Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 30
No Download Link
Rate this Novel
Episode 30
کیا ہوا ہے ” وہ کبیر کی طرف دیکھ کر پوچھنے لگی۔۔۔۔
جبکہ کبیر نے نین کے ہاتھ سے ہاتھ نکال لیا ۔۔
پتہ نہیں صبح سے چکرا رہی ہے ۔۔ میں ڈاکٹر کے پاس لے جا رہا ہوں ” کبیر کچھ بھی نہ سمجھتے ہوئے بولا ۔۔۔
ہاں ہاں بیٹا لے جاؤ ۔۔دیکھو کیسے زرد ہو رہی ہے” مدیھا فکر مند تھی ۔۔۔۔
مجھے کچھ اور لگتا ہے معملہ بھابھی” صوفیہ آگے بڑھی اور نین کے چہرے کو چھوا ۔
مدیھا ایکدم سب سمجھتے ہوئے مسکرائی ۔۔۔۔۔
اور کبیر کیطرف خوشی اور حیرانگی سے دیکھا ۔۔ جبکہ کبیر کہاں کچھ سمجھا تھا ۔۔
آپ کیوں مسکرا رہی ہیں” کبیر انکی معنی خیز ہنسی پر ۔۔۔ انکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔
کچھ نہیں تم آفس جاؤ ۔۔۔ اور میں صوفیہ کے ساتھ نین کو ہوسپیٹل لے جاؤ گی” مدیھا نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا
مما آپ بتائیں گی ۔۔۔کچھ” وہ جھنجھلا گیا پہلے ہی کل سے موڈ خراب تھا ۔۔
مجھے لگتا ہے میرا بیٹا بابا بننے والا ہے” خوشی سے انکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا جبکہ نین نے ایکدم نگاہ اٹھا کر انکی طرف دیکھا کبیر تو سکاٹ کھڑا تھا ۔۔حیرانگی اسکے چہرے سے واضح تھی شاید اسے یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔
واقعی مما ” لبوں میں مسکراہٹ دبائے اسنے نین کو دیکھا ۔۔۔۔
جی ہاں مگر ابھی مجھے ایسا لگتا ہے ڈاکٹر کے پاس جاؤ گی تو ٹھیک سے پتہ چلے گا ۔۔” وہ کہہ کر نین کو چئیر پر بیٹھنے لگی جس کا چہرہ شرم سے خود سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔
تو آپ ابھی چلی جائیں نہ” کبیر بے تابی سے بولا ۔۔لہجے میں خوشی کا عنصر تھا ۔۔۔۔
مدیھا صوفیہ تنزیلہ تینوں ہنسنے لگیں ۔۔
ابھی کوئ ڈاکٹر نہیں بیٹھی ہو گی ۔۔۔۔ ” تنزیلہ نے کہا اسکی بے تابی پر ۔۔ جبکہ کبیر کچھ خفیف سا ہوا ۔۔۔۔
نین کو نظروں میں بھر سا لیا ۔۔۔ جبکہ نین اس سے نگاہ چرانے لگی ۔۔۔
کبیر نے ان تینوں کی وجہ سے نگاہ زبردستی پھیر لی ورنہ دل تو بلکل نہیں تھا ۔۔۔ اسکی دلی خواہش تھی کہ یہ ہی وجہ ہو ۔۔۔۔
وہ پھر سے مسکرا دیا ۔۔اور اخبارچہرے کے آگے لگا لیا ۔۔۔۔۔
تبھی عارض اور آیت بھی نیچے آ گئے
۔۔۔
آو آیت بیٹھو ناشتہ کرو “مدیھا نے اسکو کہا ۔۔
نہیں امی میں نے تو ناشتہ کر لیا ” آیت نے بتایا تو مدیھا نے پھر بھی زبردستی اسے بیٹھا لیا جبکہ عارض ۔۔ چئیر کھینچ کر بیٹھا ۔۔۔ چہرہ سنجیدہ تھا جیسے دھیان بھٹکا ہوا ہو ۔۔۔۔۔
تمھیں اسلم صاحب فائل دیں گے ۔۔۔ اسکو اچھے سے پڑھ لینا کیونکہ ڈیڈ اس پروجیکٹ پر تمھیں اکیلے کو لگانا چاہتے ہیں اور ہو سکتا ہے کچھ دنوں تک تم پنڈی جاؤ ۔۔۔۔ ” کبیر نے اخبار سائیڈ پر رکھا اور عارض کیطرف دیکھا ۔۔
جی بھائ عارض نے فورا کہا ۔۔اور اچانک پھر سے اسکا سیل فون بجنے لگا۔۔۔
اسنے سیل فون نکالا۔۔۔اور سکرین دیکھ کر ۔۔اسنے ۔۔ ایک لمبا سانس لیا دانت پیس کر ۔۔۔۔
جبکہ ارد گرد بھی کن انکھیوں سے دیکھا کہ کوئ دیکھ نہ لے مگر کوئ اسکیطرف متوجہ نہیں تھا۔۔ آیت نین سے بات کر رہی تھیں اور اب ایکدم وہ کافی ایکسائٹیڈ لگ رہی تھی نہ جانے کیوں ۔۔۔عارض کو آواز سنائ دے کر بھی کچھ سمھجہ نہیں آ رہا تھا کبیر بھی ہنس رہا تھا اسکا سیل فون پھر سے بجا تو۔۔۔۔ اسنے کال پیک کر لی ۔۔۔ اور وہاں سے اٹھا ۔۔۔۔ سب باتوں میں مصروف تھے تبھی وہ وہاں سے اٹھ کر لون میں آ گیا ۔۔۔۔
تقریبا بیس منٹ اسنے فون میں گفتگو کی تھی کسی سے ۔۔اور جب اندر سے شور کی آواز بڑھی تو اسنے سیل فون آف کر دیا ۔۔۔۔
جبکہ پیشانی پر تفکر سے بھری لکیریں تھیں جنھیں وہ ہٹاتا اندر داخل ہوا ۔۔اور مسکراتا ہوا چئیر پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
آرام سے بیٹھو ” آیت ایکدم اٹھی تھی جوش سے عارض نے ۔۔ اسکو گھورا کر ٹوکا ۔۔۔۔ اس لڑکی کو اپنی حالت کا احساس تو بلکل نہیں تھا ۔۔
اتنی بڑی خوشی کی خبر ہے میں کیسے آرام سے بیٹھوں” آیت نے کہا ۔۔ توعارض نے سب کیطرف دیکھا۔۔
ٹھیک کہہ رہی ہے آیت اگر یہ خوشی کی خبر پکی ہوئی تو تایا ابو ہم ۔۔ فنکشن کریں گے ہم نے تو ۔۔۔ پہلے آیت کی باری بھی نہیں کیا تھا ” پریشے بولی تو مرتضی مسکرا دیے ۔۔
جبکہ نین کا تو سر ہی نہیں اٹھ رہا تھا کبیر نین کو محبت کو نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
عارض نے سب سمھجتے ہوئے کبیر کیطرف دیکھا ۔۔
اور ایکدم اسکے گلے لگ گیا ۔۔۔
واؤ بھیا” وہ خوشی سے بولا ۔۔
لکھ کر رکھ لیں آج سالار بھیو ۔۔۔۔ کی جان نکلے گی اصل ” وہ مزے سے بولا تو سب کا ایکدم قہقہہ نکلا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدیھا ” مرتضی کی آواز پر بھی جب انھوں نے جواب نہیں دیا تو ۔۔وہ ۔۔ جھنجھلا کر خود ہی اٹھے ۔۔۔ انھوں نے کچھ پروپرٹی کی فائلز مدیھا کو نکالنے کے لیے کہا تھا مگر وہ تو بیٹوں کی خوشی میں شوہر کو بھول چکیں تھیں ۔۔انھوں نے محسوس کیا کہ نیچے ہونے والے شور ہنگامے میں انکی آواز نہیں جائے گی ۔۔۔۔
تبھی انھوں نے ۔۔۔۔ الماری کھولی ۔۔اور فائلز کا ڈرا کھول کر ان میں وہ فائنل تلاشنے لگے۔۔۔
فائیلز کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے
انھیں ہوسپیٹل کی فائیل نظر آئ جس پر آیت کا نام درج تھا۔۔ انکی پیشانی پر لکیریں پڑی
یہ کیا ہے”وہ بڑبڑائے اور اس فائل کو نکال لیا ۔۔۔۔
فائلز ہاتھ میں لے کر وہ آیت کے نام کو غور سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
یہ کس چیز کی فائلز ہے” تفخر کی لکیریں نمایا ہوئیں ۔۔۔اور جیسے ہی انھوں نے فائنل کھولی ۔۔۔۔ تو ڈیٹ پرنگاہ گئ ۔۔۔۔
پانچ مہینے پہلے کی ڈیٹ تھی۔۔ وہ نیچے دیکھتے ہی کہ کیا لکھا ہے کہ مدیھا ۔۔ پیچھے آ گئیں ۔۔۔۔
اورانکے ہاتھ میں آیت کی پریگننسی کی فائلز دیکھ کر ۔۔۔ انکا چہرہ بلکل سفید پڑگیا ۔۔۔
مرتضی نے مدیھا کو دیکھا۔۔
آپ نے یہ کیوں اٹھا لی میں کہہ تو رہی تھی ابھی نکال دیتی ہوں فائلز” وہ ایک پل میں ان تک پہنچی اور انکے ہاتھ سے فائلز جھپٹ لی ۔۔
مرتضی نے سانس کھینچا انکا رویہ عجیب تو لگا مگر ۔۔وہ نظرانداز کر گئے ۔۔۔۔آپ کی بیٹوں کے ساتھ مصروف تھیں ۔۔۔ تو میں نے سوچا خود ہی نکال لوں ” مرتضی پھر سے بیڈ پر بیٹھ گے مدیھا کے ہاتھ کانپ سے رہے تھے انھوں نے فائنل کو دراز میں پھر سے رکھا اور مرتضی کی مانگی گئ فائل انکے ہاتھ میں دی ۔۔
آپ کی طبعیت ٹھیک ہے” مرتضی نے تشویش سے دیکھا ۔۔
جی”مدیھا پھیکا سا ہنسی ۔۔
اچھا ٹھیک ہے چلتا ہوں ۔۔ عارض تو خراب تھا ہی ۔۔ کبیر بھی ساتھ بیٹھا ہے اسکے کیا بنے گا ان لڑکوں کا ” وہ نفی میں سر ہلاتے باہر نکل گئے ۔۔
مدیھا نےاس درازکی جانب دیکھا ۔۔۔۔
وہ فیصلہ کر چکیں تھیں اس فائلز کو وہ اپنے ہاتھوں سے جلا کر راخ کر دیں گی تا کہ یہ ۔۔۔ بات یوں ہی دب جائے ۔۔وہ اگر دیکھ لیتے تو شاید قیامت آ جاتی “
مرتضی کے پکارنے پر وہ دراز کو لوک کرتیں باہر آ گئیں ۔۔۔ جہاں وہ سب اسکا انتظار کر رہے تھے جبکہ زین ۔۔۔۔ بھی کسی کام کے لیے صبح صبح نکل گیا تھا اور دوسری طرف پریشے اور عمل
۔۔ کچھ کلاسز لینے گئیں تھیں ۔۔۔
نین کیطرف مدیھا نے دیکھا تو ۔۔اسکے پاس آ گئ۔ بیٹا تم تھوڑی دیر آرام کر لو پھر ہم ڈاکٹر کے پاس چلیں گے” انھوں نے پیار سے کہا ۔۔ جبکہ نین بھی ۔۔ لیٹنا چاہتی تھی تبھی وہاں سے اٹھ گئ ۔۔۔۔
مدیھا نے آیت کیطرف دیکھا جو ایک بار پھر کھانے کے لیے چیزیں اٹھا رہی تھی شاید وہ کہیں اور بیٹھنے والی تھی وہ مسکرا دیں ۔۔
وہ بلکل نہیں چاہتیں تھیں جو بات وہ بھول گئ ہے اسے اسکو یاد دلایا جائے ۔مشکل سے اس بچی کے چہرے کی خوشیاں لوٹیں تھیں اور اگر مرتضی کو کہیں سے بھی یہ علم ہو جاتا کہ شادی سے پہلے ۔۔ عارض ۔۔۔ نےایت کے ساتھ یہ سب کیا تھا تو ۔۔۔لازمی وہ ایسا کچھ کر جاتے کہ ان سب کے چہروں کی خوشیاں چھن جاتیں تبھی انھوں نے ۔۔ دوبارہ کمرے میں جا کرا س فائلز کو وہاں۔۔۔ سے گم کرنے کی کوشش کی مگر تنزیلہ کے پکارنے پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی وہاں انکے پاس آگئیں ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیملکی آنکھ کھلی ۔۔۔ تو ایکدم وہ ہڑبڑا کر اٹھی ۔۔۔۔۔
ادھر ادھر دیکھا یہاں اب بھی دن نکلنے کے بعد بھی ایسا خواب ناک ماحول تھا کہ دل ہی نہیں کرتا تھا وہ اٹھے ۔۔۔ مگر وہ یہاں نہیں رک سکتی وہ جلدی سے ۔۔ وہاں سے باہر نکلی ۔۔۔
اور جیسے ہی اسنے دروازہ کھولا دوسری طرف سالار کی بھی آنکھ کھولی اسنے مندی مندی آنکھوں سے ۔۔۔ اس سرخ آنچل کو اپنے کمرے سے بھاگتے دیکھا تھا ۔۔۔
اور وہ دوبارہ تکیوں کو ۔۔۔۔ سینے میں بھینچے لیٹ گیا ۔۔
کون تھا یہ” وہ بڑبڑایا ۔۔۔اور ایکدم ۔۔۔۔ جیسے ہوش میں لا کر کسی نے اسے پٹخ دیا ۔۔۔
وہ تیرکی تیزی سے اٹھا مگر بے سود ۔۔ وہ جا چکی تھی ۔۔
کیا واقعی یہاں زیمل تھی ” بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ ۔۔ منہ پر دوسرا ہاتھ رکھے ۔۔ سوچ رہا تھا ۔۔۔
آف ۔۔ اور سو تم سالار مرتضی نیندیں پوری کرو ۔۔ عورتوں کو بھی کم نیند آتی ہو گی جتنی تمھیں آتی ہے ۔” وہ خود کو کوستا ۔۔ سر جھٹک کر شاور لینے چلا گیا ۔۔ جبکہ زیمل سیڑھیوں سے نیچے اتری تو نیچے تو سب تھے۔۔اسکو رونا آیا بےعزتی ہو گی اسکی ۔۔ اگر سب نے دیکھ لیا تو وہ کیا سوچتے اسکے بارے میں ۔۔
مگر سب کی اسکی جانب سے پیٹھ تھی تبھی وہ موقع پاتی آیت کے روم میں جلدی سے گھس گئ ۔۔۔
شکر تھا کسی کی نظراسپر نہیں گئ تھی ۔۔۔
وہ خود بھی شاور لینے چلی گئ ۔۔۔۔ یہاں آیت کے کپڑے موجود تھے وہ آیت کے ہی کپڑے ۔۔ تب سے استعمال کر رہی تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیسے ہیں آپ ” سمیر نے مسکرا کرانکی جانب ہاتھ بڑھایا ۔ جس پر مرتضی نے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔
مجھے لگتا ہے بلکل ٹھیک ٹھاک ہوں گے ۔۔ ایکچلی میں یہ پوچھنے آیا تھا ۔۔ کہ ۔۔ کیوں آپ انکار کر رہے ہیں بار بار ۔۔۔ اس رشتے پر ” سمیر خوش اخلاقی سے بول رہا تھا ۔۔ مگر چہرہ پر مکرو پن صاف دیکھائی دے رہا تھا ۔۔
میرے بیٹے نہیں راضی بیٹا ۔۔۔ اور ویسے بھی ۔۔۔ خاندان سے باہر شادی کرنے پر میرا بھی دل نہیں مانتا” مرتضی نے سہولت سے کہا ۔۔۔
خیر دل تو آپکا راز چھپانے پر بھی ماننا نہیں چاہیے تھا مگر پھر بھی آپ ۔۔۔ اپنے بیٹوں میں سے ۔۔ ایک کی حقیقت کو چھپائے بیٹھے ہیں جبکہ وہ تو بے چارہ خود بھی نہیں جانتا اسکا اصل کیا ہے” سمیر کی بات پر مرتضی کے ہاتھ میں موجود پین ایکدم نیچے گیرہ ۔۔۔
سمیر نے مسکرا کر انکا بھکلانا دیکھا تھا ۔۔۔۔
شاید اب جان گئے ہیں میں کس کی بات کر رہا ہوں ” سمیر ہنس دیا ۔۔۔۔
کیا بکواس ہے یہ ۔۔ کیا بھونکے جا رہے ہو ” وہ ایکدم دھاڑے ۔۔۔
ہاہاہا ” مجھے لگتا ہے تمھارے بیٹے تم پر ہی گئے ہیں ۔۔۔۔۔ مگر ۔۔ تمھارے تو تین بیٹے ہیں بس “سمیر نے آنکھوں کو جنبش دی ۔۔۔
چوتھا بیٹا ۔۔۔” وہ رک گیا جبکہ مرتضی نے ایکدم اٹھ کر ۔۔اسکا گریبان پکڑ لیا ۔۔۔
منہ بند کرو اپنا ۔۔۔۔ اور نکلو یہاں سے اب مجھے سمھجہ آیا ۔۔ کبیر ۔۔۔ تم نے میرے لاکھ کہنے پر بھی ہر بار صرف انکار کیوں کیا “
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر غرا رہے تھے ۔۔۔۔
یہی تو مسلہ ہے تمھیں اپنے بیٹوں پر بڑا یقین ہے ۔۔ تم انکے سارے عیب خود میں چھپا لینا چاہتے ہو جبکہ وہ سب بھی ایک دوسرے میں ایک دوسرے کو چھپانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تمھاری تربیت ۔۔۔ بیت اچھی ہے مگر ۔۔جب یہ بات کھلے گی ۔۔ تو تمھارا گھر ۔۔۔ مٹھی بھری ریت کیطرح ڈھے جائے گا ۔۔۔۔ ” سمیر نے انھیں دور جھٹکا اور اپنا گریبان انکے ہاتھ سے چھڑایا ۔۔۔۔۔
دفع ہو یہاں سے “مرتضی چلائے ۔۔
آ آ آ چلانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ تم بس اس رشتے پر ہامی بھر دو ۔۔۔” وہ ہنسا ۔۔۔۔
جبکہ مرتضی نے گارڈ کو بلانے کے لیے منہ کھولا۔۔ جبکہ سمیراس سے پہلے ہی وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔ جاتے جاتے انپر جتاتی نظریں بھی گاڑھ گیا تھا ۔۔۔۔۔
مرتضی کی سانسیں پھولنے لگیں ۔۔۔۔۔
وہ سر تھام گئے ۔۔۔۔۔
کبیر اپنے کیبن سے نکلا تو۔۔اسنے باہر کیطرف سمیر کو جاتے ہوئے دیکھا ۔۔اسے حیرانگی ہوئ ۔۔۔۔ یہ یہاں کیوں آیا تھا یعنی اب یہ خود مرتضی کو فورس کرنے آیا تھا ۔۔ اسکا دماغ گھوم گیا اسکو سبق سیکھنا ہی ہو گا ۔۔۔
وہ سوچتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگا ۔۔ مگر افسوس وہ وہاں سے جا چکا تھا ۔۔۔۔
وہ دوبارہ اندر کیطرف دوڑا اور مرتضی کے روم میں آیا ۔۔۔
جہاں مرتضی صوفے پر بیٹھے تھے
کبیر انکی طرف بڑھا۔
بابا آپ ٹھیک ہیں” وہ سرخ چہرے سے غصے سے ۔۔ بھنتا سوال کرنے لگا جس پر ۔۔مرتضی نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔
میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔ ” وہ بولے ۔۔
وہ سمیر کیا کرنے آیا تھا ” کبیر کو انکی بات پر یقین نہیں آیا انکا ہاتھ تھام کر بولا ۔۔
کچھ نہیں ۔۔ اسی بات پر زور دینے آیا تھا مگر میں نے صاف انکار کر دیا ” وہ کبیر کا شانہ سہلاتے بولنے لگے ۔
میں اس آدمی کا منہ توڑ دوں گا دوبارہ اسنے یہاں قدم رکھا تو ” وہ غصے سے بولا ۔۔۔
تو مرتضی نے اسکا کندھا تھپکا وہ جا چکا ہے تم بھی اپنے روم میں جاو۔۔کام پر دھیان دو ” مرتضی بولے تو ۔۔۔۔کبیر انکو دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔
بابا آپ واقعی ٹھیک ہیں “وہ پھر سے پوچھنے لگا جس پر مرتض ںے سر ہلا دیا ۔۔۔
تو کبیر کو کچھ تسلی ہوئ اور وہ وہاں سے اٹھا ۔۔۔اسے سالار سے اس بارے میں ڈسکس کرنا چاہیے تھا ۔ وہ سوچتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔جبکہ پیچھے مرتضی نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔
اورانکی ہتھیلی بھیگ گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار کے چہرے کے تاثرات کو سخت سے سخت تر ہوتے ہی جا رہے تھے ۔۔
اگر باباکو کچھ ہوا تو گردن اتار دوں گا”وہ ٹیبل پر ہاتھ مارتا چیخا ۔۔۔
مجھے بھی یہ ہی لگتا ہے ۔۔ اس سمیر کوسبق سیکھایا جائے گا تبھی یہ بازائے گا ” کبیر خود بھڑکا ہوا تھا ۔۔
صوفیہ اورمدیھا نین کو لے کر ڈاکٹر کے پاس گئیں تھیں جبکہ تنزیلہ اپنے کمرے میں تھی ۔۔۔اور آیت بھی ۔۔۔
صرف زیمل تھی وہاں ۔۔۔ جبکہ سالار کا دھیان اسکیطرف بلکل نہیں تھا وہ توکسی بات پر غصے سے آگ بگولہ ہو رہا تھا ۔۔
زیمل اسکا سرخ ہوتا چہرہ دیکھنے لگی ۔۔اور اسکے آگے جھجھکتے ہوئے کافی کا کپ رکھ دیا ۔۔اسکا آپی آئے بھی ایک طرف کھڑا تھا
آپکو دوں ” زیمل نے اس سے پوچھا ۔
اس وقت مجھ سے بات مت کریں” وہ سالار کی جانب دیکھتا بولا ۔۔۔
تو زیمل ایکدم اس سے دور ہو گئ ۔۔۔۔
ٹھیک ہے فلحال چار پانچ دن بعد آؤں گا ۔۔ ڈیڈ کو ۔۔ ابھی مت بتانا کل صبح بتانا کے میں یہاں نہیں ہوں ” سالار بولا ۔۔۔۔
اور یہ دوبارہ آے تو بس ایک کال کر دینا ۔۔۔ اسکو اٹھوا کر ایسی جگہ غائب کراؤں گا دوبارہ دیکھے گا نہیں کسی کو ” بھڑک کر بولا اور فون بند کر دیا ۔۔ فون کو ٹیبل پر پھینکا ۔۔
تمھارے پاس
۔۔۔ قاسم کا نمبر ہے ۔۔”اسنے پی آئے کیطرف دیکھا
جی سر ہے ” پی آئے نے کہا تو اسنے سر ہلا دیا ۔
اور نیچے سر کرکے ناشتہ کرنے لگا ۔۔زیمل ایکطرف کھڑی تھی ۔۔
تم کیوں یوں کھڑی ہو “اسنے گھور کر زیمل کو دیکھا غصے سے شاید دماغ پھیر گیا تھا ۔۔۔ زیمل جھجک کر ادھر ادھر دیکھنے لگی جیسے یہ بات اسکو نہیں کسی اور کو کہی گئ ہو ۔۔۔
سالار نے ضبط سے اسکو دیکھا ۔۔۔
میرے سامنے بیٹھ جاؤ ” وہ بولا ۔۔۔
نہیں مجھے ناشتہ نہیں کرنا ” زیمل گھبرا کر انکار کرنے لگی ۔۔
سالار نے کانٹا اٹھا کر پلیٹ میں مارا ۔۔۔۔
جو اور جتنا کہا ہے اتنا کرو ” وہ دھاڑا ۔۔۔۔
تو ۔۔ زیمل کو شرمندگی ہوئ جبکہ آنکھیں بھی بھیگ گئیں وہ اسکے سامنے آ کر بیٹھ گئ ۔۔۔
کب کی فلائٹ ہے ” زیمل کیطرف اپنا جھوٹا کانٹا بڑھاتے ہوئے وہ اپنے پی آئے سے سوال کر رہا تھا ۔۔۔۔ جبکہ زیمل کا چہرہ شرم سے لال ہونے لگا ۔۔۔ بلکل لحاظ نہیں تھا اسے کسی کا بھی ۔۔
سر اب سے چالیس منٹ بعد” پی آئے نے جواب دیا تو اسنے ۔۔ اثبات میں سر ہلایا اور زیمل نے جب اسکے منہ کھولنے پر بھی کانٹا نہیں ہٹایا تو بائٹ لے لی جبکہ دل الگ دھڑک رہا تھا ۔۔۔
سالار چپ چاپ سے ناشتہ کرا رہا تھا ۔۔۔
تم نے آیت کے کپڑے کیوں پہنں ہیں” سنجیدگی سے پوچھنے لگا ۔۔
زیمل چونک گئ ۔۔
سالار نے چیڑ کر کانٹا پٹخا ۔۔
ہر بات پر گھبرا جانا انکار کرنا یہ چونکا یہ ڈرنا ضروری ہے تمھارا ۔۔” وہ کہیں کا غصہ کہیں نکال رہا تھا ۔۔
زیمل سر جھکا گئ آنکھیں بھیگ گئیں وہ کتنا روڈ ہو رہا تھا ۔۔ اسکا یہ انداز تو جیسے ۔۔ پہچان میں ہی نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔
تم رات میرے روم میں تھی” اگلا سوال ہوا ۔۔۔۔
زیمل کا ضبط جواب دے گیا آنکھوں پر ہاتھ رکھے وہ رونے لگی ۔۔۔
سالار نے دانت پیسے ۔۔۔
چپ بلکل چپ ۔۔۔ جان نکال لوں گا تمھاری اگر رونے کی زرا بھی کوشش کی تو “وہ کانٹا اسکی جانب کرتا بولا ۔۔۔
زیمل نے سانس روک لیا ۔۔
اوپر دیکھو “وہ حکم دینے لگا۔۔۔
زیمل نے نہیں دیکھا ۔۔
مجھ سے ضد لگاؤ گی _ سالار چئیر چھوڑ کر اٹھنے لگا ۔۔
جبکہ زیمل نے فورا اسکیطرف دیکھا آنکھوں میں شکوہ تھا ۔۔۔۔
سالار ان گھیری آنکھوں میں دیکھنے لگا ۔۔۔
یہ پیسے لو چار پانچ دن میں یہاں نہیں ہوں گا ۔۔۔۔ تو سکون سے گزار لینا اور پریشے آیت یہ بھابھی کے ساتھ شاپینگ پر چلی جانا اب میں نہ دیکھو تم کسی کی اترن پہن رہی ہو ۔۔اور جب میں واپس آؤ ۔۔ تو بلکل انسانوں والا بیہیو کرنا یہ جو تم ہر وقت بکری کا بچہ بنی رہتی ہو میرے دو تھپڑ ہی تمھیں درست کر دیں گے” وہ بولا اور اٹھا ۔۔۔
اور یہ ناشتہ پورا کرو اگر میرے ساتھ کھانا ہے تو ” وہ رک گیا ۔۔
زیمل اسی کیطرف دیکھنے لگی اسکے پاس آیا ۔۔۔اور اسکے ہاتھ میں کریڈیٹ تھما کر وہ پی آئے کیطرف پیٹھ کیے اسکی گردن کے قریب جھکا ۔۔
غلام حاضر ہے میڈیم ۔۔ رومینس کے لیے تو میں غصے میں بھی تیار ہوں ویسے ۔۔ مجھے لگتا ہے غصے میں ویل رومینس ہوتا ہے ” وہ آئ برو آچکا کر جیسے اس سے اس بارے میں رائے جاننے لگا ۔۔۔
زیمل اس سے دور ہونے لگی ۔
اگلی بار میرے روم میں آنا ۔۔ تو زرا میرے جاگتے میں آنا ۔۔۔
مجھے بہت برا لگا ایک رات ہم دونوں ایک کمرے میں گزار چلیں ہیں اور میں اپنی بے ہودہ نیند کے ہاتھوں اب تک تمھارے ہوش ٹھکانے نہیں لگا سکا ” اسکا گال تھپتھپا کر ۔۔ وہ مسکرایا ۔۔۔
زیمل کا چہرہ ٹماٹر کیطرح سرخ ہو گیا ۔۔۔
سالار نے معمولی سا اسکی گردن پر لمس چھوڑا ۔۔ زیمل نے کریڈیٹ کارڈ پر گرفت سخت کر لی ۔۔۔
وہ وہ دیکھ رہا ہے” وہ شرم سے دھری ہونے لگی ۔۔۔
جبکہ سالار تو ان بھیگی پلکوں میں ہی کھو گیا ۔۔
وہ بھی بے حیا ہے میری طرح” وہ بتانے لگا ۔۔۔۔۔
زیمل اس سے دور ہو گئ ۔۔۔
اوکے تو تمھیں میری ساری بات سمھجہ آ گئ ” وہ اٹھ کر بلند آواز میں بولا جبکہ ۔۔ پی آئے کیطرف اب بھی پشت تھی ۔
زیمل میں تو اتنی بھی ہمت نہیں تھی سر اٹھا سکتی ۔۔۔
سالار نے اسکے ایک نظر دیکھنے پر ہی آنکھ دبائے اور یوں ہی باہر نکل گیا ۔۔۔۔
جبکہ پی آئے نے دل میں ہی اسے ٹھرکی کا خطاب دیا تھا ۔۔۔
زیمل کا دل نہ جانے ۔۔ کیوں تتلیوں کو اڑتا محسوس کر رہا تھا ۔۔ آج لبوں پر اسکی قربت سے مسکراہٹ سی آ گئ ۔۔
مگر اسکے مڑتے ہی مسکراہٹ ختم ہو گئ ۔۔
افشین اسی کے پاس آ رہی تھی ۔۔اسکا بس نہیں چلا وہ ار وہاں سے کہی دورر چلی جائے ۔۔۔
افشین نے بنا کچھ کہے اسکے ہاتھ سے ۔۔۔ وہ کریڈیٹ کارڈ کھینچا ۔۔۔
تیری اوقات اس گھر کی ملازمہ سے بھی کم تر ہے ۔۔ تو صرف میری اترن پہنے گی ۔۔ تو تو ہماری آیت کا بھی اترن پہنے لائق نہیں ” وہ اسکو گھورتیں بولیں ۔۔۔۔
اور وہاں سے ملازمہ کو آواز دی ۔۔۔
جو اسکے ایک حکم پر آ گئ ۔۔۔
میرے کمرے میں میرے پرانے کپڑے ہیں ۔۔ آیت بی بی کے کپڑے نکال کر میرے کپڑے اس منحوس کے لیے الماری میں
سجا دو “
کہہ کر وہ بنا مزید اسکو کچھ کہے وہاں سے چلی گئیں جبکہ ۔۔ زیمل وہیں کھڑی رہ گئ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
