No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
مما آپ کو میں نے کہا تھا ۔۔۔ آپ جائیں ” کبیر انکی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔
میرے بیٹے بہت ہنگامہ ہو جائے گا تم ایمن کو جانتے ہو ۔۔ تمھاری جتنی ہی ہے تمھاری زہنی متابقت اچھی ہو جائے گی اسکے ساتھ” انھوں۔ نے اسکو سمجھایا ۔۔
مما پلیز ۔۔۔۔ ” وہ انکا ہاتھ ہٹا کر بولا ۔۔۔
میں نےا پ سے کبھی ضد نہیں کی کسی بھی بات یہ چیز پر ۔۔۔ سالار ہر بات ضد پر منواتا رہا ہے ۔۔۔ میں نے کبھی اسکیطرح نہیں کیا ۔۔ اپکو میری بات ماننی چاہیے” وہ بولا تو مدیھا پھیکا سا ہنسی ۔۔۔۔
اچھا تو ساری زندگی کی ضد تم اتنا ہم فیصلے پر نکالنا چاہتے ہوئے تم جانتے ہو ایمن تمھاری ہی منتظر ہے”
بس یار ایمن ایمن ایمن میں کیا ایمن کا اچار ڈالوں گا ۔۔۔ جب وہ مجھے پسند ہی نہیں” وہ غصے سے بولا ۔۔۔
مدیھا اسکو دیکھنے لگی ۔۔۔
آپ اٹھیں بس ۔۔۔ میں نے سامان منگوا دیا ہے آپ ۔۔ سیدھی سی بات کریں ۔۔۔ ان سے جا کر” وہ عجلت میں بولا ۔۔
مدیھا نے خاموشی سے سر ہلایا ۔۔۔ کہ آیا وہ اس کو دیکھ کر تو آئے جس کے پیچھے اسکا بڑا بیٹا ایسا دیوانہ ہو رہا تھا ۔۔۔
انکے اٹھنے پر وہ خوشی سے ۔۔۔ پھولے نہیں سمایا ۔۔۔
آپ ریڈی ہو جائیں میں ۔۔۔ ڈرائیور کو سمجھاتا ہوں ۔۔۔ اڈریس ” وہ کہہ کر باہر نکل گیا جبکہ مدیھا ۔۔۔ فریش ہونے چلی گئیں ۔۔۔۔
وہ تیار ہو کر نیچے آئیں تو تنزیلہ انھیں دیکھ کر مسکرائے ۔۔
کہیں جا رہی ہیں بھابھی”
ہاں تمھارے پاس ہی ا رہی تھی میں ۔۔۔ چلو میرے ساتھ زرا فریش ہو جاؤ میں ویٹ کر رہی ہوں ۔۔٫ وہ سنجیدگی سے بولی ۔۔
مگر جانا کہاں ہے” تنزیلہ نے سوال کیا ۔۔
جاؤ تم تیار ہو کر آؤ ” انھوں نے کہا تو وہ تیار ہونے چلی گئ ۔۔۔ جبکہ کبیر نے کچھ ہی دیر میں ۔۔ سب ارینج کر کے ۔۔۔ انھیں۔ سی آف کیا ۔۔۔
اور خود مسکرا دیا ۔۔وہ جواب کا منتظر تھا چہرے پر ایکسائٹمنٹ تھی ۔۔۔
اسنے گھیرہ سانس بھرا اورسیل فون پر نین کی تصویر دیکھ کر وہ کھل کر مسکرایا ۔۔
میں میرا دل اور میرا کمرہ تمھارا منتظر ہے” دھیمے لہجے میں وہ اسکی تصویر سے بولا
۔اور سیل فون آف کر دیا ۔۔۔ وہ انکی واپسی کا ابھی سے منتظر تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
راستےمیں تنزیلہ کو ساری بات سے آگاہ کر ۔۔ کے وہ خاموش ہو گئ مگر بھابھی بڑے بھائ تو بے حد غصہ ہو جائیں۔ گے یہاں تک کے ہمارے جانے پر بھی” تنزیلہ کو فکر ہوئ ۔۔ جبکہ مدیھا نے بھی سر ہلایا ٹھیک کہہ رہی ہو ۔۔ مگر اسکی ضد کے آگے ۔۔ کیا کر سکتی ہوں میں ” انھوں نے سرد سانس کھینچی اور ۔۔ راستہ دیکھنے لگی انکی بلیک بڑی ساری گاڑی ۔۔ تنگ چھوٹی گلیوں میں داخل ہوئ لوگ اس گاڑی کی چمک دھمک کو حیرانگی سے دیکھ رہے تھے ۔۔۔
یہاں تک کے احمد نے بھی اس گاڑی کو غور سے دیکھا ۔۔ کیونکہ وہ محلےمیں سب سے بڑے گھر کا اور گاڑی کا مالک تھا ۔۔۔
گاڑی دروازے کےا گے رکی ۔۔ تو مدیھا اور تنزیلہ گاڑی سے اتری ۔۔محلے کے لوگ اب کے ان دونوں کو رک کر دیکھ رہے تھے ۔۔ مگر دوںوں کو ہی اپنی ۔۔ حثیت سے فرق نہیں پڑتا تھا ۔۔۔
وہ دونوں ۔ خاموش کھڑیں تھیں کے ڈرائیور نے دروازہ بجایا ۔۔۔
اور نین نے دروازہ کھولا ۔۔ سامنے گاڑی اور دو عورتوں کو دیکھ کروہ ایکدم ٹھٹھکی جبکہ پورا محلہ پیچھے سے دیکھ رہا تھا وہ دیکھ سکتی تھی ۔۔
آسلام علیکم بیٹا میں مدیھا مرتضیٰ ہوں ۔۔۔ آپکی امی سے مل سکتی ہوں ” انھوں نے آگے بڑھ کر اسکی حیران صورت کو دیکھ کر کہا ۔۔۔۔
ج۔۔۔جی اندر آئیں” نین بولی ۔۔۔ اور وہ دونوں عورتیں اندر ا گئیں جبکہ ۔۔ ڈرائیور نے ساراسامان اٹھا اٹھا کر اندر رکھا ۔۔ نین نے حیرت سے سامان کو دیکھا ۔۔۔
تنزیلہ نے مسکرا کر مدیھا کو دیکھا ۔۔۔
بہت پیاری ہے بھابھی یہ بچی تو ” وہ بولیں مگراواز دھیمی تھی ۔۔۔۔
مجھے تو یہ ہی لڑکی نین لگ رہی ہے” مدیھا بھی مسکرائی اور دونوں ہی صحن میں کھڑی ہو گئیں ۔۔نین نے دروازہ بند کیا ۔۔
ان دونوں کو دیکھا ۔۔
آنٹی آپ اندر ا جائیں” وہ بولی اور کمرے کا دروازہ کھولا تومدیھا اور تنزیلہ اندر بیٹھ گئیں ۔۔۔۔
تبھی وہاں نین کی والدہ بھی ا گئیں ۔۔وہ اپنے گھر میں عام سے گھر میں ۔۔۔ اتنے قیمتی مہمان دیکھ کر حیران تھی ۔۔۔
کیسی ہیں آپ ” مدیھا مسکرا کر بولی تو ۔۔۔ انھوں نے بھی مسکرا کر جواب دیا البتہ حیران نظریں تھیں ۔۔
جاؤ میں پانی لے کر آؤ “اسکی ماں نے کہا تو ۔۔ وہ۔۔ سیاہ لباس میں وہ اس گھر چھوٹے سے گھر میں نگنیے کی مانند لگ رہی تھی ۔۔ سر ہلا کر پلٹ گئ ۔۔
ماشاءاللہ آپکی بیٹی بہت پیاری ہے کیا نام ہے اسکا “تنزیلہ نے پوچھا ۔۔
تو وہ مسکرا دیں ۔۔
نین ۔۔نام ہے بڑی بیٹی ہے میری ” وہ بولیں تو دونوں نے سر ہلایا ۔۔۔
ہم درحقیقت آپکی بیٹی کا رشتہ لائے ہیں آپنے بیٹے کبیر کے لیے
۔ میرا بڑا بیٹا ہے کبیر ۔۔ مرتضیٰ ماشاءاللہ سے اسٹیبلیش ہے “
مدیھا بولیں ۔۔۔تو اندر پانی لاتی ہوئ نین وہیں رک گئ ۔
جبکہ اسکی والدہ نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔۔
میں آپ لوگوں کی بہت قدر کرتی ہوں آپ لوگ آئے ۔۔مگر ۔معافی چاہتی ہوں میری بیٹی کا رشتہ تو اسکی پھوپھو کے گھر ہوا ہوا ہے ۔ بلکے کچھ ہی عرصے میں شادی بھی ہے ۔۔۔اور دوسری اہم بات ہمارے ہاں باہر کے لوگوں سے رشتے نہیں کرتے ” وہ بولیں تو مدیھا اور تنزیلہ کا چہرہ سا اتر گیا دونوں کچھ کہنے قابل نہیں رہیں ۔۔
چلیں ٹھیک ہےمعزرت چاہتی ہوں بہن معلوم نہیں تھا ہمیں” مدیھا نے کہا تو وہ مسکرا دیں ۔۔۔۔تو وہ دونوں اٹھ گئیں ۔۔
نین باہر پانی لیے کھڑی تھی ۔۔
مدیھا نے اسکے سر پر ہاتھ رکھا اور باہر چلتی گئیں ۔ جبکہ سارا سامان یوں ہی صحن میں تو نین کی والدہ نے کہا بھی ۔۔۔ کے یہ سامان تو انھوں نے نین کے سر پر ہاتھ رکھ کر ۔۔۔ مسکرا دیں ۔۔
کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔ ہم آتے تو کچھ لے کر ہی آتے” کہہ کر وہ سہولت سے چلی گئ۔ ۔۔ جبکہ وہ دونوں ماں بیٹی حیران کھڑیں تھیں ۔۔ پیچھے ۔۔۔ جبکہ نین سوچنے کے کوشش کر رہی تھی کہ یہ کبیر مرتضیٰ کون ہے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر آفس سے جلدی واپس لوٹ آیا ۔۔اور جلدی سے ۔۔۔ باپ سے چھپ کر ماں کے پاس ا گیا ۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد مرتضیٰ تھوڑی دیر سٹڈی میں ہوتے تھے ۔۔
مدیھا نےا سکو ساری بات بتا دی ۔۔ جبکہ کبیر ۔۔۔ کے چہرے پر سختی در آئ ۔۔
کون سی منگنی کیسی شادی سب بکواس ہے آپ کل دوبارہ جائیں گی ۔۔اور اسکے ہاتھ میں یہ انگوٹھی پہنا دینا ” وہ کڑک لہجے میں بولتا ۔۔ انکے پاس سے اٹھ گیا ۔۔
پاگل ہو گئے ہو کبیر” مدیھا کو اب اس سے خوف آنے لگا ۔۔
ہاں ہو گیا ہوں” وہ بھڑکا ۔۔۔۔
مجھے نین چاہیے مما یہ مزاق نہیں ہے کہ کبیر ۔۔۔ کو اپنے لیے کوئ پسند آ جائے اور وہ اسکو ایسے ہی کسی اور کا ہونے دیے ۔۔۔
یہ تو آپ اسے سیدھے طریقے سے لے آئیں ورنہ میرے آپس طریقے اور بھی ہیں” وہ دھمکانے لگا ۔۔
اور باپ کا کیا کرو گے اپنے ۔۔۔ کیسے انکو سمبھالو گے ۔۔ کیسے ” وہ بھی غصے سے بولی۔ وہ ایک بات سمھجہ ہی نہیں رہا تھا کیسے وہ لڑکی وہ اسکے لیے لا سکتی تھیں جس کی منگنی ہو چکی تھی اور شادی ہونے والی تھی ۔۔۔ یہ پھر کیسے وہ اپنے ساتھ منسلک ایمن سے دامن بچا سکتا تھا ۔۔۔۔
مجھے پرواہ نہیں مما ” کبیر انکی آنکھوں میں دیکھتا ۔۔۔ بولا ۔۔۔۔ آنکھوں میں سرخ ڈورے شدید غصے کا پتہ دے رہے تھے ۔۔
کبیر بات سمجھو “
میں کچھ نہیں سمجھوں گا مما آپ جائیں کل”
کبیر بولا ۔۔
میں نہیں جاؤ گی” مدیھا نے صاف جواب دیا
کبیر ایک پل کو رک کر ۔۔۔ انکی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے پھر آگے جو بھی ہو گا اسکی زمہ دار آپ ہوں گی” وہ انکی آنکھوں میں دیکھتا بے لچک لہجے میں بولا ۔۔۔
کبیر ہوش کے ناخن لو” ایکدم مدیھا اسکے پیچھے لپکیں جو انکے کمرے سے تیزی سے نکلا تھا ۔۔۔۔
بہت اچھا ہے مجھ سے سالار اسے جو کرنا ہوتا ہے کر گزرتا ہے نہ کسی سے پوچھتا ہے نہ کسی کو جواب دیتا ہے ۔۔اور آج یہ بات مجھے محسوس ہو گئ ہے” وہ تیز قدم بھرتا نیچے اترنے لگا ۔۔
کبیر ان لوگوں نے انکار کر دیا ہے تو کیسے میں دوبارہ ایک ہی بات لے کر جا سکتیں ہوں “مدیھا نے اسکاہاتھ پکڑا جسے اسنے جھٹکے سے چھڑوا لیا ۔۔۔
کیوں ” وہ دھاڑا کیسے انکار کر دیا انھوں نے ۔۔ کس کا رشتہ گیا تھا انکے گھر ۔۔۔ مما کبیر مرتضیٰ کا گیا تھا ۔۔اور آپ بس انکے اس فالتو سےا نکار پر ہار مان گئیں” لاونج میں اسکی دھاڑ گونجی ۔۔۔
کبیر یہ فضول کی ضد چھوڑ دو خود سوچو ۔وہ لوگ ہمیں جانتے تک نہیں ۔۔۔ ایمن میں آخر کیا کمی ہے ۔۔۔”
مجھے نین چاہیے مما” وہ انکے دونوں بازو جھنجھوڑ کر بولا ۔۔۔۔
اور اس تک پہنچنے کے لیے مجھے یہ فالتوں ہلے بھانے نہیں روک سکتے۔۔۔” چہرے کی شادابی میں سرخی سی مل گئ ۔۔ اسکی اونچی آواز سن کر ہی سب۔۔ لاونج میں جمع ہونے لگے ۔ یہاں تک کے مرتضیٰ بھی باہر نکل آئے ۔۔ البتہ سالار کا پورشن چونکہ تیسری منزل پر اسکا پورشن تھا تبھی اس تک آواز نہیں گئ تھی اور زین کی آج کوالی نائٹ تھی تبھی وہ شام سے ہی گھر سے باہر تھا ۔۔۔۔
چڑھ گیا تمھاری اولاد پر ایک اور بار دورہ” مرتضیٰ بولے ۔۔ جبکہ کبیر نے باہر قدم اٹھائے وہ کسی سے بات نہیں کرنا چاہتا ۔۔ تھا ۔۔
رک جاؤ کہاں جا رہے ہو ” پیچھے مرتضیٰ بولے تو کبیر ایک پل کو رکا ۔۔۔ ۔۔۔
خود جا رہا ہوں میں “
کبیر” مدیھا حیران رہ گئ ۔۔۔۔۔
یہ سب کیا ڈرامہ ہے کون ہے وہ لڑکی کیسے لوگ ہیں آخر جو اس کا اتنا دماغ خراب ہو چکا ہے “
کبیر بنا جواب دیے جانے لگا ۔۔۔۔
میں جاؤ گی کبیر ۔۔ کل جاؤ گی پھر سے رک جاؤ میرے بیٹے” مدیھا ہار مانتی بولیں
یہ کیا بول رہی ہیں آپ “
نہیں میں اپنے بیٹے کی خوشیاں برباد کیسے ہونے دوں ۔۔”
ہر غلط فیصلے پر ساتھ دینے مت کھڑی ہو جایا کریں ” مرتضیٰ غصے سے بولے کبیر نےا نھیں اگنور کر دیا
آپ سچ کہہ رہی ہیں دوبارہ جائیں گی ” کبیر یقین دہانی کرنے لگا ۔۔۔ جبکہ انھوں نے ۔۔۔۔ اثبات میں سر ہلایا ۔۔ وہ معمولی سا مسکرا دیا ۔۔
جیسے اندر تک سکون اتر گیا ہو ۔۔اور کسی کیطرف دیکھے وہ وہاں سے اپنے روم میں۔ چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ بری طرح گھبراہٹ کا شکار گھر میں داخل ہوا ۔۔۔۔ اور بھاگتا ہوا اپنے کمرے میں جانے لگا کہ عمل سے ٹکرایا جس کی ساری نیند اڑ گئی تھی ۔۔اور وہ چھناکے سے گیرنے والے پانی کے گلاس کو اور کبھی زین کو دیکھ رہی تھی زین کا وجود کانپ رہا تھا ۔۔۔
ک۔۔کیا ہوا زین” عمل کو اسکو دیکھ کر پریشانی ہوئ ۔۔۔
کچھ نہیں” وہ اچانک ہی چیخا ۔۔۔
عمل ایک قدم دور ہوئ ۔۔۔۔۔
اور زین اپنے کمرے میں بھاگتا بند ہو گیا ۔۔۔ کمرے کا دروازہ بند کرتے ہی ۔۔ وہ ۔۔۔ جلدی سے بیڈ کے پیچھے چھپا تھا ۔۔۔۔۔
نہیں نہیں وہ زندہ ہے میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔ میں نے نہیں مارا ہی نہیں ” وہ کانپتے لہجے میں ا پنے ہاتھوں کو دیکھتا بار بار ایک ہی لفظ دھرا رہا تھا ۔۔۔
عمل اور پریشے دونوں ہی کوالی میں نہیں گئیں تھیں ۔۔۔۔
جبکہ زین اکیلا گیا ۔۔۔ تھا ۔۔۔
بن ٹھن کر وہ گاڑی لے کر پہلے احتشام کو پیک کرنے گیا ۔۔تب تک اسکے دماغ میں کہیں بھی حرم کی بات نہیں تھی ۔۔۔
جبکہ احتشام نے اسکی دوبارہ سے برین واشنگ کر کے اسے ایک دو وڈیوز دیکھائی جو اسنے سہولت سے دیکھی ۔۔۔اور اسکے بعد جیسے ۔۔ کوالی میں ۔۔۔ ایک گھنٹہ زین کا گزارنا مشکل ہو گیا ۔۔۔
احتشام نے اسکی توجہ حرم کی جانب کرائ جو اپنی دوستوں کے ساتھ آئ تھی ۔۔ وہ غرارہ شرٹ میں بے حد حسین لگ رہی تھی زین کی آنکھوں کی چمک میں اضافہ ہو گیا ۔۔۔اور اسنے مسکرا کر حرم کو دیکھا حرم کی بھی نگاہ اس سے ملی ۔۔۔اور اسنے نگاہ جلدی سے پھیر لی ۔۔۔
وہ اپنی دوستوں کے ساتھ بیٹھی تھی تبھی اسکے پاس ایک ملازم آیا جس نے اسکو کولڈ ڈرنک سرو کی اور وہ اسکے کپڑوں پر گیر گئ ۔۔۔
حرم نے وہاں ایکسکیوز کیا ۔اور وہ وہاں سے اٹھ کر ۔۔۔ واشروم کیطرف ا گئ ۔۔ تبھی ۔۔۔ احتشام بھی اٹھا اور اسنے زین کو اپنے پیچھے آ نے کا کہا۔۔۔
زین احتشام کو روکنا چاہتا تھا ۔۔۔ مگر عجیب دماغی حالت ہو گئ تھی وہ غلیظ وڈیو دیکھ کر ۔۔کہ شیطان اسپر بری طرح سوار ہو گیا ۔۔اور وہ دونوں حرم کے پیچھے چل دیے ۔۔
حرم نے جیسے ہی ان دونوں کو اپنے پیچھے محسوس کیا وہ بھاگنے لگی کے احتشام نےا سکو جکڑ لیا
۔۔
زین زین بچاؤ مجھے زین پلیز تم ایسا نہیں کر سکتے” حرم کو زین کے سوا کوئی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔ احتشام کے بارے میں وہ اکثر سنتی رہی تھی کہ وہ اچھا انسان نہیں تھا ۔۔
احتشام چھوڑو اسے” زین نے سختی سے کہا ۔۔
او پاگل ۔۔۔ ہاتھ لگا موقع ضائع نہیں کرتے ۔۔۔ دروازہ کھول ۔۔ کلاس روم کا ” وہ بولا ۔۔۔۔۔
زین نے اسے آزاد کرانے کی کوشش کی ۔۔ مگر احتشام نے ایک نہ مانی اور اسے لے کر وہ زین کو دھکا دے کر کلاس روم میں بند ہو گیا ۔۔
تو پاگل ہے یہ زندگی کا مزاہ ہے ۔۔۔۔ بیوقوف میں اسکا دماغ سیٹ کرتا ہوں ۔۔۔ تو رک” احتشام نے اسکو کہا ۔۔۔۔ زین ۔۔۔ کا دل ڈوب سا رہا تھا ۔۔۔
جیسے کچھ غلط ہونے جا رہا ہو ۔۔۔
نہیں احتشام میں ایسا کچھ نہیں کروں گا ” اسنے دروازہ بند ہونے سے پہلے ہی ہاتھ اندر دے دیا ۔۔۔
حرم کی آس بھری نظریں ۔اسکا دل کاٹ رہی تھیں ۔۔وہ تو اسکی پسند تھی وہ اپنی پسند کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتا تھا ۔۔ احتشام نے غصے میں زین کو دھکا دیا ۔۔ا
زین دور جا گیرہ
۔ جبکہ اسنے دروازہ بند کر لیا ۔۔
احتشام ” زین دھاڑا ۔۔۔ ا
ور اسنے دروازہ کھولنے کی کوشش کی ۔۔۔ کوالی کا شور اتنا تھا کہ کسی کو آواز نہیں گئ ۔۔۔۔۔
زین پیچھے مدد کے لیے بھاگا ۔۔۔
مگر حرم کی چیخوں نے اسکے قدم جکڑ لیے
۔۔ وہ دوبارہ ۔۔۔ چلانے لگا ۔۔
احتشام سالے دروازہ کھول ” زین دھاڑا ۔۔۔۔
اسنے اینٹ اٹھا کر لکڑی کے دروازے پر ماری ۔۔۔ دروازہ تھوڑا سا ٹوٹ گیا ۔۔
پسینے میں شرابور زین اس تاک میں سے اندر کا منظر دیکھ کر دھل گیا ۔۔۔ ا
حتشام” وہ دھاڑا اسنے دروازہ کھولنے کی جان توڑ کوشش کی ۔۔۔ مگر دروازہ نہیں کھلا جبکہ احتشام کی حوس اسکی آنکھوں کے سامنے ایک معصوم لڑکی سے سب چھین گئ ۔۔۔۔
حرم کی چیخیں رک گئیں تھیں ۔۔۔ زین آنکھیں پھاڑے یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
جبکہ احتشام اپنا کام کر کے ۔۔۔ مسکراتا ہوا
باہر نکلا ۔۔۔
حرم” زین احتشام کو بھولے حرم کی جانب دوڑا ۔۔۔
وہ نیم بے ہوشی میں تھی ۔۔۔۔
حلیہ سارا برباد ہو گیا تھا ۔۔۔ زین کا ہاتھ اسکی ناک سے نکلتے خون سے لگا ۔۔۔۔
حرم ” اسکا دل پھٹنے کے قریب تھا ۔۔دل کی دھڑکنوں کا شور کانوں میں سنائ دے رہا تھا ۔۔۔۔
تم ۔۔۔۔۔۔قاتل ۔۔۔۔۔۔۔۔ہو ۔۔۔۔۔۔۔میرے”ٹوٹے پھوٹے لہجے میں یہ چند لفظ حرم کے منہ سے نکلے ۔۔۔
ت۔۔۔مھیں ۔۔احتشام” وہ غرایا ۔۔اور احتشام کے پیچھے بھاگا ۔۔۔۔
احتشام کو بیچ راستے میں ہی پکڑ کر اسنے بری طرح مارا جبکہ احتشام نے اسکا زیادہ حشر بگاڑ دیا ۔
سالے تو نے کسی کو بتانے کی کوشش کی تو تیری بہت وڈیوز ہیں میرے پاس ۔۔۔جو میں تیرے گھر والوں کو دیکھاؤ گا ” احتشام نےا سکی گردن دباتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
جبکہ اسی اثنا میں دھڑام کی آواز پر دونوں نے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔۔
اور دونوں کی آنکھیں گویا پھیل گئیں ۔۔
حرم کی لاش اوندھی منہ کے بل زمین پر پڑی تھی ۔۔۔
حرم” زین کی چلانے کی آواز پر احتشام ایکدم اس سے دور ہوا ۔۔۔ اور پیچھے ہٹ گیا وہ خود بھی حونک تھا حرم نے اس بیلڈینگ میں سے چھلانگ لگا دی تھی ۔۔۔
زین دوڑ کر حرم کے پاس آیا
۔۔۔
تو قاتل ہے اسکا تو ” احتشام کے منہ سے جاتے جاتے یہ الفاظ زین سن کے ۔۔۔ بھکلا سا گیا ۔۔۔اور پلٹ کر وہ خود بھی اپنے گھر کیطرف بھاگا تھا ۔۔۔
