Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 27

عارض اور آیت ائیر پورٹ پر پہنچے انھوں نے گھر پر کسی کو بھی نہیں بتایا تھا اپنے آنے کا ۔۔۔ وہ پہنچے تو عارض کے ہاتھ میں آیت کا ہاتھ تھا ۔۔۔۔ آیت بیس دن پہلے جب اسی جگہ پر کھڑی تھی تو ۔۔اسکی جان پر بنی ہوئ تھی ۔۔۔اور آج ۔۔۔ اسکے ہاتھ میں ہاتھ ڈالے اس ائیر پورٹ پر اتری ۔۔۔اسنے گزشتہ بیس دن اپنی زندگی کے بہترین دن گزارے تھے ۔۔ جس میں جیسے سارے شکوے دھل گئے تھے اسے عارض سے کوئ شکایت نہیں تھی خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی ۔۔۔۔
وہ ضرورت سے زیادہ ہی موٹی ہو گئ ۔۔تھی شاید اسکے پیار نے بھی اسکو ۔۔ صحت مند کر دیا تھا اور اسپر یہ عجب نکھار خوب جچ رہا تھا کہ عارض کا اسپر سے نظریں ہٹانا بھی مشکل ہو گیا تھا ۔۔۔۔
وہ باہر نکلا اور گاڑی کرائ ۔۔۔۔ آیت نے تو ۔۔ کسی چیز کو بھی ہاتھ نہیں لگایا ۔۔ یہاں تک کے اپنا ہینڈ بیگ بھی جب اسنے عارض کیطرف بڑھایا تو عارض نے گاگلز اتار کراسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
آیت کے چہرے پر شریر مسکراہٹ تھی ۔۔۔
یہ تمھارے ہاتھ میں بھی کوئ دقت نہیں دے گا “عارض نے گھور کر دیکھا ۔۔
مگر میں اسکو پکڑنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔ یہ آپ پکڑیں گے” آیت نے ناز سے کہا ۔۔۔۔اور اسکے ہاتھ میں پکڑا دیا ۔۔
جان یہ لیڈیز بیگ ہاتھ میں پکڑے میں ۔۔ جورو کا غلام لگوں گا کوئ تو لحاظ کرو ” عارض نے ۔۔ سامان گاڑی میں رکھا اور بیگ بھی ۔۔۔ جو کہ آیت اسکو تھما چکی تھی ۔۔۔
میں چاہتی ہوں ۔۔۔ کہ پوری دنیا جان جائے ۔۔ عارض صرف آیت کے ہیں ” وہ مسکرا کر بولی ۔۔۔
عارض نے آنکھیں گھمائ
تو اسکے لیے میں ۔۔۔ تمھارا بیگ اٹھا کر گھوموں تم جانتی نہیں ہو سالار بھیا کو ۔۔۔ وہ مجھے تانے دے دے کر مار دیں گے ۔۔ رحم کھاؤ شوہر پر ” وہ گاڑی میں بیٹھا ۔۔اور گاڑی گھر کی جانب چل دی ۔۔
بہت ہی اچھا ہو گا آپکے ساتھ میں تو بہت خوش ہوں گی جب کوئ آپکو ۔۔۔ سدھار دے ۔۔۔” آیت ۔۔ نے اسکے بازو میں بازو ڈال کر کہا ۔۔
یہ بیلی جو شیر سے چیپک بھی رہی ہے اور پنگے بھی لے رہی ہے اسے پتہ ہونا چاہیے وہ شیر کو اکسا رہی ہے ۔۔اور ایک بار ۔۔۔ اندر کا رومینس جاگ گیا ۔۔۔ تو۔۔۔پھر میسنی شکل بناؤ گی ۔۔عارض آپکو مجھ پر ترس نہیں آتا ” عارض نے اسکی نکل اتاری آیت نے اسکوآنکھیں پھاڑ کر دیکھا ۔۔۔
عارض آپ میری نکل اتار رہے ہیں” وہ حیران تھی ۔۔عارض نے ہنسی روکی اور رخ موڑ لیا ۔۔
آیت نے اسکا رخ اپنی طرف کیا ۔۔
آپ کتنے برے ہیں کتنی آرام سے میری نکل اتار رہے ہیں ” آیت نے افسوس سے کہا ۔۔۔
عارض نے اپنا قہقہہ حلق میں اتارا اس وقت وہ اسکی مزاہیہ شکل دیکھ کر ہنستا تو وہ جان بوجھ کر اسکو تنگ کرنے کے لیے کوئ نہ کوئ حرکت کرتی اور عارض بلکل افوڈ نہیں کر سکتا تھا اس سے دوری ۔۔۔۔۔
دیکھو ۔۔ آیت میں تمھاری نکل نہیں اتار رہا جان ۔۔ بس یہ کہہ رہا ہوں ۔۔۔۔ کہ اس بیگ کو تو اپنے ہاتھ میں لے سکتی ہو نہ” عارض نے ہرممکن کوشش کی خود کو سنجیدہ کرنے کی ۔۔
آیت نے غصے سے بیگ اسکے ہاتھ میں تھما دیا ۔۔۔
میں بلکل نہیں پکڑوں گی ۔۔ جتنا آپ نے مجھے تنگ کیا ہے میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا ۔۔۔۔۔ ” وہ خفگی سے بولی ۔۔
خیر ۔۔ اتنا بھی نہیں کیا میں نے تمھیں تنگ ” عارض منہ میں بڑبڑایا ۔۔
اب آپ مجھ سے لڑائ والی بات کر رہے ہیں” آیت خالصتاً بیویوں کیطرح چیڑ رہی تھی ۔۔۔
چندا ۔۔۔ تمھارا بیگ میں اٹھاؤ گا ۔۔۔ بلکہ گلے میں گھنٹی کیطرح سجا لوں گا ۔۔ بلکہ ایک باجا لے لیتا ہوں ۔۔۔اور ماتھے پر ٹیگ لگا لیتا ہوں ۔۔ میں صرف آیت کا ہوں خبردار جو کسی نے میری طرف دیکھا اب ٹھیک ہے” عارض نے ہار مان کر اسکا بیگ اپنے پاس رکھ لیا ۔۔۔
کیا واقعی آپ ایسا کریں گے” وہ جوش سے بولی ۔۔۔۔
عارض نے سر پر ہاتھ رکھ کر ۔۔۔۔ گھیری سانس لی ۔۔۔
اب آپ چپ کیوں ہیں ” وہ چپ ہو گیا تو آیت نے اسکا شانہ ہلایا ۔۔۔
آیت تم اتنا کیوں بولتی ہو ” عارض شاید ان بیس دنوں میں بھی اسے کئ بار کہہ چکا تھا ۔۔۔۔
عار ض آپکو میرے بولنے سے بھی مسلہ ہے ” آیت ۔۔۔ پھر سے ۔۔سیدھی ہوئ ۔۔۔۔۔
عارض ۔۔۔ نے سانس بھرا ۔۔۔
نہیں بولتی رہو مجھے کیا مسلہ ہو گا ” اسنے جان چھڑائی ۔۔
اچھا میں بولتی رہوں ۔۔۔ آپ نہیں سنیں گے میں پاگل ہوں کوئ “
آیت” عارض نے غصے سے اسکو دیکھا ۔۔۔
میں تو بس ” وہ منمنائ ۔
بلکل چپ” وہ غرایا ۔۔۔۔
وہ ” آیت نے اسکے شانے پر منہ بسور کر سر رکھ لیا ۔۔
عجیب بیوقوف لڑکی ہے ” عارض نے ۔۔۔۔ باہر کی جانب دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔
آیت بار بار پلکیں اٹھا کر اسکو دیکھتی ۔۔۔ مگر وہ تو اسے دیکھ ہی نہیں رہا تھا ۔۔جبکہ وہ چاہتی تھی وہ ہر وقت بس اسکو دیکھے ۔۔۔۔
برسوں کی محبت ۔۔۔۔ کو جب حقیقی رنگ ملا تو۔۔وہ اسکی نظر کی تبدیلی بھی برداشت نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
اسنے چوتھی بار اسکو ۔۔۔ دیکھا تو عارض نے گھور کر اسکو دیکھا ۔۔۔تو آیت نے جلدی سے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔
عارض مسکرا دیا ۔۔۔۔
اب ایسے کرو گی تو میں ڈرائیور کا لحاظ نہیں کروں گا ” وہ اسکے کان میں گھمبیر لہجے میں بولا ۔۔۔
آیت ایکدم اس سے دور ہوئ ۔۔
وہ تو جیسے ڈرائیور کو بھولی بیٹھی تھی شرمندگی سے اسکا چہرہ سرخ انار کیطرح ہو گیا ۔۔۔ اور وہ دوسرے دروازے سے چیپک گئ جبکہ گاڑی میں عارض کا قہقہہ بلند ہوا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ لوگ گھر پہنچے تو شام ہو چکی تھی ۔۔
ایکدم انکو ایسے اچانک دیکھ کر ۔۔سب ہی حیران رہ گئے جبکہ بہت گرم جوشی سے ملے ۔۔
دونوں کو سینے سے ے لگا کر سب نے پیار کیا ۔۔۔۔
جبکہ آیت تو شرما رہی تھی مسلسل ۔۔۔۔
گھر میں سب ہی موجود تھے سوائے سالار کہ ۔۔۔ ۔۔ کبیر مرتضی شہاب سکندر وجاہت زین ۔۔۔ سب مرد حضرات بھی آفس سے گھر لوٹ آئے تھے ۔۔۔۔
زین کا آج آخری پیپر ختم ہو گیا تھا ۔۔۔
وہ تو سالار کا منتظر تھا کہ وہ آتا تو ۔۔۔ وہ دونوں مرتضی کو مانتے کیوںکہ زین نے ٹریننگ کے لیے لاہور جانا تھا چھ ماہ کے لیے اور مرتضی کہاں اسے جانے کی اجازت دیتے اوپر سے اسکی فیلڈ ایسی ۔۔۔
عارض اور آیت کے ساتھ سب لاؤنج میں موجود تھے ۔۔عارض زیمل کو غور سے دیکھ رہا تھا ۔۔ جبکہ زیمل ۔۔اسکے اسطرح دیکھنے پر گھبرا رہی تھی ۔۔
نین اپنی پریشانی میں گم سم تھی ۔۔۔۔آج اسنے احمد سے ملنے جانا تھا مگر ۔۔نہ اسے وقت ملا اور نہ موقع وہ سمھجہ نہیں پا رہی تھی کہ ۔۔آگے احمد کیا کرے گا ۔۔۔ ضرور وہ اس بریسلیٹ کا ناجائز استعمال کرے گا اور پھر وہ سب کچھ کیسے ہینڈل کرے گی ۔۔۔
نین نے چائے کا انتظام کیا اور سب کو چائے اور سنیکس سرو کیے ۔۔۔۔
کبیر نے اسکی جانب دیکھا جس کے چہرے پر مسکراہٹ کا شبہ بھی نہیں تھا ۔۔ وہ خاموشی سے اپنا کپ اٹھا کر ۔۔۔۔ ایکطرف ہو گیا ۔۔۔۔
ایسے کئ سوال تھے اسکے دل میں جو نین کو مشکل میں ڈال سکتے تھے ۔۔۔۔۔
دوسری طرف پریشے اور عمل عارض کو غصے سے گھور رہیں تھیں ۔۔
آپکو شرم آنی چاہیے ۔۔۔ سالار بھیا جب بھی جاتے ہیں ہمارے لیے کچھ نہ کچھ لازمی لاتے ہیں اور آپ خالی ہاتھ آ گئے ہیں ۔۔ویسے کوئ مروت نام کی چیز نہیں آپ میں” پریشے اسپر برسی ۔۔۔
دیکھو گڑیا میں تمھارا غریب سا بھائ ۔۔ وہ نواب زادے تو امیر ہیں ۔۔۔۔”عارض نے مجبوری بتائ ۔۔
بس کریں” پریشے جھلائ ۔۔
بس آپکو اپنی بہنیں یاد نہیں رہیں ۔” عمل خفہ ہوئ ۔۔
لڑکیوں انکا ایک چھوٹا معصوم بھائ بھی تھا ۔۔ جسے بھول گئے ۔۔۔۔ ہاں ہاں صیحی جا رہے ہیں آپ ۔۔ یہیں سالار بھیا ہوتے تو ۔۔ خوب ریکارڈ لگتا آپ کا ۔۔ کچھ دل کو تسلی تو ہوتی کہ کوئ ہے آپکو دھونے والا ” زین گیم کھیلتے ہوئے مصروف سے انداز میں بولا ۔۔۔۔
آیت نے مسکرا کر ان سب کو دیکھا ۔۔۔
میں تو تم سب کے لیے گفٹس لائ ہوں ” وہ بولی ۔۔۔ سب نے اسکے چہرے کی مسکراہٹ دیکھی تو کچھ تسلی ہوئ ۔۔۔۔
بلآخر اسکی زندگی میں بھی سکون آ گیا تھا ۔۔
کیا واقعی وہ تینوں چیخے ۔۔تو آیت نے سر ہلایا ۔۔
اوہ آیت آئ لو یو ” پریشے نے زور سے اسکے گال پر پیار کیا ۔۔
آیت شرما گئ ۔۔ جبکہ عمل نے اسکے دوسرے گال پر کیا عارض مسکرا کر اسکو دیکھنے لگا۔۔۔۔
جبکہ زین سب سے پہلے انکے بیگ کیطرف بھاگا ۔۔
وہ تینوں بچوں کیطرح لڑنے لگے کہ پہلے میں کھلوں گا ۔۔۔۔
عمل بھی جیسے سب بھول گئ تھی ۔۔۔ یہ شاید اسے یاد تھا اور اس وقت وہ بھول چکی تھی ۔۔۔
عمل نے زین کے ہاتھ سے بیگ کھینچا سب انھیں دیکھ کر مسکرا رہے تھے ۔۔
چوہیا بیگ واپس کر” زین پہلے کیطرح بولا ۔۔۔
میں چوہیا ہوں ۔۔۔” عمل تملائ ۔۔۔
اور یہ مگر مچھ” پریشے نےعمل کا ساتھ دیا تو دونوں ہنسنے لگی ۔۔
بچوں دیکھ لوں گا ۔۔۔ چونٹیوں کو بھی پر لگ گئے ہیں” زین کبیر کے گھورنے پر مسکین شکل بناتا پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔۔
تو پریشے عمل نے بیگ کھولا اور سب کو سب کے تحائف خود ہی دینے لگیں۔ ۔۔۔
بھابھی جی چپ چپ ہیں طبعیت تو ٹھیک ہے” عارض نے نین کو دیکھا ۔۔۔۔ جو ایکطرف بلکل خاموش کھڑی تھی ۔۔
ہوں ہاں ۔۔ میں۔ تو ٹھیک ہوں مجھے کیا ہونا ہے” وہ مسکرائے شانے آچکا کر ۔۔
پھر خاموش کیوں ہیں” عارض نے پوچھا ۔۔۔
تو وہ سر جھکا گئ۔۔
بس طبعیت کچھ نڈھال سی محسوس ہو رہی ہے شاید ریسٹ کروں تو ٹھیک ہو جاؤ ” وہ مسکرا دی ۔۔۔
جاؤ بیٹا کمرے میں چلی جاؤ ” مدیھا نے اسکو پیار سے کہا تو وہ بنا تردد کے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔
کبیر نے اسکو جاتے دیکھا مگر اٹھا نہیں ۔۔ نہ اسے اچھا لگا کہ وہ اپنی بیوی کے پیچھے ایسے جائے ۔۔
بابا سالار سے بات ہوئ ہے آپکی ۔۔ مجھے لگتا ہے وہ آج نہیں آئے گا ” کبیر کو یاد آیا تو مرتضی سے بولا ۔۔۔
فون کرو اسے پتہ کرو کہاں ہے “مرتضی نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوے کہا ۔۔۔
تو کبیر نے فون اٹھایا ۔۔
بھیا آپ رہنے دیں میں کرتا ہوں انھیں فون “
آپ خود پھنس رہے ہیں ۔۔۔ ” زین ہنسا ۔۔۔۔
عارض بھی ہنس دیا ۔۔۔
اور سیل سپیکر پر ڈال کر اسنے سالار کو کال کی ۔۔
زیمل وہیں موجود تھی ۔۔۔ وہ سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
دل کی دھڑکنیں بے ترتیب سے ہو جاتی تھیں اسکے زکر پر ہی ۔۔۔۔
پھر جب وہ سامنے ہوتا تھا تو ۔۔ وہ اس سے بے رخی برتی لیتی تھی ۔۔۔
وہ خود اپنے اندر سے افشین کا خوف نہیں مٹا پا رہی تھی ۔۔۔۔
