Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 38

زیمل نے حلق میں تھوک نگلا تھا ۔۔۔ سالار نے تھکاوٹ سے بھرپور۔۔۔۔ اور شدت طلب سے چمکتی نظروں سے اسکی گردن کیطرف غور سے دیکھا۔ ۔۔۔ اور اپنی انگلی اسکی گردن پر رکھ دی ۔۔۔
زیمل سے کوئ بات نہ بن پڑی اسکے تصور میں بھی نہیں تھا سالار اس طرح اسکو ٹریٹ کرے گا ۔۔۔اسکے لمس کی حرارت ۔۔۔ اسکی سانسوں کو بھاری کر رہی تھی ۔۔۔
سالار نے اسکا ہاتھ تھامہ اور بنا کچھ دیکھے اسے گھسیٹ کر بیڈ تک لے آیا
ی۔۔۔یہ کیا کر رہے ہیں آپ ” زیمل اسکے دھکا دینے سے نرم بیڈ میں دھنستی ۔۔۔۔ پریشان سی کانپتی ہوئ پوچھنے لگی مگر سالار کی آنکھوں میں عجیب گھیرائ تھی ۔۔
زیمل کے شانے کو پیچھے دھکیلتے ہوئے ۔۔۔۔وہ اسپر جھکا ۔۔۔۔
اسکے ایک ایک نقش اور لبوں کے پاس چھپ کر بیٹھے تل کو دیکھ کر۔۔اسے اپنے دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی سی محسوس ہوئی ۔۔ اور بس اسکو پا لینے کی خواہش نے شدت سےانگڑائ لی تھی۔۔اسنے بڑی چاہتے ۔۔سے اسکے پریشان چہرے پر بکھری بالوں کی شرارتی لٹوں کو انگلی کے پور سے ۔۔۔ پیچھے کیا ۔۔۔اور اسکے کان کے پیچھے ۔۔۔۔ کر کے وہ اسکے کان پر جھکا ۔۔۔۔۔
زیمل کے وجود میں جیسے طوفان سا اٹھ گیا ۔۔۔۔۔۔
اسکی رگ رگ میں ۔۔۔۔ سنسناہٹ سی دوڑی ۔۔۔۔۔ اور وہ سالار کی شرٹ کو ۔۔۔ اپنی مٹھیوں میں جکڑ گئ ۔۔۔اسکا تھکا تھکا لمس وہ اپنے کان پر محسوس کر رہی تھی ۔۔گویا شدت تھی ۔۔ جیسے آج ساری تھکاوٹ اتار دینا چاہتا ہو ۔۔۔۔۔۔
اوہ یور ٹیسٹ از ٹو گڈ” مدھم مگر بھاری آواز میں وہ ۔۔۔اسکے گال پر ۔۔۔ پیار کرتا بولا ۔۔۔ زیمل کا سرخ چہرہ اسے مسکرانے پرمجبور کر گیا تھا ۔۔۔۔۔
احساس غالب تھا اسوقت سارے بند توڑ دینے کے در پر تھا ۔۔۔
اسکے گلے میں موجود دوپٹے ۔۔ کو سرکا کر دور کیا ۔۔
زیمل جیسے بکھرتی جا رہی تھی۔۔۔۔
وہ اسکے چھونے پر۔۔۔۔ ہاں بکھر رہی تھی ۔۔۔ عجیب احساس تھا۔۔
جو چھا رہا تھا اسپر ۔۔۔۔۔
سالار نے زیمل کی بند آنکھوں کو ۔۔۔دیکھا تو۔۔۔وہ مزید ۔۔۔۔
بے تاب سا ہو گیا جیسے ۔۔۔ اس سے پہلے ۔۔۔وہ اسکے حسین دلکش تل کو۔۔۔۔ دقت میں ڈالتا
اسپر ظلم ڈھاتا ۔۔۔۔۔۔
اسکو ہلکان کرتا ۔۔۔اسکی دھڑکنوں میں شور مچا دیتا کہ زیمل ہوش میں آئ تھی زورسے اسکو دور دھکیل کر ۔۔وہ اپنے کانوں پر ۔۔ہاتھ رکھ کر ۔۔۔۔ بیٹھ گئ ۔۔
نہیں” وہ بولی تھی مدھم آواز میں ۔۔ جبکہ سالار کا اس اچانک جھٹکے پر ۔۔۔ بے عزتی کے احساس سے ۔۔۔۔ چہرہ
بری طرح سرخ ہو گیا ۔۔
زیمل کا ہاتھ جھٹک کر۔۔ زور سے اسکا رخ اپنی جانب کیا ۔
۔وٹ دا ہیل از دس “وہ پاگل سا ہوتا غرایا ۔۔۔۔
سالار کے ہاتھ کی گرفت بے حد تنگ تھی کہ زیمل کو تکلیف ہوئ ۔۔۔۔ آنکھوں میں آنسو تو پہلےسے ہی موجود تھے ۔۔۔۔
کیا سمجھتی ہو خود کو بار بار مجھے خود سے دور دھکیل کر اور ۔۔ زلیل کر کے تمھیں ملتا کیا ہے “وہ اچانک اسکا منہ مٹھی میں جکڑ گیا ۔۔۔۔۔۔
میں
۔۔ میں یہ سب نہیں چاہتی ۔۔۔۔ آپ آپ مجھ سے دور رہیں ” وہ آنسو وں سے تر لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔۔
سالار نے دانت پیس کر اپنے ہاتھ کی گرفت میں سختی بڑھا دی ۔۔۔۔
کون تمھیں میرے نزدیک آنے سے روکتا ہے ” وہ اسکا چہرہ اپنے چہرے کے بلکل قریب کرتا ۔۔۔۔ بولا ۔۔۔۔
اسکی آنکھیں سرخ تھیں ۔۔ میٹھی نرم نظریں سخت۔۔۔۔ غضب ناک نظروں میں تبدیل ہو چکیں تھیں ۔۔۔۔۔
ک۔۔۔کوئ ۔۔۔ کوئ نہیں ۔۔۔ میں ۔۔۔ میں خود ایسا کچھ نہیں چاہتی”وہ گھبرا کر جلدی سے بولی جبکہ اسکا ہاتھ اپنے چہرے پر سے ہٹانے کی پوری پوری کوشش کی مگر سالار کی گرفت بے حد سخت تھی جبکہ غصہ اس سے زیادہ اسے ۔۔۔ خوف زدہ کر رہا تھا ۔۔۔
سالار کو زیمل کی بات بری طرح چبھی تھی ۔۔۔
یہ آخر کیا ڈرامہ تھا ۔۔وہ کیوں اسکے ساتھ اسطرح رویہ رکھ رہی تھی۔۔
وہ کوئ گیرہ پڑا تھا ۔۔۔۔۔
اسنے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا ۔۔۔
زیمل پیچھے بیڈ پر گیر گئ ۔۔
اسنے بمشکل اپنے آنسو روکے تھے ۔۔۔۔
مگر ایک آنسو ۔۔۔ نکل کر۔۔۔اسکے گال پر بہہ اٹھا ۔۔۔
اسنے بنا پیچھے دیکھے اٹھنا چاہا مگر ۔۔۔۔ اسے احساس ہوا ۔۔۔ سالار کے ہاتھ کی گرفت اسکے پاؤں پر کڑی تھی
وہ ایک جھٹکے سے مڑی ۔۔۔۔
منظر مکمل تھا
۔۔۔ وہ غصے میں بھرا اسکا پاؤں پکڑے ہوئے تھا ۔جبکہ زیمل ۔۔۔۔ جیسے ہی مڑی لمبے بال
۔۔ ارد گرد۔۔۔ پھیل گئے ۔۔۔۔ اسکی سانسوں میں نا ہمواری تھی۔۔۔۔
چھوڑ۔۔ دیں مجھے” وہ سر جھکائے بولی ۔۔۔۔
سالار نے وہی پاؤں اسکا ۔۔۔۔۔ اپنی طرف کھینچا ۔۔ تو زیمل اسکے نزدیک آ گئ ۔۔۔۔
یہ تو تم بھول جاو۔۔۔۔۔ کہ میں تمھیں چھوڑوں گا ۔۔
اور بکواس سنو میری۔۔۔۔۔
کہیں نہیں جا رہی ہو تم
۔۔ یہیں میرے ساتھ سو ۔۔۔ گی اینڈ اٹس مائے آرڈر ۔۔۔۔۔
اور اگر تم نے مجھے ڈیس اوبے کرنے کی مزید کوشش کی ۔۔۔
تو تمھاری پنیشمنٹ ۔۔۔۔ بے حد بری ہو گی میں بلکل لحاظ نہیں کروں گا تم میری بیوی ہو ۔۔۔”
وہ اسے سختی سے وارن کرتا ۔۔۔۔ بیڈ پر سے اٹھا ۔۔زیمل نے جھکی نظریں اوپر اٹھائیں ۔۔وہ اے سی کی کولینگ تیز کر رہا تھا اسکے ساتھ رہنا اوپر سے سونا مطلب وہ چاہتا تھا بہت جلد ہی زیمل پاگل ہو جائے
۔۔وہ اپنے جزبات نہیں سمبھال سکتی تھی ۔۔۔۔۔
اور اوپر سے ۔۔۔ اسکے لمس نے اسکے وجود میں طوفان اٹھا دیے تھے ۔۔ جو سالار کے ہو جانے کے تھے ۔۔جیسے وہ بھی ایسی زندگی سے تھک گئ ہو ۔۔ ہاں وہ اس میں چھپ جانا چاہتی تھی ۔۔ کوئ اسے نہ دیکھے صرف وہ دیکھے اگر وہ کہتا ساری زندگی اس کمرے میں بند رہو ۔۔۔ اور میرے ساتھ گزار دو تووہ یہ بھی کرنے کے لیے تیار تھی ۔۔۔۔
اور اسی بات کے تحت۔۔اسے شے ملی اور وہ حدیں پار کرنے پر اترا۔۔۔۔
تو اچانک سے زیمل کے کانوں میں افشین کی آواز گونجنے لگی ۔۔۔
وہ کیا ہے اسکے وجود پر ۔۔۔ نشان ۔۔۔ اگر سالار سوال کر لیتا۔۔۔
وہ کیا سوچتا ۔۔۔۔ اور عدیل اور افشین کی دھمکیاں ان سب نے اسے ۔۔ان حسین خوابوں اور لمس سے باہر نکل کھینچا اور وہ ۔۔۔
اسکو دور دھکیل گئ ۔۔۔
وہ خود کتنی مشکل میں تھی وہ کیسے کسی کو بتاتی ۔۔۔
وہ کس قدر ڈر چکی ہے خود سے۔۔اپنے ارد گرد کے لوگوں سے وہ کیسے اسے سمھجاتی ۔۔۔۔۔۔
اپنے آنسوں کو حلق سے نیچے اتار کر ۔۔۔ وہ جلدی سے اس نرم ملائم بستر سے اتر کر بھاگی ۔۔ جو اسکے پاؤں جکڑرہا تھا ۔۔۔
سالار نے جلدی سے ۔۔اسے دروازے کے نزدیک جاتے دیکھا ۔۔۔ ماتھے پر کئ بل ڈلے ۔۔۔
زیمل دروازے سے باہر نکلتی کہ اسنے اسے پیچھے پھینک کر ۔۔۔۔
دروازے کو لوک کر دیا جو دو کمروں کو آپس میں ملاتا تھا ۔۔۔۔
زیمل دوبارہ سے بیڈ پر گیری تھی ۔۔
کیوں کر رہے ہیں آپ اسطرح ۔۔۔۔۔ کسی نے دیکھ لیا پھر۔۔۔
کوئ آ گیا تو ۔۔۔۔ کسی نے کوئ سوال کر لیا ۔۔۔۔” وہ اب باقاعدہ رونے لگی تھی ۔۔۔۔
سالار اسکے نزدیک آ گیا ۔۔۔وہ اسکی نظروں سے ۔۔ سٹپٹا ہی گئ جیسے وہ گھیرائ سے اسے دیکھ رہا ہو ۔۔۔۔۔
پاؤں اوپر کرو ” اسنے سنجیدگی سے حکم دیا تھا ۔۔اور زیمل کو اپنا آپ اتنا کمزور لگ رہا تھا ۔۔ گویا اس میں ہلنے کی بھی ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔
سالار جھک کر اسکے پاؤں اس سے پہلے اٹھاتا زیمل چلا کر پاؤں اوپر کر گئ ۔۔۔
پلیز مجھے جانے دیں ” وہ رو دی آج یہاں آنا اسکی سب سے بڑی غلطی تھی ۔۔۔۔
سالار کچھ نہیں بولا ۔۔۔۔
اس تکیے پر لیٹو “وہ وہیں کھڑا اسے آرڈر دینے لگا ۔۔۔
ن۔۔نہیں” زیمل ضد کرنے لگی سالار نے سر ہلایا ۔۔۔اور اپنی شرٹ کے بٹن کھولے دوسری طرف وہ گھبرا کر دھڑکتے دل کے شور سے ہلکان ہوتی ۔۔۔ آنکھوں پر ہاتھ رکھ گئ ۔۔۔۔
سالار نے یہ منظر دیکھا تھا ۔۔۔ وہ ضرور محظوظ ہوتا اگر کچھ لمہوں پہلے کی بے عزتی بھول جاتی تو ۔۔۔ شرٹ اتار کر اسنے ۔۔۔ وہیں پھینک دی ۔۔۔ اور دوسری طرف سے ۔۔پورے روم کی لائٹس آف کر کے بلکل اندھیرہ کر دیا ۔۔
کہ زیمل نے آنکھوں پر سے ہاتھ ہٹایا ۔۔۔۔
تو پورا کمرہ ۔۔۔۔ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔
اسے اندھیروں سے سخت نفرت تھی ۔۔ اندھیرے اسے مزید تاریکی میں اتار دیتےتھے ۔۔اسکی یاداشت سے
عدیل کے ساتھ گزرے دنوں میں پہنچا دیتے تھے ۔۔۔۔
وہ ہزیانی سی ہو کر ۔۔سالار کو تلاشنے لگی ۔۔
س۔۔۔سس۔سالار”ڈری سہمی سی آواز پر وہ جو ۔۔ بستر کے دوسری طرف لیٹ رہا ۔۔۔ تھا۔۔ ایکدم۔۔۔ اسنے زیمل کو اپنی طرف کھینچا تھا ۔۔۔
درحقیقت وہ اب۔۔۔ پریشانی محسوس کر رہا تھا ۔۔ زیمل کے ساتھ کیا مسلہ تھا وہ سمھجہ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔۔۔
کبھی وہ کچھ تھی تو کبھی کچھ ۔۔۔۔
میں ادھر ہی ہوں “سالار نے ۔۔اسے بلکل اپنے نزدیک کھینچ لیا اور اسکے کان۔میں بولا وہ کسی چھوٹے بچے کیطرح اس سے لگ گی تھی۔۔
م۔۔۔مجھے ڈر لگ رہا ہے لائٹ کھول دیں ” وہ سسکی ۔۔۔۔
لائٹ تو نہیں کھلے گی ۔۔۔ ہاں تمھیں ڈر لگ رہا ہے تو میں یہاں ہوں ۔۔۔ مجھ میں چھپ جاؤ ” وہ اپنے دونوں ہاتھ اسپر سے ہٹا گیا ۔۔۔
آپ بہت ظالم ہیں” زیمل واقعی اس میں چھپنے لگی ۔۔۔۔
ساتھ ساتھ ۔۔۔۔ کہہ بھی دیا ۔جبکہ رونا تو شاید اسکا مشغلہ تھا۔۔۔۔۔
سالار کو ہنسی آ گئ جو اسنے روک لی ۔۔
تم ظالم ہو ایک تو حسن اوپر سے لاپرواہی ۔۔۔ اتنی روڈنیس ” وہ سر جھٹک کر بولا۔۔۔۔۔۔
جان بوجھ کر کر رہے ہیں آپ یہ سب ۔۔۔۔ تا کہ میں مر جاؤں” وہ ۔۔۔۔ روتی ۔۔۔ احتجاج کرتی بولی ۔۔۔۔
ہاں میں تو آدم خور ہوں سالم بندے نگل جاتا ہوں ۔۔۔ پاگل” وہ اندھیرے میں بھی اسے گھور کر بولا ۔۔۔اور اسکا سر اٹھا کر اپنے بازوں پررکھ لیا۔۔۔۔۔اور خود سے بے حد نزدیک کر لیا ۔۔۔
زیمل کو اسکی اتنی نزدیکی محسوس ہوئ ۔۔تو اسکی کیفیت عجیب ہونے لگی ۔۔ وہ خود کو اس سے زرا فاصلے پر کرنے لگی ۔۔۔۔
مگر سالار مزید نزدیک ہوتا چلا گیا ۔۔۔
اسکے دونوں بندھے ہاتھوں کو کھول کر اسنے اپنی کمر کے ارد گرد باندھ لیے ۔۔۔
زیمل کا چہرہ سرخ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
ایک اندھیرہ جان نکال رہا تھا ۔۔۔ اوپر سے ۔۔۔یہ آدمی
سالار نے اسکا چہرہ اپنی گردن کے نزدیک کر لیا ۔۔۔
زیمل اسکے اندر سے اٹھتی کلون کی خوشبو سے گھبرا کر آنکھیں بند کر گئ ۔۔ حقیقت تھی اسکے تصور میں بھی یہ سب کچھ نہیں تھا ۔۔۔
البتہ سالار کو محسوس ہو رہا تھا ۔۔ اسکی ساری تھکاوٹ اسکے اتنے نزدیک آنے سے ۔۔ ختم ہوتی جا رہی ہو ۔۔اور گھیری
نیند اسے اپنی بانہوں میں بھرنے لگی ہو ۔۔۔
اسنے زیمل کی کمر میں ہاتھ باندھ کر اسے خود سے لگا لیا ۔۔اور آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
اسکی بھاری ہوتی سانسیں زیمل محسوس کر رہی تھی ۔۔۔۔
اور نہ جانے وہ خود کیسے نارمل ہوئ ۔۔۔۔
وہ آنکھیں بند کر گئ۔ ۔۔۔
دماغ کی تمام سوچیں اسکی قربت میں الجھ گئیں تھیں ۔۔
گھیری نیند نے اسے بھی لپیٹے میں لے لیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تیز رنگینگ ٹون سے ۔۔۔ سالار نے ناگواری سے ایک آنکھ کھولی ۔۔۔ اسکے چہرے پر ایک ہاتھ تھا ۔۔۔ جبکہ اسکا سر کسی کے سینے پر تھا اسنے ۔۔۔ رنگینگ ٹون کی اس مداخلت اور اپنی پوزیشن پر افسوس کیا ۔۔
وہ بلکل اس پوزیشن کو تبدیل نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اگر زیمل جاگ جاتی تو شاید ۔۔۔ وہ یہیں مر جاتی ۔۔۔ تبھی اسنے ہاتھ پیچھے کر کے سائیڈ ٹیبل تک ہاتھ پہنچایا اور احتیاط سے ۔۔ سر اٹھا کر ۔۔ زیمل سے اوپر ہو گیا ۔۔
خیر وہ تو بے ڈھنگے پن سے سوتا تھا تبھی انکی پوزیشن ایسی ہو گئ تھی ۔۔ جبکہ وہ تو اب بھی اسی پوزیشن میں
۔۔ تھی۔۔۔۔ سالار کو وہ اپنے بستر میں اپنے اتنے نزدیک بے حد پیاری لگی اسکے دل کی دھڑکنوں میں یہ معصوم چہرہ اتر سا گیا تھا ۔۔۔۔
رات والی بے عزتی بھولے وہ ۔۔ اس منحوس فون کو اٹھا گیا ۔۔۔۔
کیا مصیبت ہے ” وہ چلانا چاہتا تھا مگر چلا نہیں سکا ۔۔۔
مصیبت
تیرے سے بڑی دنیا میں مصیبت پیدا نہیں ہوئ تجھے ایک بات بتانی ہے کب سے ٹرائے کر رہا ہوں دوپہر کے دو بجے فون اٹھانے کی زحمت ہوئ ہے”افان چلایا ۔۔۔
آہستہ بولو”سالار نے مسکرا کر زیمل کو دیکھا ۔۔
اگراسے پتہ چل جاتا وہ دن کے دوبجے تک اسکے بستر میں ہے توکیا حالت ہوتی اسکی ۔۔وہ محظوظ ہوا تھا اور بے ساختہ اسکی انگلیوں کے پور نے ۔۔ زیمل کے چہرے پر کھیلنا شروع کر دیا تھا ۔۔۔۔
کیوں توکہاں ہے ۔۔۔ کام پر ہے ” افان کو زرا خیال آیا ۔۔۔
آخر کو وہ کیا تھا سب جانتے تھے ۔۔۔۔
دنیا کا سب سے دلچسپ منظر دیکھ رہا ہوں ۔۔اور سب سے اہم کام کر رہا ہوں ” وہ بولا ۔۔۔۔ لہجہ مسکراتا تھا
۔ جبکہ اب اسکی انگلیوں نے زیمل کے ہونٹوں کے نزدیک تل پر فوکس کر لیا تھا ۔۔۔۔
ہیں” افان پریشان ہو گیا ۔۔
مجھے لگتا ہے کوئ رومنٹک شوٹ کر رہا ” اسکی گھمبیر آواز سے وہ اتنا ہی اندازا لگا سکا ۔۔۔
مجھے اندازا ہو گیا ہے بیوی اور گرل فرینڈز میں کیا فرق ہے”
سالار کی شدت سے خواہش ہوئ اس چمچماتےتل کو سبق سیکھائے کہ آخر کس طرح اترا رہا ہے ۔۔۔۔
مگر وہ جاگ جاتی اور یہ منظر خواب کیطرح ٹوٹ جاتا جو کہ ابھی وہ چاہتا نہیں تھا ۔۔
تو بھابھی کے ساتھ ہے”افان چلایا تھا سب آفس ورکرز نے ۔۔اسکو ۔۔ آنکھیں نکال کر دیکھا تو وہ معزرت کرتا اٹھ کر باہر آ گیا ۔۔
سالار دل کھول کر ہنسا ۔۔۔۔
آف ۔۔۔ وقت دیکھ ۔۔ گھر والے تیرا منہ توڑ دیں گے اوپرسے تیرا باپ ۔۔۔ ” افان نے احساس دلایا ۔۔۔۔
آج دل نہیں ۔۔۔۔ کہ وہ جاگے اور میری آنکھوں سے دور ہو”
افان اسکی سنجیدگی پر چونکا ۔۔۔۔
کیوں
۔۔۔ محبت ہو گئ کیا “
افان نے چھیڑا ۔۔۔ جانتا تھا اسے زیمل سے محبت نہیں تھی۔۔۔۔
معلوم نہیں ۔۔۔۔ مگر دو چیزیں اب برداشت سے باہر لگتی ہیں ۔۔اس سے دوری ۔۔۔اور اسکی آنکھوں میں آنسو ۔۔۔
مگر ایک بات نہیں سمھجہ پا رہا میں” سالار کنفیوز تھا اور افان اور وہ آپس میں سب کچھ ہی شئیر کرتے تھے ۔۔۔
خیریت” افان نے پوچھا ۔۔۔۔
وہ خوف زدہ ہے کسی سے ۔۔۔۔”اسنے پھر سے زیمل کی طرف دیکھا اسکے پریشان کرنے پر اب وہ ۔۔۔ چہرے کا رخ موڑ گئ تھی ۔۔۔
اسکی گردن اب اسکے سامنے تھے ۔۔۔
پشت پر تل اور بھی ظالم تھا ۔۔۔
وہ کیا اتنی پوشیدگی میں حسن رکھتی تھی ۔۔
سالار نے گھیرہ سانس کھینچ کر نگاہ گھما لی ۔۔۔۔
تیرے جیسے دیو سے ہی ہو گی مجھے پتہ ہے تو کتنا بڑا زلیل ہے ۔۔” افان کا رخ کہاں تھا وہ جانتا تھا ۔۔۔
باسٹرڈ” سالار نے کہا اور بات کا رخ بدل لیا ۔۔۔
اپنی شرٹ اٹھائ ۔۔۔۔
حالات تو ایسے ہیں کمرے کے جیسے ۔۔۔۔ سب پارلگ گیا ۔۔۔۔
جبکہ ۔۔ ہواکچھ نہیں “وہ افسوس کرتا۔۔ ہوا ۔ چئیر گھسیٹ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
اچھا میری سن آج امی پریشے کا رشتہ لا رہی ہیں ۔۔۔ ” وہ بولا ۔۔ سالار ایکدم سنجیدہ ہو گیا ۔۔۔
ایک دن سکون سے جینے دے گا ۔۔۔۔ کل عارض کے معاملے سے نمٹیں ہیں آج تو نئ کہانی لے آ”
سالار”افان خفگی سے بولا ۔۔۔
سالار کو احساس ہوا۔۔
میرے بھائ ۔۔۔ تو دو تین دن رک جا ۔۔۔۔ اسکے بعد ۔۔۔ ” وہ سمھجانے لگا ۔۔۔
جبکہ افان نے فون بند کر دیا ۔۔۔
سالار نے سر تھام لیا ۔۔۔
ایک نمبر کا اوور انسان ” وہ آئینے میں خود کو دیکھتا افان کے بارے میں سوچتا بولا ۔۔۔
جب اسنے نکاح کرنا تھا ارد گرد ایک انسان کو بھی نہیں دیکھا اسنے اور افان ہر دم ہر گھڑی اسکے ساتھ تھا ۔۔۔
اسے خود پرغصہ آنے لگا۔۔ اور ۔۔۔ شاور لینے واشروم میں چلا گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیمل کی آنکھ کھلی ۔۔۔ تو بے ساختہ انگڑائ لے گئ ۔۔۔اور جیسے ہی ارد گرد دیکھا ۔۔۔
اسکا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔۔
وقت دیکھا ۔۔ تو اسکی حالت ایسی تھی کاٹو تو بدن میں لہو نہیں شرمندگی سے چہرہ پسینہ پسینہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔
نیچے سب جاگ گئے ہوں گے اسکے بارے میں کیا سوچیں گے۔۔۔۔ کیسی نظروں سے دیکھیں گے اسے وہ سالار کے ساتھ سوئ تھی ۔۔۔
یا اللہ ۔۔۔ اتنے سوالات اور اتنی ہی شرمندگی نے ۔۔ اسکے سکون دہ چہرے کو پریشان کر دیا تھا اچانک دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ ڈر گئ ۔۔۔
اور اس سے پہلے وہ باہر آتا وہ ہوا کے جھونکے پر ۔۔ وہاں سے ۔۔ نکلی تھی۔۔
سالار نے بیڈ کیطرف دیکھا ۔۔ بیڈ خالی تھا۔۔
مطلب محترمہ کو ہارٹ اٹیک آ چکا ہے ” وہ مسکرایا ۔۔اسکا دوپٹہ ۔۔۔۔ بستر پر تھا ۔۔ بستر کی سلوٹوں میں وہ نزدیک گیا اور اسکا ۔
دوپٹے کو ۔۔۔۔ اٹھا کر اسنے ہاتھ پر باندھ لیا ۔۔۔۔
اور خود تیار ہونے لگا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زیمل۔ نیچے آئ ۔۔۔ تو نیچے کچن سے سب کی آوازیں آ رہیں تھیں اسے نیچے آ کر احساس ہوا اسپر دوپٹہ نہیں ۔۔آگے کنواں پیچھے کھائ تھی ۔۔۔ وہ ہلکان ہو گئ تھی بس اتنے میں ہی ۔۔ پریشانی سے اردگرد دیکھنے لگی ۔۔
تبھی پیچھےسے آیت کی آواز آئ ۔۔
بھابھی ” وہ گویا کسی کو منہ دیکھانے قابل نہیں تھی اسکی آنکھیں بھیگ گئیں ۔۔۔
جبکہ آیت ۔۔ کے لبوں پر اپنے آپ مسکان آگئی ۔۔
اور اسنے ۔۔زیمل
کا ہاتھ پکڑ کر اپنے روم میں کھینچ لیا اس سے پہلے کوئ دیکھتا
۔
زیمل یہ سب نہ برداشت کرتے ہوئے رونے لگی ۔۔
آیت البتہ ہنس رہی تھی ۔۔۔
تمھارے ساتھ ی سب ہوتا میں تب دیکھتی تمھیں” وہ شکواہ کر گئ ۔۔۔
آپکا دوپٹہ کہاں ہے” آیت نے اسے چھیڑا ۔۔۔
زیمل نے اسے گھورنے کی کوشش کی ۔۔۔
اچھا ۔۔۔ اچھا سوری ۔۔۔ ایکچلی میں خود بہت شرمندہ ہوں بڑے بھیا کیا سوچتے ہوں گے میرے بارے میں” وہ افسردہ سی ہو گئ۔۔۔
کیوں ” زیمل نے اسکیطرف دیکھا ۔۔
وہ ایکچلی ۔۔ میں نے اتنی دیر کر دی آج مجھے انکے ساتھ جانا تھا ” آیت نے کہا ۔۔
او ہاں توتم سالار کے ساتھ چلی جاؤ ” زیمل نے مشورہ دیا ۔۔
اتنا فرینڈلی اسکے منہ سے سالار کا نام سن کرآیت اپنی مسکراہٹ چھپانے لگی زیمل شرمندہ ہو گی اس بے اختیاری پر ۔۔۔۔
آیت نے جبکہ مسکان دبا لی ۔۔
اوکے آپ فریش ہو جائیں ۔۔۔” وہ بولی ۔۔۔ اور خود روم سے باہر آ گئ ۔۔
زیمل جبکہ ۔۔۔ سر تھام گئ
۔۔۔۔
آیت جیسے ہی باہر نکلی ۔۔۔ دوسری طرف سے عارض بھی اپنے روم سے نکلا ۔۔۔۔
آیت نے نگاہ ایک لمہے میں پھیری تھی ۔۔
آیت” عارض کی پکار پر ۔۔ وہ ۔۔۔ سٹپٹا گئ ۔۔
کتنی مظبوط بننے کا ناٹک کرتی تھی تو وہ وہی آیت ۔۔۔
تبھی سالار نیچے اترا ۔۔۔
اور آیت کو دیکھ کر مسکرایا ۔۔۔
کیسی ہو ” وہ پوچھنے لگا ۔۔آیت نے سر ہلایا ۔۔سالار نے عارض کی طرف دیکھ لیا تھا۔۔۔تبھی
آیت کیطرف دیکھا جس نے سر جھکا لیا ۔۔۔
بھیا آپ مجھے آفس چھوڑ دیں گے” وہ بولی ۔۔۔
عار ض کے ماتھے پر کئ بل ڈلے
آفس ” سالار بھی حیران ہوا ۔۔۔
آیت آہستگی سے اسے بتا گئ ۔
واؤ نائیس یار ۔۔ آئ ایم ایمپریس “
مگر میں نہیں ہوں ” عارض نے بیچ میں ٹوکا ۔۔۔
دونوں نے عارض کیطرف دیکھا عارض واضح اسکی نظروں میں دیکھ رہا تھا ۔۔ آیت نے نگاہ پھیر لی سالار جان بوجھ کر کچھ پل خاموش رہا ۔۔۔
تم ایسا کچھ نہیں کرو گی “
وہ اسکو حکم دیتا بولا ۔۔۔
آیت اسکے اسطرح بولنے پر آنسو نہیں روک سکی ۔۔ جبکہ ۔۔ سالار نے بھڑک کر عارض
کو دیکھا ۔۔
مائینڈ یور اون بیزنیس مین” وہ بولا اور آیت کو لے کر اترنے لگا ۔۔عارض نے دانت پیسے تھے ۔۔۔۔۔آیت کے اس فیصلے پر ۔۔۔۔
جبکہ سالار آیت کو لے کر ۔۔۔ ڈائینینگ پر آ گیا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے