Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 11
No Download Link
Rate this Novel
Episode 11
عدیل کی موت کو آج مہینہ گزرنے کو آیا تھا مگر افشین ویسے ہی تھی بیٹے کو یاد کر کے اور زیمل کو کوسنے دیتی رہتی تھی سب اسکا بہت خیال رکھ رہے تھے کہ اسکا غم ہلکا ہو اسنے رمشہ کو بھی اسکی نانی کے گھر بھیج دیا تھا سب نے روکا بھی کے دوسری اولاد ساتھ رہے گی تو غم ہلکا ہو گا مگر اسکی ضد کے آگے کسی کی نہیں چلی ۔۔اور یوں ایک مہینہ گزر گیا ۔۔
سالار اس دن گھر آیا ۔۔ تو اسکے پی آئے نے اسکی ڈریسنگ کرا دی تھی ۔۔۔
اسکی چوٹ کے بارےمیں سب نے پوچھا مگر وہ چھوٹے سے حادثے کا کہہ کر ٹال گیا اور اس دن کے بعد وہ ۔۔۔ دوبارہ فلیٹ نہیں گیا ۔۔۔ یہ شاید اسے یاد نہیں رہا ۔۔سنڈے تھا سب کی چھٹی تھی تبھی سب لوگ جمع تھے شام کی چائے پر اور سب ہی باتیں کر رہے تھے ۔۔۔ افشین کے پاس صرف عدیل کا موضوع تھا۔۔۔ جسے سب سنتے کہ اسکا دل ہلکا ہو جائے ۔۔۔
جبکہ اچانک سالار نے باپ کیطرف دیکھا ۔۔ کافی دیر سے وہ موبائل میں مگن تھا ۔۔۔۔ دوسری طرف عارض کو عجیب الجھن ہو رہی تھی۔ ایک تو اس دن کے بعد جینی اس سے ناراض تھی ۔۔۔ کوئ بات نہیں کر رہی تھی ۔۔ مزاج میں بھی اس ایک ہفتے میں عجیب بدلاؤ آیا تھا ۔۔۔۔
نہ وہ اس بات سے گھبرا رہی تھی کے اسکے خدوخال میں تبدیلی واضح ہونے لگی ہے جس کے باعث اسکی خوبصورتی میں دوگناہ اضافہ وہ چکا ہے ۔۔۔ اور سب سے اہم بات وہ لڑکی جو عارض سے نگاہ ہی نہیں ہٹا پاتی تھی ۔۔ پیچھلے ایک ماہ سے وہ عارض کیطرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی ۔۔۔
اور یہ بات عارض کو برداشت نہیں ہو رہی تھی وہ کچھ کچھ دیر بعد آیت پر نگاہ ڈالتا جو ۔۔ کہ اب سالار کیطرف متوجہ تھی زین خاموش بیٹھا تھا جبکہ وہ بھی کچھ توقف کے بعد عمل۔کو دیکھتا جو اسکی شکل دیکھنے کی بلکل روادار نہیں تھی جبکہ سالار پورے صوفے پر بیٹھا کم لیٹا زیادہ ہوا تھا اور کبیر ۔۔۔ بھی خاموشی سے ۔۔ کافی پی رہا تھا ۔۔
سالار کے پکارنے پر سب اسکی طرف متوجہ ہوئے ۔۔
آپ نے کبیر کی شادی کے بارے میں اب کیا سوچا ” وہ بولا ۔۔۔
تو کبیر نے سر تھام لیا ۔۔
اگر کسی کو خود کشی کا شوق ہے تو وہ سالار ہے یہ بات آج اسنے دیکھ لی تھی وہ
ہر بار ایسی بات کر جاتا تھا کہ ۔۔۔ سامنے والا اسکو ڈنڈا اٹھا کر مارے ۔۔۔
اور حسب موقع افشین چیخ پڑی ۔۔
میرے بیٹے کو مرے ایک مہینہ نہیں گزرا اور اس گھر میں شادیانے بجے گے ۔۔۔ “افشین تلملائ ۔۔ مرتضی نے سالار کو گھورا ۔۔۔
مہینہ تو خیر گزر چکا ہے چچی ۔۔۔۔ اور کتنا سوگ منانے کا ارادہ ہے آپکا ۔۔۔۔ “اور سب نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔ اب لاحاصل بحث شروع ہو چکی تھی ۔۔
سالار ہم اس بارے میں بعد میں بات کریں گے “مدیھا خود ہی بول اٹھیں ۔۔۔
کیوں بھئ ۔۔۔ میں آپ لوگوں کو بتا رہا ہوں ۔۔۔ وہ لڑکی جس کا رشتہ اپے گئیں تھیں وہ تو یہ بات جانتی بھی نہیں کہ کیا ہوا ہے ۔۔۔ وہ کیا آپکے بیٹے کا ساری زندگی انتظار کرتی رہے گی اور خیر سے آپکا بیٹا بھی بڑا عقل مند ہے” دوسری بات نیچی آواز میں بولا ۔۔ جبکہ اسکی بات پر کبیر ایسے چونکا جیسےاب ہوش میں ایاہو۔ اسے تو اس بات کا احساس ہی نہیں تھا کہ وہ تو جا۔نتی بھی نہیں ۔۔۔۔ عدیل کی ڈیتھ کے بارے میں کیا کیا سوچ رہی ہو گی وہ اس کے بارے میں ۔۔۔۔ اسنے بے چینی سے کپ ٹیبل پر رکھ دیا ۔ سالار مسکرا دیا کہ کبیر صاحب ہوش میں ا گئے ہیں ۔اسنے ماں کیطرف دیکھا ۔۔
مما آپکو انفارم کرنا چاہیے تھا “سنجیدگی سے بولا ۔۔
بیٹا خیال ہی نہیں رہا “مدیھا شرمندہ سی ہو گئیں ۔۔۔۔
چاچو آپ مجھے بتائیں کیا اب ماحول بدلنا نہیں چاہیے اور میں توچچی کے خیال میں یہ بات کہہ رہا ہوں اس طرح زراانکا زہن بھی ہٹ جائے گا
۔ خیر میں نے عدیل کو بھولنے کا نہیں کہا ۔۔”وہ اپنی ایکٹینگ کے جوہر اس وقت آزما رہا تھا جس کا اندازا اسکے تینوں بھائیوں اور باپ کو تھا ۔ باقی سب خاموشی سے سن رہے تھے ۔۔
ٹھیک کہہ رہا ہے بھائ جان سالار ہربات بھی غلط نہیں ہوتی بچوں کی “سکندر صاحب بولے تو
۔ سالار کا دل کیا خود کو تھپکی دے وہ واقعی ایک اچھا ایکٹر تھا ۔۔
ا
یہ آپ کیسی باتیں کر رہے ہیں ۔۔ “افشین بھڑکی۔
چپکی رہو ۔۔۔”سکندر صاحب نے کہا ۔۔ تو وہ بولتیں ہوئیں وہاں سے اٹھ کر چلی گئیں ۔۔۔
ایسے اچھا نہیں لگتا سکندر” مرتضی صاحب نے بھی نفی کی ۔۔
بابا۔۔۔ کیا ہو گیا یار ۔۔ ماحول بدلے گا تو سب ٹھیک ۔۔
تم تو بکواس بند کرو اپنی” وہ اسے جھڑک گئے ۔۔۔۔
عقل مند لوگوں کی تو اس گھر کو ضرورت ہی نہیں ۔۔ کیوں زین” سالار نے اسکی طرف دیکھا جو ایکدم چونکا اور مسکرا دیا ۔۔۔۔
سالار اسکی طرف دیکھتا رہا اور پھر باپ کو دیکھنے لگا ۔۔۔۔
میں بھی یہ ہی کہو گا ماحول کو بدلا جائے”شہاب بولے تو۔۔۔ سالار کے ساتھ سب ہو گئے
۔ عارض توخود سے نہیں بولا کہ بیچ میں گھسٹا جائے گا ۔۔کبیر بھی خاموش تھا البتہ سالار نے پورا پورا اسکے ساتھ بھائ چارہ نبھایا تھا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ مگر ہم اب بھی اس لڑکی کے حق میں نہیں ہیں” مرتضی صاحب نے پھر سے بات وہیں سے شروع کی ۔۔۔
بابا وہ میری پسند ہے”اب کبیر بولا
۔ جبکہ سالار اور عارض مسکرا رہے تھے ۔۔۔ دونوں جانتے تھے وہ منا لے گا ۔۔۔ زین البتہ دماغی طور پر وہاں موجود ہی نہیں تھا کل رات جو فون کال آئ تھی اسنے اسکے دھکڑ پکڑ لگا دی تھی ۔۔۔۔
اور میری پسند ایمن میں ہے”مرتضی بولے ۔۔۔
شادی میں نے کرنی ہے”کبیر زرا غصے میں لگا ۔۔
مرتضی صاحب معافی چاہتی ہوں بیچ میں بول رہی ہوں وہ میری بہن کی بیٹی ہے اور میں اسے کبیر کی پسند کے بارے میں بتا چکی ہوں ۔۔۔”
بیٹوں کے ساتھ ہو جائیں آپ بھی”مرتضی غصے سے اٹھ کر وہاں سے چلے گئے
۔
جبکہ سالار ہنس دیا ۔۔
مما کیسے ڈر ڈر کے بولتیں ہیں اپنے ہی شوہر سے “
شیٹ آپ سالار” کبیر نے جھڑکا ۔۔۔ تو وہ تو بھڑک گیا
۔چاچو دیکھ رہے ہیں کیسااحسان فراموش ہے یہ”
ایکدم سب ہنس دیے ۔۔۔۔
