Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 35

گھر کا ماحول بے حد اداس تھا ۔۔۔ دن نکل آیا ۔۔۔ مگر کوئ اپنے کمرے سے نہیں نکلا تھا۔۔۔۔ کام پربھی کوئ نہیں گیا تھا ۔۔۔۔
نین اور زیمل نے ساری رات آنکھوں میں کٹ دی تھی کیونکہ مدیھا کو بخار چڑھ گیا تھا ۔۔۔ اور وہ ہر کچھ دیر بعد غنودگی میں ہی رونے لگتی تو وہ دونوں ایکدم اٹھ جاتیں ۔۔۔۔
اب بھی ان دونوں نے ہی سب کے لیے ناشتہ بنایا اور پریشے عمل زین اور مدیھا کو زبردستی سب سے پہلے ناشتہ کرایا ۔۔۔
نین کبیر کے لیے ناشتہ بنا کر روم میں لے گئ ۔۔۔ مگر کبیر ۔۔ اب تک بستر پر تھا ۔۔۔ پیشانی پر بازو رکھے وہ ۔۔چھت کو گھور رہا تھا۔۔
نین اسکے نزدیک آ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔
کچھ کھا لیں کبیر” اسنے مدھم لہجے میں کہا ۔۔ ہرگزرتے دن کے ساتھ اس شخص کی قدر میں نین کے دل میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔ اور ہر دن وہ اپنے دل میں اسکے لیے نئے سرے سے محبت محسوس کرتی تھی ۔۔۔۔۔ یہاں آنے کے بعد اسے احساس ہوا تھا رشتے کیا ہیں رشتوں کی ایک دوسرے کے لیے قدر کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ جو زندگی اسنے گزاری تھی ۔۔۔ وہاں رشتے بس رشتے تھے ۔۔۔ جبکہ یہاں آنے کے بعد اندازا ہوا ۔۔۔ کہ رشتے صرف منہ سے کہہ دینے سے رشتے نہیں بنتے ۔۔
محبت کی ڈوری میں بندھ کر رشتے پروان چڑھتے ہیں اور اسنے اس گھر میں آ کر یہ جان لیا کہ تھا کہ ۔۔ رشتے محبت کا نام ہیں یہاں سب کو ایک دوسرے کی کتنی قدر تھی ۔۔ کوئ کسی کا ساتھ چھوڑ دینے پر سکون میں نہیں تھا ۔۔
کبیر کچھ نہیں بولا تو نین نے اسکے چہرے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر کی آنکھوں کی پتلیوں میں حرکت ہوئ اسنے نین کو دیکھا ۔۔۔ نین ایکدم تڑپی اسکی آنکھیں سرخ تھیں ۔۔۔ بے حد ۔۔۔۔ جبکہ آنکھوں کے پردے پھولے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
کبیر” نین نے ٹرے سائیڈ پر رکھی ۔۔۔۔۔
ایسا لگ رہا ہے نین جیسے جسم کا کوئ حصہ ٹوٹ گیا ہے ” گہرے مایوس لہجے میں ۔۔ وہ بولا ۔۔۔ نین کو بس نہیں چلا اسے خود میں سما لے ۔۔۔ اسنے کبیر کے دونوں ہاتھ تھام کر اسکو ۔۔ اٹھایا ۔۔اور ۔۔۔ حالانکہ کے وہ نین کے مقابلے بہت بڑا تھا پھر بھی اسے خود میں سمیٹنے کی کوشش کی ۔۔۔
میں نہیں جانتی آپ لوگ کیا سوچ رہے ہیں یہ نہیں مگر مجھے لگتا ہے کوئ مسلہ ہے ۔۔۔ کوئ بات ہے ” وہ کبیر کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی اسکو اپنے دل کی بات بتانے لگی ۔۔۔
کبیر نے آنکھیں ایکدم کھولیں اور اسکی گود سے ایکدم دور ہوا ۔۔۔
میرے سامنے اس قسم کی آئندہ بکواس مت کرنا ” وہ چلایا ۔۔۔
اچانک ہی ۔۔ نین کا رنگ پھیکا پڑ گیا ۔۔۔۔
وہ نیچ انسان اب دوبارہ ہماری زندگیوں میں کبھی شامل نہیں ہو گا اور اگر ہوا تو ۔۔ میں خود اپنے ہاتھوں سے اسکا خون کر دوں گا ” وہ بولا ۔۔اور بستر چھوڑ کر اٹھ گیا ۔۔۔۔۔
یہ غلط ہے ” نین نے کچھ کہنا چاہا ۔۔
نین” کبیر آنکھیں نکال کر غرایا ۔۔۔
نین سر جھکا گئ ۔۔۔۔۔
وہ جانتا تھا اسکا گھورنا ہی کافی ہے تبھی وہ واشروم میں چلا گیا ۔۔ جبکہ نین ۔۔۔ بند دروازے کی جناب دیکھ رہی تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زین مدیھا کے پاؤں دبا رہا تھا جبکہ زیمل نے اسکے سر پر پٹی رکھی ۔۔ مدیھا کا بخار اب کچھ اتر گیا تھا ۔۔۔
پریشے اور عمل بھی آ چکیں تھیں ادھر ہی ۔۔۔
مدیھا نے زیمل کیطرف دیکھا ۔۔۔
جاؤ بیٹا سالار کو بھی ناشتہ دے دو ۔۔” مدیھا نے کہا ۔۔۔
زیمل کچھ ہچکچا گئ ۔۔
اگر میری طبعیت ٹھیک ہوتی تو تمھیں نہیں کہتی میں” مدیھا نے کہا تو زیمل اپنے ایکشن دینے پر کچھ شرمندہ سی ہوئ ۔۔
نہیں آنٹی آپ ریسٹ کریں میں دے دیتی ہوں ” وہ بولی ۔۔اور اٹھ گئ ۔۔۔
زین مجھے اپنے بابا کے پاس لے جاؤ ” مدیھا بولیں ۔۔۔
مما سالار بھیا یہ کبیر بھیا ہی دروازہ بجائیں گے مجھ میں نہیں ہے بابا کے زلزلے سہنے کی ہمت” وہ جلدی سے بولا ۔۔ تو مدیھا مسکرا دی ۔۔۔۔
جبکہ سب اسکی مسکراہٹ دیکھ کر ۔۔۔ ایکدم کچھ پرسکون ہوئے ۔۔۔
جبکہ مدیھا نے زین کے چہرے پر پیار کیا ۔۔۔۔
آیت کو دیکھ لیتی صوفیہ تم ۔۔۔۔ ” مدیھا نے کہا تو ۔۔۔ صوفیہ نے سر ہلایا۔۔اور تنزیلہ صوفیہ اور پریشے عمل چاروں آیت کے پاس چلی گئیں ۔۔۔
بیٹا اگر تم نہیں جانا چاہتی تو میں نین سے کہہ دیتی ہوں وہ کچھ کھا لے ۔۔۔۔ پتہ نہیں کچھ کھایا بھی تھا یہ نہیں “وہ پریشان ہی ہو گئیں ۔۔۔
زیمل شرمندگی سے سر نفی میں ہلا کر جلدی سے باہر نکلی اور ۔۔وہ تو جانتی بھی نہیں تھی کہ اسے کیا پسند ہے ۔۔ ناشتے میں۔۔۔ اسنے اپنے دماغ کے مطابق کافی کا کپ بنا لیا ۔۔ اکثر افشین کو بھی وہ دیتی تھی کافی بنا کر تبھی کافی تو اسے بنانی آتی تھی اسنے بس کافی بنا لی ۔۔۔جبکہ اسکی سمیل سے اسے ہمیشہ سے کوفت ہوتی تھی آخر کوئ اتنا کڑوا اور کالا سیاہ پانی کیسے پی سکتا ہے ۔۔۔۔۔
اسنے منہ بنا کراسپر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔
پھر بدتہذیبی کا احساس ہوا تو ۔۔۔ ٹرے میں کپ رکھ کر وہ اوپر والے پورشن کیطرف چل دی ۔۔۔
اسنے افسوس سے آیت کے کمرے کیطرف دیکھا تھا ۔۔ جس کی ایک بار پھر سے رونے کی آوازیں آ رہیں تھیں ۔۔۔
وہ اوپر آ گئ ۔۔۔
مگر یہاں اسے احساس ہوا کہ ۔۔۔ یہاں تو ابھی رات باقی ہے ۔۔اسنے ۔۔۔ کمرے میں داخل ہو کر دیکھا تو وہ ۔۔۔ سر تک کمبل تانے شاید سو رہا تھا جبکہ ارد گرد گرے بلیک اور وائٹ تکیوں کا انبار لگا ہوا تھا ۔۔۔۔
جبکہ بیڈ کی بیڈ شیٹ بلکل سکڑ چکی تھی ۔۔ کافی بے ترتیب سا مرد تھا وہ ۔۔۔ اسنے ۔۔ کافی کا کپ سائیڈ پر رکھ کر ۔۔۔ گلاس وال سے ۔۔پردے ہٹائے تو روشنی کمرے میں بکھر گئ ۔۔ مگر اتنی نہیں ۔۔ کیونکہ موسم آج کل تقریبا خوشگوار ہی تھا ۔۔ تبھی بادلوں کی اوٹ سے نکلتی روشنی گلاس وال سے چھن کر ۔۔۔ کمرے میں اتر آئ اور کمرے میں موجود ملگجہ سا اندھیرہ ختم ہو گیا ۔۔۔۔
زیمل نے پلٹ کر بیڈ کیطرف دیکھا وہاں تو رتی بھی فرق نہیں پڑا تھا ۔۔۔۔
وہ اٹھ سکتا تھا خود سے ۔۔ اسطرح تو وہ اس سے بلکل فرینک نہیں تھی کہ اسپر سے کمبل ہٹا کر ۔۔ وہ ۔۔۔ اسے اٹھاتی ۔۔ تبھی ارد گرد کوئ چیز دیکھنے لگی کہ شاید وہ شور سے اٹھ جائے ۔۔
اسنے سائیڈ ٹیبل کو زرا سا بجایا ۔۔
سالار” مدھم لہجے میں بولی مگر دوسری طرف اثر بی نہیں پڑا ۔۔
تھوڑی دیر اور کوشش کرنے کے باوجود اوراونچی آواز میں بولنے کے باوجود بھی جب وہ نہیں اٹھا تو۔ ۔۔ زیمل نے کچھ جھجھکتے ہوئے اسکا شانہ ہلایا ۔۔۔
اور آہستگی سے اسکے چہرے پر سے کمبل ہٹا دیا ۔۔۔
کمبل کی زرا سی گرمی سے اسکے چہرے پر سرخی سی پھیلی ہوئ تھی ۔۔ جبکہ چہرے کے نقوش بے حد دلکش تھے وہ پہلی بار اسے غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔ اسکے گھنے بال پیشانی پر بکھر گئے تھے ۔۔ جبکہ بریڈز اور ایک دوسرے میں پیوست پب ۔۔۔ وہ سانس تھامے اسکیطرف دیکھ رہی تھی ۔۔ اسنے اتنا خوبصورت مرد آج سے پہلے نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔
اور ایکدم اسے اپنی حرکت کا احساس ہوا ۔۔
دھڑکتے دل کا شور کانوں میں سن کر وہ گھبرا کر دور ہوئ ۔۔۔
سوچا نیچے چلی جائے کیونکہ وہ تو اٹھ نہیں رہا تھا ۔۔۔
اور پھر اسنے آخری کوشش کی ۔۔۔ وہاں سے ایک کوشن اٹھا کر اسنے سالار کے منہ پر دے مارا ۔۔
آہ”وہ جھنجھلا کر ۔۔۔۔ آنکھیں کھول گیا جبکہ زیمل اس کامیابی پر ایکدم خوش ہوئ ۔۔۔۔
یہ آسان تھا طریقہ تھا۔۔۔ وہ مطمئین ہوئ ۔۔۔۔
کیا مسلہ ہے ” سالار تو پھاڑ کھانے کو دوڑا ۔۔۔
کافی دیر ہو گئ تھی آپ اٹھے نہیں آنٹی نے بھیجا تھا آپکو ناشتہ کرا دوں ” زیمل جلد بازی میں بول گئ جبکہ بیڈ سے دور بھی ہو گئ ۔۔۔۔
جبکہ سالار تو مکمل بیدار ہو گیا ۔۔۔۔
یہ کون سا طریقہ ہے اٹھانے کا ۔۔۔ تمھیں تو رومینس کی الف بے بھی نہیں آتی ٹھیک سے ۔۔ کھینچ کر مار دیا منہ پر ۔۔ لڑکی میرے منہ کو کچھ ہوتا تو ۔۔۔ دنیا تمھیں چھیت دیتی ۔۔۔ بہت قدر ہے اس چہرے کی ” وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا ۔۔ اٹھ گیا ۔۔۔اسکی شرٹ کے اوپری بٹن کھلے تھے جن سے زیمل نے نگاہ چرائ تھی ۔۔
تو تم مجھے ناشتہ کرانے آئ ہو ۔۔۔ واؤ مما ہو میرا کتنا خیال ہے ” وہ خوش مزاجی سے بولا ۔۔۔۔
زیمل اسکی صورت دیکھنے لگی ۔۔
گھربھر کے حالات کیا تھے اور اسکو کیسے شگوفے سوج رہے تھے ۔۔۔۔
کل تو آپ اتنا غصے میں تھے آج آپ مسکرا رہیں ہیں ۔۔۔” وہ کافی کا کپ اسے اٹھا کر دیتی سیدھا سیدھا طنز کرنے لگی ۔۔
نہ ہی کل آنٹی کے پاس آپ آئے ” زیمل کو برا لگا تھا ۔۔۔۔
زیمل نے اسکے آگے کپ کیا ۔۔
مجھے تم سے زیادہ اپنی فیملی کا احساس ہے خیال ہے ۔۔” وہ اسکے طنز کا جواب دینے لگا ۔۔۔
ہاں وہ تو کل دیکھا ہے مجھے ۔۔۔” زیمل نے بھی اسے چڑانے کا اردہ بنا لیا تھا ۔۔ سالار اسے گھورنے لگا ۔۔۔۔
میں چلتی ہوں آپ ۔۔۔۔ نیچے آ جائیے گا شاید آپکو مسکراتا دیکھ سب کچھ بہتر محسوس کریں ” زیمل نے سنجیدگی سے کہا اسے احساس ہو گیا تھا وہ شخص اتنی صلاحیت رکھتا ہے کہ اپنے موڈ سے دوسروں کو خوش کر سکے ۔۔۔۔۔
ویٹ ویٹ ۔۔۔۔ یہ کون سا طریقہ ہے مما نے تمھیں میرے پاس خود بھیجا ہے اور تم یہ سنجیدہ سنجیدہ باتیں میرے منہ پر مار کر جا رہی ہو موقع جب ہو تو فائدہ اٹھانا چاہیے کل کی ساری ڈیٹ فلاپ ہو گئ میری” وہ جلدی سے اٹھ کر اسکا ہاتھ پکڑتا بولا ۔۔جبکہ دوسرے ہاتھ سے کافی کا گھونٹ بھر کر اسنے برا سا منہ بنایا ۔۔
میرا پی آئے ہی تم سے زیادہ اچھی کافی بنا لیتا ہے” وہ
سر جھٹک کر وہ بولا ۔۔۔
اور زیمل کو زبردستی بیڈ پر اپنے سامنے بیٹھا لیا ۔۔۔
زیمل نےاٹھنا چاہا ۔۔۔
اوکے جب تک یہ کافی ختم نہیں ہوتی ۔۔ بس تب تک ” سالار بولا ۔۔۔۔ تو زیمل ایک نظر اسکی جانب دیکھ کر بیٹھ گئ ۔۔ جبکہ سر جھکا لیا تھا ۔۔سالار اسکو غور سے دیکھنے لگا ۔۔۔
پنک دوپٹہ سر پر رکھے ۔۔وہ خاموشی سے ۔۔ بیٹھی تھی ۔۔۔
جبکہ انگلیوں کو اچھی طرح موڑ توڑ رہی تھی ۔۔سالار نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا اور گرم مگر کڑوی ترین کافی کا گھونٹ بھر لیا ۔۔۔
مجھے کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا ۔۔۔۔۔ یہ سب کیسے ٹھیک ہو گا ۔۔۔آیت کو دیکھ کر رونا آ رہا ہے عارض بھائ نے ایسا کیوں کیا ۔۔ انھوں نے کتنا بڑا چیٹ کیا ہے آیت کو وہ کیسے برداشت کرے گی ۔۔یہ سب کچھ ۔۔۔۔” بلآخر زیمل بولی ۔۔اور رونے لگی ۔۔
سالار نے کافی کا کپ گھیرہ سانس بھر کر ۔۔۔ سائیڈ پر رکھا ۔۔اور وہ اسکے نزدیک ہوا ۔۔۔ اور پہلی بار سالار نے اسکو اپنے سینے سے لگایا تھا ۔۔ جبکہ زیمل بھی بنا احتجاج کے لگ گئ تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
اسنے زیمل کی جانب دیکھا جو دونوں ہاتھ منہ پررکھے ۔۔ رونے میں مصروف تھی ۔۔۔۔
میرا پروبلم یہ ہے کہ میں تمھیں روتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔ شروع دن سے ۔۔۔ جب میں نے تمھیں روتے ہوئے دیکھا ۔۔۔ تو اس دن سے میں نے سوچ لیا تھا ۔۔ تمھارے آنسوں کو خود چن لوں گا ۔۔۔ ” اسنے گھمبیر لہجے میں کہا ۔۔اور اسکے آنسو صاف کیے ۔۔۔۔
زیمل کو اپنی پوزیشن کا فورا احساس ہوا ۔۔ تو جلدی سے دور ہونا چاہا ۔۔ جبکہ سالار کی پکڑ اسکے شولڈرز پر مظبوط تھی وہ ہچکچا گئ ۔۔۔۔
بہت جلد سب ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔ مجھے لگتا ہے اس بیچ میں کوئ راز ہے ۔۔۔ جسے وہ ہم سب سے چھپا کر گیا ہے ۔۔۔ ایسا نا ممکن نہیں لگتا تمھیں کہ ۔۔۔ بیس تیس دن وہ ہنی مون پر عیاشی مار کر آیا وہ بھی اس لڑکی کے ساتھ جو اسے پسند نہیں اور جب آیا تو اسکی بتیسی اتنی باہر تھی جتنی میں نے کبھی نہیں دیکھی ” وہ سمھجنے لگا زیمل اسکی شکل دیکھنے لگی ۔۔
اس سے زیادہ کوئ گھیری اور خاص بات پکڑ لیتے” وہ افسوس کرتی اس سے دور ہوئ ۔۔ جبکہ سالار ہنس دیا ۔۔۔۔
آئ پرومس سب ٹھیک وہ جائے گا اور میرے بھائ کو برا مت سمجھنا ۔۔۔۔ وہ میری طرح ہیڈسم اور رومنٹک پلس عقلمند نہیں ۔۔۔ ہے مگر پھر بھی ۔۔۔ بہت اچھا ہے” زیمل دروازے کی جانب بڑھ رہی تھی جبکہ سالار بیڈ پر لیٹا ۔۔۔۔ اسکی طرف دیکھتا بولا ۔۔۔
آپکے بھائ نے آیت کو جو تکلیف دی ہے اسکے بعد شاید اس گھر میں کوئ اسے اچھا سمھجہ سکتا ہے ” اسنے سنجیدگی سے کہا ۔۔سالار بھی اسے سنجیدگی سے دیکھنے لگا ۔۔۔
اور اگر میں ثابت کر دوں ” وہ اپنی جگہ سے اٹھا چہرے پر ناگواری چھا گئ تھی ۔۔۔۔
جو حقیقت نہیں اسے آپ ثابت نہیں کر سکتے سالار ۔۔۔ وہ انسان شاید آیت کے لائق ہی نہیں”
انف” سالار بھڑکا ۔۔۔۔
مجھے بلکل پسند نہیں ۔۔تم میرے گھر والوں میں سے کسی کی برائ اپنے منہ سے نکالو “وہ دبے لہجے میں غصےسے بھڑکا ۔۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ پھر آپ بھی انھیں لوگوں میں شمار ہیں جو برائ کو ڈھانپ ڈھانپ کر رکھتے ہیں جن کی کوشش ہوتی ہے اپنوں کے عیبوں پر پردے ڈالنے کی جبکہ وہ چاہے کچھ بھی کرتے پھیرے ۔۔ لڑکی کا دل سالار کانچ کیطرح نازک ہوتا ہے وہ اتنے ستم نہیں سہہ سکتا ۔۔ جتنے مرد ستم عورت کو دے دیتا ہے ۔۔اور یہ حقیقت ہے کہا آپ کا ۔۔ بھائ آیت کو ڈیزرو ہی نہیں کرتا تھا ” وہ پہلی بار بھڑکی تھی رات سے یہ ہی بات اسے تکلیف دے رہی تھی ۔۔۔۔۔
تم اپنی زبان بند رکھو” سالار ضبط سے ایک قدم اسکیطرف بھڑکتا بولا ۔۔۔۔
جبکہ زیمل پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔دونوں کے ہی دماغ میں ایسا کچھ نہیں تھا کہ دونوں کے درمیاں گفتگو اس نتیجے پر پہنچے گی ۔۔۔۔
زیمل اسکی جانب دیکھ کر وہاں سے نیچے اتر گئ جبکہ سالار نے غصے سے بھڑک کر ۔۔ دیوار پر ہاتھ مارا تھا ۔۔۔
اسے امید نہیں تھی زیمل سے ایسی کسی بھی بات کی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ فریش ہو کر نیچے آیا ۔۔۔ جبکہ فون پر کسی سے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
وٹ دا ہیل تم ایک چیزکل رات ہی میں تمھیں کہہ چکا ہوں پتہ نہیں کر سکے ۔۔۔” وہ ایکدم کسی پر چلایا تھا ۔۔۔ کبیر کو اسنے ہاتھ کے اشارے سے روکا جو کہ آفس جا رہا تھا شاید ۔۔
مجھے آدھے گھنٹے کے اندر اندر ریپورٹ دو ” اسنے آخری بات کہہ کر فون بند کیا ۔۔۔۔
نین ایکطرف کھڑی تھی جبکہ نیچے لاونج میں صرف کبیر تھا باقی کوئ نہیں تھا ۔۔۔
کبیر مجھے تم سے بات کرنی ہے ” وہ بولا ۔۔
ہاں بولو آفس میں میٹینگ ہے تم مجھے جلدی بتا دو ۔۔” کبیر عجلت میں تھا ۔۔
یار کینسل کر دو ۔۔۔۔ بات ضروری ہے “
بولو تم میں سن رہا ہوں ” وہ بلکل سپاٹ لہجے میں بولا ۔۔
کبیر مجھے لگتا ہے عارض کے ساتھ کوئ پروبلم ۔۔۔۔”
سالار اس سے پہلے بات پوری کرتا کبیر نے ناگواری سے سانس بھرا ۔۔
تمھیں آواز سنائ دے رہی ہے کوئ ” اسنے ہاتھ اٹھا کر اس رخ نظروں سے جیسے اس آواز کیطرف اسکی توجہ دلائی جو آیت کے روم سے آ رہی تھی مسلسل رونے کی ۔۔
سالار نے ضبط سے اپنے ہونٹ بھینچے ۔۔۔۔ یہ ہی تو ۔۔ تکلیف تھی ۔۔ اصل ۔۔۔۔
میں اسی کا حل چاہتا ہوں” سالار نے بتایا ۔۔
مگر میں نہیں چاہتا سیدھی طرح تمھیں بتا رہا ہوں ۔۔۔۔ جو تمھارا دل کرتا تم کرو ۔۔۔۔مجھ سے کسی بھی بات کی امید مت کرنا ۔۔وہ آدمی میرے سامنے آئے یہ نہیں ۔۔۔ میں آیت کی ڈیورس کراؤں گا تاکہ وہ ایک بار ہی ساری تکلیفوں سے گزر جائے یہ ہر کچھ مہینوں بعد اسکو ۔۔ لوگ ۔۔۔ نئے سرے سے اذیت نہ پہنچائے” کبیر کڑک لہجے میں کہتا ۔۔۔ سالار اور نین کو حیران کر گیا ۔۔
پاگل ہو گئے وہ تم کیا بکواس ہر رہے ہو ” سالار تپ کر بولا ۔۔
میں فیصلہ کر چکا ہوں اور میرے فیصلے کے بیچ کوئ نہیں آئے گا ” وہ زہر خند لہجے میں بولتا سالار کو بھی جتاتا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔ جبکہ سالار ۔۔۔ حیرانگی سے اسکی پشت گھورتا رہا گیا ۔۔۔۔۔
اسنے نین کیطرف دیکھا ۔۔
میں بھی کبیر کو یہ ہی سمھجانا چاہ رہی ہوں کوئ مسلہ ضرور ہے ۔۔” نین نے ۔۔ اپنے دل کی بات بتائ تو سالار سر تھم گیا
ایک طرف اسکی بیوی دوسری طرف اسکا بھائی ۔۔۔
سالار کے چہرے پر واضح پریشانی کے آثار تھے ۔۔
نین اسکے قریب ہوئ ۔۔۔۔
میں آپکے ساتھ ہوں آیت کو اس اذیت سے نکلنے کا حل یہ نہیں جو کبیر سوچ رہے ہیں بلکہ یہ ہے ۔۔ کہ عارض جہاں بھی ہیں وہ واپس آ جائیں ۔۔۔” نین اسکو کہنے لگی جس پر سالار نے سر ہلایا ۔۔۔
مگر متفکر دونوں ہی تھے ۔۔۔
بابا کہاں ہیں” وہ پوچھنے لگا ۔۔
جی انھوں نے ڈور نہیں کھولا ۔۔۔ زین نے کوشش کی تھی بلکہ چاچو وغیرہ تو کافی دیر سے کوشش کر کے آفس چلے گئے ہیں” نین نے تفصیلی جواب دیا ۔۔اور سالار ۔۔۔ وہاں سے ہٹ کر جلدی سے باپ کے کمرے کی جانب بڑھا ۔۔۔۔
بجانے کو کوئ فائدہ نہیں تھا تبھی اسنے ڈیوڈز سے چابی نکال کر دروازہ کھولا ۔۔۔۔
تو کمرے میں اندھیرہ تھا نین باہر ہی رک گئ ۔۔۔۔
اور سالار اندر چلا گیا جبکہ دروازہ بھی بند کر لیا ۔۔
اندر کمرے میں اندھیرہ تھا سالار نے لائٹ اون کی ۔۔۔
تو مرتضی سٹڈی ٹیبل پر بیٹھے تھے جبکہ انکے آگے ۔۔۔ ان چاروں بھائیوں کی تصویر رکھی تھی جو انھوں نے ۔۔۔۔ ناران کاغان کے ٹور پر کھنچوائی تھی زندگی میں ایک بار ہی ان چاروں کو اسطرح جانے کی اجازت ملی تھی ۔۔۔ اور یہ تصویر مرتضی کو بے حد پسند تھی ۔۔۔۔
سالار کو باپ کی پریشانی کا احساس ہوا تو اسنے پیچھے سے انکو گلے سے لگا لیا ۔۔۔۔
وہ کچھ نہیں بولا تھا ۔۔۔۔
مجھے سخت غصہ ہے تم سب پر ” مرتضی بولے اور تصویر کو ٹیبل پر پٹخ دیا ۔۔
سالار کے لب مسکرا دیے یعنی یہاں اتنی سختی نہیں تھی ۔۔۔۔۔
ہاں جانتا ہوں ۔۔۔ ” سالار نے اس تصویر کو اٹھا کر دیکھا ۔۔۔۔
وہ چاروں ایک دوسرے کے شانوں پر بازو رکھے ۔۔۔ کھڑے ہنس رہے تھے ۔۔۔۔
تم لوگ سمجھتے ہو کہ بہت بڑے ہو چکے ہو ۔۔ یہاں تک کے تمھاری ماں کو بھی لگتا ہے کہ مرتضی کی ضرورت اب کسی کو نہیں رہی اسکو تو مر جانا چاہیے” مرتضی نے غصے سے سالار کیطرف دیکھا ۔۔۔
سالار نے انکیطرف دیکھا ۔۔۔
آپکوعارض پر غصہ نہیں “سالار نے الگ ہی سوال کیا ۔۔۔
وہ یہیں ہے ابھی امریکہ نہیں گیا ۔۔۔۔۔ “مرتضی نے بھی الگ جواب دیا ۔۔سالار چوکنا ہوا ۔۔ یہ ہی کھوج نکالنے کے لیے تو رات سے اپنے پی آئے کو بھاگا رکھا تھا اسنے ۔۔۔
واقعی ” سالار نے جلدی سے سیل فون نکالا ۔۔۔
پھر تو آسانی سے پکڑا جائے گا ۔۔اوہ تھینک ڈیڈ ” وہ جلدی سے بولا ۔۔اور ایکدم وہاں سے باہر نکل گیا ۔۔۔
جبکہ مرتضی اسی کے منتظر تھے کہ وہ کب اسکے پاس آئے گا اور کب وہ اسے یہ بتائیں گے ۔۔ وہ جانتے تھے عارض نے جن نظروں سے انھیں دیکھا تھا وہ کسی مشکل میں ہے ۔۔۔ ماں باپ کی نگاہ سے اولاد کی تکلیف چھپتی نہیں بھلے اولاد ماں باپ کو کتنی ہی تکلیف دے دے مگر یہ طے تھا ۔۔ کہ وہ سب کو سیدھا کر دینے کا ارادہ رکھتے تھے ۔۔
یہ گھر باندھ کر ہی وہ چلا رہے تھے ۔۔اور ان چاروں میں سے ۔۔ایک کو بھی وہ اپنے تن سے جدا نہیں کرنا چاہتے تھے ۔۔۔
مگر سزا کے حقدار سب ہی تھے تبھی ۔۔وہ گھیری سانس بھر کر اٹھ گئے اور فریش ہونے کے لیے واشروم چلے گئے ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سالار نے افان کو کال کی اور اسے ساری بات بتائی ۔۔
یہ کیا بکواس ہے یار تم لوگوں نے ہمیں بتانے کی ضرورت بھی نہیں سمھجہ” افان الٹا غصہ کرنے لگا ۔۔
یار مجھے فلحال عارض کی لوکیشن کا پتہ چل گیا ہے ۔۔ تم میرے پاس پہنچ سکتے ہو ۔ کبیر تو میرا فون اٹھانے کے لیے تیار نہیں ہے ” سالار جھنجھلا کر بولا ۔۔۔ وہ گاڑی خود ڈرائیو کر رہا تھا جبکہ اسکا پی آئے ساتھ بیٹھا تھا اسی نے عارض کی لوکیشن نکالی تھی جو کہ بہت مشکل سے ملی تھی ۔۔
یہ لوکیشن ائیرپورٹ سے کچھ دورتھی ۔۔۔
اور وہ کافی تیزی سے اس لوکیشن تک پہنچنا چاہ رہا تھا جبکہ افان ۔۔ بھی دوسری طرف اسکے کہنے پر آفس سے نکلا تھا ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے