Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20

مجھے باہر جانا ہے اب بس آپ یہ سب بند کریں ” آیت خود کو اس سے الگ کرتی بولی ۔۔۔
یار باہر جا کر کیا کرو گی جو کرنے آئیں ہیں وہ تو کر لیں ” عارض نے اسکا ہاتھ جکڑا ۔۔۔۔
اب آپ زیادہ فری ہو رہے ہیں میں نے آپ سے صلہ کب کی ہے جو آپ پھیل رہے ہیں “آیت نے اس سے اپنا ہاتھ چھڑایا ۔۔اور جلدی سے اٹھی ۔۔۔۔
عارض نے اسکو سر سے پاؤں تک دیکھا ۔۔آیت بھی شرما سی گئ جبکہ عارض نے اپنے ہاتھ سر کے نیچے تکیے کی صورت بنا لیے ۔۔اور اسکو اور کنفیوز کرنے لگا ۔۔
خود کو آئینے میں دیکھو ۔۔۔۔ کافی گھیری جنگ کے آثار نظر آ رہے ہیں ” وہ آنکھ مارتا بولا جبکہ آیت نے تکیہ اسکے منہ پر دے مارا ۔۔۔
کس قدر بدتمیز ہیں آپ ” وہ سرخ چہرہ لیے جلدی سے واشروم میں بھاگ ۔۔ اٹھی جبکہ عارض کا قہقہہ کمرے میں گونج گیا ۔۔۔
اچانک اسکا سیل فون بجنے لگا ۔۔۔۔
سالار کی کال تھی ۔۔اسنے کال پیک کی ۔۔
سلام دعا حال چال پوچھا ۔۔۔۔
واپسی کب ہے تمھاری ” اسکے سوال پر عارض نے فون کو گھورا ۔۔ گویا ۔۔۔
شادی تو اسکی اب شروع ہوئ تھی اور لوگوں کو تکلیف بھی شروع ہو گئ ۔۔تھی ۔۔۔ اور اس آدمی کو تو چین تھا ہی نہیں ۔۔۔۔
یار بھیا ۔۔۔۔۔ ابھی دو دن ہی تو ہوئے ہیں ” عارض نے فٹ سے کہا ۔۔
کھوتے ۔۔۔۔۔ تیرے بہت پر نکل آئے ہیں ” سالار نے جھڑکا ۔۔
میرا تو کوئ لحاظ ہی نہیں ہے آپکو ” عارض نے برا مناتے ہوئے ۔۔۔ منہ بنایا ۔۔۔۔۔
ہاں تو تیرے جیسے انسان کا کیا بھروسہ جو ۔۔۔”وہ رک گیا ۔۔عارض تو اسکے مطلب سمھجہ گیا تھا ۔۔۔۔
ویسے بھیا بندہ تھوڑی حیا کھا لیتا ہے ” عارض نے زرا خفیف ہو کر ۔۔۔ کہا وہ اسکے بچے کیطرف اشارہ کر رہا تھا ۔۔
ایکچلی ایسی بات نہیں ہے میرے پاس شرم کا سٹاک نہیں ہے بٹ جب مجھے ملی تو ۔۔ تم نے اور کبیر نے چھین لی ۔۔ باقی آدھی میرا شوپر پھٹ گیا تو ۔۔ نیچے گیر گئ ۔۔۔
اب تم بتاؤ میرا کیا قصور ہے ” سالار مزے سے بولا ۔۔۔۔
جبکہ عارض نے سر تھام لیا ۔۔۔
آپ سے کوئ مقابلہ نہیں میرا ” عارض نے ہار مانی ۔۔
یہ بھی بات ہے خیر تم نے فون اٹھایا ہی کیوں ہے تمھارے منہ نہیں لگنا تھا ۔۔ آیت کو بلاؤ کہاں ہے وہ ” سالار نے پوچھا ۔۔۔
عارض نے ۔۔واشروم کیطرف دیکھا وہ شاور لے رہی تھی اور یہ الفاظ عارض پر بھاری تھے بتانا ۔۔ وہ اسکی ٹانگیں کھینچ لیتا اور شاید اسکی آخری سانس تک وہ اسے دم نہ لینے دیتا ۔۔ جیسے ۔۔۔۔
بچے کی بات پر اسنے اسکا خون پی لیا تھا ۔۔
وہ وہ ۔۔۔ ” عار ض نے بہانہ تلاشہ
۔کہاں ہے یہ ہی پوچھ رہا ہوں ” سالار نے پھر سے پوچھا ۔۔
بھیا وہ ۔۔۔۔ ناشتہ کر رہی ہے ” عارض نے کہا جانتا تھا وہ ٹلے گا نہیں ۔۔۔۔
تو ” سالار نے ناگواری سے کہا ۔۔۔
میرا مطلب وہ روم میں نہیں ہے “
خبیث انسان بیوی روم میں نہیں ہے تم یہاں پڑے مستا رہے ہو “
یا اللہ آپکی شادی کوئ کیوں نہیں کراتا قسم سے ۔۔آپ تو میری ساس بن گئے ہیں”
بیٹے شکر کرو مجھ میں زنانہ کوائیلکیز نہیں ہیں ورنہ ۔۔ تمھاری تو بوٹیاں میں نے کر دینی تھی آیت کو فون دو بکواس بند کر کے ” وہ سنجیدہ تھا ۔۔
عارض نے گھیرہ سانس بھرا جب وہ نہیں ٹل رہا تھا تو اب اسے سچ بتانا ہی تھا ۔۔۔
سالار منتظر تھا ۔۔
وہ واشروم میں شاور لے رہی ہے ” اسنے جلدی سے کہہ دیا ۔۔ دوسری طرف سناٹا چاہ گیا ۔۔۔
اس سے پہلے سالار اس پر بم باری کرتا ۔۔۔۔ عارض نے جلدی سے فون کاٹ دیا ۔۔۔۔۔
اسکی تو سانسیں ہی پھول گئیں تھیں جبکہ شرمندگی الگ ہوئ ۔۔۔
تبھی آیت بھی باہر آ گئ ۔۔
وہ لباس تبدیل کر کے نکھری نکھری بے حد حسین لگ رہی تھی گیلے بال بھی اسکے حسن میں اضافہ کر گئے تھے ۔۔
عارض کی جانب اسنے حیرت سے دیکھا ۔۔۔۔
کیا ہوا ” آیت کو پریشانی ہوئ کہیں جینی نے پھر تو کچھ نہیں کر دیا ۔۔وہ یہ سوچتی اسکے نزدیک آ گئ اوریہ ہی اسکی خطا ہو گئ ۔۔۔
آیت کے نزدیک آتے ہی عارض نے ایک بار پھر ۔۔اسکو۔۔اپنی جانب کھینچ لیا ۔۔
آیت چیخی چلائ مگر عارض کی صحت پر فرق نہیں پڑا ۔۔
تمھارے بھیا نے میرا خون پی کر کم کر دیا ہے اب تم میرا خون بڑھاؤ گی ۔۔ تو چپ رہو ” وہ اسکے کان کے نزدیک بولا ۔۔
مگر” آیت نے احتجاج کیا ۔۔۔ کہ اسے بھوک لگی تھی ۔۔۔
ششششش نو اگر مگر” عارض نے اپنی انگلیاں اسکے لبوں پر رکھ کر ۔۔۔ تمام احتجاج مفقود کر دیے ۔۔۔۔۔۔
مجھے بھوک لگی ہے ” آیت نے منہ بسورا ۔۔۔
جبکہ عارض اس میں مگن ہونے لگا ۔۔۔ خمار اسکے دماغ پر پھر سے چڑھنے لگا ۔۔۔۔ اسنے آیت کے دونوں ہاتھ اپنی گرفت میں کیے ۔۔اور اسکے گیلے بالوں کو مٹھی میں جکڑ کر ۔۔وہ اسکے چہرے پر جھک آیا ۔۔۔ شدت بھرا لمس ۔۔۔ بکھیرتا وہ اسکے بھی اوسان خطا کر گیا یہاں تک کے آیت کی سانسیں بھی ناہموار سی ہو گئیں ۔۔۔
آیت کی گھٹی گھٹی آواز بھی اس پراثر نہیں کر سکی ۔۔ جبکہ جلد ہی وہ ۔۔اسکو بھی اپنے ساتھ ساتھ پاگل کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔
محبت نے اسپر گھیرہ ایسا تنگ کیا تھا کہ اسکے بنا پل بھر بھی عارض جو برداشت نہیں تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ ناراض تھی منہ بسورے ہوئے تھی ۔۔ عارض بار بار اسکی جانب دیکھتا اور ہنس دیتا ۔۔۔ پھراپنی ہنسی روک کر اسکے سرخ چہرے کو دیکھتا ۔۔۔ پھر سر جھکا لیتا۔۔ جبکہ اب اسنے اپنے ہاتھ میں بلیک راڈو ڈالی اور ۔۔ پرفیوم سپرے کرنے لگا ۔۔تواپنا پرفیوم آیت پر بھی چھڑک دیا ۔۔وہ چاہتا تھا اس میں سے بس اسی کی خوشبو آئے ۔۔۔۔
مجھے مت لگائیں” آیت تو پھاڑ کھانے کو دوڑی ۔ عارض نے سپرے پیچھے کر دیا ۔۔۔
اس معصوم کا کیا قصور ہے ” وہ انجان بنا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔۔رات ڈھل آئ تھی وہ صبح سے بھوکی تھی ۔۔۔اسکی خواہشات کو پورا کر رہی تھی اسکی شدتوں کو سہہ رہی تھی ہلکان ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔
آپ نے ایک لفظ بھی کچھ کہا عارض تو ۔۔۔” وہ غصے سے رک گئ ۔۔
تو ” عارض نے مصومیت سے پوچھا ۔۔۔۔
میں اپنے بھائیوں کو فون کر کے بتا دوں گی آپ مجھے کچھ نہیں کھلاتے” اسنے بڑی تگڑی دھمکی
دی تھی ۔۔
ہاں ڈرتا ہوں نہ جیسے تمھارے نمونے بھائیوں سے میں تو ” عارض نے سر جھٹکا ۔۔
اچھا واقعی ” آیت نے اسکے کونفیڈینس پر داد دی ۔۔ عارض نے بھی داد وصول کی جبکہ آیت نے فون اٹھاتے ہی نمبر ڈائیل کیا اور عارض تو اچھل پڑا ایک جست میں اسکے نزدیک آیا ۔۔۔۔۔
اوراس سے سیل فون چھین لیا ۔۔۔
خدا کو مانو بیوی ۔۔ مرواؤ گی کیا ۔۔ ہنی مون ۔۔۔۔ میرا ہنی مون نہیں رہے گا ۔۔ مون ہنی بن جائے گا ” وہ جلدی سے بولا ۔۔ آیت کو ہنسی آئ ۔۔
اورآنکھوں کو دلکش جنبش دے کر وہ ۔۔۔۔ پیچھے ہوئ ۔۔۔
بہت تیز ہو تم ویسے ” عارض نے سیل فون پاکٹ میں ڈالا ۔۔۔۔
آپ سے کم ہی” آیت نے فٹ جواب دیا ۔۔
موٹی” عارض نے بھی ۔۔۔۔ گھور کر اسکو دیکھا ۔۔۔
میں موٹی بلکل نہیں ہوں ” آیت تو آریوں کے بل مڑی ۔۔۔
ہاں ایسا ہی ہے “وہ سر ہلانے لگا ۔۔۔۔
سچ بتائیں” آیت کو فکر ہوئ ۔۔
میں موٹا ۔۔۔۔ اب ٹھیک ہے ” وہ ہار مانتا بولا ۔۔۔۔۔
آیت مسکرا دی ۔۔
کچھ کچھ” وہ ہنسی تو
عارض نے اسکی پیشانی پر پیار کیا ۔۔۔ آیت نے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
تمھاری ہونٹوں کی یہ ہنسی ۔۔۔۔ میں اپنی آخری سانس تک یوں ہی دیکھنا چاہتا ہوں ” اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھامے وہ بولا ۔۔۔۔
میں چاہتا ہوں یہ لب یوں ہی مسکراتے رہیں ہنستے رہیں خوش رہیں ” اسنے ہلکی سی جسارت کی
آیت شرما ہی گئ ۔۔۔
عارض نے پھر سے مسکرا کر ۔۔۔ اسکو پیار کیا اور اسکی
کمر میں ہاتھ ڈال کر وہ ۔۔۔ دونوں روم سے باہر آ گئے ۔۔۔
یار تم واقعی موٹی ہو گئ ہو ۔۔” عارض نے پھر سے چھیڑا جبکہ ۔۔ آیت نے اسکو گھورا۔۔تو وہ زبان دانتوں تلے دبا گیا ۔۔۔۔
جبکہ ہنسی دونوں کے لبوں پر تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
افشین ایدھی فاؤنڈیشن پہنچی اور وہاں ۔۔۔ زیمل نامی لڑکی کے بارے میں پوچھنے لگی جہاں سے اسے پتہ چلا کہ ایسی کوئ بھی لڑکی یہاں پر نہیں ہے ۔۔ تو وہ غصے سے بھڑکی ۔۔
پاگل ہو گئے ہو تم دوبارہ چیک کرو ” وہ اس لڑکے پر چیخی ۔۔
میڈیم جب میں کہہ رہا ہوں کہ ۔۔۔ یہاں ایسی کوئ بھی لڑکی موجود نہیں ہے ۔۔۔ تو آپ کیوں ضد کر رہیں ہیں” لڑکے نے غصے سے کہا ۔۔۔
اور جب میں بھی کہہ رہی ہوں اس لڑکی کو ڈھونڈو اسکا ملنا ضروری ہے وہ یہیں آئ تھی ” افشین بولی ۔۔ تولڑکے نے اسکی ضد پر ایک بار پھر سے تلاش شروع کی جس کا ریزلٹ پہلے جیسے ہی تھا مگر وہ ایک جگہ رک گیا ۔۔۔
میڈیم زیمل نامی لڑکی آج سے چار ماہ پہلے یہاں موجود تھی اور تین دن بعد ہی وہ یہاں سے غائب ہو گئ ۔۔” لڑکے نے بتایا ۔۔
کہاں گئ” افشین ایکدم اسکو گھورنے لگی ۔۔
مجھے نہیں پتہ یہاں میں جاسوسی نہیں کرتا ” لڑکا تنک آ کر بولا افشین نے غصے سے اسکو دیکھا ۔۔
کچھ بتا کر نہیں گئ”وہ اب کے زرا نرمی سے بولی ۔۔
میڈیم میں آپکو بتا رہا ہوں وہ یہاں اب نہیں ہے ” لڑکا ضبط سے بولا تو افشین وہاں سے ہٹ گئ ۔
دراصل عدیل کے کمرے کی صفائی کراتے ہوئے آج ۔۔۔ اسے تجوری یاد آئ جہاں ۔۔زیمل کے زیورات تھے ۔۔ اور وہ سب اتنے مہنگے تھے کہ ۔۔۔۔
اگر زیمل
کو ایک بھی انگوٹھی مل جاتی تو زندگی سنور جاتی ۔۔۔
جبکہ اس تجوری کا تالہ اس طرح آٹومیٹک تھا کہ کوئ میکینیک نہیں کھول پایا جب تک اسکا کوڈ نہ ملے تبھی وہ زیمل کی تلاش میں تھی اور یہاں آ
کر تو اسے یہ پتہ چلا کہ زیمل یہاں نہیں ہے ۔۔غصے سے دماغ ہی گھوم گیا ۔۔۔
اسنے فون اٹھایا ۔۔۔
ہاں ۔۔ پتہ کرو وہ کہاں ہے ڈھونڈو اسے شاید اپنے ماں باپ کے ہاں گئ ہے ۔۔۔۔ “وہ بولںے لگی۔۔۔
کہیں انھوں نے تو نہیں بیچ دیا “افشین نے پوچھا ۔۔
تو پھر ڈھونڈو اسے “وہ چیخی اور فون بند کر دیا ۔۔۔۔
وہ زیورات قیمتی تھے وہ اگنور نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔۔۔
تبھی اسے دھکڑ پکڑ لگ گئ تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سر آپکو ایک انفارمیشن دینی ہے ” پی آئے کے فون پر ۔۔ اسنے سامنے چلتی ایل آئ ڈی کی آواز کم کی ۔۔۔
کیا ” وہ بے زاری سے بولا ۔۔ ٹھیک ہے کل سے وہ کام پر جائے گا ۔۔۔تو سارے معملات دیکھ لے گا ۔۔۔ آج کا دن تو سکون سے منانے دیتا وہ اسے ۔۔۔۔
بولو بھی” سالار نے کہا تو پی آئے اسکو بتانے لگا ۔۔
سر افشین میڈیم زیمل میڈیم کا پتہ نکلوا رہیں ہیں “۔ پی آئے بولا ۔۔۔
تو اسے ایک پل لگا تھا سوچنے میں کہ زیمل کون ہے ۔۔ اور اچانک جیسے جھپاکا ہوا ۔۔ تو وہ اپنی عقل پر دنگ رہ گیا ۔۔
ایک لڑکی چار ماہ سے اسکے فلیٹ میں تھی ۔۔۔
اور اسے یاد تک نہیں تھی یہ بات ۔۔۔
اسکی خاموشی پر پی آئے نے اسکو دوبارہ پکارہ ۔۔
اسے کیا تکلیف ہو گئ ہے ” سالار کو ناگوار گزرا ۔۔۔
وہ زیمل کی تلاش میں ہیں سر ” پی اے نے پھر سے بتایا ۔۔۔۔
وہ عورت اس تک نہ پہنچے “سالار سنجیدگی سے بولا ۔۔۔۔ اسکے لہجے میں اچانک گویا ۔۔۔ سنگینی سی اتری تھی ۔۔
میں نہیں جانتا وہ اس تک کیوں پہنچنا چاہتی ہے ۔۔۔۔
مگر میں نہیں چاہتا وہ ۔۔۔ عورت اسکو کوئ تکلیف دے ” اسکے منہ سے نکلنے والے الفاظ پر ۔۔۔ دوسری طرف ۔۔۔ جیسے خاموشی ہو گئ ۔۔۔۔
سر عدت ختم ہو گئ ہے ۔۔ میڈیم کی ” وہ بولا ۔۔۔۔
سالار نے گھیرہ سانس بھرا اور فون بند کر دیا ۔۔۔۔
اچانک اسکی آنکھوں میں وہ عکس اتر گیا ۔۔۔۔۔
لمبے بال ۔۔۔۔ معصوم چہرہ ڈرا سہما انداز ۔۔۔۔۔ اسنے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔۔۔
اور آنکھیں کھولیں
اسکا زہن جیسے خاموش سا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔جاری ہے ۔۔۔