اور پھر سب کا خوف بھی تھا کہ سب اسکے بارے میں کیا سوچیں گے جس نے یہ جھوٹ بولا کہ یہ شادی زبردستی کی ہے اور اسنے ایک بار بھی اس بات کی تصیح نہیں کی کہ ۔۔۔ یہ جھوٹ بول رہی ہے ۔۔۔ اور کیسے وہ اسکے رونے سے بے چین ہو جاتا تھا ۔۔۔۔
زیمل اسکی آواز پر خیالوں سے باہر نکلی ۔۔۔۔
اوہ دولہا میاں واپس لوٹ آئیں ہیں عیاشی کر کے ۔۔”سالار نے کہا ۔۔ تو سب کا قہقہہ ابھرا ۔۔
بڑا چالاک آدمی ہے ۔۔ سپیکر پر موبائل ڈالا ہوا ہے ۔۔۔ تا کہ مرتضی صاحب سے ڈر کر میں تو کچھ نہ بولوں ” وہ بولا ۔۔۔ تو ۔۔ مرتضی نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
سن رہا ہوں میں سب ” وہ زرا کڑک لہجے میں بولے ۔۔۔
پتہ تھا میری کھینچی کے لیے تو آپ تیار رہتے ہیں زرا مجھ معصوم کی جان چھوڑ دیں ۔۔۔
خیر تم سناؤ میسنے ۔۔۔۔ “سالار نے عارض کو پکڑا ۔۔۔
خیر سے آ گیا ہوں ۔۔ اور آپکو مس کر رہا ہوں ” عارض نے حقیقت بتائ ۔۔۔
رئیل تو ۔۔ ٹی وی اون کرو ۔۔۔ ” وہ بولا ۔۔۔ تو سب زرا چونکے ۔۔
اوہ بھیو آپ ۔۔ لائیو ہیں ” زین ایکدم چیخا ۔۔۔
تو سالار ہنس دیا ۔۔
ہاں کچھ دیرمیں لائیو آو گا انٹرویو ہے”سالار نے کہا ۔۔۔۔
زین نے جلدی سےایل سی ڈی اون کر لی ۔۔۔
جبکہ سالار نے فون بند کر دیا ۔۔
سب ایل سی ڈی کیطرف متوجہ ہو گئے ۔
زیمل کی سالار کو ٹی وی سکرین پر دیکھ کر عجیب سی حالت ہو گئ ۔۔
تالیوں کی گونج میں وہ ۔۔۔ چلتا ہوا صوفے پر آ بیٹھا جبکہ ایک لڑکی اسکا انڑویو لے رہی تھی ۔۔۔
وہ جینز شرٹ میں ۔۔۔۔ ہاتھ پر سفید پٹی باندھے ۔۔۔۔ بالوں کا ہئیر سٹائل بنائے ۔۔مظبوط قدوقامت اور وجاہت کے ساتھ بے حد حسین لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ کسرتی جسم شرٹ میں سے واضح ہو رہا تھا ۔۔۔
سب گھر والے دلچسپی سے اسے ٹی وی سکرین پر دیکھ رہے تھے ۔۔۔
کیسے ہیں آپ سالار مرتضی ” لڑکی نے شو شروع کیا ۔۔۔
فائین اینڈ فرسٹ آف آل ۔۔۔ ویلکم بیک عارض ۔۔۔۔ سی یو سون برو ” وہ کیمرے کیطرف دیکھ کر بولا ۔۔۔ تو عارض سمیت سب ہنسنے لگے ۔۔۔۔
سب کی آنکھوں میں سکے لیے بے پناہ چاہت تھی ۔۔جبکہ زیمل کے جسم میں سنسناہٹ سی دوڑ گئی وہ کرنا مشہور اور محبتوں میں گھیرہ شخص تھا ۔۔۔۔۔
جبکہ وہ خود ایک خالی نفرتوں کی مار کھاتی ایک لڑکی ۔۔۔۔ بس ۔۔۔
وہ لڑکی ہنسی ۔۔
یہ عار ض کون ہے ۔۔۔ اس لڑکی نے پوچھا ۔۔
بھائ ہے میرا چھوٹا ” سالار نے بتایا ۔۔
اوہ سو نائیس تو سالار مرتضی آپ نے بہت جلد انڈسٹری میں اپنا نام بنا لیا ۔۔۔ آپکو کیا لگتا ہے کتنے انٹرویو دے چکے ہیں” وہ لڑکی پرمزاحیہ لہجے میں بولی جبکہ سالار ہنس دیا ۔
میں نے گنا نہیں ۔۔۔”اسنے مختصر جواب دیا ۔۔۔
