Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

کبیر کے سورسز پر پاسپورٹ جلد بن گیا تھا صرف دو دن کے انتظار کے بعد آیت کا بھی پاسپورٹ بن گیا ۔۔۔ جبکہ عارض نے دونوں کی ٹکٹ بک کرا لی ۔۔
گھر میں سب ایکدم کافی خوش ہو گئے تھے جبکہ نانی نے ضد لگا لی کہ اس لڑکی کے جانے سے پہلے ڈاکٹر سے اسکا چیک اپ کراو۔۔ آیت ایکدم پریشان ہو گئ جبکہ مدیحا نے اس بات کو سنبھالا ۔۔۔ اور کہا کہ وہ خود لے جائے گی ۔۔
نین نے بھی جانے کی بات کی تو مدیھا نے اسے بھی چلنے کا کہہ دیا ۔۔اور اس طرح وہ لوگ ۔۔۔ ہوسپیٹل چلے گئے ۔۔۔
مگر ہوسپیٹل میں نین کو مدیھا نے اندر ڈاکٹر کے روم میں ضد کے باوجود بھی آنے نہیں دیا وہ چاہتی تھی اس بات کا جتنا ہو سکتا ہے اتنا ہی پردہ رہے جبکہ آیت ۔۔ جو بے حد کنفیوز ہو چکی تھی اسکو بھی نین کے اندر نہ آنے سے تھوڑی تسلی ہوئ ۔۔۔
اب تو زندگی اسی بچے کے لیے گزارنی تھی۔۔۔ ڈاکٹر نے ۔۔۔ اسکا چیکپ کیا ۔۔
اچھی ڈائیٹ لو بیٹی تمھاری کمزور ہے ” ڈاکٹر نے کہا جبکہ آیت نے ایکدم ڈاکٹر کیطرف دیکھا ۔۔
بیٹی ہے “اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا جبکہ مدیھا نے تو جیسے بہت شکر ادا کیا ۔۔۔ اسکو بیٹی کی جتنی خواہش تھی اب اس طرح پوری ہوئ تھی۔۔۔۔
جبکہ آیت سن ہی رہ گئ ۔۔
کیا بیٹیوں کی پرورش باپ کے بنا ہو سکتی ہے ” آیت کا دل اتنی تیزی سے دھڑک رہا تھا ۔۔ گویا ۔۔۔ کانوں میں اسکی دھڑکنوں کی آواز گونج رہی تھی یعنی اسکی بیٹی بھی اسکے جیسی قسمت لے کر دنیا میں آئے گی ۔۔ جسے اپنے سگوں کا پیار نہیں ملے گا ۔۔۔ جبکہ دوسرے اس سے محبت کریں گے اسے بھی اسکے باپ کا پیار نہیں ملے گا ۔۔۔
بے ساختہ اسکے آنسوں سے لڑی بہہ گئ ۔۔ جبکہ مدیھا نے اسے پیار کیا ۔۔۔۔
وہ کیا جانتی تھیں کہ وہ کس قیامت سے گزر رہی ہے ۔۔۔۔
ڈاکٹر نے اسکو اچھی ڈائیٹ دی ۔۔۔ اور ہر منتھ چیکپ کا بھی کہا جس پر مدیھا نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔اور وہ دونوں باہر آئین تو آیت تو خاموش تھی مگر مدیھا کے چہرے کی خوشی سے ایکدم نین جوش میں آئ اور اسنے ۔۔۔ آیت کو جلدی سے گلے لگا لیا ۔۔۔
آنٹی جلدی بتائی جو میں نے پہچانا ہے کیا وہ ہی سچ ہے ” نین بولی تو مدیھا نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔ وہ کافی خوش نظر آ رہی تھی ۔۔۔
آف میں بہت خوش ہوں تمھارے لیے” آیت کو پیار کرکے وہ بولی ۔۔۔
اور آیت پھیکا سا ہنس دی ۔۔
اب گھر چلو ” مدیھا نے کہا تو تینوں ڈرائیور کے ساتھ گھر آ گئیں ۔۔
گھر میں یہ خبر آگ کیطرح پھیلی تھی سب نے اپنی اپنی مرضی سے خوشی کا اظہار کیا ۔
۔۔ کافی جلدی ہو گئ بیٹا تم تو “مامی نے ٹوکا ۔۔ جبکہ آیت کے گال سرخ ہو گئے ۔۔۔
مگر سب نے انکی بات کو اگنور کیا ۔۔۔ اور یہ خوشی مردوں میں سب سے پہلے سالار کو ملی ۔۔۔
اسنے آیت کیطرف دیکھا ۔۔ آیت تو جیسے ۔۔زمین میں گڑھنے والی ہو رہی تھی شرمندگی سے ۔۔۔ جبکہ سالار کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئ ۔۔
اسنے آیت کے سر پر ہاتھ رکھا ۔۔اور اسے کافی ساری دعائیں دیں ۔۔۔
اور آہستہ آہستہ یہ خبر سب مردوں میں پھیل گئ ۔۔۔ جبکہ وہ لوگ رات کو آئے ۔ مرتضی کافی خوش اور مطمئین لگے ۔۔ جبکہ کبیر نے بھی اسے دعائیں دیں ۔۔ زین تو ۔۔۔۔ نام سوچنے بیٹھ گیا تھا جبکہ لڑکا ہو گا یہ لڑکی پریشے اور اسکی جنگ جاری تھی عمل تو اس واقعے کے بعد سے اسے اوائیڈ ہی کرتی تھی ۔۔۔
جبکہ سالار نے عارض کو زیچ کر دیا تھا ۔۔
بہت تیز نکلے بھئ تم تو “وہ اسکے کان میں بولا ۔۔
عارض نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
چند دنوں میں اتنا بڑا کارنامہ” اسنے گھورا ۔۔
ایسے گھور رہے ہیں بھیا جیسے ۔۔۔”
اور کھوتے آواز نیچی رکھ” سالار نے اسکی گردن میں ہاتھ ڈالا ۔۔۔۔ یار ویسے اب میری عزت میں اضافہ آ جانا چاہیے” عارض نے ۔۔ کہا ۔۔۔ توسالار نے اسکی گردن سے ہاتھ نکالا ۔۔ اور دوبارہ گیم کھیلنے میں مصروف ہو گیا ۔۔
ہاں ابو جو بن گئے ہو ۔۔۔”وہ قہقہ لگا کر ہنسا۔۔۔
ہاں تو برا کیا ہے ” عارض نے اسکو گھورا ۔۔۔
عمر دیکھو اپنی ۔۔۔ ” سالار نے گیم کھیلتے ہوئے ۔۔۔ پھر سے اسے تانا مارا ۔۔۔
تو شادی نہ کرتے” اسنے جیسے جواب دیا ۔۔ سالار نے اسکے کوہنی ماری
آف” عار ض پیٹ پکڑ کر رہ گیا ۔۔۔
اوور کم ہو بہن ہے میری وہ ۔۔۔۔ جس سے تیری شادی ہوئ ہے ۔۔ بلکہ تجھے تو ۔۔۔۔ مر مٹنا چاہیے اسکے قدموں میں ” وہ بولا جبکہ عارض نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
مجھے آپکے پاس بیٹھنا ہی نہیں ہے” وہ کہہ کر وہاں سے اٹھ گیا ۔۔
جبکہ سالار نے زین کو بولا لیا وہ دونوں آپ گیم کھیلنے میں مصروف ہو گئے ۔۔ عارض کل کے سفر کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔۔ جبکہ کبیر ۔۔۔ بڑوں سے باتوں میں مصروف تھا لڑکیاں الگ ایک ہوئ بیٹھیں تھیں ۔۔۔
کل کے بعد یہ سب بدل جائے گا ۔۔۔۔
ان لوگوں کے بیچ وہ نہیں رہے گا ۔۔۔
یہ لوگ اس سے یوں محبت نہیں کریں گے ۔۔۔ مان ٹوٹ جائے گا ۔۔ بکھر جائے گا سب ۔۔۔ ” وہ سب لوگوں کو باری باری دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
اور پھر اٹھ کر وہ ۔۔۔۔ وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
جینی کی کال آ رہی تھی اسنے روم میں آ کر کال اٹینڈ کی ۔۔
اور اس سے بات کرنے لگا ۔۔
ہاں میں کل آ رہا ہوں تمھارے پاس ہمیشہ کے لیے” وہ بولا تو جینی ایکدم اچھل پڑی
کیا واقعی ” وہ بولی تو عارض نے مسکرا کر اسے ۔۔۔ بتانا شروع کیا ۔۔
میں تمھیں ائیر پورٹ سے پیک کرو گی ۔۔” وہ جوش میں بولی ۔۔
جبکہ عارض نے اپنی فلائیٹ کا ٹائم بتایا ۔۔۔۔
وہ تادیر اس سے باتیں کرتا رہا ۔۔۔ آگے کے بارے میں جینی اسے سب بتانے لگی جبکہ اسے اچھی خاصی رقم لانے کے لیے بھی کہا ۔۔۔۔
وقت کب گزرا اسے پتہ ہی نہیں چلا وہ کب کمرے میں آئ ۔۔اور آ کر لیٹ بھی گئ اسے یہ احساس بھی نہیں ہوا
۔۔جینی نے فون بند کیا تو وہ ۔۔ کمرے میں آیا ۔۔ وہ کمبل کو مٹھیوں میں تھامے لیٹی ہوئی تھی ایک ہاتھ سے آنکھیں ڈھکی ہوئی تھیں ۔۔۔
وہ یوں ہی کھڑا اسے دیکھتا رہا ۔۔
اگر کسی کو ضبط کرتے کبھی دیکھا تھا تو ۔۔وہ آیت کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
نہ جانے اسکے ضبط کرنے تھے عارض کو کیوں تکلیف محسوس ہو رہی تھی اسنے وقت دیکھا ۔۔۔ ڈیڈ بج رہا تھا کل کی انکی فلائیٹ تھی اس بات کے سب کو پتہ چلنے کے بعد نانی نے اسے روکا کہ آیت کہیں نہیں جائے گی اس حالت میں عورت کا خیال رکھنا پڑتا ہے وہ چار پانچ مہینے سے کہاں خیال رکھا جا رہا تھا بلکہ اسکی تکلیفوں میں اضافہ ہی کر رہا تھا ۔۔۔۔
مگر کبیر کے کہنے پر ۔۔۔ سب چپ ہو گئے جبکہ کبیر نے عارض کو ہدایات بھی دیں کہ جتنا ہو سکے خیال رکھے اسکا ۔۔۔
جس پر مانتے ہوئے آیت کی نظریں اسے عجیب سی لگی ۔۔
اسکے پہلو میں لیٹ کر ۔۔ وہ اسکو غور سے دیکھنے لگا۔۔
یہ سب جزبات پہلے نہیں تھے ۔۔۔ ۔
نہ جانے اچانک یہ سب کچھ کیوں ہو رہا تھا عارض نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔
مجھے پرواہ نہیں کرنی چاہیے میں جتنا سوچوں گا ۔۔اتنا ہی ڈسٹرب ہوں گا ” اسنے دل میں سوچا اور خود بھی سونے کے لیے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح سب ہی جلدی سے اٹھ گئے تھے ان سے ملنے کے لیے ۔۔
آیت نے وائیٹ سوٹ پہنا تھا ۔۔۔۔ چکن کا جو کہ اسپر بے حد خوبصورت لگ رہی اتھا ۔۔اور سب اسکی تعریف کر رہے تھے مدیھا نے تو اسکی نظر بھی اتاری ۔۔
عارض نے بھی اسکو چند پل ٹھر کر دیکھا ۔۔
تھا اور وہ وائیٹ شرٹ اور جینز میں ان دونوں کا
کپل مکمل لگ رہا تھا مگرادھورا پن تو آیت ہی جانتی تھی ۔۔
سب سے مل کر اور دعاؤں میں وہ دونوں گھر سے رخصت ہو گئے ۔۔اور جیسے ہی آیت گاڑی میں بیٹھی ۔۔۔
اسے لگا ۔۔۔ اسکو متلی ہو رہی ہے دل کی دھڑکنوں میں بھی اضافہ ہو گیا
اسنے دل تھام لیا عارض نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
ٹھیک ہو “اسنے آیت کا ہاتھ پکڑا مگر آیت نے اپنا ہاتھ اس سے چھوڑا لیا ۔۔
پلیزگاڑی روکیں ” وہ بولی ۔۔۔۔
تو ۔۔۔ عارض نے جلدی سے ایکطرف گاڑی روک لی ۔۔
آیت گاڑی سے باہر نکلی ۔۔ اور ایک درخت کے پاس چلی گئ ۔۔۔
عارض جبکہ پانی کی بوتل لے کر باہر نکلا ۔۔اور اسکو پانی بڑھایا کانپتے ہاتھوں سے اسنے پانی تھامہ ۔۔۔
تم نے ناشتہ بھی نہیں کیا ۔۔۔ اور مما سے جھوٹ بھی بولا ” عارض نے کہا کیونکہ مدیھا نے ناشتے کا کہا ۔۔ تو اسنے ۔۔۔ کہہ دی کہ وہ عارض کے ساتھ کر چکی ہے ۔۔۔۔
آپ کو ان باتوں سے فرق نہیں پڑنا چاہیے” اسنے منہ صاف کرتے ہوئے عارض کو دیکھا ۔۔ اور چلتی ہوئی گاڑی میں بیٹھ گئ ۔۔
جبکہ اسکے دو بار قدم لڑکھڑائے مگر عارض کا سہارا نہیں لیا ۔۔۔
عارض گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔
جبکہ آیت ۔۔ باہر دیکھنے لگی ۔۔
کچھ کھا لو “اسے اسکی فکر ہونے لگی ۔۔
بھوک نہیں ہے” آیت نے کہا ۔۔۔۔
تھوڑا بہت کھا لو گی تو ہاتھوں کی کپکپاہٹ ختم ہو جائے گی ” عارض دیکھ رہا تھا اسکے ہاتھ کانپ رہے تھے مگر وہ ضدی ہو رہی تھی ۔۔۔
آیت نے جواب نہیں دیا جبکہ عارض کو غصہ آنے لگا اور اسنے گاڑی کی سپیڈ بڑھا لی ۔۔۔
انھوں نے سب کو خود ہی ائیر پورٹ آنے سے منع کیا تھا ۔۔ دونوں ائیرپورٹ پہنچے تو آیت اپنا بیگ اٹھانے لگی ۔۔
میں اٹھا لیتا ہوں ۔۔۔”عارض نے بیگ اٹھایا ۔۔ بلیک سن گلاسز لگائے ۔۔وہ بہت ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔۔۔
رہنے دیں آگے جا کر اپنی بیٹی کا بوجھ بھی تو مجھے ہی اٹھانا ہے تو پھر یہ ۔۔ تو بہت ہلکا ہے وزن” اسکے الفاظ عارض کو جیسے اپنی جگہ سے ہلا گئے ۔۔۔
ہاتھ وہیں ساکت رہ گئے ۔۔ جبکہ وہ آیت کو دیکھتا ہی رہ گیا ۔۔
آیت نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔ اور پھر مسکرا دی ۔۔
پریشان نہ ہوں ۔۔۔ دعا تو میری کسی کو لگی نہیں ۔۔ بدعا لگ گئ ” وہ جانتا تھا وہ اس دن کا تانا دے رہی تھی جب اسنے اسے کہا کہ عارض آپکے بیٹی ہو
آیت بیگ اٹھا کر ۔۔۔ ایکطرف ہو گئ جبکہ عارض کے چہرے پر پسینہ سا پھیل گیا ۔۔
اسنے ۔۔ اپنا کھلا منہ بند کیا ۔۔۔سانس حلق میں اتاری اور پانا بیگ اٹھا کر وہ ۔۔ دونوں اندر چل دیے ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جہاز میں بیٹھی تو سر بری طرح گھوم رہا تھا ۔۔۔
عارض اسکا خیال رکھنا چاہ رہا تھا مگر آیت کی آنکھوں کے سوال سے ٹھٹک سا جاتا ۔۔۔۔
رک جاتا ۔۔۔۔ اور خود سے بی پوچھتا ۔۔۔کیوں ایسا کیوں ہو رہا تھا اسکے ساتھ ۔۔
کیوں جزبات میں بھونچال سا مچ گیا تھا ۔۔ کیوں اسے اچھا نہیں لگ رہا تھا چھوڑ کر جانا اسے ۔۔۔۔
جبکہ اپنی بیٹی کا ذکر سن کر کیوں ۔۔ دل بری طرح تڑپ سا گیا ۔۔۔۔
وہ نارمل کیوں نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔
اسے خوش ہونا چاہیے تھا نارمل ہونا چاہیے تھا مگر وہ نارمل نہیں تھا ۔۔
آیت کا پہلا سفر تھا جہاز کا وہ گھبرا کر اسکے اڑنے کی منتظر تھی ۔۔
ہاتھ پکڑ لو ڈر نہیں لگے گا ” عارض نے اسکے سامنے ہتھیلی پھیلائی ۔۔۔
میں جانتی ہوں مجھے ڈر لگے گا ۔۔۔۔ آپکا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔ تو لگے گا ۔۔۔ ساری عمر کے لیے یہ ہاتھ میرا ہے ۔۔۔۔ رہنے دیں ۔۔۔ مجھے ڈرنے ہی دیں ۔۔۔ آگے جا کر نہ جانے کہاں کہاں ڈر لگے ۔۔ اب ہر جگہ آپ کا ہاتھ تو نہیں آئے گا نہ ” وہ پھیکا سا ہنس دی ۔۔اور جہاز نے پرواز بھر لی اسنے سیٹ کو سختی سے جکڑے رکھا مگر عارض کا پھیلا ہاتھ نہیں پکڑا ۔۔
عارض اسکی باتوں پر ہاتھ دور کر گیا ۔۔۔
دونوں کے بیچ اسکے بعد خاموشی ہی رہی ۔۔۔
عارض نے اسکے لیے کھانا منگوایا کچھ دیر بعد ۔۔
آیت طبعیت خراب ہو جائے گی ” اسکی ضد پر وہ اب بھڑکا ۔۔۔
آپ مجھ پر غصہ نہ کریں ۔۔۔۔ آخری یادوں میں بھی غصہ چھوڑ جائیں گے”وہ ایسے بولی گویا عارض کو لگا اسکا دم ہی نہ پھٹ جائے
مجھے سکون سے جینے دو آیت ۔۔ بند کرو یہ باتیں” وہ ایکدم غصے سے بولا ۔۔۔
مجھے معاف کر دیں میں آپکو تنگ نہیں کرنا چاہتی تھی” وہ بھیگی پلکوں کو جھپکتی بولی ۔۔۔ جبکہ عارض نے سیٹ پر مکہ مارا ۔۔
وہ اپنی اندرونی توڑ پھوڑ سے زیادہ پریشان تھا ۔۔۔
اسکے بعد وہ کچھ نہیں بولا آیت بھی کچھ نہیں بولی ۔۔۔۔
اور کچھ گھنٹوں بعد آیت پرعارض کی نظر گئ ۔۔ تو وہ سو چکی تھی ۔۔
وہ اسکی طرف رخ کر کے غور سے اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔
وہ بہت معصوم تھی ” آج اسے احساس ہوا تھا ۔۔
اسکا ہاتھ بے ساختہ اٹھا اور آیت کے گال پر گیا ۔۔۔۔
جبکہ ہاتھ کے وزن پڑتے ہی آیت کا سر ۔۔ عارض کے کندھے پر ڈھلک گیا ۔۔
اندرکی توڑ پھوڑ میں سکون سا اتر گیا ۔۔۔۔
اسنے اپنے اور اسکے اوپر کی لائیٹ کو آف کیا ۔۔۔
اور آیت کو بلکل اپنے نزدیک کر لیا ۔۔۔۔
لبوں پر خود با خود مسکراہٹ اترگئ ۔۔
کیسا حساس تھا ۔ وقت ہی بتانے والے تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لندن ائیرپورٹ پر وہ لوگ اترے تو آیت حیرانگی سے سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
ارد گرد ۔۔ عارض ۔۔۔ تو بے حد خوش تھا ۔۔اب چہرے پر سنجیدگی نہیں تھی آیت البتہ کنفیوز تھی ۔۔
انھوں نے اپنا سامان لیا ۔۔ آیت کو آگے جانا بے مقصد لگا وہ کیا کرے گی اس ملک میں ۔۔۔ کیا کرنا تھا اسے ۔۔۔یہاں ۔۔
کیا آپ مجھے دوبارہ بھیج سکتے ہیں ۔۔ ” آیت بولی ۔۔
کیوں کیا تم جینی سے ملنا نہیں چاہتی” وہ مسکرا کر پوچھنے لگا ۔۔۔
آیت نے دکھ سے اسکو دیکھا ۔۔۔ جس کے چہرے کی مسکراہٹ خوبصورت تو تھی مگر اتنی ہی ظالم تھی ۔۔۔
کیا آپ ایسا چاہتے ہیں میں اس سے ملوں “وہ پوچھنے لگی نہ جانے اپنے ضبط
آزما رہی تھی یہ اسکی دی ہوئ تکلیف کی آخری انتہا دیکھنا چاہتی تھی
اممم ہاں میں چاہتا ہوں تم اس سے ملو ۔۔۔” عارض نے شانے اچکائے ۔۔
آیت سر جھکا گئ ۔۔۔۔
عارض اسکو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
وہ جیسے ابھی رو دینے کو تیار تھی ۔۔۔۔
عارض کے لب پھر بھی مسکرا رہے تھے ۔۔۔۔
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔۔۔
آیت نے اپنے آنسو صاف کیے ۔۔
ٹھیک ہے” وہ بس اتنا بولی اور ۔۔۔۔ اسکیطرف دیکھنے لگی ۔۔ جو آگے نہیں چل رہا تھا ۔۔۔۔
کافی رش ہے آگے نہ جانے وہ کہاں ہے اس رش میں” عارض نے کہا
۔۔
تو آیت نے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔۔۔
عارض کیطرف دیکھا اسے دیکھ کر وہ اب بھی مسکرا رہا تھا ۔۔۔
آپ کافی خوش ہیں” آیت بولی ۔۔ شاید انکے بیچ یہ آخری بات چیت ہو اور آگے سے وہ کبھی ایک دوسرے کو نہ ملیں ۔۔۔۔۔
ہاں میں بہت خوش ہوں ۔۔اور تم جانتی ہو ۔۔ میں اپنی خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں ” وہ جوش میں بولا ۔۔۔
آیت کا دل کٹ سا گیا اسکے ساتھ وہ کبھی بھی اتنا خوش نہیں رہا ۔۔۔
کیسے ” آیت نے پوچھا ۔۔۔۔ لبوں پر زبردستی مسکان سجا لی
اممم بتاتا ہوں میں ایک اناونسمینٹ کروں گا ۔۔۔ جس سے ۔۔ تمھیں پتہ چل جائے گا میں بہت خوش ہوں اور ہمیں جینی کو اس بھیڑ میں ڈھونڈنا بھی نہیں پڑے گا ” اسنے سامان اسکے ہاتھ میں تھمایا ۔۔۔ اور آیت کو بنا دیکھے ۔۔ وہ بھاگتا چلا گیا۔۔۔۔۔
اور جتنا دور وہ اس سے جا رہا تھا آیت کے آنسو اسی روانگی سے بہنے لگے ۔۔۔۔
اور سسک سی گئ ۔۔۔۔
مگر لوگ اسکیطرف متوجہ ہوتے اسنے ۔۔۔۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اپنے آنسوں کو بند باندھا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچانک مائیک کی ٹوں ں ں کی کافی تیز سی آواز آئ ۔۔۔
آیت کا دل بیٹھنے لگا اب وہ ۔۔ جینی سے اپنی محبت کا اظہار سرے عام کرے گا ۔۔۔اور جینی دوڑتی ہوئی ادھر آ جائے گی ۔۔۔ اور پھر وہ دونوں ایک دوسرے کے گلے لگ جائیں گے اور ۔۔۔ پھر جینی اسے اپنے ساتھ لے جائے گی ۔۔۔
اور آیت یہیں کھڑی رہ جائے گی ۔۔
کیا اسے یاد آئے گا ۔۔۔ کیا عارض کو یاد رہے گا جینی کے سامنے کے آیت اسکے ساتھ آئ تھی ۔۔۔۔
وہ بے یارو مددگار کھڑی تھی جیسے انسان لوٹ جائے اور بھیڑ میں تنہا ہو جائے ۔۔۔
گڈ مارننگ لیڈیز اینڈ ڈینٹل مین” اسکی آواز ابھری لوگ اسکیطرف متوجہ ہونے لگے ۔۔۔
ایم سوری میں آپ لوگوں کا وقت لے رہا ہوں مگر شاید یہ ضروری تھا ۔۔ اگر میں یہ بات کسی کے سامنے صرف عام لفظوں میں کرتا تو ۔۔ شاید میری محبت ۔۔ کو میرا یقین نہیں آتا ۔۔۔” وہ انگلش میں بول رہا تھا ۔۔۔
آیت کا دل پھڑک ہی گیا ۔۔۔ جیسا اسنے سوچا تھا ویسا ہی ہو رہا تھا ۔۔
وہ لگیج کو سختی سے جکڑ گئ ۔۔
لوگوںیں چیماگویاں کر رہیں تھیں
۔ مگر متوجہ بھی سب تھے ۔۔
اسکا اظہار محبت منفرد سا تھا ۔۔۔
میں آپ لوگوں کا زیادہ وقت نہیں لوں گا ۔۔۔ بس ۔۔۔ میں یہاں کھڑی ایک لیڈی کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ شی از ماہ وائف ۔۔۔۔ ان وائٹ ڈریس ” دھک ۔۔
دھک ۔۔ دھک
تین بار بڑی گھیری سی ہارٹ بیٹ ہوئ تھی ۔۔ لوگوں نے اپنے ارد گرد دیکھا ۔۔۔
از دیس گرل ؟ لوگوں نے اسکو دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔ عارض ” آیت نے گھبرا کر لبوں میں اسکا نام پکارا ۔۔۔۔
ہاں اسی لڑکی نے سفید سوٹ پہنا ہے ۔۔۔۔ اسی کا شوہر بول رہا ہے ۔۔۔ “لوگ انگلش میں گفتگو کرنے لگے وہ ۔۔۔۔ کنفیوز تھی بہت ۔۔۔
یس شی از مائ وائف ۔۔۔۔
اینڈ ۔۔۔۔۔ میں اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔
میں اسے بتانا چاہتا ہوں کہ ۔۔۔ گزشتہ چوبیس گھنٹے ۔۔۔ میں میں نے یہ جانا ہے کہ ۔۔۔۔ درحقیقت ۔۔۔ مجھے صرف آیت سے محبت ہے ۔۔۔
آیت کے وجود میں چھپے اپنے بچے سے محبت ہے ۔۔۔
باقی سب محبتیں عارضی ہیں ۔۔۔۔۔ “
وہ مظبوط لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔ آیت تو زمین میں بیٹھتی چلی گئ ۔۔۔
ہے گرل ڈونٹ بی سیڈ پلیز ” وہ شاید اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
لوگوں نے ۔۔۔ ہنس کر تالیاں بجانے شروع کر دیں
اوہ شی از ٹو لکی” لوگوں کے ریمارکس تھے ۔۔
جبکہ آیت کو لگا وہ ساکت ہو گئ ہے ۔۔۔ وہ گھیرے شاکڈ میں تھی ۔۔۔۔
آئ نو میں نے تمھیں بہت تکلیفیں دیں ہیں ۔۔۔ مگر تم سے جدا کا جب سے ارادہ کیا ۔۔ تب سے دوگناہ تکلیف میں رہنے لگا تھا ۔۔ میں نہیں جانتا تھا میں زندگی میں تم سے کبھی ۔۔۔ اس طرح اظہار کروں گا ۔۔۔۔
مگر شاید ۔۔ ہم لوگوں سے بہتر پلینگ اللہ کرتا ہے ۔۔۔۔
میرا ہر پلین ۔۔۔۔ ختم ہو گیا بے کار گیا ۔۔ضائع ہو گیا ۔۔۔
تم نے کہا تمھاری محبت میں وہ اثر نہیں تھا ۔۔۔۔
مگر میں تمھیں بس ایک بات کہو گا ۔۔۔۔
محبت کے لیے ایک لمہہ ہی کافی ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور میرے لیے ۔۔۔۔ پیچھلے دو دن کافی تھے ۔۔۔۔۔ شاید یہ محبت چھپی ہوئ تھی یہ واضح تھی میں اپنی دھن میں سمھجا نہیں ۔۔۔
مگر میں تمھارا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑو گا آیت ۔۔۔۔
نہ تمھیں کبھی ڈر لگنے دوں گا ۔۔۔۔ کیا تم میری محبت پر یقین کرو گی ؟؟؟”‘”
آیت کے پاس الفاظ نہیں تھے بولتی بھی تو کیا ۔۔۔
ام م تھینکیو ۔۔ آئ تھینک میری بیوی زیادہ ہی شاکڈ میں چلی گئ ہے ” وہ ہنسا دلکشی سے ۔۔۔
آیت کو سنائ دیا تھا ۔۔۔ اور اسکے بعد ۔۔۔۔ لوگ اسکے گرد سے ہٹنے لگ گئے ۔۔۔۔۔
مگر کچھ لوگ ابھی تک اس شخص کے باہر نکلنے کا انتظار کر رہے تھے جو کہ ۔۔۔۔ بول رہا تھا ۔۔
عارض دوڑتا ہوا باہر آیا ۔۔ تو لوگوں نے اسکو دیکھ کر تالیاں بجائ ۔۔
عارض مسکراتا ہوا آیت تک پہنچا ۔۔۔۔۔
وہ زمین میں بیٹھی تھی ۔۔۔ آنکھیں ساکت تھیں
۔
آیت ۔۔۔” اسنے اسکے پاس بیٹھ کر اسکو پکارہ ہی تھا کہ ۔۔۔ آیت نے تھپڑ اسکے منہ پر مار دیا ۔۔۔۔۔
اوہ ہ ہ ہ ” ایکدم وہاں قہقہے اٹھے تھے ۔۔۔
جبکہ عارض ۔۔۔ کا منہ اووو کی شکل میں بدل گیا ۔۔۔۔
آیت اسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
یو ڈیزرو ” وہ بولی ۔۔
آئ ڈیزرو “عارض نے ڈھٹائی سے آنکھ ماری ۔۔
آہ ہ ہ یہ سب اتنا آسان نہیں تھا ” وہ بھیگے لہجے میں بولی ۔۔
اچھا یہاں سے اٹھو ۔۔۔۔” عارض نے کہا تو وہ اسکا ہاتھ جھٹکتے اٹھی ۔۔
برو آئ تھینک ۔۔ تمھیں اور محنت کرنی ہو گی ” ایک لڑکی انگلش میں بولی تو ۔۔عارض نے بے چارگی سے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
اور آیت کے قدموں میں تو اتنی جان نہ جانے کہاں سے آ گئ تھی وہ سامان سارا وہیں پھینک کر ۔۔ وہاں سے جانے لگی باہر کیطرف جبکہ عارض نے سامان سمیٹا اور اسکی طرف بھاگا ۔۔۔۔
یار بات تو سن لو ۔۔”
میری جان دو دن سے ۔۔۔ موت پر تھی ” وہ چلائ ۔۔۔۔
آ۔۔آیت کم ڈاؤن پلیز ” عارض نے کہا ۔۔۔۔۔
جبکہ آیت نے اسکو جھٹک دیا ۔۔۔۔
اور ہاتھ بندھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔۔
نہ جانے کیسے عجیب سا احساس تھا وہ سمھجہ نہیں پا رہی تھی خوش ہو ۔۔۔ یہ روئے ۔۔
ہنسے یہ ۔۔۔ اسکے سینے سے لگ جائے ۔۔
اسپر غصہ کرے ۔۔ یہ ہر گزرے لمہے کی تکلیف سے اسے آگاہ کر کے روئے ۔۔ وہ کرے کیا آخر ایکدم وہ اسکا ہو گیا تھا بلکل اچانک ۔۔۔
یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ منہ موڑے کھڑی تھی ۔۔۔
آپ مسٹر عارض مرتضی ہیں” اچانک ایک لڑکی کی آواز پر دونوں پلٹے ۔۔
جینی اسکو دیکھ رہی تھی مسکرا کر ۔۔۔
آیت جبکہ جینی کو دیکھ کر حیران ہوئ ۔۔۔۔
عارض البتہ ابھی کچھ بولتا کہ ۔۔جینی اسکے گلے سے لگنے لگی اور آیت نے اسکو دور جھٹکا ۔۔۔
یہ میرے شوہر ہیں ” وہ پھاڑ کھانے کو دوڑی ۔۔۔۔
واٹ” جینی نے عارض کیطرف دیکھا ۔۔۔
ویسے میں انکا ہی شوہر ہوں ” وہ معصومیت سے بتانے لگا ۔۔ نہ جانے کیوں اتنی خوشی اسے بھی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
اور ” جینی بولتی کہ آیت نے ہاتھ اٹھایا ۔۔۔۔
تمھیں میں اتنی مار ماروں گی کہ نانی دادی یاد آ جائے گی سمھجی ۔۔۔
تمھاری وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی ہے میں نے ۔۔۔۔ کالی بندری” وہ اسپر جھپٹی ۔۔ کہ عارض نے اسے جلدی سے پکڑ لیا ۔۔۔
آیت ۔۔۔ “
میں بات کروں گی ” وہ گھور کر بولی ۔۔
اس میں کچھ دیر پہلے آواز بھی نہیں تھی” عراض نے دل میں سوچا اور شانے آچکا کر ۔۔ایکطرف ہو گیا ۔۔۔
جب تمھارا دل بھر جائے ۔۔۔ توا جانا “
کیا اب بھی یہاں کھڑی ہو گی ۔۔” آیت بولی ۔۔
یو چیپ پاکستانی گرل”
ہاں میں چیپ ہوں ۔۔اور وہ شخص ماہا چیپ ہے ۔۔ تمھارا کوئ گزرا نہیں ہو گا اسکے ساتھ سمھجا سائیکو ہے راتوں میں مارتا بھی ہے ” اپنی ہنسی دباتے عارض نے ۔۔۔ وہ سب بکواس سنی تھی ۔۔ نہ جانے اسے پرواہ نہیں ہوئ تھی ۔۔۔ کیوں ۔۔۔
شاید تب سے جب سے جینی نے اسے ۔۔۔بیس کروڑ ساتھ لانے کا کہا تھا ۔۔
وہ اس وقت سے سوچ میں پڑ گیا کہ اسے میری ضرورت ہے کہ پیسے کی ۔۔۔۔
ہاں وہ پہلے بھی منگاتی رہی تھی مگر ۔۔۔ عارض سے کبھی اتنی بڑی رقم کا مطالبہ نہیں کیا ور آخری بات میں اسنے یہ کہا کہ جب اسکے پاس یہ پیسے ہوں گے تبھی وہ اس سے شادی کرے گی ۔۔۔۔
عارض ” جینی اسکیطرف بڑھتی ۔۔۔ کہ ۔۔ آیت نے اسکے بال جکڑ لیے ۔۔
کیسی ڈھیٹ تھی یہ لڑکی ۔۔۔
عارض جلدی سے اسکے پاس بھاگا ۔۔
بیوقوف لڑکی ۔۔ پولیس میں پھنسو گی آتے ساتھ ہی ” اسنے اسے اس سے الگ کیا ۔۔۔
تو اس سے کہیں یہ آج کے بعد کبھی آپکے پاس نہیں آئے گی” وہ بھیگے لہجے میں اسکیطرف اس بھری نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔
عارض نے اسکا چہرہ دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا ۔۔۔۔
اب مجھے کوئ نہیں ہلا سکتا ۔۔۔۔ کوئ نہیں مطلب کوئ نہیں” اسنے اسے یقین دلایا ۔۔۔۔
اور جینی کیطرف دیکھا ۔۔۔
سوری ” بس اتنا کہہ کر وہ آیت کے شانے پر ہاتھ رکھ کر ۔۔۔ اور سامان لے کر وہاں سے گاڑی میں سوار ہو گیا ۔۔۔
جبکہ اسکے وہاں سے جاتے ہی جینی نے مکہ ہتھیلی پر مارا اور اپنے بال درست کیے ۔۔۔
نکل گیا ہاتھ سے اچھے بھلے پیسے آتے رہتے تھے” وہ سر جھٹک کر بولی ۔۔۔۔
اور خود بھی وہاں سے چلی گئ ۔۔۔