ہی اسکی جانب دیکھ کر پوچھ لیا ۔۔
نین ہوش میں آئ ۔۔۔۔
کیا ہم تھوڑی دیر بات کر لیں ” اسنے کبیر کا کانپتے ہاتھوں سے ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔۔
کبیر اسکی کیفیت دیکھ کر ۔۔اسکے ساتھ بیڈ پر بیٹھ گیا
۔۔
نین کی آنکھیں سرخ ہونے لگیں اسکی خاموشی اسکا نارمل رویہ ۔۔ سب اسے شرمندگی کی گھیرائیوں پر پہنچا رہا تھا کبیر البتہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اور دوسری نظر اسکے بھرے بھرے وجود پر بھی جاری ۔۔جس میں اسکی محبت کی نشانی تھی ۔
نین سختی سے اسکا ہاتھ پکڑ گئ ۔۔اور پھر اسی ہاتھ پر ماتھا ٹکا کر وہ بری طرح رو دی ۔۔
معاف کر دیں مجھے” وہ سسکی کبیر کے ہاتھ اسکے آنسوں سے بھیگنے لگے ۔۔۔
کبیر کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔
نین نے سر اٹھا کر اسکیطرف دیکھا اور اسکا چہرہ ۔۔ ہاتھ سے پکڑ لیا ۔۔۔۔ یہ سب سچ ہے ۔۔۔۔ ہاں سچ ہے میں۔ ۔۔۔ میں نے ۔۔۔۔ آپ سے شادی ۔۔ “
پیسوں کے لیے کی ” کبیر نے بات مکمل کی ۔
نہیں ایسا نہیں ہے میرے دل میں لالچ نہیں تھا کبیر ۔۔۔۔ میں بس ہار گئ تھی ۔۔۔۔ کیونکہ میں نے کسی سیراب کو چاہنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔ وہ وہ سیراب جیسے بھربھری ریت کیطرح میرے ہاتھ سے نکل گیا ۔۔۔۔
اور میں وہیں کھڑی رہ گئ ۔۔ مجھ میں ضد بھر گئ تھی ۔۔۔ لاکھ اپنے دل کو سمجھایا ہے میں نے مگر دل ہی تھا ۔۔۔۔
مگر خدا کی قسم ۔۔۔۔ جیسے جیسے میں نے آپ کے ساتھ آپکی فیملی کے ساتھ وقت گزرا روز مجھے اپنے ارادے پر ۔۔ شرمندگی ہوتی تھی پھر میں سب بھولنے لگ گئ ۔۔ کیونکہ مجھے آپ سے محبت ہو گئ ۔۔ مجھے پتہ ۔۔پتہ ہے آپ مجھ پر یقین نہیں کریں گے میں تو جھوٹی لگ رہی ہوں گی آپ کو ۔۔ میں نے کتنے جھوٹ بولے آپ سے ۔۔۔۔ ہر بات پر ہی جھوٹ بولا مگر میری محبت سچی ہے مجھے جس دن آپ سے محبت ہوئ میں نے اعتراف کیا ۔۔ میں نہیں جانتی میرے حق میں کیا فیصلہ کریں گے کبیر ۔۔۔ مگر میں سچ میں آپ سے ۔۔۔
آپکے بچے سے بہت محبت کرتی ہوں ” ٹپ ٹپ آنسو گیر رہے تھے سرخ آنکھیں اس بھری نظروں سے اسے دیکھ رہیں تھیں ۔۔
کبیر نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
اسنے بڑا گھیرہ سانس بھرا تھا ۔۔۔۔۔
پلیز کبیر ۔۔۔۔ مجھے خود سے الگ مت کیجیے گا ” وہ اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر بولی ۔۔۔
تم جانتی ہو مجھے اپنے لباس پر شکن کیوں نہیں پسند”وہ اسکی آنکھوں میں جھانکتا بولا ۔۔
اب وہ بول رہا تھا اب نین کے سننے کی باری تھی ۔۔ نین اسکی آنکھوں میں نہیں دیکھ سکی ۔۔۔۔
کیونکہ مجھے سلوٹ لباس پر نہیں پسند ۔۔ مجھے کردار میں کسی قسم کی سلوٹ نہیں پسند
داغ تو دور کی بات ہے ۔۔۔ عورت کا کردار پتھر کی طرح مظبوط ہونا چاہیے ۔۔۔ کہ پتھر میں بھی دراڑ پڑ جائے مگر ۔۔عورت کے کردار میں نہیں ۔۔۔۔۔
میں تمھیں بدکردار نہیں کہہ رہا ۔۔۔۔۔
کیونکہ وہ تمھارا کزن تھا تمھارا منگیتر تھا شاید ہرعام لڑکی کیطرح تم نے اس سے محبت کی ۔۔۔۔ مگر شادی کی رات ۔۔۔۔
تم نے ۔۔۔۔ میری بانہوں میں کیسے گزاری ۔۔۔ میں جانتا تھا تمھیں مجھ سے محبت نہیں مگر تمھیں حق نہیں پہنچتا تھا تم میری قربت میں کسی اور کو سوچتی ۔۔۔۔
یہ تو ۔۔ میرے لباس پر کیچڑ اچھل گئ اور مجھے پتہ نہیں چلا ۔۔
میں تم سے ناراض نہیں ہوں نین ۔۔۔ میں نے احمد کو بھی آفس سے نکال دیا ہے ۔۔ میں اس شخص کی شکل نہیں دیکھنا چاہتا جو تمھیں ٹیز کرے ۔۔۔۔۔
میں نے تم سے والہانہ محبت کی ہے جس طرح ہو سکا اس طرح محبت کی ہے۔۔۔۔ اور تم میرے بنا رہتی وہ یہ نہیں میں نہیں جانتا مگر میں تمھارے بنا نہیں رہ سکتا ۔۔ میں تمھیں خود سے دور کیسے کروں گا پھر ۔۔۔۔۔
” وہ اسکے چہرے پر ہاتھ پھیرتا مسکرا دیا ۔۔۔۔
مگر یہاں ۔۔۔۔ ” اسنے اسکا ہاتھ دل کے مقام پر رکھا ۔۔۔
یہ بہت تکلیف ہوئ ہے ۔۔۔۔۔ بات شراقت داری کی آ جائے ۔۔۔ تو کبیر ۔۔وہ چیزیں توڑ دیتا ہے ۔۔۔۔۔
اور تم نے میرے لیے میری محبت کی رات کو ۔۔۔۔۔
میرے دل میں پھانس بنا دیا ۔۔۔” وہ کہہ کر اٹھنے لگا ۔۔۔
کبیر میں جوڑ دوں گی اس دل کو ۔۔۔ آپ کہیں تو اس کمرے سے کہیں بھی نہ جاؤں ۔۔ آپ جیسا کہیں گے ویسا کروں گی ۔۔۔ میں کبھی امی کے گھر نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔ ” وہ جلدی سے بولتی اسکے آگے آ کھڑی ہوئ ۔۔۔۔۔
نہیں مجھے تمھیں قید نہیں کرنا ۔۔۔ مجھے وقت چاہیے ۔۔۔۔ اور مجھ سے کچھ فاصلے پر رہو شاہد میں خود کو سمجھا لوں کہ تمھاری محبت میرے لیے سچی ہے ” وہ اسکی آنکھوں سے بہتے آنسوں کو دیکھتا باہر نکل گیا آرام بھی نہیں کیا جبکہ نین ۔۔۔ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرتضی نے موبائل پر سعیر کی کئ کالز دیکھیں ۔۔۔۔۔
اور ابھی وہ فون کرتا کہ شہاب روم میں آ گیا ۔۔
میں افان کے لیے ہاں کر رہا ہوں ” اسنے مرتضی کو بتایا ۔
اچھا فیصلہ ہے مرتضی مصروف سے بولے ۔۔
چلیں پھر سالار کے ولیمے کے ساتھ ساتھ ۔۔پریشے کی شادی
کی تیاریاں بھی شروع کر لیتے ہیں “
شہاب نے مسکرا کر کہا ۔۔
ہاں ٹھیک ہے ” وہ بولے اور کال ملا لی مگر سعیر فون نہیں اٹھا رہا تھا
اچھا میں آپ سے پھر بات کرتا ہوں ۔۔۔۔” شہاب انکی مصروفیت سمجھہ گیا اور اٹھ گیا جبکہ انکا دل انھونی کے احساس سے ۔۔ بری طرح دھڑک رہا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعیر گھر کے اندر داخل ہوا ۔۔۔ تو سب سے پہلی نظر اسکی زین پرگئ جو کہ ۔۔ رمشہ کو دیکھ رہا تھا ۔۔جو نور کو گود میں اٹھائے ہوئے تھی پریشے اور عمل بھی اسکے ساتھ ہی تھیں ۔۔۔۔
اچانک اسکی نظر اس اجنبی پر پڑی جو اندر آ رہا تھا زین اسکے بارے میں کچھ جانتا نہیں تھا تبھی اسنے ۔۔۔ آگے بڑھ کر سعیر سے ہاتھ ملایا اور تینوں لڑکیوں کو اشارہ کیا کہ اندر جاؤ وہ تینوں اندر چلی گئیں ۔۔۔