تو ناظرین یہ بات وضاحت دیتی ہے کہ ۔۔۔ ہمارے آپ سب کے پیارے سالار مرتضی کتنے مشہور و معروف موڈل ہیں ۔۔
کیا سچ ہے سر آپکو ہالی وڈ سے آفر ہوئ ہے ” وہ لڑکی سوال کر رہی تھی ۔۔
یس “وہ مدھم مسکراہت سے بولا ۔۔
تو کیا پاکستان چھوڑ کر جائیں گے “
ڈیپینڈ اون سکریپٹ ۔۔۔۔ اگر سکریپٹ اچھی ہوئ تو ضرور جاؤں گا ” سالاد نے شانے اچکائے ۔۔
مگر آپ نے ایک مووی دی جس سے آپکا رومینس کافی مشہور ہوا ” وہ لڑکی کھلکھلائ ۔۔۔ سالار بھی ہنس دیا ۔۔۔
جبکہ اسکو دیکھتے گھر والوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔ ینگ پارٹی تو مسکراہٹ روکنے لگی جبکہ مرتضی کی اب کمینٹری شروع ہو گئ تھی ۔۔۔
بہودہ آدمی بلکل شرم لحاظ نہیں ہے کیسے فضول بات پر مسکرا رہا ہے ” مرتضی بھڑکے ۔۔۔۔
آئ تھینک آئ ایم رومنٹک ۔ اینڈ ڈینجریس ۔۔۔ میسیج فور سم ون ” اسنے کیمرے کیطرف دیکھ کرآنکھ ماری ۔۔۔۔۔ زیمل تو کھڑے کھڑے کانپ گئ ۔۔ جبکہ سب نے چور نظروں سے اسے ہی دیکھا تھا ۔۔عارض اور آیت جانتے نہیں تھے تبھی وہ سمھجہ نہیں سکے ۔۔۔۔
اوہ رئیل تو آپکی زندگی میں کوئ سم ون ہے ” ۔ وہ لڑکی کافی مایوس ہوئ ۔۔۔
مے بی اور مے بی نوٹ “اسنے ڈیپلومیٹک جواب دیا ۔۔۔۔ مگر کنفیڈینٹ تھا ۔۔۔۔
آپکے ہاتھ پر کیا ہوا “وہ لڑکی اسکا ہاتھ دیکھنے لگی ۔۔۔
اپنی پسند سے جلا لیا ” اسنے پھر ۔۔گھما کر جواب دیا ۔۔۔
وہ لڑکی ہنسی ۔۔
میں نے سنا تھا آپ کسی بات کا سیدھا جواب نہیں دیتے ۔۔۔اور جب آپ نے پہلے درست جواب دیے تو مجھے یقین نہیں آیا تھا کہ لوگ ایسا کیوں کہتے ہیں مگر اب سمھجہ گئ ہوں “
سالار ہنس دیا ۔۔اور بالوں میں ہاتھ پھیرہ ۔۔۔۔۔
آپ نے کبھی کسی کے ساتھ ڈیٹ کی ہے ” وہ لڑکی شرارتی لہجے میں بولی ۔۔۔۔
میرے بابا بھی دیکھ رہے ہیں شو لڑکی مجھے گھر بھی جانا ہے ایسے سوال مت کرو ” وہ ہنسا ۔۔۔
جبکہ ۔۔۔۔لڑکی پھرسے کھلکھلائ ۔۔۔
آپ بہت دلچسپ ہیں ” وہ لڑکی گھیری نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
سالار نے نظریں اٹھائیں ۔۔۔۔
اور آپ خوبصورت ہیں” وہ بولا ۔۔۔ تو کبیر نے سر تھام لیا ۔۔۔۔
جبکہ مرتضی کی چپل زین کی گدی پر لگی تھی ۔۔ بند کرو یہ خرافات ۔۔
آنے دو اسکا منہ توڑ کر گھر پر بیٹھاتا ہوں سمجھتا کیا ہے بے ہودہ انسان خود کو ” وہ بھڑکتے ہوئے اٹھ کر چلے گئے جبکہ ۔۔۔
سب نے زین کی رونے والی شکل دیکھی اور لاونج میں قہقہے بلند ہوئے ۔۔
اوہ میرا چھوٹا بھائی ۔۔۔ ” کبیر نے اسکو پیار کیا ۔۔۔
جبکہ ۔۔ اب کبیر نے ایل سی ڈی اون کی تھی ۔۔
زیمل کے چہرے پر اسکے اسطرح کہنے سے کئ گھیرے سائے لہرا سے گئے ۔۔۔۔
