Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 44
No Download Link
Rate this Novel
Episode 44
کبیر نے سالار کو اطلاع دی ۔۔
پہلے تو ۔۔۔ وہ کافی غصے میں تھا مگر جب عارض کی بیٹی کی خبر سنی تو ایکدم جوش سا بھرا ۔۔۔۔ اور اسنے آنے کا کہہ کر کال کٹ کر دی
اسنے زیمل کیطرف دیکھا ۔۔۔ جو اسکے لیے کھانا لگا رہی تھی۔۔وہ اسکیطرف بڑھا ۔۔۔ زیمل کو اس سے پہلے پکڑتا کہ زیمل جلدی سے بولی ۔۔۔
فلحال کھانا کھا لیں “
اچھا کھانا تو فلحال کھا لوں
اور فلحال کے علاؤہ جو وقت ہوتا ہے اس میں کیا کروں ” وہ چئیر پر منہ بنا کر بیٹھتا بولا ۔۔۔۔
آپکے پاس کوئ کام نہیں ڈھنگ کا “زیمل نے دوسری چئیر کھینچی ۔۔ اور اسپر بیٹھ گئ سالار نے وہ چئیر بلکل اپنے نزدیک کھینچ لی زیمل کا چہرہ سرخ ساہو گیا ۔۔اور دل کی دھڑکنیں بھی منتشر ہو گئیں ۔۔۔۔۔
میں بہت مصروف انسان ہوں ۔۔ تم کیا جانو میں کیا کیا چھوڑ کر تمھیں وقت دے رہا ہوں ” اسنے اسکی ناشکری پر ٹونٹ کیا
اور اگر آپ بیزی ہوں گے تو مجھے وقت نہیں دیں گے ” وہ اسکی جانب دیکھنے لگی ۔۔
بہت قریب بیٹھی وہ سنجیدہ چہرے سے آنکھیں جھپکتی بولی ۔۔
سالار نے اسکے منہ میں لقمہ دیا ۔۔۔ کوئ کیا جانتا تھا ۔۔۔اس وقت اسکی معصومیت پر اسے کتنا پیار آیا تھا
زیمل جھجھک سی گئ مگر دوسری طرف تو شرم بھی نہیں آئ تھی ۔۔۔۔۔ خیر آتی بھی کیوں پاگل زیمل تھی وہ تو نہیں تھا ۔۔۔۔
وقت تو سارا کا سارا تمھارے لیے ہے ۔۔۔۔ کہو تو کام دھندا چھوڑ کر گھر بیٹھ جاؤ ” وہ آنکھ دبا کر بولا ۔۔۔
میں نے ایسا تو نہیں کہا ۔۔۔۔۔
یہ کیا بات ہوئ آپ کسی بات کا سیریس جواب نہیں دیتے “
ساری باتوں کے سیریس جواب وہاں ملیں گے تمھیں ۔۔۔ اگر لینا چاہتی ہو تو تھوڑی محنت کرو ” اسنے بیڈ روم کی گلاس وال سے دیکھتے بیڈ کیطرف اشارہ کیا ۔۔۔
زیمل کا چہرہ پل دو پل میں سرخ ہوا تھا ۔۔
سالار محظوظ ہوا ۔۔۔۔
اور اسکا گال کھینچا ۔۔۔۔ دونوں نے کھانا کھایا ۔۔۔ جسے سالار ہی اپنے ہاتھوں سے اسے کھلا رہا تھا اور مسلسل باتیں بھی کر رہا تھا ۔۔۔ اور زیمل کو اسکو سننا اچھا لگ رہا تھا وہ بنا پلکیں جھپکائے اسکے ۔۔۔۔ چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔جو ہر بات کا مزہ لے رہا تھا ۔۔ہربات پر مسکرا رہا تھا ۔۔
وہ کافی پوزیٹیو اور خوش باش انسان تھا مگر غصے میں آ تا تو۔۔۔ بنا دیکھے ۔۔۔۔ جیسے تباہی مچاتا تھا ۔۔۔ جیسے افشین کو اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ ۔۔ تھپڑ کھینچ مارے جبکہ اسنے اسے دھکا بھی سب کے سامنے دے دیا تھا ۔۔۔
وہ نہیں چاہتی تھی وہ اس سے کبھی روٹھے ۔۔۔
ہاں وہ بہت بے شرم تھا ۔ مگر وہ ۔۔۔ اسے پسند تھا۔۔۔ اور وہ چاہتی تھی وہ اپنی عمر اسکے ساتھ یوں ہی گزار دے ۔۔۔۔
پھر میں گھرسے بھاگ گیا ” زیمل ان لفظوں پر ایکدم ہوش میں آئ منہ کھولے اسے دیکھنے لگی ۔۔
مطلب” وہ حیرانگی سے دیکھ رہی تھی ۔۔
تم سن بھی رہی ہو بیوقوف لڑکی ” اسنےزیمل کی ناک کھینچی
نہیں وہ میں” زیمل کنفیوز سی ہوئ ۔۔
مجھے دیکھ رہی تھی” اسنے آنکھ ماری ۔۔
زیمل نے سر جھکا لیا ۔۔۔۔۔
جبکہ سالار نے ٹشو سے ہاتھ صاف کیے اور مسکرا کر اسکودیکھا۔۔۔
کل اسے ضروری ایک میٹینگ اٹینڈ کرنی تھی اور چند دنوں بعد ۔۔۔ ہالی ووڈ فلم کی شوٹینگ کے لیے بھی نکلنا تھا ۔۔
وہ تو خیرمہینےمہینے ہی غائب رہتا تھا
اور زیمل کو کہیں بھی اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
فلحال ساری باتوں کو پیچھے ڈال کر اسکا فوکس زیمل کی جانب تھا ۔۔۔۔
آگے بتائیں آپ کیوں گھر سے بھاگے” یہ خاموشی اسے ۔۔۔ پریشان کر رہی تھی اسکی نظریں اسے تنگ کر رہیں تھیں
تبھی وہ بولی ۔۔۔
تو سالار کو بھی محسوس ہو گیا ۔۔۔ اسنے زیمل کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر ۔۔۔ لاونج میں صوفے پرآ گیا۔۔اسے اپنے ساتھ بیٹھا لیا ۔۔
زیمل کی نظریں جھکتی جا رہیں تھیں اور یہ نظریں سالار کو اسکی جانب بڑھنے پر مجبورکررہیں تھیں اسنے بمشکل خود کو روکا تھا زیمل ابھی ۔ وہ جانتا تھا مینٹلی اسے افوڈ نہیں کر سکتی ۔۔۔
سالار نے اسے کمفرٹیبل کرنے کے لیے ۔۔۔ ایل سی ڈی اون کر لی ۔۔
آپ بتا نہیں رہے آپ کس لیے بھاگے ” زیمل نے پھر سے پوچھا ۔۔۔
وہی دیکھا رہا ہوں ۔۔۔ مائے لو ۔۔۔۔ میری بکری تھوڑا سا انتظار کرو گی ۔۔۔ ” وہ بولا تو ۔۔ زیمل نے منہ بنایا ۔۔ اب پیار سے کون کس کو بکری کہتا ہے ۔۔۔
اسکی ساری منتق ہی الگ تھی
اسنے نیٹ پر ۔۔۔ ایک ریمپ شو اون کر دیا ۔۔۔۔۔
زیمل دلچسپی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ وہ سکرین پر اوریجنل سے زیادہ ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔ زیمل نے ایک نظر مسکراتی نظر اسپر ڈالی سالار اسکی ایکسائٹمنٹ پر ۔۔۔ ہنسنے لگا ۔۔۔۔
زیمل دیکھ رہی تھی ۔۔
بابا کا فورس تھا ۔۔۔ بیزنیس کیطرف جاؤ ۔۔۔ جبکہ ۔۔۔ مجھے تو بلکل نہیں جانا تھا میں ۔۔پورے گھر کے آگے انھیں دھمکی دے کر چلا گیا تھا کہ میں بھاگ رہا ہوں گھرسے ا ور انھوں نے بھی کہہ دیا ۔۔۔۔
دوبارہ شکل نہ دیکھنا “
میرے تو آگ لگ گئ ۔۔ میں نے ۔۔۔ سامان اٹھایا اور نکل گیا ۔۔
ہاں مما کو نوٹ لکھا تھا انکی یاد مجھے بہت آتی ہے ۔۔۔۔
انکے کھانے بھی ۔۔۔۔۔۔
جب میں بھاگا تو ۔۔۔۔ میرا یہ ریمپ شوٹ تھا ۔۔۔۔
اسکے لیے ۔۔۔۔ بابا مجھے جانے نہیں دے رہے تھے اور میں جانتا تھا ہفتے بعد آ جاؤ گا جوتیوں سے ماریں گے کچھ نہیں ہوتا مار کھا لوں گا ۔۔۔” وہ لاپرواہی سے بولا ۔۔
پھر انکل نے مارا آپکو واپسی پر ۔۔”
ایسا ویسا ” سالار نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
کیوں ۔۔ آپکو یہ پسند تھا تو آپ نے چوز کر لیا ۔۔۔۔ انھیں سپورٹ کرنا چاہیے تھے”
زیمل بولی تو سالار ہنس دیا۔۔
میری بکری تم سکرین پر فوکس کرو تمھیں اندازا ہوگا ۔۔ کس لیے انھوں نے مجھے مارا کہ ۔۔ میں دو مہینے گھر میں منہ چھپا کر پڑا رہا ۔۔۔۔ کیوںکہ میرا منہ نیلا ہو گیا تھا ۔۔۔
زیمل حیرانگی سے سنتی سکرین پر دیکھنے لگی ۔
سالار شرٹ لیس ایک لڑکی کی کمر میں ہاتھ ڈالے ۔۔۔۔ ریمپ پر چلتا ۔۔۔۔ آنے لگا ۔۔۔۔
اور لڑکی کی کمر پر۔۔۔ ہاتھ رکھا ہوا تھا جیسے ہی وہ سامنے آیا اسنے لڑکی کو اٹھا کر ۔۔۔۔ گھمایا ۔۔۔۔ اور تالیوں کی گونج ۔۔۔۔ بھی ۔۔۔۔۔
فلیش لائٹس جگمگا سی گئیں ۔۔۔۔۔
وہ اتنا ہینڈسم لگ رہا تھا ۔۔ کہ کوئ بھی اسپر مر مٹ جاتا اور لڑکی نے جس جرت سے اسکے گال ۔۔ پر پیار کیا ۔۔ زیمل کو تو پتنگے لگ گئےاب احساس ہوا۔
دو کیا چھ مہینے منہ سجا دینے چاہیے تھا ۔۔اسنے ایل سی ڈی بند کی اور اٹھ گئ۔۔۔
پورے گھر میں سالار کے قہقہے گونج اٹھے تھے ۔۔۔۔
اب کیا رائے ہے تمھاری ۔۔ وہ مزے سے پوچھنے لگا اور روم میں جاتی زیمل کا ہاتھ پکڑ لیا
آپ مجھ سے دور رہیں یہ تو پہلی چیز ہے نہ جانے اور کیا کیا کیا ہوا ہے آپ نے”
وہ خفگی سے بولی ۔۔۔۔
دیکھو یہ میرا پروفیشن ہے “
بہت ہی گندا پرفیشن ہے آپکا ۔ انکل ٹھیک کہتے ہیں آپکو بیزنیس کرنا چاہیے ۔۔۔ ” زیمل نے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
آہ ۔ ” اسنے سرد سانس کھینچی ۔۔۔
یہ تو خیر ممکن نہیں ۔۔۔” وہ بولا زیمل نے خفگی سے ہاتھ چھڑا لیا ۔۔
صرف محبت کی بات تھی۔۔اسکا ماضی جان کر کیسے ۔۔۔ سالار نے ۔۔۔ اسکو پروٹیکٹ کیا تھا جبکہ وہ کیسے چیڑ گئ تھی اسکا ماضی دیکھ کر ۔۔
خیر یہ تو اسکا حال بھی تھا ۔۔۔ زیمل مسلسل سالار کو گھور رہی تھی جو خوش تھا ۔۔۔۔
اچھا یہ بعد کی بات ہے اٹھو ۔۔ ہسپیٹل چلنا ہے عارض کی بیٹی ہوئ ہے “
وہ بولا زیمل اچھل ہی اٹھی
کیا اور آپ اب بتا رہے ہیں “
وہ اسکو گھور بھی نہ سکی خوشی میں جلدی سے ۔۔ کمرے کیطرف بھاگی ۔۔ یہاں بھی اسکے کئ کپڑے تھے بلکہ کچھ تو ایسے تھے جو پہنے ہی نہیں تھے ۔۔۔
اسنے جلدی سے
اپنے لیے وائٹ سوٹ نکالا ۔۔۔
رکھ دو یہ رنگ نہیں پہننا ” سالار پیچھے سے آ گیا ۔۔۔
مگر یہ مجھے پسند ہے” وہ منمنائ وہ اتنا پیارا وائٹ ڈریس تھا ۔۔
تمھاری پسند فضول ہے۔۔ یہ پہنو ” اسنے ۔۔ ریڈ کلر کا ڈریس اسکے ہاتھ میں تھما دیا ۔۔
یہ شارٹ شرٹ اور کیپری تھا ۔۔
سالار ” زیمل نے نفی کرنا چاہی سالار نے کبرڈ بند کر دی ۔۔
تم چاہتی ہو میں تمھیں اس سے بھی خوبصورت ڈریس پہناؤں یہ سارے بند توڑ کر ۔۔ ” وہ گھیری نظروں سے دیکھتا ۔۔ کہ زیمل اسے دور دھکیل کر بھاگ گئ ۔۔۔
خدا ہی بچائے مجھے آپ سے سالار” وہ مدھم آواز میں بولی۔۔۔۔
خدا نے ہی حق دیا ہے ۔۔۔ ” وہ مسکرایا ۔۔۔
مگر وہ جو لڑکی اور جو۔۔۔ آپ کے کرتوت ہیں میں آپ سے پوچھو گی “
اچھے سے پوچھنا یاد ہے نہ ایک بار بھابھی کے بھڑکنے پر پوچھنے آئ تھی ” وہ بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔
زیمل کی بولتی بند ہو گئ ۔۔ سالار کا پھر سے قہقہہ اٹھا اور اسنے ۔۔۔ سیل فون نکال لیا ۔۔
اسکے فون پر ۔۔ فیروز کے میسیجز تھے اور اسنے بتایا تھا کہ انھیں دو دن تک ۔۔ نکلنا ہے لندن کے لیے ۔۔۔۔
اسنے گیری سانس بھری ۔۔۔
اگر زیمل کو اپنے ساتھ لے جاتا ہے تو ۔۔۔۔۔ تب بھی وہ زیمل کو ٹائم نہیں دے سکے گا ۔۔۔
کام ایسا تھا پورا پورا دن سیٹ پر لگ جاتا ہے ۔۔
کرنا کیا ہے کچھ سمھجہ نہیں آ رہی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں ہسپیٹل پہنچے ۔۔۔۔ اور اندر داخل ہونے لگے ۔۔ کہ کسی سے ۔۔۔ سالار کا زور دار تصادم ہوا ۔
سالار نے تو پلٹ کر اسکو دیکھا انہیں البتہ زیمل کی نظر اسپر پڑی اور وہ تھم گئ جبکہ سعیر نے سالار کو دیکھ لیا تھا اور ساتھ اس لڑکی کو بھی ۔۔۔۔۔
وہ ایک دم رک گیا آنکھیں گھما کر زیمل کو دیکھنے لگا ۔۔
زیمل کے چہرے پر خوف سا پھیلا
ہاں وہ سب بتا چکی تھی ۔۔ مگر پھر بھی اسے اسکو دیکھ کر ڈر لگ گیا ۔۔
وہ جلدی سے سالار کے نزدیک ہو گئ ۔
کیا ہوا ” سالار نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا
ک۔۔کچھ بھی نہیں” وہ مصنوعی مسکرانے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
سالار نے گھورا ۔۔
سخت زہر لگتی ہو مجھے تم جب ۔۔ منمناتی ہو ” وہیں رک کر غصہ کرنے لگا ۔۔ زیمل کا سر جھک گیا ۔۔۔
چلو ۔۔۔۔ بعد میں بات کروں گا ” ہاتھ پکڑ کر وہ اسے اندرلے گیا ۔۔
سعیر سے زیادہ اب سالار کی فکر تھی اسے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دونوں روم میں داخل ہوئے ۔۔۔ تو وہاں افان اور پھوپھو کو عرصے بعد دیکھ کر۔۔وہ ایکدم انکے آگے جھکا ۔۔
افان تو خیر ناراض تھا اس سے ۔۔
جبکہ زیمل نے بھی کچھ جھجھک کر سلام کیا
سب نے اسے بہت محبت اور چاہت سے ٹریٹ کیا ۔۔
اسنے ۔۔ آیت کی بیٹی کو پکڑ لیا ۔۔۔
روئ کے گولے جیسی بچی بے حد خوبصورت تھی وہ اسے صوفے پر لے کر بیٹھ گئ ۔۔سالار نے بھی جھک کر بچی کو دیکھا ۔۔۔ اور مسکرا دیا
لگتا ہے خوبصورتی میں اپنے تایا پرگئ ہے ۔۔۔۔ دیکھ لیں بابا کتنی سی عمر میں میں تایا بنا ہوں جبکہ میرے آپ اپنے بچوں کی سوچ بھی نہیں دنیا میں” اسنے مرتضی صاحب کیطرف دیکھا ۔۔۔
جو مسکرا رہے تھے ۔۔۔
آپ نے اتنی دیر سے میری شادی کے بارے میں سوچا ” وہ منہ پھلا گیا ۔۔۔
میں جانتا ہوں تمھارے بچوں کی پوری ٹیم ہو گی ۔۔ ان سب سے زیادہ ہی کرو گے ضد میں آ کر ۔۔ تو زیادہ ڈرامے نہ کرو “
زیمل تو شرم سے سرخ انار ہوگئ ۔۔۔ جبکہ سالار نے باپ کو گلے لگایا ۔۔
یہ وہی نہ بات ۔۔۔ ” سب اسی حرکت پر ہنس دیے ۔۔۔
آیت تم نے نیم کیا سوچا ہے” زیمل نے آیت کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
ابھی تو کچھ بھی نہیں سوچا بھابھی ۔۔۔۔ ” آیت نے کنفیوز ہوکر کہا وہ ۔۔ کافی دیر سے سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
اچھا ۔۔۔ تو پھر جلدی سے سوچو ” زیمل نے کہا ۔۔۔
ایسا کریں بھابھی آپ رکھ دیں لگتا ہے آپکے پاس کوئ نام ہے ” عارض بیچ میں بولا ۔۔
میں میں کیسے ۔۔۔۔ یہ تو آیت کا حق ہے” زیمل نے گھبرا کر جلدی سے کہا ۔۔
اتنی عزت کے وہ کہاں قابل تھی جتنی عزت وہ سب اسے دے رہے تھے
بھابھی ۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہے بلکہ میرے لیے بھی آسانی ہو جائے گی ” آیت نے عارض کیطرف دیکھے بنا مسکرا کر کہا ۔۔
زیمل نے کنفیوز ہو کر سالار کو دیکھا جو اسے مسکرا کر دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ ایکچلی مجھے لگتا ہے ۔۔ اسکے چہرے پر نور نام بہت اچھا لگے گا ۔۔اور آیت کا نور ۔۔۔ ہے یہ” زیمل لوجیک کے ساتھ بولی تو سب کو ہی یہ نام بہت پسند آیا ۔۔۔وہ توسرخ ہو رہی تھی جبکہ بچی کا نام ڈسائیڈ ہو گیا مدیھا نے آگے بڑھ کر اسکو پیار کیا
اللہ تمھاری بھی گود جلد بھرے ” انھوں نے دعا دی ۔۔
زیمل جھجھک گئ ۔۔
آمین آمین ” یہ آواز سالار کی تھی ۔۔
جلنے کڑھنے کے بجائے آمین کہو ” اسنے افان کو دیکھا
بات مت کرو مجھ سے ” افان نے بھڑک کر کہا
مجھے اکساو مت میں ابھی یہاں بات کر دوں گا بابا سے “
میرا تم سے کوئ واسطہ نہیں اپنے کام سے کام رکھو ” افان نے روڈ ہو کراسکیطرف دیکھا ۔۔۔
بابا “
سالار “افان نے اسکو چٹکی کاٹی
مرتضی نےاسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
بابا میرے ولیمے اور پریشے کی شادی کے بارے میں بھی کچھ سوچ لیں”
بیٹے ایک کام ٹھیک سے ہوتا نہیں دوسرے کی فرمائش شروع صبر کرو “
بابا تمھیں کہہ رہے ہیں صبر کرو ۔۔۔۔ میں تو ساری عمر ولیمے کے لیے صبرکرلوں گا ” وہ منہ پھٹ دھاڑ دھاڑ باتیں مارکر ۔۔۔۔ افان کی جان نکال رہا تھا ۔۔
کیا مطلب ” سب نے ان دونوں کیطرف دیکھا
میں چلتا ہوں ” افان بولا ۔۔۔۔ اور باہر نکل گیا جبکہ ۔۔۔۔
سب ہی کنفیوز تھے تو پیچھے سے ۔۔۔ افان کی والدہ نے انکے بیٹے کی پسند کا اظہار کیا ۔۔۔۔
کبیرتوایکدم خوش ہو گیا ۔۔
بیسٹ تھا ۔۔۔ افان ۔۔۔۔
جبکہ مرتضی نے شہاب کیطرف دیکھا ۔۔
یہ فیصلہ تو شہاب کرے گا ” وہ بولے تو ۔۔شہاب مسکرا دیے ۔۔
گھر جا کر اس موضوع پر ضرور بات کریں گے ۔۔ افان اپنا بچہ ہے اس سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے ہمارے لیے”
نیم رضامندی کا اظہار دے دیا ۔۔وہ دونوں ۔۔۔ کان لگائے دروازے پر کھڑے تھے ۔۔
اوووو” سالار ایکدم چہکتا اسکے گلے لگا افان کو بھی اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا ۔۔۔۔ مرتضی البتہ خاموش تھے ۔۔۔۔
کبیر بھی بے حد خوش تھا ۔۔۔۔
جبکہ تنزیلہ بھی ۔۔۔۔
تو تو مجھے سے کہہ رہے تھے تو نے میرے لیے کیا کیا ہے” افان نے اسے دور کیا
یہ میں نے ہی تو کیا ہے ” سالار نے آنکھیں نکالیں ۔۔۔
لو سن لو ۔۔۔۔” افان نے منہ پھیر لیا ۔۔
اچھا اب تو زیمل نہ بن وہ بھی ناراض ہے ۔۔
تیری شکل ہی ایسی ہے وہ چند گھنٹے میں تجھ سے ۔۔۔ نارض ہو گئ “
اس نے سر ہلایا ۔۔۔
سالار نے اسکی گردن دبوچ لی ۔۔
لوگ ان دونوں کو دیکھ رہے تھے سالار کی پشت تھی تبھی اسے نہیں پہنچانا تھا ۔۔۔۔ جبکہ افان اسکے مکے کہا رہا تھا ۔۔اور وہ دونوں ہنس بھی رہے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واپسی پر انھوں نے اسے فورس نہیں کیا گھر چلنے کے لیے مدیھا نے بات بھی کی تو ۔۔سالار نے نفی کر دی ۔۔۔
فلحال نہیں میں لندن جا رہا ہوں ابھی ۔۔۔۔
شوٹ ہے میرا ۔۔۔۔ اسکے بعد آپکے پاس آؤ گا ۔۔۔ بس دو دن میں ہی فلائیٹ ہے اور جب تک وہ سائیکو عورت اس گھر میں ہے میں نہیں آؤں گا “
وہ جا چکی ہے سالار ” مدیھا نے بے چینی سے کہا ۔۔۔۔
میں لندن سے واپسی پر گھر آؤ گا ۔۔ میں زیمل کو گھر پر نہیں چھوڑ سکتا “
اسنے کہا اور اپنی ہی ماں سے نظریں چرائیں ۔۔۔۔
مدیھا چپ ہو گئ سالار کے دل کو کچھ ہوا ۔۔۔ وہ انھیں شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔ مگر بار بار آزمانے کے بعد بھی اسے ۔۔ کچھ ایسا نہیں دیکھا تھا کہ ان میں سے کسی کو زیمل کی پروا ہو تب ہی وہ سینسیٹیو ہو رہا تھا
وہ دونوں گھر کے لیے لوٹے زیمل خاموش تھی سالار نے بار بار اسکو دیکھا ۔۔۔۔
کیا ہوا ” اسنے پوچھا
کچھ بھی نہیں ” زیمل مسکرائی
نور بہت پیاری ہے
مجھے تو اسکا نام اور نام کی لوجک اور نام رکھنے والی بہت پیاری لگتی ہے
ویسے تمھارے پاس نام کے لیے لوجک بھی ہے ایمپریسیو۔۔ ہے یہ تو ۔۔ تو دن رات شام دوپہر چونا مٹی پتھر ڈنڈا کباب شامی ۔۔
میرے بچوں کے نام ہیں انکے پیچھے کی لوجک ڈھونڈ لینا قسم سے اتنے میرے بچے ہوں کیا ہی بات ہے ۔۔۔ دیکھنا سب ارٹیسٹ بنے گے اور ۔۔۔
سالار” زیمل اسکو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی ۔
کیوں تمھیں کم لگ رہے ہیں ۔۔ تو گلو بنٹی پانڈے اور
زیمل نے اسکے شانے پر زور زور سے مکے برسا دیے
جبکہ اسے ہنسی الگ ا رہی تھی
۔۔ یہ کیسے نام ہیں سالار” وہ منہ پر ہاتھ رکھے بری طرح ہنس دی ۔۔۔
جبکہ سالار مسکرا دیا ۔۔۔
وہ اسے خاموش اور اداس نہیں دیکھ سکتا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سعیر مرتضی کو کال کر رہا تھا مسلسل ۔۔ وہ اسے آخری بار وارن کرنا چاہتا تھا ۔۔ مگر مرتضی کی طرف سے کوئ جواب نہیں تھا ۔۔۔
تبھی اسنے ایک آدمی کو کال کی ۔۔۔
کتنا پیسہ چاہیے تمھیں”
دس کروڑ “
دس کروڑ میں تم پروف کے ساتھ سارا سچ بول دے گے “
وہ بولا ۔۔۔۔ تو اس آدمی نے فورا ہامی بھر لی ۔۔۔۔
سعیر خباثت سے مسکرایا ۔۔ زیادہ دیر نہیں ۔۔ مرتضی
کبیر سالار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت پیاس کے سبب اٹھی ۔۔ تو اسے زرا درد کا احساس ہوا۔۔ عارض اسکے پاس ہی تھا اسے عارض کو نہیں پکارنا تھا ۔۔ تبھی اسنے خود پانی لینا چاہا تو گلاس گر گیا
عارض ایکدم اٹھ گیا ۔۔
تمھیں پانی چاہیے تھا مجھ سے مانگتی ” وہ بولا ۔۔۔ اور اسے پانی دیا ۔۔۔۔
نہیں پینا پیاس نہیں ہے ” نین بھابھی یہ تائ امی بھی نہیں روکیں” وہ خود سے ہی بولنے لگی ۔۔
اتنا ناگوار ہوں میں تمھارے لیے ” عارض نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
نہیں آپ ناگوار نہیں ہیں ۔۔۔۔ میں ہوں جو بھی ہوں آپ تو بلکل ٹھیک ہیں جو آپ نے کیا وہ بھی میرے لیے کیا تو آپ غلط کیسے ہو سکتے ہیں اگر کوئ غلط ہے تو وہ آیت ہے ” آیت نے اسکی جانب دیکھا سپاٹ نظروں سے کہا ۔۔۔۔
اورانکھیں بند کر لیں ۔۔۔
عارض کچھ بول نہیں سکا ۔۔ اپنی بات کا یقین دلانا کتنا مشکل لگا تھا آج اسے احساس ہوا تھا ۔۔
آیت کیسے کیسے اسے اپنی محبت کا یقین دلاتی رہی تھی اور وہ کس طرح اسے جھٹک دیتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
