Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 40
No Download Link
Rate this Novel
Episode 40
کبیر روم سے نکلا تو مرتضی اور مدیھا کی صلح کرا کر نکلا تھا
۔جبکہ خود بھی ۔۔ مدیھا سے بات کی تھی اسکے آنسو صاف کیے تھے ۔۔وہ اپنی ماں کو تکلیف نہیں دینا چاہتا تھا بس۔۔اسے تکلیف ہوئ تھی کہ انھوں نے اس سے چھپایا ۔۔۔
وہ روم سے نکلا تو کافی مطمئین تھا ۔۔اور اسنے دروازہ کھولا ۔۔۔ تھکاوٹ بھی ہو رہی تھی جیسے ہی وہ اندر داخل ہوا ۔۔ ویسے ہی کوشن اسکے منہ پر آ لگا ۔۔۔
اسنے غصے سے نین کو دیکھا جو۔۔۔۔ آنکھیں سرخ کیے منہ پھولے ۔۔ بیڈ پر بیٹھی تھی کبیر کو اسپر بہت پیار آیا ۔۔۔
اوہ تو نین صاحبہ میں جنگلی بیلی گھس گئ ہے”
شیٹ آپ ۔۔۔۔ مجھے آپ اپنے کمرے میں بلکل نہیں چاہیے ہو ۔۔جاو یہاں سے “وہ چہرہ مورتی بولی ۔۔۔
کہاں جاؤ گا ” کبیر اسکے پاس بیٹھ گیا نین بیڈ پر سے اٹھ گئ ۔۔
کبیر نے ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔
چھوڑیں ہاتھ میرا مجھے غصہ آ رہا ہے “
یار آیت سے جیلسی کا کیا تک ہے بہن ہے وہ میری “
میں کب کر رہی ہو آیت سے جیلسی ۔۔ مجھے بتا سکتے تھے آپ کہ آپ آج لیٹ آئیں گے آیت کے ساتھ ہیں ۔۔۔ یہ کچھ اور کھانا کھا کر آئیں گے
آپکے بچے نے میرا خون خشک کر دیا ہے مجھے ٹھیک سے دیکھائی بھی کچھ نہیں دے رہا میں نے کچھ کھایا ہے یہ نہیں اپکو پتہ بھی ہے ان تین دنوں میں ” وہ تو غصے سے چیخی ۔۔ کبیر نے اپنی ہنسی روکی ۔۔
اور اٹھ کر اسکے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔
آہستہ بولو ۔۔سب سن لیں گے گھر کے بڑے بیٹے کی بیوی نے اسے سنا کر رکھ دی ہے “
وہ اسکے منہ پر ہاتھ رکھتا اسکی آنکھوں پر پیار کرتا بولا ۔۔
نین نے اسے دورجھٹکنا چاہا ۔۔
اچھا سوری ۔۔۔ میں آئندہ سے خیال رکھو گا۔۔ میں تو بھول ہی گیا تھا ۔۔ہمارے بیبی کو
کیا “
اوہ شیٹ” کبیر نے زبان دانتوں تلے دبائے یہ وہ کیا بول رہا تھا
۔۔۔
آپ آپ ہمارے بچے کو بھول گئے ” نین تو حیران رہ گئ ۔۔
نہیں میری جان میرا مطلب تھا ۔۔۔ کہ ۔۔۔ میں آئندہ خیال رکھوں گا نہ ” وہ سٹپٹا ہی گیا ۔۔
نہیں آپ نے کہا میں بھول گیا تھا ۔۔۔ ” نین نے اسکا ہاتھ ہٹایا ۔۔جبکہ کبیر نے اسے احتیاط سے بیڈ پر دھکیل دیا ۔۔۔
اور خود جھک کراسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔۔
اسنے غصے سے آنکھیں پھیر لیں تھیں مگر مزاحمت ختم کر دی تھی ۔۔۔
کبیر مسکرا کر اسے دیکھ رہا تھا ۔۔
سوری” اسنے اسکے گال پر پیار کیا ۔۔۔
نین ایکدم خفیف سی ہوئ ۔۔
مجھے بھوک لگی ہے” وہ اسکو خود پر سے ہٹانے لگی ۔۔۔
اوکے بتاؤ کیا کھاؤ گی ” کبیر نے اسے اٹھایا۔۔۔اور ۔۔۔ اسکا چہرہ تھام لیا ۔۔۔
اسکے شکوہ کرنے کا انداز
۔۔ دل کو نئی امنگ دے گیا تھا ۔۔۔
اممم ممم ایکچلی مجھے ۔۔۔۔ مجھے اوہ ہاں ۔۔ مجھے جانا ہے کہیں ۔۔ “
باہر جا کر کھانا ہے ” کبیر سمھجا نہیں ۔۔
نہیں جی میں تھکی ہوئی ہوں اور کھانا تو میں کھا چکی” وہ ایکدم زبان دانتوں میں دبا گئ ۔۔
جھوٹی چالاک لڑکی” کبیر نے افسوس سے اسکو دیکھا جبکہ نین کا قہقہہ ابھرا ۔۔۔۔
اور کبیر نے اسکو قابو میں کر لیا ۔۔اسکی ہنسی کو ۔۔۔ قید کر لیا ۔۔
لمہے تھم سے گئے
۔۔۔ نین نے اپنی محبت کا اظہاراسکے پیار کے جواب میں پیار کر کے دیا تھا ۔۔
کبیر تو جیسے دیوانہ سا ہو گیا ۔۔ یہ پہلی بار تھا ۔۔ جو اسکے کسی عمل پر وہ آگے سے ایکشن دے رہی تھی ۔۔
نین شرما سی گئ ۔۔۔
کبیر کی دیوانگی پر جو اسکی سانسوں کو بھاری کر چکیں تھیں
۔
ایک ایک منٹ” اسے گویا کچھ یاد آیا ۔۔۔
کبیر نے خمار بھری نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔
میں نے اپکوایک شرط پر معاف کرنا ہے “وہ بولی ۔۔
حکم کریں ۔۔” کبیر نے اسکے پھولے پھولے گالوں پر پھر سے پیار کیا ۔۔
ہم کہیں گھومنے نہیں گئے مجھے بھی جانا ہے “وہ بولی تو کبیر ہنس دیا ۔۔
ہنی مون پر” وہ آنکھوں سے اشارے کرتا بولا ۔۔
نین نے گھورا۔۔۔۔
کسی خوبصورت جگہ قدرت کے نظارے دیکھنے” وہ بولی ۔۔۔۔
ہاں تم نظارے دیکھنا میں تمھیں” وہ اسکی زبان پھر سے بند کرتا بولا ۔۔
نین نے احتجاج کیا ۔۔
پہلے بتائیں ۔۔ لے چلیں گے “
حکم سر آنکھوں پر میری جان جہاں کہو گی وہیں” وہ مسکرایا ۔۔ نین بھی مسکرا دی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیمل کے لیے یہ سب کرنا بے حد مشکل تھا جو کہ نین اسے پڑھا کر اوپر بھیج چکی تھی ۔۔۔۔
وہ بار بار سیڑھیوں پر سے اتر جاتی ۔۔۔ مگر پھر اسنے اپنی مٹھیاں بند کر لیں ۔۔۔
نیچے رہی تو ۔۔افشین آ جائے گی ۔۔ تبھی بہتر تھا وہ اوپر ہی چلی جاتیں ہاں ٹھیک ہے وہ اسے سنا کر آیت کے روم میں چلی جائے گی ۔۔
اسے خیال کرنا چاہیے تھا۔۔ کوئ اسکا منتظر ہے ۔۔ وہ ایسے کیسے آوارہ پھر سکتا ہے ۔۔ بدتمیز انسان ۔۔
زیمل سوچنے لگی ۔۔۔
وہ سیڑھیوں سے اوپر دیکھ رہی تھی ۔۔
افشین نے اسے لاونج سے دیکھا اس سے پہلے وہ اسکی طرف بڑھتی زیمل اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔۔۔
افشین کے چنگاریاں لگ گئیں تھیں ۔۔۔
اور اسکے دماغ میں ۔۔ زبردست ترکیب ایکدم آئ ۔۔۔۔
چپکے سے وہ ۔۔ بھی سیڑھیاں چڑھ گئ ہاتھ میں موجود موبائل کو اسنے سختی سے پکڑ لیا ۔
زیمل نے پیچھےسے دروازہ بند نہیں کیا تھا ۔
سالار دوسرے روم میں تھا ۔۔۔۔ جبکہ زیمل دوسرے روم میں کھڑی تھی ۔۔۔
افشین نے زیمل کی پشت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ۔۔ موبائل کی وڈیو اون کر کے ۔۔۔۔
اسے آہستگی سے ۔۔ صوفے کے نزدیک رکھ دیا ایسے کہ
دونوں کی نگاہ اسپر نہیں جاتی اور کمرے میں ہونے والا سارا منظر صاف دیکھائی دیتا ۔۔۔۔
وہ پیچھے نکل گئ ۔۔
میں تمھیں رسوا کر کے نکالوں گی اس گھر سے ۔۔ زلیل لڑکی” سا زیمل کے بارے میں نفرت سے سوچ کر وہ چپ چاپ اپنے کمرے میں آ گئ ۔۔ جبکہ زیمل ۔۔۔۔ نے اپنے اندر پوری طاقت جمع کر لی تھی آج ۔۔۔۔
وہ کھانا نہیں لائ تھی ۔۔ سالار شاور لے کر نکلا تو بال گیلے تھے ۔۔۔۔
اسنے زیمل کی جانب دیکھا ۔۔۔ بلیک ڈریس میں ۔۔ وہ منہ پھولائے بنا ہاتھ میں کچھ بھی تھامے ۔۔۔۔ کھڑی تھی بس ایک نگاہ میں ہی وہ سامنے والے کو شرمندہ کرسکتا تھا ۔۔۔
اوپر سے نیچے تک اسے اچھے سے دیکھا تھا یہ ڈریس وہ اسکے لیے لایا تھا ۔۔۔
اور وہ جانتا تھا اس ڈریس کے تمام راز۔۔
مطلب بکری زبح ہونے آ گئ خود ہی” وہ۔۔ مزے سے سوچتا۔۔۔
سپرے خود پر کرتا ۔۔اسکیطرف بڑھا ۔۔
ایک ایک منٹ آپ شرٹ ڈالیں مجھے آپ سے بات کرنی ہے” زیمل جھجھک کر دور ہوتی جلدی سے بولی ۔۔
اسکے سامنے ساری ۔۔۔ ہوا سرک گئ تھی ۔۔
میرا چھوٹا سا بچہ ۔۔۔ اندر آ کر بات کرے گا ۔۔ یہ میں باہر آؤ ۔۔۔اور رہی شرٹ کی بات وہ تو۔۔۔ میرا کمرہ ہے میرا موڈ نہیں” وہ سکون سے اسے فلرٹی انداز میں دیکھتا بولا ۔۔۔
دونوں ہی نہیں جانتے تھے یہ سارے منظر کیمرے کی آنکھ محفوظ کر رہی ہے ۔۔۔۔
آپ آپ کتنے بدتمیز ہیں”زیمل کی سانسیں اسے دیکھنے سے ہی بھاری ہو گئیں ۔۔۔۔
میں بدتمیز بدتہذیب رومنٹک سیک”
سالار” زیمل چیخی ۔۔
۔ حکم جان سالار” وہ لبوں میں ہنسی دبائے اسکو گھیری نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔
کھانا تو لائ نہیں ۔۔ تم” سالار نے ٹیبل خالی دیکھی ۔۔
ان لوگوں نے صرف آئسکریم کھائ تھی تینوں نے ہی کھانا نہیں کھایا تھا ۔۔
اچھا تو کھانا کھا کر نہیں آئے آپ” وہ طنز کرتی بولی ۔۔
سلاار پل بھر کو حیران ہوا ۔۔
اور جیسے ہوش میں آتا ۔۔ وہ زیمل کو اپنی طرف کھینچ گیا ۔۔
زیمل کی چھوٹی سی چیخ نکلی اور وہ کانپتی اسکے سینے سے لگ گئ ۔۔۔
مجھ جیسے ڈھیٹ پر کوئ بھی طنز کرنے ہیں تو بے حد نزدیک آ کر کرنے ہوں گے”اسکے تل کو انگوٹھے سے چھوتا وہ بولا ۔۔
سیاہ لباس میں آفت لگ رہی تھی اور ۔۔اسپر غصہ ۔۔
سالار فدا نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔۔
دوبار ہارٹاٹیک آج زیمل کو بھی دے دینا چاہتا تھا ۔۔۔
تم میرا انتظار کر رہی تھی ” وہ نرمی سے اس تل پرلمس رکھ گیا ۔۔
زیمل کا دل ۔۔ دھڑک اٹھا۔۔۔۔
اسنے سالار کو شولڈرزسے جکڑ لیا ۔۔
جبکہ سالار نے اسکی کمر پر گرفت سخت کر لی ۔۔
وہ بتا نہیں سکتا تھا اس وقت اسے کتنا سکون ملا تھا ۔۔۔۔
اپنی من پسند چیز کو قریب سے چھو کر ۔۔۔
۔ بتاؤ نہ تمھاری آنکھوں نے میرا انتظار کیا تھا ” وہ اگلا لمس اسکی آنکھوں پر چھوڑنے لگا ۔۔زیمل کا سر جھکتا چلا گیا ۔۔۔
وہ کچھ کہہ نہیں سکی ۔۔ اسکی قربت اتنی پر اثر تھی اسکے لفظ کہو گئے تھے ۔۔ بس دل کی دھڑکنوں کا شور سن رہی تھی ۔۔
سالار نے اسکے چہرے کو اونچا کیا ۔۔۔اور اسکی گردن پر جیسے ہی وار کیا ۔۔
زیمل سٹپٹا گئ ۔۔اس سے دور ہونا چاہا مگر اسے سالار کے دانت گردن میں گڑھتے محسوس ہوئے ۔۔۔
سالار” وہ تکلیف سے کراہ اٹھی ۔۔
مجھ سے دور جانے کا اب سوچنے بھی مت ۔” اسکے بالوں کو مٹھی میں جکڑتا وہ ایکدم غصےسے بولا ۔۔۔
غصہ تو زیمل نے کرنا تھا ۔۔۔۔
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگی ۔۔
سالار نے گھما کر اسے صوفے پر دھکیلا تھا ۔۔۔۔
سالار پلیز ۔۔۔” زیمل اسکے ارادوں سے پریشان ہو گئ ۔۔۔
کیا پلیز ۔۔۔ اور کتنا برداشت کروں میں تم سے دوری ” وہ صوفے پر غصے سے ہاتھ مارتا بولا جھنجھلا گیا تھا ۔۔بیوی ہاتھ نہیں لگ رہی تھی اور اندر کی خواہش سر توڑ کر اٹھ رہی تھی ۔۔۔۔
زیمل سہمی سہمی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
آپ مجھ پرغصہ نہیں کر سکتے میں نے کرنا تھا آپ پر” وہ رو دینے کو ہوئ ۔۔
سالار تیوری چڑھائے اسے گھورنے لگا ۔۔
کس بات پر غصہ کرنا تھا تمکو مجھ پر ” وہ اسپر بلکل جھکا پوچھنے لگا ۔۔ نظر پھراس مسکراتے تل پر چلی جاتی
۔۔جو اسے اپنی جانب کھینچتا تھا ۔۔۔
سالار کا بے ساختہ پھر سے انگوٹھا اس تل پر ٹھر گیا اور کھیلنے لگا ۔۔۔۔
آپ میں ۔۔۔ وہ ” زیمل میں کہاں ہمت تھی ۔۔۔۔
بس کرو بس کرو ۔۔۔۔ کیا پاگل کر رہی ہو مجھے” وہ ضبط کرتا بولا ۔۔ زیمل
اسکی آنکھوں میں دیکھ سکتی تھی ۔
ضبط ۔۔وہ سر جھکا گئ ۔۔۔
اور سالار نے ۔۔ جیسے سب چیز پس پشت ڈال دی مزید اس سے برادشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔
زیمل کے بال مٹھی میں جکڑ کر اسکا چہرہ اونچا کیا اور شدت ۔۔سے بھرپور ۔۔ اٹیک اسپر کیا ۔۔ زیمل پھڑپھڑا ہی گئ ۔۔
سالار البتہ اپنی جیت پر خوش تھا ۔۔۔
زیمل کے سر کو اسنے جھٹکا دیا ۔۔۔
گویا احتجاج بند کرنے کا آرڈر دیا تھا ۔۔۔۔
فورا ہاتھا اسکی گردن میں پھنسا لیا ۔۔۔
سالار کے لیے یہ لمہے یادگار جبکہ ۔۔۔ زیمل کے لیے زرا تکلیف دہ تھے ۔۔۔۔
وہ اپنی من مانی کرتا رہا تا دیر ۔۔۔۔ بلکےاتنی دیر کے زیمل کی سانس بھی اب مشکل سے آ رہی تھی ۔۔ جبکہ سالار کو محسوس ہوا تو اس سے دور ہوا ۔۔۔
زیمل نے آنکھیں سختی سے بھینچ رکھیں تھیں ۔۔
سالار نے اسکے ماتھے پر پیار کیا ۔۔
کل میرے ساتھ چلو گی تم ۔۔۔ ہم نے کہیں جانا ہے ۔۔اوکے ۔۔” وہ اسکے زخمی لبوں کو دیکھتا
۔۔ فخر سے مسکراتا ۔۔ گال تھپتھپا کر بولا ۔۔
زیمل نے سرخ آنکھیں کھولیں ۔۔۔
اور مجھ سے دور جاؤ ۔۔ساری نرمی بھول جاؤ گا ۔۔” وہ اس میں بھی اسکا قصور نکالنے لگا ۔۔
زیمل سر جھکا گئ ۔۔سالار نے ٹشو ۔۔اسکے اداس تل پر رکھ دیا ۔۔۔ہنسی بھی آئ ۔۔ زیادہ اترا رہا تھا ۔۔
یہ جانے بنا کہ وہ ہے کس کا ۔۔
اور مجھ سے لڑنے مت آیا کرو ۔۔۔” وہ مسکرا کر کہنے لگا ۔۔
پھر انجام تو تم دیکھ ہی رہی ہو ” وہ اسکو پیار سے پچکارتے بولا ۔۔۔
کیا ہو کومے میں چلی گئ ہو ” سالار کا قہقہہ نکلا ۔۔
ہٹے یہاں سے ۔۔جانا ہے مجھے”
وہ بولی خفا خفا سی ۔۔
کہا ہے نہ میرے پاس سو گی ۔۔” وہ گھور کر بولا ۔۔
زیمل نے اس زبردستی پر پاؤں پٹخا ۔۔
سالار نے ہنسی روکی
مووی دیکھو گی “
وہ پوچھنے لگا
نہیں” وہ آنسو بھری آنکھوں کو صاف کرتی بولی ۔۔۔
رومنٹک ہے ” سالار آنکھ مارتا بولا ۔۔۔
میں کیسے رہوں گی اس آدمی کے ساتھ” زیمل کو اب خود پر افسوس ہونے لگا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ جب اسکے پاس سوتی تھی ۔۔ تو دنیا بھول جاتی تھی۔۔
اب بھی اسکی بانہوں میں ۔۔۔ وہ سب بھول بھال کر سو رہی تھی ۔۔
سالار کی ہی آنکھ پہلے کھلی تھی ۔۔
اوہ شیٹ” وہ ایکدم اٹھا ۔۔ زیمل کا سر بھی اسکے بازو سے ہٹا ۔۔ وہ بھی سٹپٹا کراٹھی ۔۔
سوری میری جان ۔۔۔ ایک بار رخصتی ہو جائے ۔۔ اسکے بعد ساری نیندیں پوری کرنا ۔۔۔۔
فلحال بھاگو ۔۔۔” وہ اسکو بھی پریشان کر گیا ۔۔
زیمل حونک سی اٹھی ۔۔۔ اور دوپٹہ بھی اٹھا لیا ۔۔ اسےاس حرکت سے مزید شرمندگی ہو رہی تھی سالار نے بھی محسوس کر لیا
۔
جبکہ وہ اسکے پاس آیا
۔۔
اسکے تل کے نزدیک زخم اب بھی تھا ۔۔۔
بہت جلد ۔۔۔ ” اسکے ماتھے پر پیار کر کے اسنے ۔۔جیسے اسے کہا تھا ۔۔۔
زیمل باہر نکلی سالار پیچھےسے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔اچانک اسکی نظر ۔۔ صوفے کے پاؤں میں گئ ۔۔
روکو ۔۔۔” زیمل کو اسنے روکا۔۔۔
جی ” زیمل بے دھیانی میں اسے دیکھنے لگی ۔
سالار مسکرا دیا ۔۔
جی کی بچی اتنی پیاری کیوں ہو تم” وہ اسکے گال کھینچ کر بولا
۔
زیمل نے سر نفی میں ہلایا اور جانے لگی ۔۔
سالار ہنس دیا اور صوفے کے نیچے ہاتھ مارا ۔۔ اور موبائل باہر نکل لیا ۔۔
زیمل کے رنگ فق ہوئے تھے
۔۔ جبکہ ۔۔ سالار کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں تھیں ۔۔۔۔
اور پیچھے کیا تو وہ ویڈیو چل رہی تھی کل رات کی انکی ساری ویڈیو سیو تھی اس میں ۔۔۔
اسکے لہو میں انگارے اٹھ گئے یہ دیکھ کر یہ افشین کا موبائل ہے ۔۔۔۔
اسنے زیمل کیطرف دیکھا جو ۔۔ پتے کیطرح کانپ رہی تھی ۔۔
س۔۔سالار” وہ سسک اٹھی وہ رات اسے زلیل کرنے کا کوئ موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہی تھی
سالار نے مٹھی میں موبائل جکڑ اور زیمل کا ہاتھ تھام لیا
سالار ہاتھ چھوڑیں میرا ” زیمل خوف سے اس سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگی ۔۔۔
اسے ایک بار پھر اپنی نااہلی پر تپ چڑھی تھی یہ وجوہات تھیں جو زیمل اور اسکے بیچ کی دیوار نہیں گیر پا رہی تھی جب کہ وہ سمجھہ رہا تھا کہ زیمل کے ساتھ کوئ سائیکو پروبلم ہے اور اسنے سائکیٹریسٹ سے آج ٹائم بھی لیا تھا مگروجہ تو یہ تھی یہ منحوس عورت جس کے آج وہ ٹکڑے کر دے گا اسنے سوچ لیا تھا ۔۔
انف”وہ دھاڑا ۔۔۔۔
زیمل کے آنسو تھمے ۔۔
آئ سیڈ شٹ یور ماوتھ ۔۔۔۔ ایک ایک لفظ بھی مزید تمھارے منہ سے نکلا تو زبان گدی سے الگ کر دوں گا ۔۔اور تم سے تو میں اچھے سے بعد میں پوچھوں گا ” وہ اتنی سختی سے بولا ۔۔
اور زیمل کو اپنے ساتھ گھسیٹتا وہاں وہ نیچے لے آیا ۔۔۔۔
سب موجود تھے ۔۔ مرتضی آیت کبیر اور عارض ۔۔۔ باقی سب بھائ بھی ۔۔۔ آفس جانے کے لیے نکلنے لگے تھے ۔۔۔۔۔
سالار کو اسطرح آتے دیکھا مرتضی نے بھڑک کراسکو دیکھا تھا اسکی شرٹ کے بٹن بند نہیں تھےاورکس جرت سے وہ ۔۔زیمل کا ہاتھ پکڑ کر ماں بھنوں کے سامنے پھنچا تھا ۔۔۔۔
سمجھتی کیا ہے آپکی بیوی خود کو” وہ زیمل کا ہاتھ جھٹک کر سکندر تک پہنچا ۔۔۔اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھاڑا “
سکندر نے سب کیطرف دیکھا سب ہی حیران تھے ۔۔۔ اسکی بات پر ۔۔
میں پوچھتا ہوں اسکا حق کیا بنتا ہے میری بیوی کو ڈرانے کا یہ پھر میری پرائیویسی میں اپنی ٹانگیں اڑانے کا ” وہ چیخا۔۔۔۔
کیا ہواہے” مرتضی کو اسکے چیخنے کی وجہ سمجھہ آ رہی تھی
وہ گھٹیا عورت میری ویڈیو بنا کر میری بیوی کو زلیل کرنا چاہتی تھی میں نے بابا اپکی وجہ سے پہلے بھی اس بات کو اگنور کیا ہے مگر گھر میں اس بات کو کسی نے اہمیت نہیں دی مگر اب یہ ۔۔۔ اسنے موبائل افشین کا زمین پر کھینچ کر مارا ۔۔ غصے سے ۔۔۔ اسکا چہرہ پھٹنے کو تھا ۔۔
سب سن لیں میں یہ گھر چھوڑ کر جا رہا ہوں اس افشین کو اپنی گود میں سجا کر رکھیں ۔۔۔ میں ایک لمہے کے لیے مزید اس عورت کو برداشت نہیں کروں گا ۔۔” وہ غرایا ۔۔۔
سالار” مرتضی نے اسے روکا ۔۔۔
بس بابا ” وہ تو ہتھے سے اکھڑ گیا تھا ۔۔
سکندر افشین کو بلاؤ” مرتضی غصے سے بولے ۔۔۔
سالار مٹھیاں بھینچتا کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔
جبکہ سکندر کی شرمندگی کی انتہا نہیں تھی ۔۔ افشین اپنے پورشن سے جھانک کر یہ سب دیکھ رہی تھی ۔۔ سکندر کی نظر اسپر پڑی تو۔۔ افشین کو کھینچ کر باہر نکالا ۔۔۔
غصے سے سالار نے اس عورت کو دیکھا تھا اور پھر اپنی روتی ہوئی بیوی کو ۔۔
اگر تمھاری آنکھ سے ایک آنسو بھی نکلا تو سب کے سامنے مار مار کر تمہارا حشر بگاڑ دوں آگے روتی رہنا پھر” وہ زیمل کو جھٹک کر دھاڑا سب خاموش اپنی جگہ کھڑے رہ گئے ۔۔۔
افشین کی اس حرکت سے سب ہی شرمندہ ہو گئے تھے ۔۔۔
کیا کیا ہے یہ تم نے” سکندر نے افشین سے پوچھا ۔۔
میں اس لڑکی کو جان سے مار دینا چاہتی ہوں ” افشین چلائ تھی اور چیختی چیختی زمین پر بیٹھتی چلی گئ ۔۔ جبکہ سکندر نے کھینچ کر اسکے منہ پر تھپڑ دے مارا ۔۔
مجھے سمجھہ آ گئ ۔۔
کہ تم یہاں رہنے قابل نہیں ہو” سکندر کے پاس کوئ جواب نہیں تھا اسکے علاؤہ ۔۔۔
نہیں یہ جائے گی اس گھر سے “وہ اٹھ کر زیمل پر جھپٹتی کے سالار نے اس پاگل عورت کو دور دھکا دیا ۔۔ اور سکندر نے افشین کو تھام لیا
جاری ہے