اب وہ لڑکی اس سے پرفییشنل سوال کر رہی تھی جس کا وہ جواب دے رہا تھا ۔۔۔۔ ان سب نے اسکا پورا شو دیکھا ۔۔۔۔۔
آپکی میگزین کا فرنٹ پیج خوبصورت ہے” وہ لڑکی دیکھانے لگی کیمرے میں وہ
وہی پیک تھی جو اسنے ماہم کے ساتھ لی تھی ۔۔۔۔
سالار چپ ہو گایا کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔
جبکہ زیمل کو نہ جانے کیوں ایسا لگا کہ وہ مزید نہیں دیکھ سکتی وہ نہیں جانتی تھی اسکی آنکھیں کیوں بھیگ گئیں تھیں وہ وہاں سے ہٹ گئ ۔۔۔
آج اسکی آنکھیں خوف سے نہیں بھریں تھیں ۔۔۔ اسے لگا اسکا دل اداس ہو گیا ہو ۔۔۔ وہ کمرے میں چلی گئ ۔۔۔آیت کے ۔۔۔اور دروازہ لوک کر لیا ۔۔۔۔
وہ آتا ہے یہ نہیں وہ نہیں جانتی تھی مگر نہ چاہتے ہوئے بھی وہ اس سے خفا ہو گئ ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین آنکھوں پر ہاتھ رکھے آنسو بھا رہی تھی ۔۔ وہ نہیں سمھجہ پا رہی تھی کہ وہ کیا کرے ۔۔۔۔
کبیر اندر آیا ۔۔۔ تو وہ سوتی بن گئ ۔۔
نین” اسنے اسکو پکارہ مگر وہ نہیں ہلی ۔۔۔
کبیر کچھ لمہے اسے دیکھتا رہا ۔۔اور پھر واشروم میں چلا گیا ۔۔۔۔
وہ باہر آیا تو وہ اب بھی ویسے ہی تھی اسے یقین تھا وہ سو نہیں رہی ۔۔اس سے پہلے وہ بیڈ پر جاتا
نین کا سیل فون بجنے لگا دوسری طرف نین کا دل حلق میں آ گیا ۔۔۔
کس کا فون تھا ۔۔۔ہو سکتا ہے احمد کا ہو ۔۔وہ ہولے ہولے کانپنے لگی چہرے پر سے ہاتھ بھی نہیں ہٹا سکتی تھی ۔کسیے ہٹاتی ابھی تو وہ سوتی بن رہی تھی ۔۔۔
کبیر نے کال پیک کر لی ۔۔
ہیلو “اسکی گھمبیر آواز پر دوسری طرف احمد کی سیٹی گم ہو گئ ۔۔
وہ کچھ بولا نہیں ۔۔۔۔
کبیر ۔۔۔ کے ماتھے پر کئ بل ڈل گئے ۔۔۔۔
اسنے کال بند کی اور بنا کچھ کہے وہ نمبر ۔۔ بلیک لیسٹ پر ڈال دیا ۔۔۔۔
اور سیل فون پھینک کر وہ دوسری طرف لیٹ گیا ۔۔۔۔
کمرے میں لیمپ جل رہا تھا ۔۔۔
نین نے اسکیطرف دیکھا ۔۔ کبیر جاگ رہا تھا دیوار کو گھور رہا تھا ۔۔۔
نین نے اسکا ہاتھ سیدھا کیا جو سر کے نیچے تھا ۔۔۔اور اسپر سر رکھ لیا ۔۔
کبیر اسکطرف متوجہ ہوا۔۔ نین کی مدھم سسکیوں پر وہ جھنجھلا گیا ۔۔۔
تمھیں مجھ پر یقین ہوتا تو تم مجھ سے اپنے مسلے شئییر کرتی ۔۔ یہ یقین کو بھی دفع کرو ۔۔ تمھیں مجھ سے محبت نہیں ہے یہ بات آج مجھے سمھجہ آ گئ ہے ” کبیر نے اسکا سر اپنے ہاتھ
پر سے ہٹایا ۔۔۔
ایسا نہیں ہے ” نین اٹھ کر بیٹھی ۔۔۔
کبیر نے سائیڈ ٹیبل سے ۔۔۔ بریسلیٹ نکالا اور نین کیطرف اچھال دیا ۔۔۔۔
نین دنگ رہ گئ ۔۔۔ شاکڈ کی کیفیت میں اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
دل جیسے بند ہو گیا ۔۔۔
جاری ہے