Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 52

شی از مائے وائف ” اسنے ایک چاہت بھری نگاہ زیمل پر ڈالی اور بنا چھپائے بولا ۔۔اولیویا کا منہ کھل گیا جبکہ انکھیں پھیل گئ البتہ زیمل کے چہرے پر مغرورانہ مسکراہٹ پھیل گئ ۔۔
سالار نے اپنی بکری کے شانے پر بازو پھیلا کر اولیویا کیطرف دیکھا
تم مجھے چیٹ کر رہے تھے” وہ غصے سے بولی
نو ایکچلی ایم سوری” اسنے بات بڑھانے کے بجائے جواب دیا
مگر سالار ۔۔۔ یہ کیسی بات ہے ۔۔تم نے ایکسیپٹ کیا تھا میرا پرپوزل” اولیویا ہرٹ ہوئ تھی ۔۔ تبھی وہ اس سے انگلش میں بات کر رہی تھی جبکہ زیمل کو کچھ کچھ سمھجہ ا رہی تھی اسکی آنکھوں میں ایکدم نمی دیکھ کر زیمل نے سنجیدگی سے سالار کیطرف دیکھا
ائ ایم رئیلی سوری ۔۔۔ ” سالار کو اپنی حرکت پر خود بھی افسوس ہوا
اولیویا نے گھیرہ سانس بھرا ارد گرد لوگ انکیطرف متوجہ ہوتے ۔۔۔تو اسکی بے عزتی ہوتی تبھی اسنے ۔۔۔ خود پر کنٹرول کر کے ایک نظر زیمل کو دیکھا
تم دونوں کا کپل ویسے ان میچ ہے ۔۔ اگر اس بچی کے علاؤہ کوئ لڑکی ہوتی ۔۔ تو شاید ۔۔۔ میں تمھاری سوری ایکسیپٹ بھی کر لیتی” سالار نےاپنی مسکراہٹ دبائ
مجھے ایسانہیں لگتا ۔۔۔ شی از پرفیکٹ دور میں ” وہ شانے آچکا کر بولا ۔۔۔۔
ایون اسکی ہائیٹ بھی تم سے میچ نہیں کرتی” اولیویا بولی
اٹس اڈجیسٹ ایبل” سالار نے زیمل کیطرف دیکھ کر کہا
دکھ ہو رہا ہے تمھاری چوائس پر ” اولیویا نے کہا اور سر جھٹک کر اسکے پاس سے چلی گئ ۔۔
زیمل نے سالار کیطرف دیکھا
کیا باتیں کہہ گئ ہے وہ ” وہ اس سے پوچھنے لگی
کہہ رہی تھی تمھاری بیوی تمھارے ساتھ پرفیکٹ ہے ۔۔۔ ” اسنے ایک ونک دی ۔۔۔ زیمل ایکدم شرمندہ سی ہوئ سب کے سامنے وہ کیسے اسکی گردن میں ہاتھ ڈالے اسے قریب کیے کھڑا تھا جبکہ ۔۔۔ آنکھ بھی مار دی تھی ۔۔۔
شکل تو ایسی نہیں لگ رہی تھی کہ وہ میری تعریف کر رہی تھی” زیمل نے آنکھیں گھمائ
ساری رات تمھاری تعریفوں میں زمین آسمان ایک کیا ہے ۔۔ اگر کم تھیں تو رات تو پھر سے ا گئ ہے ” وہ اسکے کان کے نزدیک بولا
زیمل سرخ ہو گئ ۔۔ یہاں تک کے حیا کی سرخی اسکے گالوں پر بکھر آئ ۔۔۔۔۔
آپ آپ
۔۔ ہر جگہ شروع ہو جاتے ہیں” وہ کنفیوز سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
سالار کا قہقہ نکلا ۔۔۔
مجھے تو خوشی ہے ۔۔۔۔ اس رات کے آنے کی ۔۔۔۔ ” وہ بولا اب بھی اسے قریب سے دیکھ رہا تھا
۔
آف سالار” وہ اس سے الگ ہوئ اچانک جیسے گرمی لگنے لگی ۔۔۔۔
اسنے اپنے سر سے کیپ اتار لی ۔۔۔
نو نو ” سالار نے ٹوکا
کیپ سر پر لو ” خود اسکے ہاتھ سے لے کر اسے کیپ پہنائ ۔۔اور اسکے گال پر پیار کیا ۔۔
زیمل تو گھوم ہی گئ ۔۔اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا گئ ۔۔۔
جبکہ سالار کا ایک بار پھر سے قہقہ ابھرا ۔۔۔۔
میں کہاں چھپوں ” وہ اپنے چہرے پر سے ہاتھ ہٹائے بنا ہی ۔۔ بولی ۔۔
میری بانہوں میں چھپنا ۔۔۔ مگر ابھی نہیں ۔۔ابھی مجھے تھوڑا ساکام ہے ۔۔ تم ویٹ کرو اوکے ” وہ بولا ۔۔۔۔ تو زیمل ویسے ہی سر ہلانے لگی ۔
بکری یہاں سب کچھ عام ہے اگر میں اپنا موڈ اون کر لوں تو یہاں کسی کو کوئ فرق نہیں پڑے گا ” وہ اسے ۔۔ بتانے لگا کہ شرمانے کی زیادہ ضرورت نہیں
بے حد بے ہودگی ہے ” زیمل نے افسوس سے کہا
ہاہا ہاں” وہ مسکرایا ۔۔۔
ویسے مجھےا پکی یہ فلم دیکھنی ہے جو ضرورت سے زیادہ ہٹ ہو چکی ہے” زیمل نے زرا گھور کر دیکھا
بلکل نہیں ۔” سالار اپنی شامت نہیں لانا چاہتا تھا
کیوں ” وہ اسکو دیکھنے لگی
دیکھو ۔۔ چھوٹے بچے ایسی چیزیں نہیں دیکھتے” وہ بولا ۔مسکراہٹ بار بار دبا رہا تھا
س۔۔۔سالار آپ نے کیسی مووی بنائ ہے” زیمل کا دل ڈوب ہی گیا ۔۔
سالار کا البتہ قہقہ ابھرا ۔۔۔اور اور کس طرح وہ اسکی معصومیت پر اسکو پیار کرتا ۔۔۔۔۔
اور پھر پیار کرنے سے بھی تو بار بار شرما جاتی تھی ۔۔۔
اٹس فائٹینگ مووی ۔۔۔ بیبی ” اسنے اسے تسلی دی تو زیمل نے ۔۔ سانس بھال کیا ۔۔۔
اب میرا ٹائم ویسٹ نہ کرو ” وہ گھورنے لگا ۔۔
البتہ زیمل ارد گرد دیکھنے لگی ۔۔۔
سالار نے اسے ۔۔ایک طرف بیٹھایا جبکہ فیروز سے کہا کہ اسکو کچھ کھانے پینے کا سامان لا دے جبکہ خود وہ ایک بار پھر اولیویا اور اپنے کو سینگرز کیطرف چلا گیا
زیمل اسی کیطرف دیکھ رہی تھی
وہ بیسٹ تھا ۔۔ ایکدم پرفیکٹ آئیڈیل کسی بھی لڑکی کا خواب
سب سے اہم بات ۔۔وہ ۔۔جانتا تھا عورت کو عزت کس طرح دینی ہے ۔۔۔ اپنے رشتوں کو کس طرح عزت دینی ہے ہاں ۔۔ ایک انسان کے لیے عمر کے اس حصے میں آکر یہ سب جاننا جب ۔۔۔
وہ تمام تر جزبات رکھتا ہو کافی مشکل ہوتا ہے ۔۔ مگر اسے اتنا بھی علم تھا کہ وہ اسے واپس منا کر لے جائے گی
