Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 29
No Download Link
Rate this Novel
Episode 29
زیمل اسکا زرا سا دھیان بٹتے ہی وہاں سے بھاگ اٹھی جبکہ افشین نے نفرت سے اسکی پشت کو دیکھا تھا ۔۔
تیرے لیے تو میں یہاں جینا مشکل کر دوں گی ۔۔ میرے بیٹے کو مار کر توعیاشی کرتی پھیرے گی ۔۔۔ منحوس ” وہ تڑپ کر بولیں ۔۔۔۔ اور وہاں سے باہر نکلیں ۔۔ تاکہ اسے ہمیشہ کے لیے یہی دفن کر دیں ۔۔وہ اسکے پیچھے نکلیں
جبکہ دوسری طرف زیمل
۔۔ بھاگتی ہوئی ۔۔۔۔ سیدھا سالار کے پورشن تک پہنچی تھی ۔۔اپنے پیچھے انھیں آتا دیکھ ۔۔اسکا دل خوف سے کانپ اٹھا ۔۔۔
اور افشین اسے سالار کے پورشن میں جاتا دیکھ وہیں رک گئ ۔۔۔
جبکہ سالار
نے اپنے پیچھے سے اوپرآنے والا دروازہ بند کر لیا
وہاں مکمل خاموشی تھی۔۔۔
زیمل اس دروازے سے لگا کر وہیں بیٹھتی چلی گئ ۔۔۔۔
اسے اتنا توپتہ تھا وہ یہاں کبھی نہیں آئیں گی ۔۔۔
یہاں اندھیرہ تھا جب کہ دوسرے کمرےکی لائیٹ جل رہی تھی ۔۔۔
اسکی نگاہ سیدھی بیڈ پر گئ ۔۔
وہ یوں ہی انھیں کپڑوں میں جوتوں سمیت بیڈ پراندھا لیٹا ہوا تھا شاید سو گیا تھا ۔۔۔
جو کسی کا آنا اور دروازے کا بند ہونا محسوس نہیں کر سکا ۔۔۔
زیمل نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی سسکی کو روکا تھا
آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔
ایک دل کیا اسکو جھنجھوڑ کر سب بتا دے ۔۔اورالتجا کرے کہ وہ اسے خود میں چھپا لے ۔۔۔
مگر اس میں اتنی ہمت بلکل نہیں تھی ۔۔۔۔
وہ دور سے اسکو دیکھتی رہی اور اچانک اسے سیڑھیوں پر قدموں کی آہٹ محسوس ہوئ ۔۔۔۔
وہ ایکدم دروازے سے دور ہوئ ۔۔
دروازے کو اسنے لوک کر دیا تھا ۔۔ مگر پھر بھی وہ زرد ہو چکی تھی پتے کیطرح کانپنے لگی ۔۔ دروازے پر دباؤ ڈال کر باہر سے کسی نے کھولنے کی کوشش کی مگر چونکہ اندر سے لوک تھا تبھی کامیاب نہیں ہو سکا ۔۔۔۔
اور زیمل کو کچھ دیر بعد قدموں کے لوٹنے کی آواز آئ ۔
جیسے اسکی روکی وہئ سانس بھال ہوئ ۔۔۔
وہ ۔۔۔ کانپتی ہوئی اٹھی ۔۔۔۔
اور اسکے کمرے کے دروازے میں کھڑی سسکنے لگی ۔۔۔
وہ اسکے بنا بتائے سن لے اسکی آنکھوں میں پڑھ لے ۔۔ کہ وہ کتنی خوف زدہ ہے یہاں ۔۔۔۔
وہ جانتی تھی بس ایک بار وہ اسے بتا دے گی تو دوبارہ شاید افشین کو اسکے پاس بھی نہ بھٹکنے مگر اس میں جرت نہیں تھی۔۔
اگر اسنے گھر میں ہنگامہ کھڑا کر دیا تو ۔۔۔۔
اسکی وجہ سے اگر
۔۔ ان کے گھر کا شیرازہ بکھر گیا تو
اور انھیں سوچوں کے تحت وہ یوں ہی رہ جاتی ۔۔۔
وہ اب بھی اسکو دیکھ رہی تھی کچھ دیر بعد اسکا دل سنبھلا ۔۔ تو اسنے غور سے سالار دیکھا ۔۔
وہ اندھا لیٹا تھا ۔۔۔۔ جبکہ جوتے بھی پاؤں میں تھے ۔۔
وہ اسکے نزدیک گئ اور اسکے جوتے اسکے پاؤں سے نکالے ۔۔۔ احتیاط سے کہیں وہ جاگ ہی نہ آئے مگر اسے شاید علم نہیں تھا وہ تو گھوڑے بیچ کر سوتا ہے ۔۔۔
وہ سوتا ہوا کافی معصوم لگ رہا تھا جبکہ آنکھیں کھول کے ۔۔ تو کھڑے کھڑے شرمندہ کر دے ۔۔ اسکے چہرے پر آٹا لگا تھا ۔۔
سالار کو دیکھنے سے ہی افشین جیسے کافی پیچھے رہ گئ ۔۔وہ اسکو بھلائے سالار کی جانب متوجہ تھی ۔۔۔
اسکے چہرے پر آٹا لگا تھا
۔ زیمل نے کانپتے ہاتھوں سے ۔۔ اسکا چہرہ چھوا اور ایکدم پیچھے ہٹ گئ ۔۔۔۔۔
اپنی حرکت پر اسکا چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔۔ شرمندگی الگ ہوئ ۔۔
اسنے اسکے ہاتھ سے کوٹ نکالا ۔۔۔
اور اسکو سیدھا کرنے کی کوشش کی مگر وہ تو رتی بھی اپنی جگہ سے نہیں ہلا تھا ۔۔۔۔
اتنا بھاری تھا زیمل کی نازک جان ۔۔ ہلکان سی ہو گئ ۔۔۔
جبکہ اسے ۔۔ کچن میں کی گئی سالار کی حرکت یاد آئ ۔۔ توخود بخود چہرے پر خون چھلک آیا اسے محسوس ہوا ۔۔۔
وہ یہاں پناہ نہیں پا سکتی وہ خود با خود شرمندہ ہو ہو کر مر جائے گی ۔۔
وہ اسکے پاس سے ہٹ گئ ۔۔۔اور دوسرے روم میں صوفے پر ٹانگیں سکیڑ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔
جبکہ آہستہ آہستہ اسے نیند نے اپنی آغوش میں لے لیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عارض ” آیت نے اسکیطرف منہ بسور کر دیکھا ۔۔۔۔
عارض کی جان آفس نہ جاو۔۔ بس یوں ہی تمھارے ساتھ چیپکا رہو ” وہ ہنسا اور آنکھوں کو دلفریب جنبش دی ۔۔
میں نے یہ تو نہیں کہا آپ چیپکے رہیں میرے ساتھ ” آیت شرمندہ سی ہوئ ۔۔
پھر تم نے کیا کہا ہے”عارض اسکے پاس آیا ۔۔۔۔
اور اسکے خوبصورت چہرہ تھام لیا ۔۔
میں نے یہ کہا ہے کہ میں ناشتہ آپکے ہاتھوں سے کروں گی” وہ نخرہ کرتی بولی ۔۔
تم نہ نیچے چلو جو سب تمھیں معصوم سمھجتے ہیں ان سب کے سامنے ہی تمھیں ناشتہ کراتا ہوں اچھے سے ” وہ اسکو گھور کر بولا ۔۔۔
مجھے لگتا ہے ہماری بیبی کو بھی بابا کے ہاتھ سے ناشتہ کرنا ہے” وہ بولی جبکہ مسکراہٹ چھپاتی ۔۔
واہ صدقے عرصے بعد تمھیں ہماری بیبی یاد آ گئ ۔۔۔
وہ بال بنانے لگا ۔۔۔۔
میں تو نہیں بھولی تھی ” آیت نے منہ بنا لیا ۔۔
یار کوئ خوف خدا کرو”عارض اسکے نخرے دیکھانے سے چیڑ گیا ۔۔
ٹھیک ہے جائیں آپ اس جینی پہنی سے شادی کر لیتے تو ہاتھوں سے کھلاتے بس مجھے ہی کھلاتے ہوئے مسلہ ہے آپکو “وہ دوبارہ بلنکیٹ سر پر تان گئ ۔۔
صیحی تمھیں ایک بار بات مل گئ کھینچ کھینچ کر مارو تانے” اسنے بلنکیٹ ہٹایا آیت۔۔ مسکراہٹ دبا رہی تھی ۔۔
چالاک لڑکی” عارض کو بھی ہنسی آ گئ ۔۔۔
چلو اٹھو اب ۔۔ میں دیکھاتا ہوں ناشتہ ہکون بنا رہا ہے پھر اوپر لے کرا تا ہوں ۔۔ بلاوجہ تم میری کلاس لگواو گی” وہ جھنجھلا کر بولا ۔۔
گڈ لک” آیت نے کہا ۔۔۔اور اپنی ہنسی دبائی۔۔
عارض اسے گھور کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔
باہر حیرت کی بات تھی اب تک کوئ بھی نہیں نکلا تھا ۔۔ اسے نے حیرانگی سے خالی کچن کو دیکھا ۔۔۔ اور بریڈ جیم اور دودھ ٹرے میں رکھ لیا ۔۔۔
اور شانے آچکا کر اپنے کمرے کی جانب آ گیا ۔۔۔۔
پاؤں سے دروازہ کھول کر وہ اندر آیا ۔۔۔ تو آیت ۔۔ اب بھی بستر میں ہی تھی ۔۔
محترمہ حاضر ہے آپکا ناشتہ”عارض نے اسکے آگے ٹرے رکھی ۔۔
عارض ۔۔۔باہر ہوئ نہیں تھا “آیت وہ بھی حیران ہوئ وہ تو بہت جلدی آ گیا تھا اسکا ارادہ تھا کہ زرا سالار سے اسکا سامنہ ہو ۔۔جبکہ وہ جانتی نہیں تھی اسکا بھائ کیا کر چکا تھا رات کو ۔۔اگر جان جاتی تو شاید ہی نظریں ملاتی ۔۔۔
عارض آیت کو اپنے ہاتھ سے ناشتہ کرانے لگا ۔۔۔
جسے آیت مزے سے کھا رہی تھی ۔
ہم اپنی بیبی کی شاپینگ کب کریں گے” آیت نے اچانک پوچھا ۔۔۔ جب تم کھو” عارض نے اسکے گال پر پیار کیا جو کے پھولے پھولے ۔۔۔ بہت پیارے لگ رہے تھے ۔۔
آیت شرما سی گئ ۔۔
آپ جلدی آئیے گا پھر ہم دونوں چلیں گے بلکہ سب کو ساتھ لے چلیں گے ” وہ ایکسائٹیڈ ہوئ ۔۔
میری جان پوری قوم پاکستان تمھارے بچے کے کپڑے خریدے گی” عارض نے اسکو گھورا ۔۔
مگر عارض سب کے اپنے اپنے ارمان ہیں” وہ بولی عارض نے اسکو دودھ کا گلاس دیا ۔۔۔۔
جسے وہ لبوں سے لگا گئ ۔۔
ہاں تو پہلے ماں باپ کر لیں پھر باقی سب بھی کر لیں گے” عارض نے ٹشو سے ہاتھ صاف کیا ۔۔
آپ بہت مین ہیں”آیت نے گلاس اسکے ہاتھ میں تھما دیا ۔۔ جس سے دودھ اسکے ہاتھ پر لگ گیا اور ہاتھ پھر سے خراب ہو گیا ۔۔
عارض بہت دیر سے اسکی حرکتیں برداشت کر رہا تھا ۔۔
ایکدم اسی ہاتھ سے اسکا منہ پکڑا اور اپنے نزدیک کھینچ کر اسنے ۔۔۔ اسکی آتی جاتی سانسوں کی روانی میں دقت ڈال دی ۔۔
آیت ۔۔ بھکلا سی گئ یہ اچانک تھا جبکہ عارض ۔۔۔ بھک سا گیا ۔۔۔ آیت کی جانب مکمل جھکتا چلا گیا یہاں تک کے ۔۔ وہ اگلی سانس بھی نہیں لے پا رہی تھی ۔۔
عارض کا تو جیسے من ہی راضی نہیں ہو رہا تھا ۔۔ آیت کے دونوں ہاتھ اپنی گردن میں ڈالے وہ مگن تھا ۔۔
آیت نے خود ہی کوشش کر کے خود کو اس سے جدا کیا ۔۔
شرم سے چہرہ لال سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔
آپ بہت بدتمیز ہیں” آیت پلکیں جھپکتی بولی ۔
اور تم ضرورت سے زیادہ بولتی ہو ” عارض نے اسکے گال کھینچے ۔۔۔
مجھے اچھا لگتا ہے آپ سے بلاوجہ بے فضول باتیں کرنا ۔۔۔ میرا دل کرتا ہے آپ سے باتیں کرتی رہو ” وہ مسکرائ
عارض نے اسکی پیشانی پر پیار کیا ۔۔۔
اور میں ساری زندگی تمھیں سنوں گا ۔۔۔۔” عارض نے اسکو اور اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔۔
اور اسکے بالوں میں تادیر ہاتھ چلاتا رہا ۔۔
اچانک میسیج بلینک ہوا ۔۔۔
تو عارض کی نظر اپنے موبائل پرگئ ۔۔
ایک پل وہ چہرے کے رنگ سے اڑے اسنے آیت کو جھک کر دیکھا ۔۔ جس کی آنکھیں بند تھیں لب مسکرا رہے تھے ۔۔
اسنے احتیاط سے اسکو الگ کیا ۔۔۔۔
اب تم ریسٹ کرو ۔۔۔میں چلتا ہوں اوکے” وہ اسکے بال تھپتھپاتا کر بولا تو آیت نے سر ہلایا ۔۔۔۔
اور پیچھے ہو گئ ۔۔ عارض نےاسکے دیکھنے سے پہلے موبائل اچک لیا ۔۔۔۔ اور اسکو پیار سے دیکھا ۔۔۔۔
ریڈی رہنا ہم دونوں شاپینگ پر چلیں گے” اسنے کہا ۔۔
نہیں مجھے سب کے ساتھ جانا ہے” آیت نے جلدی سے کہا ۔۔۔
اب تم مجھے کہو زرا کے مجھے کہیں لے جائیں ” وہ مصنوعی ناراضگی سے بولتا وہاں سے باہر نکل گیا جبکہ آیت ۔۔ بے حد خوشی سے مسکرائ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات گزر گئ تھی ۔۔۔ دن نکل آیا تھا ۔۔۔
نین یوں ہی صوفے پر بیٹھی تھی رات بھی وہ اسکا ہاتھ چھوڑ کر خود سٹڈی میں چلا گیا تھا رو رو کر اسنے اپنی آنکھیں سجا لیں تھیں سر درد سے پھٹنے لگا تھا ۔۔ کبیر اسکے لیے کتنا اہم تھا یہ بات تو اسے اب سمھجہ آئ تھی ۔۔۔۔
کبیر باہر آیا اور نین کو ایک نگاہ دیکھ کر واشروم میں چلا گیا ۔۔۔۔
گویا اب بھی وہ اس سے نہیں بول رہا تھا ۔۔ نین یوں ہی بیٹھی رہی یہاں تک کے وہ باہر نکلا
۔اور نین جلدی سے اٹھی ۔۔۔ اور کبیر تک پہنچتی کہ اسکو چکر سا آیا اور وہ ایکدم فرش پر گیری ۔۔
کبیر جلدی سے اس تک پہنچا۔۔۔
نین ” اسنے نین کا زرد پڑتا چہرہ ہاتھوں میں تھام لیا ۔۔۔
جبکہ نین اسکے سینے میں چہرہ چھپا کر رو دی ۔۔۔
کبیر میرے ساتھ ایسا مت کریں” وہ بولی ۔۔۔
کیا کیا ہے میں نے تمھارے ساتھ” کبیر نے غصے سے اسکو دیکھا ۔۔ مگر اسے نین کا بی پی لو سا لگ رہا تھا ۔۔وہ بلکل ڈھیلی ہو گئ تھی ۔۔ اسنے اسے بانہوں میں اٹھایا اور ۔۔۔ بیڈ پر لیٹایا ۔۔۔
نین نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔
اس میں چلنے کی ہمت نہیں تھی ۔۔
کبیر اسے حیرانگی سے دیکھ رہا تھا ۔۔
ہم ڈاکٹر کے پاس چلیں گے ریڈی ہو جاؤ “کبیر نے کڑک لہجے میں کہا ۔۔۔
مجھے نہیں جانا ” نین بولی ۔۔۔ کبیر نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔
اگر تمھیں ایسا لگتا ہے میں تمھیں منا لوں گا تو ۔۔ تمھاری بھول ہے ۔۔” وہ گھور کر بولا ۔۔
تو مجھے منانے کو موقع دیں میری بات تو سن لیں” نین کا لہجہ بھیگ گیا
مجھے کچھ نہیں جاننا ” وہ دانت پیس کر بولا ۔۔۔
جبکہ نین نے پھر سے سر تھام لیا ۔۔۔
کبیر تشویش سے اسکو دیکھنے لگا ۔۔
اٹھو ” اسنے نین کا ہاتھ پکڑا ۔۔
نین روتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی ۔۔ کبیر نے اسکو سہارا دیا اور باہر نکل آیا ۔۔۔
جبکہ ۔۔ مدیھا نین کیطرف بڑھی اسکی طبعیت خراب دیکھ کر۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
See translation
