Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Last updated: 8 September 2025
No Download Link
Rate this Novel
Surkh Anchal
By Tania Tahir
زیملکی آنکھ کھلی ۔۔۔ تو ایکدم وہ ہڑبڑا کر اٹھی ۔۔۔۔۔ ادھر ادھر دیکھا یہاں اب بھی دن نکلنے کے بعد بھی ایسا خواب ناک ماحول تھا کہ دل ہی نہیں کرتا تھا وہ اٹھے ۔۔۔ مگر وہ یہاں نہیں رک سکتی وہ جلدی سے ۔۔ وہاں سے باہر نکلی ۔۔۔ اور جیسے ہی اسنے دروازہ کھولا دوسری طرف سالار کی بھی آنکھ کھولی اسنے مندی مندی آنکھوں سے ۔۔۔ اس سرخ آنچل کو اپنے کمرے سے بھاگتے دیکھا تھا ۔۔۔ اور وہ دوبارہ تکیوں کو ۔۔۔۔ سینے میں بھینچے لیٹ گیا ۔۔ کون تھا یہ" وہ بڑبڑایا ۔۔۔اور ایکدم ۔۔۔۔ جیسے ہوش میں لا کر کسی نے اسے پٹخ دیا ۔۔۔ وہ تیرکی تیزی سے اٹھا مگر بے سود ۔۔ وہ جا چکی تھی ۔۔ کیا واقعی یہاں زیمل تھی " بالوں میں ہاتھ پھیرتا وہ ۔۔ منہ پر دوسرا ہاتھ رکھے ۔۔ سوچ رہا تھا ۔۔۔ آف ۔۔ اور سو تم سالار مرتضی نیندیں پوری کرو ۔۔ عورتوں کو بھی کم نیند آتی ہو گی جتنی تمھیں آتی ہے ۔" وہ خود کو کوستا ۔۔ سر جھٹک کر شاور لینے چلا گیا ۔۔ جبکہ زیمل سیڑھیوں سے نیچے اتری تو نیچے تو سب تھے۔۔اسکو رونا آیا بےعزتی ہو گی اسکی ۔۔ اگر سب نے دیکھ لیا تو وہ کیا سوچتے اسکے بارے میں ۔۔ مگر سب کی اسکی جانب سے پیٹھ تھی تبھی وہ موقع پاتی آیت کے روم میں جلدی سے گھس گئ ۔۔۔ شکر تھا کسی کی نظراسپر نہیں گئ تھی ۔۔۔ وہ خود بھی شاور لینے چلی گئ ۔۔۔۔ یہاں آیت کے کپڑے موجود تھے وہ آیت کے ہی کپڑے ۔۔ تب سے استعمال کر رہی تھی ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیسے ہیں آپ " سمیر نے مسکرا کرانکی جانب ہاتھ بڑھایا ۔ جس پر مرتضی نے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔ مجھے لگتا ہے بلکل ٹھیک ٹھاک ہوں گے ۔۔ ایکچلی میں یہ پوچھنے آیا تھا ۔۔ کہ ۔۔ کیوں آپ انکار کر رہے ہیں بار بار ۔۔۔ اس رشتے پر " سمیر خوش اخلاقی سے بول رہا تھا ۔۔ مگر چہرہ پر مکرو پن صاف دیکھائی دے رہا تھا ۔۔ میرے بیٹے نہیں راضی بیٹا ۔۔۔ اور ویسے بھی ۔۔۔ خاندان سے باہر شادی کرنے پر میرا بھی دل نہیں مانتا" مرتضی نے سہولت سے کہا ۔۔۔ خیر دل تو آپکا راز چھپانے پر بھی ماننا نہیں چاہیے تھا مگر پھر بھی آپ ۔۔۔ اپنے بیٹوں میں سے ۔۔ ایک کی حقیقت کو چھپائے بیٹھے ہیں جبکہ وہ تو بے چارہ خود بھی نہیں جانتا اسکا اصل کیا ہے" سمیر کی بات پر مرتضی کے ہاتھ میں موجود پین ایکدم نیچے گیرہ ۔۔۔ سمیر نے مسکرا کر انکا بھکلانا دیکھا تھا ۔۔۔۔ شاید اب جان گئے ہیں میں کس کی بات کر رہا ہوں " سمیر ہنس دیا ۔۔۔۔ کیا بکواس ہے یہ ۔۔ کیا بھونکے جا رہے ہو " وہ ایکدم دھاڑے ۔۔۔ ہاہاہا " مجھے لگتا ہے تمھارے بیٹے تم پر ہی گئے ہیں ۔۔۔۔۔ مگر ۔۔ تمھارے تو تین بیٹے ہیں بس "سمیر نے آنکھوں کو جنبش دی ۔۔۔ چوتھا بیٹا ۔۔۔" وہ رک گیا جبکہ مرتضی نے ایکدم اٹھ کر ۔۔اسکا گریبان پکڑ لیا ۔۔۔ منہ بند کرو اپنا ۔۔۔۔ اور نکلو یہاں سے اب مجھے سمھجہ آیا ۔۔ کبیر ۔۔۔ تم نے میرے لاکھ کہنے پر بھی ہر بار صرف انکار کیوں کیا " وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ کر غرا رہے تھے ۔۔۔۔ یہی تو مسلہ ہے تمھیں اپنے بیٹوں پر بڑا یقین ہے ۔۔ تم انکے سارے عیب خود میں چھپا لینا چاہتے ہو جبکہ وہ سب بھی ایک دوسرے میں ایک دوسرے کو چھپانے کی صلاحیت رکھتے ہیں تمھاری تربیت ۔۔۔ بیت اچھی ہے مگر ۔۔جب یہ بات کھلے گی ۔۔ تو تمھارا گھر ۔۔۔ مٹھی بھری ریت کیطرح ڈھے جائے گا ۔۔۔۔ " سمیر نے انھیں دور جھٹکا اور اپنا گریبان انکے ہاتھ سے چھڑایا ۔۔۔۔۔ دفع ہو یہاں سے "مرتضی چلائے ۔۔ آ آ آ چلانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ تم بس اس رشتے پر ہامی بھر دو ۔۔۔" وہ ہنسا ۔۔۔۔ جبکہ مرتضی نے گارڈ کو بلانے کے لیے منہ کھولا۔۔ جبکہ سمیراس سے پہلے ہی وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔ جاتے جاتے انپر جتاتی نظریں بھی گاڑھ گیا تھا ۔۔۔۔۔ مرتضی کی سانسیں پھولنے لگیں ۔۔۔۔۔ وہ سر تھام گئے ۔۔۔۔۔ کبیر اپنے کیبن سے نکلا تو۔۔اسنے باہر کیطرف سمیر کو جاتے ہوئے دیکھا ۔۔اسے حیرانگی ہوئ ۔۔۔۔ یہ یہاں کیوں آیا تھا یعنی اب یہ خود مرتضی کو فورس کرنے آیا تھا ۔۔ اسکا دماغ گھوم گیا اسکو سبق سیکھنا ہی ہو گا ۔۔۔ وہ سوچتے ہوئے اسکے پیچھے بھاگا ۔۔ مگر افسوس وہ وہاں سے جا چکا تھا ۔۔۔۔ وہ دوبارہ اندر کیطرف دوڑا اور مرتضی کے روم میں آیا ۔۔۔ جہاں مرتضی صوفے پر بیٹھے تھے کبیر انکی طرف بڑھا۔ بابا آپ ٹھیک ہیں" وہ سرخ چہرے سے غصے سے ۔۔ بھنتا سوال کرنے لگا جس پر ۔۔مرتضی نے مسکرا کر سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔ اور اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔ میں بلکل ٹھیک ہوں ۔۔۔۔۔ " وہ بولے ۔۔ وہ سمیر کیا کرنے آیا تھا " کبیر کو انکی بات پر یقین نہیں آیا انکا ہاتھ تھام کر بولا ۔۔ کچھ نہیں ۔۔ اسی بات پر زور دینے آیا تھا مگر میں نے صاف انکار کر دیا " وہ کبیر کا شانہ سہلاتے بولنے لگے ۔ میں اس آدمی کا منہ توڑ دوں گا دوبارہ اسنے یہاں قدم رکھا تو " وہ غصے سے بولا ۔۔۔ تو مرتضی نے اسکا کندھا تھپکا وہ جا چکا ہے تم بھی اپنے روم میں جاو۔۔کام پر دھیان دو " مرتضی بولے تو ۔۔۔۔کبیر انکو دیکھتا رہا ۔۔۔۔۔ بابا آپ واقعی ٹھیک ہیں "وہ پھر سے پوچھنے لگا جس پر مرتض ںے سر ہلا دیا ۔۔۔ تو کبیر کو کچھ تسلی ہوئ اور وہ وہاں سے اٹھا ۔۔۔اسے سالار سے اس بارے میں ڈسکس کرنا چاہیے تھا ۔ وہ سوچتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔جبکہ پیچھے مرتضی نے اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا ۔۔ اورانکی ہتھیلی بھیگ گئ ۔۔۔