یہ اسے لگتا تھا آگے کیا ہونا تھا وہ نہیں جانتی تھی ۔۔۔
سالار نے ہاتھ میں مائیک لیا ۔۔اور ایک ٹون سیٹ کی ۔۔۔۔
جبکہ مائیک کے قریب وہ ایک انگلش سونگ گنگنانے لگا ۔۔۔
اسکی آواز بے حد حسین تھی۔۔۔
ایکدم وہاں کام کرتے سب ورکرز اسکیطرف دیکھنے لگے
وہ ۔۔بنا ہچکچائے ۔۔ گا رہا تھا ۔۔زیمل بھی سن سی اسکو دیکھنے لگی
ہاں یہ سچ تھا سمھجہ اسے کچھ نہیں آرہی تھی
مگر اچھا لگ رہا تھا اسکی آواز کو سننا ۔۔۔۔
وہ مسکرا کر اسکیطرف دیکھتی رہی
پھر اسکی اواز کے پیچھے ۔۔اسکے کو سنگر نے آواز اٹھائی ۔ اور پھر اولیویا نے اور پھر ایک اور سنگر نے جب وہ سب گانے لگے تو سالار نے مائیک ہٹا لیا ۔۔
وہ لبوں پر زبان پھرتا سر کو ۔۔۔ ایک مخصوص حرکت دیتا ہلانے لگا جیسے وہ اپنے ہی میوزک کو انجوائے کر رہا ہو ۔۔۔۔
اچانک وہ سب روکے تو ۔۔پھر سالار نے ایک دھن اٹھائ
اور اتنی خوبصورت اور مکمل آواز تھی کہ ۔۔ زیمل کو لگا اسکے وجود میں جیسے ایک عجیب سی لہر دوڑ گئی ہو ۔۔۔۔
اسکی آواز کے ساتھ اس بار اولیویا نے آواز اٹھائی تھی
سالار نے اولیویا کیطرف دیکھا ۔۔۔اور ۔۔۔ دونوں گاتے گاتے جھکے ۔۔۔ اور ایک بار پھر اونچی ٹون اٹھائ ۔۔۔
یہ بے حد شاندار تھا ۔۔۔
زیمل کا دل کیا تالیاں بجائے ۔۔۔۔
مگر وہ چپ چاپ لبوں پر پرجوش مسکان لیے بیٹھی رہی۔
سالار نے اس دوران اسکیطرف نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
پھر انکے پیچھے کو سنگرزگانے لگے ۔۔۔۔
اور زیمل جو سالار کی آواز کی مدہوشی میں گم تھی اچانک ۔۔۔ کسی کے پکارنے پر اسکیطرف دیکھنے لگی ۔۔۔
ہائے” وہ لڑکا تھا ۔۔
زیمل نے سر ہلا دیا ۔۔۔۔
وہ اسکے اور سالار کے درمیان ا کھڑا ہو اکہ سالار اب اسے نہیں دکھ رہا تھا ۔۔۔۔
زیمل بڑی بڑی حیران آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔
کون ہیں میڈیم آپ ” وہ اردوبول رہا تھا
میں سالار کے “
اوہ سالار مرتضی کے ساتھ ہو ” وہ لڑکا جیسے پہچان گیا تھا زیمل بیوی کہنا چاہتی تھی پھر شانے آچکا گئ ۔۔۔۔
ضروری تو نہیں سب کو پتہ چلے ۔۔۔۔
ہی از رئیلئ ۔۔۔ گڈ ” وہ ایک نظر مڑ کر سالار کو دیکھتا بولا
زیمل نے بس سر ہلایا البتہ مسکراہٹ الگ تھی ۔۔۔
تو تم اسکی گرل فرینڈز ہو ۔۔۔۔ لگتا نہیں سالار کا ٹیسٹ ایسا ہو گا ۔۔” وہ لڑکا بولا ساتھ ہنسا
زیمل نے گھور کر اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
اوپپس سوری ۔۔ تم نے مائینڈ کیا “
وہ معزرت کرنے لگا اور پھر اسکے آگے ۔۔ائسکریم بڑھا دی
زیمل نے سوالیہ نظروں سے دیکھا
اوکے ایکسیپٹ مائے سوری “
میں انکی بیوی ہوں ” زیمل کو بتانا ہی پڑا
اوہ دیٹس گریٹ” وہ لڑکا مسکرایا
ڈونٹ وری میں فلرٹ نہیں کر رہا ۔۔۔” اسنے اسے یقین دلایا اور ہنسا
زیمل اسکی بات پر مسکرا دی ۔۔۔ اور اسکے ہاتھ سے آئسکریم تھام لی اور یہی منظر سالار نے دیکھ لیا جو کافی دیر سے زیمل کی تلاش میں نظریں گھما رہا تھا
سردی میں آئسکریم” وہ بولی ۔۔۔
ہاں مزاہ دیتی ہے” وہ لڑکاہنسا
یار سیریسلی میں بھی تمھارے ہزبینڈ کا فین ہوں ویسے میں انکا میکپ ارٹیسٹ ہوں صفان نام ہے میرا “
وہ بولا اور زیمل کے بلکل ساتھ بیٹھ گیا جیسے ہی زیمل کے سامنے سے صفان ہٹا سیدھی نظر خاموش کھڑے خود کو دیکھتے سالار سے جا ٹکرائی
اسکے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی
زیمل ایکدم صفان سے دور ہوئ
اوہ یس آئ ایم کم ” وہ کسی سے بولا اور جلدی سے زیمل۔کے پا س سے اٹھ گیا
البتہ زیمل سے وہ آئسکریم کی بائیٹ نگلنا مشکل ہو گئ تھی ۔۔
سالار اسی کیطرف دیکھ رہا تھا
زیمل کی معصوم معصوم نظریں بھی اسی پر تھیں جو بار بار جھپکتی گیرتی اپنی غلطی پر شرمندہ سی تھیں ۔۔۔
سالار نے رخ موڑ لیا
زیمل۔نے وہ آئسکریم وہیں رکھ دی ۔۔۔
تبھی فیروز۔ آگیا
سوری میم مجھے دیر ہو گئ” وہ بولا اور زیمل کے ہاتھ میں چائے کا کپ اور کچھ سامان دینے لگا ۔۔
زیمل۔نے وہ تھام لیا مگر کھانا تو مشکل ہو گیا تھا ۔
وہ بار بار سالار کی پشت دیکھتی ۔۔
تقریبا گھنٹے سے اوپر وقت گزر گیاتھا وہ یوں ہی سولی پر لٹکی ہوئی تھی
سالار نے ایک بار بھی اسکیطرف نہیں۔ دیکھا وہ ۔۔ مائیک رکھ کر پلٹا تو فیروز اسکے پیچھے پیچھے تھا ۔
میکپ ارٹیسٹ جن میں صفان بھی تھا اسے اسکی لکس دیکھانے لگے
سالار سنجیدگی سے ۔۔ سب کو جواب دیتا رہا ۔۔۔
پھر وہ آگے بڑھا تو ڈریس دیکھانے کچھ لوگ ا گئے ۔۔۔
اسنے ڈریس سلیکٹ کیا ۔۔۔اور اب قدم زیمل کیطرف تھے ۔۔ جو جتنا ہو سکتا تھا آنکھوں کو معصوم کر رہی تھی شاید وہ ترس ہی کھا لے مگر ارادے بلکل نیک نہیں تھے
وہ اسکے نزدیک آیا ۔۔۔
یو ڈیزرو پنیشمنٹ ” اسنے سرسراتے لہجے میں زیمل۔کی جان مزید سکھا دی جبکہ ۔۔۔
اسکی گردن میں ہاتھ ڈال کر اسے آگے کی جانب دھکیلا
س۔۔سالار میں تو ” وہ بتانے لگی
بیبی گرل ۔۔۔ بات تنہائ میں ہو گی ” وہ سپاٹ لہجے میں بولتا اسکا ہاتھ تھام کر ۔۔۔ وہاں سے ۔۔ باہر نکلنے لگا ۔۔سٹوڈیو سے باہر نکل کر اسنے فیروز کی جانب دیکھا
میں خود جاؤں گا ” وہ بولا اور فیروز نے سر ہلا دیا
زیمل کو اسنے دھکیلنے والے انداز میں گاڑی کے اندر کیا
اور دروازہ دھاڑ سے بند ہو گیا
اور خود دوسری طرف سے وہ گاڑی میں بیٹھا
اور گاڑی۔ چلانے لگا
صرف سٹریٹ لائٹس کی روشنی گاڑی میں ا رہی تھی
سالار کا ایک ہاتھ ۔۔اسکی گردن پر اچانک رینگنے لگا ۔۔
س۔۔سالار میں تو بس ۔۔وہ اردو بول رہے تھے “
رہے تھے” اسنے لفظ پکڑا اور اسکی گردن سے ہاتھ بالوں میں پھنسالیا ۔۔
سوری ” زیمل نے فورا ہار مان لی غلطی اسی کی تھی
کوئ معافی نہیں ہے ” سالار نے ایک جھٹکا دیا ۔۔اور ۔۔ایکدم گاڑی روک کر وہ اسکے چہرے پر اچانک اپنی جگہ سے اٹھتا
جھکا ۔۔۔ اسکے انداز میں زیمل کے لیے سزا تھی ۔۔ زیمل ایکدم پھڑپھڑا گئ اور ۔۔۔ وہ اسکو کچھ دور کرنے لگی ۔۔۔
مگر سالار نے سیٹ کو ہاتھ مار کر پیچھے کر لیا ۔۔
گاڑی اتنی بڑی تھی ۔۔ سیٹ پیچھے چلی گئ وہ اسپر چھانے لگا
اپنی من مانی پر اترنے لگا ۔۔یہاں تک کے ۔۔اسکے عمل سے زیمل۔کی آنکھ میں آنسو ا گیا ۔۔۔۔
جسے سالار نے خود ہی انگوٹھےسے صاف کیا
کیسا لگ رہا ہے بیبی” وہ خمار زدہ لہجے میں بولا ۔۔۔
زیمل نے آنکھیں جھپک کر اسکودیکھا
بہت برے ہیں آپ ” وہ اپنا چہرہ چھپانے لگی
سالار مسکرایا ۔۔۔
یہ صرف ٹریلیر ہے مووی پوری دیکھاو گا ” وہ اس کے چہرے پر بکھرنے والے بال ہٹا کر بولا ۔۔۔
ہم باہر ہیں سالار کوئ دیکھ لے گا ” وہ گھبرا کر بولی ۔۔
یہ گاڑی ۔۔۔۔ بلیک میرر کی ہے یہاں سے اندر کوئ دوربین سے بھی نہیں دیکھ سکتا ” اسنے اسکی ناک کھینچی اور مسکرا کرا اطلاع دی ۔۔۔۔
زیمل نے کچھ حیرانگی سے دیکھا ۔۔۔۔
اور سر ہلایا ۔۔۔
سالار نے اچانک ہی اسکی گردن پکڑ لی ۔۔۔
تو تمھیں آئسکریم کھانی ہے وہ بھی ۔اس کی دی ہوئی ” وہ آنکھیں نکالتا غرایا
نہی۔۔۔نہیں ایساکچھ نہیں ہے ۔۔ ” وہ اپنی صفائ دینے لگی ۔۔۔۔
تو پھر کیسا ہے میں نے تمھیں کہا تھا نہ میرے علاؤہ کسی کو مت دیکھنا ” وہ بے باکی پر اترا جبکہ زیمل کے رنگ فق ہوئے
سالار” وہ گھبرا گئ ۔
شیٹ آپ ۔۔۔ ” وہ غصے سے بولا۔ ۔
ہاتھ توڑ دوں گا آئندہ کسی سے کچھ لیا” وہ بھڑکا ۔۔۔
ٹھیک ہے مگر آپ ” وہ اسکی کروائی پر اصل سٹپٹا رہی تھی ۔۔۔
جبکہ سالار محظوظ ہو رہا تھا ۔۔۔۔
زیمل نے بلآخر ۔۔ خاموشی میں ہی آفیت جانی ۔۔
اور سالار اپنی من مانی پر تار گیا ۔۔۔
وہ اپنی مرضی کر کے ۔۔۔ پیچھے ہٹا ۔۔۔۔ اور زیمل کے پریشان چہرے کو اسنے اپنی ہنسی دبا کر دیکھا تھا ۔۔۔۔
انٹرسٹینگ” اسنے پیاری سی ونک دی
جبکہ زیمل نے اسپر مکے برسا دیے ۔۔۔
وہ کتنا بد تمیز تھا ۔۔ اسے باخوبی اندازا ہو رہا تھا
جبکہ سالار ڈھٹائی سے ہنستا رہا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ گھر پہنچے تو سالار نے اسے ۔۔۔۔ اپنے بازؤں میں بھر لیا زیمل بھی مسکرا دی
اسکے ساتھ گزرتا ہر لمہہ بہترین یاد تھا وہ اسے روم میں لے جانے لگا ۔۔۔
تبھی زیمل کو کچھ یاد آیا اسنے سالار کے پیشانی پر بکھرے بالوں میں ہاتھ چلایا ۔۔
سالار نے اسکی جانب دیکھا
واپس چلتے ہیں” زیمل بولی آنکھوں میں آس تھی جیسے وہ مان جائے گا اور اسی لمہے سالار نے اسے۔چھوڑ دیا
وہ ایکدم ساڑھیوں پر جا گیری
زیمل کوو زیادہ تو نہیں لگی تھی مگر یہ اچھا نہیں تھا
وہ سالار کو دیکھنے لگی
دیکھتے ہی دیکھتے اسکی آنکھوں میں آنسو بھر گئے۔
سالار ایک سیڑھی جہاں زیمل بیٹھی تھی اس سے اوپر والی پر پاؤں رکھتا اسکے چہرے کی جانب جھکا
تم مجھ سے ۔۔۔۔ کسی بھی قسم کی ڈیمانڈ کرنا مگر دوبارہ یہ مت کہنا کہ واپس چلو ۔۔۔۔۔
میں نے تمھیں کہا تھا تم صرف میرے بارے میں سوچو گی نہ کے یہ کہ ۔۔۔ اب میں تم سے راضی ہوں تو تم مجھے واپس لے چلو گی ۔۔ میں کہیں نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔ اور تم بھی کہیں نہیں جاؤ گی اور اگر دوبارہ ہاتھ چھڑانا چاہتی ہو تو جا سکتی ۔۔۔۔۔
ورنہ میری زندگی میں ۔۔۔ دوبارہ تکلیف کی کتاب مت کھولنا ۔۔۔۔۔
اور یہ بات میں نے تمھیں آج کہی ہے سو سال بعد پوچھو گی تب بھی یہ ہی کھوں گا ” وہ اتنی سختی سے کہہ رہا تھا زیمل کو لگا ہی نہیں کہ یہ وہی سالار ہے ۔۔وہ سر جھکائے بیٹھی رہی جبکہ سالار ۔۔
وہاں سے روم میں چلا گیا ۔۔
اور زیمل کو مرتضی کی بات یاد ا گئ
وہ نہیں آئے گا “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جاری ہے