نانی کے پاس گاؤں میں شادی کریں گے ہم “
بس کرو پہلے ہمارا باپ میری پسند پر مان نہیں رہا ۔۔۔اوپر سے تمھاری
بکواس جاری ہے” کبیر نے غصے سے کہا ۔۔۔
وہ کام مجھ پر چھوڑ دو تمھیں نہیں پتہ میں ۔۔ ٹوپ فیمس ایکٹرز میں سے ہوں ” وہ آنکھ مارتا بولا ۔۔۔۔
مگر اپنے گھر کیوں نہیں ” آیت بولی ۔۔ تو سب اسکو دیکھنے لگے وہ پہلی بار اس طرح بولی تھی سالار اور کبیر تو مسکرا دیے جبکہ زین بھی ایک پل کو مسکرایا ۔۔ عارض اسکی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔
آیت کنفیوز سی ہو گئ ۔۔۔
آیت اسی گھرمیں چاہتی ہے تو یہیں شادی ہو گی “کبیر نے فیصلہ سنایا اور محفل برخاست ہو گی۔۔۔۔۔
واہ یار زبان لگ گئ ” پریشے نے چھیڑا ۔۔۔ تو آیت مسکرا دی ۔۔۔۔
تم نے ہی تو کہا تھا” آیت نے اسکی جانب دیکھا ۔۔
گڈ ورک میری جان ۔۔۔۔ تم دیکھنا یہ عارض کا بچہ خود کہے گا اب تم سے شادی کرنے کا “پریشے نے سر جھٹکا اور دونوں اوپر ا گئیں ۔۔ پریشے کے روم میں عمل بھی ساتھ ہی تھی ۔۔۔
یار بڑی مما سے کہتے ہیں نین بھابھی کے پاس ہم بھی جائیں گے اب دیکھیں تو ۔۔ کیسی ہیں وہ جو ہمارے بڑے بھیا کو ہلا گئ ” پریشے نے کہا تو تینوں مان کر اپنے کمرے سے نکلیں ۔۔۔ تبھی زین اپنے کمرے میں جا رہا تھا عمل اور زین کی نظروں کا تصادم ہوا ۔۔۔ اور عمل نے فورا نگاہ پھیر لی زین بھی اندر اپنے روم میں ا گیا ۔۔۔۔
اسکی جان سوکھ رہی تھی جس سے احتشام کی اسکے پاس کال آئ تھی اور اسنے ایک کروڑ کا مطالبہ کیا تھا ۔۔۔
اور اگر زین اسے نہیں دیتا تو ۔۔ وہ اسکی وڈیوز اور ا
اسکا کوٹھے پر جانا سب کچھ اسکی فیملی کو دیکھا دے گا ۔۔ زین ۔۔ پریشانی سے کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا ۔۔
کیا وہ کسی سے ایک کروڑ مانگے گا تو وہ اسے دے دیں گے”یہ اسکے لیے معمہ تھا کیا وہ سوال نہیں کریں گے کہ تمھیں کس لیے ضرورت ہے ۔۔ یہ پھر ۔۔۔ ابھی تم کماتے ہی کیا ہو جو ۔۔ تمھیں ایک کروڑ نکال کر دے دیا جائے ۔۔۔
وہ جانتا تھا اسے کوئ بھی نہیں دے گا مگر یہاں اس گھر میں اسکی تصاویر کوٹھے پر جانے والی ا گئیں تو شاید کوئ اسے زندہ بھی نہیں چھوڑتا وہ بری طرح پھنس گیا تھا ۔۔۔۔۔ اور احتشام اسے مزید پھنسا رہا تھا ۔۔
ایک پل کو اسنے سوچا کہ سب کچھ سالار کو بتا دے ۔۔ سارا وزن اتار دے۔۔ مگر وہ جانتا تھا کبیر ۔۔ غصہ کرتا ہے ۔۔۔۔ تو ۔۔۔ جان مشکل میں ا جاتی ہے ۔۔۔ لیکن جب سالار غصہ کرتا ہے تو ۔۔ وہ پاگل سا ہو جاتا ہے ۔۔۔ شاید جان نکال ہی لے ۔۔۔ اور عارض ۔۔۔۔ وہ شاید اسکا گلہ دبا دے ۔۔۔۔ یہ کبیر یہ بابا میں سے کسی کو بتا دے ۔۔۔ اسنے گھیری سانس کھینچ کر سیل پاور آف کر دیا ۔۔۔
اور لیٹ کر وہ گزشتہ دنوں کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔ کیا ہو گیا تھا وہ ۔۔ حرم کے ساتھ جو بھی ہوا ۔۔ وہ سب کچھ اسنے نہیں کیا تھا ۔۔۔
مگر پھر بھی وہ خود کو سزا دے رہا تھا ۔۔۔۔۔
نہ ہی اسنے اسے مارا تھا اور نہ ہی اسکے ساتھ زیادتی کی تھی ۔۔۔۔ ہاں وہ شامل ضرور تھا ۔۔۔ ہاں دوست بھی اسی کا تھا احتشام سارے دوستوں سے ملنا اسنے چھوڑ دیا تھا سب یہ سب کچھ محسوس کر رہے تھے اگر گھر میں حادثہ نہ ہوتا تو اب تک کوئ بھی اسے پکڑ چکا ہوتا ۔۔
موبائل میں سے سیم نکال کرا سنے خود کو نارمل کیا۔۔۔۔
وہ جب تک اس گناہ کی سزا خود کو دیتا رہے گا جو اسنے کیا نہیں۔۔۔۔
اور اچانک عمل کی آنکھوں۔ کی نفرت سامنےا گی ۔۔۔
اسنے سختی سے مٹھیاں بھینچ لیں ۔۔۔۔
وہ ایک پل کے لیے بھی احتشام سے بلیک میل نہیں ہو نا چاہتا تھا تبھی اسنے ہر معاملے کو پس پشت ڈال کر خود کو اپنی زندگی میں واپس لوٹ جانے پر اکسایا جب تک وہ خود ٹھیک نہیں ہو گا کچھ ٹھیک نہیں ہو گا ۔۔
یہ سوچ کر اسے اچھا احساس ہو رہا تھا مسکرا کرا سکے وہ سیم ہی توڑ دی جس پر احتشام کال کرتا ۔۔۔
اور اٹھ کر شاور لینے چلا گیا آج اسکا دوستوں میں جانے کا ارادہ بن گیا تھا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آیت پریشے اور عمل کو دیکھ کر مدیھا مسکرا رہیں تھیں مرتضی ناراض تھے مگر انھیں یقین تھا جلد ساری ناراضگی ختم ہو جائے گی۔ ۔۔۔
بڑی مما ۔۔ ہمیں نین بھابھی سے ملنا ہے لازمی اور بس شادی کی ڈیٹ لیں گے ” پریشے بولی تو عمل اور آیت نے حمایت کی ۔۔
اچھا بھئ ٹھیک ہے مجھے تو بہت شرمندگی ہے وہ لوگ ہمیں کیسا سمھجہ رہے ہوں گے ” مدیھا نے کہا تبھی تنزیلہ بھی اندر آئ
۔
پریشان نہ ہوں بھابھی نکاح کی تاریخ کے گے بس ۔۔
افشین خفا ہے مگر مجھے اسکی فکر ہے ” وہ بولیں تو صوفیہ نے اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ۔۔
ہو جائے گی ٹھیک سالار درست کہہ رہا ہے ۔۔ ماحول بدلے گا تو سب ٹھیک ہو جائے گا “
وہ مسکرا دیں ۔۔
کیوں نہ ابھی چلیں ” عمل نے کہا ۔۔ تو آیت اور پریشے تو پکی ہوں گئیں ۔۔
ابھی چلتے ہیں تائ امی نیک کام میں دیری کیسی “آیت بولی تو مدیھا نے اسکا ماتھاچوم لیا ۔۔۔
میری بہو ہنستی کھلکھلاہتی اچھی لگ رہی ہے “
مگر بھابھی ایک الگ ہی نور سا آ رہا ہے آیت پر آپ نے محسوس کیا “تنزیلہ بولی ۔۔ جبکہ صوفیہ بھی مسکرائی ۔۔
موٹی موٹی سی لگ رہی ہے ۔۔
آیت کے رنگ فق سے ہو گئے ۔۔۔ جبکہ پریشے نے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔ مدیھا ۔۔۔ نے ان دونوں کو دیکھا ۔۔
اچھی بات ہے نہ اور بھی پیاری ہو گئ ہے “ادھر ادھر دیکھتے وہ بات ٹال گئ ۔۔
یار باتوں میں وقت ضائع مت کرو ہم چلتے ہیں نہ آج ہی “عمل جھنجھلا کر بولی تو سب ہنس دیے ۔۔
کچھ نہیں ہوا ریلکس ” پریشے نے کہا ۔۔۔ تو آیت نے سر ہلایا ۔۔۔
چلو جاؤ سب تیار ہو جاؤ “مدیھا نے کہا ۔۔
تم دونوں بھی صوفیہ اور تنزیلہ سے بھی بول کر وہ اپنے کپڑے نکالنے لگی۔۔۔
آیت تم نہیں ا رہی”پریشے بولی ۔۔
میں اتی ہوں تم چلو ” آیت نے کہا اور وہ اکیلی مدیھا کے پاس رک گئ ۔۔۔
وہ اپنا دروازہ بند کرنے لگی کہ عارض نے دھاڑ سے دروازہ کھولا اور دروازہ آیت کے سر میں بجا ۔۔۔۔
وہ سر تھام کر پیچھے ہو گئ ۔۔۔
بدتمیز توتم ۔۔۔ پیدائشی ہو “مدیھا نے غصے سے عارض کو دیکھا ۔۔۔
تو ان محترمہ کی آنکھوں کی جگہ بٹن ہیں ۔۔۔” وہ اندر ا کر صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔
کیوں آئے ہومدیھا نے سوال کیا ۔۔۔ دوسری طرف آیت ۔اسکے آنے پر وہاں سے نکل گئ ۔ عارض کو شدید سبکی کا احساس ہوا ۔۔ مدیھا نے بھی نوٹ کی مگر اسے اچھا لگا چلو کچھ تو اسے منہ کی مار دی ۔۔۔ اپنی محبت کے ہاتھوں بلاوجہ زلیل ہو رہی تھی ۔۔۔
عارض نے بند دروازے کو دیکھا ۔۔۔
بابا نے کہا ہے انکی میڈیسنز دے دیں ” عارض سنجیدگی سے بولا
ارے ۔۔۔ دیکھو میں بھول گئ ” مدیھا نے افسوس سے ۔۔۔ دوائیاں نکال کر اسکو پکڑا دیں ۔۔
عارض باہر نکل گیا ۔۔۔ اور مدیھا اپنا کام کرنے لگی ۔۔
ایک قدم اسنے نیچے کی جانب لیا ۔۔۔
اور دوسرے قدم نے اسے روک دیا ۔۔ ادھر ادھر دیکھ کر وہ اندر لگی بھڑک دباتا ۔۔ آیت کے کمرے کی جانب آیا ۔۔وہاں اس وقت کوئ نہیں تھا ۔۔۔ ا
اور اسنے دروازہ کھولا ۔۔۔ اور اندر ا گیا ۔۔۔
آیت ڈریس چینج کر چکی تھی ۔۔ بال کھلے تھے جبکہ دوپٹہ ۔۔ ایک طرف بیڈ پر پڑا تھا ۔۔۔ خوبصورت چہرے پر اسکی دی چوٹ کا نشان تھا ۔۔۔
اور وہ جھکی لیپسٹک لگانے کی کوشش میں تھی ۔۔۔
عارض کا عکس آئینے میں دیکھ کر ایکدم گھبرائ ۔۔ مگر خود سے کیے تمام عہد یاد ا گئے ۔۔ اسنے لیپسٹک واپس رکھی ۔۔۔ براؤن لیپسٹک نے اسکے چہرے کو چار چاند لگا دیے تھے عارض کو لگا وہ یہاں غلط آیا ہے اسے ایکدم احساس ہوا ۔۔جزبات کی توڑ پھوڑ الگ ہونے لگی ۔۔تھی ۔۔۔۔
آیت نے آگے بڑھ کر دوپٹہ اٹھانا چاہا ۔۔ کہ عارض نے اسکا وہی ہاتھ تھام کر اسے جھٹکے سے سیدھا کیا ۔۔۔ دوائیاں بیڈ پر پھینکیں ۔۔ اور اسکی کمر میں بازو ڈال کر اسکو نزدیک تر کر لیے ۔۔ کہ عارض کے بھاری سانس اسکے چہرے پر پڑ کر چہرہ تپا گئے تھے ۔۔
ہ۔۔ہاتھ چھوڑیں میرا ” وہ لہجے کی اٹک مٹاتی ناگواری سے بولی ۔۔
یہ تیاری کس کے لیے ہے ۔۔ جب مجھ سے ہاتھ چھڑا رہی ہو ” وہ گھمبیر لہجے میں گھلتا ہوا بولا ۔۔۔
آپکے لیے نہیں ہے ” آیت نے غصے سے کہا اور اسکی سخت گرفت سے ۔۔۔ کھینچ کر ہاتھ آزاد کیا ۔۔۔ اور اس سے دور ہوئ ۔۔
عارض نے چونک کر اسکو دیکھا ۔۔ جبکہ آیت نے دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈال لیا ۔۔۔
عارض تب تک سمبھل سا گیا ۔۔۔۔
دوائیاں جھک کر اٹھائ ۔۔۔
آیت نے گردن کے ساتھ دوپٹہ چیپکایا بالوں کو یوں ہی کھلا چھوڑ دیا ۔۔۔
حالانکہ اسکی جسامت میں واضح تبدیلی آ گئ تھی ۔۔۔۔
کہاں جا رہی ہو “وہ بیڈ کے پاس کھڑا سوال کر رہا تھا ۔۔۔
بڑے بھیا کی نین سے ملنے “اسنے سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔۔ اور لیپسٹک کو اور بھی ڈارک کر لیا ۔۔۔ گویا وہ چلتی پھرتی آفت سی لگ رہی تھی ۔۔۔۔
تو یہ کون سا طریقہ ہے کہیں جانے کا ۔۔۔”عارض ناگواری سے بولا ۔۔۔
کیوں کیا پروبلم ہے “آیت نے حیرانگی سے سوال کیا ۔۔۔۔
ڈرامے کم کرو حالت دیکھی ہے تم نے اپنی” عارض بھڑکا ۔۔۔
سیریسلی آپ کو میری حالت نظر ا رہی ہے “آیت نے بھی اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سوال کیا ۔۔۔
آیت
جی عارض “وہ فورا بول اٹھی ۔۔۔
دوپٹے کو تمیز سے لو اور بالوں کو باندھو ۔۔۔ “عارض ضبط سے بولا ۔۔
عارض آپ میرے بارے میں اتنا نہ سوچیں”اسنے کہا اور ہاتھوں میں رینگز ڈالنے لگی ۔۔۔
آج اسکی ادائیں الگ ہی تھیں ۔۔۔۔
عارض آگے بڑھا اور ۔۔ اسکا ہاتھ پکڑ کر رخ اپنی طرف موڑا ۔۔۔
جان بوجھ کر یہ حرکتیں کر رہی ہو ۔۔۔ کہ میں تمھاری طرف متوجہ ہوں “آنکھیں نکالتا وہ غرایا ۔۔۔
آپ میرے اب کچھ نہیں لگتے میں آپ کی توجہ کی بھیک اب کبھی نہیں مانگو گی “اسنے اپنا ہاتھ چھڑا لیا ۔۔۔ عارض حیران تھا اسکی آنکھوں کی بے گانگی دیکھ کر ۔۔۔ آیت نے ہاتھوں میں چڑیاں ڈالیں
۔عارض سے ۔۔ یہ سب برادشت نہیں ہو رہا تھا
۔
وہاں کون ساتمھارا یار بیٹھا ہے جو یوں بن سنور رہی ہو ” وہ بھڑکا ۔۔
آپکی طرح مجھے یار بنانے کی بیماری نہیں ہے فکر نہ کریں یہ سب میں اپنے لیے کر رہی ہوں اور اگر کوئ مجھے دیکھتا بھی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے “آیت نے لاپرواہی سے شانے اچکائے ۔۔ اور اسکے پاس سے ہٹ کر سینڈلز پہنے لگی وہ بھی ہیل والے ۔۔۔
یہ کیوں پہن رہی ہو “عارض چیڑ ہی گیا ۔۔۔
آپکے ساتھ مسلہ کیا ہے”آیت نارمل تھی
۔۔۔
عارض خود آگے بڑھا ۔۔۔۔ اور اسکے پاؤں سے ہیل والے سینڈلز کھینچ کر دور اچھال دیے ۔۔۔
یہ بچہ میرا ہے اسکو کچھ ہوا تو اسکی زمہ دار تم ہو گی”وہ آنکھیں نکالتا غصے سے غرایا ۔۔ آیت طنزیہ ہنس دی
۔۔ قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور بچہ آپکا ہے “آیت نے نفی میں سر ہلایا اور اٹھ گئ ۔۔ اس سے پہلے وہ باہر جاتی ۔۔ عارض نے اسکو ایکدم پکڑا اور ۔۔اسکی پشت دروازے سے لگا دی ۔۔۔
چند لمہے وہ اسے یوں ہی دیکھتا رہا ۔۔
آیت کا دل بری طرح دھڑک اٹھا یہاں تک کے واضح آواز عارض کے کانوں میں پڑنے لگی ۔۔ آیت نے نگاہ چرا لی جبکہ ۔۔۔ عارض جھکا ۔۔اور اسکی لیپسٹک کو جان بوجھ کر برباد کرنے لگا ۔۔
آیت ایکدم چونکی اسکے لمس پر ۔۔۔ جو چارسوپھیل گیا تھا ۔۔۔۔
اسنے عارض کو دور کرنا چاہا
مگر عارض نے اسکی کلائ کو دروازے کے ساتھ چیپکا دیا جبکہ اپنے کام میں وہ بے حد مگن تھا ۔۔۔۔ اتنا کہ آیت کی سانس پھولنے لگی مگر عارض تو بدلے پر اتر آیا تھا ۔۔۔
آیت پھڑپھڑا سی گئ۔۔۔ عارض نے خود کو اس سے الگ کیا ۔۔۔ اور اسکی آنکھوں میں دیکھنے لگا مگر اسکی کلائی نہیں چھوڑی ۔۔۔ دونوں کی سانسیں ٹکرا رہیں تھیں مگر زرا بھی عارض کے انداز میں فرق نہیں آیا ۔۔۔ اسنے آیت کو دیکھا ۔۔۔ ڈارلنگ ۔۔۔ یو ڈزرو مور ۔۔ بٹ آئ ہیونو مور ٹائم” اسکے گال پر پیار کر کے وہ بولا ۔۔ آیت نے اسکی گرفت ڈھیلی ہوتے ہی اس سے خود کو چھڑایا ۔۔
آپ بے حد گھٹیا ہیں”
اپنی محبت کو گھٹیا کہہ رہی ہو عجیب لڑکی ہو “عارض نے لبوں پر ہاتھ پھیرا اور ہاتھ۔ جھاڑتا اسے تسلی سے دیکھنے لگا ۔۔ اسکی لیپسٹک پھیل گئ تھی ۔۔ گالوں پر تھوڑی پر بس ہونٹوں پر موجود نہیں تھی ۔۔ آیت کی آنکھوں میں انسو آئے ۔۔
مجھے بھی ضد ہے “اسنے دل میں سوچا اور واشروم میں چلی گئ ۔۔
عارض نے سر جھٹکا اور اسکے جاتے ہی خود بھی وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
آیت کمرے میں آئ اور پھر سے ویسا ہی تیار ہوئی ۔۔۔ اور جب وہ نیچے آئ تو عارض بھی ان سب کے ساتھ موجود تھا کیونکہ مدیھا نے کہا تھا کہ وہ بھی ساتھ چلے ۔۔۔ اور آیت کو دیکھ کر اسکا خون کھول گیا ۔۔ جبکہ باقی سب نے اسکی تعریفوں میں زمین آسمان ایک کر دیا تھا ۔۔ عارض باہر نکل گیا ۔۔۔
اور گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔ باقی سب بھی ا گئے ۔۔
آگے بیٹھو آیت “آیت پریشے اور عمل کے ساتھ بیٹھنے لگی تو ۔۔ مدیھا نے کہا ۔۔
نہیں تائ امی”وہ گھبرا کر بولی ۔۔۔
آجاؤ بچے” مدیھا نے فورس کیا ۔۔۔ اور عارض نے زور سے ہارن بجایا ۔۔
مما میرے پاس وقت نہیں ہے “وہ دھاڑا ۔۔۔ تو سب حیران رہ گئے ۔۔سوائے آیت کے اور کون جانتا تھا ۔۔۔۔
آیت خاموشی سے آگے بیٹھ گئ باقی سب پیچھے جبکہ دوسری گاڑی میں تنزیلہ اور صوفیہ مٹھائیوں کے ٹکروں کے ساتھ تھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سارے راستے وہ تیز ڈرائیو کر کے وہاں تک پہنچا ۔۔۔ تو سب ایکسائٹیڈ سے تھے۔۔۔۔
دروازہ بجایا ۔۔ سب اتر گئے تھے ۔۔ایت گاڑی سے اترنے لگی کہ عارض نے ہاتھ جکڑ لیا ۔۔۔
تمھیں یہ سب ںہت مہنگا پڑے گا “وہ غرایا ۔۔۔
بہت مہنگا جو ہوتا ہے اسے ۔۔ وجود میں چھپائے پھیر رہیں ہوں اور کیا کر لیں گے آپ ” وہ ازیت سے بولی ۔۔۔
جو تم چاہتی ہو وہ تو کبھی بھی نہیں کروں گا “وہ اسکا ہاتھ جھٹک کر بولا ۔۔
آیت نے تکلیف سے اسے دیکھا اور ۔۔۔گاڑی سے اتر گئی ۔۔۔۔
عارض تپ ہی گیا اس سے پہلے وہ جاتا کہ مدیھا نے اسے اندر آنے کا کہا ۔۔
مما میں کیا کروں گا “عارض جھنجھلا یا ۔۔
بیوی ہے تمھاری اندر تمھیں بھی ساتھ ہونا چاہیے “مدیھا نے گھور کر کہا تو عارض احسان کرتا گاڑی سے باہر نکل ایا۔۔۔
اس محلے کے لوگ ان سب کو جھانک جھانک کر دیکھ رہے تھے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نین آنکھوں میں حیرت سموئے ان سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
پھوپھو بھی گھر پر ہی تھیں جبکہ ابو بھی ۔۔۔ کچن میں سے نین نے ان سب کو امی سے ملتے دیکھا اور نین نے اس خوبصورت لڑکے کو جو اس گھر کو دیکھ رہا تھا حیرانگی سے
۔۔ اور تین خوبصورت لڑکیاں بھی تھیں ۔۔۔۔ ان تینوں عورتوں کے ساتھ وہ سب مہنگے کپڑوں میں بڑے لوگ تھے ۔۔۔ ان کی حثیت کے مقابلے میں ۔۔۔
اسکے ہاتھ پاؤں کانپ سے گائے دل میں اداسی اور بھی بڑھ گئ ۔۔۔ وہ چھپ ہی گئ ۔۔۔
پھوپھو تو ان لوگوں کی چاپلوسی پر اتر آئیں ۔۔ تین لڑکیوں کو دیکھ کر ۔۔۔
انکے منہ میں اپنے بیٹے کے لیے پانی ا گیا تھا ۔۔ بڑے لوگوں سے آخر کو ان جیسی حثیت کے لوگ ۔۔۔ تعلقات کیوں نہیں بنانا چاہتے ہوں گے ۔۔۔
امی بھی ایکدم انکو دیکھ کر بھکلا گئیں جبکہ پیٹھ پیچھے برائیاں نکال دیں تھیں انکی ۔۔۔ ابو البتہ باہر چلے گئے تھے ۔۔
وہ سب چھوٹے سے روم میں بیٹھ گئے ۔۔۔
اور مدیھا نے جان بوجھ کر عارض کے ساتھ ایت کو بیٹھا دیا وہ دونوں ساتھ بے حد اچھے لگ رہے تھے ۔۔
بہت پیاری بچیاں ہیں آپکی “پھوپھو مسکرائیں ۔۔۔
اور یہ والی تو ماشاءاللہ ماشاءاللہ”انھوں نے اتھ کر آیت کو پیار کیا آیت شرمندہ سی ہو گئ ۔۔۔
میرا بیٹا ہے ایک ۔۔ بہت اچھا کماتاہے بہت بڑی کمپنی میں کام کرتاہے
بیوی ہے یہ میری” عارض کی کھردری آواز پر انکی زبان کو بریک لگا ۔۔
بیوی ہے میری آنٹی ۔۔۔ “عارض نے آنکھیں نکال کر دوبارہ اپنی بات پر زور دیا ۔۔
اور آیت کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔ مدیھا تنزیلہ صوفیہ پریشے اور عمل مسکرا دیں جبکہ آیت ۔۔ نے اسکی طرف دیکھا ۔۔
آنٹی آپ کیا کہہ رہی تھیں ویسے “آیت بولی ۔۔۔ تو عارض نے اسکو گھور کر دیکھا وہ تو اسکا خون جلا دینے پر کمر بستہ ہو گئ تھی ۔۔
نہیں نہیں بیٹا رہنے دیں “
وہ خود ہی شرمندہ سی ہو گئیں ۔۔تو آیت مسکرا دی ۔۔
بندی ہوش کے ناخن لے کبھی ۔۔۔ بعد میں مشکل پڑ جائے”پریشے اسکے کان میں بولی ۔۔۔
آیت نے لاپرواہی ہی ظاہر کی ۔۔۔
پریشے کا دل کیا قہقہے لگائے ۔۔
جبکہ عارض کی گرفت اسکے ہاتھ پر اتنی سخت تھی کہ اسکا ہاتھ سرخ ہو گیا
نین کو تو بلائیں بہن “
مدیھا بولی ۔۔
ہمیں تو لگا آپ لوگ آئیں گے ہی نہیں”پھوپھو پھر سے بولیں ۔۔
وہ دراصل ۔۔۔” مدیھا نے اسے سارا معاملہ بتایا ۔۔۔۔
بس بہن ہم تو نکاح کی تاریخ لینے آئیں ہیں” تنزیلہ نے کہا تو امی نے سر ہلایا ۔۔
جی “بس وہ اتنا ہی بولیں ۔۔۔
جاو چھوٹی نین کو بلا لاؤ ۔۔۔”امی نے کہا تو چھوٹی باہر بھاگی ۔۔۔
نین کچن میں اب بھی بیٹھی تھی ۔۔
آپی امی بلا رہی ہیں”وہ بولی ۔۔۔ تو نین اٹھی ۔۔۔
اور اسیطرح سیاہ لباس میں وہ سرخ چہرہ لیے ۔۔۔افسردہ آنکھیں ۔۔۔
وہ اندر آئ تو وہ تینوں آٹھ کھڑی ہوئیں ۔۔۔
آنکھوں میں حیرانگی تھی ۔۔۔۔
انھیں تو لگا وہ ایک بڑی لڑکی ہو گی مگر وہ تو انھیں کی عمر کی تھی ۔۔۔
آپ نین ہیں ۔۔ یار بہت پیاری ہیں” پریشے تو بے اختیار ہی ا سکے گلے لگی ۔۔ پھوپھو تلملا کر اٹھ کر باہر نکل گئ ۔۔ جبکہ امی بس چپ چاپ دیکھنے لگی ۔۔
وہ سب۔۔۔۔ نین سے باتیں کرنے لگی جو خاموش بیٹھی تھی۔۔
میں آپکا حقیقی دیور ہوں آئ مین بڑے بھیا کا بھائ ۔۔۔ میں تیسرے نمبر پر ہوں عارض نام ہے ۔۔ رشتے میں تو آپ بڑی ہیں مگر عمر چھوٹی ہے اب بڑھ بھیا ہی ڈسائیڈ کریں گے کہ آپکو کہنا کیا ہے ۔۔”عارض بھی خوش مزاجی سے بولا ۔۔۔
تو ہم بڑے بھیا کی کچھ نہیں لگتیں”پریشے نے آنکھیں نکالی ۔۔
اسنے عارض کو حقیقی پر گھور کر دیکھا ۔۔۔۔
عارض مسکرا کر اٹھ گیا ۔۔۔۔ نین پھر بھی کچھ نہیں بولی اور ۔۔۔ دو ہفتے بعد کی مدیھا کو امی نے ڈیٹ دے دی ۔۔ نین ۔نے ماں کیطرف دیکھا ۔۔۔
جبکہ وہ لوگ تو کافی خوش دیکھائی دے رہے تھے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے
