Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

عارض وہ پریگنینٹ ہے ہوش کے ناخون لو ” غصے سے مدیھا نے اسکو شانوں سے جھنجھوڑا تھا ۔۔۔۔۔
تو میں کیا کروں پہلی عورت ہے جو ماں بنے گی ۔۔اس سے کہیں دفع کرے اپنی شکل یہاں سے ” وہ غصے سے دھاڑا ۔۔۔۔ وجود میں اسکی صورت دیکھتے ہی چنگاریاں دوڑ جاتیں تھیں ۔۔۔۔
اور تماشہ لگواو اپنا ۔۔۔۔ وہ صرف نکاح میں تھی تمھارے اور تم نے جو اسکے ساتھ کیا ہے اگر ۔۔۔ گھر میں کسی کو بھی پتہ لگ گیا ۔۔۔ تو تمھاری جان لے لیں گے” اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکی آواز دباتیں وہ گھبرائ ہوئ لگ رہیں تھیں ۔۔۔۔۔
جبکہ کمرے میں ایک وجود کی سسکیاں بھی گونج رہی۔ تھیں ۔۔۔
تو میں نے کہا تھا میرے ارمانوں پر اسکو بیٹھا دو ۔۔۔ میں نے کہا تھا میرا نکاح اس سے کرواو ۔۔۔ میں اسکے ساتھ اس سے بھی زیادہ برا کروں گا ” وہ چلایا ۔۔۔ جبکہ مدیھا نے اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا ۔۔۔۔
عارض نے سرخ نظروں سے ماں کو دیکھا ۔۔۔۔۔
تمھارے باپ کا فیصلہ تھا یہ ۔۔۔۔ اسکے مگر ہو جاؤ جا کر ۔۔۔ کیوں اسکی جان کے دشمن بن گئے ہو ۔۔۔” مدیھا غصےسے بولیں ۔۔۔۔
آپ جائیں ” عارض نے ضبط سے کہا ۔۔۔ جبکہ پینک شلوار قمیض میں ۔۔۔ دیوار سے چیپکی آیت کو اسنے پھنکارتے ہوئے دیکھا تھا ۔۔۔۔
انھوں نے افسردگی سے پہلے آیت کو اور پھر عارض کو دیکھا ۔۔۔۔
عارض کیا تھا یہ تو سب ہی جانتے تھے ۔۔۔۔
آیت کی غلطی بس یہ تھی کہ وہ اس سے محبت کرتی تھی ۔۔۔۔ اور اس محبت نے آج اسے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا ۔۔۔ وہ کیسے اس جائز بچے کو چھپاتی جسے اسکے ہی باپ نے گناہ بنا دیا تھا ۔۔
چلو آیت ” مدیھا نے آیت کا ہاتھ تھامہ جو پتے کیطرح کانپ رہی تھی ۔۔۔
عارض نے نگاہ پھیر لی وہ کچھ لمہے اور دیکھتا تو ۔۔ شاید اس کا قتل کر دیتا ۔۔۔۔
وہ بھڑک کر اٹھتا ۔۔۔ واشروم میں چلا گیا ۔۔۔
کیوں آتی ہو اسکے کمرے میں ۔۔۔ تم جانتی بھی ہو ۔۔۔ یہ سب کیا ہے ۔۔۔ اور اسکا کیا انجام ہو گا ۔۔۔۔” مدیھا کی آنکھوں۔ میں اسکو دیکھ کر آنسو تیر گئے تھے ۔۔
تائ امی مجھے بچا لیں ” وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔انکے سینے میں چہرہ چھپا کر وہ بری طرح روئ تھی مدیھا نے ارد گرد دیکھا ۔۔۔۔
اس وقت سب سو رہے تھے کوئ جاگ جاتا اور ۔۔ ان دونوں کو دیکھ لیتا تو کیا بنتی ۔۔۔ انھیں سب سے زیادہ اپنے شوہر کا ڈر تھا ۔۔۔
وہ آیت کو لے کر اسکے روم میں داخل ہوئیں ۔۔۔ جو کے سیڑھیاں اتر کر دوسری طرف تھا ۔۔۔۔ آیت کی امی کا انتقال ہو جانے کے باعث وہ مدیھا سے بہت قریب تھی ۔۔ جبکہ آفتاب (آیت کے والد) انھوں نے دوسری شادی کر لی تھی اور اپنے بیوی بچوں میں مگن ہو گئے تھے ۔۔ آیت کا سب ہی خیال رکھتے تھے خاص کر ۔۔۔ مرتضیٰ (عارض کے والد) کبیر ‘ سالار اور یہاں تک کے
زین بھی اسکا بہت خیال رکھتا تھا سوائے عارض کے سب ہی گھر میں اسکے لیے حساس تھے ۔۔۔ مدیھا نے اسکے آنسو صاف کیے ۔۔
اسکے کمرے میں مت جایا کرو ” اسنے پیار سے کہا ۔۔۔ سرخ سفید رنگت اور اسپر حیا کے رنگوں سے لبریز وہ لڑکی کسی کی بھی پسند بن سکتی تھی ۔۔۔۔
مگر عارض کو اس سے بے حد نفرت تھی ۔۔۔
اور کہیں بھی وہ اپنی غلطی اسکے ساتھ غلط کر کے نہیں مانتا تھا ۔۔۔۔
اسے امریکہ جانا تھا ۔۔۔۔ پاکستان سے وہ ہمیشہ کے لیے چلے جانا چاہتا تھا ۔۔۔
وجہ جینی تھی اسکی گرلفرینڈ ۔۔
جس نے اسکا اتنا دماغ خراب کر دیا تھا کہ عارض سب چھوڑ دینا چاہتا تھا اسکے لیے یہاں تک کے کئ بار ۔۔۔ کبیر سے وہ پیٹا بھی تھا
۔۔ وجہ چوری تھی ۔۔۔ کاروبار میں سے بڑی رقم نکلوا کر ۔۔۔ جینی کو سینڈ کرتے ہوئے وہ پکڑا گیا تھا ۔۔اور کبیر جو حد سے زیادہ غصے کا تیز تھا ۔۔۔ اسنے بنا کسی لحاظ سے اسکو پیٹ دیا تھا ۔۔۔ یہ تو سالار اس دن ہی گھر آیا تھا ۔۔تو عارض کی بچت ہوئ تھی ورنہ ۔۔۔ شاید ہی کوئ اسکو کبیر سے بچا پاتا ۔۔۔۔
اور پھر سب کی اتفاق رائے ۔۔ سے عارض کا نکاح آیت سے کرا دیا گیا تھا ۔۔۔۔
جس پر عارض نے بہت واویلا کیا تھا مگر بڑے بھیا یعنی کبیر کی وجہ سے اسے اس رشتے میں بندھنا پڑا ۔۔اور اس سے ساری لگزریز بھی لے لیں گئ تھیں عارض ہی واحد شخص تھا جاگیر ہاؤس کا ۔۔۔ جس کے پاس نہ گاڑی تھی اور نہ کوئ بائک اسے جب ایسی چیزوں کی ضرورت ہوتی تو کبیر کے پاس جانا پڑتا تھا ۔۔ جو کہ اسکی جان اپنی آنکھوں سے ہی کھینچ لیتا تھا ۔۔۔
سب ہی کبیر سے ڈرتے تھے ۔۔۔۔
انھوں نے خود بلایا تھا ” آیت نےانسو صاف کیے ۔۔
مدیھا نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔
اور تم پاگل ہو چل پڑتی ہو اسکے بلاوے پر ” وہ زرا خفا ہوئیں ۔۔۔۔
ور ورنہ وہ یہاں ا جاتے ” اسنے جیسےا سے عارض کیطرف سے دی جانے والی دھمکی سے آگاہ کیا تھا ۔۔۔
مدیھا خاموش ہو گئ وہ لڑکا اتنا ضدی تھا کہ ۔۔۔ ناک میں دم دے دیا تھا ۔۔ ویسے تو اسکے چارو ہی بیٹے ۔۔ ضد میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے ۔۔۔ بلکل اپنے باپ پر گئے تھے ۔۔۔۔
تم ریسٹ کرو اب رونا مت” مدیھا نے اسکو لیٹنے کا اشارہ کیا ۔۔ جبکہ ا یت نے سر نفی میں ہلا دیا ۔۔۔۔
تائ امی ۔۔۔ سب میرے بارے میں کیا سوچیں گے” وہ سسکی تھی ۔۔۔
مدیھا نے اسکو گلے سے لگا لیا ۔۔۔
کوئ کچھ نہیں سوچے گا اس بات کو خود ہی چھپا لو مجھ سے جہاں تک ہو سکے گا میں ۔۔۔۔ اس سب کو ٹھیک کرنے کی کوشش کروں گی اور اس کا ایک ہی حل ہے کہ تمھاری رخصتی کر دی جائے” وہ مدھم آواز میں بولیں ۔۔
نہیں تائ امی پلیز ۔۔۔ ایسامت کریں ۔۔۔” وہ انکے ہاتھ تھامے رونے لگی جبکہ مدیھا کو شدید افسوس ہوا تھا آج اپنی تربیت پر ۔۔۔۔
آیت ۔۔۔ اب رونا نہیں میرا بچہ بچے پر اثر پڑتا ہے ” وہ بولیں تو آیت سسکنے لگی ۔۔۔۔
کچھ نہیں ہو گا تم فکر مت کرو ۔۔۔” انھوں نے پیار سے کہا ۔۔۔
اور اسکے پاس سے اٹھیں ۔۔۔ میں عمل کے ہاتھ کچھ کھانے کو بھجواتی ہوں ” وہ بولیں اور اسکی پیشانی چوم کر وہاں سے چلی گئیں ۔۔۔
جبکہ انکے نکلتے ہی ۔۔۔ آیت نے جلدی سے روم لوک کر لیا تھا ۔۔۔ پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ۔۔۔ وہ زمین پر بیٹھتی چلی گئ وہ رات جو اس سے اسکی عزت چھین لے گئ تھی اسکی آنکھوں کے آگے گھومنے لگی ۔۔
ایک محبت کی اتنی بڑی سزا ۔۔۔۔۔
سسکیوں نے اس کمرے میں اسکی بے بسی کی وضاحت کی تھی ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پریشے کالج یونیفارم میں ریڈی بیگ ابھی اٹھا ہی رہی تھی ۔۔۔ کہ سیل فون رنگ ہوا اسکی دوست کا میسیج تھا وہ سیل فون دیکھ کر مسکرائ اور وہیں سیل پھینک کر باہر آ گئ
اسلام علیکم بڑے بھیا ” کبیر کو بھی روم سے نکلتے دیکھ اسنے سلام کیا ۔۔
وعلیکم السلام ” کبیر نے جواب دیا چہرہ سنجیدہ تھا ۔۔۔۔اور اسکے آگے سے گزر گیا ۔۔۔۔
پریشے اسکے پیچھے پیچھے ہی تھی ۔۔۔
زیمل بھی جلدی جلدی باہر نکلی ۔۔۔
پریشے تم کالج چل رہی ہو ” عمل نے پوچھا تو اسنے سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
تمھیں تو بخار تھا ۔۔” عمل نے ناشتے کی ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے کہا ۔۔۔
ہم اب طبعیت ٹھیک ہے بس اسی لیے “پریشے نے کہا تو
وہ مسکرا کر ناشتہ کرنے لگی ۔۔۔۔
زین نہیں اٹھا ۔۔۔۔ “
اسلام علیکم چاچو ” سب نے کوس میں ۔۔۔ وجاہت کو دیکھا ۔۔۔ جو زین کے بارے میں بیٹھنے سے پہلے پوچھ رہے تھے ۔۔۔
زین اتنی جلدی کہاں اٹھے گا ” عمل نے منہ بنایا ۔۔۔۔
آج بڑے بھیا اسکی ۔۔۔ میٹینگ ہے پیرینٹس ٹیچر سالار بھیا تو ہیں نہیں عارض بھیا جاتے نہیں تو بڑے پاپا جائیں گے کیا ” عمل نے جان بوجھ کر یہ زکر چھیڑا تھا ۔۔۔ پریشے نے اپنی ہنسی دبائ تھی ۔۔۔۔
ہم مجھے پتہ ہے ۔۔۔اور میرا ہی جانے کا ارادہ ہے ” کبیر نے مصروف سے انداز میں کہا ۔۔ تو دونوں نے شرارتی نظروں سے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔
آیت کو بھی بلا کر لاؤ ” کبیر نے ان دونوں کی کھی کھی کیطرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا ۔۔۔
میں لاتی ہوں ” پریشے ہاتھ جھاڑتی اٹھ گئ ۔۔۔
مرتضیٰ بھائ کی طبعیت ٹھیک ہے بھابھی” مدیھا سے وجاہت نے پوچھا ۔۔۔
ہمم ٹھیک ہے انکی طبعیت رات دیر تک کام کرتے رہے ہیں کبیر اور اسکے بابا ۔۔۔ بس اسی لیے شاید انھیں دیر ہو گئ” انھوں نے کبیر کے آگے ناشتہ رکھا ۔۔ جس نے نیوز پیپر بند کیا تھا وجاہت نے سر ہلایا ۔۔
صوفیہ اسکے آگے ناشتہ رکھ رہی تھی ۔۔وہ بھی ناشتے کی جانب متوجہ ہوئے ۔۔ وجاہت کے بچے نہیں تھے اور انھیں زین سے بے حد لگاؤ تھا ۔۔۔۔
سب بچوں میں سے ۔۔۔۔
سکندر اور شہاب کے ساتھ مرتضی صاحب بھی ناشتے کی ٹیبل پر ا گئے ۔۔۔
جبکہ سکندر کی بیگم افشین جو روز انھیں کے ساتھ آتی تھیں اور انکی ایک بیٹی اور بیٹا ۔۔ رمشہ گھر میں سب سے چھوٹی تھی ۔۔۔ جبکہ عدیل زہنی مریض تھا ۔۔۔ پچیس سال کا ہونے کے باوجود اسکے لاکھ علاج ہونے کے باوجود بھی وہ زہنی بیمار تھا اور اکثر اسکو سب نے پاگل کھانے بھیج دینے کا تجزیہ کیا تھا ۔۔۔ مگر افشین کی ضد پر گھر میں اسے الگ حصے میں رکھا جاتا تھا ۔۔۔ اور تقریبا سب ہی اس سے دور رہتے تھے خود افشین بھی ۔۔۔ مگر بیٹے کی روز بگڑتی حالت دیکھ کر اسنے اسکی شادی کا فیصلہ کیا ۔۔ کہ شاید ۔۔ کوئ لڑکی ا کر اسکو سمبھال لے ۔۔ اور جب اسنے سکندر سے اس بارے میں ڈسکس کیا تو وہ خفا ہوئے مگر افشین کی ضد کے آگے کسی کی نہ چل سکی ۔۔۔ اور اسطرح زیمل جو کہ غریب گھرانے کی لڑکی تھی مگر اتنی خوبصورت تھی ۔۔۔ کہ سب اسکے ماں باپ کے اس رشتے پر مان جانے پر حیران تھے ۔۔۔ اس سے عدیل کی شادی کر دی گئ ۔۔۔ وہ عدیل کے ساتھ عدیل کے کمرے میں ہی پائ جاتی تھی ۔۔ ان کے پاس کوئ بھی نہیں جاتا تھا خاص میڈز تھیں جو انھیں کھانا پہنچا دیتی تھیں ۔۔۔
زیمل کیسی تھی ایک پاگل انسان کے ساتھ کوئ نہیں جانتا تھا یہاں تک کے ۔۔ اسکے خاندان میں سے بھی کوئ نہیں آتا تھا ۔۔۔
اور اس انوکھی شادی میں سب ہی شامل تھے سوائے سالار کے وہ اکثر اپنے پرفیشن کی وجہ سے گھر سے باہر ہی رہتا تھا ۔۔جبکہ شہاب کی دو بیٹیاں تھیں ۔۔۔ پریشے اورعمل ۔۔۔
تنزیلہ نے کچن میں سے شہاب کو ٹیبل پر دیکھا تو جلدی سے ۔۔۔ انکےا گے کھانا لگایا طبیعت کے لحاظ سے وہ بلکل کبیر جیسے تھے ۔۔سب ناشتہ کر رہے تھے ہلکی پھلکی باتیں بھی جاری تھیں ۔۔ پریشے آیت کو بھی لےا ئ تھی ۔۔۔
وہ چپ چاپ ٹیبل پر بیٹھ گئ سب نے اسکی سرخ سوجی آنکھوں کو دیکھا تھا حیرت سے ۔۔
کیا ہوا ہے بیٹا ” مرتضیٰ نے سب سے پہلے پوچھا یہ ہی سوال سب کے منہ پر تھا ۔۔۔
کچھ کچھ نہیں تایا ابو ” وہ جلدی سے مسکرا کر بولی ۔۔۔ تو مرتضیٰ بھی مسکرا دیے ۔۔۔
عارض اور سالار کہاں ہیں” مرتضیٰ نے اپنی بیوی کیطرف دیکھا ۔۔۔
سالار تو گھر آیا ہی نہیں تھا رات میں ۔۔اور عارض اپنے کمرے میں ہے” وہ بولیں ۔۔۔
فون لگاؤ اس لڑکے کو ۔۔۔۔ جب سے یہ گھٹیا شوق اسکے پیچھے لگا ہے گھر سے غائب رہتا ہے” وہ زرا غصے سے بولے ۔۔۔ تو کبیر نے سالار کو کال ملائ جس کا نمبر اٹھ نہیں رہا تھا ۔۔۔۔
عارض کے بارے میں البتہ انھوں نے کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔
سب اپنی اپنی جگہ جانے کے لیےاٹھے تو تبھی زین دوڑتا ہوا سیڑھیوں سے نیچے اترا ۔۔ جلدی سے ۔۔ جوس پیا اور وجاہت کے پاس آیا ۔۔
چاچو میری میٹینگ آپ اٹینڈ کریں گے ۔۔ سالار بھیا تو ہیں نہیں” وہ بولا ۔۔۔ تو وجاہت مسکرا کر کچھ بولتا ۔۔۔
کہ کبیر نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
میں چلو گا چلو ا جاؤ ” وہ بولا اور اسے کھینچ کر باہر لے آیا ۔۔
ہائے بڑا مزاہ آنے والا ہے” پریشے اور عمل اپنی ہنسی روکتی۔ خود بھی باہر بھاگیں ۔۔۔۔
جبکہ باقی سب پیچھے مسکرا دیے تھے ۔۔
ب۔۔ بڑے بھیا آپ کیوں زحمت کر رہے ہیں” زین کی جان بھی سسک اٹھی تھی ۔۔
کیوں میرے ساتھ کیا مسلہ ہے سالار جا سکتا ہے تو میرے جانے سے کیا ہو جائے گا ” کبیر پراڈو میں بیٹھا ۔۔ اور دونوں لڑکیاں بھی جلدی سے بیٹھ گئیں ۔۔۔
زین کو چکر ا رہے تھے ۔۔۔۔
وہ چار نچار گاڑی میں سوار ہو گیا ۔۔۔۔
رونے والی شکل ہو رہی تھی ۔۔۔ پندرہ منٹ کی ڈرائیو کے بعد ۔۔۔۔ انکا کالج ا گیا تھا ۔۔۔۔۔
تینوں لڑکیاں کبیر کو خدا حافظ کہہ کر چلی گئیں تھیں البتہ زین بھانے سوچ رہا تھا کہ کیا ہو ایسا کہ کبیر ۔۔۔ اندر نہ جائے کبیر نے تیوری ڈالی اسکودیکھا ۔۔۔
ا جائیں بھیا ” وہ مسکرایا پھیکا سا ۔۔۔ سانس تو پھول گئے تھے کبیر گاڑی سے اترا ۔۔۔
اور کالج میں داخل ہوا ۔۔۔۔
زین بھی سر جھکائے اسکے پیچھے داخل ہوا ۔۔
اسلام علیکم بوس ” اچانک ایک لڑکا اپنی عینک درست کرتا زین کے قریب آیا ۔۔ ماتھے تک ہاتھ لے جاتا ۔۔وہ بولا ۔۔۔کبیر نے حیرت سے اسکو اور پھر زین کو دیکھا ۔۔ زین کا چہرہ البتہ پھیکا پڑ گیا تھا ۔۔
اوہ یار ۔۔۔ کیسے ہو ب۔۔۔بوس ” وہ ہنستا ہوا بولا ۔۔۔
وہ لڑکا اسکے بوس کہنے پر حونک ہوا ۔۔۔
یہ سب کیا ہے” کبیر نے غصے سے پوچھا ۔۔۔
بھیا ۔۔۔ ہم سب دوست ایک دوسرے کو بوس کہتے ہیں” وہ مسکرایا ۔۔۔
کبیر نے سر جھٹکا اور اندر جانے لگا ۔۔۔۔
زین اس لڑکے کو پرے دھکیل کر کبیر کے پیچھے بھاگا ۔۔۔۔ تھا ۔
کبیر سٹاف روم میں داخل ہوا ۔۔۔۔ زین کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔
ب
۔۔ بھیا ” وہ ایکدم بولا ۔۔۔ کبیر نے مڑ کر اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
وہ ایکچلی میرے ٹیچرز اس روم میں نہیں ہیں آپ یہاں ویٹ کریں میں ابھی روم نمبر پتہ کر کے آتا ہوں ” زین نے اسے وی آئ پی روم میں بیٹھایا ۔۔۔
اور وہاں سے فورا بھاگا تھا ۔۔۔۔
وہ بھگتا ہوا کنٹین کیطرف آیا ۔۔۔۔
اور اپنے دوستوں کے بیچ ا کر سانس لیا ۔۔
کنٹین میں سب نے اسے سلام کیا تھا اور اسے اس وقت کسی چیز کی غرض نہیں تھی سوائے اسکے کے کبیر کو کسی طرح یہاں سے نکالا جائے ورنہ جو اسکے حالات تھے اسکے ٹیچرز کبیر کو سب بتا کر ۔۔۔۔ اسکی عزت کر دیتے ۔۔
کیا ہوا ہم تمھارا کب سے انتظار کر رہے تھے” اسکے ایک دوست نے پوچھا ۔۔۔
یارو ۔۔۔ گیا میں تو سیریسلی ” زین نے پریشانی سے فریزر کھولا اور بنا
پے کیے ۔۔ اسنے کوک کا کین نکال کر منہ سے لگایا تھا ۔۔۔
ایش گیرے آنکھوں میں بے حد پریشانی تھی ۔۔
ہو اکیا ہے” اسنے کاؤنٹر پر کین پھینکا ۔۔۔
بڑے بھیا آئے ہیں میٹینگ اٹینڈ کرنے” زین بے چارگی سے بولا ۔۔
واٹ ” سب حیران ہوئے ۔۔۔
مگر تمھاری میٹینگ تو تمھارے سالار بھیا لینے آتے ہیں میں تو ایک آٹو گراف لینا چاہتی تھی ہی از سو ہینڈسم ۔۔۔” ان میں سے ایک لڑکی بولی ۔۔۔ جبکہ منہ بھی بسورا تھا سالار کے نہ آنے پر
یار وہ شہر سے باہر ہیں” زین نے بالوں میں ہاتھ پھیرہ ۔۔۔
یہ تو واقعی پریشانی کی بات ہے” دوسری طرف سے آواز آئ ۔۔۔
زین نے پسینہ صاف کیا ۔۔۔۔ اور جیب میں سے سرخ رومال نکال کر ماتھے پر باندھ لیا اس سٹائل میں وہ بہت الگ اور بے حد چارمنگ لگتا تھا ۔۔۔۔
اب کی کیا جائے کیا کیا جائے” وہ ہتھیلی پر مکہ مارتا بولا ۔۔
ایسا کرو کسی طرح انھیں واپس بھیج دو ” ایک دوست نے مشورہ دیا ۔۔۔۔
بہت خوب ۔۔ جاؤ زرا ۔۔ نکال کر آؤ انھیں کالج سے باہر” زین بھڑک کر اس فالتو مشورے پر ۔۔۔۔ رخ موڑ گیا ۔۔۔اصر رخ موڑتے ہی ۔۔۔ سامنے سے آتی لڑکی ۔۔۔۔ کو اسنے ادائے ناز سے دیکھا تھا پل میں ۔۔۔ اسکی آنکھوں کی پریشانی غائب ہوئ تھی ۔۔۔۔
شمش ” وہ منہ میں بڑبڑایا ۔۔۔
مگر اگلہ خیال کبیر کا آتے ہی اسنے شمش پر بعد میں نگاہ ڈالنے کا سوچ کر ۔۔۔۔ کبیر جو کہ ایک مسلہ حل کرنے کی ٹھانی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے گھڑی پر نگاہ دوڑائی ۔۔۔۔ دس منٹ وہ گئے تھے ۔۔۔ زین کو گئے ہوئے اب اسکو غصہ آنا شروع ہو گیا تھا ۔۔۔ وہ اٹھتا کہ اس سے پہلے ہی اسے آواز سنائ دی ۔۔
سر بٹ میرا میریٹ اچھا ہے ۔۔ راحت صاحب نے کہا تھا اچھے میریٹ پر اڈمیشہن مل جائے گا ” جھنجھلائے ہوئ سی خوبصورت آواز پر وہ چوکنا ہوا ۔۔
آواز کھڑکی میں سے ا رہی تھی اسے صرف آواز سنائ دے رہی تھی ۔۔۔ مگر چہرہ نہیں ۔۔۔۔
اسنے سیل فون نکال کر ۔۔۔ یوز کرنا شروع کر دیا ۔۔۔
بٹ نے ے پیسے انھوں نے کہے تھے میں لے آئ ہوں اب آپ مجھ سے اس سے بھی زیادہ مانگ رہیں ہیں جب کہ ۔۔۔ میری فرینڈ کا ابھی اڈمیشن ہوا ہے اسکی اتنی فیس تو نہیں تھی” اب آواز غصے میں بدلی ۔۔۔
ایڈیٹ” اب جیسے بھڑکتی آواز سنائ دی ۔۔۔۔
نہ چاہتے ہوئے بھی وہ جگہ سے اٹھا ۔۔۔ اور کھڑکی کا پردہ ہٹایا ۔۔
سمانے ہی کلرک کا روم تھا ۔۔ جہاں ایک سخت گیر آفیسر بیٹھا تھا ۔۔اور ایک لڑکی جو گاؤن میں تھی ۔۔۔ جھک کر پیپرز اٹھا رہی تھی ۔۔۔
وہ چند لمہے دیکھتا رہا اور پھر وہاں سے ہٹتا ۔۔ کہ وہ لڑکی سیدھی ہوئ ۔۔۔
دیکھ لوں گی میں اس بڈھے کو ۔۔۔”۔ اسنے رخ پھیر کر غصے سے کہا ۔۔۔۔
بلیک گاؤن میں ۔۔۔ سر کو دوپٹے سے ٹھانپے ۔۔۔۔ جو بمشکل ہی ڈھانپ رہا تھا ۔۔۔۔ وہ تیکھی نظروں سے ۔۔۔۔ کلرک کو دیکھ کر بولی تھی ۔۔۔۔
جبکہ کبیر اپنی جگہ ساکت ہو گیا تھا ۔۔۔۔
یہ پہلی بار تھا جو اسکی نگاہ کسی پر ٹھری تھی ورنہ تیس سالہ زندگی میں کئ لوگ اور لڑکیاں جو بے حد حسن رکھتی تھیں اسکے آفیس میں بھی تھیں ۔۔۔ جبکہ اسکے ساتھ بھی کام کرتیں تھیں مگر کبھی کسی پر نگاہ نہیں ٹھری تھی ۔۔۔
لڑکی نے وہ فائلز سینے سے لگائ اور وہاں سے جانے لگی ۔۔ کبیر ہوش م
کی دنیا میں آیا ۔۔۔اور دروازے سے باہر نکلا ۔۔۔۔ وہ اب کوریڈور میں نہیں تھی
اسنے کوریڈور سے نکل کر باہر دیکھا ۔۔۔ تو وہ لڑکی وہںا بھی نہیں ۔۔ تھی ۔۔۔ بلیک گاگلز کو اتار کر وہ دوبارہ ۔۔۔ کلرک ہے پاس آیا ۔۔۔
اس لڑکی کا نام کیا تھا” اسنے پوچھا ۔۔۔۔ لہجہ بے تاب س اتھا ۔۔
کس کا ” کلرک نے اپنی عینک کے پیچھے سے اسکو دیکھا ۔۔۔
کبیر کے ماتھے پر کئ بل ڈلے ۔۔۔۔
وہ جو ابھی یہاں کھڑی تھی” اسنے ضبط سے دوبارہ سوال کیا ۔۔۔
نین” کلرک نے اسکی پرسنلٹی دیکھتے ہوئے ۔۔زرا اسکے روعب میں ا کر جواب دیا ۔۔۔
نین” کبیر نے دوبارہ نام دھرایا ۔۔۔۔
اور مسکرا دیا ۔۔۔
کہاں رہتی ہے” وہ پھر سے پوچھنے لگا ۔۔۔
یہ مجھے نہیں پتہ ۔۔۔ ” کلرک نے ہری جھنڈی دیکھائی ۔۔۔
کہاں رہتی ہے” اسنے پی ٹی کی پوکٹ سے ۔۔ والٹ نکال کر اسکی ٹیبل پر پانچ ہزار کا نوٹ رکھا ۔کلرک مسکرایا ۔۔
صاحب ۔۔ یہ تو مجھے نہیں پتہ مگر یہ اسکے ڈاکیونٹس کی کاپی ہے بس ” وہ بولا ۔۔۔
کبیر نے جلدی سے وہ ڈاکیومنٹ اٹھا کر کھولے ۔۔
نین عباس ” اسنے نام پڑھا اور مسکرا دیا ۔۔۔۔
ڈاکیونٹس کی کاپی کو سختی سے تھام کر دوبارہ گاگلز لگا کر وہ زین کی تلاش میں نکلا ۔۔۔ اور سامنے سے زین آتا دیکھائی دیا ۔۔۔۔
کبیر نے اسکو گھورا ۔۔۔
چلیں بھیا ۔۔۔” اسنے کہا ۔۔۔
اب مسکراہٹ زرا الگ تھی ۔۔
کبیر اسکے برائے گئے روم میں چلا گیا ۔۔ جبکہ زین نے اسکے پیچھے سے سکھ کا سانس لیا ۔۔۔۔
ہاں اسکی ساری پوکٹ مانی تو ختم ہو گئ تھی مگر جان بخشی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ اسنے گھیرہ سانس کھینچا ۔۔۔