تو زین کے سعیر کے پیچھے کھڑے ایک آدمی کو دیکھا ۔۔۔
مرتضی کبیر سالار سے ملنا ہے” سعیر بولا
تو زین نے سر ہلایا ۔
سالار بھیا تو نہیں ہیں یہاں وہ کچھ دنوں کے لیے فلیٹ پر گئے ہوئے ہیں” وہ اس سے پہلے کسی کو بلاتا تو ۔۔۔ سعیر کو بتانے لگا جبکہ سعیر چونکا
اصل مدعا تو وہ تھا ۔۔۔۔ تبھی اسنے زین کو مسکرا کر کہا
کہ اسے فون کر کے بولا لیا جائے ۔۔
زین نے بھی پوری عقل مندی کا ثبوت دیتے ہوئے سالار کو کال کر لی ۔
بھیو آپ سے کوئ ملنے آیا ہے آپ آ سکتے ہیں ” زین بولا ۔۔۔
تو دوسری طرف سے سالار نے بتایا
کہ وہ اور زیمل پہلے ہی نور سے ملنے آ رہے ہیں اور راستے میں ہیں
زین مسکرا دیا گھر تو اسکے بنا ادھورا لگتا تھا ۔۔
بھیا آ رہے ہیں آپ بیٹھیں ” زین نے بیٹھایا وہ دونوں بیٹھ گئے ۔۔ تبھی ایک اور مرد بھی اندر داخل ہوا زین نے کبیر کو بلانا مناسب سمجھا وہ مڑتا کہ ۔۔ سعیر کے والد نے ایکدم اسے روکا
بیٹا ابھی نہیں ۔۔۔سالار آ جائے پھر بولا لینا
تم بتاؤ تم کیسے ہو ۔۔ مجھے نہیں پہچانا ۔۔ میں تمھارے والد کے ساتھ کام کرتا رہا ہوں ۔۔۔ بس کچھ ضروری باتیں تھیں انھیں کی وجہ سے آج یہاں آنا پڑا “
وہ ایسے بولے لہجے میں چاشنی بھرلی
زین سمجھہ گیا
بیزنیس سے ریلیٹیڈ لوگ ہیں ۔۔ مگر سالار کا کیا کام تھا
خیر ۔۔۔۔باہر سالار کی گاڑی کا ہارن بجا ۔۔۔
سعیر مسکرا کر اٹھا تبھی کبیر ۔۔۔ بھی باہر نکلا تھا ۔۔اور سامنے سعیر اور اسکے باپ کے ساتھ ایک اجنبی کو دیکھ کر وہ غصے سے کھولتا ہوا ان تک پہنچا
کیا کرنے آئے ہو یہاں ۔۔” وہ سعیر کا گریبان پکڑتا بولا ۔۔
بھای” زین نے اسکا ہاتھ ہٹانا چاہا ۔۔
ہٹ جاؤ ” کبیر نے گھورا وہ پیچھے ہٹ گیا تبھی سالار بھی اندر داخل ہوا ۔۔ اور مرتضی جو گھبرا رہے تھے مدیھا کو پکارنے کے لیے باہر نکلے مگر باہر کا منظر دیکھ کر انھیں وجہ سمجھ آ گئ انکا دل کیوں گھبرا رہا تھا ۔۔۔
وہ دل تھام کر دیوار پکڑ گئے ۔۔۔۔
یہ کیسز دن انکی زندگی میں آ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
کبیر کو سعیر کا گریبان پکڑے دیکھ سالار نے زیمل کو اندر جانے کا کہا اور ۔۔۔ بھڑک کر خود بھی سعیر کا گریبان جکڑ گیا
کیا کرنے آیا ہے سالے یہاں ” وہ بدلحاظی سے بولا بس کچھ دیر تھی تھپڑ ہی جڑ دیتا ۔۔۔۔
سعیر کی مسکراہٹ میں کمی نہ آئ ۔۔ سب لڑکیاں ۔۔۔ کمرے میں سے باہر جھنکنے لگیں جبکہ عورتیں کچن میں تھی باہر صرف مرد تھے عارض بھی نیچے آ گیا اور دوڑ کر اپنے بھائیوں تک پہنچا تھا ۔۔۔۔
مرتضی وہیں کھڑے تھے سکندر تو وہاں تھے نہیں تبھی شہاب اور وجاہت دونوں بھی وہیں آ گئے ۔۔۔۔۔
سعیر نے ایک نظر مرتضی کو دیکھا ۔۔۔۔
اور خباثت سے ہنسا ۔۔
سالار اور کبیر ۔۔ تو اسکے دانت ہی توڑ دینا چاہتے تھے ۔۔وہ دونوں آگے بڑھتے کہ سعیر نے روکا
رک جاؤ ۔۔ اتنی بھی کیا جلدی ہے ۔۔ میری آنے کی وجہ تو جان لو ” سعیر نے کہا
نہیں جاننی ہمیں جاؤ یہاں سے ۔” عارض نے ۔۔۔ اسکو گھور کر دیکھا ۔۔۔
جبکہ اسنے عراض کے شانے پر ہاتھ رکھنے کی کوشش کی جسے عارض نے جھٹک دیا وہ باخوبی اس منافق انسان کو جانتا تھا ۔۔۔
اچھا چلو سب چھوڑو سسپنس ختم کرتے ہیں ” سعیر نے مرتضی کے پیلے پڑتے چہرے کو دیکھ کر کہا
رک جاؤ ” مرتضی بے تابی سے بولے ۔۔
چلے جاؤ یہاں سے ” وہ غصے سے بھڑکے ۔۔۔
ارے مرتضی صاحب کیا جلدی ہے جانا تو ہے ہم نے” سعیرنے کندھے سے پکڑا تو عارض نے باپ کے کندھے پر سے جھٹک کر اسکا ہاتھ ہٹایا ۔۔۔۔
ہاتھ توڑ دوں گا بابا سے دور رہنا ۔۔” عارض چیخا
کیا ڈرامہ ہے یہ نکلو یہاں سے سارے ” سالار غصے سے بھڑکا
چلو ان دونوں کا تو سمجھہ آتا ہے یہ چیخ سکتے ہیں ان سب گھر والوں کے لیے تم کس حق سے چیخ رہے وہ سالار مرتضیٰ ” سعیر نے اسکی آنکھوں میں دیکھا
مرتضی تڑپ گئے
سالار سالار میرے بچے انھیں نکالو یہاں سے ۔۔۔۔” وہ رو دینے کو تھےسالار کے ماتھے پر بل پڑے ۔۔۔ یہ ہی حال چھپ کر سننے والوں اور اسکے بھائیوں کا تھا ۔۔
یہ کیا بکواس ہے ” سالار نے سعیر کا گریبان سخت گرفت میں جکڑا ۔
ابھی بتا دیتا ہوں یہ کیا بکواس ہے ” سعیر نے اسکے ہاتھ سے گریبان چھڑایا۔۔۔۔
میں نے کہا نکلو یہاں سے ” مرتضی نے اسے دھکا دیا ۔۔
اس سے پہلے وہ مرتضی پر ہاتھ اٹھاتا چارو بیٹوں نے اسکو جکڑ لیا تھا ۔۔
اوکے اوکے میں کچھ نہیں کرتا ۔۔۔ ” سعیر بولا ۔
وہ چاروں اسے کھا جانے کا ارادہ رکھتے تھے ۔۔۔۔
کہنا کیا چاہتے ہو تم” کبیر نے اسکو گھور کر دیکھا اور اسکو دور دھکیلا ۔۔۔
میں تو نہیں یہ بولیں گے مرتضی صاحب ۔۔۔ یہ مرتضی صاحب ” سعیر نے مسکراہٹ روکی ۔۔۔۔۔
مرتضی کو لگا وہ گر جائیں گے یہیں وہ چاروں نہ سمجھہ آنے والی نظروں سے باپ کو دیکھنے لگے ۔۔
ہاں بولو ۔۔” سعیر نے اس آدمی کو کہا جس نے سالار کی آنکھوں میں دیکھا ۔۔
سالار بلکل نہیں سمجھہ پایا ۔۔۔ اسکا اپنی طرف دیکھنا
میں نے مرتضی کو آج سے ستائیس سال پہلے اپنا ایک بیٹا بیچا تھا ۔۔۔ مرتضی کا قرضہ تھا میں اور میرے پاس اسکے علاؤہ کوئ راستہ نہیں تھا کہ میں مرتضی کے پاس کوئ چیز گیروی رکھوا دوں ۔۔۔ یہ بیچ دوں سوائے ۔۔ایک بیٹے کے ۔۔۔۔
اور ۔۔۔ میں نے سالار کو ستائیس سال پہلے اپنا قرضہ اتارنے کے لیے مرتضی کو بیچ دیا تھا ۔۔۔۔۔
اس شرط پر کہ دوبارہ کبھی نہیں لوٹوں گا ۔۔۔۔ مگر
وہ رک گیا ۔۔۔۔
تمام آوازیں بند ہو گئیں ۔۔۔۔۔
مرتضی ہاؤس کا ایک ایک فرد پتھر ہو گیا تھا ۔۔ جبکہ سالار ۔۔۔ کی آنکھ کی پُتلی میں بھی حرکت نہیں تھی ۔۔۔۔
یہاں تک کہ اسنے پلک بھی نہیں جھپکی تھی ۔۔۔
یہ پروو ہے ۔۔۔ یہ سالار ہے یہ اسکی ماں ہے اور یہ میں
اور یہ اسکا برتھ سرٹیفیکیٹ اور یہ رہی ولدیت ” اسنے تمام چیزیں ان سب کی آنکھوں کے آگے رکھ دی ۔۔۔
ہار کر رو دینے کی آواز مکمل خاموشی میں مرتضی کی تھی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے