Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

پورے کالج میں آگ کیطرح یہ خبر پھیل گئ تھی ۔۔پریشے اور عمل کو بھی پتہ چلا دکھ سے وہ واپس کالج سے لوٹ آئیں ۔۔ پولیس کی وجہ سے کالج میں سٹوڈنٹس کو نہیں آنے دے رہے تھے صرف وہ ہی سٹوڈنٹس تھے جو کہ کل رات کوالی میں موجود تھے ۔۔۔۔
وہ دونوں واپس گھر ا گئیں تھیں عمل خاموش سی تھی ۔۔رات کے مناظر اسکی آنکھوں میں گھوم رہے تھے جس طرح اسنے زین کو بھکلایا ہوا دیکھا تھا ۔۔ مگر وہ کوئ بات نہیں کر رہی تھی ۔۔
مجھے بہت دکھ ہو رہا ہے” پریشے بھیگے لہجے میں بولی ۔۔
سنا ہے کسی نے اسکے ساتھ غلط کیا تھا ۔” وہ بولی تو عمل نے اسکی جانب دیکھا ۔۔ دونوں ہی اداس سی تھیں ۔۔
ہیلو گلز کیا ہوا یہ منہ کیوں تمھارے لٹکے ہوئے ہیں” سالار ان دونوں کے پاس ا گیا جو اب تک کالج یونیفارم میں تھیں اور ایسا لگ رہا تھا ابھی رو دیں گی ۔۔
ہمارے کالج کی ایک لڑکی حرم نے خود کشی کر لی بھیا ” پریشے تو باقائدہ رونے لگی ۔۔ اور ایسا ہی حال عمل کا بھی تھا ۔۔۔
سالار ایکدم سنجیدہ ہوا ۔۔ مدیھا تنزیلہ صوفیہ بھی وہیں ا گئیں ۔۔
ارے ” مدیھا نےا ن دونوں کو سینےسے لگایا ۔۔
کیوں کی اسنے ۔۔ کتنی غلط بات ہے ۔۔ ایسی لڑکیوں کو ماں باپ کا بھی لحاظ نہیں ہوتا ” مدیھا بولی جبکہ عمل اسکے سینے سے الگ ہوئ ۔۔
اسکے ساتھ زیادتی ہوئی تھی تائ امی ۔۔۔کسی لڑکے نے اسکے ساتھ زیادتی کی تھی ۔۔۔ وہ کسی کو کیا منہ دیکھاتی تبھی اسنےموت کو گلے لگانا مناسب سمجھا ” وہ ایکدم غصے سے بولی اور اٹھ کر چلی گئ جبکہ مدیھا اپنی ہی بات پر شرمندہ ہو گئ ۔۔۔
میں معافی چاہتی ہوں مجھے پتہ نہیں تھا ” ۔۔۔ وہ بولیں تو ۔۔۔ سالار نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔
اچھا آپ کیوں شرمندہ ہو رہیں ہیں ۔۔چلو پریشے بس آنسو پونچھو ۔۔۔ ہم دکھ کر سکتے ہیں ۔۔اسکے لیے اسکے علاؤہ کچھ نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔ ” سالار نے کہا ۔۔۔
پریشے نےا نسو صاف کیے ۔۔
مگر بھیا وہ بہت پیاری تھی ۔زین کی ہی کلاس میٹ تھی ” پریشے کے منہ سے نکلا ۔۔
زین کہاں ہے” سالار ایکدم چوکنا ہوا ۔۔
وہ تو اپنے روم میں ہے ۔۔۔ ” مدیھا نے کہا ۔۔۔۔
اور تم لوگ واپس کیوں آئے ہو کالج سے” وہ اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔۔۔
وہ کسی اور سٹوڈنٹ کو اندرانے نہیں دے رہے تھے صرف انکو ہی جوکل رات کوالی میں شامل تھے وہ ہی اندر تھے پولیس انوسٹیگیشن میں ” پریشے نے بتایا ۔۔
رات تو زین بھی کوالی میں شامل تھا ۔۔ سالار منہ میں بڑبڑایا اور زین کے کمرے کیطرف بھاگا سب اسکو دیکھ رہے تھےا سنے اسکے کمرے کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہوا سیدھی نظر بیڈ پر گئ ۔۔۔ وہ وہاں نہیں تھا ۔۔۔۔
جبکہ بیڈ کے دوسری طرف وہ ساکت بیٹھا کھڑکی سے باہر جھولتے درخت کو دیکھ رہا تھا ۔۔
سالار کے ماتھے پر کئ بل ڈلے وہ اندر آیا اور دروازہ پیچھے بند کر دیا ۔۔۔
زین” بیڈ پر اسکے نزدیک بیٹھتے ہوئے وہ بولا ۔۔۔
جبکہ زین ایکدم چونک گیا ۔۔
ج۔
۔۔جئ بھیا ” وہ سیدھا ہوا ۔۔۔
خیر ہے ٹھیک ہو ” سالار نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔
جی” زین پھیکا سا مسکرایا ۔۔۔
مجھے پتہ چلا ہے تمھاری کلاس میٹ نے سوسائیڈ کر لی اٹس سیڈ ۔۔ تم جانتے تھے اسکو ” سالار نے پوچھا ۔۔ زین کا دل ڈوب سا گیا ۔۔۔
ن۔۔۔نہیں بھیا ۔۔ بس دیکھا تھا آئ مین ساتھ پڑھتی تھی میں تو نہیں جانتا اسکو ” اسنے صاف انکار کیا ۔۔
سالار مسکرا دیا ۔۔۔
پھر کیوں پریشان ہو ” اسنے اسکو فرش پرسے اٹھا کر ۔۔۔ اپنے پاس بیٹھا لیا ۔۔
رات میں بھی شامل تھا ۔۔۔ مجھے ٹنشن ہو رہی ہے ۔۔ ابھی سکندر کا فون آیا تھا ۔۔ وہ بتا رہا تھا ۔۔کہ سب یونیورسٹی میں ہیں پولیس انوسٹیگیشن ہو رہی ہے اور مجھے بھی وہاں پہنچنا ہے ورنہ وہ ریڈ پڑوا دیں گے ۔۔۔
اور اگر میں گیا تو ۔۔ بڑے بھیا ۔۔۔۔” وہ رک گیا ۔۔۔۔
یار یہ بھی کوئ ٹنشن کی بات ہے ۔۔ تم جاؤ کبیر کو میں دیکھ لوں گا ۔۔ بلکے ایک کام کرتے ہیں ۔۔ میں چلتا ہوں تمھارے ساتھ اٹھو شاباش ۔۔ یہ لڑکیوں کیطرح منہ نہیں اتارتے باہر وہ دونوں رو رہی ہیں اندر تم ماتم کر لو ۔۔۔ ہمارا کیا تعلق ہے کسی کے ساتھ کچھ ہوا ہے تو ۔۔۔۔”۔ سالارکہتا ہوا اٹھ گیا
اور اگر میرا واسطہ ہوا تو ” بے ساختہ اسکے منہ سے نکلا ۔۔۔
سالار نے پل بھر کو رک کر اسکو دیکھا ۔۔۔ چہرے پر سنجیدگی در آئ ۔۔۔
وہ اسکے نزدیک آیا ۔۔۔۔
مجھے یقین ہے ۔۔۔ تم ایسا کچھ نہیں کر سکتے ۔۔۔۔۔ تم اپنے خاندان کی عزت کو داؤ پر نہیں لگا سکتے ۔۔۔” اسکا گال تھپتھا کر وہ باہر چلا گیا جبکہ جاتے جاتے اسے ریڈی ہونے کا بھی کہہ دیا ۔۔ جبکہ دوسری طرف زین کی آنکھوں سے آنسو نکلنے لگے ۔۔۔
اسنے کھینچ کر مکہ دیوار پر مارا ۔۔۔ اپنی چیخوں کا گلا گھونٹ کر وہ وہیں بیٹھتا چلا گیا ۔۔۔۔ ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار اور زین کچھ دیر تک کالج چلے گئے جبکہ ۔۔ انکے جانے کے بعد مدیھا تنزیلہ اور آج صوفیہ کو بھی لے گئے تھے ۔۔ نین کے گھر یہ سب کبیر کی ضد پر ہو رہا تھا ۔۔ جبکہ مرتضیٰ کل سے ہی مدیھا سے بات نہیں کر رہے تھے وہ جانتی تھی وہ اس سے ناراض ہیں ۔۔۔ مگر پھر بھی وہ اپنے بیٹے کی خوشی کے لیے سب کرنے کو تیار تھیں جبکہ دوسری طرف گھر میں عمل اور پریشے تھیں ۔۔۔۔اور عارض بھی ۔ جبکہ آیت کو آج اپنی طبعیت کچھ عجیب سی لگ رہی تھی اسے چکر سے ا رہے تھے تبھی اسنے اٹھنے کی کوشش کی اور تائ امی کے پاس جانے کے ارادے سے ۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلی اسنے کل رات سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔۔۔ حالانکہ تائ امی بلکے باقی سب ہی اسکا خیال رکھتے تھے ۔۔ مگر کل رات ۔۔۔ کبیر کی وجہ سے وہ اسکے پاس نہیں ا سکیں ۔۔ اور آیت کو بھی جیسے ضد سی ہو گئ تھی ۔۔۔ اب نہ اسے اس بچے کی پرواہ تھی اور نہ خود کی ۔۔۔ جب وہ شخص اسکو کچھ سمجھتا ہی نہیں تھا تو وہ کیوں پرواہ کرتی کسی کی ۔۔۔ وہ روم سے باہر نکلی اور تائ امی کے کمرے کی جانب دیکھنے لگی ۔۔ جو کہ نیچلی منزل پر تھا ۔۔۔۔
اسے چکر سے ا رہے تھے اور وہ چکرا کر ایکدم نیچے بیٹھ گئ آنکھ سے آنسو نکلنے لگے ۔۔۔۔
عارض نے اپنے روم کا دروازہ کھولا ۔۔۔
وہ جینی سے بات کر رہا تھا ۔۔ مگر بیچ میں ہی کبیر کا فون ا گیا کہ وہ آفس کیوں نہیں ا یا اب تک وہ برا سا منہ بنا کر روم سے نکلا مگر سامنے ہی ۔۔ آیت کو زمین پر بیٹھا دیکھ کر وہ بے ساختہ اسکیطرف بڑھا ۔۔۔
آیت” اسنے اسکا بازو ہلایا آیت کی آنکھیں بند تھیں اسکی آواز سن کر آیت نے آنکھیں کھول کر اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
اور اسکاہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔ اگر وہ اپنے ہوش میں ہوتی تو ایسا کبھی نہ کرتی مگر اس وقت ۔۔۔ اسکی طبعیت دماغی طور پر اسے عجیب کیفیت کا شکار کر گئ تھی ۔۔۔۔
عارض نے اسکے جھٹکنے کو محسوس کیا ۔۔
کیا ہوا ہے تمھیں” اسنے تیوری چڑھا کر پوچھا ۔۔۔
چلے جائیں یہاں سے” آیت بس اتنا ہی بولی اور دوبارہ آنکھیں بند کر لیں
ہو کیا رہا ہے تمھیں بتاو گی” وہ غصے سے بولا ۔۔۔
مر رہی ہوں میں ۔۔ نہیں اٹھایا جا رہا مجھ سے آپکا یہ بوجھ ۔۔۔۔ آزاد کرائیں مجھے اس سے ” وہ ایکدم چلائ۔۔۔ آنکھوں سے زارو زار آنسو بہنے لگے۔۔۔
عارض کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں ۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہی ہو ” وہ حیران تھا اسکی یہ بات سن کر ۔۔۔۔
جبکہ آیت کی آنکھیں بند ہو رہیں تھیں ۔۔۔ اورایکدم وہ ایکطرف لڑھک گئ ۔۔
عارض نے پریشانی سے آیت کے بے ہوش وجود کو دیکھا ۔۔اور اسکو اپنے بازؤں میں بھر لیا ۔۔۔
اپنے کمرے کیطرف لے جاتے ہوئے اسکے پاؤں میں تیزی تھی وہ جلدی سے اسے بستر پر ڈال کر ۔۔ سیل فون پر کال کرنے لگا ۔۔۔۔
سب سے پہلے اسنے اپنے فیملی ڈاکٹر کو کال کی ۔۔ جس کا نمبر سب کے پاس ہی ہوتا تھا کسی ایمرجنسی کے لیے ۔۔۔
انھیں کال کر کے ۔۔۔ اسنے ایک پل کو آیت کے وجود کو اپنے بستر میں دیکھا ۔۔اور پھر کبیر کو کال کی ۔
یار تمھارے ساتھ مسلہ کیا ہے کب سے میں تمھارا ویٹ کر رہا ہوں ” وہ چلایا ۔۔ بڑے بھیا آیت کی طبیعت خراب ہو گئ ہے میں ۔۔۔ نے ڈاکٹر کو کال کی ہے میں اپکے پاس آدھے گھنٹے تک پہنچتا ہوں ” وہ بولا
۔ جانتا تھاایت کے نام پر وہ اسے آفس آنے کا بھی نہیں کہیں گے ۔۔
کیا ہواہے آیت کو “وہ پریشانی سے بولے ۔۔۔
معلوم نہیں” اسنے صاف انکار کر دیا ۔۔۔
مما کہاں ہیں” کبیر نے پھر سے پوچھا ۔۔
وہ اور دونوں آنٹیاں کہیں گئیں ہیں میں نہیں جانتا کہاں ” وہ بولا تو کبیر کو جیسے یاد ا گیا ۔۔
آیت کے پاس رہو میں مینیج کر لوں گا ” عارض کے حسب توقع بات ہوئ اور اسنے سر ہلا کر سیل آف کر دیا ۔۔ تبھی ڈاکٹر بھی پہنچ گیا ۔۔۔
ملازم اسے عارض کے روم تک لے آیا ۔۔۔
عارض نے آیت کے وجود پر اپنا بلینکٹ ڈالا اور ڈاکٹر خاموشی سے چیکپ کر نے لگا ۔۔ ۔۔۔
شی از پریگنینٹ ” ڈاکٹر حیرت سے بولا ۔۔۔
جی معلوم ہے مجھے بیوی ہیں یہ میری” عارض نے سنجیدگی سے کہا ۔۔
تو ڈاکٹر کا سانس بھال ہوا ۔۔۔
اسنے آیت کو انجیکشن لگایا ۔۔۔ آگرو ہ ہوش میں ہوتی تو شاید وہ سوئ کو اپنے گرد بھی پھٹکنے نہ دیتی ۔۔۔
انھوں نے کچھ کھایا نہیں شاید ۔۔۔ کافی وقت سے تبھی انھیں چکر آئیں ہیں ۔۔۔
آپ انکی ڈائیٹ کا خیال رکھیں ۔۔۔ اور پروپر چیکپ کرائیں” ڈاکٹر میڈیسنز لکھتے ہوئے بولا ۔۔
عارض نےا سکیطرف دیکھا ۔۔
انھیں ہوش کب آئے گا ۔۔”اسنے مطلب کی بات پوچھی ۔
انجیکشن میں نے لگا دیا ہے ۔۔ آ جائے گا ہوش مگر ہوش میں آتے ہی ۔۔ انھیں ۔۔ سب سے پہلے ۔۔ کچھ ہلکا سا کھانے کے لیے دیں ” ڈاکٹر نے کہا ۔۔ اور عارض کے ہاتھ میں میڈیسنز کا پرچہ تھما کر وہ ۔۔ وہاں سے چلا گیا جبکہ ۔۔ عارض وہ پرچہ ایکطرف پھینک کر اب آیت کو دیکھ رہا تھا ۔۔
ابھی وہ کچھ سوچتا کہ جینی کی کال دوبارہ ا گئ ۔۔
اسنے مسکرا کر کال اٹینڈ کی اور صوفے پر بیٹھ گیا آیت پر سے سارا دھیان ہٹ گیا ۔۔۔ تھا ۔۔
اسنے کال اٹینڈ کی اور اپنی باتوں میں مگن ہو گیا ۔۔۔ کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ۔۔۔ آیت نے چہرے کا رخ اسکی جانب موڑ لیا ۔۔۔
معصوم چہرے پر آنسوں کی لکیریں تھیں ۔۔ عارض کی توجہ بھٹکا سی گئ ۔۔
کیا دیکھ رہے ہو تم” جینی انگلش میں بولی ۔۔
نتھینگ “اسنے مسکرا کر جواب دیا ۔۔۔
کیا کوئ اور بھی ہے ” اسے جیسے تسلی نہیں ہوئ ۔۔
یار میرے روم میں اور کون ہو گا ” عارض نے ساری توجہ اسکیطرف کر دی ۔۔اور تبھی آیت نے آنکھیں کھول لیں ۔۔ اپنے سامنے عارض کو مسکراتا دیکھ ۔۔۔ اسکا دل کیا دوبارہ آنکھیں بند کر لے ۔۔۔
اسکو شدید نقاہت ہو رہی تھی ۔۔۔ اور اچانک اسے متلی سی ہوئ ۔۔۔ اور منہ پر ہاتھ رکھ کر وہ اٹھی ۔۔ عارض کی توجہ اسپر گئ ۔۔تو ہاتھ سے موبائل ایکدم چھوٹ گیا ۔۔
آیت”اسکے منہ سے بے ساختہ نکلا ۔۔
آیت نے عارض کا ہاتھ ہٹایا اور اسکے اٹیچ باتھ کی طرف بھاگی ۔۔۔۔
جبکہ وہ باہر پریشانی سے کھڑا تھا ۔۔
آیت کو شدید رونا ا رہا تھا ۔۔ دل کر رہا تھا چیخیں مار کر روئے ۔۔
تم ٹھیک ہو ” عارض نے اسے جلدی سے تھام لیا ۔۔ اسکے آنسو بے ساختہ اسنے صاف کیے تھے ۔۔۔
م۔۔مجھے میرے کمرے میں چھوڑ دیں ” وہ نقاہت سے بولی۔۔
کچھ کھایا کیوں نہیں تم نے” وہ غصے سے بولا اور اسکا ہاتھ کھینچ کر دوبارہ اسے بیڈ پر دھکیل دیا ۔۔
کیا مسلہ ہے آپکے ساتھ چاہتے کیا ہیں آپ ” آیت بے بسی سے بولی ۔۔۔
کچھ نہیں چاہتا ۔۔ میں تم سے ” عارض نے اسے گھور کر کہا اور ۔۔ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔ کچن سے اسکے لیے کچھ کھانے کو وہ دس منٹ میں لے آیا ۔۔ آیت اسکے تکیوں میں منہ دیے رونے میں مصروف تھی ۔۔۔
اتنا نہ تو زیادتی نہیں کی میں نے کوئ تمھارے ساتھ “
عارض نے اسکی جانب دیکھا ۔۔اور ڈش ایکطرف پٹخ کر اسنے آیت کا بازو کھینچا ۔۔
یہ زیادتی ہی تھی ۔۔۔ بلکہ گناہ ” آیت آنسو سے سرخ آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔
بکواس ہے تم میرے نکاح میں ہو “عارض نے گھور کر اسکو دیکھا ۔۔۔
نکاح میں ہوں تو جب چاہے گا کچھ بھی کریں گے”اسنے دکھے دل سے کہا ۔۔۔
اور کب کب کیا میں نے تمھارے ساتھ کچھ” وہ غصے سے بولا ۔۔۔
رہنے دیں آپ ۔۔۔۔ جس دن مجھے موقع ملے گا میں کبیر بھیا کو تایا ابو کو سب بتا دوں گی ۔۔۔ سب دیکھیں آپکی اصلیت ” اسنے سر جھٹکا ۔۔
اتنی جرت ہے تو یہ بتا کر آؤ جسے لے کر گھوم رہی ہو اور چھپانے کی کوشش کر رہی ہو ” عارض نے جیسے اسکی دکھتی رگ پر پاؤں رکھ دیا ۔۔۔
آیت نے آنکھوں سے بے بسی سے آنسو صاف کیے ۔۔۔
وہ انسان دل نہیں رکھتا تھا یہ شاید اسکے لیے نہیں رکھتا تھا ۔۔۔
مجھے سمھجہ نہیں آتا ۔۔تمھارے منہ پر ہر وقت بارہ ہی کیوں بجے رہتے ہیں” کچھ دیر بعد اسنےاپنا بلنکٹ سائیڈ پر کیا اور تکیوں کو اس سے دور کر کے بیچ میں ٹرے رکھی ۔۔۔
آیت سسکیاں بھر رہی تھی ۔۔
ہاں اسے بھوک بھی لگی تھی ۔۔ وہ سر جھکائے بیٹھی رہی ۔۔
کھاؤ “
عارض نے اسکی جانب دیکھ کر کہا ۔۔
نہیں کھانا” وہ ضدی لہجے میں بولی ۔۔۔
عارض نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔
جس سے باتیں کر رہے تھے آپ ۔۔ اس سےہی کریں ” وہ غصے سے بولی اور عارض نے اسکے منہ میں بریڈ دے دیا۔۔۔۔
آیت نے بائیٹ کی ۔۔۔ اور پھر سے رونے لگی ۔۔۔
عارض نے اسکے بال پیچھے کیے ۔۔۔۔ آیت نےا سکیطرف دیکھا پھر اسکے موبائل کیطرف ۔۔۔۔
عارض نے کوئ جواب نہیں دیا ۔۔۔
وہ آیت کو کھلاتا رہا جبکہ آیت خاموشی سے کھاتی رہی ۔۔۔
ہممم خوش تو ہو گی تم میرے ہاتھوں سے کھانا نصیب ہو رہا ہے” طنزیہ مسکراہٹ سے اسکی آنسو سے صاف آنکھوں کو۔ دیکھ کر وہ بولا ۔۔ آیت نے حیرانگی سے اسکی جانب دیکھا ۔۔۔
نہیں مجھے خوشی نہیں ہو رہی ۔۔۔” آیت نے فورا جواب دیا ۔۔۔
یہ سب آپ نہ جانے کس کے لیے کر رہے ہیں۔۔ کیونکہ اس بچے کی تو اپکو پرواہ نہیں ہے اور میرے لیے آپ کچھ کر نہیں سکتے ” آیت کے جواب پر عارض کا ہاتھ رک گیا ۔۔۔۔
اور اسنے بریڈ نیچے رکھ کر ایکدم آیت کا چہرہ جھپٹ کر پکڑا ۔۔۔
کافی بکواس کرنے کی عادت ہو گئ ہے ۔۔تمھیں “
چھوڑیں مجھے” آیت کو اسکی انگلیاں اپنے گال میں چبھتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔
میں تمھیں اچھے سے سمجھاتا ہوں کے یہ زبان جو کینچی کیطرح چل رہی ہے کیسے کٹ سکتی ہے”
مجھے مار دیں سکون مل جائے گا ” آیت نے اس سےخود کو چھڑوانا چاہا ۔۔۔ تبھی دروازہ ایک دم کھلا ۔۔۔ اورمدیھا جو کچھ دیر پہلے گھر آئیں تھیں آیت کے خیال سے اسکے روم میں گئیں اسکو وہاں نہ پا کر وہ فورا عارض کے کمرے میں آئیں تھیں دوڑ کر اندر آئیں ۔۔
چھوڑو اسے ” مگر عارض نے ۔۔۔۔ آیت کو نہیں چھوڑا اور چار نچار مدیھا کو عارض کے منہ پر تھپڑ مارنا پڑا ۔۔یہ دوسرا تھپڑ تھا ۔۔۔ جو اسے آیت کی وجہ سے پڑا تھا ۔۔
بہت بدلحاظ ہو گئے ہو سب” وہ غصے سے چیخیں ۔۔۔۔
عارض بھڑکتا ہوا آیت کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
جبکہ مدیھا نے آیت کو وہاں سے اٹھایا ۔۔۔
اور اسے باہر لے آئیں ۔۔۔۔
وہ اب سوچ چکیں تھیں ۔۔۔ کہ انھوں نے کیا کرنا ہے آج جو وہ وہاں سے اس لڑکی کے منہ سے اقرار لے آئیں تھیں ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین کے منہ پر پڑنے والا تھپڑ اسکے حسین چہرے پر نشان چھوڑ گیا ۔۔۔
یہ عزت چھوڑی ہے تم نے میرے اور اپنے باپ کی ۔۔ یار بنا لیا تم نے کوئ باہر ۔۔اور خود ا کر اقرار کر رہی ہو ” وہ بھڑکیں ۔۔ نین کے گلے میں آنسوں کی گٹھلی سی پھنس گئ مگر وہ ایک لفظ بھی نہیں بولی تھی خاموشی سے سر جھکائے بیٹھی تھی ۔۔
میں کہہ رہی ہوں علی کے ابو اس نے ہماری عزت دو ٹکے کی بھی نہیں چھوڑی ۔۔۔۔
اس کے دو بول پڑھوائیں اور فارغ کریں اسے میرے گھر سے ” وہ اشتعال میں بولیں جبکہ ۔۔ نین کو حیرانگی سے دیکھ رہے تھے ۔۔ وہ ۔۔۔
آپکا بھانجا مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ بہت اونچا سٹیٹس ہو گیا ہے اسکا ۔۔۔۔ تو میں کیوں انتظار کروں ۔۔۔۔ بہت اونچے لوگوں سے آیا ہے میرا بھی رشتہ ۔۔۔اور میں بھی اونچے لوگوں میں شادی کروں گی” مدھم آواز میں وہ انھیں حقیقت بتانے لگی ۔۔۔۔۔
یہ لو سن لو اسکی بکواس باپ کے سامنے کیسے بول رہی ہے نین ۔۔۔ تو نے میری تربیت کو آگ لگا دی ۔۔ اتنی حوس تھی تجھے پیسے کی” وہ پھر سے اسپر جھپٹیں ۔۔
ہٹ جاؤ” وہ بولے تو نین نے انکی جانب دیکھا باقی بہن بھائ سہمے ہوئے کھڑے تھے ۔۔۔
اگر کوئ بات تھی ۔۔ تو مجھے بتاتی ۔۔۔ تھوڑی عزت ہی رکھ لیتیں میری ” دھیمے لہجے میں سختی لیے وہ بولے ۔۔۔ تو نین بری طرح رو دی ۔۔
کیا بتاتی وہ انکو اسکے دل کا خون ہو چکا تھا ۔۔ پھر چاہے وہ کسی سے بھی شادی کرے کیا فرق پڑتا تھا ۔۔اس شخص نے جس کی محبت کا وہ دم بھرنے لگی تھی اسکی حثیت کو پیسے میں تولا تھا تو وہ ۔۔ اسکو دیکھانا چاہتی تھی ۔۔۔
کہ کس کی حثیت کتنی ہے “
وہ چپ چاپ وہاں سے اٹھ گی
یہ لوگ کبھی اسکو نہ سمھجتے اپنے ہی منگیتر سے محبت بھی عیب بنا دیتے ۔۔۔
نکاح پڑھوا کر اسکی شکل ہمیشہ کے لیے دور کر دو ہماری نظروں سے ” اپنے باپ کے سخت الفاظ سن کر اسکی سسکی نکلی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے اپنے سورسز سے ۔۔۔ تھوڑی بہت انوسٹیگیشن کے بعد زین کو ان معملات سے الگ کر دیا تھا ۔۔۔۔
وہ نارملی گھر لوٹا تھا مگر زین خاموش تھا ۔۔ وہ چہچہاہٹ ختم ہو چکی تھی جو ۔اسکی شخصیت کا خاصا تھی ۔۔۔
سالار نے بھی وقتی صدمہ سمھجہ کر ۔۔اسکو اسکے حال پر چھوڑ دیا اور وہ دونوں گھر میں داخل ہوئے زین اپنے کمرے کی جانب جانے لگا ۔۔۔ کہ اپنے ہی ہوش میں وہ ایک بار پھر سے عمل سے ٹکرا گیا ۔۔۔
مگر عمل کا ریاکشن دیکھ کر جیسے وہ صدمے میں چلا گیا ۔۔۔۔
دور رہو مجھ سے ” وہ ایکدم پھاڑ کھانے کو دوڑی
۔۔
زین نے ارد گرد دیکھا ۔۔۔۔ اور پھر اسکی جانب ۔۔۔
کیا ہو اہے تمھیں وہ سنجیدگی سے بولا
۔۔میں
۔ میں جانتی ہوں ۔۔ حرم کی موت کا تم سے کوئ لنک ہے ۔۔۔۔ تم تم نے جوکپڑے دھونے کے لیے میڈ کو دیے اسپر خون لگا تھا ۔۔اور کل رات تم کوالی میں انھیں ۔۔۔۔۔ ” زین نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسکا گلہ دبایا اور اسے گھسیٹتا ہوا اپنے کمرے میں لےا یا ۔۔
عمل نے اپنے ہاتھ اس سے چھڑائے اسکا شک اب یقین بدل گیا تھا ۔۔۔
بند کرو بکواس” زین آنکھیں نکال کر غرایا ۔۔۔
زین مجھے جانے دو ورنہ میں سب کو سب کچھ بتا دوں گی “
عمل نے ہمت کر کے کہا ۔۔ حالانکہ وہ اس سے چھوٹی تھی مگر ۔۔زین نے ہمیشہ پریشے اور عمل کو خود سے فری ہی رکھا تھا چھیڑ چھاڑ کر کے ۔۔۔
کیا بتاؤ گی ۔۔ کیا پتہ ہے تمھیں” زین نے اسکے دونوں بازو جکڑ لیے ۔۔۔
ز
۔زین مجھے درد ہو رہا ہے” عمل کا لہجہ اسکے انداز دیکھ کر کانپ اٹھا ۔۔۔
اپنی بکواس اپنے منہ میں رکھو عمل محترمہ ۔۔۔۔۔ ورنہ تمھارا غلہ دبا دوں گا ” وہ دھیمی آواز میں اسکو ڈرانے لگا ۔۔۔۔۔۔۔
تم تم نے مارا ہے نہ حرم کو “
میں نے نہیں مارا ” وہ دھاڑا ۔۔۔ جبکہ حرم نے اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیے ۔۔۔۔
نہیں مارا میں نے ۔۔.”وہ اسے یقین دلانے لگا
۔
ہاتھ مت لگاؤ مجھے” زین نے پھر سے اسکے شانوں کو پکڑا جبکہ عمل نے زور سے اسے دور دھکیل۔دیا ۔۔۔۔
دوبارہ میرے سامن مت آنا ۔۔۔۔ تم نے مارا نہیں تو تم نے اسکے ساتھ وہ کیا جو ۔۔۔ اسنے خودکشی کی ہے “
بکواس بند کرو اپنی” زین نے اسے پیچھے دھکا دیا ۔۔۔۔اور اچانک دروازہ کھلا ۔۔۔
کبیر کو دروازے پر دیکھ کر ۔۔۔ دونوں کے رنگ اڑ گئے تھے ۔۔۔
وہ حیرانگی سے ۔۔ کبیر کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہ” اسنے کڑک لہجے میں پوچھا ۔۔۔۔
میں ۔۔۔ بھیا ” زین ہکلا گیا ۔۔
بھیا میں زین سے نوٹس لینے آئ تھی اور یہ مجھ سے لڑ رہا تھا ۔۔ کہ میں نہیں دوں گا ” عمل سر جھکا کر بولی ۔۔۔۔
کوشش کیا کرو ۔۔۔ کہ یہ لڑائ جھگڑے باہر ہوں ۔۔۔” وہ ذو معنی انھیں جتا گیا ۔۔۔
سوری بھیا ” عمل نے جلدی سے کہا اور وہاں سے چلی گئ ۔۔۔۔
کبیر نےا یک نگاہ زین پر ڈالی اور وہ باہر نکل گیا ۔۔
یہاں سے گزرتے ہوئے اسنے ان دونوں کی آوازیں سنی تھی بات تو سمھجہ نہیں آئ البتہ احساس ہو گیا کہ اندر وہ دونوں ہیں تبھی وہ اندر آیا تھا ۔۔۔
سالار کے پورشن میں جانے کا ارادہ تھا ۔۔ مگر ارادہ بدل کر وہ مما کے پاس گیا ۔۔۔۔
کیسی ہیں آپ” اسنے پوچھا ۔۔۔
ٹھیک ہوں ۔۔۔ کبیر میں چاہتی ہوں آیت کی رخصتی ہو جائے ۔۔ رشتے خراب ہوتے ہیں بیٹا ایسے ۔۔ اتنا لمبا عرصہ ان دونوں کے نکاح کو نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ “
مدیھا تو جیسے تیار بیٹھیں تھیں ۔۔۔۔
آپ ٹھیک ہیں” وہ انکی سنجیدگی پر حیران ہوا ۔۔
ہاں بیٹا ۔۔۔تم۔نے اپنی زندگی کا فیصلہ خود لے لیا ۔۔۔ اور وہ لڑکی بھی راضی ہے اپنی ماں کےا نکار کے بعد اسنے خود اقرار کیا ہے ۔۔
اپنے بابا سے بات کر لو ۔۔۔ جتنی جلدی ہو یہ فریضہ انجام اتنا بہتر ہے” وہ کپڑوں کو طے لگاتیں بولیں ۔۔۔
مما ” کبیر نےا گے بڑھ کر اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔ ایک پل کو وہ شاکڈ ہوا تھا کہ نین نے خود اقرار کیا تھا مگر اپنی فیلنگز چھپا کرا سنے ۔۔۔
آگے بڑھ کر اپنی ماں کا ہاتھ تھامہ ۔۔
خفا ہیں مجھ سے ” وہ پوچھنے لگا ۔۔
نہیں ۔۔ میں کیوں ہوں گی بس آیت کے لیے پریشان ہوں ” وہ بیڈ پر بیٹھ گئیں ۔۔
ہمم آیت کی طبعیت بھی ٹھیک نہیں تھی عارض نے بتایا تھا ” کبیر نے بتایا ۔۔۔
مدیھا کو عارض پر سخت غصہ تھا مگر دبا گئیں ۔۔۔۔
جاؤ تم میں ریسٹ کرنا چاہتی ہوں ” مدیھا نے کہا تو ۔۔۔ سالار بے دھڑک اندر داخل ہوا ۔۔
بنا دروازہ بجائے ۔۔۔
تمیز شعور تم میں نہیں ہے” کبیر خفگی سے بولا ۔۔
اوو بھائ ۔۔ اپنی ماں کے کمرے میں آیا ہوں میں” وہ اترا کر بیڈ پر لیٹتا بولا ۔۔۔۔
مدیھا اسکو دیکھ کر مسکرا دیں ۔۔۔
مبارک ہو شہزادے ۔۔۔ تمھارے دو بھائیوں کی شادی ہونے جا رہی ہے ” مدیھا نے اسکے بال سنوارے
نہیں مما میری شادی کروائیں یہ بہت غلط بات ہے عارض مجھ سے چھوٹا ہے” وہ اداکاری کرنے لگا جبکہ وہ دونوں ہنس دیے
۔۔
زین بھی وہیں ا گیا ۔۔۔اور مدیھا کی گود میں سر رکھ لیا۔۔
اس ویران اداس اتما کو پیار کر لیں ” سالار نے ہنس کر زین کے بال کھینچے ۔۔۔
بھیا آپکی سب پر سختی ہے زرا ان پر بھی دیکھا لیا کریں” زین نے کبیر کو دیکھا ۔۔۔
اوہ میں ڈرتا نہیں ہوں تمھارے اس بھائ سے ” سالار نے کالر اکڑائے ۔۔
ہاں معلوم ہے مجھے تم۔ سے بڑا ڈھیٹ کوئ ہو ہی نہیں سکتا ۔۔۔” کبیر نےا سکو گھورا ۔۔۔ جبکہ اسنے دانت نکال کر شکریہ ادا کیا ۔۔۔۔
تا دیر وہ تینوں وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے عارض نہیں آیا تھا ۔۔اور مدیھا فلحال اسکو دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی
۔
کبیر کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر انھوں نے اسے آگے بڑھ کر پیار کیا ۔۔
گھبراؤ نہیں ناراض نہیں ہوں میں تم سے ” وہ بولیں تو وہ اور بھی خوش دیکھائی دینے لگا ۔۔۔۔
تھینکیو مما “
بس اپنے بابا کو سمبھال لینا ” وہ بولیں تو کبیر نے سر ہلایا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے