Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

عدیل کی وفات کو دو دن گزر گئے مگر گھر کا ہنگامہ ختم نہیں ہو رہا تھا ۔۔
افشین زیمل کو ایک پل بھی اپنے سامنے برداشت نہیں کر پا رہی تھی ۔۔۔
اور جب آج صبح اسنے پھر اسے ناشتے پر دیکھا ۔۔۔۔ جبکہ وہ پریشے اور آیت کے ساتھ ہی تھی مگر پھر بھی اسکا خون کھول گیا ۔۔۔
میرے بیٹے کے قاتل کے ساتھ بیٹھ کر کھا رہی ہو تم دونوں میری تکلیف کا کوئ اندازاہی نہیں “آیت اور پریشے پر وہ ایکدم چڑھ دوڑیں جنھوں نے زیمل کی وجہ سے لیٹ ناشتے کا پروگرام بنایا تھا ۔۔۔۔
آیت نے تو ایک دم ہاتھ کھینچ لیا ۔۔۔۔ کہ وہ افشین کے تیور دیکھ کر ہی ڈر گئ تھی ۔۔۔ جبکہ ۔ پریشے نے غصے اسے انکی طرف دیکھا ۔۔۔
بس کریں چچی اسنے دو دن سے کچھ نہیں کھایا جب کھانے بیٹھتی ہے آپ ا جاتیں ہیں۔۔۔۔” پریشے بولی تو افشین نے اسے حیرت سے دیکھا ۔۔
تم اس کے لیے ۔۔۔ مجھ سے بد لگامی کر رہی ہو ۔۔ اس کے لیے” اچانک ہی خاموش بیٹھی زیمل کو انھوں نے تھپڑ مار دیا۔۔۔۔
جبکہ وہ تو حیران کن لڑکی تھی ایک لفظ بھی منہ سے ادا نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔۔
افشین یہ کیا حرکت ہے ۔۔۔”
بھابھی اس کو باہر نکالیں آپ لوگوں کو سمھجہ کیوں نہیں آرہی میں اسکو یہاں دیکھنا ہی نہیں۔ چاہتی” افشین چلائ جبکہ سب خاموش سے رہ گئے۔۔ زیمل نے لقمہ یوں ہی چھوڑا ۔۔۔اور اٹھی ۔۔۔
کہیں نہیں جاؤ گی تم ۔۔۔۔ ” پریشے نے جلدی سے اسکا ہاتھ تھام لیا ۔۔
تنزیلہ اپنی بیٹی کو لگام ڈالو ۔۔۔۔ ایسا نہ ہو کہ ۔۔۔ کچھ زیادہ غلط ہو جائے۔۔۔
یہ جاہل بھوکے فقیر لوگوں کی حمایت کرنا بند کرے ۔۔۔ اس لڑکی کا تعلق میرے بیٹے سے تھا ۔۔اسے تو اس نے مار دیا اب کیا سمھجہ رہی ہے کہ سب کی ہمدردیاں اکھٹے کر کے یہاں سے پیسے بٹورے گی تو میں اسکے عزائم سمیت اسے بھی آگ لگا دوں گی” وہ غصے سے چلائیں ۔۔۔۔
تنزیلہ نے پریشے کو گھورا جو کہ ماں کی اس حرکت پر اور بھی تپ گئ ۔۔۔۔
نکلو اس گھر سے ” افشین ۔۔۔۔ پھر سے زیمل کو دھکا مار کر بولی ۔۔۔۔
جس کے وجود میں ہمت جیسے نہ ہونے کے برابر تھی ۔۔۔
اس گھر میں سکون ملے گا یہ نہیں” اچانک ان سب کو پیچھے سے کسی کے دھاڑنے کی آواز آئ ۔۔۔۔اور سڑھیوں میں نائٹ ڈریس میں بے ترتیب سا ۔۔وہ مندی مندی آنکھوں سے ۔۔۔اور الجھے بکھرے بالوں اور بے پناہ لاپرواہ وجاہت سے وہ ان سب کو دیکھ رہا تھا جبکہ ۔۔۔ نیند کے برباد ہونے پر وہ دھاڑا تھا ۔
سب نے ہی اسکو دیکھا ۔۔زیمل نے بھی ایک پل کو مڑ کر دیکھا ۔۔۔۔۔
اور اس کی سرخ نظریں دیکھنی تھی کہ سالار کی مندی مندی آنکھیں پوری کھل گئیں ۔۔۔۔
افشین نے اسے نوٹس نہیں لیا ۔۔۔۔
چل نکل یہاں سے ۔۔۔ اب یہاں کھڑی ہو کر اسکی بھی حمایت وصول کرے گی” افشین نیچلے لہجے میں زیمل کے کان میں غرائ وہ چاہتی ہی نہیں تھی کہ سالار اس معاملے میں انٹرفائیر کرے ۔۔۔
زیمل چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ۔۔۔۔ وہاں سے جانے لگی کہ سالار نے آدھی سڑھیوں سے ہی جمپ لگا دی ۔۔۔
کہاں جا رہی ہو تم ” وہ پیچھے سے بولا ۔۔۔۔ مگر زیمل نہیں رکی ۔۔ جبکہ افشین نے مسکرا کر طنزیہ سالار کی جانب دیکھا ۔۔۔۔
اور گویا اسکو آگ ہی لگ گئ ۔۔ ایسا نہیں تھا ۔۔۔ کہ وہ پہلے سے بدلاحظی سے ان کے ساتھ پیش آتا تھا ۔۔۔ یہ پھر وہ اس طرح اسکے ساتھ رویہ رکھتی تھیں ۔۔ بلکہ عدیل کی زندگی میں زیمل کے آنے کے بعد سے اس طرح ہو رہا تھا ۔۔۔
سالار غصے سے زیمل تک پہنچتا کہ مدیھا نے سالار کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
رک جاؤ ۔۔۔ مت جاؤ افشین مزید خفا ہو گی ۔۔اور اچھا ہے وہ بچی اپنے ماں باپ کے پاس چلی جائے” مدیھا مدھم آواز میں بولی زیمل وہاں سے نکل چکی تھی جبکہ سالار حیرانگی سے اپنی ماں کو دیکھنے لگا ۔۔۔
صرف چچی کی فضول ضد کی وجہ سے آپ لوگ اس لڑکی کو اس گھر سے نکال رہے ہیں ۔۔۔ ” وہ سرخ چہرہ لیے غصے سے بولا
۔۔۔
سالار ۔۔۔ اسے آزاد رہنا چاہیے ۔۔۔ افشین ۔۔ اسے یہاں سکون سے رہ
نے نہیں دے گی ۔۔۔ ” مدیھا بولی جبکہ وہ ۔۔۔ خاموش ہو گیا ۔۔ وہ سیدھی چلتی جا رہی تھی یہاں تک کے وہ سب وہاں سے کھڑے اسے اس گھر سے جاتے ہوئے دیکھتے رہے ۔۔۔
کچھ کھانے تو دیتیں چچی آپ اسے ” پریشے کو یہ بات برداشت نہیں ہو رہی تھی بیچ میں ہی بولی ۔
بس چپکی رہو ۔۔ یہاں کھانا پینا حرام ہو گیا ہے ۔۔اور اپنے بیٹے کی موت پر اس ڈائن کو کھلاتی پھیرو ” افشین نے فورا جھاڑ دیا ۔۔۔۔
سالار کے وجود میں اور بھی بے چینی سی بھر گئ مدیھا نے اسکا ہاتھ نہیں چھوڑا وہ نہیں چاہتی تھی وہ افشین سے بدتمیزی کرے جبکہ سالار کو دیکھ کر افشین کے لبوں پر مسکان آئ اور اسکے بعد وہ وہاں سے اپنے روم میں چلی گئ جبکہ ۔۔زیمل۔وہاں سے جا چکی تھی مدیھا نے سالار کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔
جاؤ چینج کر لو ۔۔ میں ناشتہ بنا دیتی ہوں “
نہیں کھانا بھوک نہیں ہے” اکھڑے ہوئے لہجے میں بولتا وہ واپس پلٹ گیا ۔۔
سالار ” مدیھا کو عجیب سا خدشہ سا ہو رہا تھا ۔۔
تبھی اسنے اسکو روکا ۔۔ سالار رک گیا مگر مڑا نہیں ۔۔۔۔
میں یہ وعدہ سمجھوں کے تم اس لڑکی کے پیچھے نہیں جاؤ گے” مدیھا کا سنجیدہ چہرہ ایکدم پلٹ کر اسنے دیکھا ۔۔۔۔۔
اور چند لمہے ماں کو دیکھتا رہا ۔۔۔۔
اور پھر بنا کچھ کہے اوپر چلا گیا ۔۔۔ جبکہ مدیھا کے دل میں ڈر سا بیٹھ گیا ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہفتہ گزر گیاتھا مگر دوبارہ وہ لوگ نہیں آئے تھے ۔۔۔ اپنے ہی گھر والوں کے سامنے بے عزت ہو کر رہ گئ تھی وہ ۔۔۔۔
وہ نہیں جانتی تھی کبیر مرتضی کون ہے کیا کرتا ہے کہاں رہتا ہے دیکھتا کیسا ہے ۔۔۔ بس اتنا جانتی تھی وہ بہت امیر ہے ۔۔۔۔
اور جس شخص نے اسکی محبت کی تذلیل کر دی ۔۔۔اس سے کہیں زیادہ اونچا سٹیٹس رکھتا ہے ۔مگر ان لوگوں کا دوبارہ نہ آنا ۔۔۔ اسکو مزاق بنا گیا تھا ۔۔ ابوکچھ بولتے نہیں تھے جبکہ امی کے تانوں نے اسکا سکون برباد کر دیا تھا ۔۔دوسری طرف پھوپھو بھی بھائ سے ملنے کے لیے ۔۔۔
اسپر ساری بات ڈال گئیں تھیں اور انکا بیٹا بھی اپنی حرکت چھاپا گیا تھا ۔۔۔
گویا وہ اپنوں میں ہی تنگ ہو کر رہ گئ تھی عجیب مزاق سا بن گیا تھا ۔۔۔
وہ کمزور نہیں تھی ۔۔۔ مگر ۔۔۔۔ کمزور ہو رہی تھی ۔۔۔۔
رات کی تاریکی میں اکیلی چھت پر بیٹھی ۔۔۔ وہ اسی متعلق سوچ رہی تھی ۔۔۔۔
کہ پیچھے آہٹ کا احساس ہوا ۔
اسنے پلٹ کر دیکھا ۔۔۔ جیسے برسوں بعد اسکو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔
وہ چند پل دیکھتی رہ گئ ۔۔اسکے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی۔۔ نین نے فورا اپنا چہرہ موڑ لیا ۔۔۔
کیا ہوا ۔۔۔۔ وہ لوگ آئے نہیں ۔۔مجھے لگتا ہے نقلی جالی لوگ تھے تمھیں چونا لگا گئے”وہ قہقہ لگا کر ہنسا ۔۔
جبکہ نین کے گلے میں آنسو کا پھندہ لگ گیا ۔۔ مگر وہ بولی کچھ نہیں نہ ہی اپنے امڈنے والے آنسو اسے دیکھائے ۔۔۔۔
بلوجہ تم میرا مقابلہ کرنے چل نکلی ہو نین ” اسنے آگے بڑھ کر اسکے شانے پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ ۔۔۔ نین نے فورا ہاتھ جھٹک دیا ۔۔۔۔۔
دور رہو مجھ سے ” نہ چاہتے ہوئے بھی گالوں پر آنسو لڑھک گئے ۔۔
ارے ارے تم تو رونے لگی” وہ پھر ہنسنے لگا ۔۔
تم لڑکیوں کا بھی عجیب ہے ضد پرا کر مقابلہ کرنے چل پڑتی ہو مرد سے پھر منہ کی کھا کر رونے لگتی ہو ” اسنے سر جھٹکا ۔۔
نین پھر بھی کچھ نہیں بولی ۔۔۔
میرا ایک جاننے والا ہے تمھارے ساتھ سوٹ کرے گا مجھ جیتنا تو امیر نہیں ہے مگر ۔۔ تم لوگوں سے بہت بہتر ہے ۔۔ کہو تو بات چلاؤ ادھر” وہ کمینگی سے بولا ۔۔
نین کو لگا وہ ابھی ۔۔ زمین میں دھنس جائے گی ۔۔۔
آنسو سے لبریز آنکھوں سے اسکو دیکھنے لگی ۔۔ یہ وہ ہی لب تھے جو ۔۔اسکی تعریف ۔۔۔ کرتے نہیں تھکتے تھے یہ وہ ہی چہرہ تھا جس کی مسکراہٹ میں اسکو دیکھ کر دو گناہ اضافہ ہو جاتا تھا ۔۔۔۔
اور پیسے نے ہر چہرے پر زے نقاب سا اتار دیا ۔۔۔۔۔
کیا وہ کسی پر یقین کرنے قابل رہی تھی ۔۔۔۔
بے بسی سے وہ سسک سی گئ ۔۔۔
جبکہ مقابل کا چہرہ مسکان چھپا نہ سکا۔۔
رو مت جس تیزی سے ۔۔ تم رشتوں کو ہاں کر رہی ہو جلد تمھاری شادی ہو جائے گی ۔۔۔مگر افسوس واقعی تمھیں تمھارے میعار جتنا شخص ہی ملے گا ۔۔۔۔” اسکو روتا دیکھ وہ بولا ۔۔۔۔
چلے جاؤ یہاں سے ۔۔ ۔” نین نے ہمت کر کے آنسو صاف کیے۔
ارے چلا جاتا ہوں ۔۔۔۔” وہ ہنستے ہوئے سیڑھیاں اتر گیا چہرے پر فتح تھی ۔۔۔
اگر اسکی وہ نوکری نہ لگتی ۔۔۔۔ جو چند ماہ پہلے لگی ۔۔ جس سے ۔۔۔ وہ خود کو بہت کچھ سمھجنے لگ گیا ۔۔ تو وہ بھی تو اسکے جتنی ہی حثیت رکھتا تھا
اسکا بس نہیں چلا چیخیں مار مار کر روئے اتنا روئے ۔۔۔۔ کہ اپنے دل سے اس ذلیل انسان کی ایک ایک بات نکال دئے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گڈ ایوننگ سر” پی آئے کی کال ریسیو کر کے اسنے سپیکر پر ڈال دی جبکہ خود تیار ہونے لگا ۔۔۔۔
ایوننگ ” سنجیدگی سے بولا ۔۔۔۔
سر آپ نے جس لڑکی کا کہا تھا ۔۔۔ وہ لڑکی ایدھی فاؤنڈیشن میں رہ رہی ہے تین دن سے ” پی آئے کے الفاظ تھے ۔۔۔ یہ تیزاب اسے تیزاب کی مانند ہی لگے ۔۔۔۔
اسنے ٹائ جو باندھی تھی ۔۔۔ کھول کر ایک طرف پھینک دی ۔۔۔
اس لڑکی کو وہاں سے اٹھاو۔۔۔اور میرے فلیٹ میں پہنچاؤ ” شیشے میں اپنے ہی عکس کو گھورتے ہوئے وہ بولا ۔۔
جی جیسا آپ چاہیں ” پی آئے نے کہا اور کال ڈسکنیکٹ ہو گئ ۔۔۔
جبکہ سالار تیار ہو کر نیچے ا گیا ۔۔
آج ایک ڈائریکٹر کے ساتھ اسکی میٹینگ تھی ۔۔۔
تبھی وہ شام میں گھر سے نکلنے کے لیے ۔۔۔ اپنے پورشن سے اترا ۔۔۔
زین کے کمرے کیطرف نگاہ گئ ۔۔۔۔
تو ماتھے پر کئ بل سے پڑے وہ سمھجہ نہیں پا رہا تھا اس ایک لڑکی کا غم اسکا بھائ کیوں بنا رہا تھا ۔۔۔۔
برحال اس سے بعد میں بات کرنے کا سوچ کر ۔۔ وہ ہال میں ا گیا ۔۔۔ عارض اور کبیر ابھی ابھی آئے تھے ۔۔۔۔۔۔
جبکہ مرتضی شہاب سکندر اور وجاہت بھی وہاں موجود تھے ۔۔
کہاں جا رہے ہو ” وہ جانتا تھا مرتضی صاحب سوال ضرور کریں گے ۔۔
ڈائریکٹر سے میٹینگ ہے” اسنے سنجیدگی سے جواب دیا ۔۔
یہ مراسیوں والا شوق کس دن پورا ہو گا تمھارا ” وہ زرا سختی سے بولے ۔۔
سالار نے کبیر کیطرف دیکھا جیسے ضبط کی انتہا پر ہو ۔۔۔ گویا وہ ابھی اٹھا پٹخ کر دے گا ۔۔۔
بابا کیا ہو گیا ہے ۔۔۔۔ اسکا پرفیشن ہے””کبیر نے اسکی شکل دیکھ کر فورا لقمہ دیا ۔۔
ہاں تو سمھجاو اسے ۔۔ بیزنیس میں آئے ۔۔۔ یہ کیا چونچلے ہیں ۔۔ اسکے رشتوں کو جائیں گے تو یہ بتائیں گے کے بیٹا ناچتا گاتا ہے” وہ بولے جبکہ عارض نے اپنی ہنسی دبائ سالار کا چہرہ سرخ تھا ۔۔۔۔ جیسے ابھی وہ پھٹ پڑے گا ۔۔۔۔
مگر اپنی عادت کے برخلاف وہ یوں ہی کھڑا رہا ۔۔۔۔۔
کبیر نے گھیرہ سانس بھرا ۔۔۔
میرے رشتے کے لیے آپکو ہلکان ہونے کی ضرورت نہیں مجھے جو پسند ا ہے گی میں شادی کر لوں گا ” اسنے سرد مہری سے کہا اور سب کو حونک چھوڑ کر وہ مظبوط قدم اٹھاتا وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
جبکہ پیچھے سب ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے لگے ۔۔۔۔
کبیر بھی اپنی جگہ سے اٹھ گیا جبکہ عارض نے اپنی کھنچائ سے پہلے جانا مناسب سمجھا ۔۔۔۔۔ اس دن کے بعد بابا تو اس سے بات کر ہی نہیں رہے تھے اور کبیر بھی صرف کام کی حد تک ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈائریکٹر سے میٹینگ کر کے نہ جانے کیوں اسکا ڈرنک کا موڈ ہو گیا ۔۔۔ اور وہ اپنے فلیٹ میں آگیا ۔۔۔
جبکہ وہ یہ بھول گیا تھا کہ جزبات میں ا کر وہ پی آئے کو کیا کہہ چکا ہے ۔۔
بابا کی باتوں پر خون ہی کھول رہا تھا ۔۔۔۔۔
جدید طرز کا بنا یہ فلیٹ بے حد خوبصورت تھا ۔۔ تقریبا پورا گھر ہی کانچ کا تھا گویا ۔۔۔
رومز دو تھے اور دونوں ہی ٹرانسپیرنٹ سے لگتے تھے شیشے کی دیواروں کی وجہ سے ۔۔ اندر کا باہر والوں کو سب نظراتا تھا ۔۔۔
جبکہ کچن تو اوپن ہی تھا اور وہ لاونج میں بیٹھا ۔۔۔ ابھی بوتل کھول ہی رہا تھا ۔۔ کہ کلک کی آواز سے فلیٹ کا دروازہ کھلا ۔۔۔۔ اور پی آئے ۔۔۔ ایک لڑکی کو اندر زبردستی گھسیٹ لایا ۔۔۔
سالار خاموشی سے یہ منظر دیکھ رہا تھا ۔۔ نہ وہ حیران ہوا اور نہ ہی پریشان ۔۔۔ اسنے گلاس میں ڈرنک ڈالی اور اس لڑکی کو دیکھنے لگا جس کی آنکھوں پر پٹی تھی اور ۔۔۔۔ وہ بے حد گھبرائ ہوئ لگ رہی تھی ۔۔۔۔
گڈ ایوننگ سر” پی آئے نے سالار کو دیکھ کر کہا ۔۔۔ جس نے سر ہلایا ۔۔
جاؤ تم” اسنے بس اتنا ہی کہا ۔۔۔
زیمل آواز پر چونک کر آواز کی سمت دیکھنے لگی جبکہ آنکھوں پر سیاہ پٹی تھی ۔۔
سالار اسکی پہچان پر مسکرا دیا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔
آٹھ قدم چل کر وہ اسکے مقابل ا گیا ۔۔۔۔
اور نرمی سے اسکی آنکھوں پر سے پٹی ہٹا دی
۔۔ زیمل اس خوبرو مرد کو اپنے سامنے دیکھ رہی تھی ۔۔ جس کے ہاتھ میں شراب کا گلاس تھا ۔۔۔اور وہ چہرے پر مدھم مسکان لیے کھڑا ۔۔ تھا ۔۔۔
اچانک اسکے وجود میں خوف کے ساتھ ساتھ نفرت سی دوڑ گئی
۔۔اور پھر وہ ہوا جو ہونا تو نہیں چاہیے تھا مگر بے اختیاری میں ۔۔۔ زیمل سے یہ عمل ہو گیا ۔۔۔۔
اسکا ہاتھ اٹھا اور سالار کے گال پر کھینچ کر تھپڑ لگا ۔۔۔۔
سالار اس افتاد کے لیے بلکل تیار نہیں تھا ۔۔۔۔
اور نہ ہی وہ کچھ ایسا سوچ رہا تھا وہ زیمل کو ایک دبو سی لڑکی سمھجہ رہا تھا ۔۔ جس کو لے کر اسکے دل میں کوئ خاص قسم کے جزبات نہیں تھے ہاں ۔۔مگر اسے اپنے گھر والوں کا رویہ اسکے ساتھ سمھجہ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
اور پھر اسکا اپنے گھر جانے کے بجائے ایدھی فاؤنڈیشن چلے جانا ۔۔ سالار کو کافی غصے میں مبتلا کر گیا تھا اور اسکا ارادہ بھی اس حد تک تھا کہ ۔۔۔۔ اس لڑکی کو اس فلیٹ میں رہنے کی اجازت دے گا ۔۔۔۔
مگر کھیل سارا پلٹ گیا تھا ۔۔ دوسری طرف زیمل اس طرح اٹھانے اور اسکے فلیٹ میں یوں لانے اور پھرا سکے ہاتھ میں شراب کا گلاس اور اکیلے گھر میں اسکے ساتھ تنہائ دیکھ کر سارے مطلب غلط اخز کرتی گئ جس کی وجہ سے اسکا ہاتھ اٹھا تھا
آپکا بھائ بھلے پاگل ہی تھا مگر اسکی بیوہ ہوں میں ۔۔۔۔ عدت بھی ختم نہیں ہوئ میری ابھی ۔۔۔اور آپ نے اتنی نیچ حرکت کی۔۔۔۔۔
یہاں مجھے اٹھوا کر لانے کا کیا مقصد تھا آپکا آپ کیا سمھجہ رہے ہیں اگر میرے والی وارث نہیں کوئ ۔۔۔ تو آپ میرا فایدہ اٹھائیں گے ۔۔ لعنت بھیجتی ہوں آپ پر اور آپکی اس سوچ پر میں ” زیمل غصے سے تلملا اٹھی جبکہ سالار کے ہاتھ کی گرفت شراب کے گلاس پر اتنی سخت ہوتی چلی گئ ۔ کہ اس خاموش فلیٹ میں چھناکے کی آواز کے ساتھ گلاس اسکے ہاتھ میں ہی پھٹ گیا ۔۔ جس کے ایوز کانچ کا بڑا ٹکڑا اسکی ہتھیلی میں کھڑا ہو گیا ۔۔۔
زیمل یہ منظر دیکھ کر ایکدم چلا اٹھی ۔۔۔
سالار نے سرخ نظروں سے اسکی جانب دیکھا ۔۔
ہاتھ میں کیا ہوا تھا وہ اپنے اندھے غصے میں بلکل نہیں دیکھ سکا ۔۔۔۔۔
اسنے زیمل کی طرف جن نظروں سے دیکھا زیمل اپنی گزشتہ ہمت پر کانپ سی گئ ۔۔۔۔
تھپڑ کیوں مارا تم نے” سرد ٹھنڈے بے لچک بے رحم لہجے میں اسنے ۔۔۔ سوال کیا ۔۔۔
آپ آپ کا ہاتھ ” زیمل کی آنکھوں میں آنسو آ گئے ۔۔۔
جبکہ سالار نے اسکے پاس سے اپنا ہاتھ دور کر لیا ۔۔۔ اور ہتھیلی میں کانچ دیکھ کر اسنے ایک جھٹکے سے کانچ کو ہتھیلی سے نکالا اور دور پھینک کر اسی خون آلود ہاتھ سے اسنے زیمل کا چہرہ جکڑ لیا ۔۔۔
تیزی سے خون ہاتھ سے بہتا زیمل کے چہرے پر لگ رہا تھا ۔۔۔
میں پوچھ رہا ہوں تھپڑ کیوں مارا ” وہ دھاڑا ۔۔۔
گویا تھپڑ تو زور سے نہیں لگا تھا
۔ مگر اسکی انا کے بلند معیار پر ۔۔۔۔ بڑی زور سے لگا تھا ۔۔۔۔۔۔۔
مجھ۔۔۔ مجھ “
بکواس بند کرو صرف اتنا بتاؤ جتنا پوچھا ہے تم نے تھپڑ کیسے مارا مجھے” وہ اسے گھسیٹ کر دیوار سے چیپکا چکا تھا۔ ۔۔۔ زیمل کانپ سی گئ ۔۔۔۔
سمھجہ نہیں آیا کیا جواب دے ۔۔۔۔۔
سالار نے اسکو اس سختی سے جکڑا تھا کہ ۔۔ زیمل کے آنسو بہنے لگے ۔۔۔۔ وہ ان آنسو کو دیکھ کر ۔۔۔ غصے سے دور ہٹا ۔۔۔اور زور سے مکہ دیوار میں دے مارا ۔۔ ساری باتوں نے اکھٹے ہو کر ۔۔۔۔ اسکے اندر جیسے آگ سی جلا دی تھی ۔۔۔۔
زیمل ایک بار پھر سے کانپ گئ ۔۔۔وہ حیران نظروں سے ۔۔اسکے عمل کو دیکھ رہی تھی جو ۔۔۔۔ جیسے بے چین ہو گیا تھا ۔۔ بار بار اسی ہاتھ پر ہٹ کر رہا تھا ۔۔۔۔ زیمل کی حیران نظریں اسپر تھیں ۔۔ گالوں میں چبھی اس کی انگلیوں کا دکھ نہیں تھا درد نہیں تھا افشین اور عدیل سے وہ اتنا پٹی تھی کہ اب اسے تکلیف نہیں ہوتی تھی مگر ۔۔۔
سامنے والے کی انا پر ایک تھپڑ کتنی زور سے لگا تھا کہ وہ پاگل سا ہو رہا تھا ۔۔۔
نکلو یہاں سے ” اچانک اسنے زیمل کیطرف دیکھا زیمل جو بہت غور سے اسکو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
بھکلا سی گئ ۔۔
میں نے کہا ہے دفع ہو جاؤ ” وہ پھر سے دھاڑا ۔۔۔
آپکا ہاتھ” زیمل رونے لگی ۔۔۔۔۔
جبکہ سالار کا دماغ اسکے رونے سے ۔۔۔اور بھی خراب ہو گیا ۔۔۔۔ اس سے پہلے وہ اٹھتا زیمل ڈر کر دروازے کی جانب بھاگی ۔۔۔۔
سالار اسے نظروں سے ہی مار دینا چاہتا تھا ۔۔۔ اسنے دروازہ کھولا بار بار اسکے ہاتھ سے بہتے خون پر نگاہ جا رہی تھی ۔۔۔
اور جب اسکے تاثرات میں کمی نہیں آئ تو وہ ۔۔ خاموشی سے باہر نکل گئ ۔۔ باہر وہی آدمی کھڑا تھا جو اسے یہاں لایا تھا ۔۔۔۔
اسنے غصے سے اور نفرت سے اسکی طرف دیکھا ۔۔
میڈیم آپ کہاں جا رہی ہیں” پی آئے اسکے پیچھے پیچھے آیا ۔۔۔۔
تم سے مطلب ۔۔۔ ” زیمل تڑخ کر بولی ۔۔
آپ نہیں جا سکتی” پی آئے نے نفی کی ۔۔
تمھارے سر۔ نے ہی مجھے دفع ہونے کا کہا ہے ” زیمل کو رونابھی ا رہا تھا ساتھ کے ساتھ غصہ بھی سمھجہ نہیں آرہا تھا یہ کیسی زندگی ہے جو ہر کچھ دنوں بعد ایک امتحان لینے کھڑی ہو جاتی ہے ۔۔۔۔
میڈیم جب تک سر مجھے آرڈرز نہیں دیں گےا پ کہیں نہیں جا سکتی ۔۔۔ آپ کچھ دیر یہاں ویٹ کریں ابھی سر یہاں سے چلے جائیں گے ۔۔۔اور سر نے مجھے یہ ہی آرڈر دیا تھا کہ آپکو یہاں لے آؤ آپ ایدھی فاؤنڈیشن میں نہیں رہیں گی ” پی آئے نے تفصیل سے بتایا ۔۔۔
تمھیں یہ تمھارے سر کو ۔۔ میرے کہیں رہنے یہ نہ رہنے سے فرق فرق ۔۔۔۔۔ اسکی زبان تتلا گئ ۔۔
پی آئے نے بحث کے بجائے گن نکال کر اسکی پیشانی پر رکھ دی ۔زیمل لرز سی گئ ۔۔۔
پلیز میڈیم آپ خاموش رہیں ” وہ بس اتنا بولا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔ زیمل میں اگلا لفظ بولنے کی جرت نہیں ہوئ ۔۔
تقریبا آدھے گھنٹے بعد دھاڑ سے دروازہ کھلا اور وہ ان دونوں کے سامنے بگڑے تاثرات لیے وہاں سے گزر کر چلا گیا ۔۔۔
پی آئے خون میں لت پت اسکا ہاتھ دیکھ کر بھکلایا ۔۔
میڈیم آپ اندر جائیں۔ “
نہیں میں نہیں جاؤ گی جانے دو مجھے” زیمل نے مزاہمت کی مگر وہ اسے اندر زبردستی دھکیل کر
۔۔۔ اور باہر سے لوک کر کے سالار کے پیچھے دوڑا تھا ۔۔۔