Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 47

ایک سال بعد ۔۔۔
ایک سال گزرنے کے بعد بھی سب ویسا ہی تھا ۔۔ مرتضی ہاوسایس امنظر دیتا جیسے بڑا سنگین حادثہ ہوا ہو ۔۔۔
اور درحقیقت وہ سب کے لیے یہ سنگین حادثہ ہی تھا ۔۔۔
ایک سال سے کبیر عارض زین افان سب اپنی اپنی کوششوں میں تھے کہ کسی طرح سالار تک پہنچ جائیں ۔۔۔۔
دو چار بار لندن بھی گئے تھے وہ ایک سال میں ہی ۔۔۔
مگر نہ سالار نے کسی سے ملنا اتھا اور نہ ہی وہ ملا تھا ۔۔اسکے نمبر کھلے تھے مگر کلا۔ایک سال میں ایک بار بھی اٹینڈ۔ نہیں ہوئ ۔۔۔۔
وہ اسے ٹی وی پر دیکھتے تھے
اسکی موڈلینگ اسکی ہالی ووڈ فلم جس نے اسے اور بھی فیمس کر دیا تھا ۔۔۔اسکے انٹرویو ۔۔۔۔
اسکی پرسنلٹی میں مزید چار چاند ہر گزرتے دن کے ساتھ لگتے جا رہے تھے ۔۔ اسکے سونگز ۔۔۔اسکے کونسرٹس ۔۔۔۔
سب گھر والے دیکھتے تھے مگر ۔۔۔ ٹی وی میں سے اسے چھوا نہیں جا سکتا تھا ۔۔۔
وہ چھپا نہیں تھا ۔۔۔وہ خاموش ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
ان لوگوں سے بلکل خاموش۔۔۔۔۔۔
اور یہ خاموشی ہر فرد کے دل کو چیر رہی تھی ۔۔
جو اسپر گزری ۔۔۔۔ کسی پر گزرے تو آدمی ایک بار سوچے ۔۔۔۔
وہ مرتضی کا بیٹا نہیں تھا ۔۔۔ یہ غم اسکے لیے بہت بڑا ہو گا ۔۔یہ سب جانتے ہیں ۔۔مگر غم پر ازیت یہ کہ ۔۔۔وہ تو دریا اور بیچاگیا تھا ۔۔۔۔
سب جانتے تھے کتنی آنا تھی اس میں اسکا مان تو ٹوٹا تھا ۔۔ اسکی محبت بھی چکنا چور ہوئ تھی ۔۔۔۔
سب سے زیادہ باغی زیمل سے زین وہ گیا تھا ۔۔۔
وہ جہاں کہیں بھی اسکو دیکھتا اسپر طنز ضرور مارتا ۔۔۔
کبیر کے ہاں ۔۔ ایک پیاری سی بیٹی ہوئ تھی منہا جو کہ اب چھ ماہ کی وہ گئ تھی جبکہ ۔۔ عارض اور آیت کی نور تو اب دو سلا کی وہنے ولایت تھی پورے گھر میں چہچہاتی پھیرتی ۔۔۔
اور اگر کسی کے چہرے پر غلطی سے مسکراہٹ ا بھی جاتی تو وہ نور اور منہا کی وجہ سے آتی تھی ۔۔اور جسیے اس مسکراہٹ میں پھر سب کو وہ یاد آنے لگتا ۔۔
گھر خالی وہ گیا تھا جیسے بے وزن تھا سب درہم برہم ہو گیا تھا ۔۔۔
مدیھا ہارٹ کی مریضہ ہو گئیں تھیں ۔۔اور پورا ایک سال گزر گیا تھا مرتضی سے ایک لفظ بھی وہ نہیں بولیں تھیں ۔۔ جبکہ مرتضی صاحب تو اسطرح خاموش ہوئے جیسے انکے لب سلے گئے ہوں ۔۔۔
جیسے وہ مزید خود میں بولنے کی سکت نہیں پاتے
۔ نہ ہی وہ اپنے کمرے سے باہر نکلتے تھے ۔۔
کبیر نے جان توڑ محنت کر لی تھی کہ دونوں ماں باپ ایک دوسرے سے بات کر لیں ۔۔۔ عارض گھنٹوں ان سے بیٹھ کر باتیں کرتا ۔۔۔ مگر ۔۔ کوئ اثر نہیں نکلا تھا ۔۔ زین البتہ اس حد تک باغی ہو گیا تھا کہ ماں باپ کے آپس بھی نہیں بیٹھتا تھا خاص کر مرتضی کے آپس مدیھا کے پاس پھر بھی چلا جاتا ۔۔۔
کسی کو بنا بتائے ہی اسنے پولیس میں اپلائے کیا تھا اور ۔۔۔ اکثر وہ پوسٹینگ جب ہوتی تو شہر سے کچھ عرصے باہر ہی رہا اور پھر کبیر نے بھڑک کر اپنے سورسز استعمال کر کے ۔۔ اسکو اپنے شہر شیفٹ کرا لیا تھا ۔۔ زین کبیر کو بھی گھاس نہیں ڈالتا تھا ۔۔سگ سے بدتمیزی سے بات کرنا اسکے لیے عام وہ گیا تھا ۔۔ جبکہ زیمل کے لیے وہ دوسری افشین ثابت وہ رہی تھی ۔۔
وہ کھاتی پیتی جہاںکہیں بھی ہوتی اگر زین اسے دیکھ لیتا تو ۔۔اسپر طنز کے تیر مارنا شروع کر دیتا ۔۔۔
جس سے زیمل بری طرح ہرٹ ہوتی تھی مگر جائز سمھجہ کر سب سن لیتی ۔
کبیر اور نین کے بیچ سب ٹھیک وہ گیا تھا مزید کبیر اپنے حق میں نقصان نہیں چاہتا تھا سب بھلائے اپنی بچی کی پیدائش پر اسنے نین کے ہر آنسو کو خود میں سمیٹ لیا تھا اسے خود بھی سمٹنے کی ضرورت تھی اور نین اسکا ہر جگہ بے حد ستاھ دیتی تھی ۔۔۔۔۔
جبکہ دوسری طرف آیت بھی عارض سے اب ۔۔۔ نارمل ہونے لگی تھی عارض نے اسکا کسی پھول کی مانند خیال رکھا تھا ۔۔۔۔
اسکی ہر خواہش پر ہر حکم پر سر خم کیا تھا ہر وہ کام کیا تھا جس سے ۔۔ایت خوش ہو جائے ۔۔۔
اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ۔۔اور اپنی بچی کی باپ سے اٹیچمنٹ دیکھ کر اور اسکی کئیرا ور اسکی آنکھوں کی سچائ دیکھ کر ۔۔ایت ۔۔۔ کے زخم بھی بھرنے لگے تھے ۔مگرا ب بھی اکثر جب وہ کام کے سلسلے میں کہیں جانے کا کہتا تو وہ
۔صاف انکار کر دیتی ایک لمہے کے لیے بھی اسے خود سے دور نہیں آنے دیتی تھی ۔۔
ایت نور اور عارض کا لاڈ پیار اکثر بھری ہوئ آنکھوں سے دیکھتی رہتی ۔۔ ہمیشہ اپنے ولاد کو اسنے ۔۔مس کیا تھا ۔۔۔
بچوں کیطرح اکثر عارض نے اسے روتے بھی دیکھا تھا ۔۔اسنے آفتاب کی لاکھ منتیں کر لیں تھیں مگرا س شخص کے پا س وقت نہیں تھا اپنی بیٹی سے ایک لمہے بھی ملنے کا ۔۔۔ وہ ہر ممکن کوشش کرتا ۔۔ آیت کو کسی کی یاد نہ آئے مگر ۔۔۔ وہ جانتا تھا یہ غم وہ اپنے سینے میں چھپائے ہوئے ہے ۔۔
آیت نے عارض ۔۔۔ کو معاف کر دیا ۔۔ تو عارض ۔۔۔ جیسے نئے سرے سے کی اٹھا تھا
۔وہ سوچ چکا تھا مزید وہ آیت کی آنکھوں میں آنسوں مہینا نے دے گا ۔۔اسکی آنکھ کا ہر غم سمیٹ لے گا خود میں اور ایساثابر بھی ہوا تھا ۔۔۔۔
کہ اسنے آیت کو گزشتہ سال بھر میں ۔۔۔ تمام خوشیاں اسکے قدموں میں ڈھیر کر دیں تھیں ۔۔۔۔
اسکے چہرے کی ایک مسکراہٹ کے لیے وہ ۔۔۔ ساری رات نور ۔۔ کو گود میں لیے کھڑا رہتا کہ ۔وہ ۔۔ نور کو ۔۔۔عارض کے پاس دیکھ کر سب سے زیادہ خوش ہوتی تھی ۔۔ اور عارض کو جتنی اپنی اولاد سے محبت تھیا س سے کئ گناہ بھڑ کر اپنی بیوی سے تھی ۔۔۔۔
اکثر وہ زین کو ڈانٹ دیتا جب وہ زیمل کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آتا
۔۔ اسکی انسلٹ کرتا بار بار اسے احساس دلاتا کہ وہ کسییس بیوی ہے جس نےا پنے شوہر کا ہاتھ برے وقت میں چھوڑا ۔۔۔۔
مگر زین پر کسی کی ڈانٹ کا کوئ اثر نہیں ہوتا تھا ۔۔۔۔
وہ اپنی مرضی پر اتر آیا تھا ۔۔۔
جوب لگنے کے بعد اسنے کبیر سے ایک دن تھپڑ بھی کھایا تھا ۔۔ کیونکہ اس دن اسنے زیمل کو بری طرح رولا دیا تھا ۔۔اور پھر سلبھیا سے سکون نہیں ملا تھا عارضکا خود بس نہیں چل راہ تاب اسکا منہ توڑ دے ۔۔۔۔ ۔
وہ امانت تھی سالار کی انکے پاس ۔۔۔جس کا کبیر اور عارض خوب خیال رکھتے تھے مگر زین نے قسم کھا لی تھیا سے مشکل میں ڈالنے کی ۔۔
اور زین پر اس تھپڑ کا بھی کوئ اثر نہیں ہوا ۔۔
اور اوہ زین جو بڑے بھیا کے نام سے ہی کانپ جاتا تھا ۔۔اسنے دوسرا گال آگے کر دیا کہ وہ ۔۔ جو کرنا چاہتا ہے کرے گا ۔۔۔
اسکا باغی ہم تو سب کو نظر آ رہا تھا ۔سگ جانتے تھے سالار کی جان تھا وہ اور اسے عادت تھی ہر جگہ سالار وک پکارنے کی اور اب جب زندگی کےا تنے بڑے بڑے فیصلے کرنے تھے تب سالار نہیں تھا ۔۔اور یہ بات اسکے زین کو منتشر کر چکی تھی ۔۔
افان اور پریشے کا راستہ طے کر دیا گیا جبکہ انکی شادی کی ڈیٹ بھی رکھ دی ۔۔جبکہ دوسری طرف عمل کا بھی ایک اچھے گھرانے سے رشتہ آیا تھا ۔۔ اورپریشے کے ساتھ ساتھ عمل کے لیے بھی ہاں کر دی گئ تھی کبیر نے زین اور رمشہ ہے بارے میں بھی سب وک سوچنے کا کہا ۔۔ زین تو ہتھے سے اکھڑ گیا ۔ ۔ٹھا مگر آج بھی کبیر کے فیصلے کے آگے ۔۔اسکی جرت نہیں تھی ۔۔۔ مگر جس طرح وہ بدتمیزی پر اترا ہوا تھا ۔۔ کبیر بس خون کھولا کر رہ جاتا کبیر کا خیال تھا شاید گھر کا ماحول اس شادی سے کچھ تبدیل ہو جائے۔۔۔ تبھی پریشے عمل کی شادیاں ور زین کا نکاح طے کیا تھا
شاید سب کے دماغ بٹ جائیں مگرا فسوس سب ویسا ہی تھا ۔۔
زین نے ور الٹا ادھم اٹھا دیا تھا ۔کہ کس مقصد میں یہ شادی وہ رہی ہے جب اسکا بھائ ہی نہیں ہے ۔۔مگر کبیر نے فیصلہ سنا دیا تھا ۔۔ جس کے ایوز یہ کام ہو رہا تھا اور شہاب بھی اپنے فرضوں سے فارغ ہونا چاہتے تھے سالار آگے کب تک نہیں آتا وہ اپنی دونوں بھنوں کو ساری زندگی کے لیے لٹکانا نہیں چاہتا تھا ۔۔ جبکہ اکسے بھائ کو بھی کسی سہارے کی ضرورت تھی شاید اس نکاح میں بندھ کر وہ پہلے جیسا زین وہ جاتا
صوفیہ تنزیلہ کے ساتھ شادی کی تیاریاں مدیھا بھی کرا رہی تھی مگر چہرہ سپاٹ اور سنجیدہ ہی رہتا ۔۔۔۔
مگر پھر بھی وہ اپنی بیٹیاں سمھجہ کر ہر کام میں مدد کرتی رہی تھیں ۔۔۔ جبکہ زین کا بھی احساس تھا جو بلکل اس نکاح پر راضی نہیں تھا
شادی سادگی سے ہوئ تھی کسی نے سوچانہیں تھا اسکی شادی ۔۔۔ پر جب اسکی محبت اسے ملے گی ۔۔۔ تب ۔۔۔۔ سالار نہیں ہو گا ۔۔۔ وہ اسکے ساتھ نہیں ہو گا جو رازدار تھا اسکا۔۔ بے حد مس کیا تھا اسنے سالار کو ۔۔۔ جبکہ پریشے اور عمل نے بھی رخصتی سے پہلے بھی اور بعد میں بھی وہ بہت زیادہ روئ تھیں ۔۔۔ جبکہ زین اک جب نکاح ہوا تو ۔۔ قبول ہے رمشہ کے منہ پر پتھر کیطرح مار کر وہ اسی رات ۔۔ دو دن کے لیے وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔ رمشہ البتہ اس نکاح اس شادی پر حیران و پریشان تھی مگر باپ کے سمھجانے سے کہ سب ٹھیک وہ جائے گا ۔۔۔ وہ بس سر ہلا گئ ۔۔ کہ شاید ایسا ہی ہو ۔
افان نے پریشے کو اپنی محبت کی برش میں بھگو دیا ۔۔اسے اپنی بے پناہ چاہت اپنے گزرے ہر دن کی تڑپ سنائ تھی ۔۔ پریشے جو اس سے چیڑ کھاتی تھی رشتہ بدلتے ہہی احساس بھی بدل گئے تھے ۔۔۔ جبکہ عمل بھی اپنے گھر میں بھت خوش تھی ان دونوں کے جانے سے ۔ مرتضی ہاؤس اور بھی خالی خالی لگتا ۔۔۔۔
زیمل کا ایک لمہہ بھی ایسا نہیں تھا جو اسکی آید سے خالی گزرتا ۔۔۔۔ وہ اسے ایک ایک لمہے میں میسیج کرتی تھی ۔۔۔
اسے کال کرتی تھی مگر وہ اٹھاتا نہیں تھا ملہمیشہ کال بیزی رہتی تھی شروع شروع میں تو اسے ۔۔۔ یہ سب ۔۔۔ جیسے ضائع لگا کیونکہ وہ اسکا کوئ میسیج نہیں دیکھاتا تھا اور پھر ایک دن جیسے ۔۔وہ اچھل پڑی سالار نے اسکے سارے میسیج سین کیے تھے ۔۔ اور اسکے بعد سے وہ اسکا ہر میسیج دیکھتا ضرور تھا ۔۔سنتا ضرور تھا مگر گزر گیا تھا سلا ایک بار بھی پلٹ کر جوبا نہیں دیا تھا ۔۔۔
زیمل اسے ٹی وی سکرین پر دیکھتی رہتی تھی ۔۔ مگر اسکی آنکھیں زیمل پر نہیں ٹھرتیں تھیں ۔۔وہ ان محبت چاہت سے لبریز بھری نظروں سے اسے نہیں دیکھتا تھا ۔۔
اسے ہمیشہ زین حق پر لگا جب وہ اسے باتیں سناتا ۔۔وہ اسے جائزلگا ۔۔۔ اسنے اس وقت میں اسکا ہاتھ کیسے چھوڑ دیا ۔۔اسکی آنکھوں میں کرنی بے یقینی تھی زیمل اسکی آنکھوں کی بے یقینی سوچ سوچ کر ۔۔ اکثر ۔۔۔ جیسے مرنے وک ہوتی تھی ۔۔ کہاں کہاں مہینا سنے اسکی بات کا یقین کیا ناکھیں بند کر کے اسکی آیت بات کا یقین کیا ۔۔۔ اسک اساتھ ایک مظبوط چٹان کیطرح دیا جو تمام مصیبتیں اپنیے سینے پر سہہ لے اور اپنے پیچھے چھپے اوس وجود پر ناچ بھی نہ آنے دے ۔۔ مگر ۔۔۔ جب زیمل کی ابدی آئ اسنے وہ ہاتھ پی چھوڑ دیا ۔۔
کاش اسے دوبارہ وہ ہاتھ تھامنے کا موقع ملتا مگر اب کیسے ممکن تھا وہ لوٹ کر نہیں ا رہا تھا ۔وہ اسے روز لوٹ آنے کا کہتی ۔۔وہ روزسنتا مگر ۔۔ نہ وہ اتا نہ وہ جواب دیتا ۔۔۔۔
زیمل خود میں خود کو ہی کوستی رہتی تھی ۔۔۔
جبکہ یاک مرتضی تھے اس گھر میں جن کا وقت تھا۔۔۔ جن کی طاقت تھی انکے چار بیٹے ۔۔ جن کی دھاڑ پر چاروں سیدھے وہ جاتے ۔۔۔ آج وہ بس۔۔۔ سالار کی ایک تصویر وک سینے پر رکھے آنکھیں بند کیے لیٹے رہتے انھیں کسی کی ہوش نہیں تھی وہ کسی سے بات نہیں کرتے تھے کبیر عارضکیطرف دیکھتے نہیں تھے زین انسے ملتا نہیں تھا ۔۔۔
اگر وہ کبیر عارضکیطرف دیکھتے تو شاید بچوں کیطرح رو دیتے انھیںا پنے چاروں بیٹے پورے چاہیے تھے ۔۔۔
وہ ان دونوں کو تبھی دیکھتے جب وہ اپنی شرارتی آنکھوں سے انکی طرف دیکھتا ہوا بیچ میں کھڑا نظر آتا ۔۔ یوں ادھورے وہ اچھے نہیں لگتے تھے ۔۔۔۔۔ ایک رمشہ بھی تھی اس گھر میں ۔۔۔جس کو زین نے کبھی نظر بھر کر دیکھا تھا مگر اب ۔۔ اسکی جانب دیکھنا تو کیا ۔۔۔ بات کرنا بھی گوارا نہیں کرتا تھا ۔۔ جب کہ جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا تھا ۔۔رمشہ کے دل میں زین کے لیے جزبات بدلتے جا رہے تھے ۔۔ وہ کوشش کرتی زین سے مخاطب ہونے کی مگر زین پر بات پر جھڑک دیتا ۔۔نکاح کے بندھن میں بندھ کر وہ اسکے لیے نرم جزبات رکھنے لگی تھا ۔۔ اسکے حساس جزبوں کی زین کے نزدیک کوئ ولیو نہیں تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے