Surkh Anchal By Tania Tahir Readelle50223 Episode 28
No Download Link
Rate this Novel
Episode 28
اسکی وجہ سے تمھارے حواس بھال نہیں ہو رہے یہ مجھے احمد کے کبنیٹ سے ملا ہے ۔۔۔۔ میں نہیں جانتا یہ اسکے پاس کیسے گیا ہے ۔۔۔۔۔ اور نہ ہی اس بارے میں میں تم سے کوئ سوال کر رہا ہوں ۔۔۔۔ یہاں تک کے میں نے تم سے تب بھی کوئ سوال نہیں کیا جب تمھارے اوپر کئ سوال اٹھ رہے تھے ۔۔۔
تم اگر یہ سمھجہ رہی ہو کبیراندھا ہے تو کبیر اندھا نہیں ہے ۔۔۔ میری محبت کی وسط ہے کہ میں ۔۔ تمھیں ۔۔ سمیٹ لیںاچاہتا ہوں
مگر تم میری محبت کی چھاؤں میں آنا ہی نہیں چاہتی ۔۔۔ ” وہ بولا ۔۔۔لہجہ سخت تھا ۔۔۔۔ کڑک تھا ۔۔۔۔
نین کا دم سا نکل رہا تھا اسکی سانسیں اٹک گئیں ۔۔اسنے بریسلیٹ کو ہاتھ میں تھاما ۔۔۔۔۔
م۔۔۔میرے ہاتھوں سے گیر گیا تھا یہ ۔۔۔
بس چپ ۔۔۔” کبیر نے ہاتھ اٹھا کر ۔۔اسے ٹوک دیا ۔۔۔
نین شرمندگی کی گہرائ پر تھی ۔۔۔۔
میں نے کہا نہ میں نے تم سے کوئ سوال نہیں کرنا ۔۔۔۔ یعنی میں تم سے کچھ بھی جاننا نہیں چاہتا تب ۔۔ جب میں نے ۔۔ تمھیں کسی غلط اقدام سے بچا لیا ۔۔۔۔۔ جس کی بنا پر تم اپنے حواسوں میں نہیں تھی تب تمھیں یاد آیا ہے کہ تم مجھے کچھ بتاؤ ۔۔۔ تو مجھے کچھ نہیں جاننا ۔۔ اب سو جاؤ ۔۔ مجھے صبح جلدی جانا ہے ” کبیر نے کہا اور ۔۔ لیٹ گیا ۔
کبیر” نین کی سسکی نکلی ۔۔
نین تم چاہتی ہو میں روم چینج کرلوں ” وہ غصے سے اسکو دیکھنے لگا ۔۔
نین نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
تو سو جاؤ “وہ بولا اور کروٹ بدل لی ۔۔۔
ہم ایسے تو نہیں سوتے ” نین ۔۔۔ اسکی پشت دیکھتی بولی ۔۔۔
جبکہ کبیر ۔۔ شاید بے حد غصے میں تھا وہ وہاں سے اٹھا ۔۔اور کمرے سے باہر ہی نکل گیا ۔۔
جبکہ نین کی آنکھوں میں بے حد آنسو بھر آئے ۔۔۔۔وہ اسکی پشت دیکھتی رہی ۔۔ بریسلیٹ اٹھا کر ۔۔۔ اسنے لبوں سے لگا لیا ۔جبکہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔۔
کیا اسے سب کبیر کو بتا دینا چاہیے ۔۔۔۔۔
وہ اسکی عزت کا محافظ تھا ۔۔۔۔
وہ اسکا احساس کرتا تھا ۔۔اور آج اسنے ۔۔۔اسکو خفا کر دیا ۔۔۔
وہ خود بھی کہاں خوش تھی ۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کبیر باہر آیا ۔۔اورلاونج میں صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
اسکا دماغ گھوم رہا تھا ۔۔۔ اتنے سوال اپنی ہی زندگی کو لے کر اسکے پاس کبھی نہیں تھے وہ ایک کلئیرانسان تھا اور ہمیشہ کلئیر ہی رہا تھا ۔۔ اتنی کوملیکیشنز تھیں جنھیں وہ کب سے اوائیڈ کرتا آ رہا تھا ۔۔۔۔
احمد نین کا کزن تھا ۔۔ یہ اسکے لیے شاکڈ کی بات تھی اور احمد نے خاص طور پر تب جب وہ ۔۔ سامنے سے گزرا ۔۔وہ بریسلیٹ ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔
تا کہ اسکی نظر پڑے ۔۔ ایسا کیوں وہ کیوں کر رہا تھا وہ تجزیہ کر رہا تھا ۔۔۔ کیا وہ جان بوجھ کر کر رہا تھا کیا وہ نین کو اسکی نظر میں بدکردار ثابت کرنا چاہ رہا تھا مگر کیوں ۔۔۔۔
وہ چاہتا تو عام جاہل مردوں کیطرح اسکو اس بات پر مار پیٹ کر کے بات اگلوا سکتا تھا مگر اسے ان ساری باتوں کے علاؤہ جس بات پر سب سے زیادہ غصہ آیا تھا وہ یہ تھا کہ وہ اس پر ٹرسٹ نہیں کرتی تھی ۔۔۔ نہ ہی اس کے دل میں اسکے لیے کوئ جزبات تھے ۔۔۔۔
وہ صوفے کی پشت سے ۔۔ ٹیک لگائے ۔۔۔ پاؤں جھلا رہا تھا رات گھیری ہو چکی تھی ۔۔۔ چارو طرف خاموشی تھی تبھی مین دروازے سے سالار اندر داخل ہوا ۔۔۔
تھکا ہوا سا ہاتھ پر کوٹ ڈالے ۔۔ اسکے چہرے پر تھکاوٹ کے واضح آثار تھے ۔۔۔۔۔
وہ اندر آیا ۔۔۔ تو کبیر کو لاونج میں دیکھ کر ٹھٹھک کر رہ گیا ۔۔۔۔
اسنے اسکے کمرے کیطرف دیکھا ۔۔۔۔
اور اسکے نزدیک آیا ۔۔
کیا ہوا ۔۔ نکال دیا بھابھی نے کمرے سے لات مار کر باہر
ویسے تم حق دار ہو بورنگ کھڑوس انسان ” وہ صوفے پر کوٹ پھینکتا بے ڈھنگے انداز میں تقریبا لیٹ ہی گیا ۔۔۔۔۔
جبکہ کبیر نے چونک کر اسکو دیکھا تھا
تم” وہ بولا ۔۔
ہاں میں کیوں تمھیں انتظار تھا بھابھی آئیں گی”سالار نے آنکھ دبائ تو کبیر نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
اوہ ہو معملہ سیریس ہے ” سالار نے اسکی طرف دیکھا ۔۔۔۔
نہیں کچھ خاص نہیں تم بتاؤ ۔۔۔ یہ کیا ڈرامہ ہے تم روز بارہ گھنٹے کی فلائیٹ لو گے ۔۔۔ ” کبیر نے کہا ۔۔۔
کیا کروں یار مجبوری ہے ۔۔ آج سوچا تھا وہیں رک جاؤں گا ۔۔ مگر ۔۔ ہوٹلز میں بوکینگ پوری ہو گئ اور جس ہوٹل میں روم مل رہا تھا ۔۔ وہ میرے سٹینڈرڈ کا نہیں تھا تبھی میں واپس آ گیا “سالار نے کہا ۔۔۔۔۔
مجھے لگتا ہے تم اپنی کمائی ۔۔۔ اسی فلائیٹ کے آنے جانے میں لگا دو گے”
برو میرا کام تمھارے کام جیسا نہیں میرا ایک اوٹوگراف کروڑوں میں بکتا ہے ۔۔۔ ” سالار نے فخر سے کہا ۔
ہاں اور گھر میں مرتضی صاحب کے جوتے ۔۔ بھی کروڑوں میں لگتے ہیں ” کبیر نے مزاق اڑایا ۔۔تعداد میں کہہ رہے ہو ” وہ ڈھٹائی سے قہقہہ لگا اٹھا ۔۔۔
کبیر کو ہنسی آ گئ ۔۔۔
یار بہت تھک گیا ہوں ۔۔۔ دل کر رہا زبردست کھانا کھاؤ ” سالار نے کبیر کیطرف دیکھا ۔۔
ہممم مجھے بھی بھوک لگنے لگی ہے ” کبیر نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
اس وقت مما کو اٹھانا ۔۔ یعنی مرتضی صاحب کی جوتیوں کی تعداد میں اضافہ ہے ۔۔۔۔ ” سالار نے کہا ۔۔۔ افسوس سے۔۔
کیوں تمھاری بیوی نہیں ہے ” کبیر نے اسے چھیڑا اس سے بات چیت کر کے دماغ زرا بہتر ہوا تھا ۔۔۔
لو وہ مجھے منہ ہی کب لگاتی ہے “وہ میسنی سی شکل بنا کر بولا ۔۔۔
بھابھی کو اٹھا لیتے ہیں جاگ ہی رہی ہوں گی انکے سیاں تو باہر مر رہے ہیں ۔۔” سالار اپنی جگہ سے اٹھا ۔۔
نہیں ۔۔۔ “کبیر نے سختی سے کہا ۔۔۔
آف کتنی گھٹیا ہو تم ۔۔۔ کیسے ۔۔۔ بیوی کی حمائیت میں بولے ہو ” سالار نے مکہ بنایا ۔۔
مجھے اسکے ہاتھ کا کچھ نہیں کھانا ۔۔” کبیر نے کڑک لہجے میں کہا
میرے بھائ یہ انا بعد کے لیے اٹھا کر رکھ ۔۔۔۔ ابھی بھوک کا کچھ کرو کیا فایدہ ایسی زندگی کا ۔۔ بیوی بھی ہو بھابھی بھی ہو مگر پیٹ میں کچھ کھانے کے لیے نہ ہو ” وہ اپنے ڈراموں پر اتر گیا ۔۔
کبیر نے صاف ہری جھنڈی دیکھائی ۔۔
تمہیں یاد ہے جب ہم چھوٹے تھے تو ۔۔ مما بابا کے سونے کے بعد ہمیں بھوک لگتی تھی تو ۔۔ ہم عارض کو ۔۔ اسکے بستر سے کھینچ لیتے تھے کیونکہ انڈا صرف اسے ہی بنانا آتا تھا ۔۔۔”
سالار کو ہنسی آ گئ اور اسنے سر ہلایا ۔۔
اور میرا زین کے بنا نوالا نہیں اترتا تھا اور ہم چارو انڈا پراٹھا آدھی رات کو مزے سے کھاتے تھے”وہ پیچھلی باتیں یاد کرتے ہنسے ۔۔۔۔
اور ایک دوسرے کی شکل دیکھنے لگے ۔۔سالار کی آنکھوں کی شرارت بتا رہی تھی وہ کچھ کر دینے والا ہے ۔۔
سالار وہ شادی شدہ ہے ” کبیر نے اسکو جھڑکا ۔۔۔۔
سالا سب سے زیادہ مزے میں ہے ” سالار نے شرٹ کے بازو فولڈ کیے ۔۔
سالار کسی نے دیکھ لیا اسطرح کون ۔۔ جھنکتا ہے کسی کے روم میں” کبیر کو سخت شرمندگی ہو رہی تھی ۔۔۔وہ اسکے پیچھے اسکو روکنے کے لیے بڑھا ۔۔۔۔
میری جان ۔۔۔۔ سالار مرتضی ” اسنے ونک دی ۔۔۔اور آرام سے ۔۔ ڈیوائڈر سے اسکے روم کی چابی نکال کر اسنے روم ان لوک کیا
کبیر کے تو پسینے چھوٹ رہے تھے جبکہ سالار پیٹ پر ہاتھ رکھے ہنسی روک رہا تھا ۔۔۔
گھٹیا انسان بہن ہے ہماری اندر” کبیر نے اسکی کمر میں مکہ مارا ۔۔
اللہ کی قسم میں بہن کو نہیں دیکھوں گا ” سالار نے ۔۔کہا ۔۔۔۔
سالار میں روک رہا ہوں ۔۔۔ رک جاؤ ” کبیر نے اسکا ہاتھ کھینچا ۔۔۔
یار آج ہی بچارے تھکے ہوئے آئیں ہیں سو رہے ہوں گے تم بلاوجہ سب وہ اپنے جیسا نہ سمھجو ۔۔”
کوئ ڈھیٹ زلیل ہی پیدا ہوئے ہو تم ” کبیر نے تو پیٹھ ہی موڑ لی جبکہ شرمندگی سے ماتھے پر پسینہ آ گیا ۔۔۔۔
سالار صاحب جبکہ ۔۔ آیک آنکھ کھولے اندر دیکھنے لگے ۔۔۔
بس میں نے کہا تھا نہ ” وہ ایکدم بولا کہ کبیر کی لات کمر پر لگی ۔۔۔
آہ ” سالار کراہ اٹھا مگر ہٹا نہیں ۔۔
اوے عارض ” وہ مدھم آواز میں بولا ۔۔۔۔
ڈھیٹ کیسے سو رہا ہے ” سالار کو غصہ آیا ۔۔۔
اور پیچھے ہٹ گیا ۔۔
کبیر کی شکل دیکھ کر اسے ڈبل ہنسی آئ تھی لال سرخ چہرہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔
کبیر نے غصے سے اسکو گھورا ۔۔ میں نہ کل ہی گھر میں کیمرے لگاتا ہوں ” وہ گھور کر بولا ۔۔۔
سالار کا قہقہہ اٹھا ۔۔
کبیر نے اسکے منہ پر ہاتھ رکھا ۔۔
یہ کمرہ جو ہے ۔۔ نہ “
وہ روکا ۔۔
ہلاکو خان کا ہے” سالار نے مصرہ پورا کیا ۔۔
چل میرا بھائ میں کھلاتا ہوں تجھے کچھ ” اسنے اسکو کھینچا ہرگیز نہیں ” سالار نے کہا اور ۔۔۔ کبیر کے پاؤں سے زبردستی چپل کھینچی ۔
سالار ” کبیر کا بس نہیں چلا اسکا قیمہ بنا دے ۔۔۔
وہ اٹھ کر ہمارے بارے میں کیا سوچے گا “کبیر نے اسکی شرٹ پکڑ کر اسے باہر کھینچا ۔۔۔
یہ ہی کہ ۔۔ سالار سے بڑا ۔۔ ڈیش دنیا میں پیدا نہیں ہوا “اسنے جلدی سے شرٹ چھٹوائ اور ۔۔۔چپل عارض پر پھینک کر ماری ۔۔
دوسری طرف عارض ہڑبڑا گیا ۔۔۔۔
اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
سالار اور کبیر کو دیکھ کر وہ حونک تھا ۔۔۔۔
وہ ایکدم بیڈ چھوڑ کر اٹھا ۔۔۔
سخت شرمندگی ہوئ تھی اسے الٹا غصہ بھی آیا ۔۔ جبکہ وہ جانتا تھا یہ صرف ایک ہی شخصیت ہو سکتا ہے ۔۔
یہ تو شکر ہے کمرے میں اندھیرہ تھا ۔۔۔۔ کافی
وہ اٹھ کر باہر آیا ۔۔۔۔
جبکہ سالار دانت نکال کر اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
یار بھیو کوئ شرم کریں آپکی بھی شدہ ہو گی کل کو ۔۔ایسے ۔۔ اپنے کنوارے پن کے پھپھولے کسی نے نہیں پھوڑے ہو گئے جتنے آپ پھوڑ رہے ہیں ۔۔ اور بڑے بھیا آپ بھی”عارض کی بات سے ۔۔۔ کبیر پر تو گڑھو پانی پڑا۔۔ جبکہ سالار نے ناک پر سےمکھی اڑائ ۔۔
اول تو
تمھاری اطلاع کے لیے عرض ہے سالار مرتضی کنوارہ نہیں ہے خیر سے نکاح شدہ ہے “اسنے بم پھوڑا عارض حیرانگی سے اسکو دیکھنے لگا ۔۔
اب کم حیران ہو وہ بے چارہ خوامخواہ شرمندہ ہو رہا ہے۔۔
وہ وہ لڑکی زیمل” عارض نے شوکڈ کی کیفیت میں اسکو دیکھا ۔۔۔
سالار نے سنجیدگی سے اسکو دیکھا ۔۔۔
کوئ بھی بکواس کونے سے پہلے سوچ لینا ۔۔۔ میرا مکا تمہاری ناک توڑ دے گا ۔۔”
بہت خوب بھیو ۔۔۔ بابا نے کچھ نہیں کہا ” عارض بولا چہرے پر مسکان تھی ۔۔
تجھے کیا بتاؤں میرے ۔۔ بھائ کیا سزاملی مجھے ” سالار نے نہ دیکھتے آنسو صاف کیے ۔۔۔ تو کبیر نے اسکی گردن میں ہاتھ ڈالا ۔۔
اب چلو کچن میں ۔” کبیر بولا ۔۔
ہیں ہیں کس لیے” عارض بولا ۔۔۔
ہمیں بھوک لگ رہی ہے تم ہمیں کچھ بنا کر کھلاؤ ” کبیر نے بتایا ۔۔
ویسے بہت ہی افسوس کی بات ہے” عارض نے بے چارگی سے کہا ۔۔۔
ہائے میرا چھوٹا بچہ معصوم بھائ ۔۔” سالار کو زین یاد آیا ۔۔
اتنا ہی بچہ ہے وہ “عارض اور کبیر نے طنزیہ کہا ۔۔
زہر کھا لو دونوں ” سالار نے برا سا منہ بنایا اور زین کے کمرے کو کھول کر ۔۔اسکو ۔۔۔ یوں ہی سوتے میں اٹھا لایا ۔۔
کبیر اور عارض کا قہقہہ نکلا سوتا ہوا زین جاگنے کی کوشش ش میں تھا
۔ جبکہ اب سالار کے بھی قہقہے اٹھ رہے تھے وہ چاروں آدھی رات کو کچن میں ۔۔۔ہنسنے لگے تھے ۔۔
بھیو کیا ہے یار “زین نے ۔۔۔ کہا مگر ہنس وہ خود بھی رہا تھا اسے پتہ ہی نہیں چلا سالار اسے اٹھا کر کچن میں لے آیا ۔۔۔
اب وہ چاروں پورے ہوش میں کچن کا حولیہ بگاڑ رہے تھے ۔۔۔
جبکہ پوری پوری کوشش تھی کچھ بن جائے ۔۔۔سالار کام کم اور ۔۔۔ ان سب کے ساتھ پنگے زیادہ لے رہا تھا وہ سٹوبریز زین کو بھی ساتھ ساتھ کھلا رہا تھا ۔۔
ہم بھی کچھ لگتے ہیں تمھارے” کبیر نے گھور کر دیکھا ۔۔سالار نے باؤل پکڑ لیا ۔۔۔۔
ایکچلی مجھے زین سے محبت ہے ۔۔۔” سالار بولا ۔۔
آئ لو یو ٹو بھیو “زین نے۔۔۔ ہری مرچ کاٹتے ہوئے کہا ۔۔۔۔
جبکہ سالار ہنسا ۔۔۔۔ کبیر اور عارض بھی ہنس دیے
البتہ سب سے پراٹھا نہیں بن رہا تھا عارض نے پراٹھے کا لہوی بنا دیا ۔۔ جبکہ انڈے میں بے حد مرچیں ڈال کر ۔۔۔
سالار اب کبیر کے مکوں سے بچ رہا تھا ۔۔۔ کچن کے قہقہے باہر جانے لگے ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پیاس کی وجہ سے ۔۔ وہ اٹھی ۔۔۔اور کچھ جھجھکتی ہوئ روم سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔
پانی کا جگ ہاتھ میں تھا اسے ایکدم دل پر دھکا لگا۔۔۔ کیونکہ کچن کی لائیٹ کھلی تھی اور بری طرح ہنسنے کی آوازیں آ رہیں تھیں ۔۔
زیمل کو حیرانگی ہوئ کون تھا وہاں کوئ ایک تو نہیں تھا جو یوں پاگلوں کیطرح ہنس رہا تھا وہ تجسس کے مارے وہاں تک پہنچی توانڈا اڑتا اڑتا اسکے منہ پر جا کر بجتا کہ وہ چیخ مار کر نیچے بیٹھ گئ ۔۔۔
ان چاروں نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
جو کے زمین پر بیٹھی تھی ۔۔۔
اوہ شیٹ”کبیر نے ۔۔اپںے ہاتھ صاف کیے جو کہ اسنے سارے عارض کے منہ پر مل دیے تھے اور یوں ہی ۔۔ زین اور سالار کے منہ پر بھی اٹا چیپکا ہوا تھا ۔۔۔۔
بھیو کیا یہ بابا کو بتا دیں گی” زین نے فورا سالار کے کان میں گھس کر پوچھا ۔۔
مجھے نہیں پتہ ۔۔ ویسے مرتضی صاحب کافی مہربان ہیں اسپر”سالار نے جواب دیا اور اچانک اسے اپنی پرسنلٹی کا خیال آیا ۔۔۔۔ تو اسنے ۔۔ تولیہ سے منہ صاف کیا ۔
زیمل نے ہاتھ ہٹا کر انکو دیکھا ۔۔۔
انکی شکلیں کافی مزاحیہ تھیں ۔۔۔۔
اسکے چہرے پر بے ساختہ ہنسی آ گئ ۔۔۔۔
تبھی نین بھی کمر سے باہر نکلی زیمل کو کچن کے آگے کھڑا دیکھ کر ہنستے ہوئے دیکھ ۔۔۔ اسے حیرانگی ہوئ وہ منہ پر ہاتھ رکھے ہنس رہی تھی ۔۔۔۔
اسکو پہلی بار ایسے دیکھا ۔۔ لاونج میں دیکھا کبیر نہیں تھا ۔۔ اسکی آنکھیں رونے سے سوج گئیں تھیں اور وہ ہمت ہارتی باہر آ گئ تھی زیمل کق دیکھ کر متوجہ ہوئ
زیمل نے بھی اسکو دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔
نین بھی کچن کے پاس آئ ۔۔ اور کچن کے اندر کا حال دیکھ کر وہ پل بھر کے لیے حیران ہوئی اور انکی سفید شکلوں کو دیکھ کر خود بھی ہنس پڑی ۔۔۔۔
اسکے چہرے پر آنے والی ایکدم ہنسی سے ۔۔ کبیر کے لب بھی مسکرا گئے اور یاد آ گیا وہ اس سے کتنا غصہ ہے ۔۔
یہ کون سا اصول ہے کہ آپ دونوں ۔۔ یہاں آ کر ہم پر ہنسیں ” زین نے کہا ۔۔۔ تو نین اندر آ گئ زیمل بھی ۔۔
وہ اس لیے کیونکہ تم بے حد مزاحیہ لگ رہے ہو ۔۔یہ اللہ اف اف یہ کیا حال کیا ہے آپ لوگوں نے” نین نے چیزوں کو دیکھا ۔۔
آپکو اس سے مطلب نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔ جائیں چین کی نیند سوئیں”کبیر نے روکھے لہجے میں کہا جبکہ نین کا ایکدم چہرہ اتر گیا ۔۔سالار نے اسکے پاؤں پر پاؤں زور سے مارا ۔۔۔
اوہ ہو بھابھی یہ دیکھیں ہم نے ایک دوسرے کو انڈے ماریں ہیں اور عارض کے پراٹھوں کو منہ پر مل لیا جس پر ان لوگوں کی ہنسی ہی نہیں رک رہی”اسنے زیمل پر ایک طنزیہ نظر ڈالی ۔۔۔
کیوں ہنسنے کی بات تھی یہ ۔۔۔ افکورس شکل سے ہی اتنے عجیب لگو گے تو لوگ ہنسے گے ہی کیوں گڑیا” کبیر زیمل کی سائیڈ پر ہو گیا ۔۔۔۔۔۔
زیمل ایکدم چونک کر اسکو دیکھنے لگی ۔۔
عارض اور زین کبھی ایک کیطرف دیکھتے تو کبھی دوسرے کیطرف ۔۔
ویسے یہ شو مزے دار ہے میری موٹی سو رہی ہے ہائے” اسنے آہ بھری ۔۔
بس بس ۔۔۔۔ جتنی عیاشی کی ہے نہ ۔۔۔ تم نے ۔۔ تم ٹکے رہو ۔۔۔ یہاں ہم ۔۔۔۔ لوگوں کے رویے بے تکے وہ بھی برادشت کر رہے ہیں ” اسنے زیمل کو پھر سے دیکھا ۔۔
ہم جانتے ہیں تم کتنی عیاشی کرتے ہو ۔۔ ٹاک شو میں کیسے اس لڑکی کی تعریفیں کر رہے تھے” کبیر نے جان بوجھ کر آڑے ہاتھوں لیا ۔۔۔۔۔
لو بھئ ۔۔ خوبصورت لوگون مں کی تعریف ہم نہیں کریں گے تو کون کرے گا ۔۔۔ انکا دل دل نہیں ہے” سالار نے آنکھیں نکالیں ۔۔۔
سارے پاکستان کی لڑکیوں کی تعریفیں آپ نے ہی کرنی ہیں کہیں کسی کے دل کو کچھ ہو نہ جائے ” زیمل کے منہ سے بے ساختہ نکلا جبکہ سب نے اسکیطرف دیکھا ۔۔۔۔
وہ تو شرمندہ سی ہو گئ ۔۔ سر جھکا گئ ۔۔۔
سالار نے اپنی ہنسی روکی ۔۔۔۔
بہت زبان نکل رہی ہے ۔۔۔ کیا خیال ہے ۔۔۔ علاج کروں تمھارا ” وہ ڈائریکٹ اس سے بولا ۔۔۔
جبکہ زیمل نے ایکدم خفیف ہو کر کبیر کو دیکھا ۔۔
فضول کتنا بولتے ہو تم
۔۔۔اپنے کام سے کام رکھو بابا کو بتا دوں گا میں ۔۔”
بھابھی یار وہ کیسے ٹیم بنا کر پٹا پٹ بولے جا رہے ہیں آپ کیسے خاموش کھڑیں ہیں سالار کو ہارنے کی عادت نہیں ہے ویسے دل تو کر رہا ہے ۔۔ اپنی بیوی کو اٹھا کر لے جاؤں زرا اچھے سے انکی زبان کے جوہر دیکھو ” وہ گھیری نظر اسپر ڈالتا بولا ۔۔۔۔
آف کتنے بدلحاظ ہیں” زیمل کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔۔
کچھ بولنے قابل ہوں گی محترمہ تو بولیں گی” کبیر نے سر جھٹکا ۔۔ نین کو پھر سے رونا آنے لگا ۔۔ وہ بے ساختہ رو دی ۔۔ عارض زین اور سالار تو بے چین ہو اٹھے ۔۔ کبیر بھی اسے دیکھنے لگا ۔۔
زیمل بھی نین کے پاس آ گئ ۔۔۔۔
کبیر البتہ ہوں ہی کھڑا رہا ۔۔۔۔
سالار نے گھور کر کبیر کو دیکھا ۔۔۔۔
کبیر غصے سے آگے بڑھا ۔۔۔ اور نین کا ہاتھ پکڑ کر۔۔ اندر کمرے میں لے گیا ۔۔۔
معملہ سیریس لگتا ہے” عارض نے سالار کیطرف دیکھا ۔۔
ہممم” اسنے ہنکارہ بھرا ۔۔۔ بھوک تو ختم ہی ہو گئ تھی ۔
میں بھی چلا ۔۔ زین اور عارض بھی وہاں سے چلے گئے جبکہ زیمل سامان سمیٹنے لگی
سلاار نے مڑ کر زیمل کیطرف دیکھا اور وہاں سے چپ چاپ جانے لگا ۔۔
آپ آپ کو بھوک لگی ہے تو کچھ بنا دوں” زیمل ہمت کرتی اسکیطرف دیکھنے کی کوشش کرنے لگی
جو میں کہوں گا وہ دو گی” سالار نے ۔۔۔ بالوں میں ہاتھ پھیر کر آٹا جھاڑا ۔۔۔اور کچن کا دروازہ بند کیا ۔
یہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں ” زیمل پریشان ہوئ ۔۔۔۔
تم نے ہی کہا ہے تم کچھ دینے والی ہو وہ لینے آیا ہوں ” وہ گھیری نظر اسپر ڈالتا بولا ۔۔ جبکہ زیمل کا دھیان اسکے ہاتھ پر چلا گیا ۔۔
کیا یہ ٹھیک ہے اب ” وہ اسکی قربت کو نظر انداز کرتی پوچھنے لگی ۔۔۔
ہو سکتا ہے ۔۔۔۔ ٹھیک کرکے دیکھ لو ” اسنے اپنی عادت کے مطابق گھوما کر جواب دیا ۔۔۔
آپ ہر وقت اس موڈ میں کیوں رہتے ہیں” زیمل جھنجھلائ
بیوی کے ساتھ اور کون سا موڈ اون کیا جاتا ہے” سالار نے کانٹا اٹھایا ۔۔۔۔
زیمل کانٹے کو دیکھنے لگی ۔۔۔
سالار نے کانٹے کو اسکی گردن پر رکھ دیا ۔۔۔۔
جبکہ زیمل نے کانٹا ہٹانا چاہا مگر سالار نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ایک ہاتھ میں جکڑ لیا ۔۔۔۔
زیمل بڑی بڑی خوف زدہ آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔
مجھے یہ کھانا ہے”سالار کے الفاظ زیمل کے وجود کو کپکپا گئے اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ اسنےایسا کیوں کہا ۔۔ خود بھی چلی جاتی
سالار نے کانٹے پر زور دیا۔۔۔
زیمل کی سی نکلی ۔۔۔۔ اور اسنے آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
سالار جبکہ ۔۔ کانٹے کے نشان پر جو اسکی گردن پر بن گیا تھا ۔۔۔ اسپر جھکا ۔۔۔۔
وہ پوری شدت سے ۔۔۔۔ زیمل کو بھکلا گیا ۔۔۔
وہ ہڑبڑا گئ ۔۔۔۔
جبکہ سالار بے تاب سا لگ رہا تھا ۔۔۔
زیمل اسکو روکنا چاہتی تھی مگر روک نہیں پا رہی تھی ۔۔ اسنے اسکی ر پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
جبکہ سالار کے دانت اسے کبھتے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔۔
یعنی اگر وہ اسے دور کرنے کی کوشش کرے گی تو وہ اسے تکلیف دے گا ۔۔۔۔۔
وہ ہینڈسم ۔۔۔ دلکش مرد اسکے بے حد نزدیک تھا ۔۔۔اسپر اپنے لمس کی چھاپ چھوڑتا جا رہا تھا ۔۔
زیمل کے حواس معطل وہ رہے تھے ۔۔۔
اور اچانک دروازے پر افشین کو دیکھ کر زیمل کی آنکھیں کھل گئیں ۔۔۔ افشین کی تو حالات ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں ۔۔
زیمل نے زبردستی سالار کو دور کرنا چاہا ۔۔۔
سالار پہلے پہلے تو ہٹا نہیں ۔۔ جبکہ ۔۔ جب زیمل نے گھبرا کر مزید اسے دھکیل سالار نے اسکی گردن میں ہی دانت گاڑھ دیے ۔۔
یہ غصہ تھا ۔۔ یہ ہمیشہ کیطرح بے عزتی کا احساس کے وہ اسے دھتکار دیتی تھی ۔۔۔
زیمل کی چیخ نکلی جسے سالار کے ہاتھ نے دبا دیا ۔۔۔
وہ دور ہو کر اسکو دیکھنے لگا جبکہ انگوٹھا زخم پر تھا ۔۔۔
حقیقت تو یہ ہے ۔۔ کہ مجھ سے ۔۔۔ تمھارے بنا کسی ہوٹل میں رہا نہیں جا رہا ۔۔۔۔ تمھیں دیکھنے کی آرزو ۔۔۔۔ مجھے بارہ گھنٹے کے سفر پر مجبور کرتی ہے ” وہ نرمی سے ۔۔۔ سکاٹ کھڑی زیمل کی سانسوں میں اتھل پتھل مچا گیا ۔۔ مگر کچھ ہی دیر میں دور ہوا ۔۔
مسکرا دیا جیسے آج وہ مطمئین ہو ۔۔اسکی گردن پر ۔۔ محبت کی موہر لگائ تھی بھلے مقابل کو تکلیف اٹھانی پڑی تھی ۔مگر یہ سٹیمپ تھا جو سالار کو پسند آیا تھا ۔۔۔
وہ اسکے بال تھپتھپا کر مڑا ۔۔
افشین بھی پیچھے چھپ گئ ۔
سہارا کوٹ اٹھا کر اوپر چلا گیا ۔۔
زیمل کے وجود نے حرکت کی خود کو بچانے کے لیے وہ وہاں سے بھاگ جانا چاہتی تھی مگر زیمل کا ہاتھ افشین نے جکڑ لیا ۔۔۔اور اسے گھسیٹتی ہوئ وہ اپنے پورشن میں لے جانے لگی ۔۔
زیمل کا بس نہیں چلا چیخ چیخ کر اسے بات دے کہ وہ اسے بچا لے ۔۔ مگر وہ پشت پھیرے سڑھیاں چڑھ رہا تھا جبکہ زیمل کو افشین نے گھسیٹ کر دوبارہ اسی اندھیرے والے کمرے میں لے آئ جہاں عدیل رہتا تھا ۔۔
اسے زمین پر پھینک کر وہ زیمل کو دیکھنے لگی ۔۔۔
واہ ۔۔۔(گالیاں) اسنے اسے گھٹیا گھٹیا گالیوں دیں ۔۔۔۔
بازاروعورت ” افشین نے اسکے منہ پر تھپڑ کھینچ مارا ۔۔
میڈیم مجھے مت مارو ” زیمل رونے لگی ۔۔
تجھے تو زمین میں گڑھ دوں گی ۔۔ تو یہاں سے ۔۔ دفع ہو جا ” افشین نےاسکے بال کھینچے ۔۔۔
جاری ہے
